سر ورق / افسانہ / بلبل اور باز … راجہ یوسف

بلبل اور باز … راجہ یوسف

        بلبل اور باز

راجہ یوسف

ہزاروں میل کی مسافت طئے کرنے کے بعدساجد نے جنتِ کشمیر میں قدم رکھا۔کمپنی کے خوبصورت کوارٹر کے صحن میںقدم رکھتے ہی اس کا دماغ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے معطر ہوگیا۔ کمرے میں آکر اُس نے کھڑکیاں کھول دیں تو خوشبودارہوائیں کمرے میں رقص کرنے لگیں اور دیوار پر لٹکے کلنڈر کے ا ورق پھڑ پھڑانے لگے۔ وہ باہر دیکھنے لگا۔ باغیچے میں رنگ برنگے پھولوں کے درمیان گلاب کی ٹہنی ہوا کی تال پر جھوم رہی تھی او ر مست بھنورے مدہوش پتیوں کے گرد چکر لگا رہے تھے۔ عشق پیچان کی بیلیوں پر گرمی کی وجہ سے نرم ونازک پھول اپنی ہی پتیوں سے سائے کی اماں مانگ رہے تھے ۔۔۔۔۔

بہت دیر تک رومان پرور ماحول میںکھو جانے کے بعد اچانک کچھ یاد آتے ہی ساجدالماری میں رکھے سامان کی طرف گیا، اپنے اٹیچی کیس سے ایک فوٹو ہاتھ میں اٹھایااور دیر تک ٹکٹکی باندھے اسے دیکھتا رہا،تبھی فون کی گھنٹی بجی۔۔۔

” آآآ ہا ہااااا ۔۔۔ہائے سویٹی ۔۔۔۔ کیا اتفاق ہے،ابھی میں نے تیری تصویر ہونٹوں سے چھوئی بھی نہیں اور تیری کال آگئی۔ “ پھر دیر تک پیارو محبت اور رومان انگیز مکالموں کافرحت بھرا دور چلا۔پُرشوق قہقہے اور ہونٹوں کو تر کرنے والی مسکراہٹیں ماحول کواور بھی پُر کیف بنا رہی تھیں ۔۔۔کافی دیر تک باتیںکرنے کے بعدساجدنے فوٹو کو چوم کر واپس الماری میں رکھ دیا پھر آس پاس کو دیکھنے کی چاہ نے زیادہ دیر کمرے میں ٹھہرنے نہیں دیا ۔۔۔ باہر آکر مختلف پگڈنڈیوں پر چہل قدمی کرنے لگا۔۔۔ شام کے وقت اپنے کوارٹرکے سامنے چھوٹے سے باغیچے میں ایک چنار تلے کرسی ڈال کر بیٹھ گیا ۔۔۔ شام کی مست مست ہوائیں چنار کے نرم پتوں سے چھیڑخانی کرتے کرتے ساجد کے بالوں سے بھی اُلجھ رہی تھیں، نہ جانے کتنی بار اس کو اپنے بائیں ہاتھ سے اپنے ریشم جیسے بالوں کو سنوارنا پڑالیکن ہاتھ ہٹاتے ہی ہوا کا ہلکا سا جھونکا انہیں پھر سے بکھیر دیتا تھا۔ہوا کے شریر جھونکے اس کے خیالوں میں بھی شرارے بھر رہے تھے جس سے اس کا ذہن بھی منتشر ہو رہا تھا۔ نہ جانے کتنی جدوجہد کے بعد وہ اپنے خیالوں کا تانتا باندھنے میں کامیاب ہوگیا ۔۔۔۔۔۔ وہ برگد کی لٹکتے جھولتے ریشوں کے بیچ جان سے پیاری سویٹی کے ساتھ زندگی کے حسین اور خوبصورت رتوں کو یاد کرکے لطف اندوز ہونے لگا۔        ” ساجد ۔۔۔ ساجد اب تم بہت دور جارہے ہو۔۔۔ کشمیر ، سنا ہے وہ حسن و خوبصورتی کی دلکش اور دلفریب وادی ہے ۔ کہیں قدرت کے اُس طلسماتی میخانے میں پہنچ کر خود کو مدہوش کرکے مجھے بھول جانے کی کوشش نہ کرنا۔ “ سویٹی کی آنکھوں سے جیسے آنسوﺅں کا آبشار بہہ رہا تھا، یہ آنسوں گلابی گالوں سے لڑھک کر دھوپ کی تمازت سے خشک اور پتھریلی زمین میں دم توڑتے جا رہے تھے۔

” ایسا کیوں سوچتی ہو۔ تیرے پیار کے عوض اگر مجھے سارے جہاں کی دولت بھی مل جائے تووہ سب ہیچ ہے۔۔۔ تمہیں کون سا وہم کھائے جارہا ہے۔ میں بہت جلد واپس آﺅں گا اور تمہیں اس پتھرنمابستی سے نکال کر قدرت کی بنائی ہوئی اس حسین اور مخملی دھرتی پر لے جاﺅں گا۔“ساجد نے سویٹی کے آنسووں کو اپنی ریشمی رومال میں جذب کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا۔ساجد کو کشمیر کی فضائیں بڑی راس آگئیں۔ یہاں کے آبشاروں،سبزہ زاروںاور لالہ زاروں نے اس کی جمالیاتی حس کو اتنا متاثر کیا کہ وہ پھولوں کی مہکتی اور تھرکتی کلیوں کا اسیر ہو کے رہ گیا۔ پُر شور ندی نالوں اور گوناگوں رنگینیوں میں کھو گیا۔ ۔۔ سویٹی کے فون کالزہفتہ وار ٹلتے رہے پھر ہفتوں سے مہینوں کا فاصلہ طئے کرتے کرتے سال کا لبادہ اُوڈھ بیٹھے۔۔۔ اور کچھ مدت کے بعد یہ سلسلہ بھی بند ہوگیا۔۔۔ اس دوران سویٹی کے کئی خط بھی آتے رہے جو بنا پڑھے ہی الماری کے ایک کونے میں جمع ہوتے گئے۔۔۔ وجہ صاف تھی، ساجد کے کوارٹر کے سامنے ہی ایک اور کوارٹر تھا جس کا مکین ایک مسکراتا اور خوبصورت چہرہ تھا، جو کھبی کبھار ہی کھڑکی کھلتے وقت نظر آتا تھا اور اکثر بیشتر دونوں کی نظریں آپس میں متصادم ہوجاتی تھیں۔رفتہ رفتہ یہ دونوں باغیچے میں چہل قدمی کرنے لگے تھے۔ ۔۔۔سلسلہ کچھ آگے بڑھا تو دونوں ایک دوسرے کے زلفوں کے اسیر ہوتے چلے گئے اورپھر عہدوپیماں کے وعدے۔۔۔ محبت نبھانے کی قسمیں اور وفا کی تکمیل کے لئے جان دینے تک کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا دریا بہتا رہا۔ ۔۔۔ سامنے والی کھڑکی بہت دنوں سے بند پڑی تھی۔۔۔ بند کھڑکی کا کرب بڑھنے لگا اور بڑھتے بڑھتے آخر ایک دن ساجد کویہ احساس ہو ہی گیا کہ باغ کامالی بدل چکا ہے۔ گلشن میں کوئی اور ہی بھنورا بھنبھنا رہا تھا۔ ایک دن یہ دیکھ کرساجد کے ہوش اڑ گئے کہ ہوا کی تال پر گلاب جھوم رہا ہے او ر بھنورا آہسہ آہستہ گلاب کا رس چوس رہا ہے ۔اُس کو ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آنے لگا تھا۔ ۔۔ساجد نے کھڑی کے پٹ بند کردیئے۔۔۔ سرتھام لیا۔۔۔آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے ۔۔۔ اب تنہائی ڈسنے لگی۔۔۔ خیالات بھٹکنے لگے اور بھٹکتے بھٹکتے کہیں دورصحرا میں اٹک گئے ۔۔۔۔۔ الماری سے سویٹی کا فوٹو نکالا۔۔۔ فوٹو پر جمی گرد آنسوﺅں سے دھل گئی۔۔۔۔ اور ایک دم چلایا ۔۔۔

” سویٹی ۔۔ سویٹی ، میری جان ، میری زندگی ، میں آرہا ہوں۔۔۔ میں بھٹکے ہوئے راستے سے واپس آگیا ہوں۔۔۔ میں تمہارے پاس آرہا ہوں ۔۔۔ مجھے سہارا دو ۔۔۔ مجھے اماں دو ۔۔۔ “

اچانک کچھ یاد کرکے پھر سے الماری کھولی۔۔ سویٹی کے سارے خطوط اُلٹ پلٹ کر دیئے ۔۔ اُس کا آخری خط نکالا جو اُس نے تین مہینے پہلے بھیجا تھا۔۔۔ خط کا لفافہ جلدی جلدی پھاڑ ڈالا ۔۔۔

” ڈیر ساجد ۔۔۔ تمہارا بہت انتظار کیا۔ مجھے پوری امید تھی کہ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر تم ضرور ملو گے۔ لیکن تم تو حسین اور معتدل وادی میں ایسے کھو گئے کہ دھوپ سے جھلسے ریگستان کو ایک بار بھی دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔۔۔ خیر، اچھا ہی کیا ، اپنے آپ کو آگ برساتی دھوپ سے بچا کرچنار کی نرم چھاﺅں کے گرویدہ ہوگئے ۔۔۔ اگلے ہفتہ میں بھی یہ تمازت کا شہر چھوڑ کر ریگستانی شعلوں کی نظر ہونے جارہی ہوں۔۔۔ اب راجستھان میرا سسرال بننے جا رہا ہے۔۔۔ “

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد  

”ایک فرضی کہانی” ؛یوسف عزیز زاہد کبھی یوں بھی ہوتا ہے کوئی کہانی لکھنے بیٹھو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے