سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 22 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 22 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 22
خود کشی نمبر میں ’’جھوٹا مسیحا‘‘ کے علاوہ دیگر اہم اور مشہور شخصیات کی کہانیاں تھیں، بھارتی اداکار و ہدایت کار گورودت نے اداکارہ وحیدہ رحمان کے عشق میں خودکشی کی تھی، مشہور شاعر مصطفیٰ زیدی، شکیب جلالی، اداکار ننّھا، اداکارہ نیلو اور ریکھا وغیرہ بھی زندگی سے مایوس ہوکر خود کشی کا شکار ہوئے ، بعض کی کوشش ناکام رہی اور بعض اس کوشش میں کامیاب رہے لیکن ہمیں امریکا کی ایک شاعرہ سلویا پاتھ کی کہانی نے بہت متاثر کیا، کہانی پڑھ کر کئی روز تک ہم شدید افسردہ رہے، خصوصاً اس کے خود کشی کرنے کا انداز بڑا ہی لرزا دینے والا تھا، اس نے مائیکروویو میں سر رکھ کر خود کو ہلاک کرلیا تھا، زندگی سے اتنی مایوسی حیرت انگیز تھی، لوگ خودکشی کے لیے بھی عموماً ایسے طریقے اختیار کرتے ہیں جن میں ان کی موت فی الفور اور آسانی سے ہوجائے، یہ طریقہ تو بڑا ہی خوف ناک لگا ہمیں۔
سلویا پاتھ امریکا میں پیدا ہوئیں، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر اس کے دل میں محبت کی لطیف کونپلیں پھوٹنے لگیں، وہ خوش قسمت تھی کہ اسے اس کی محبت مل گئی، اس نے شادی کی اور اپنے محبوب کے ساتھ انگلینڈ آگئی، شایددو بچے بھی پیدا ہوئے پھر اس کے محبوب نے اس سے بے وفائی کی ، وہ کسی اور رنگین تتلی کے پیچھے بھاگنے لگا اور اسے چھوڑ کر فرانس چلا گیا، یہ صدمہ وہ برداشت نہ کرسکی، ایک روز صبح سویرے بچوں کے لیے ناشتہ وغیرہ تیار کیا کہ وہ اٹھ کر ناشتے کے لیے پریشان نہ ہوں اور اپنا سر مائیکروویو میں داخل کردیا۔
ہم سے کیا ہوسکا محبت میں
تم نے تو خیر بے وفائی کی
خود کشی نمبر میں تقریباً تمام ہی کہانیاں غم زدہ کرنے والی تھیں، سرگزشت کے قارئین نے بھی اپنے خطوط میں اس سوگواری کا کھل کر اظہار کیا اور ہم نے ہمیشہ کے لیے ایسے موضوع کے انتخاب سے توبہ کرلی۔
اس پرچے کی تیاری کے دوران میں وصی بدایونی صاحب دوسری شادی کا پروگرام بناچکے تھے، اس سلسلے میں ایک خاتون کا رشتہ بھی سامنے آچکا تھا جن کی عمر تقریباً چالیس سال تھی لیکن غیر شادی شدہ تھیں یعنی ابھی تک ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور شاید کسی اسکول یا کالج میں شعبہ ء درس و تدریس سے وابستہ تھیں، ان کا اپنا ذاتی فلیٹ تھا اور پیش کش یہ تھی کہ آپ کرائے کا مکان چھوڑ دیں اور میرے ہی فلیٹ میں آجائیں۔
دفتر کے سب ہی احباب اس رشتے کو وصی صاحب کے لیے ایک غیبی امداد خیال کر رہے تھے اور انھیں مبارک باد دے رہے تھے کہ جناب ! بیوی کے ساتھ آپ کی مستقل رہائش کا بھی مسئلہ حل ہورہا ہے،مزید یہ کہ خاتون چوں کہ تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں لہٰذا آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی معقول انداز میں ہوجائے گی، بہر حال رشتہ طے ہوا اور ایک وقت مقررہ پر شادی بھی ہوگئی، ان دنوں دوسری شادی نمبر کی تیاریاں جاری تھیں لیکن شادی کے فوراً بعد ہی کچھ عجیب نوعیت کے مسائل سامنے آنا شروع ہوئے اور میاں بیوی کے درمیان تناؤ پیدا ہونے لگا، ہمارے ساتھ ان کے بے تکلفی کی حد تک مراسم تھے اور وہ اپنی کوئی بات خلوت یا جلوت کی ہم سے نہیں چھپاتے تھے بلکہ مشورہ کرتے تھے پھر ایک روز انھوں نے بہت عجیب سی خبر دی جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ خاتونِ خانہ اور وصی صاحب کی بیٹیوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہورہی ہے، وصی صاحب پہلے ہی شوگر جیسی بیماری کا شکار تھے ، اس نئی ٹینشن کے سبب انھیں بلڈ پریشر کی بھی شکایت رہنے لگی، بالآخر یہ شادی اپنے انجام کو پہنچی اور طلاق ہوگئی، یہ بھی دلچسپ اتفاق ہے کہ دوسری شادی نمبر کے دوران میں شادی ہوئی اور خود کشی نمبر کے بعد طلاق ہوگئی لیکن وصی صاحب نے اس کا خاصا گہرا اثر لیا، وہ خاموش خاموش اور بجھے بجھے سے رہنے لگے تھے، اچانک ایک روز ان کے انتقال کی خبر آگئی، دفتر کے تمام ہی افراد ان کی آخری رسومات میں شریک ہوئے، طلاق کے واقعے کے بعد وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے، بظاہر یہی کہتے رہے کہ ایک بری عورت سے نجات مل گئی، میں اب بہت پرسکون ہوں، وہ عورت میری بچیوں کو بھی خراب کرسکتی تھی، وغیرہ وغیرہ لیکن ہم سمیت دفتر کے دیگر احباب جو ان سے ہماری طرح ہی بہت قریب اور بے تکلف تھے جیسے محمد رمضان خان، شاہد حسین وغیرہ ان کے اس بیانیے سے پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔

 

حسام بٹ کی واپسی
شاید یہ نومبر کے آخر یا دسمبر 1991 ء کی بات ہے، ایک روز اچانک حسام بٹ دفتر آگئے اور ہم سے کہا کہ آپ سے علیحدہ میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں، ان کے سابقہ پیچیدہ کردار کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم نے انھیں مشکوک نظروں سے دیکھا اور کہا ’’خیریت تو ہے؟ ایسی کیا خاص بات ہے جو سب کے سامنے نہیں ہوسکتی؟‘‘ان کی خاموشی دیکھ کر ہم نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور جب اکثر لوگ چلے گئے تو ہم ان کی طرف متوجہ ہوئے، انھوں نے جو کہانی اپنی دربدری اور پریشان حالی کی سنائی وہ یقیناً افسوس ناک تھی لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ اس دربدری میں ان کے اپنے ہی مزاج کی کارفرمائی شامل تھی، آخر میں ہم نے پوچھا کہ اب آپ کیا چاہتے ہیں تو انھوں نے ہمارے سوال کا خاصا پراسرار جواب دیا اور ہمیں اپنا ایک خواب سنایا پھر کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ آپ سے رابطہ کروں اور آپ جو کہیں ، وہیں کروں۔
ہم نے کچھ عرصہ پہلے ہی تقریباً سال بھر کا عرصہ ان کے ساتھ اس طرح گزارا تھا کہ وہ رات و دن ہمارے ساتھ رہتے تھے اور کچھ نہیں پتا چلتا تھا کہ کل ان کا کون سا رنگ اور ڈھنگ سامنے آئے گا لہٰذا یہی خیال کیا کہ یہ اپنی کہانی کے ساتھ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں ، ضروری نہیں ہے کہ اس پر آئندہ قائم رہیں، چناں چہ ہم نے انھیں ٹالنے کے لیے ان کے اور اپنے ایک مشترکہ دوست سید مختار شاہ سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی ، مختار شاہ کا تعلق ایک سلسلہ ء تصوف سے ہے، بہت پڑھے لکھے اور صاحب بصیرت انسان ہیں، خاصے طویل عرصے سے الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں۔
اس ملاقات کے بعد بٹ صاحب کا دفتر آنا جانا شروع ہوگیا، انھوں نے بتایا کہ مختار شاہ بھی یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ فراز صاحب سے رہنمائی لیں۔
بٹ صاحب کو پراسراریت سے خصوصی لگاؤ رہا ہے، اپنی زندگی میں بھی کچھ نہ کچھ پراسراریت پیدا کرنے کے خبط میں مبتلا رہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ کسی بھی بات کا سیدھا اور صاف جواب دیں، مثلاً ہم نے پوچھا کہ آج کل رہائش کہاں ہیں تو اس کا جواب بھی کچھ گول مول ہی تھا، ہماری بھی عادت نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو سات پردوں میں رکھنے کی کوشش کرتا نظر آئے تو اس سے زیادہ تفتیش کریں، انھوں نے یہ ضرور بتایا کہ وہ کچھ عرصہ مسٹری میگزین میں بھی کام کرتے رہے ہیں اور آخری بات یہ تھی کہ اب وہ ادارے میں واپس آنا چاہتے ہیں، یہ کام آسان نہیں تھا کیوں کہ معراج صاحب جب کسی سے مطمئن نہ ہوں اور صاف جواب دے دیں تو دوبارہ انھیں راضی کرنے کے لیے کسی مضبوط دلیل و جواز کا ہونا ضروری تھا جو فی الحال ہمارے بھی ذہن میں نہیں تھا۔
رازدار ڈائجسٹ کا اجرا
جمال احسانی روزی روزگار کے معاملے میں ہمیشہ کا لاابالی اور بے پروا بندہ ، ادارے میں اچھی پوزیشن اور معقول تنخواہ، ساتھ ہی کہانی وغیرہ لکھ کر آمدن میں اضافے کا ذریعہ بھی موجود تھا مگر خدا معلوم کن وجوہات کی بنیاد پر انھیں ایک نیا پرچا نکالنے کا خیال آیا، اس معاملے میں انھوں نے نہایت رازدارانہ طور پر تیاریوں کا آغاز کردیا، نیا پرچا نکالنے کے لیے سب سے پہلا مسئلہ سرمایہ ہے، اگر کوئی سرمایہ دار پیسا لگانے پر تیار ہوجائے تو اپنے بہتر مستقبل کے لیے اکثر لوگ مہم جوئی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
علامہ رشید ترابی کے صاحب زدگان میں طالب ترابی وہ شاید نصیر ترابی سے عمر میں چھوٹے تھے ، جمال کی مہم جوئی کا سبب بنے، وہ کوئی روزنامہ اخبار بھی پہلے سے نکال رہے تھے ، ممکن ہے کسی وقت ان کے اور جمال کے درمیان ایک نیا ڈائجسٹ نکالنے کا منصوبہ زیرغور آیا ہو اور پھر جمال نے ’’رازدار ڈائجسٹ‘‘ کی تیاری شروع کردی ہو، وہ سسپنس کے دفتر ہی میں بیٹھ کر مصنفین سے رابطے اور دیگر تیاریاں کرتے رہے۔
ہم خود کشی نمبر سے فارغ ہوکر ایک دوسری ہی پریشانی میں مبتلا تھے، ہماری بیگم کی طبیعت سخت خراب تھی، ڈاکٹروں نے ہمیں بری طرح خوف زدہ کردیا تھا اور ہم سے زیادہ ہماری بیگم کو یہ کہہ کر پریشان کردیا تھا کہ بی بی اس بار آپریشن میں بڑا خطرہ ہے، ایسا ایک بار پہلے بھی ہوا تھا جب ہماری پہلی بیٹی پیدا ہوئی تھی، ڈاکٹروں نے یہی کہا تھا کہ بی بی آپ کو اور بچے کی جان کو خطرہ ہے ، ہمیں یاد ہے کہ اس روز جب ہم گھر پہنچے تو ہماری بیوی کا منہ لٹکا ہوا تھا، اس نے پہلے ہمیں کھانا دیا اور پھر کاندھے پر سر رکھ کر رونا شروع کردیا، ہم نے پوچھا ’’ایسا کیا ہوگیا؟ کیا گھر میں کوئی بات ہوگئی، والدہ نے کچھ کہہ دیا؟‘‘
کچھ دیر رونے اور دل ہلکا کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ آج اسپتال میں لیڈی ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے کہ جان کو خطرہ ہے،ہم نے فوراً ہی دو چار سخت الفاظ لیڈی ڈاکٹر کی شان میں بیان کیے اور اسے تسلی دلاسے دیے، اس زمانے میں ہماری رہائش ناظم آباد میں تھی اور ہمارا روز کا معمول تھا کہ رات کا کھانا کھاکر جناب حنیف اسعدی کے کلینک میں جا بیٹھتے پھر یہ نشست رات بارہ ایک بجے تک جاری رہتی، جس میں ہمارے برادر بزرگ جناب سحر انصاری بھی پابندی سے شریک ہوتے چناں چہ ہم معمول کے مطابق اسعدی صاحب کے کلینک پہنچ گئے ، اس بات کا اثر ہم نے بھی لیا تھا جسے اسعدی صاحب جیسے دانا و بینا بزرگ نے ہمارا اترا ہوا چہرا دیکھ کر فوراً ہی تاڑ لیا اور ہم سے سوال و جواب شروع کردیے ، ہم نے انھیں ساری صورت حال بتادی۔
ڈاکٹر حنیف اسعدی صاحب (اللہ ان کی مغفرت کرے اور ان کے درجات بلند فرمائے) اگرچہ ہمارے بزرگ دوستوں میں شامل تھے لیکن درحقیقت باپ جیسی محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے ، انھوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی اور میڈیکل سے متعلق اپنی معلومات سے ہمیں آگاہ کیا، اسی دوران میں سحر انصاری بھی آگئے اور انھوں نے بھی حوصلہ بڑھایا اور ہم سے کہا کہ آپ کل ہی اپنی بیگم کو لے کر ہمارے گھر آجائیں۔
پروفیسر سحر انصاری کی بیگم ایک نہایت قابل اور تجربہ کار ہومیو پیتھک ڈاکٹر ہیں، اپنے گھر ہی میں صرف خواتین اور بچوں کا علاج کرتی تھیں، کسی مرد کو کلینک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی، چناں چہ ہم نے دیکھا کہ کلینک کے باہر اکثر مرد حضرات دھوپ میں کھڑے تپ رہے ہوتے تھے، یہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا، حالاں کہ ہم سحر بھائی کی سفارش ساتھ لائے تھے لیکن کلینک کے اندر آنے کی اجازت ہمیں بھی نہیں ملی۔
الحمد اللہ کہ ان کے علاج سے معاملات اس حد تک سنبھل گئے کہ بچی کی پیدائش سے پہلے جو ڈاکٹر خطرے کی گھنٹیاں بجارہی تھی اسی نے آپریشن تھیٹر کے باہر آکر ہمیں خوش خبری دی کہ سب کچھ خیروخیریت سے ہوگیا ہے اور جیسا کہ ہمارا پروگرام تھا کہ آئندہ کے لیے اس سلسلے کو بند کردیا جائے گا یعنی یوٹریس نکال دیا جائے گا تو ہم ایسا نہیں کر رہے بلکہ ایک اور چانس کے لیے چھوڑ رہے ہیں، ہماری بیٹی ماشاء اللہ اب شادی شدہ ہے ۔
یہی صورت حال اس دوران میں بھی ہماری پریشانی کا سبب تھی اور حسب معمول اسپتال کی لیڈی ڈاکٹرز خطرے کی گھنٹیاں بجارہی تھی بلکہ انھوں نے تو یہ بھی مشورہ دیا کہ بچے کی پیدائش کا رسک نہ لیا جائے،اس مرحلے پر بھی سب سے پہلے ہم نے پروفیسر سحر انصاری صاحب کی بیگم سے رابطہ کیا اور انھوں نے صورت حال کو نہ صرف یہ کہ سنبھالا بلکہ اسپتال کی ڈاکٹرز کے خیال کو رد کیا لیکن اس بار مسئلہ یہ تھا کہ ہماری رہائش آئی آئی چندریگر روڈ پر دفتر کے قریب ایک فلیٹ میں تھی اور ناظم آباد آنا جانا ہمارے لیے مشکل تھا لیکن اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے، اس نے ایک نیا سبب پیدا کیا، کراچی بلدیہ کے ایڈمنسٹریٹر جناب افتخار عالم مرحوم سے شناسائی کا ایک راستہ ہموار ہوا، افتخار عالم صاحب ایک بڑے بیوروکریٹ تھے لیکن بہت ہی اعلیٰ پائے کے ہومیوپیتھ ڈاکٹر بھی تھے،وہ لوگوں کا مفت علاج کیا کرتے تھے، ہمارے احباب میں ان کی گہری دوستی سید صفدر علی صفدر اور خان آصف سے تھی، ساتھ ہی وہ اکلٹ سائنسز سے بھی دلچسپی رکھتے تھے،ایک بار خان صاحب نے ان سے ہمارا ذکر کیا اور ایسٹرولوجی کے حوالے سے ہماری بڑی تعریف کی، ہمارا فون نمبر بھی انھیں دیا کہ آپ رابطہ کرلیں پھر ہمیں بھی فون کیا اور سفارش کی کہ افتخار عالم کا زائچہ بناکر انھیں گائیڈ کریں۔
ہم ہمیشہ سے سیاست دانوں اور بیوروکریٹس سے دور رہے،دوسرے معنوں میں صاحبان اقتدار کے رنگ ڈھنگ ہمیں پسند نہیں آتے،چناں چہ جب افتخار عالم نے ہمیں فون کیا تو ہم نے رسمی گفتگو کے بعد اپنی مصروفیت کا عذر کیا اور ان سے کہا کہ جیسے ہی وقت ملے گا، ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوجائیں گے۔
شاید دو یا تین بار افتخار صاحب نے فون پر یاد دہانی کرائی لیکن ہم ٹالتے رہے، اپنی عدیم الفرصتی کو جواز پیش کرتے رہے ، ایک روز ہمارے پیون نے آکر بتایا کہ نیچے بلڈنگ کے باہر پولیس کی گاڑیاں آگئی ہیں اور ایک بھاری بھرکم اعلیٰ آفیسر اپنے گارڈز کے ساتھ بلڈنگ میں داخل ہوئے ہیں اور اب ہمارے کمرے کی طرف آرہے ہیں، چند ہی لمحوں بعد ایک لحیم شحیم اور باوقار شخص ہمارے کمرے میں داخل ہوئے ، ہمارا نام لیا تو ہم کھڑے ہوگئے اور سمجھ گئے کہ یہی ایڈمنسٹریٹر صاحب ہیں۔
پہلی ہی ملاقات ایسی تھی کہ ہمارے درمیان سے تمام تکلفات ختم ہوگئے، وہ ہمیں بہت ہی سلجھے ہوئے اور مزاجاً یاروں کے یار انسان محسوس ہوئے اور مستقبل میں ہمارا یہ اندازہ درست ہی رہا، ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ ان شاء اللہ چند ہی روز میں آپ کا زائچہ بناکر آپ کے دفتر ہی میں ملاقات کریں گے۔
دوسری ملاقات کے ایم سی کی مشہور بلڈنگ واقع ایم اے جناح روڈ میں ہوئی جہاں ان کا دفتر تھا اور پھر یہ تعلق زندگی بھر کے لیے قائم ہوگیا،1999 -2000 ء کے سال کو ایسے تھے کہ ہفتے کی شام ہم ان کے گھر لازمی پہنچتے جہاں دیگر مختلف شعبوں کے اہل علم افراد سے ملاقات ہوتی، انھوں نے ہماری بیگم کے سلسلے میں بھی ہومیوپیتھک دوائیں تجویز کیں جو بہت فائدہ بخش رہیں اور الحمداللہ ہماری دوسری بیٹی بخیروعافیت اس دنیا میں آئی، افتخار بھائی سے رشتہ ایسا جڑا کہ ہم انھیں اپنے ہومیوپیتھک اساتذہ میں شمار کرتے ہیں، چند سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا، ہمیں تاخیر سے اطلاع ملی لہٰذا ان کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہوسکے۔
جنوری 1992 ء میں ہماری بیٹی پیدا ہوئی جو اب ماشاء اللہ کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے،اس ساری بھاگ دوڑ میں عزیزم حسام بٹ ہمارے ساتھ ساتھ تھے ، دفتری اکثر امور سے ہم خاصے بے خبر ہوچکے تھے،معراج صاحب ازراہِ مذاق ایک بار آفاقی صاحب سے یہ کہنے لگے کہ جناب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بال بچہ فراز کی بیگم کے ہاں نہیں بلکہ خود فراز کے ہاں ہونے والا ہے۔
چناں چہ ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ بھائی جمال احسانی کس مہم جوئی میں مصروف ہیں، اب ذرا ہوش و حواس بحال ہوئے اور دفتری امور پر توجہ دینا شروع کی تو یہ سُن گُن ملی شاید اس حوالے سے پہلی خبر ہمیں غلام قادر نے دی، ہم نے فوری طور پر جمال سے بات کی، انھوں نے بھی کوئی رازداری نہیں رکھی اور ہمیں صاف صاف بتادیا کہ وہ طالب ترابی کے ساتھ مل کر ایک نیا ڈائجسٹ نکال رہے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی صرف پروگرام زیر غور ہے اور اس منصوبے کی تکمیل میں کچھ وقت لگے گا،ہم مطمئن ہوگئے اور بات اپنے تک ہی محدود رکھی۔
اسی دوران میں مصنفین نے بھی یہ اطلاع دینا شروع کی کہ جمال احسانی ہم سے بھی کہانیوں کا تقاضا کر رہے ہیں، یہ صورت حال خاصی تشویش کا باعث تھی، ہمیں معلوم تھا کہ معراج صاحب اس بات کو بالکل پسند نہیں کریں گے اور اپنے رائٹرز کے سلسلے میں وہ بڑے حساس ہیں، چناں چہ ہم نے نہ صرف یہ کہ معراج صاحب کو ان کے عزائم سے باخبر کیا بلکہ جمال سے بھی کھل کر بات کی اور ان سے کہا کہ تمھارے تعلقات معراج صاحب سے بہت اچھے ہیں، آئندہ بھی ان میں کوئی خرابی پیدا نہیں ہونی چاہیے،بہترین بات یہ ہوگی کہ تم معراج صاحب سے اس معاملے میں کھل کر بات کرلو، تمھارے اس رویے سے وہ خوش ہوں گے ، ناراض نہیں، مزید یہ کہ تمھارے نئے پرچے کی پبلسٹی کے لیے سسپنس اور ادارے کے دوسرے پرچے میں اشتہار کے لیے بھی راستہ بنے گا۔
جمال احسانی نے ہماری بات سے اتفاق کیا اور فوری طور پر معراج صاحب سے ملاقات کرکے اپنا استعفا پیش کردیا جسے معراج صاحب نے خوش دلی کے ساتھ قبول کرلیا، ہمیں نہیں معلوم کہ اس ملاقات میں دونوں کے درمیان مزید کیا گفتگو ہوئی لیکن جمال نہایت خوش گوار موڈ میں ہمارے پاس آئے اور ہمیں بتایا کہ انھوں نے استعفا دے دیا ہے اور معراج صاحب نے ہمارے نئے پرچے کے سلسلے میں مشفقانہ رویے کا اظہار کیا ہے اور اس کا اشتہار بھی اپنے پرچوں میں لگانے کا وعدہ کیا ہے،ہم نے انھیں مبارک باد دی، اس طرح وہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز سے رخصت ہوگئے
رازدار کا دفتر ہمارے دفتر سے زیادہ فاصلے پر نہ تھا، اکثر ایسے مصنفین ہمارے پاس بھی آتے رہتے تھے جو ان کے دفتر کی خبریں ہمیں بھی دیتے تھے، غلام قادر اگرچہ ہمارے لیے لکھتے تھے لیکن جمال سے پرانے تعلقات کی وجہ سے انھوں نے رازدار میں لکھنے کا بھی وعدہ کرلیا تھا، یہ بھی خبر ملی کہ رازدار کے لیے شکیل عادل زادہ بھی اپنی آپ بیتی لکھنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں، قصہ مختصر یہ کہ نہایت زوروشور سے رازدار کی اشاعت کا مرحلہ طے ہونے لگا، رازدار میں ایک سلسلہ وار کہانی عزیزم عباس ثاقب نے بھی لکھی جو خاصی معرکے کی چیز تھی اور مقبول بھی ہوئی۔
حسام بٹ پابندی سے دفتر کا چکر لگاتے رہتے تھے،ایک روز ہم نے ان سے کہا ’’جمال احسانی رازدار نکال رہے ہیں، آپ سے پرانی واقفیت ہے تو کیا آپ ان کے دفتر نہیں گئے؟‘‘
انھوں نے بتایا کہ جمال سے میرا رابطہ ہے اور وہ مجھے بلا بھی رہے ہیں مگر میں انھیں ٹال رہا ہوں، ہم نے کہا ’’اگر میں یہ کہوں کہ آپ جمال کی پیشکش قبول کرلیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا؟‘‘
بٹ صاحب کچھ سوچ میں پڑ گئے، شاید ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم ایسا کیوں کہہ رہے ہیں کیوں کہ وہ تو ہمارے ادارے میں واپسی کے لیے پرامید تھے اور ہم انھیں جمال احسانی کی طرف بھیج رہے تھے، ہم نے انھیں یاد دلایا کہ آپ کو یہ حکم ملا ہے کہ ہم جو کہیں ، آپ اس پر عمل کریں، اس یاد دہانی کے بعد بٹ صاحب فوری طور پر راضی ہوگئے اور بالآخر انھوں نے رازدار ڈائجسٹ جوائن کرلیا، جمال احسانی نے بھی انھیں نہایت خوش دلی سے خوش آمدید کہا، جب تک وہ رازدار میں رہے، ہمارے پاس بھی مہینے میں ایک آدھ چکر لگالیتے ،جمال احسانی اور رازدار سے متعلق ضروری اطلاعات ہم تک پہنچانے کا فرض بھی ادا کرتے، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، ہمیں یاد نہیں کہ کتنے ماہ انھوں نے رازدار میں گزارے، آخر ایک روز وہ ہمارے پاس آئے اور ہم سے کہا کہ اب میری برداشت سے باہر ہوچکا ہے ، میں مزید جمال احسانی کے ساتھ نہیں چل سکتا، وہ جمال احسانی سے خاصے شاکی تھے، پہلے بھی کئی بار اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرچکے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انھیں رازدار میں جانے کا مشورہ صرف اس لیے دیا تھا کہ اندازہ ہوسکے وہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے کس حد تک سنجیدہ اور ذمے دار ہیں کیوں کہ ماضی کا تجربہ کچھ خوش گوار نہ تھا، انھوں نے جب تک بھی رازدار میں کام کیا، ہمیں مختلف ذرائع سے یہ رپورٹ ملتی رہی کہ ان کی کارکردگی بہتر اور ذمے دارانہ ہے، چناں چہ ہم نے ان سے کہا کہ آپ اب رازدار چھوڑ دیں اور ہمارے پاس آجائیں، ادارے میں واپسی کے لیے معراج صاحب کو منانا ضروری تھا، چناں چہ ہم نے انھیں ایک دلچسپ طریقہ بتایا جو ان کی واپسی کے لیے معاون و مددگار ہوسکتا تھا، بٹ صاحب نے ہماری ہدایت پر عمل کیا اور اس طرح ان کی واپسی ممکن ہوسکی، وصی بدایونی صاحب کے انتقال سے ماہنامہ سرگزشت میں ہمارا اطمینان بخش معاون کوئی نہیں رہا تھا لہٰذا حسام بٹ کو سرگزشت میں اپنے معاون کے طور پر ہم نے رکھ لیا اور بلاشبہ وہ آئندہ برسوں میں نہ صرف ہمارے بہترین ساتھی اور معاون ثابت ہوئے بلکہ ہم نے انھیں ہمیشہ اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھا۔
یقیناً ایک سوال ہمارے قارئین کے ذہن میں ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ آخر ہم نے معراج صاحب کو راضی کرنے کے لیے بٹ صاحب کو کیا طریقہ سمجھایا تھا جس پر عمل کرکے وہ واپس آسکے، ہم نے بٹ صاحب سے کہا کہ آپ ایک درخواست معراج صاحب کے نام لکھیں اور اس میں اپنی ماضی کی غلطی کا اعتراف کریں، معراج صاحب کی تعریف کریں کہ آپ کی عنایات اور نوازشات کا درست احساس نہیں کیا، اب میں واپس آنا چاہتا ہوں اور مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے،مزید یہ کہ درخواست کے آخر میں چند الفاظ ہمارے خلاف بھی لکھ دیں کہ فراز صاحب نہیں چاہتے کہ میں آپ کے ساتھ کام کروں۔
بٹ صاحب چونکے اور پوچھا ’’آپ کے خلاف کیوں؟‘‘
ہم نے جواب دیا ’’بس،ہم جو کہہ رہے ہیں، آپ وہ کریں اور بالکل پریشان نہ ہوں کہ ہم آپ کی اس بات پر ناراض ہوں گے‘‘
اتنا عرصہ معراج صاحب کے ساتھ گزارنے کے بعد ہمارا مشاہدہ یہ تھا کہ معراج صاحب اکثر اپنے قریبی افراد کی باتوں کو بھی شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے تھے، اگر ہم خود اس معاملے میں ان سے بات کرتے کہ حسام بٹ کو لینا چاہتے ہیں تو وہ لازمی مشکوک ہوتے کہ ہم ایسا کیوں چاہتے ہیں، یہ درخواست انھوں نے ہمارے سامنے رکھ دی، ہم نے اسے پڑھا اور مسکراکر معراج صاحب کی طرف دیکھا۔
معراج صاحب نے پوچھا ’’تمھارا کیا خیال ہے؟‘‘
ہم نے جواب دیا ’’بندہ کام کا ہے اور رازدار میں خاصی ذمے داری کے ساتھ کام کرتا رہا ہے، اس سے پہلے ہم نے سنا تھا کہ مسٹری میگزین میں بھی کام کیا ہے، شاید پہلے والا دماغی خناس اب ختم ہوچکا ہے لہٰذا ایک کام کے آدمی کا اضافہ ہمیں قبول ہے، اگر وہ ہمارے بارے میں کچھ غلط خیال رکھتا بھی ہے تو ہمیں اس کی پروا نہیں ہے، دفتر میں ممکن ہے کچھ اور لوگ بھی ہم سے اختلاف رائے رکھتے ہوں مگر بہر حال ہم سب ساتھ ہی کام کر رہے ہیں، سب سے زیادہ اختلاف رائے تو ہمارے اور شاہد کے درمیان ہے‘‘
معراج صاحب نے بہت غور سے چند لمحے ہمیں دیکھا اور کہا ’’تمھیں اعتراض نہیں ہے تو ٹھیک ہے مگر انھیں سنبھالنے کی ذمے داری تمھاری ہی ہوگی، ویسے بھی وصی صاحب کے بعد تمھیں سرگزشت میں پروف ریڈر کی ضرورت ہے‘‘

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 30 ۔۔۔سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

2 تبصرے

  1. جمال احسانی اور راز دار کا تذکرہ تشنہ ہے علاوہ ازیں بہت شاندار تحریر اور خاص طور پر اپنے موضوع کی لاجواب اور نادر سرگزشت بھی۔

  2. سید عارف مصطفیٰ

    ساتھ ساتتھ اس وقت کے معاصر جریدوں و ڈائجسٹوں کے احوال پہ بھی ذرا روشنی ڈالی جائے تو اور بہتر رہے گا اسکے علاوہ اس دیا کے ان چند لوگوں کا بھی بارے تذکرہ ہوجائے کہ اپنی ظاہری پہچان سے مختلف تھے یعنی چھوٹے دکھتے تھے پر بڑے تھے اور ایسے بھی کہ بڑے نظر آتے تھے مگر درحقیقت بہت ہی چھوٹے تھے ،،، ساتھ ساتھ اس عہد کا آشوب بھی ۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے