سر ورق / ناول / میرا عشق بھی تو۔ نزہت جبیں ضیاء

میرا عشق بھی تو۔ نزہت جبیں ضیاء

میرا عشق بھی تو۔ نزہت جبیں ضیاء

دوسرا اور آخری حصہ

ڈاکٹرز کے مطابق اچانک شاکڈ کی وجہ سے انشال کا نروس بریک ڈاﺅن ہوا تھا اس وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئی تھی‘ اب حالت بہتر تھی اس لیے ضروری ہدایات کے بعد ڈاکٹرز نے اس گھر جانے کی اجازت دے دی۔ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں؟ یا کچھ بھی ہوجائے کوئی جیتے جی ہمیں چھوڑ جائے‘ مگر زندگی اپنی مخصوص رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ کسی کے آنے سے یا کسی کے جانے سے گو کہ زندگی میں ایک خلل‘ کمی اور ادھورا پن ضرور آجاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے زندگی پر جمود سا طاری ہوگیا ہو مگر رفتہ رفتہ حالات و واقعات اور ہمارے اردگرد کے لوگ ہمیں پرانی ڈگر پر لے آتے ہیں‘ یہی سلسلہ ہے جو ازل سے چلتا آرہا ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔

ئ…./….ئ

وقت دھیرے دھیرے سرکتا رہا‘ گھر کا ماحول بہت مکدر سا ہوگیا تھا۔ عماد کو اچھی جاب مل گئی تھی‘ اس دوران نمل کا رشتہ بھی طے ہوچکا تھا۔ ایک دو رشتے انشال کے لیے بھی آئے لیکن انشال نے سختی سے منع کردیا تھا۔ بظاہر انشال بہت مطمئن اور خوش نظر آتی‘ اس نے خود کو وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا جس بات کو لے کر اس کی زندگی میں اتنا بڑا طوفان آیا تھا۔ وہ اسی بات پر مزید عمل درآمد کرنے لگی تھی۔ امی جی گھر اور بہنوں اور بھائی کا خیال رکھتیں ان کے لیے سوچتیں اور ان کے لیے ہی محنت کرتیں۔

اس رات انشال اپنے کمرے سے عماد کے کمرے کی طرف آئی اسے کچھ بات کرنی تھی تب ہی عماد کے کمرے سے آتی آوازیں سن کر وہ ٹھٹک گئی۔

”ہاں ہاں یار تم فکر مت کرو بس اس پرپوزل کو منع کروا دو میں کچھ کرتا ہوں تمہارے لیے۔ ہاں یار…. یہی تو مسئلہ ہے امی جی کو آپی کی وجہ سے اعتراض ہوگا۔ اوکے چلو تم ٹینشن مت لو میں بات کروں گا امی سے‘ آرام سے سو جاﺅ سویٹ ہارٹ‘ آئی لو یو سو مچ۔“ انشال واپس اپنے کمرے جانب چل دی۔

”عماد‘ اس وقت یوں بے تکلفی سے کس سے بات کررہا تھا یقینا شادی کے حوالے سے بات ہورہی تھی اور مجھے لے کر وہ لوگ پریشان ہیں۔“ کافی دیر تک انشال عماد کے بارے میں سوچتی رہی‘ الجھتی رہی اور دوسرے دن عماد نے اپنے حوالے سے رخسانہ بیگم سے بات کی۔

”امی آپ لوگ میرا رشتہ لے کر میری دوست انابیہ کے گھر جائیں۔“

”ہائیں…. یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ میں انشال کی شادی سے پہلے تمہارے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔“ رخسانہ بیگم کو عماد کی بات اچھی نہیں لگی۔

”مگر امی…. انابیہ کا پرپوزل آیا ہوا ہے اس کے والدین وہاں ہاں نہ کردیں۔ اب تو آپی کے لیے کوئی رشتہ بھی نہیں آرہا‘ جب آئے تب انہوں نے انکار کردیا۔“

“اور امی جی اگر آپی کی شادی طے نہ ہوئی تو کیا ہم‘ ایسے ہی بیٹھے رہیں گے اور میں مل چکی ہوں انابیہ سے امی بہت بیوٹی فل ہے وہ۔ اس کے لیے تو بہت پرپوزلز ہیں۔“ اس بار نمل بولی تھی‘ چھوٹی سی نمل جسے انشال گڑیا کہتی تھی۔

”جی امی جی…. ہم آپی کو لے کر کوئی رسک نہیں لے سکتے‘ آپ لوگ جاکر بات تو طے کردیں اور پھر نمل کے سسرال والے بھی تو شادی پر اصرار کررہے ہیں۔ سوچنا تو پڑے گا ہمیں۔“ عماد کی آواز تھوڑی تیز ہوئی۔

”یہ اس کے چھوٹے بھائی‘ بہن تھے جنہیں گزشتہ سالوں سے انشال نے ماں باپ بن کر پالا تھا۔ عماد سچ ہی تو کہہ رہا تھا‘ سب کو اپنے اپنے مستقبل کی فکر تھی اور وہ…. وہ جس نے اتنے سال گنوا دیئے‘ اپنی زندگی کی خوشیاں داﺅ پر لگا کر بھی خالی ہاتھ تھی ساری رات نیند اس سے روٹھی رہی مختلف سوچوں نے اسے ایک پل کے لیے بھی قرار نہ بخشا‘ دکھ اس کے اندر تک اتر گیا تھا صبح وہ آفس بھی نہ جاسکی۔

”ارے کیا ہوا بیٹی…. آج آفس بھی نہیں گئیں تم؟“ رخسانہ بیگم اس کے کمرے میں آئیں تو اس کا تھکا تھکا چہرہ‘ سرخ آنکھیں بے خوابی کی گواہی دے رہے تھے۔

”جی امی…. سر میں درد تھا اس لیے آنکھ نہیں کھلی۔“ اس نے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے‘ تم نیند پوری کرلو کافی دنوں سے نیند بھی پوری نہیں ہوئی تمہاری۔“ رخسانہ بیگم نے اس پر چادر صحیح سے پھیلاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کرکے واپس چلی گئیں۔

”نیند تو میرے اپنوں نے اڑائی ہے اماں۔“ وہ تکیے میں منہ دیتے ہوئے سوچنے لگی۔

دس بجے تک نیند پوری کرکے اٹھی تو طبیعت کچھ بہتر لگی شاور لے کر وہ ناشتا کرکے رخسانہ بیگم کے کمرے میں آگئی۔ رخسانہ بیگم اس وقت سبزی کاٹ رہی تھیں۔

”کافی تھکی ہوئی سی لگ رہی ہو بیٹی‘ بہت کام کررہی ہو‘ میں کہتی ہوں کچھ دن جاب سے چھٹی لے کر ریسٹ کرلو۔ اب تو عماد بھی ماشاءاللہ تنخواہ لانے لگا ہے۔“ رخسانہ بیگم نے غور سے اس کے مضمحل چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”نہیں امی جی‘ اب مجھے عادت ہوگئی ہے اگر ریسٹ کروں گی تو میں بور ہوجاﺅں گی‘ یوں مصروف رہنا مجھے اچھا لگنے لگا ہے یا شاید میں مصروفیت کی عادی ہوگئی ہوں۔“ چائے کا سپ لے کر اس نے کپ ٹرے میں واپس رکھتے ہوئے کہا۔

”اور امی…. میرے خیال میں ہمیں اب نمل کی شادی کی تیاری شروع کردینی چاہیے اس کا گریجویشن مکمل ہونے والا ہے….“

”انشال…. اس بات پر میں ہرگز راضی نہیں کہ عماد کی شادی تم سے پہلے ہو۔“ رخسانہ بیگم نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے تیزی سے کاٹی۔

”اوکے…. اوکے‘ چلیں آپ بات طے تو کرسکتی ہیں ناں عماد کی۔“ انشال نے ہار مانتے ہوئے کہا۔ رخسانہ بیگم تذبذب کا شکار ہوئیں۔

”امی پلیز جو ہمارے ہاتھ میں ہے وہ تو ہم کرسکتے ہیں ناں‘ عماد جہاں چاہتا ہے وہاں اس کا پرپوزل لے کر چلتے ہیں۔ نمل کی شادی کی تیاری اسٹارٹ کرتے ہیں اور اچھے وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ امی جی جو خوشیاں ہماری منتظر ہیں ان کو تو خوش آمدید کہیں ناں۔“ انشال کی بات پر رخسانہ بیگم نے آبدیدہ نظروں سے اس کے پُرسکون چہرے کی جانب دیکھا‘ کتنی حوصلہ مند‘ پُرخلوص اور ثابت قدم لڑکی تھی وہ‘ لاابالی سی انشال کو وقت نے کتنا معتبر‘ سنجیدہ اور بڑا بنادیا تھا۔ ایک گہری نظر انشال پر ڈال کر انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔

”واﺅ آپی…. تھینک یو سوچ مچ۔ آئی لو یو میری سویٹ آپی۔“ عماد نے سنا تو اس کو گلے سے لگا کر خوشی سے نعرہ لگایا۔

”جیتے رہو‘ شاد و آباد رہو بھیا۔“ انشال نے دعا دی۔

ئ…./….ئ

انابیہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی‘ عام سی فیملی سے تعلق رکھتی تھی صورت شکل تو اچھی تھی مگر تھوڑی سی خود سر اور مغرور سی لگی تھی مگر عماد کی پسند تھی اس لیے سب نے دل سے قبول کرلیا۔ عماد کا رشتہ طے ہوگیا اور ساتھ ہی نمل کی شادی کی تیاریاں بھی شروع ہوگئیں۔ انشال نے رخسانہ بیگم اور عماد کے مشورے سے گھر کا آدھا حصہ یعنی ایک پلاٹ فروخت کردیا کیونکہ گھر کافی بڑا تھا۔ لوگ کم تھے اور فی الحال رقم کی ضرورت بھی تھی‘ اپنے پورشن کے اوپر تھوڑا سا ضرورت کے مطابق گھر بنوا کر کرائے پر چڑھا دیا اور تھوڑا سا انشال نے قرضہ بھی لے لیا یوں اوپر کا پورشن بھی بن گیا جس سے آمدنی ہونے لگی ساتھ ہی نمل کی شادی بھی احسن طریقے سے ہوگئی۔ انشال کافی مطمئن تھی کہ اللہ پاک نے دوسرے اہم فرض سے سبکدوش کردیا تھا۔ مشعل کم کم آتی‘ نمل اور مشعل اپنے اپنے گھروں میں خوش تھے۔

ابھی نمل کی شادی کو کچھ ماہ ہی گزرے تھے کہ انابیہ کے والد کی طبیعت خراب ہوگئی ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا طبیعت کافی خراب تھی۔ ڈاکٹر ان کی طرف سے ناامید ہوچکے تھے‘ ان کی طرف سے یہ پیغام آیا تھا کہ وہ جلد از جلد اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں انابیہ ان کی اکلوتی بیٹی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اپنے سامنے اپنی بیٹی کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔

”نہیں‘ ایسا کیسے ممکن ہے؟ میں نے پہلے انشال کی شادی کرنی ہے۔“ رخسانہ بیگم نے سختی سے انکار کیا۔

”نہیں امی جی پلیز۔“ انشال کے چہرے کا رنگ ایک دم ہی بدلا‘ گزشتہ وقت کی تلخ و تکلیف دہ یاد نے یکلخت اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ رخسانہ بیگم نے اس کے چہرے پر پھیلے کرب کو محسوس کیا تھا ان کے دل میں درد سا ہوا۔

”امی جی‘ ایک بار پھر…. ایک بار پھر ہم اس غلطی کو ہرگز نہیں دہرائیں گے بعض پچھتاوے اتنے گہرے گھاﺅ لگا دیتے ہیں کہ سال ہا سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی کسک اور جلن ہمیں اپنے اندر تک اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے لیکن تب وقت گزر چکا ہوتا ہے تب ہمیں احساس کے کچوکے‘ دکھ کے تازیانے اور اذیت کے ناگ لمحہ بہ لمحہ ڈستے ہیں اور میں…. اب ایسا کچھ نہیں کرنے دوں گی۔ امی جی آج کا یہ فیصلہ کل کے لیے اذیت کا باعث بنے ہمیں عماد کی شادی کردینی چاہیے۔ آگے کے حالات صرف اللہ پر چھوڑ کر ہمیں حال کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے امی جی۔“ انشال کے لہجے میں بے تحاشا دکھ بول رہے تھے‘ رخسانہ بیگم رنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتی رہیں۔

وقت اور حالات نے اسے کتنا سمجھ دار بنادیا تھا‘ وہ صرف اور صرف دوسروں کے بارے میں سوچتی۔ وقت نے اسے کتنا بڑا بنادیا تھا اور حالات نہ جانے اسے کون سے دوراہے پر لے جارہے تھے‘ رخسانہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

”بس امی جی…. مشعل اور نمل سے کہہ دیں کہ شادی کی تیاری شروع کردیں ہم اپنے بھائی کی شادی خوب دھوم دھام سے کریں گے۔“ لہجے کو بشاش بناتے ہوئے انشال مسکرائی‘ رخسانہ بیگم سر ہلا کر رہ گئیں۔

عماد کی شادی طے ہوئی تو انشال پر مزید کام کا بوجھ بڑگیا‘ وہ آفس میں زیادہ ٹائم دینے لگی تھی‘ رخسانہ بیگم مشعل اور نمل مل کر تیاری کررہی تھیں۔ اس روز بھی وہ لوگ شاپنگ کرکے لوٹے تھے‘ مشعل کے دو بیٹے تھے جب کہ نمل کی ایک بیٹی۔ بچے بھی آجاتے تو رونق لگی رہتی‘ اس روز عماد آفس سے لوٹا تو سب لوگ موجود تھے‘ شاپنگ کرکے واپس آئے تھے کچھ دیر بعد انشال بھی آگئی۔ سارے شاپرز قالین پر پھیلے ہوئے تھے سب نے اپنی اپنی شاپنگ بھی کی تھی۔ انشال نے سب تیاری رخسانہ بیگم کی مرضی پر چھوڑ دی تھی۔

”ارے واہ‘ یہ تو بڑے پیارے پیارے سوٹس ہیں۔“ قالین پر بکھرے مختلف سوٹس دیکھ کر انشال خوش دلی سے بولی وہ ابھی ابھی روم میں داخل ہوئی تھی۔

”آپی آجاﺅ‘ یہ دیکھو ہم آپ کے لیے بھی سوٹ لے آئے۔“ نمل نے کہا تو وہ مسکرا کر بیٹھ گئی۔

”گڈ۔“ سارے سوٹس پر نظر ڈالی سارے اچھے تھے‘ اسے کاپر اور سی گرین کومبینیشن والا کام کا سوٹ اچھا لگا۔

”یہ والا سوٹ میں لے لیتی ہوں۔“ انشال نے سوٹ ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔

”ارے نہیں آپی‘ یہ تو ہم دلہن کی بری کے لیے لائے تھے‘ کاپر کلر اور برائٹ کام والا یہ بھلا سوٹ آپ پر اچھا تھوڑی لگے گا۔“ مشعل کی بات پر انشال نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کو دیکھا‘ سوٹ پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔

”مشعل…. کیا مطلب ہے تمہارا؟ انشال بوڑھی تو نہیں ہوگئی جو اس طرح سے کہہ رہی ہو یہ کلر انشال پر اچھا نہیں لگے گا۔“ رخسانہ بیگم کو مشعل کی بات بہت بری لگی۔

”امی جی…. مشعل آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں‘ ہم یہ کھلتا ہوا کلر انابیہ بھابی کے لیے ہی لائے ہیں۔ آپی کے لیے تو یہ گرے سوٹ لیا ہے۔“ نمل نے مشعل کی تائید کی اور لائٹ گرے سوٹ اٹھا کر رخسانہ بیگم کی جانب بڑھایا۔ انشال کو بہنوں کی بات سے شدید جھٹکا لگا تھا‘ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔

”ٹھیک ہے۔“ آہستگی سے سوٹ کارپٹ پر رکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور رخسانہ بیگم کو مخاطب کیا۔

”امی…. میں کچھ دیر آرام کرلوں۔“ کہہ کر کمرے سے نکل گئی‘ اپنے کمرے میں آئی تو دل بہت دکھی ہورہا تھا۔ بہنوں کے رویے نے سخت ذہنی اذیت پہنچائی تھی۔

”کیا میری عمر نکل گئی؟“ اس نے آئینہ میں اپنا جائزہ لیا‘ گزشتہ برسوں نے اس کی صحت پر اثر تو ڈالا تھا مگر ایسا بھی نہیں تھا۔ سات آٹھ سال میں وہ کوئی پچاس سال کی عورت تو نہیں بن گئی تھی‘ وقت نے یہ تبدیلی ضرور کی تھی کہ اس سے چھوٹی بہنیں مائیں بن چکی تھیں‘ انشال نے اپنے بارے میں تو سوچا ہی نہیں تھا۔ سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی‘ رات کے نو بجے آنکھ کھلی تو رخسانہ بیگم عشاءکی نماز پڑھ رہی تھیں‘ مشعل اور نمل اپنے گھر جاچکی تھیں‘ عماد گھر پر نہیں تھا۔ وہ رخسانہ بیگم کے کمرے میں آئی تو رخسانہ بیگم کی نماز ختم ہوگئی تھی اور وہ جائے نماز تہہ کررہی تھیں۔

”جی امی جی…. اب یہ بتائیں کے عماد کی شادی کے حوالے سے کتنی تیاری رہ گئی ہے۔“ بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے بشاش لہجے میں سوال کرتے ہوئے وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ رخسانہ بیگم نے جائے نماز شیلف پر رکھتے ہوئے پلٹ کر بغور اسے دیکھا۔

”کیا ہوا امی؟“ اس نے ماں کو یوں گھورتا دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔

”انشال…. مانا کہ تم پر کم عمری میں گھر کی ذمہ داری آن پڑی‘ تم نے اس گھر کو اور گھر کے لوگوں کو مرد بن کر سنبھالا ہے لیکن…. لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم دوسروں کو سنوارتے اور سنبھالتے ہوئے خود کو اس حد تک نظر انداز کردو کہ اپنی عمر سے بھی دس سال بڑی لگنے لگو۔ اپنی عمر کی لڑکیوں کو دیکھو کیسی بنی ٹھنی رہتی ہیں‘ کچھ تو غےر شادی شدہ بھی ہیں مگر خود کو سجا کر رکھتی ہیں اور ایک تم ہو کہ تمہیں اپنی فکر ہوتی ہے نہ اپنا خیال رکھتی ہو۔ مشین بن کر بس کام کام کرتی رہتی ہو‘ ذرا اپنے آپ کو بھی دیکھو تھوڑا سا خود پر بھی دھیان دو۔“

”ارے امی جی‘ چھوڑیں بھی کیا ہوگیا ہے آپ کو‘ کیسی باتیں کررہی ہیں۔ اچھی بھلی تو ہوں میں الحمدللہ مجھے کیا ہوا ہے بھلا؟ اور پھر مجھے کون سا کسی فیشن شو میں حصہ لینا ہے جو بن ٹھن کر رہوں۔ میں جیسی بھی ہوں بہت خوش اور مطمئن ہوں اور مجھے ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا ہے اس لیے میری فکر نہ کیا کریں بس دعا دیا کریں۔ اچھا یہ بتائیں آپ کے کپڑے سل کر آگئے؟“ لمبی چوڑی بات کے بعد اس نے یک دم سے بات بدل کر خوشگوار انداز میں سوال کیا۔ رخسانہ بیگم ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئیں۔

ئ…./….ئ

عماد کی شادی بھی ہوگئی اپنے طور سے بہنوں نے اپنے اپنے ارمان نکالے‘ رسومات کے وقت مشعل اور نمل انشال کو مسلسل اگنور کرتے اور باقاعدہ اسے کوئی بھی رسم کرنے سے منع بھی کرتے رہیں۔

”آپی پلیز‘ آپ ہٹ جائیں۔ بھائی‘ کوشش کریں کہ بھابی کے ساتھ میں اور مشعل ہی رسم کریں‘ آپی بے چاری کنواری رہ گئیں ناں‘ کوئی اثر نہ پڑے۔“ مشعل نے عماد کو بھی یہ بات باور کرا دی تھی تب ہی تینوں مل کر انشال کو اگنور کررہے تھے‘ مطلب اسے باقاعدہ منحوس قرار دیا جارہا تھا۔ ہر بات کے ساتھ جملے اور حرکات و سکنات کو رخسانہ بیگم بھی محسوس کررہی تھیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ یہ لوگ انشال کے ساتھ ایسا برتاﺅ کیوں کررہے ہیں؟

عماد کے ولیمے کے دوسرے دن مشعل اور نمل اپنے ساز و سامان کے ساتھ اپنے گھر کو لوٹیں‘ انابیہ سے انشال کی ملاقات بھی کم کم ہوتی۔ وہ صبح جاتی تو شام کو لوٹتی لیکن پھر بھی انشال ہر ممکن اس کا خےال رکھتی‘ شادی کو ایک ہفتہ ہوچکا تھا۔ اس روز انشال آفس سے لوٹی تو عماد اور انابیہ رخسانہ بیگم کے کمرے میں تھے۔

”السلام علیکم آپی!“ انابیہ نے سلام کیا۔

”وعلیکم السلام! کیسی ہو گڑیا؟“ انشال نے پرس ٹیبل پر رکھتے ہوئے خوشگوار لہجے میں جواب دیا اور کرسی پر بیٹھ گئی۔

”اچھی ہوں۔“ انابیہ مسکرائی۔

”آپی یار…. کچھ پیسے چاہئیں۔“ عماد نے کہا تو انشال چونکی۔

”مگر اب پیسے کس لیے چاہئیں؟“

”وہ دراصل انابیہ کی برتھ ڈے آرہی ہے اور میں اس کو اسپیشل گفٹ دینا چاہتا ہوں۔“ عماد نے محبت پاش نظروں سے انابیہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔

”ارے مگر جو سلامیاں آئی تھیں‘ وہ تو ہوں گی ناں تمہارے پاس؟“ رخسانہ بیگم کو بیٹے کی بات ایک آنکھ نہ بھائی تھی تب ہی تنک کر فوراً بولیں۔

”امی جی…. ہمیں ہنی مون ٹرپ کے لیے بھی پیسے چاہئیں‘ وہ فری میں نہیں ہوجاتا۔“ عماد نے بھی اسی تیزی سے جواب دیا‘ انشال نے بغور عماد کو دیکھا۔

کتنا بدل گیا تھا وہ‘ انشال نے شادی کے حوالے سے اتنا پیسہ دیا‘ تیاریوں میں کوئی کمی نہ ہونے دی۔ عماد سے تو برائے نام پیسہ لیا تھا اور اب پھر…. پھر سے وہ پیسے مانگ رہا تھا۔

”عماد تم چھوٹے بچے نہیں ہو‘ تمہیں چاہیے کہ اپنے اخراجات سوچ سمجھ کر رکھو۔ انشال ایک لڑکی ہوکر اتنا سب کچھ کررہی ہے‘ اب تم شادی شدہ ہو اپنی ذمہ داری محسوس کرو۔ ہر بات کی ذمہ داری اس کی جان پر مت ڈالو‘ انشال نے اب تک تم تینوں کے لیے محنت کی‘ گھر کے اخراجات‘ میری ساری ذمہ داریاں اٹھائیں ہیں۔ اب تم بھی کمانے لگے ہو اس لیے تمہیں بھی سب کچھ سنبھالنا چاہیے۔“

”امی جی یہ آپ کیسی باتیں کررہی ہیں؟ صرف آپی نے ہی سب کچھ نہیں کیا گھر کا کرایہ بھی آتا ہے‘ میں بھی کچھ نہ کچھ تو دیتا ہوں۔“ عماد کو ماں کی بات سخت ناگوار گزری تب ہی جھٹ سے بولا۔

”افوہ….“ انشال نے چونک کر عماد کی جانب دیکھا‘ نئی نویلی دلہن کے سامنے یہ دونوں کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے تھے‘ انابیہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔

”اچھا چلو‘ میں ان شاءاللہ کچھ کردوں گی‘ تم فکر مت کرو عماد۔“ انشال نے جلدی سے بات سنبھالی۔

”تھینک یو آپی۔“ عماد نے اٹھتے ہوئے کہا‘ ساتھ ہی انابیہ بھی کھڑی ہوگئی۔

”امی جی ہم لوگ رات کو ڈنر کرکے آئیں گے‘ ابھی انابیہ کے پاپا کے گھر جارہے ہیں۔“ عماد نے کہا اور دونوں کمرے سے نکل گئے۔

”انشال تمہارا دماغ خراب تو نہیں ہوگیا؟ کیا ضرورت تھی یوں حامی بھرنے کی۔ اپنی ساری تنخواہ اڑا دیتا ہے‘ اتنے سارے پیسوں کا گفٹ لے کر دے گا‘ ہم کوئی ارب پتی لوگ نہیں ہیں کہ ایسے چونچلے پالیں اگر خود میں اتنا دم نہیں ہے تو بھاری تحفے لینے کی کیا ضرورت ہے۔ جتنا ہے اس سے ہی گزارا کرے ناں‘ تمہیں مشین سمجھ رکھا ہے کیا؟ شرم تو نہیں آتی شادی شدہ ہوکر بھی ہاتھ پھیلاتے ہوئے‘ کب تک یوں ذمہ داریاں سنبھالتی رہو گی تم۔ کوئی ضرورت نہیں تمہیں ایک پیسہ بھی دینے کی‘ اپنا آپ تھکا تھکا کر سب کی ضرورتیں اور خواہشات پوری کرنے کی۔ اب تمہیں جاب بھی چھوڑ دینی چاہیے‘ عماد کو بھی بڑا ہونے دو‘ اس پر بھی ذمہ داری آنی چاہیے۔“

”امی جی…. ابھی نئی نئی دلہن گھر میں آئی ہے‘ تھوڑے دن تو صبر کرلیں یقینا دونوں مل کر گھریلو امور میں حصہ لیں گے۔“ انشال کی تسلیاں بے جا تھیں۔

”مجھے تو یہ لڑکی سمجھ دار اور عقل مند کہیں سے بھی نہیں لگ رہی اگر عقل مند اور گرہستی والی ہوتی تو عماد کو وقت سے پہلے ہی روکتی۔ مجھے تو نہیں لگتا انشال کے یہ لڑکی ہمارے لیے کچھ بہتری سوچے۔“ رخسانہ بیگم کی جہاندیدہ نظریں آنے والے کل کو بخوبی دیکھ رہی تھیں‘ موجودہ حالات آنے والے وقت کا پتا دے رہے تھے‘ گزشتہ ایک ہفتے میں انابیہ نے ایک بار بھی ساس سے بیٹھ کر کوئی بات نہیں کی تھی‘ صبح سلام دعا کرتی اور پھر کمرے میں چلی جاتی۔ پھر دو دن بعد ہی عماد اور انابیہ ہنی مون ٹرپ پر روانہ ہوگئے۔

ئ…./….ئ

اس روز اتوار تھا۔ اتور کے دن انشال کافی مصروف رہتی‘ ایک چھٹی کا دن ملتا اس میں ہفتے بھر کے کپڑے بھی دھوتی‘ استری بھی کرتی‘ رخسانہ بیگم کو ٹائم بھی دیتی اور کھانا بھی خود ہی پکاتی۔ دوپہر تک صفائی کے ساتھ ساتھ کھانا بھی تیار کرلیا‘ تین بجے کے قریب سارے کاموں سے فارغ ہوکر باتھ لیا اور کھانا لگایا تب ہی نمل اپنے شوہر فرہاد کے ساتھ آگئی۔

”آجاﺅ کھانا کھالو۔“ انشال نے پیش کش کی۔

”ارے واہ‘ ضرور کھاﺅں گی۔“ مٹر پلاﺅ‘ کباب‘ رائتہ سلاد دیکھ کر نمل کے منہ میں پانی آگیا۔

”اور آپ کے ہاتھ کا کھانا تو لاجواب ہوتا ہے۔“

”ماشاءاللہ آج کافی خوش گوار موڈ ہے تمہارا۔“ انشال نے نمل کو یوں خوش دیکھ کر حیرت سے کہا۔

”بس آپی‘ آپ لوگوں کی دعائیں اور مدد شامل ہو تو….“ نمل نے کباب منہ میں رکھتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑا۔ رخسانہ بیگم اور انشال دونوں چونکے۔

”آﺅبیٹا‘ تم بھی کھا لو۔“ رخسانہ بیگم نے فرہاد کو دیکھ کر ملائمت سے کہا۔

”نہیں شکریہ‘ میں کھانا کھا کر آیا ہوں۔ نمل میں ذرا باہر جارہا ہوں‘ ایک دوست سے مل کر آتا ہوں۔“ فرہاد نے اٹھتے ہوئے نمل کو مخاطب کیا تو نمل نے اثبات میں سر ہلایا۔

”امی جی…. آج ہم لوگ آپ سے اور آپی سے کچھ بات کرنے آئے ہیں۔“ نمل نے فرہاد کے جاتے ہی ماں کو مخاطب کرکے کہا۔

”کیا ہوا خیریت؟“ رخسانہ بیگم اور انشال پوری طرح سے نمل کی طرف متوجہ تھے۔

”وہ دراصل فرہاد کے ابو اپنی جائیداد گھر کا حصہ بخرہ کررہے ہیں‘ ظاہر ہے بچے زیادہ ہیں اور گھر بھی اتنا کوئی بہت بڑا نہیں ہے اس لیے ہمیں جو حصہ مل رہا ہے اس سے ہم فی الحال اپنے مطلب کا اچھے ایریا میں گھر خرید نہیں سکتے تو….“ وہ ایک لمحے کو رکی۔

”تو….؟“ انشال نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

”تو ہمارا ارادہ ہے کہ ہم تھوڑا بہت پیسہ لگا کر آپ کے اوپر مزید ایک پورشن بنوالیں اور فی الحال یہاں سیٹل ہوجائیں اور پھر کچھ عرصے میں پیسہ جمع کرکے اچھی جگہ گھر لے لیں۔“

”یہ کیسے ممکن ہے نمل اور پھر مشعل نے بھی اپنے حالات کو لے کر ایسا ہی کچھ مطالبہ کیا تھا تب عماد نے سختی سے منع کردیا تھا کہ بیٹی کو گھر میں نہیں رکھنا چاہیے۔“ رخسانہ بیگم نے اس بات پر حیران ہوتے ہوئے ملائمت سے سمجھایا‘ انشال چپ رہی تھی۔

”امی جی…. ہماری ضرورت کے وقت آپ لوگ کام نہیں آئیں گے تو کون آئے گا بھلا؟ ایسے موقعوں پر ہر جگہ میکہ ہی سپورٹ کرتا ہے اور آپ تو صاف انکاری ہیں۔“ نمل کو شاید ماں سے ایسی امید نہ تھی۔

”نمل…. ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ اگر ہم نے تمہیں یہاں رکھ لیا تو مشعل اور اس کے میاں فراز کو اعتراض ہوسکتا ہے۔“

”مگر اب تو مشعل آپی کے حالات بہت بہتر ہیں‘ ان کو کسی سپورٹ کی ضرورت نہیں فی الحال ہمیں ضرورت ہے اور ہمیں کون سا ساری زندگی آپ کے سر پر سوار رہیں گے جب بہتری ہوگی تب چلے جائیں گے۔ آپی آپ بھی تو کچھ بولیں ناں ویسے تو گھر کے سارے فیصلے آپ ہی کرتی ہیں اور…. اور اب ایسے چپ لگی ہوئی ہے جیسے سنائی نہیں دے رہا آپ کو۔“ نمل کا لہجہ انتہائی بدتمیز تھا وہ پلٹ کر انشال سے مخاطب ہوئی۔

”نمل پریشان مت ہو‘ عماد واپس آجائے تو بات کرتے ہیں‘ ایک ہفتے میں عماد آجائے گا۔“

”ہنہہ….“ نمل کو انشال کی بات کھوکھلی لگی۔ تھوڑی دیر بعد فرہاد آگیا اور نمل منہ پھلائے واپس لوٹ گئی۔

”اُف اللہ۔“ رخسانہ بیگم نے اس کے جاتے ہی سر تھام لیا۔

”یا اللہ یہ کیسی پریشانیاں ہیں‘ ابھی تک مشعل منہ بنائے ہوئے ہے اور سب کچھ جانتے بوجھتے اب نمل اپنا مطالبہ لے کر گئی‘ یہ کیا ہوگیا ہے لڑکیوں کو کیا سمجھ رہی ہیں کہ شادی کے بعد بھی صرف ان لوگوں کا ہی حق ہے گھر پر میکے کے نام پر ناجائز مطالبات کیا سوچ کر کرتی ہیں کون سا ہمارے پاس قارون کا خزانہ ہے۔“ رخسانہ بیگم بے حد پریشان ہوگئی تھیں۔

”فکر مت کریں امی جی‘ اللہ بہتر کرنے والا ہے۔“

”بے شک اللہ پاک ہی بہتر کرنے والا ہے لیکن اس نے ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے‘ سوچ سمجھ‘ عقل فہم و فراست سے نوازا ہے۔ اللہ پاک کی دی ہوئی ان نعمتوں کا اگر صحیح استعمال نہ کیا جائے تو کیا فرق رہ جائے گا انسان اور حیوان میں۔“

مگر کچھ لوگ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں انہی لوگوں میں مشعل‘ نمل اور عماد بھی شامل تھے تب ہی تو پندرہ دن کے ہنی مون ٹور سے واپس آتے ہی دوسرے دن عماد نے حیران کن اعلان کردیا۔

”امی جی…. ہم لوگ کچھ عرصے کے لیے انابیہ کے والد کے گھر شفٹ ہورہے ہیں‘ آج کل ان کی طبیعت بہت خراب رہتی ہے‘ آنٹی بھی پریشان ہیں کوئی بیٹا بھی نہیں ہے اس لیے ان کو ہماری ضرورت ہے۔ جیسے ہی ان کی طبیعت ٹھیک ہوتی ہے ہم لوگ واپس آجائیں گے۔“ رخسانہ بیگم اور انشال آنکھیں پھاڑے عماد کو دیکھنے لگے‘ کتنی آسانی سے وہ اتنی بڑی بات کہہ رہا تھا۔ جوان بہن اور بوڑھی ماں کو اکیلے چھوڑ کر بیوی کے ساتھ اس کے میکے میں جاکر رہنے کی بات کتنے اطمینان سے کررہا تھا وہی عماد جس نے مشعل کے لیے کہا تھا کہ بیٹیاں میکوں میں آکر رہ جائیں تو داماد کی عزت نہیں رہتی۔ بیٹیوں کو ہر حال میں سسرال میں ہی رہنا چاہیے اور آج ساری باتیں‘ سارے احکام ساری دلیلیں سب بے معنی اور بے وزن ہوکر رہ گئی تھیں۔ اس کو ذرا سا بھی خیال نہیں تھا کہ اس کے بغےر گھر میں ماں اور بہن کیسے رہ سکیں گی۔

”بیٹا…. میں اور انشال یہاں پر اکیلے کیسے رہ سکیں گے؟“ رخسانہ بیگم نے خود پر کنٹرول کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔

”امی جی…. آپ کے ساتھ تو اوپر اسحق انکل کی فیملی بھی ہے۔ اتنے اچھے اور کوآپریٹو لوگ ہیں وہ اور میں کون سا آپ لوگوں کی زندگیوں سے جارہا ہوں‘ آتا جاتا رہوں گا۔ امی جی…. انابیہ کے ماں باپ بوڑھے بھی ہیں‘ بیمار بھی‘ اس وقت ان کو ہماری ضرورت ہے اور ان کا خےال رکھنا میرا بھی فرض ہے۔“ رخسانہ بیگم کے ساتھ انشال بھی عماد کی تقریر سن رہی تھی۔ سارے فرائض‘ حقوق‘ احکامات‘ ضرورتیں سب کچھ اپنے مطلب کی تھیں‘ بیوی کے ماں باپ کو ضرورت تھی اور اپنی ماں کو اس کی ضرورت نہیں تھی۔

”اور آپ یہ مت سمجھیں امی کہ ہمیں آپی کی فکر نہیں ہے‘ ہمیں اندازہ ہے کہ آپ ان کی طرف سے پریشان رہتی ہیں۔ ہمیں آپی بہت عزیز ہیں ان کے لیے بھی بہتری ہی سوچ رہے ہیں ہم‘ آپ فکر نہ کیا کریں۔“ رخسانہ بیگم کو چپ دیکھ کر انابیہ نے آگے بڑھ کر ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر دھیرے سے کہا‘ رخسانہ بیگم نے پلٹ کر اسے بغور دیکھا اور پھیکی ہنسی ہنس دیں۔

پھر عماد مختصر سا سامان لے کر سسرال چلا گیا اور کچھ دن بعد یہ عقدہ کھلا کہ انشال کی بہتری کے لیے ان لوگوں نے کیا سوچا تھا۔ انابیہ کے رشتہ دار کسی پچاس سالہ آدمی کا رشتہ لے کر آئے تھے جس کی بیوی کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ گھر داماد بن کر رہنے پر راضی بھی تھا۔ رخسانہ بیگم نے بیٹے اور بہو کی اچھی طرح کلاس لے کر رشتے سے صاف انکار کردیا تھا۔ عماد کے جانے کے بعد گھر پر عجیب سی اداسی چھا گئی تھی‘ انشال نے جاب سے ریزائن دے دیا تھا‘ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کے ساتھ رہتے‘ مشعل اور نمل بھی کم ہی آتیں۔ زندگی جیسے جمود کا شکار ہوکر رہ گئی تھی‘ کھانا پکانا‘ صفائی‘ کپڑے دھونا‘ اخبار پڑھنا‘ نماز پڑھنا‘ ٹی وی دیکھنا سب ایک روٹین تھی جو چل رہی تھی۔

ئ…./….ئ

کافی دن بعد اتفاق سے مشعل اور نمل اور عماد سارے اکٹھے آگئے تھے‘ گھر میں چہل پہل سی ہوگئی تھی سب بیٹھے باتیں کررہے تھے۔

”امی جی‘ یہ گھر فروخت کردیں آپ؟“ باتوں کے دوران مشعل نے کہا۔

”کیا…. کیا کہہ رہی ہو تم کیوں فروخت کروں؟“ رخسانہ بیگم اس کی بات پر دنگ رہ گئیں۔

”جی امی جی‘ یہی بہتر ہے‘ اب دیکھیں ناں ہم لوگ تو اتنی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں اور ایک آپ لوگ ہیں صرف دو افراد اور اتنا بڑا گھر۔ کیا کریں گے اتنا بڑا گھر رکھ کر‘ کوئی چھوٹا سا فلیٹ لے لیں دو کمروں کا‘ بہت ہے آپ دونوں کے لیے۔ یہ بھی کوئی انصاف ہے کہ آپ لوگ اتنے بڑے گھر میں عیش کریں۔“ نمل اور مشعل حد درجہ بدتمیز اور گستاخ ہوگئی تھیں جبکہ عماد مطلب پرست‘ مشعل نے عماد کو مخاطب کیا۔

”ہاں…. ہاں میرے خیال میں تم لوگ ٹھیک کہہ رہی ہو۔“ رخسانہ بیگم اور انشال ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے۔

”یہ تم لوگ کیا اول فول بک رہے ہو؟“ رخسانہ بیگم نے کہا۔

”امی یہ گھر آپ کا ہے اور بہتر یہی ہے کہ آپ آرام سے تسلی سے اس کا فیصلہ کریں‘ دیکھیں انشال آپی کی شادی کردیں آپ ان کے ساتھ رہ سکتی ہیں ایک پورشن فروخت کرکے حصہ بخرہ کردیں اور اگر انشال آپی کی شادی نہ ہو تو امی جی اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے وہ آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔“ مشعل نے سمجھ داری دکھائی۔

”میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں کسی کو‘ میرے لیے اللہ کی ذات اور انشال کا ساتھ ہی کافی ہے اور تم لوگ میرے فیصلے کے منتظر رہو‘ حساب کتاب اور حصہ چاہیے ہو تو ٹھیک ہے تم لوگوں کی یہ خواہش بھی پوری کردوں گی مجھے ہفتے بھرکا ٹائم دو‘ اگلے اتوار آجانا۔ گھر کے حوالے سے کوئی نہ کوئی خوش خبری ضرور ملے گی۔“

”اچھا ٹھیک ہے پھر ہم لوگ اگلے اتوار کو آجائیں گے۔“ عماد نے اٹھتے ہوئے کہا تو مشعل اور نمل بھی کھڑی ہوگئیں۔

بہت عرصے بعد انشال ان لوگوں کے جانے کے بعد ماں کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ کتنے خود غرض ہوگئے تھے اس کے بھائی بہنیں‘ نہ جانے ان کے ذہن میں کیسے کیسے غلیظ خیالات پل رہے تھے۔ کیسی سوچیں پال رکھی تھیں۔

”یقین نہیں آتا کہ یہ میری اولاد ہے‘ میری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی کہ میری اولاد کی سوچ اتنی سطحی اور گری ہوئی ہوچکی ہے۔ بیٹیاں تو اپنے میکے کے بھرم رکھنے کی خاطر نہ جانے کیسے کیسے پاپڑ بیلتی ہیں‘ عورت کے لیے میکہ ایسی چیز ہے کہ وہ بوڑھی بھی ہوجائے تب بھی لفظ میکہ اس کے لیے سکون کا باعث ہوتا ہے۔ میکے کا مان اور بھرم اس کے لیے بہت اہم ہوتا ہے لیکن یہاں…. یہاں تو بیٹیاں میکے میں آکر صرف بھرم دکھاتی تھیں‘ اپنے حق کی بات کرتی تھیں۔“

”سب کو اپنی اپنی ہی فکر ہے اور اپنے لیے سوچتے ہیں‘ کسی کو ہماری فکر نہیں؟“ انشال نے بے چارگی سے ماں کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔

”فکر نہ کر میری بچی‘ اللہ پاک ہے ناں ہمارے لیے‘ وہی آزمائش میں ڈالتا ہے تو وہی آزمائشوں سے نکالتا بھی ہے‘ دکھ دیتا ہے تو اس کے پیچھے سکھ بھی ہمارے انتظار میں ہوتا ہے۔ مشکلات کے بعد آسانیاں اور تکلیف کے بعد راحت بھی ضرور ملتی ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ پاک تیرا نصیب بہت اچھا کرے۔“ رخسانہ بیگم اس کو سینے سے لگا کر خود بھی رونے لگیں۔

”انشال اٹھو‘ میرے ساتھ اسحق بھائی کے پاس چلو ابھی۔“ اچانک ہی رخسانہ بیگم نے انشال کو کرائے دار کے پاس چلنے کے لیے کہا۔

”ارے کیوں امی؟“ انشال نے حیرت سے سوال کیا۔

”کچھ نہیں بس میرے ساتھ اوپر چلو‘ مجھے اسحق بھائی سے کچھ بات کرنی ہے۔“ انہوں نے اٹھتے ہوئے سر پر دوپٹہ پھیلا کر کہا تو انشال اٹھ کر منہ دھونے چلی گئی۔

ئ…./….ئ

اگلے اتوار کو ایک بار پھر سب لوگ موجود تھے۔

”جی امی جی کیا فیصلہ کیا؟“ عماد نے سوال کیا۔ ”گھر سیل ہوجائے تو اچھا ہے امی جی‘ میں نے کاروبار کا سوچا ہے اچھی آفر آئی ہوئی ہے۔“ عماد نے بے قراری سے کہا۔ ”مجھے پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔“

”پیسوںکی ضرورت کس کو نہیں ہوتی بھائی۔“ اس بار نمل نے بات میں حصہ لیا۔

”ہاں بھئی ضرورت تو سب کو ہوتی ہے مگر کمال یہ ہے کہ ضرورت کے وقت ضرورت پوری کی جائے۔ جب مجھے ضرورت تھی تب تو ایسی ہری جھنڈی دکھائی گئی کہ اللہ توبہ‘ آج تک میں اپنے سسرال اور فراز کے سامنے شرمندہ ہوں کہ میرے میکہ نے میرا ساتھ نہ دیا۔ وہ تو شکر ہے کہ تم لوگوں نے ہمت کرلی تو کوئی فیصلہ بھی ہونے جارہا ہے۔“ مشعل نے طنزیہ لہجے میں لمبی چوڑی تقریر کر ڈالی۔

”واقعی تم سچ کہہ رہی ہو مشعل‘ ہماری غلطی تھی کہ اتنے عرصے ہم یونہی چپ چاپ بیٹھے رہے لیکن تم لوگوں کی مہربانی سے میں نے اپنی زندگی میں ہی فیصلہ کردیا تاکہ تم سب مطمئن ہوجاﺅ۔“ رخسانہ بیگم نے ٹھہرے ہوئے مدلل لہجے میں بات کی۔

”گڈ…. کتنی قیمت لگی امی جی اس گھر کی؟“ نمل کی بانچھیں کھل گئیں۔

”اچھی خاصی لگی ہوگی ابھی بھی اتنا بڑا رقبہ ہے‘ ڈبل اسٹوری اور شہر کے وسط میں بھی ہے۔“ مشعل نے بھی آنکھیں پھیلا کر کہا۔

”میں نے یہ کب کہا کہ میں گھر فروخت کررہی ہوں یا اس کی قیمت لگائی ہے۔ میں…. میں تو اپنا فیصلہ سنانے جارہی ہوں۔“ رخسانہ بیگم کا لہجہ پُراعتماد تھا۔

”کیا…. جی…. کیا مطلب….؟“ یکلخت سب کا لہجہ بدلا اور سب حیرانی سے سوال کرنے لگے۔

”میرا مطلب یہ کہ میں نے پہلے ہی گھر کا آدھا حصہ فروخت کردیا تھا اور مشعل تمہاری اور نمل کی شادی کی تھی اور پھر جب عماد کی شادی ہوئی تو انشال نے قرضہ اٹھایا۔ اسحق بھائی سے تین سال کا کرایہ ایڈوانس لیا اور پھر وقتاً فوقتاً بھی تم لوگوں کی زچگیوں پر اور عماد کی ضرورتوں کے لیے بھی رقم کا بندوبست انشال ہی کرتی رہی۔ اس لیے میرے خےال میں اب تم لوگوں کا اس گھر میں کوئی حصہ باقی نہیں رہ جاتا اگر رہتا بھی ہے تو یہ گھر میں نے اپنی خوشی سے انشال کے نام کردیا ہے۔“ رخسانہ بیگم نے نہایت اطمینان سے اپنی بات مکمل کی۔

”ہائیں….“ سارے اچھل پڑے۔

”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی جی‘ اس گھر پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔“ عماد نے غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے سوال کیا۔

”ہاہاہا…. واہ بیٹا واہ…. آج تمہیں حق یاد آرہا ہے‘ تم سب نے اپنے اپنے حق وصول کرلیے‘ کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی۔ اپنے حق کی بات کرنے کو تو سب کے منہ میں لمبی لمبی زبانیں ہیں مگر مجھے یہ بتاﺅ کہ تم تینوں میں سے فرائض کس کس نے ادا کیے؟ میں کئی بار بیمار ہوئی تو مجھے کون ہسپتال لے کر بھاگا؟ میرا خیال کس نے رکھا؟ میرے ساتھ راتوں کو کون جاگا؟ کس نے مجھے ہر حال میں سہارا دیا؟ ارے بے غیرتوں…. تمہاری اسی آپی نے اپنی شادی داﺅ پر لگائی تو صرف تم لوگوں کے لیے۔ مشعل سے صرف تین سال بڑی ہے مگر ماں کی طرح تم لوگوں کا خیال رکھا‘ ہمیشہ تمہاری ضرورتوں کا خیال رکھا۔ وقت سے پہلے خود کو اتنا بڑا بنالیا کہ اب تم لوگوں کے لیے وہ منحوس ثابت ہونے لگی ہے؟ تم لوگوں کو اس کے کپڑون پر اعتراض ہوتا ہے‘ تف ہے تم لوگوں کی سوچ پر‘ شرم سے ڈوب مرو تم لوگ…. تم لوگ اپنے عیش و آرام اور اپنی ضرورتوں کے لیے آج بھی اس کی حق تلفی کرنا چاہتے ہو۔ شرم نہیں آئی یہ سوچتے ہوئے بھی کہ اس گھر کو فروخت کردیں‘ جس گھر سے تمہارے باپ کی خوشبو آتی ہے جس کے آنگن میں ہنستے کھیلتے تم لوگوں نے سال ہا سال گزارے جس کی ہر اینٹ میں تمہارے باپ اور تمہاری ماں کی محنت اور محبت شامل ہے تم لوگ خلوص‘ محبت سچے رشتوں کے تقدس کو بھی بھلا چکے ہو۔ تم لوگوں نے میری روح تک کو زخمی کر ڈالا مگر تم لوگ میری اولاد ہو یہ رشتہ اللہ پاک کی طرف سے ہے تو میں اس سے انکار نہیں کرسکتی لیکن تمہارے رویوں نے‘ تمہاری سوچ اور تمہاری باتوں نے مجھے بہت تکلیف دی ہے۔ اس لیے میں تمہیں اس گھر میں آنے سے روکوں گی نہیں کیوں کہ یہ گھر تمہارے باپ کا بھی ہے لیکن اس گھر پر اب صرف اور صرف انشال کا حق ہے۔ یہ گھر انشال کے نام ہوچکا ہے یہی میرا آخری فیصلہ ہے۔“ مشعل‘ نمل اور عماد کے چہروں کا رنگ یک دم بدلا تھا‘ انہیں حد درجہ غصہ آرہا تھا‘ تینوں تنتناتے ہوئے اٹھے اور سلام کیے بنا گھر سے نکل گئے۔

ئ…./….ئ

زندگی اپنی رفتار سے گزرتی رہی وقت کا پہیہ دھیرے دھیرے چلتا رہا‘ حالات کیسے بھی ہوں‘ دکھ سکھ‘ ہنسی‘ رونا‘ عروج‘ زوال‘ جدائی‘ ملن‘ خزاں بہار‘ گرمی سردی…. ہر موسم اپنے وقت پر آتا اور جاتا ہے۔ موسموں کے بدلنے سے حالات کب بدلتے ہیں؟ وقت ایک ایسا پنچھی ہے جو اپنی مخصو رفتار سے اڑان بھرتا رہتا ہے‘ اسے اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ وہ اپنے ساتھ کتنی تبدیلیاں لارہا ہے کس کے ساتھ بھلائی اور کسے دکھ کے اتھاہ سمندروں میں دھکیل رہا ہے۔ یہ تو نظام قدرت ہے کہ وقت کو بڑھتے ہی رہنا ہے سو وقت بڑھتا چلا جارہا تھا‘ ڈھیر سارے دن بیت گئے۔

گزرے ماہ و سال میں عماد کے سسر اور ساس کا انتقال ہوگیا گو کہ عماد کبھی کبھار آجاتا لیکن اس کی ناراضگی ہنوز برقرار تھی۔ وہ اپنے دو بچوں اور بیوی کے ساتھ مطمئن زندگی گزار رہا تھا۔ سسر کے مرنے کے بعد ان کی جائیداد سے کاروبار کرکے اب بیوی کے احسانوں تلے دبا ہوا تھا۔ مشعل اور نمل کبھی کبھار عید‘ بقر عید پر چکر لگالیتی‘ ابرار صاحب کی پینشن تھی گھر کا کرایہ تھا دونوں ماں بیٹیوں کا گزار باآسانی ہوجاتا پھر اسحق صاحب کی بیوی‘ بہو اور بیٹا بہت خیال رکھتے۔ کبھی کبھی رخسانہ بیگم کی طبیعت خراب ہوجاتی تو انشال پریشان ہوجاتی۔ ایسے میں مشعل نمل کھڑے کھڑے آکر خیریت پوچھ لیتیں‘ انشال کو ان لوگوں کا اتنا ہی دم غنیمت تھا اسے ضرورت کسی کی نہیں تھی۔ اس نے خود کو حالات میں ڈھال لیا تھا وہ جانتی تھی کہ اب اسے صرف اور صرف رخسانہ بیگم کے لیے جینا ہے ان کی خدمتیں کرنا ہے‘ بدلے میں رخسانہ بیگم ہاتھ اٹھا اٹھا کر ڈھیروں دعائیں دیتیں۔ دل سے اس کے لیے دعائیں کرتیں‘ انہیں کبھی کبھی یہ سوچ کر بہت فکر ہوجاتی کہ اگر خدانخواستہ کل کو ان کو کچھ ہوجاتا ہے تو انشال کا کیا ہوگا؟

عصر کی نماز سے فارغ ہوئی تو انشال کو خیال آیا کہ رخسانہ بیگم کی دوائیاں ختم ہوگئی ہیں‘ وہ ہمیشہ ایکسٹرا دوائیں رکھتی کہ کبھی بھی کوئی مسئلہ ہوجائے تو دوا کا ناغہ نہ ہو۔

”امی جی میں ذرا مارکیٹ جارہی ہوں‘ ایک دو چیزیں لینی ہیں اور واپسی میں آپ کی دوائیں بھی لیتی آﺅں گی۔“ انشال نے رخسانہ بیگم کے کمرے میں آکر کہا۔

”اچھا بیٹی دھیان سے جانا۔“ رخسانہ بیگم نے جائے نماز بچھاتے ہوئے کہا۔

”جی امی جی‘ میں نے چائے پکا کر کا مائیکرو ویو میں رکھ دی ہے آپ سو رہی تھیں ناں‘ آپ نماز سے فارغ ہوکر پی لیجیے گا۔“

”اوں….“ رخسانہ بیگم نے سر ہلایا۔

مختصر سامان لے کر وہ کیمسٹ کی دکان سے دوائیں لے کر پلٹی اور رکشہ کو ہاتھ دے رہی تھی کہ قریب ہی گاڑی آکر رکی‘ انشال نے پلٹ کر غصہ سے گاڑی کی جانب دیکھا قبل اس کے کہ انشال غصے میں آکر کچھ بولتی‘ گاڑی کا دروازہ کھلا انشال کی نظریں اوپر اٹھیں تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں‘ آنکھوں میں عجیب سے رنگ نمایاں تھے۔

دس سال…. دس سال کے طویل عرصے کے بعد مصطفی…. اچانک سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔ انشال اوپر سے نیچے تک آنکھیں پھاڑے اس دشمنِ جان کو دیکھ رہی تھی۔ وقت نے اس کی شخصیت پر کوئی منفی اثر نہ ڈالا تھا‘ وہ آج بھی ویسا ہی اسمارٹ اور جاذب نظر تھا۔

”السلام علیکم!“ حیرتوں سے باہر نکلی تو سلام کیا۔

”وعلیکم السلام! کیسی ہو؟“ جواب دے کر پوچھا۔

”ٹھیک ہوں۔“ اس کے لہجے میں اداسی تھی۔ ”آپ…. آپ یہاں…. اس ملک…. اس شہر میں؟“ نہ چاہتے ہوئے انشال کا لہجہ تلخ ہوگیا۔ اسے یاد تھا کہ مصطفی نے کہا تھا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ ملک چھوڑ کر جارہا ہوں۔

”ہنہہ….“ مصطفی نے ہونٹ کاٹتے ہوئے سر ہلایا۔

”تم یہ دوائیں….؟“ مصطفی نے اس کے ہاتھ میں دواﺅں سے بھرا شاپر دیکھ کر اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔

”امی کی دوائیں ہیں۔“ وہ سر جھکا کر آہستگی سے بولی۔

”اوہ….“ مصطفی نے ہونٹوں کو سکیڑا۔ ”کیسی ہیں چچی جان…. زیادہ بیمار ہیں کیا؟ میرا خیال ہے‘ اس طرح کھڑے ہوکر بات کرنا مناسب نہیں لگتا‘ اگر مناسب سمجھو تو میں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔“ مصطفی نے لوگوں کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھتے ہوئے پاکر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

”اوکے….“ انشال خلاف توقع فوراً ہی راضی ہوگئی۔

”اوہ…. تھینکس۔“ مصطفی کا چہرہ کھل اٹھا اس نے آگے بڑھ کر جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہ گاڑی میں آبیٹھی اتنے عرصے بعد یوں مصطفی کے ساتھ بیٹھنا‘ اس سے بات کرنا‘ دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا نہ جانے کیوں؟

”چچی جان کو بی پی کا مرض کب سے ہے اور سب کیسے ہیں؟“ گاڑی اسٹارٹ کرکے مصطفی نے سوال کیا۔

”امی جی کو کافی عرصے سے بی پی اور شوگر کا مرض لاحق ہے اور باقی سب ٹھیک ہی ہوں گے اپنی اپنی زندگیوں میں خوش‘ مطمئن اور مگن۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی انشال کا لہجہ تلخ ہوگیا۔ ”میں اور امی جی اپنی دنیا میں خوش اور مطمئن ہیں۔“

”اوہ…. مطلب تم نے شادی نہیں کی۔“ مصطفی نے ہونٹوں کو سکیڑا۔ مختصر باتوں کے دوران ہی گھر آگیا تھا۔

”کیا میں چچی جان سے مل سکتا ہوں یقینا وہ…. وہ مجھ سے ناراض ہوں گی ناں؟“ وہ شرمندہ ہوتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

”پتا نہیں۔“ انشال نے سپاٹ لہجے میں کہا‘ مصطفی کا چہرہ یک دم اداس ہوگیا۔ ”ویسے آپ اندر آیئے‘ امی جی سے مل کر جایئے گا۔“ گاڑی سے اترتے ہوئے وہ بولی تو مصطفی یک دم خوش ہوگیا۔

”ارے بیٹا تم….!“ رخسانہ بیگم نے اتنے عرصے بعد مصطفی کو سامنے دیکھا تو حیرت سے چیخیں‘ سارے گلے شکوے اور غصہ ایک پل میں ختم ہوگیا۔ انہیں اپنا یہ بھتیجا بہت عزیز تھا‘ ان کو بھی دل سے اس سے ہمدردی تھی‘ شاید یہی وجہ تھی کہ مصطفی کے ردعمل کو انہوں نے کسی حد تک جائز سمجھا تھا۔

”سوری چچی جان…. میں بہت شرمندہ ہوں‘ میں نے شاید جذبات میں آکر ایک غلط فیصلہ کرلیا تھا‘ اپنی ناراضگی کا غلط طریقہ سے اظہار کیا۔“ وہ خاصا شرمندہ تھا۔

”نہیں نہیں بیٹا‘ پتا نہیں اس وقت کیا صحیح تھا کیا غلط‘ شاید ہم سب ہی غلطی پر تھے یا ہم سب اپنی اپنی جگہ درست تھے مگر غلطیاں بھی اپنے ہی کرتے ہیں اور معافیاں بھی اپنے ہی مانگتے ہیں اور میں تم سے ناراض نہیں ہوں بیٹا‘ یہ بتاﺅ تم کیسے ہو؟ اور تمہاری فیملی وغےرہ؟“ رخسانہ بیگم ایک لمحے کو رکیں۔

”چچی جان…. میں نے شادی نہیں کی‘ دس سال ملک سے باہر رہا اور آخرکار تھک کر اپنے وطن لوٹ آیا ہوں‘ اتنے عرصے گھومتا رہا مگر اپنے ملک جیسا سکون کہیں نہیں ملا۔ میرے دوست کی والدہ ہسپتال میں ایڈمٹ تھیں‘ ان کو دیکھ کر نکلا تھا کہ انشال نظر آگئی۔“ مصطفی نے تفصیل سے بتایا‘ انشال چائے لے آئی تھی‘ تھوڑی دیر تک رسمی بات چیت ہوتی رہی اس نے بتایا تھا کہ پرانا گھر فروخت کرکے چھوٹا سا بنگلو خرید لیا ہے اور اب یہیں پاکستان میں چھوٹا سا کاروبار اسٹارٹ کررہا ہے۔ کچھ دیر بعد مصطفی واپس چلا گیا۔

مغرب ہوچکی تھی‘ دونوں ماں بیٹی نے نماز مغرب ادا کی‘ رخسانہ بیگم مستقل مصطفی کے بارے میں ہی باتیں کررہی تھیں۔ انشال ہوں‘ ہاں میں جواب دیتی رہی۔ رات کے کھانا کے بعد انشال نے رخسانہ بیگم کو دوائی کھلائی اور ان کو سونے کی ہدایت کرکے اپنے کمرے میں آگئی۔

مصطفی کی یوں اچانک سے آمد نے انشال کے دل کی دنیا میں ہلچل مچادی تھی گو کہ اس نے گزشتہ دس سال میں ہر ہر پل مصطفی کو یاد کیا تھا‘ اس کی یادوں سے اپنی راتوں کو آباد رکھا تھا لیکن وہ نظروں کے سامنے نہ تھا۔ آج اسے یوں سامنے دیکھ کر دل میں شوریدہ جذبے سر ابھارنے لگے تھے‘ اتنے عرصے بعد اس کا لوٹ آنا‘ شادی نہ کرنا اور یوں ملنا یہ سب کچھ حد درجہ بے چینی اور بے قراری کا عالم تھا۔ رخسانہ بیگم ماں تھیں وہ انشال کی کیفیت سے بخوبی واقف تھیں۔

ئ…./….ئ

شام سے انشال بہت بے چین اور اضطرابی کیفیت سے دوچار بھی تھی وہ جانتی تھیں کہ مصطفی انشال کی پہلی اور آخری محبت ہے تب ہی تو انشال نے مصطفی کے بعد کسی بھی مرد کے لیے اپنے دل کا دروازہ وا نہیں کیا یقینا آج بھی مصطفی انشال کے دل پر قابض تھا۔

رات بھر جاگنے کی وجہ سے انشال صبح کافی مضمحل تھی‘ اس کی آنکھیں شب بیداری کی گواہی دے رہی تھیں۔ انشال نے معمولی کام نپٹائے‘ اس کی طبیعت اداس ہورہی تھی‘ کل مصطفی آیا لیکن دوبارہ آنے کی بات کی اور نہ ہی انشال نے پوچھا۔ مصطفی نے آکر ایک بار پھر دل کی دنیا میں ہلچل مچادی تھی‘ وہ سامنے نہ تھا تو دل کو قرار آگیا تھا مگر اب سامنے آکر چلا جانا‘ انشال کے لیے تکلیف کا باعث تھا۔

موسم کافی اچھا تھا‘ شام کے وقت ٹھنڈی ٹھنڈی ہواﺅں نے موسم پر خوشگوار اثر ڈالا تھا‘ دن بھر کی گرمی کے بعد ٹھنڈی ہواﺅں سے موسم میں تبدیلی اچھی لگ رہی تھی۔ رخسانہ بیگم اسحق صاحب کے پاس اوپر گئی ہوئی تھیں‘ ان کی بہو کی طبیعت خراب تھی اس کی عیادت کو آئیں تھیں۔ انشال شام کو نہاکر نکلی لمبے بالوں کو سلجھا کر پشت پر پھیلایا وہ برآمدے کے ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی‘ اس ستون کی پناہ میں آکر ہمیشہ سے اسے تحفظ کا احساس ہوتا تھا۔ دل کی تمام تر شدتوں کے ساتھ دشمن جان کو پکارا تھا شاید اس خاموش پکار میں اتنی شدت تھی کہ وہ چلا آیا‘ آنکھ بند کرکے کھولی تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ لائٹ گرے شلوار قمیص‘ بلیک پشاوری چپل پہنے اپنے دراز قد کے ساتھ اس کے بالمقابل کھڑا تھا۔

”ارے آپ؟“ حیرت اور خوشی کے احساس سے وہ جلدی سے کھڑی ہوگئی کبھی کبھی دعائیں یوں بھی قبولیت کا درجہ پالیتی ہیں۔

”کیوں…. میرا دوبارہ سے آنا اچھا نہیں لگا؟“ مصطفی نے غور سے اس کے چہرے کے تاثرات جاننے کی کوشش کی۔

”نہیں نہیں…. ایسی بات نہیں۔ وہ یوں آپ کے آنے کی امید نہیں تھی ناں؟“

”امیدیں تو تمہیں ہمیشہ غلط ہی رہتی ہیں‘ یہ برسوں پرانی عادت ہے تمہاری۔“ مصطفی کا لہجہ تلخ ہوا‘ انشال نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

”ہاں‘ سچ کہہ رہا ہوں برا مت ماننا مگر میں سچ کہوں گا اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ میری بھی تلخ سچائی کو برداشت کرلینا اور بس میرے صرف ایک سوال کا جواب دو کہ تم نے گزشتہ دس برسوں میں کیا کھویا اور کیا پایا؟ جس بات کو بنیاد بنا کر تم نے اپنی زندگی داﺅ پر لگائی‘ اپنا آپ ختم کر ڈالا‘ خوشیوں کے دروازے خود پر بند کرلیے‘ رشتوں کو نبھاتے نبھاتے تم خود کتنی اکیلی ہوگئی ہو۔ جن کے لیے تم نے مجھے ٹھکرایا‘ ان لوگوں نے تمہیں کیا صلہ دیا؟ میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا‘ ہر ہر طریقے سے تمہارا ساتھ دینا چاہا۔ تمہارے مسائل کو اپنے مسائل سمجھ کر بانٹنا چاہا کیونکہ مجھے تم عزیز تھیں‘ تم سے وابستہ تمام مسائل‘ تمام رشتے اور پریشانیاں میں اپنی سمجھتا تھا۔ مجھے تم سے وابستہ ہر چیز عزیز تھی‘ تب ہی تو میں آج تک اکیلا ہوں۔ میرے پاس الحمدللہ سب کچھ ہے مگر زندگی میں ایک خلاءاور ادھورا پن ہے جو ابھی بھی موجود ہے اور تمہیں گزشتہ سالوں میں کیا ملا؟ تم نے کبھی سوچا کہ خدانخواستہ کل کو چچی جان کو کچھ ہوجاتا ہے تو تم اس حرص و ہوس‘ لالچ اور خود غرضی کی دنیا میں کیسے جی پاﺅ گی؟ یہاں پر تو روپے پیسے نے رشتوں کے تقدس کو پامال کرکے رکھا ہوا ہے‘ احساس کا فقدان ہے۔ افراتفری کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے۔“

”مصطفی پلیز….“ انشال نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید کچھ کہنے سے روکا‘ مصطفی کا ایک ایک لفظ سچائی پر مبنی تھا۔ ”مجھے کب اس بات کا پتا تھا کہ میرے سگے بھائی اور بہنیں یوں کریں گے‘ وہ لوگ صرف اپنے بارے میں سوچیں گے‘ میں نے تو بڑے ہونے کے ناطے اپنا فرض پورا کرنے کی کوشش کی‘ ابو جی سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کی سعی کی‘ میری نیت صاف تھی۔ وقت اور حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ سمجھ نہیں آیا کہ حالات کے ساتھ رشتے بھی بدلتے چلے گئے۔“ انشال کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔

”جانتی ہو تم‘ میں اتنی دور رہ کر بھی یہاں کے حالات سے بے خبر نہ تھا تب ہی تو نہ چاہتے ہوئے بھی واپس لوٹ آیا ہوں۔“ مصطفی نے کہا۔ ”میں نے گزشتہ دس سال میں روپیہ پیسہ‘ نام عزت کمایا اگر کچھ کھویا تو بدلے میں کچھ ملا بھی لیکن تم نے…. تم نے کیا پایا؟“

”مصطفی مجھے دنیا کی سب سے بڑی نعمت کا ساتھ ملا ہے مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میری نظر میں سب کچھ بے کار ہے جو سکون‘ جو تشفی مجھے امی جی کی خدمت کرکے حاصل ہوتی ہے اس کے سامنے کسی چیز کی کوئی حےثیت ہے ناں اہمیت‘ اب مجھے امی جی کے ساتھ کی عادت ہوگئی ہے جس طرح اتنی زندگی گزاری اسی طرح سے باقی زندگی بھی گزر جائے گی‘ مجھے جنت کمانی ہے۔“ وہ سر جھکا کر نم لہجے میں بولی۔

”اور میں…. میں کہاں ہوں؟ اتنی لمبی چوڑی زندگی میں میرا حصہ کیا ہے؟“

”کیا مطلب؟“ انشال نے حیرت سے اسے دیکھا۔

”مطلب یہ کہ تمہیں تو الحمدللہ چچی جان کی خدمت کرکے جنت مل رہی ہے‘ تمہارے بھائی اور بہنوں کے گھر آباد ہوگئے اور میں بے چارہ…. میں بے چارہ تمہاری لمبی چوڑی زندگی میں کہیں بھی نہیں؟ تم سب کو کچھ نہ کچھ دیتی رہی ہو‘ ایک معصوم ’مصطفی حسام‘ جو اتنے لمبے اور تھکا دینے والے سفر سے در در کی خاک چھان کر لوٹ آیا ہے‘ ایک معصوم اور دریا دل لڑکی کے پاس کچھ مانگنے تو…. تو اسے بھی تو کچھ حصہ دے دو ناں؟“

”جی….“ انشال نے جی کو لمبا کیا۔

”ہاں انشال…. مجھے آج ایک بار پھر تمہارا ساتھ چاہیے جو کچھ بھی ہوا شاید وہ ہم دونوں کی غلطی کا نتیجہ تھا لیکن اب قدرت نے ہمیں ایک اور موقع دیا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ ہم ایک بار پھر کوئی غلطی کر بیٹھیں۔ جس کا ازالہ بعد میں ناممکن ہوجائے کیونکہ مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ وہ چھوٹی سی‘ لاابالی سی لڑکی جو خود کو بہت بڑا اور سمجھ دار سمجھتی ہے‘ اندر سے آج بھی ڈرپوک ہے اسے بھی کسی سہارے کی ضرورت ہے۔ بولو ٹھیک کہا ہے ناں میں نے؟“ مصطفی نے تھوڑا سا جھک کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ انشال حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھاکہ وہ کیا بولے یوں اچانک وقت نے پلٹا کھایا تھا۔

”بولو ساتھ دو گی میرا؟“ وہ دوبارہ گویا ہوا۔ ”ہاں یا نہ۔“ وہی بہت سالوں پرانا مخصوص انداز انشال کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

”ہاں یا نہ….“ اس نے قریب آکر سرگوشی کی۔

”ہاں ہاں ہاں….“ بالکل اسی انداز میں خوب صورت اقرار کرکے وہ مصطفی کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

برسوں بعد انشال کو مصطفی کے سینے سے لگ کر تحفظ اور سکون کا احساس ہوا تھا۔ عین اسی وقت سیڑھیوں سے اترتی رخسانہ بیگم نے یہ منظر دیکھا تو فرط مسرت سے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

ز

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد ..  قسط نمبر5 ۔

ناول ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد  قسط نمبر5 ۔ چَل آ اِک ایسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے