سر ورق / جہان اردو ادب / جہان اردو ادب محمدزبیرمظہرپنوار مہمان ۔۔ سیمین کرن

جہان اردو ادب محمدزبیرمظہرپنوار مہمان ۔۔ سیمین کرن

جہان اردو ادب

محمدزبیرمظہرپنوار

مہمان ۔۔ سیمین کرن

اسلام علیکم ” اردو لکھاری ڈاٹ کام اردو ادب کی ترقی و ترویج کے لیے ہم نے ایک ویب سائیٹ بنائی ہے ۔ بندہ ناچیز اردو ادب میں آپکی انجام دی گئی گراں خدمات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے ۔ میری خواہش ہے کہ تمام بہترین لکھنے والے  ہمعصر افسانہ نگار ناول نگار شعراء کرام اساتذہ ناقدین و مبصرین کی نجی زندگی کی بائیوگرافی سمیت ادبی کرئیر کے متعلق خصوصی انٹرویو شائع کرے ۔ تاکہ اردو ادب کے قارئین آپکی اردو ادب میں انجام دی گئی خدمات سے بہتر طور پر ناصرف آگاہ ہو سکیں بلکہ آپکی تخلیقات کی طرف مزید توجہ بھی دلائی جا سکے۔ اسی سلسلہ میں ” میں نے ( جہان اردو ادب ) کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا ہے ۔ مجھے صرف یہی کہنا ہے کہ میں پہلے بھی آپ احباب کی محبتوں کا ممنون اور مقروض ہوں مزید آپ سے محبتوں بھرا شفقتوں بھرا تعاون چاہتا ہوں ۔ باقی آپ سب الحمدللہ میری اردو ادب سے بے لوث محبت سے واقف ہیں ۔۔ مجھے آپ احباب سے ہمیشہ ہی اچھی توقعات رہتی ہیں کیونکہ میرا مان آپ ہو ۔ اسی لیے آپ سے میں بار بار رابطہ کرتا رہتا ہوں ۔ کیونکہ آج اگر مجھے کوئی تھوڑا بہت جانتا ہے تو اسکی وجہ آپ ہی ہیں وگرنا احقر نالائق سا انسان تھا مگر آپکی محبتوں عنایتوں اور نوازشوں نے کچھ نہ کچھ قابل ذکر ضرور بنا دیا ہے ۔۔ خیر ( جہان اردو ادب ) سلسلہ کے لیے آپ سے چند علمی و ادبی سوالات کیے جائینگے جنکا تعلق  اردو ادب کا معاشرے ماحول پہ اثر قاری اور ادیب کا آپسی تعلق فکشن اور اسکی موجودہ دور میں ضرورت جدیدیت مابعدجدیت جیسے نظریات اور ترقی پسند تحریکوں کی وجہ سے اردو ادب کا مقام اور معیار کہاں تک پہنچا ۔ ہمارا ناقد اور ادیب کیا سوچتا اور چاہتا ہے ۔ بطور ادیب آج ہم کہاں کھڑے ہیں کے علاوہ چند نجی زندگی سے وابستہ سوالات ۔۔

آپکی محبتوں کا ہمیشہ سے مقروض ” محمدزبیرمظہرپنوار

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام)

میزبان۔۔محمدزبیرمظہرپنوار” ( حاصلپور ” پاکستان )

مہمان ۔۔ سیمین کرن

 سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب۔۔ میرا اصل نام” سمیرہ کرن ہے اور قلمی نام سیمیں کرن ہے۔

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔ تعلیم ایم اے ایل ایل بی.. مرے والد الیکٹریکل انجینیر تھے اور والدہ بھی سلجھی ہوئی میٹرک تک تعلیم یافتہ خاتون تھیں.. والد چاند میگزین میں لکھا کرتے تھے عالی لدھیانوی کے نام سے ۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔  بچپن سے پڑھنے کا شوق تھا. بچوں کے سب رسالے مختلف کہانیاں شوق سے پڑھتی تھی.. نو عمری سے ہی چھوٹی چھوٹی نطمیں لکھا کرتی تھی۔ مگر یہ احساس کوی واضح نہیں تھا کہ میں لکھاری بن جاوں گی. ہاں خود سے مکالمے کی سوال جواب کی عادت شروع سے تھی ۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔پہلی تحریر ایک فکاہیہ تھا جو اپنے والد پہ لکھا تھا پہلی نثری تحریر مگر کہیں نہیں بھیجی چھپنے کو.. شاید پہلی اشاعت شدہ تحریر کسی ڈائجسٹ میں افسانہ تھا.. پھر ایک میگزین تھا خواتین کا وہاں اصلاحی مضامین و افسانے چھپتے رہے. نواے وقت کے ادبی صفحے سے باقاعدہ ادبی سفر کا اغاز ہوا۔۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔ جی درست.. لکھاری ہمارے معاشرے کا ایک neglected فرد ہے.. اسے وہ مقام و عزت حاصل نہیں جسکا وہ مستحق ہے کیونکہ آج وقت ایسا ہے کہ ادب ” ادیب کی معیشت و معاش میں کوئی بہتری نہیں لاتا ۔۔ پبلشر کھاتا ہے ادیب بھوکا مرتا ہے۔۔ ویسے بھی ادیب کو لوگ سپر نارمل ہونے کی وجہ سے پاگل کھسکا ہوا سمجھتے ہین اور اس کے بعد اگلا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اپکو ملتا کیا ہے اس سے؟،  یا پھر اسکا فائدہ یا حاصل حصول کیا ۔۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔ مستند ادبی جرائد میں چھپنے سے ایک شناخت قائم ہوئی.. اک مدت ہوئی ادبی جرائد میں لگاتار تحریریں لگتی رہتی ہیں سو یہ کہنا مشکل ہے کہ کونسی ایسی خاص تحریر بنی ۔ ہاں مگر کئی افسانے ہیں جو بہت پسند کیے گئے ۔۔ جیسے ودیعت، یہ گھنٹہ گھر، شجر ممنوعہ کے تین پتے ‘بات کہی نہیں گئی، حرف ایک منظر، کتے بلیون کے پیچھے آتے ہیں، پانچ تعبیر؛ ن، مردہ آنکھوں کا شہر، مولوی صاحب کی ڈاک وعیرہ ۔۔ دو افسانوی مجموعے ا چکے ہیں۔۔ تیسرا زیر طبع ہے ۔ خیر کل ملا کر میرے تحریر کردہ بہت سے افسانے ہیں جنہیں پسند بھی کیا گیا اور پزیرائی بھی ملی ۔

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ جی بہت اچھے لوگ ملے رشتے ناطے ملے جو رہبر و راہنما ثابت ہوے.. جن میی سر فہرست مشرف عالم زوقی صاھب ہیں علامہ ضیا حسین ضیا ہیں جن کو میی اپنا استاد سمجھتی ہوں . پھر یونس خان جیسا بڑا بھائی ملا  تبسم فاطمہ جیسی دوست ملی حامد سراج بھائی ہیں جو کسی کتاب کی تلاش اور ترسیل میں ہمیشہ میرے مددگار ثابت ہوئے۔۔ اور وہ مدیران جنہوں نے مری سخت اور مشکل تحاریر کو بھی شائع کیا جیسے ( مولوی صاحب کی ڈاک ) ممتاز شیخ صاحب کی ادارت میں نکلنے والے مجلہ ( لوح ) کی اشاعت میں شائع کیا گیا اسکے علاوہ  ( کتے بلیون کے پیچھے آتے ہیں ) گلزار جاوید صاحب نے مجلہ ( چہار سو ) میں ، ( شاخ جبر کا انوکھا پھل ) حجاب عباسی کے ( ادب عالیہ ) میںں یہ تحریریں موضوع کے حساب سے بیحد پیچیدہ اور مشکل تھیں انہیں میرٹ پہ بنا مجھے اطلاع دیئے شائع کر دیا گیا ۔۔ جب مجھے معلوم ہوا تو بیحد مسرت ہوئی ”   میں آج بھی اپنے محسنوں کی دل سے شکرگزار ہوں۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ ادب ایک خود کار تخلیقی عمل ہے اور اس سوال سے بالا ہے کہ معاشرے میں اسکی کیا گنجائش ہے کیونکہ سچی تخلیق اور ادب معاشرے کی تشکیل نو کرتے ہیں۔ گزشتہ ادوار کی مختلف تحاریک اسکی مثال ہیں۔. مگر تخلیق قاری کو مدنظر رکھ کر کی جائے تو پھر اسے پاپولر فکشن کی تہمت برداشت کرنی ہو گی ۔۔ البتہ یہ بھی سچ کہ قاری کو تحریر سے جوڑنے کے لیے آپ کو نامانوس گنجلک علامتوں اور جدیدیت کے شوق میں مبتلا ہو کر کہانی و کردار اور پلاٹ کو مضبوط بنانے کے لیے مزکورہ رحجانات سے گریز کرنا ہوگا یا پھر علامات تشبیحات استعارے ایسے ہوں جو آپ کی کہانی اور اس میں موجود کردار بجائے مبہم بنانے کے آپکا پیغام واضح کرے۔۔باقی ماضی میں میری عاجزانہ راے کے مطابق صوفیا اپنے عہد کے فلسفی تھے جو بڑے دقیق فلسفوں کو بڑی سہولت سے کہہ گئے اور وہ کلام زبان زد عام بھی ہوئے۔۔ شاید اس لیے کہ اس وقت کا قاری دقیق فلسفہ سمجھنے کی طاقت اور سکت رکھتا تھا لیکن آج کا عام قاری شاید نہیں ۔۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ ہر تحریک اپنے دور میں کچھ مضمرات کچھ فوائد لیے آتی ہے.. پھر ترقی پسند تحریک نے بڑے ادیب جنم دیے یہ ہم سب کیسے بھول سکتے ہیں۔

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔ جی ہم سب نطریات و تھیوریز معرب سے ہی امپورٹ کرتے ہیں یہ جانے بغیر کہ اسکو بعینہ قبول کرلینے میں ہمارے تخلیقی اور ادبی سرمائے پہ اسکے کیا اثرات مرتب ہون گے. اور میں یہ نہیی سمجھتی کہ ادیب کو کسی پیرامیٹرز یا فریم کے تحت لکھنا چاہیے اسکا کام تصویر بنانا ہے۔ مگر تصویر کا فریم بنانا ناقد اور قاری کام ہے.. اسلیے کسی تحریک کے زیر اثر  لکھاری کی ججمنٹ کرنا مناسب عمل نہیں ویسے بھی مجھے نہیں لگتا کہ اردو ادیب پچاس سال پیچھے کھڑا ہے. اردو میں ایسا بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور جاچکا ہے جو عالمی ادب کے معیار سے کسی بھی طور پہ کم نہیں۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔کتاب بک رہی ہے پڑھی جارہی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے پسند کیا جارہا ہے۔۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔

جواب۔۔

12.. دیکھیے اسکی ایک سے زائد وجوہات ہیں.. بلاشبہ آج کا ادیب بھی عالمی پائے کا ادب تخلیق کررہا ہے۔۔ مگر اردو ادب ترجمہ ہو کر دوسری زبانوں تک نہیں پہنچتا.. شاید یہ عوامل محرک ہیں ان کمزوریوں کے پیچھے ۔۔ ہمارے اداروں کی لٹریچر کے متعلق پالیسز.۔ اشاعتی مسائل ۔ معاشی مسائل ” علاوہ ازیں اور بھی بہت کچھ ہے اس ضمن میں کہنے کرنے کو ۔۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔دو کی تخصیص کچھ زیادتی ہے ماضی و حال میں بہت سے ادیب ہیں جن کو پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے.. اور پسند کی وجہ بھی ہر قاری کے نزدیک بنیادی وجہ تو یہی ہوتی ہے کہ آپ اسلوب اور مضمون دونوں سے متاثر ہوں ۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔ میی نہییں مانتی کہ افسانہ نگاری میی خلا پیدا ہوگیا ہے. افسانہ اب بھی بہت عمدہ لکھا جارہا ہے.. اسوقت کا فیصلہ وقت پہ چھوڑ دیجیے.. باقی تنقید تو میں یہ سمجھتی ہوں کہ سنجیدہ تنقید گروہ بندی کی نظر ہو گئی ہے شاید اسی لیے خالص اصلاحی تنقید اردو ادب کو نصیب ہی نہیں ہوئی ۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔اسکا جواب اوپر کے سوال میں آ گیا ہے۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔

16..مجھے ٹالسٹائی "گبریل گارشیا مارکیز اور کافکا نے بہت متاثر کیا. پاولو کوہلو اور ایلن شفق کو پڑھکر بھی مزا آیا.. یہ بتانا تو خاسا مشکل ہے کہ آپ کسی تحریر کو کیون پسند کرتے ہیی شاید وہ آپکے خیال سوچ فکر کی ترجمان ہوتی ہے اس لیے دل کو بھاتی ہے متابر کرتی ہے۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔میں ایکبار پھر کہوں گی کہ میی فریم بنا کر لکھنے والوں میی نہیں.. آپ کیسے طے کرسکتے ہیی کہ تحریر اپنا کیا راستہ بناتی ہے. اسے اتنی سطور الفاظ یا اتنے صفحات پر مشتمل ہونا چاہیے۔۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔۔ ہزارون خواہشیں ایسی کہ ہر جواہش پہ دم نکلے… زندگی کھبی آپکی پسند کی کروٹ پہ نہیں بیٹھتی.. سو خود کو پڑھنے لکھنے میی مصروف رکھنا اچھا لگتا ہے.. زندگی اسی ڈھب پہ گزر جائے تو غنیمت ہے۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ زندگی میں بہت سے موڑ ہوتے ہیی جو یادگار ٹھہرتے ہیی ان میں سے کسی ایک کو چننا ناممکن سا ہے سب کو مرتب کرنے لگوں تو ایک الگ کتاب مرتب ہوجائے گی ۔۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔ میرے خیال میں میری سوچ فکر جتنی میری تحریروں میں عیاں ہے.. اس سے زیادہ کہیی نہیں.. باقی انسان کی ذات کے بہت سے گوشے ہوتے ہیں خفیہ خانے ہوتے ہیں جو شاید کسی پہ عیاں نہیں ہوتے۔۔

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔ آپ مجھے کیون ناصح بنانا چاہتے ہیں۔ میں ہرگز خود کو اس قابل نہیں سمجھتی کہ ادبا کو کوئی پیغام دوں.۔ ہاں اپنے قاریین کے لیے بہت سی محبت اور دعا ۔۔ میں گر آج کچھ ہوں تو یہ میرے قاری کی دی ہوئی پزیرائی محبت حوصلہ افزائی اور عزت ہے۔

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔ آپ اردو ادب کی ترویج اور ترقی کے لیے کوشاں ہیں پورے اخلاص کیساتھ.. اللہ آپکی کاوشوں کو قبول کرے.. اگر کام میں اخلاص شامل ہو تو بہت سے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں ۔ کھول دیے جاتے ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محسن علی ۔ مدیحہ ریاض

ڈرامہ نگار محسن علی سے گفتگو۔۔۔  مدیحہ ریاض اسلام و علیکم محسن علی صاحب و …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے