سر ورق / افسانہ / پانی کی سطع .. مشرف عالم ذوقی .. دوسرا حصہ

پانی کی سطع .. مشرف عالم ذوقی .. دوسرا حصہ

پانی کی سطع

مشرف عالم ذوقی

دوسرا حصہ

وہ دونوںاب ویران سڑک پر نکل آئے۔ گرد اڑ رہی تھی۔ مئی کی گرمی اپنے شباب پر تھی۔ اس وقت ٹریفک بھی سہما ہوا تھا—آسمان پر گھوڑے اڑ رہے تھے۔ خلا میں ہزاروں کی فوج تیر رہی تھی۔ حسن فرخ کے کانوں میں اب بھی تارا کے لفظ گونج رہے تھے۔ تاریخ نے چھل کیا تمہارے ساتھ۔ وہ پتہ نہیں، شدید گرمی کی تپش میں کتنی دور تک پیدل چلتے رہے۔

تارا اچانک ٹھہر گئی۔ ‘سنو حسن۔ ہندی کے مشہور کوی کنور نارائن کی ایک نظم یاد آ رہی ہے۔ میں مسلمانوں سے نفرت کرنے چلا تو سامنے غالب آ گئے۔ عیسائیوں سے نفرت کرنے چلا تو شکسپئر آ گئے۔ ہم نفرت کرنا ہی کیوں چاہتے ہیں؟ ‘

ٹھیک اسی وقت گرد اور دھول کی ایک آندھی گزر گئی۔ تارا کی آواز اس آندھی مےں کھو گئی۔

lll

تارا نے صحیح کہا تھا۔ چلو کھیل دیکھتے ہیں۔ ایک نیا کھیل وقت نے پرجاپتی کے فلیٹ خریدنے کے ساتھ کھیلنا شروع کیا تھا۔ پرجاپتی نے فلیٹ خریدنے کے لئے بین الاقوامی بینک سے لون لیا تھا۔ اس کی قسطیں دو برس سے بھری نہیں گئی تھی۔ یہ دو برس معاشی اتار چڑھاﺅ میں گزرے تھے۔ لہذا بینک سے آنے والے خطوط کو بھی پرجاپتی نظر انداز کرتے آئے تھے۔ سوچتے تھے کہ پیسہ ہو جائے گا تو ایک ساتھ بڑی رقم بھر دیں گے۔ بینک سے اچانک نوٹس آگیا تو پرجاپتی شکلا کے ہوش اڑ گئے۔ یہ نئی مصیبت تھی۔ وہ بین الاقوامی بینکوں کا حال جانتے تھے۔ یہ مکان ہاتھ سے نکل سکتا تھا۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی حالت ایسی نہیں کہ کسی اچھے بڑے وکیل کی خدمات لے سکیں۔ مکان بحران میں تھا۔ تارا اور اپنے مستقبل کو لے کر وہ اندر تک ٹوٹ گئے تھے۔ محبت کے صفحات سے نکلے تو گھر کا جن سامنے آگیا۔ مکان کے لئے ادھر ادھر ہاتھ بھٹکنے، وزراءکے دفتر کے چکر لگانے کے بعد احساس ہوا، کوئی حکومت اپنی نہیں ہوتی۔ دفتروں میں ان کا براہمن ہونا بھی کام نہیں آیا۔ برسوں سے رنگ و روغن نہ ہونے کی وجہ سے فلیٹ کی دیواریں خستہ ہو چکی تھی۔ اس رات وہ ایک ڈراونے خواب سے نکلے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ بین الاقوامی بینک نے ان سے ان کا فلیٹ چھین لیا ہے۔ وہ تارا کے ساتھ اس شدید گرمی میں سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں۔ پرجاپتی شکلا کو غصہ تھا کہ یہ کیسی ہندوتو کی حکومت ہے۔، جو ایک برہمن سے اس کی زمین چھین رہی ہے۔ ان کی بات سن کر ان کے پڑوسی لالہ جی کھلکھلا کر ہنسے تھے۔

‘مذہب نہیں شکلا جی، پہلے مکان کو بچا لو۔’

‘کس طرح؟’

‘ایک بار میں بھی پھنس گیا تھا اس چکر میں۔ ایک قابل وکیل ہے۔ میں بات کروں گا تو پیسے بھی کم لے گا۔ میری مانو تو جلدی مل لو۔ مکان گیا تو برہمن کو لے کر کہاں کہاں بھٹکوگے شکلا جی؟ ‘

‘نام کیا ہے اس وکیل کا؟’

‘چےت ڈومر’

‘ڈومر ۔۔۔ ڈوم ۔۔۔؟’ پرجاپتی شکلا اپنی جگہ سے اچھلے۔

‘ہاں ڈوم ذات کا ہے۔ مگر اب کہاں کے ڈوم اورڈومن۔ سب پڑھ لکھ کر برہمن بن گئے ہیں۔ اور برہمنوں سے ان کی زمین چھن گئی ہے۔ ‘

lll

پہلے حسن اور اب ڈوم— پرجاپتی شکلا کی پیشانی پر بل پڑ گئے تھے۔ لالہ جی نے فون نمبر دیا۔ بات کرائی۔ پہلی ملاقات پرجاپتی نے تارا کے ساتھ کی۔ کڑکڑڈوما کورٹ میں چےت ڈومر کسی کیس کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ وہیں کھڑے کھڑے کچھ دیر تک رسمی بات چیت ہوئی۔ لیکن چےت ڈومر کو دیکھ کر وہ چونک گئے تھے۔ سانولا رنگ، لیکن پرکشش چہرہ۔ عمر پےتس کے آس پاس۔ لب ولہجے سے بھی کوئی ڈوم نہیں کہہ سکتا تھا۔ پہلی بات تو یہی محسوس کہ ضرور کسی برہمن کی اولاد ہوگا۔ پرجاپتی نگاہوں کو پڑھنا جانتے تھے۔ بات چیت کے درمیان چےت ڈومر بار بار ان کی بیٹی تارا کو دیکھتا رہا تھا۔ اس نے ویزیٹنگ کارڈ نکال کر دیا۔ ‘موسم وہار میں میرا بنگلہ ہے۔ کل صبح نو بجے آ جائیں۔ اکیلے آئیے گا۔ ‘

جاتے جاتے ڈومر نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ ایک بڑی سی گاڑی تھی۔ پرجاپتی کے پاس نہ گاڑی تھی، نہ گاڑی کی پہچان رکھتے تھے۔ لیکن وہ اتنا جان گئے کہ چےت ڈومر ایک پہنچا ہوا وکیل ہے۔ اور یہ وہی ہے جو ان کے مکان کو بچا سکتا ہے۔

دوسرے دن آٹو سے چےت ڈومر کے گھر پہنچنے میں زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ ایک چھوٹا سا خوبصورت سا بنگلہ تھا۔ بنگلے کے باہر پہرے دار تھے۔ استقبالیہ پر ایک خوبصورت سی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ لڑکی انہیں ایک ہال نما کمرے میں لے گئی۔ کمرے کی دیوار پر بڑے سائز کا ٹی وی لگا ہوا تھا۔ پرجاپتی کو احساس ہوا کہ یہ ضرور کانفرنس روم ہوگا۔ کانفرنس کے کمرے کے باہر شیشے کے گھیرے میں بہت سی میزیں لگی ہوئی تھی۔ جہاں نوجوان لڑکے-لڑکیاں کام کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک لڑکی آئی، جو انہیں لے کر پہلے فلور پر چلی گئی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ سامنے ایک خوبصورت سا ڈرائنگ روم تھا۔ صوفے کے دائیں طرف اکیوریم کے رنگین پانی میں مچھلیاں رقص کر رہی تھیں۔ دیواروں پر ایبسٹریکٹ پینٹنگ قطار سے لگی تھی۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئے۔ یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ کسی ڈوم کا گھر ہو سکتا ہے۔ وہی ڈوم، جس کو ان کے بابا دیکھ بھی لیتے تو انہیں نہانا پڑتا تھا۔ لمحے بھر رک کر انہوں نے ایکیوریم کی مچھلیوں کی طرف دیکھا۔ یہ احساس ہوا، وقت کے رقص میں بہت کچھ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ بس، وہ ہی نہیں محسوس کر سکے۔ وقت کے گھومتے پہیے کے ساتھ بہت کچھ الٹا پلٹا ہو چکا ہے۔

تیز قدموں سے چلتا ہوا ڈومر ان کے پاس آ کر ٹھہر گیا۔ ہاتھ جوڑا۔ سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر پرجاپتی کی طرف دیکھتا رہا۔ پھر زور سے ہنسا۔

‘مکان بچا کر کیا کریں گے آپ؟ دیکھتے نہیں، موسم میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے کہا ہے کہ ‘رسٹرائڈس کے ٹکرانے سے اگلے سو سال میں نئے سیارے پر بسنے کی تیاری ہوگی۔ آپ کو کیا لگتا ہے، نئے سیارے پر برہمن ہوں گے؟ وہ ہنسا، ‘ویسے کہاں رہتے ہیں آپ؟’

‘رہنے والا تو الہ آباد کا ہوں لیکن برسوں سے دلی مےں ہوں۔’

‘اوہ-‘ چےت ڈومر سنجیدہ ہو گیا۔ ‘الہ آبادی برہمن۔ پھر تو میرے یہاں کا پانی تک نہیں لیں گے؟ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ ‘یہ بنگلہ تین سال پہلے بیس کروڑ میں خریدا۔ آفس بھی یہیں سے ہینڈل کرتا ہوں۔ لالہ جی نے آپ کے کیس کے بارے میں بتا دیا تھا۔ کہیں بھی جائیں گے تو لٹ جائیں گے آپ۔ بین الاقوامی کمپنی ہے۔ مکان ہڑپ لے گی۔ میں بچا سکتا ہوں آپ کو۔ کیوں؟ بعد میں بتاوں گا۔ پہلے کچھ میرے بارے میں جان لیجئے۔

‘جی’ پرجاپتی آہستہ سے بولے۔

‘ذات کا ڈوم ہوں۔ لہذا ڈومر اپنے نام کے ساتھ لگا رہنے دیا۔ کیوں ہٹاﺅں؟ ماں باپ میلا ڈھوتے تھے۔ میں نے ترقی کی۔ یہ بنگلہ دیکھئے۔ مجھے دیکھئے— خود کو دیکھئے۔ ذات پیسوں کی ہوتی ہے، یہ بچپن میں ہی میری سمجھ میں آ گیا تھا۔ چھ ہزار ذاتوں میں برہمن سروشرےشٹ اور بھنگی سب سے نیچے۔ کیا ایسا ہے اس وقت؟

‘نہیں’

‘منوسمرتی میں چانڈال، اپاتر ہمارے کتنے ہی نام تھے۔ مردار جلانے والا۔ مردوں کی اترن پہننے والے۔، اچھوت، جہنم کی برادری کا۔ پاخانہ اٹھانے والا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ ہم نہ ہوتے تو آپ کا یہ معاشرہ بھی نہیں ہوتا۔ ‘

پرجاپتی شکلا کے چہرے پر اس درمیان بہت سے رنگ آئے اور چلے گئے۔ وہ اصل میں بنگلے کی تڑک بھڑک دیکھ کر سہمے ہوئے تھے۔ آدھی کسر چےت ڈومر کے مکالمے نے نکال دی تھی۔ چےت ڈومر اب بھی ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔

‘معاف کیجیے، یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آپ اتنی نفرت ہمارے لئے کہاں سے لے کر آئے؟ اپنشد سے؟ وےد پران سے؟ برا مت مانئے ہم ایک سڑے گلے ہوئے بدبودار ماضی اور تاریخ کو دیکھتے پڑھتے بڑے ہوئے۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ ایک خوفناک تاریخ کے سائے میں جینا کیسا ہوتا ہے؟ ‘ڈومر نے گہرا سانس لیا۔ مسکرایا پھر ٹھہر کر بولا۔ تاریخ کا یہ سفر اب بھی چل رہا ہے۔ جی ہاں، کچھ لوگ اس تاریخ سے باہر نکل کر آپ کی برابری کرنے لگے۔ یا کچھ کے قد آپ سے بھی بڑے ہو گئے۔ ‘

‘جی’ پرجاپتی بولتے بولتے رک گئے۔

‘یقین نہیں ہوتا۔ اب، جبکہ یہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، آپ اب بھی پرانی روایات سے لپٹے ہوئے ہیں؟ توڑ دیجئے ان روایات کو؟ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ سمجھ رہے ہیں نا؟ ‘

چےت ڈومر نے اس بار گہری نظروں سے پرجاپتی کو دیکھا۔

‘دیکھئے۔ یہ بات بتا دوں۔ میں نے آپ کے کیس میں انٹرےسٹ کیوں لیا؟ میں گھما پھرا کر بات نہیں کہتا۔ مجھے آپ کی بیٹی پسند آ گئی ہے۔ میں اکیلا ہوں۔ شادی کرکے گھر بسانا چاہتا ہوں آپ دیکھئے، مکمل گھر خالی ہے۔ میں آپ کے گھر کو بچا سکتا ہوں اور آپ سے اس کے عوض مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ سوچ لیجئے، وقت ہے آپ کے پاس۔ ‘

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ پرجاپتی اندر تک ہل گئے۔ ایسا لگا، جیسے بابا اب جا کر مرے ہوں۔ شمسان میں ان کی چتا سلگ رہی ہو۔ چےت ڈومر کے بنگلے سے باہر آئے تو قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ جی چاہا تھا، اس کے منہ پر تھپڑ مار دیں۔ لیکن کیا یہ جرات وہ کر سکتے تھے؟ اور اگر ان کے منہ پر تھپڑ مارنے کی ہمت ایک ڈوم کرتا تو کیا وہ اسے روک سکتے تھے؟ سارے راستے وہ غوروفکر کرتے رہے۔ قریشی حلال گوشت کی دکان کھلی ہوئی تھی۔ قریشی انہیں پہچانتا تھا۔ اس نے ہیلو کیا تو بدلے میں کمزور لہجے میں انہوں نے بھی جواب دیا۔ یہ پہلی بار ہوا تھا۔ تاریخ کی ایک عمارت، پرانی ہو کر بوجھ ڈھوتے ڈھوتے کب گر پڑی، انہیں پتہ بھی نہیں چلا۔

ll

چےت ڈومر نے جو بھی کہا، وہ ممکن نہیں تھا۔ مذہبی تاریخ سے وابستگی اور ایک قدیم عمارت کے مسمار ہوجانے کے بعد بھی وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ یہ رات الجھنوں کی رات تھی۔ وہ پاگلوں کی طرح ٹہل رہے تھے۔ یہ ممکن نہیں۔ مگر دوسرا راستہ کیا تھا؟ ایک راستہ یہ تھا کہ مکان کا سودا کر لیں۔ ایڈوانس پیسہ لے کر بین الاقوامی بینک کا پیسہ واپس کر دیں۔ لیکن ’نوٹ بندی‘ کے دور نے یہ راستہ بھی بند کر رکھا تھا۔ سستی قیمت پر مکان فروخت کرنے کے بعد اور بین الاقوامی بینک کا قرض ادا کرنے کے بعد ان کے پاس پیسے ہی کتنے بچتے؟ پھر سستے فلیٹ بھی کہاں ملتے ہیں؟ حکومت ان کی ہو کر بھی ان کی نہیں تھی۔ ایک اچھوت تھا، جس نے مکان بچانے کے لئے رشتوں کی شرط رکھ دی تھی۔ ایک مسلمان تھا، جس سے ساری زندگی وہ فاصلہ رکھتے آئے تھے۔ دھند میں تیرتی پوشیدہ جھریوں مےں ایک مکان تھا، جس کی بولی لگ رہی تھی۔ اور ایک وہ تھے۔ پرجاپتی شکلا۔ برہمن ۔۔۔ سروشرےشٹ (اشرف المخلوقات) ۔۔ وہ گندگی اور گوشت کے درمیان کھڑے تھے۔ اس کے باوجود بھی راستہ گم تھا۔ بحران سے باہر نکلنے کا حتمی طریقہ چےت ڈومر تک جاتا تھا۔ وہ ایک لمحے کو زمین پر بیٹھ گئے۔ دیوتا کے مقام سے گر کر اب وہ نچلی پائیدان پر تھے، جسے معاہدہ کہتے ہیں۔ آنکھیں بند کیں۔ پتہ بھی نہیں چلا، کب تارا شکلا پاس میں آکر بیٹھ گئی۔

‘کیا بات ہے؟’

وہ وہیں زمین پر خاموش بیٹھے رہے۔ تارا پاس آکر بیٹھ گئی۔

پرجاپتی کی آواز کمزور تھی۔ ‘مکان کو بچانا چاہتا ہوں۔’

تارا شک سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ‘آج آپ کسی وکیل سے ملنے بھی گئے تھے؟’

‘ہاں گیا تھا’- پرجاپتی کی آواز بوجھل تھی۔ آہستہ سے بولے ‘مذہب بحران میں ہے۔’

‘پہلے مکان کو بچائیںگے یا مذہب کو؟’

‘مذہب کو’

’فٹ پاتھ پر رہ لیں گے؟ مندر میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ گیارہ فیصد برہمن صرف سیاست میں مضبوط ہیں۔ باہر عام زندگی میں انہیں بھی کوئی جگہ نہیں دیتا۔ ‘

پرجاپتی کی آواز کمزور تھی۔ ‘مکان بچاتا ہوں تو مذہب جاتا ہے۔‘

‘مکان بچائیے۔ مذہب محفوظ رہے گا۔ ویسے بھی باہر سیکورٹی کے لئے آپ نے اوم اور سواستک کے نشانات تو بنا رکھے ہیں۔ ‘

پرجاپتی بارود کے ڈھیر پر کھڑے تھے۔ ‘وہ بغیر پیسے مقدمہ لڑے گا لیکن، اس نے ایک شرط رکھ دی ہے ….’

پوشیدہ پرچھائیوں نے اس بار تارا شکلا کو نگل لیا تھا۔ تیز زلزلہ آیا اور گزر گیا۔ تارا نے ڈوبتی سانسوں کو برابر کیا۔ پرجاپتی کی طرف دیکھا پھر آہستہ سے کہا۔

‘میری بھی ایک شرط ہے۔ میں اس سے پہلے ملنا چاہوں گی۔ ‘

(۳)

اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔

پرجاپتی شکلا مطمئن تھے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والی ان کی بیٹی مکان کی اہمیت سے ضرور واقف ہوگی۔ مکان کے چلے جانے کا درد، محبت میں بے وفائی کے درد سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ صرف ایک رات میں پرجاپتی یقین اور ایمان کی کئی سیڑھیوں سے نیچے اتر آئے تھے۔ سب سے اوپر والی پائیدان پر مذہب کی حفاظت ان کے ہاتھ میں تھی۔ مذہب کے تحفظ سے چےت ڈومر تک آتے آتے صرف تسلیوں کا سہارا تھا۔ مذہب کے تباہ ہونے کا خیال اس وقت صرف ایک فرضی کہانی لگ رہی تھی۔ اندر کا برہمن کہیں کھو گیا تھا۔ پرجاپتی کو بابا یاد آ رہے تھے۔ کیا مذہب کا وجود صرف اتنا سا ہے؟ مذہب کی عمارت ایک سےکنڈ میں منہدم ہو جاتی ہے؟ اس دن کی صبح عام صبح سے الگ تھی۔ انہوں نے پوجا پاٹھ بھی نہیں کیا۔ ایک عام آدمی کی طرح غسل کرکے وہ باہر نکل آئے۔ نہ شلوک کا اچارن کیا نہ گھر کے مندر میں ماتھا ٹےکا۔ ایک ناراضگی تھی، جس نے اب تک کے اصول بدل ڈالے تھے۔

اس کے برعکس تارا شکلا کی سوچ الگ تھی۔ لیکن کسی بھی نتائج تک پہنچنے سے پہلے ایک بار وہ چےت ڈومر سے ملنا چاہتی تھی۔ پرجاپتی نے چےت سے پوچھ کر وقت مقرر کر دیا۔ اس کی اصل مخالفت اس ذہنیت سے تھی، جو آج بھی دروپدیوں کو داوں پر لگا رہے ہیں۔

lll

یہ ایک عام سی صبح تھی۔ سڑک پر ٹریفک کا شور ہنگامہ شروع ہو گیا تھا۔

سامنے ایک چھوٹا سا خوبصورت سا بنگلہ تھا لیکن تارا کو اس بنگلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پہرے داروں کو شاید تارا کے آنے کی پیشگی اطلاع دی جا چکی تھی۔ ایک چوکیدار تارا کو ساتھ لے کر ایک خوبصورت سے ڈرائنگ روم میں آ گیا۔ چےت پہلے ہی انتظار کر رہا تھا۔ اس نے گرمی کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ دلکش شخصیت کا مالک تھا۔ چےت نے ہاتھ جوڑے پھر کہا۔

‘آئیے، آپ کو بنگلے کا دیدار کرا دوں۔’

تارا مسکرائی۔ ‘میری کوئی دلچسپی نہیں۔’

‘اوہ’ چیت نے اشارہ کیا۔ ‘بےٹھیے۔ پانی تو لیں گی؟ یا آپ بھی برہمن والد کی طرح اچھوت کے گھر پانی پینا پسند نہیں کرتیں؟ ‘

تارا زور سے ہنس دی۔ ‘اچھوت؟ اس بنگلے میں رہنے والا اچھوت کب سے ہو گیا؟ ‘

چیت ڈومر ایک دم سے چونک گیا۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ پرجاپتی اور تارا میں فرق ہے۔ یہ فرق بھی وقت کی دین ہے۔ تارا پر آسانی سے قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔ ‘بنگلہ آجانے سے اچھوت بدل جاتا ہے کیا؟’

‘کیوں نہیں۔’ تارا ہنسی۔

‘کس طرح؟’

‘کمرے میں کون سی خوشبو استعمال کرتے ہیں آپ؟’ تارا نے بات ہی بدل دی۔

‘آپ نے بتایا نہیں، اچھوت تبدیل کس طرح ہوتا ہے؟’

‘جیسے برہمن بدل جاتا ہے۔’

‘برہمن کب بدلا؟’

‘برہمن پہلے بھی بھیک مانگتے تھے، اب بھی مانگتے ہیں۔ ‘اب مانگنے کے سٹائل تبدیل ہوگئے ہیں۔ پہلے بھیک کے لئے آپ کے پاس نہیں جاتے تھے۔ اب جانے لگے ہیں۔ ‘تارا ہنسی۔

‘اوہ۔’

آپ کیا پوورج (آباو اجداد)جیسے ہو سکتے ہیں؟ ‘

‘مطلب پاخانہ اٹھانے والا؟’ چےت ڈومر، تارا کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

‘یہی سمجھیں۔ اب آپ پرانے پیشے پر نہیں جا سکتے۔ کئی وجوہات ہےں۔ معیشت میں آپ بلند مقام پر چلے گئے۔ تعلیم یافتہ ہیں۔ پائےدان سے کھسکے تب بھی اپنے پیشے تک نہیں لوٹیں گے۔ ‘

‘لیکن داغ تو رہ جاتا ہے۔ یہ ہاتھ دیکھئے ‘چےت ڈومر نے اپنے ہاتھوں کو آگے کیا۔ ‘وقت گزرنے کے بعد بھی لگتا ہے ان ہاتھوں کی بدبو نہیں گئی۔ بدبو ختم ہونے مےں دو ایک نسل تو نکل جائے گی ‘

‘اب کیا فرق پڑتا ہے آپ کو۔ سب کچھ تو ہے آپ کے پاس۔ پیسہ۔ بنگلہ ۔۔۔ گاڑی ‘تارا گہری آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ہاں ایک چیز نہیں ہے۔ دو ایک نسل بعد آپ اس کے لئے بھی جھوٹا دعویٰ تو کر ہی سکتے ہیں۔ ‘

چےت ڈومر اپنی جگہ سے اچھلا ۔ ‘مطلب کیا ہے آپکا؟’

تارا کا لہجہ سپاٹ تھا۔ ‘آپ کی دلچسپی مجھ میں ہے یا میرے برہمن ہونے میں ہے؟’

‘اوہ ۔۔۔’ چےت ڈومر زور سے ہنسا۔ ‘اب سمجھا آپ کی بات— کتنی دور سے چلتی ہیں آپ؟ بھیگا کر مارتی ہیں۔ میری دلچسپی آپ میں ہے ‘

‘میرے ساتھ میرے برہمن ہونے میں بھی ہے’

‘ہو سکتا ہے۔’

تارا ایک لمحے کے لیے رکی پھر کہا ‘ابھی آپ اپنے داغ دکھا رہے تھے۔ ہاتھوں کے داغ ۔۔۔ آپ کے ساتھ رہی تو یہ داغ مجھے بار بار محسوس ہوں گے۔ میں باپ کے اصولوں کو نہیں مانتی۔ میرا پانی پینے کا دل تھا۔ آپ نے داغ دکھا کر پانی پینے کی خواہش ختم کر دی۔ اچھا اب چلتی ہوں ‘

تارا اٹھ کھڑی ہوئی۔

‘آئیے میں گیٹ تک چھوڑ آوں’

چےت ڈومر باہر گیٹ تک آیا۔ تارا کو دیکھ کر مسکرایا۔

‘میں وکیل ہوں۔ لیکن آج جرح میں آپ کی جیت ہوگئی۔ میں اپنا موقف نہیں رکھ پایا۔ کچھ داغ واقعی بہت گہرے ہوتے ہیں۔ نسلوں تک بھی ختم نہیں ہوتے۔ اچھا سنیے۔ آپ کو اپنی گاڑی سے چھڑوا دوں۔ ‘

‘نہیں اس کی ضرورت نہیں’

چےت آہستہ سے بولا۔ ‘آپ نے میری خواہش کی لو تیز کردی ہے۔ اچھا وکیل جلد ہار نہیں مانتا۔ ‘

lll

پرجاپتی تارا کے انتظار میں ٹہل رہے تھے۔ تارا کے آتے ہی انہوں نے پوچھا۔

‘کیا ہوا؟’

تارا کا نپاتلا جواب تھا۔ ‘پانی پسند نہیں آیا۔’

‘کیا؟’ پرجاپتی چونک گئے۔ ہم تو پانی تک ڈوب چکے ہیں۔ بٹیا، میں نے کئی وکلاءسے بات کی۔ جو فیس مانگی جاتی ہے وہ دینے کے ہم قابل نہیں ہیں۔ پانی کو پسند تو کرنا پڑے گا؟ ‘

‘چاہے پانی زہریلا کیوں نہ ہو؟’

پرجاپتی نے کمزور لہجے میں کہا۔ ‘بین الاقوامی بینک سے کیا لڑنا آسان ہے؟ مکان بچانے کے لئے کچھ تو سوچنا ہوگا؟ ‘

‘پھر آپ نے وہاں پانی پینے سے انکار کیوں کیا؟’

پرجاپتی اندرونی برہمن کو مارنے پر آمادہ تھے۔ تارا سے بولے—غلطی کی— ‘وقت کے ساتھ چلنا ہوگا بیٹی۔’

ll

لیکن پرجاپتی جان رہے تھے۔ تارا کو سمجھانا آسان نہیں۔ کیونکہ تارا کی راہ میں حسن بھی آتا ہے۔ تارا کے انکار کی ایک وجہ حسن بھی ہے۔ اس دن چےت ڈومر نے فون کیا تو انہوں نے ڈرتے ڈرتے حسن کے معاملے کو سامنے رکھ دیا۔ چےت نے سمجھایا، ڈرنے کی بات نہیں ہے۔ ایک بار میں کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ آپ بھی ہار مت مانیے۔ تارا سے کہیے، کہ حسن کو میرے پاس بھیجے۔

پرجاپتی ایک بار پھر آزمائش سے گزررہے تھے۔ کیا تارا ،ڈومر کے پاس جانے کے لئے حسن کو تیار کرے گی؟ فرض کرتے ہیں کہ تارا اس بات کا ذکر حسن سے کرتی ہے،تب بھی کیا ضروری ہے کہ حسن اس کی بات کو قبول کرلے؟زندگی کے درمیان سیاست کا سانڈآگیاتھا۔اس سانڈکو پرجاپتی پہچانتے تھے۔ اس سانڈ نے پہلے بھی پرجاپتی کو کئی مقام پر زخمی کیاتھا۔ ایک بارپھر یہ سانڈ غرّاتا ہواان کے سامنے تھا۔

تارا نے پرجاپتی کی بات سنی تو بلند آواز سے چیخی۔

‘حسن کیوں ملے گا؟ اس معاملے کا حسن سے کیا تعلق ہے۔؟ ‘

‘ملنے میں کیا حرج ہے۔ ہو سکتا ہے، حسن کے ملنے سے مسئلہ کاحل نکل آئے۔ ‘

تارا کے لئے اس نئے مسئلہ کو سمجھنا مشکل تھا۔ لیکن وہ اتنا جانتی تھی کہ حسن اس کی کسی بات سے انکار نہیں کرے گا۔ مخالف حالات سامنے تھے۔ ایک حسن تھا، جس سے وہ محبت کرتی تھی۔ ایک چےت ڈومر تھا جو اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ایک برہمن والد تھے، جو دو اچھوت میں ایک اچھوت کے لئے کمزور ہوئے تھے۔ کمزور اس لیے ہوئے تھے کہ مکان کوبچانا تھا۔ ایک وہ تھی جو بابا کی طرح مکان تو بچانا چاہتی تھی، لیکن بابا کی شرطوں پر نہیں۔ زندگی میں پہلی بار اس نے بابا کو بے بس محسوس کیا تھا۔ واقعات کی غیر مرئی جھریوں میں اب ایک چہرہ بابا کا بھی تھا، جہاں چےت ڈومر کے طور پر وہ ایک محفوظ مستقبل کا خواب دیکھ رہے تھے۔ موسم بہار دیر سے آیا۔ تب آیا جب ایک ٹوٹتے پنجرے کا خوف ان کے چہرے پر پھیل چکا تھا۔

ll

اس دن کیفیٹیریا میں اس نے حسن کو ساری بات کھل کر بتا دی۔

حسن ہنسا۔ ‘تو تم چاہتی ہو، تمہارے لئے میں اس چےت ڈومر سے ملاقات کروں؟’

‘ہاں۔’

‘اور کہوں، تارا میری محبت ہے۔ لیکن اب اسے تمہارے حوالے کرتا ہوں۔

یہی چاہتی ہونا….‘

تارا ہنسی’ایسا میں نے کب کہا۔’

حسن ہنسا۔ ‘لیکن تمہاری بات سے مطلب تو یہی نکلتا ہے۔’

‘بالکل بھی نہیں’ تارا نے حسن کا ہاتھ تھام لیا۔ ‘لیکن میں چاہتی ہوں کہ تم ملو۔ اور تم معلوم کرو کہ اس کے دل میں کیا ہے؟

‘ٹھیک ہے۔’

حسن خاموش تھا۔ کیفیٹیریا کی سامنے والی کھڑکی سے سورج کا ٹکڑا غائب ہو گیا تھا۔ باہر ممکن ہے آسمان پر بادل چھا گئے ہوں۔ لیکن اس وقت دونوں خاموش تھے اور اس بات سے بے خبر بھی کہ اچانک راستے میں پرجاپتی کا سانڈ آگیاتھا۔

چےت ڈومر اور حسن

اس رات خواب میں پرجاپتی پر دوبارہ سانڈ نے حملہ کیا۔ صبح اٹھے تو چہرہ سوجا ہواتھا۔ واش بیسن پر لگے آئینہ میں اپنے چہرے کو دیکھا تو چونک گئے۔ کچھ خراشیں تھیں جو چہرے پر ابھر آئی تھیں۔ خوفزدہ انداز میں پلٹے تو سامنے سے آئی ہوئی تارا نظر آئی۔تارا کے چہرے کوغور سے دیکھا تو یہ خراشیںاس کے چہرے پر بھی موجود نظر آئیں۔ پرجاپتی کی آواز میں کنپکنپاہٹ تھی۔

’کیا تمہیں یقین ہے کہ حسن….‘

’ہاں ۔وہ ملنے ضرور جائے گا۔‘

’اتنا یقین کیسے ہے؟ ‘پرجاپتی کو یہ سوال غیرضروری محسوس ہوا۔ خاموش ہوگئے۔ تارا ان کی طرف دیکھ رہی تھی….لیکن یہ یقین نہیں کہ حسن ، ڈومر کی بات مان ہی لے گا….‘

ll

حسن کو کئی الجھن نہیں تھی۔ ڈو مر کے گھر آنے تک اس نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا۔ ڈومر کے گھر پہنچ کر اسے بہت زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ ڈومر کے خوبصورت ڈرائنگ روم کا حصہ تھا۔ ڈومر کے اندر ایک کشمکش چل رہی تھی۔ ماحول میں کچھ دیر تک سنّاٹا حاوی رہا۔ پھر گفتگو شروع ہوئی۔

lll

چےت ڈومر انتہائی مہذب انداز میں باتیں کر رہا تھا۔ گھر کی سجاوٹ قابل دید تھی۔ صرف ایک بات حسن کو کھٹک رہی تھی۔ ڈرائنگ روم میں دیوار پر ایک پینٹنگ تھی، اور جس میں ایک سور کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ یہ پینٹنگ ڈرائنگ روم میں سلیقے اور صفائی سے رکھے مہنگے سامانوں سے میچ نہیں کر رہی تھی۔ چےت میں اتنی ذہانت تھی کہ حسن کے چہرے پر پیدا ہوئی لکیروں سے اس کے اندر کا حال جان گیا تھا۔ وہ زور سے ہنسا۔ اس پینٹنگ کو میں نے واشنگٹن کے ایک مال سے خریدا تھا۔ اچھی ہے نا؟

وہ حسن کی جانب مڑا’پہلی بار میں ہی یہ پینٹنگ مجھے پسند آ گئی تھی۔ یہ میری پہچان ہے۔ اتنا کہہ کر وہ زور سے ہنسا۔ آگے بڑھ کر حسن نے اس کو فریج کھولتے ہوئے دیکھا۔ دوسرے ہی لمحے ایک خوبصورت گلاس اور پانی کی بوتل کے ساتھ وہ اس کے سامنے تھا۔ اس نے حسن کی آنکھوں میں جھانکا اور ٹھہر-ٹھہر کر کہنا شروع کیا۔

‘اب دیکھئے یہ گلاس، یہ گلاس میرا نہیں ہے۔ اسے میں نے چائنا سے خریدا تھا۔ اور یہ پانی کی بوتل بسلےری ہے، یہ بھی میری نہیں۔ آپ کو اعتراض نہ ہوتو پانی پی سکتے ہیں۔ ویسے میرے پاس ہائی کوالٹی کا اےکوا گارڈ بھی ہے۔ کمپنی کی چیز ہماری کیسی ہو سکتی ہے؟ لیکن اس کے باوجود کچھ لوگ ۔۔۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا ۔۔۔ ‘

اتنی دیر میں پہلی بار حسن نے اس کے چہرے پر غصے کا عکس دیکھا تھا۔ لیکن کسی ماہر اداکار کی طرح چےت نے اپنے غصے پر فوراً قابو پا لیا۔ اب وہ مسکرا رہا تھا۔ ڈوم، بھنگی، کچھ بھی کہہ لیجئے۔ ہماری قدر تو مغلوں نے کی۔ مہتر کے نام سے پکارا۔ ایک مسلمان دوست تھا۔ اس نے بتایا کہ مہتر کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ اب آپ بتائیے۔ کتنی خوبصورت زبان ہے، یہ اردو بھی۔ انسانوں کی گندگی کا بوجھ ڈھونے والے، چاند سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گئے۔

جہاں چےت ڈومر بیٹھا تھا، اس کے پشت پر کتابوں کی المیرا تھی۔ قانون سے متعلق موٹی موٹی کتابیں اس کے پیشے کا تعارف کرانے کے لئے کافی تھیں۔ حسن فرخ نے اس کا غور سے جائزہ لیا۔ اس وقت وہ نیلے رنگ کی سفاری میں تھا۔ اس نے شادی نہیں کی تھی۔ ذات پات کی سیاست اور نظام کو لے کر وہ اب بھی اپنے تاثرات چھپانے مےں ناکام تھا۔ مگر اس کے باوجود اس کی کوشش جاری تھی۔ اچانک اس کے ہونٹوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پیدا ہو گئی۔

‘آپ تو پانی پینے سے انکار نہیں کریں گے؟’

حسن نے ایک نظر چےت ڈومر پر ڈالی۔ اس کے ہاتھ سے پانی کی بوتل لی۔ گلاس میں پانی ڈھالا۔ ایک سانس میں پی گیا۔ پھر کچھ دیر تک چےت ڈومر کو دیکھتا رہا۔

‘اتنا بڑا بنگلہ۔ اتنے پیسے والے۔ پھر ان سب کے باوجود ماضی میں کیوں جیتے ہیں۔؟ ایک وقت تھا، جب ہندووں کے گھر میں مسلمانوں کے لئے بھی گلاس الگ ہوتے تھے۔ کیا آج ایسا ہے؟ ‘

چےت ڈومر مسکرایا ‘آج بھی ایسا ہے۔ آج بھی وہی تاریخ ہے۔ ہم سے ہاتھ ملانے کے بعد ایسے لوگ بھی ہیں جو واش بےسن میں جاکر ہاتھ دھوتے ہیں۔ ایسے لوگ سیاست سے عام، زندگی تک موجود ہیں۔ آپ کے ساتھ بھی، اب بھی یہی ہو رہا

 ہے۔ برہمن آپ کے گھر پانی نہیں پئے گا۔ بہانا بنا دےگا۔

چےت مسکرایا۔ ‘پانی تو ایک بہانہ ہے سر جی۔ میں پانی کے بہانے انسان کی سوچ کا اندازہ لگاتا ہوں۔ دور کیوں جائیں، ابھی حال ہی میں، ایک انتخابی ریلی میں ایک برہمن نے قطار میں کھڑے ایک دلت لیڈر کا ہاتھ جھٹک دیا۔ سائنس بڑھا ہے سر جی، آدمی نہیں بڑھا— آدمی اور چھوٹا ہوا ہے سر جی۔ جانتے ہیں، میں نے کیوں آپ کو ملنے کے لئے کہا؟ ‘

‘نہیں’

‘ہم ہر طرف مارے جا رہے ہیں۔ پورے ملک میں۔ اس سچ سے آپ انکار تو نہیں کریں گے؟ دلت مہادلت، مسلمان، اگڑا، پسماندہ، او بی سی، ‘چےت ڈومر، حسن کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔ ‘سیاست سے معاشرے تک ہمارا اتحاد ضروری ہے۔ جہاں آپ ہماری حمایت کر سکتے ہیں، وہاں آپ ضرور کریں۔ جہاں، ہم آپ کی حمایت کر سکتے ہیں، وہاں ہم سامنے آئیںگے۔ ‘

حسن کشمکش کے عالم میں تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت اس گفتگو کا جواز کیا ہے؟ وہ آہستہ آہستہ چےت ڈومر کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

چےت نے آگے کہا۔ ‘ہمارا ترقی کرنا اب بھی ایک بڑے معاشرے کو گوارا نہیں ہے۔ وہ ہمیں صدیوں میں نہیں اپنا سکے۔ اب کیا اپنائیںگے۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں نا؟ ‘

‘نہیں؟’ حسن کا جواب سپاٹ تھا۔ ‘بہتر ہوگا کہ آپ مقصد پر آ جائیں، سیاست کی کیا ضرورت ہے؟’

‘اوہ’ چےت ڈومر نے لمبا سانس کھینچا۔ ‘اسے سیاست مت کہئے۔ ابھی دیکھئے— اس کہانی میں کیا ہے؟ ایک برہمن کی بیٹی۔ ایک ڈوم ۔۔۔ ایک مسلمان۔ ‘

‘اوہ ۔۔۔ یہ تو میں نے سوچا بھی نہیں تھا ۔۔۔ محبت میں سیاست؟’

‘سیاست نہیں حمایت مانگ رہا ہوں۔’ چےت ڈومر کی آواز میں تلخی سرایت کر گئی تھی۔ ‘اب دیکھئے برہمن آپ کو گوارا نہیں کرے گا۔ آپ دوسرے مذہب کے ہیں۔ لیکن ہم ہندو ہیں۔ ہم اقتصادی مضبوطی کے ساتھ ان کے برابر میں کھڑے ہیں۔ ‘

‘کیا واقعی برابر میں کھڑے ہیں۔؟’

چےت کی آنکھوں میں ناگواری سمٹ آئی ۔ ‘ہم جہاں کھڑے ہیں، وہاں آکر وہ بھی اپنی ذات پات بھول جاتے ہیں۔ یہاں اس کہانی میں آپ نہیں ہوتے تو مجھے ان کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

‘تو آپ میرا نہیں، ایک مسلمان کی حمایت مانگ رہے ہیں؟’

‘ہاں، کیونکہ وہ آپ کو قبول نہیں کریں گے؟‘

‘پرجاپتی نہیں کریں گے۔ لیکن تارا نے تو مجھے ہی قبول کیا ہے۔ ‘حسن مسکرایا۔

پرجاپتی کچھ دیر کے لئے خاموش ہوا۔ اس کی آنکھیں اکیوریم کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ وہ پھر حسن کی جانب پلٹا۔

‘یہ صورتحال نہ ہوتی تو آپ کو کیوں بلاتا؟’

حسن نے غور سے چےت ڈومر کو دیکھا۔

چےت پر مایوسی سوار تھی۔ وہ اچانک کرسی پر ہلنے لگا تھا۔ حسن نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔

‘کیا آپ اسے محبت کہیں گے۔؟’

چیت نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا۔

‘نہیں۔’

حسن نے ٹھہر کر کہا ‘اچھا مان لیں میں آپ کے درمیان سے ہٹ جاتا ہوں۔ سوچ کر بتائیے۔ یہ شادی معاہدہ ہوگا یا انتقام؟ ‘

چےت نے یہ جملہ سنا ہی نہیں۔ وہ کسی کو زور سے آواز دے رہا تھا۔ ایک خادم آیا تو اس نے غصے سے اکیوریم کی طرف اشارہ کیا۔ ‘اکیوریم کا پانی نہیں بدلا گیا۔ مجھے کتنی بار بتانا ہوگا کہ اندر کا پانی بدلا نہیں جائے تو پانی گندا ہو جاتا ہے۔ وہ زور سے چیخا۔ ‘لگتا ہے وہ سنہری مچھلی مر گئی۔’

اکیوریم کے رنگین پانی میں اس وقت جمود تھا۔ مچھلیاں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ اندر جلتے بجھتے رہے رنگین قمقموں کی روشنی میں، شیشے کے چھوٹے سے اکیورم میں اس وقت حسن کو گہرے سناٹے کا احساس ہوا— اب اسی سناٹے کی زد میں وہ خود بھی تھا۔

حسن خاموشی سے چےت ڈومر کے گھر سے باہر نکل گیا۔ دھوپ تیز تھی۔ آگ کی بارش ہو رہی تھی۔ سڑک پر ٹریفک زیادہ نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ پرجاپتی اور تارا کو اس بات کا انتظار ہوگا کہ چےت ڈومر سے اس کی کیا باتیں ہوئیں؟ رشتوں کی سیاست کے اس بوسیدہ صفحے پر ایسا اندھیرا سمٹا ہوا تھا، جس کے بارے میں وہ کچھ بھی کہنا یا بتانا نہیں چاہتا تھا۔ توجہ، ہٹانے کے لئے اس نے اکیوریم کی سنہری مچھلی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔ کیا وہ واقعی تھی؟ کیا وہ واقعی گندے پانی میں مر گئی تھی؟

پینٹنگ اور سور

پرجاپتی اس بات سے بے خبر تھے کہ حسن اور ڈومر کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ہوگی۔ وہ مکان کے تحفظ کے لئے حسن کو اس پورے منظر نامے سے الگ کرنا چاہتے تھے….اس دن انہوں نے دیر تک پوجاپاٹھ کی۔ پوجاپاٹھ کے بعد وہ کچھ دیر خاموشی سے اپنے کمرے میں گزارتے تھے۔ آنکھیںبند کیں تو احساس ہوا کمرے میں پانی بھر آیاہے….پانی کی سطح اس قدر اونچی ہوگئی کہ ان کے لئے سانس تک لینا دشوار ہوگیا۔ وہ اس بات سے واقف تھے کہ مقدمہ چلا تو مکان کو بچانا ان کے لئے دشوار ہوجائے گا….غرّاتا ہوا سانڈ ایک بار پھر ان کے سامنے تھا۔ساتھ ہی پانی کی سطح کچھ اور اونچی ہوگئی تھی۔

اس درمیان تارانے آکر خبر دی کہ وہ حسن سے ملنے جارہی ہے حسن کا فون آیا تھا۔ پرجاپتی نے کاپتی آواز میں کہا۔ معاملہ سلجھالینا۔ محبت سے زیادہ مکان کا تحفظ ضروری ہے۔تارا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ll

کھڑکی کے باہر دھوپ کی کرنوں کا رقص جاری تھا۔

چےت ڈومر سے ملاقات کے بعد حسن اور تارا ایک بار پھر کیفیٹیریا میں تھے۔ دونوں طرف بوجھل کر دینے والی خاموشی غالب تھی۔

آخر اس خاموشی کا اختتام حسن نے کیا۔ ‘بابا کہاں ہیں؟’

‘وہ ٹھیک ہےں۔’

‘یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟’

‘کیوں کہ میں انہیں جانتی ہوں۔ تارا نے ٹھہر کر حسن کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔ ‘انسانی تاریخ کے المناک صفحات سے نکل کر اب وہ ایک نئے خواب کی فنٹاسی میں جی رہے ہیں۔’

حسن اپنی جگہ سے اچھلا۔ ‘تمہارا مطلب ہے ۔۔۔’

تارا نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔ ‘تم نہیں سمجھو گے۔ شکست خوردہ ہو کر بھی فتح کے ایک نئے باب کو کھولا جا سکتا ہے۔ ‘

‘تو کیا اس نئے باب میں وہ سب کچھ بھول سکیں گے۔؟’

‘ہاں۔’

‘ماضی کو بھولنا آسان ہوتا ہے؟’

‘نئے خواب کو جگہ دینے کے لئے ماضی کو بھولنا ہوتا ہے۔’ تارا کا جواب تھا۔

‘پھر تم کیا کرو گی۔؟

‘میں— ‘تارا ایک لمحے کے لیے سوچ میں ڈوب گئی۔ ‘پتہ نہیں— مکان درمیان میں نہیں آتا تو فیصلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔’

اس بار حسن کے چہرے پر ایک شکست خوردہ مسکراہٹ تھی۔ ‘اچھا یہ بتاو، اب اس کہانی میں’ میں ‘کہاں ہوں؟’

کچھ دیر تک سناٹا چھایا جارہا—

تارا اچانک زور سے ہنسی— ‘جہاں پہلے تھے۔ اپنی کرسی پر۔ ‘

‘اور تم؟’ حسن کو یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

لیکن اسی لمحے ایک واقعہ پیش آیا۔ میز کے ٹھیک سامنے والی کھڑکی پر وہ پینٹنگ آگئی، جو حسن نے چےت ڈومر کے ڈرائنگ روم میں دیکھی تھی۔ سور والی پےنٹنگ- اور اسے تعجب ہوا تھا کہ یہ پینٹنگ اتنی خوبصورت دیوار پر آویزاں کیوں ہے؟ حسن نے آنکھیں مل کر دوبارہ دیکھا۔ کھڑکی سے سورج غائب تھا۔ سور پینٹنگ سے باہر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شیطان محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

پاکستانعالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 96 محمد نواز۔ کمالیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”یہ انسان نہیں شیطان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے