سر ورق / کہانی / ظلم کا نظام۔۔۔ سید بدر سعید

ظلم کا نظام۔۔۔ سید بدر سعید

 

ظلم کا نظام

کہنے کو تو ہم ایک مہذب اور باشعور معاشرے میں رہتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ےہاں حوّا کی بےٹی کو جانوروں کی طرح بےچ دےا جاتا ہے ےہ کاروبار چھپ کرنہےںہوتا بلکہ سرعام پنچائےت کی رضامندی سے کےا جاتا ہے۔ کرائم رپورٹنگ کے دوران مےرا زےرزمےن مجرموں کی جس دنےا سے واسطہ پڑا وہاں اےسی لاتعداد کہانےاں بکھری پڑی ہےں۔ زمےنوں پر قبضوں سے لے کر لڑکےوں کی تجارت عام سی بات ہے۔ ےہاں اےسے خطرناک مجرم بھی موجود ہےں جنہےں ےہ تو معلوم ہے کہ ان کے پاس موجود ہتھےار سے گولے برسائے جاتے ہےں لےکن ان ہتھےاروں کا نام نہےں معلوم ۔ ےہ اےسے ہتھےاروں کے اپنے ہی نام رکھ دےتے ہےں۔ کوئی شہزادہ کہتا ہے تو کوئی چےتا۔ ابتدا مےں مجھے لگتا تھا کہ ہمارے ہاں مجرموں کی ےہی دنےا جرائم سے وابستہ ہے پھر معلوم ہوا کہ ان مےں اکثر کے ٹھکانے مہذب، شرےف اور راہنما سمجھے جانے والے وڈےروں کے ڈےروں مےں ہےں۔ ہمارے اکثر بااثر لوگ اپنے مقاصد کے لئے اشتہارےوں کو نہ صرف پناہ دےتے ہےں بلکہ اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لئے ان سے قتل وغارت بھی کرواتے ہےں۔

                                ایسا ہی اےک وڈےرہ سندھ کے گوٹھ مےں رہتا ہے۔ ےہ بلوچ سردار کے طور پر بھی جانا جاتا ہے کچھ عرصہ قبل اس نے اےک شخص کو اپنی زمینوں مےں سے کچھ حصّہ کاشت کے لئے دے دےا۔ دےہات سے جُڑے لوگ جانتے ہےں کہ زمےندار اپنی زمےنوں پر مزارعوں سے ہی کام لےتے ہےں۔ وڈےرے کی زمےنےں درےائے سندھ کے ساتھ ساتھ تھےں۔ انہی مےں سے کچھ رقبہ اس نے جاوےد کو کاشت کے لےے دے دےا۔ جاوےد کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اسے گھر اور مزدوری کی اشد ضرورت تھی۔ وڈےرے کا ےہ حکم اس کے لئے کسی احسان سے کم نہ تھا۔ وہ اپنی بےوی سمےت وڈےرے کی زمےنوں پر منتقل ہوگےا۔ نئی نوےلی دلہن نے اس کے ساتھ مل کر وہےں اےک کچا پکا گھر بناےا اور گھر کے سامنے زمےنوں مےں ہل چلانا شروع کردےا۔ وہ صرف مزارع تھے۔ زمےن اور ہل سمےت دےگرسامان وڈےرے کا ہی تھا۔ فصل پکنے پر وڈےرہ اپنی فصل اُٹھا لے جاتا اور زبانی معاہدے کے مطابق ان کا طے شدہ حصّہ انہےں دے دےتا۔ اسی حصّے کے بل پر انہوں نے اگلے سال گزارہ کرنا تھا اور پھر کسی کی زمےنوں مےں فصل اُگانی تھی۔ ان کا خاندان عرصہ درازسے ےہی کام کررہا تھا۔ جاوےد نے وڈےرے کی زمےن پر عارضِی گھر تو بنالےا تھا لےکن مسئلہ ےہ تھا کہ اس سال وہ کس طرح گزارہ کرے؟ غرےب کے گھر جمع پونجی ہی کتنی ہوتی ہے کفن سے چہرہ ڈھانپیںتوپاو¿ں ننگے ہوجاتے ہےں۔ تھوڑا بہت ان کی شادی پر اٹھ گےا اور باقی کچے گھر پر لگ گےا۔ اب وہ تھے ، وڈےرے کی زمین تھی اور اےک سال کا انتظار تھا ،لےکن بھوکا پےٹ اےک سال کا انتظار نہےں کرتا۔ نئی دلہن اپنے شوہر کے ساتھ زمےنوں پر برابر کام کررہی تھی اور حالات بہتر ہونے کی امےد پر سوکھی روٹےاں کھا رہی تھی۔

                                وڈےرہ اپنی زمےنوں کا ہی نہےں اپنے مزارعوں کا بھی خےال رکھتا تھا۔ اسے جاوےد کے حالات کا علم تھا اس لئے وہ اسے خرچہ پانی کے لئے رقم دےتا رہتا تھا۔ ےہ رقم بہت زےادہ نہ سہی لےکن اتنی ضرور ہوتی تھی کہ جاوےد اور اس کی بےوی دو وقت کی روٹی کھاسکےں۔ وہ دو وقت کی ےہ روٹی کھاتے رہے اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے نئی فصل کی امےد پر سخت محنت کرتے رہے انہی زمےنوں مےں اےک دوسرے کو دےکھ دےکھ کر مسکرانا اور شرمانا ان کی سب سے بڑی تفرےح تھی۔ ےہی زمےنےں ان کا ورلڈٹور اور ےہی فاقے ان کا ہنی مون تھا۔ وڈےرہ اکثر زمےنوں کے چکر لگاتا رہتا اور صورت حال کا جائزہ لےتا رہتا تھا۔ اےک دن اس نے جاوےد کو بلا کر تےن لاکھ کا مطالبہ کردےا۔ اس کے بقول ےہ تےن لاکھ وہ خرچہ پانی تھا جو وہ جاوےد کو دو وقت کی روٹی کے لئے دےتا رہا تھا جاوےد نے گھر جاکر اندازہ لگاےا تو اسے معلوم ہوا اس کے پورے گھر کا سامان پانچ ہزار سے زیادہ نہیں۔ مکان وڈیرے کی زمین پر بنا ہوا تھا اور وہ بھی محض سر چھپانے کا ایک ٹھکانہ تھا۔ تین لاکھ تو ایک ساتھ اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھے تھے۔ اس کا باپ بھی مزارع ہی تھا اور اس کے حالات بھی ایسے نہ تھے کہ وہ یہ رقم ادا کرسکتا۔ دوسری جانب وڈیرے کا کہنا تھا کہ وہ جو ”خرچہ پانی“ دیتا رہا وہ دراصل قرض تھا جو سود سمیت تین لاکھ بن چکا ہے۔ خرچہ پانی کی معمولی سی رقم تین لاکھ کیسے بنی اور اس پر کس مد میں کتنا سود لگا یہ جاوید کو آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔

                                تین لاکھ کے اس قرضے کی اصل کہانی اس وقت سامنے آئی جب وڈیرے نے پیسے نہ دینے پر جاوید کی بیوی کو اُٹھوا لیا۔ وہ اسے اپنی حویلی میں لے گیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ جب جاوید تین لاکھ کا بندوبست کر لے تب آ کر اپنی بیوی کو لے جائے۔ جاوید نے احتجاج کیا تو وڈیرہ کھل کر سامنے آ گیا۔ اس نے جاوید سے زبردستی طلاق کے کاغذات پر انگوٹھے لگوائے اور اسے دھکّے مار کر باہر نکال دیا۔ چیختا چلاتا جاوید دریائے سندھ کے دوسری جانب اپنی برادری کے پاس گیا۔ صورتحال کا علم ہونے پر برادری نے پنچائیت بلائی اور وڈیرے پر جاوید کی بیوی واپس کرنے کے لئے دبا ¶ ڈالا۔ پنچائیت کے سامنے وڈیرے نے کہا کہ جاوید نے اس کے تین لاکھ دینے ہیں جو وہ نہیں دے پایا اس لیے اس کی بیوی میرے پاس گروی رکھی ہوئی ہے جب وہ پیسوں کا انتظام کرے گا تب آ جائے اور اپنی بیوی کو لے جائے۔ گروی کا مطلب جاوید بھی جانتا تھا اور پنچائیت بھی۔ جاوید وڈیرے کا مزارع تھا لہٰذا وہ اس کی عادات اور مزاج سے بھی بخوبی واقف تھا اس نے گروی کا لفظ سُن کر چیخنا چلانا شروع کر دیا لیکن وہ پنچائیت کے سامنے تسلیم کر چکا تھا کہ وڈیرہ اسے خرچہ پانی دیتا رہا ہے۔ بالآخر پنچائیت کے سر پنچ یعنی سربراہ نے وڈیرے کو ایک لاکھ روپے ادا کر کے جاوید کی بیوی واپس لے لی۔ پنچائیت کے دبا ¶ اور زمینی حقائق سے یہ بات سامنے آ گئی تھی کہ جتنا عرصہ وڈیرہ جاوید کو خرچہ پانی کے نام پر پیسے دیتا رہا تھا اور وہ رقم جن کاموں کے لئے تھی ، اس حساب سے سود سمیت رقم ایک لاکھ سے زیادہ نہیں بنتی۔ وڈیرہ بھی تین لاکھ سے ایک لاکھ پر آ گیا۔ اس نے ایک لاکھ روپے سرپنچ سے وصول کیے اور جاوید کی بیوی اس کے حوالے کر دی۔

                                جاوید کو امید تھی کہ اب پنچائیت اس کی بیوی اسے واپس کر دے گی۔ اس نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی ایک لاکھ کما کر یہ رقم سر پنچ کو دے دے گا لیکن کہانی ایک اور موڑ لے رہی تھی۔ تقدیر دور کھڑی غریب مزارع پر ہنس رہی تھی اور وہ بے خبر پُرامید نظروں سے پنچائیت کی جانب دیکھ رہا تھا۔ سر پنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ساری برادری کے علم میں ہے کہ میں نے ایک لاکھ ادا کر کے اپنی برادری کی لڑکی کو دوسری برادری کے وڈیرے کے قبضے سے رہائی دلائی ہے یوں ہماری عزت اپنے قبیلے میں آ گئی ہے لیکن میرا ایک لاکھ خرچ ہوا ہے لہٰذا جاوید کی بیوی میرے پاس گروی رہے گی۔ جب جاوید میرے ایک لاکھ ادا کر دے گا تو اپنی بیوی کو لے جائے گا۔ وہ چاہے تو آج ہی رقم ادا کر کے لڑکی کو لے جائے اسے ہمارا یہ احسان بھی ماننا چاہئے کہ ہم نے رقم تین لاکھ سے ایک لاکھ کروا دی ہے۔ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کے مصداقجاوید چیختا چلاتا گھر لوٹ آیا۔ وہ نہ تو بلوچ سردار سے لڑ سکتا تھا اور نہ ہی پنچائیت سے جھگڑا مول لے سکتا تھا۔ اس کی بیوی پہلے وڈیرے کے پاس گروی تھی تو اب اپنی برادری کے سرپنچ کے پاس ۔ پنچائیت ہی نہیں برادری بھی جانتی تھی کہ وہ اگلی فصل آنے تک رقم ادا نہیں کرسکتا۔

                وڈیرے نے بھی اس کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا تھا اور فصل آنے سے پہلے ہی رقم کا مطالبہ کردیا تھا اور اب یہی سلوک پنچائیت نے کیا۔ یہ جنگل کا قانون تھا جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول چل رہا تھا۔ سندھ کے ان علاقوں میں قانون موجود تو ہے لیکن پولیس ان معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔بہرحال جاوید کے پاس پنچائیت کے علاوہ کوئی در ایسا نہ تھا جہاں وہ انصاف کے لئے جا سکتا ۔تین ماہ بعد اسے معلوم ہوا کہ اسکی بیوی دوبارہ اسی بلوچ سردار کی حویلی پہنچ چکی ہے جسے سرپنج نے ایک لاکھ ادا کیے تھے۔ وڈیرہ اب کی بار اس لڑکی کو نو لاکھ میں خرید چکا تھا اس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ نہ تو جاوید براہ راست وڈیرے سے اپنی بیوی کا مطالبہ کرسکتا تھا اور نہ ہی پنچائیت اس سردار کو لڑکی واپس کرنے کا کہہ سکتی تھی۔ اب یہ سیدھا سادا خرید و فروخت کا معاملہ تھا ایک لڑکی اسی طرح بیچ دی گئی تھی جیسے گائے بیچی جاتی ہے۔ صورتحال کا علم ہوتے ہی جاوید کی ہمت جواب دے گئی۔ وہ اپنی بیوی کھو چکا تھا لیکن لڑکی کے بوڑھے ماں باپ اٹھ کھڑے ہوئے ۔وہ سرپنچ کے پاس گئے اور اس سے اپنی بیٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ بوڑھے ہاریوں کو سرپنج نے صاف صاف کہا کہ تمہاری بیٹی کو پنچائیت نے کالی قرار دے کر علاقہ غیر میں وڈیرے کے پاس بیچ دیا ہے اور یہ پوری پنچائیت کا فیصلہ تھا لہٰذا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

                                مجھے اس واقعہ کی بھنک ایک ڈاکو سے ملی ۔ان دنوں وہ اسی بلوچ سردار کی پناہ میں تھا۔ ڈاکو کے بقول ایک گروی لڑکی اس ڈیرے پر بھی لائی گئی تھی جہاں وہ اپنے ساتھیوں سمیت پناہ لیے ہوئے تھا ،مکمل داستان کا علم مجھے لڑکی کے بوڑھے ماں باپ سے ہوا۔ میں نے ان کا پتا لگایا اور پھر ان تک جا پہنچا۔ کپکپاتے لہجے میں پوری داستان سنانے کے بعد بوڑھا ہاری نظریں جھکائے میرے سامنے بیٹھا تھا۔ پھر میں نے سکوت توڑتے ہوئے پوچھا آپ کے خیال میں آپ کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا۔ کوئی ایسا جرم جو جانے انجانے میں آپ سے سرزد ہوا ہو ۔ کہیں یہ سب مکافات عمل تو نہیں ۔ بوڑھے نے تڑپ کر میری جانب دیکھا اور کہا جس معاشرے میں ہم جی رہے ہیں یہاں غریب کے گھر خوبصورت بیٹی پیدا ہونے سے بڑا جرم بھلا اور کیا ہوگا؟ دو آنسو اس کے جھریوں بھرے چہرے پر ٹپکے اور اس نے سسکتے لہجے میں کہا وہ پوری برادری میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی شاید اسی لیے ہر بااثر بھیڑیا اسے گروی رکھنا چاہتا تھا۔

خوبصورت ناگن

منےب مےرے ساتھ اےک اخبار مےں کامرس رپورٹر تھا۔ ےہ الگ بات ہے کہ اس مقامی اخبار کی کامرس رپورٹنگ چےمبرآف کامرس کی بجائے علاقائی منڈےوں اور مقامی تاجر ےونےن تک محدود تھی۔ منےب انتہائی تےز طرار لڑکا تھا۔ مےری طرح اسے بھی مےڈےا مےں آئے زےادہ عرصہ نہےں ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ تےزی سے اپنی جگہ بناتا جارہا تھا۔ مےں اپنی رپورٹنگ اور دوچار خبروں تک محدود تھا لےکن منےب نے کامرس رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ کمائی کے دےگرذرائع بھی تلاش کرلئے تھے۔ چار ماہ بعد ہی اس نے اخبار کا ”سپلیمنٹ “بھی تےار کرنا شروع کردےا۔علاقہ کے دوتےن تاجرگروپوں مےں شدےد اختلافات تھے ۔ اس نے اس چےزکا فائدہ اٹھاےا اور سب ہی گروپوں کے ”اشتہاری انٹروےو“ شائع کئے۔ وہ اخبار کا پورا صفحہ بطور اشتہار بیچ دیتا تھااور پھر اشتہار کی جگہ ان افراد کی تصاویر اور بےانات کے ساتھ ایک سٹوری بنا کر چھاپ دےتا تھا۔ اس کے بعد اس نے اےک اےک تاجرکا پورے صفحہ پر انٹروےو چھاپنا شروع کردےا۔ ےہ انٹروےو بطور اشتہار شائع کےا جاتا تھا۔ ےہ بات صرف اخبار اور تاجرکو ہی معلوم تھی۔ عام لوگوں کے لے وہ ا نٹروےو ہی تھا۔ منےب کو اس سپلےمنٹ کا کمےشن ملتا تھا جس سے اس کی آمدنی ہم سے زےادہ ہوگئی۔ اخبار کا مالک اس سے زےادہ خوش تھا کےونکہ وہ مالک کے لئے کماو ¿ پوت بن چکا تھا۔

                                ان دنوں ہمارا موٹا اےڈےٹر اکثر پان چباتے ہوئے ہمےں منےب کی مثال دےنے لگا تھا۔چےف اےڈےٹر اور اےڈےٹر دونوں کاروباری پارٹنرتھے۔ اس کے نزدےک اخبار بھی کاروبار، شہرت اور پےسے کمانے کا اےک ذرےعہ تھا۔ ایک دن سےٹھ نے مجھے کہا کہ دےکھو منےب اشتہار لاتا ہے تم لوگ بھی پےڈانٹروےو کےوں نہےں کرتے؟ منےب سے ہی کچھ سےکھ لو، مےں اس روز وےسے ہی جلابھنا بےٹھا تھا اس لئے کسی قدر تلخ ہوتے ہوئے کہہ دےا: سر منےب کامرس رپورٹر ہے اور مےں کرائم رپورٹر۔ وہ تاجروں کے انٹروےو کرتا ہے۔ مےرے رابطے مجرموں سے ہےں۔ حکم کرےں تو بلے تےس مار کا انٹروےو کرلوں؟ اس کے پےسوں کا بل آپ کی جانب سے بھےج دوں گا ےا تو وہ پےسے بھےج دے گا ےا پھربلا اکتےس مار ہوجائے گا۔ مےرے جواب پر اےڈےٹرغصے سے واک آو ¿ٹ کرگےا۔ اس نے ابھی ہمےں دوماہ کے واجبات دینے تھے اس لئے اس نے مجھے نکالنے کی بجائے خود جانے مےں عافےت نظرآئی۔

                                بہرحال اےک سال بعد ہی منےب نے اخبار سے استعفی دے دےا۔ اخبار چھوڑنے کے باوجود اس کا مجھ سے رابطہ رہا اور ہر دوسرے روز ملاقات ہوتی تھی۔ اس نے اےک فلمی مےگزےن شروع کرلےا تھا۔ اس مےگزےن کا دفتر لاہور کے معروف فلم سٹوڈےو کے پاس تھا۔ ےہاں زےادہ تر ڈانس اور اےکٹنگ کی اکےڈمےاں تھےں۔ منےب نے دفتربناےا تو پھرہماری ہر شام ہی محفل جمنے لگی۔ ڈانس اکےڈمےوں کے جھرمٹ مےں فلمی مےگزےن کے دفترکا جوماحول ہونا چاہےے، ےہ وےسا ہی دفتر تھا۔ ےہاں ادب وصحافت سے زےادہ فلمی دنےا کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ کوئی اپنے کردار کی پبلسٹی کی بات کرتا تو کوئی ماڈلنگ کے مےدان مےں قسمت آزمانے آےا ہوتا تھا۔ اس دفتر مےں اٹھنے بےٹھنے کی وجہ سے مےری شوبز سے وابستہ افراد سے جان پہچان شروع ہوئی۔ چونکہ منےب نے اپنا مےگزےن بھی کمائی کے لئے شروع کےا تھا اس لئے وہ فلمی خبروں سے زےادہ انٹروےوز اور ماڈلنگ پر توجہ دےتا تھا۔

                                ہمارے یہاں فلمی دنےا مےں قدم رکھ کر راتوں رات مشہور ہونے کے خواب دےکھنے والوں کی کمی نہےں ہے۔ منےب کا شکار ےہی لوگ تھے۔ وہ انہےں سہانے خواب دکھا کر ماڈل بننے پر آمادہ کرتا اور پھرفوٹوشوٹ کے نام پر بھاری رقم طلب کرلےتا۔ اسی طرح مےگزےن کے صفحات پر بطور ماڈل تصاوےر چھاپنے کے الگ سے پےسے لےتا تھا۔ اس کے مےگزےن کی اشاعت تو اتنی زےادہ نہیں تھی لےکن اپنی تےز طراری اور چرب زبانی کی بدولت وہ ٹھےک ٹھاک کما لےتا تھا۔ اسی دوران وہ ثقافتی طائفے کے نام پر ماڈلز اور گلوکاراو ¿ں کے اےک گروپ کو دبئی بھی لے گےا۔ قصہ مختصر فلمی سٹوڈےو کے قرےب فلمی رسالے اور ثقافتی طائفے کو دبئی لے جانے کے عمل نے مل کر اسے اس فےلڈ سے منسلک نئے لوگوں مےں خاصا اہم بنادےا تھا۔

                                ہرشام منےب کے دفترمحفل جمتی ۔چائے کی پےالےاں آتی رہتےں اور کمرہ سگرےٹ کے دھوےں سے بھرا رہتا۔ ےہےں مےری ملاقات شبنم سے ہوئی۔ وہ اےک ماڈل گرل تھی۔ اس کی آنکھوں مےں حےرانی کاعنصر اسے دوسروں سے ممتاز بنادےتا تھا۔ ےہی بات مےں نے منےب سے کہی تو وہ پراسرار لہجہ مےں کہنے لگا :شاہ ! ےہ آنکھےں جتنی حےران نظرآتی ہےں اس سے کہےں زےادہ خونی بھی ہےں۔ مےں نے ہنستے ہوئے کہا: ےار! خونی کہنے سے بہتر تھا تم قاتل نگاہےں کہہ دےتے۔ شوبز کی صحافت نے تو تمہارے اندر کے ادبی منظرنامے کا بھی خون کردےا ہے۔ اسی دوران اےک اور دوست آےا تو بات کا رخ بدل گےا۔

                                شبنم ماڈلنگ کی دنےا مےں بہت زےادہ نام نہےں کماسکی لےکن اسے اےک قتل کے کےس مےں بہت شہرت ملی۔ کچھ عرصہ بعد منےب کی ےہ بات سچ ثابت ہوگئی کہ اس کی آنکھوں مےں جتنی حےرانی نظرآتی ہے اس سے کہےں زےادہ خون اترا ہوا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ شبنم سے متعدد ملاقاتوں کے باوجود مجھے کبھی اندازہ نہےں ہوسکا تھا کہ وہ ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ مجرمانہ سرگرمےوں مےں بھی مصروف ہے۔ ےہ ساری کہانی اس وقت کھلی جب اسے بطور قاتلہ مےڈےا کے سامنے پےش کےا گےا ۔اسی لئے شبنم کی داستان لکھتے ہوئے بعد مےں معلوم ہونے والی بہت سی باتےں بھی حالات وواقعات کی ترتےب کے ساتھ ہی شامل کررہا ہوں۔

                                شبنم آزاد خےال لڑکی تھی۔ پارٹیز، دوستےاں اور بگڑے ہوئے امےرزادوں کو اپنے دام مےں پھنسا کر ان کی دولت استعمال کرنا اس کے معمولات کا حصہ تھا۔ شوبز سے منسلک بہت کم لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ شادی شدہ اور دوبچوں کی ماں تھی۔ اس کی آوارہ مزاج زندگی مےں اس کے شوہر کا زےادہ عرصہ ساتھ چلنا ممکن نہ رہا۔ ےہی وجہ تھی کہ ابتداءمےں شروع ہونے والی گرمی سردی اور ناراضی آگے چل کر مارپےٹ تک پہنچ گئی۔ شادی کے تےسرے سال ہی شبنم کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی۔ شبنم کی ماڈلنگ اس کے بعد بھی جاری رہی لےکن اس کے دل مےں اپنے شوہر سے انتقام لےنے کا جذبہ بھی فروغ پانے لگا۔ اس کا تعلق جس دنےا سے تھا وہاں بگڑے ہوئے امےرزادوں کے ساتھ ساتھ اےڈوانچر کے نام پر جرائم کرنے والوں کی بھی کمی نہےں تھی۔ دوسری جانب دولت کی ہوس مےں شبنم نے ماڈلنگ کی شوقےن لڑکےوں کو بھی ٹرےپ کرنا شروع کردےا۔ وہ مختلف مواقع پر ان کی وےڈےوز اور تصاوےر بنوا کر انہےں بلےک مےل کرنے لگی۔ ےہ اس کی اضافی آمدنی کا اےک بڑا ذرےعہ تھا ۔

                                انہی دنوں ثنا نے ماڈلنگ کی دنےا مےں قدم رکھا۔ بلاشبہ اس کے چہرے پر چھائی قدرتی معصومےت اسے دوسروں سے نماےاں کرتی تھی۔ اسی طرح اس کاچہرہ فوٹوجینٹےک تھا ےعنی وہ کےمرے کے معےار پر پورا اترتی تھی۔ ثنا ےونےورسٹی کی طالبہ تھی ۔وہ لاہور مےں جس ہاسٹل مےں رہتی تھی وہےں ان دنوں شبنم بھی رہائش پذےر تھی۔ ہمےں بعد مےں معلوم ہوا کہ ےہ شبنم کا طرےقہ واردات تھا۔ اس کے پاس لاہور مےں دو بڑی کوٹھےاں تھےں۔ اس کے باوجود وہ مختلف گرلز ہاسٹل مےں رہتی تھی ۔ وہاں وہ دن کا کچھ حصہ گزارتی اور پھراےسی لڑکےوں کا انتخاب کرتی جنہےں ماڈلنگ ےا اےکٹنگ کا شوق ہو۔ ان لڑکےوں کو وہ شےشے مےں اتارتی اور سہانے خواب دکھاتے ہوئے ماڈلنگ کے لئے اپنی خدمات پےش کردےتی۔ دےگر الفاظ مےں وہ شوبز مےں ان کی مدر ٹریسا بن جاتی۔ ےہ لڑکےاں اس کی احسان مندہوتےں اور اس پر مکمل بھروسہ کرتی تھےں۔ بعد مےں شبنم ان کے اس بھروسہ اور اعتماد کے بل پر غےر اخلاقی تصاوےر اور وےڈےوز بنانے مےں کامےاب ہوجاتی اور انہےں بلےک مےل کرنا شروع کردےتی۔

                                ثنا بھی شبنم کا اےسا ہی شکار تھی۔ اس کے فوٹوشوٹ منےب کے فےشن مےگزےن مےں بھی شائع ہوئے۔ شبنم کی مدد سے وہ رےمپ پر بھی پہنچ گئی۔ اےک دوکمپنےوں کے ملبوسات کی ماڈلنگ کرنے کے بعد تو وہ جسے ہواو ¿ںمےں اڑنے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی تعلےم بھی جاری رکھی ہوئی تھی۔ شبنم پر اسے بے حد اعتماد تھا۔ اےک دن شبنم کو اپنا سابق شوہراےک لڑکی کے ہمراہ جاتا نظرآےا تو اس کی آنکھوں مےں خون اترآےا۔ اس نے اپنے دوست کے ہمراہ اپنے سابق شوہرکو قتل کرنے کا منصوبہ ترتےب دےا۔ ےہ منصوبہ اس کے شوہر اور ثنا کے گرد گھوم رہا تھا۔ شبنم نے ثنا کو کہا کہ وہ اس کے شوہر سے ملے اور دوستی کرلے۔ اس ملاقات کا انتظام شبنم نے اےک مشترکہ دوست کے ذرےعے کروانے کی حامی بھری تھی۔ شبنم کے منصوبے کے تحت ثنا اس کے شوہرسے دوستی کرنے کے بعد کھانے کے دوران اسے باآسانی زہردے کر ہلاک کرسکتی تھی۔ ےہ منصوبہ بندی پاکستان کے اس شعبہ سے منسلک خواتےن کررہی تھےں جن کی معصومانہ اداو ¿ں پر لوگ فدا ہوتے ہےں۔ شبنم کی محبت اور دوستی مےں ثنا نے اس کام کی حامی بھرلی لےکن آخری لمحات مےں گھبرا گئی۔ وہ اےک عام سی ماڈل تھی اس کے لئے کسی کو قتل کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ شبنم کی تمام تر بلےک مےلنگ کے باوجود اس نے کسی کی جان لےنے سے انکار کردےا۔ ثنا کا ےہ ردعمل شبنم کو انتقام کی آخری حد تک پہنچانے کے لئے کافی تھا۔ اس منصوبے مےں اس کے ساتھ تےن اور دوست بھی شامل تھے۔ شبنم کے شوہر کے تو فرشتوں کو بھی اس کہانی کا علم نہ تھا لےکن ثنا قتل کے منصوبے سے الگ ہوکر سب کے لئے خطرہ بن چکی تھی۔ شبنم نے ثنا کو اپنے گھربلاےا اور پھر دوستوں کے ہمراہ مل کر قتل کردےا۔

                                اپنی دوست کو قتل کرنے کے بعد انہوں نے اس کی لاش کو ایک بڑے سفری بےگ مےں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ٹانگوں کے ساتھ لگاےا اور بےگ بند کردےا۔اس طرح دبلی پتلی ثنا کی لاش اےک سفری بےگ مےں پوری آگئی۔ شبنم نے ےہ بےگ لےا اور بس اڈے پہنچ گئی۔ وہ ےہاں کوئٹہ جانے والی ایک بس کے سامان کے پاس بےگ رکھ کر واپس آگئی ۔ان کا خےال تھا کہ ےہ بےگ بس کے ذرےعے کوئٹہ پہنچ جائے گا اور ےہ قتل اےک اندھا قتل بن جائے گا۔ شبنم کی بدقسمتی کہ ملکی حالات کے پےش نظربس انتظامےہ نے دوبارہ سامان کی جانچ پڑتال کی تو ےہ بےگ لاوارث نکلا۔ وہاں اس کا کوئی دعوےدار نہ تھا۔ انتظامےہ نے پولےس کو فون کردےا جس کے بعد بےگ سے لاش برآمد ہوگئی۔ ےہاں سے کہانی کا اےک اور موڑشروع ہوا۔

                                 پولےس نے رواےتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثنا کی لاش کو لاوارث قرار دےتے ہوئے دفنا دےا۔ دوسری جانب ثنا کے بھائی نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروادی۔ اسی دوران رےکارڈ دےکھتے ہوئے اسے اےک تصوےر پر شک ہوا۔ وہ متعلقہ تھانے پہنچا تو اصل تصوےر دےکھ کر اس نے اپنی بہن کو پہچان لےا۔اس کے ساتھ ہی گمشدگی کا یہ کےس قتل کے کےس مےں بدل گیا ۔ بس اڈے مےں بےگ سے برآمد ہونے والی لاوارث لاش کے کےس کی کڑےاں ملنے لگےں۔ شبنم اور اس کے دوست گرفتار ہوئے تو ساری کہانی کھل کر سامنے آگئی ۔جےل مےں مےری ملاقات شبنم سے ہوئی تو مےں نے اس سے کہا: تم نے تو اپنے شوہر سے انتقام لےنا تھا پھرثنا کو قتل کےوں کےا؟ وہ چند لمحے خاموش رہی اور پھر کہنے لگی مےں نے اپنے شوہر کو قتل کروانا تھا لےکن ثنا کے انکار سے مجھے لگا کہ وہ بھی اس پر مرمٹی ہے۔دوسری طرف مےرے گروپ کو بھی ڈر تھا کہ کہےں وہ ہمارا راز فاش نہ کردے مےں نے اگلاسوال کرتے ہوئے کہا: اب تمہارا شوہرکس حال مےں ہے ۔ شبنم کچھ دےر ہونٹ چباتی رہی پھرشکست خوردہ لہجے مےں بولی۔ وہ گزشتہ دنوں مےری اےک ساتھی ماڈل سے شادی کرچکا ہے۔ مےں اس سے محبت کرتی تھی لےکن اس کے شک نے ہمارا رشتہ ختم کردےا۔ شبنم قتل کرنے پر اتنی شرمندہ نہےں تھی جتنا کہ ناقص منصوبہ بندی پر شرمندگی محسوس کررہی تھی۔ تفتےش آگے بڑھی تو معلوم ہوا وہ اس سے قبل اےک کےمرہ مےن کو بھی قتل کرچکی تھی۔ وہ اےک خوبصورت ناگن تھی جوکسی کو بھی ڈس سکتی تھی۔ ایک پیشی کے دوران اس نے کچہری مےں کھڑے کھڑے کہا تھا: تمہارا قانون مجھے زےادہ دےر گرفتار نہےں رکھ سکتا۔ بس معاملہ تھوڑا پرانا ہوجائے تم دےکھنا مےں جلد رہا ہوجاو ¿ں گی۔ مےرے دوستوں کی پہنچ کا تمہےں اندازہ ہی نہےں۔سچ کہوں تومجھے اس کی بات کا یقین تھا ۔

                ہمارے نظام مےں موجود سقم سے میں بھی واقف ہوں اور اس کے بااثر دوستوں سے بھی آگاہ تھا۔ اس کے باوجود وہ رہا نہ ہوسکی ۔ اس کے وفادار دوست اسی کی اےک سہےلی ماڈل کی زلفوں کے اسےرہوگئے ۔شاےد انہےں بھی احساس ہوچکا تھا کہ شبنم نے جس کےمرہ مےن کو قتل کےا تھا وہ اس کاسب سے قرےبی دوست بھی تھا اور جس ثنا کو اس نے مارا وہ اسی کی تیار کردہ ماڈل تھی ۔ امےرزادوں نے شبنم کی دوستی مےں الجھنے کی بجائے چند ہی دن مےں اس کی سب سے قرےبی رازدان کو اس کی جگہ دے دی۔ شاےد ےہی شوبزکی وہ اندرونی دنےا ہے جس کی ظاہری چکاچوند نوجوانوں کو اپنا اسےرکئے ہوئے ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے