سر ورق / جہان اردو ادب / منیر احمد فردوس …. محمد مظہر پنوار

منیر احمد فردوس …. محمد مظہر پنوار

جہان اردو ادب ۔۔
مہمان ۔۔ منیر احمد فردوس ( ڈیرہ اسماعیل خان”  پاکستان)
میزبان: محمد مظہر پنوار
*1..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔*
میرا اصلی نام منیر احمد ہے اور قلمی نام منیر احمد فردوس ہے.
*2..تعلیمی اور خاندانی پس منظر ۔۔*
تعلیم میں نے گریجویشن تک حاصل کی اور خاندانی پس منظر یہ ہے کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تھا تو گھر میں کبھی لکھنے پڑھنے کا ماحول میسر نہیں تھا. کیونکہ اماں بابا ان پڑھ تھے. بابا چوبی (لکڑی) کا کام کرتے تھے البتہ اماں بڑی آرٹسںٹک ذھن کی عورت تھیں اور میں نے انہیں شروع ہی سے گھر میں آرٹ کا کام کرتے دیکھا تھا. وہ ہینڈی کرافٹ کے ڈیکوریشن پیسز پر لوہے کے چھوٹے چھوٹے آلات (رَچھی) سے انتہائی جاذبِ نظر رنگدار بیل بوٹ بنایا کرتی تھیں. جن میں چارپائی کے پائے، کرسیاں، سنگھار میز، آئینے، لیمپ، مُوڑھے، پلیٹیں, گلدان اور لکڑی کے بنے ہوئے دیگر بہت سے شو پیسز شامل تھے. اس کام کو ہماری علاقائی زبان میں چترائی کہا جاتا تھا. اس کے علاوہ وہ چمڑے کے بنے ہوئے کُھسوں پر بھی تِلے (سنہری دھاگہ) سے کاڑھنے کا بہت ہی خوبصورت کام کیا کرتی تھیں. یہ تو بعد میں شعور نے میرے کانوں میں سرگوشی کر کے مجھے بتایا تھا کہ شدید غربت سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے اماں ایک مزدور بن کر بابا کا ہاتھ بٹایا کرتی تھیں.
*3.. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے۔*
بچپن میں جب میں اماں کو چترائی کا کام کرتے ہوئے دیکھتا تو میں ان کے پاس بیٹھ کر بڑی دلچسپی اور حیرت سے ان کے ہاتھوں کو تیزی کے ساتھ گھومتے ہوئے دیکھا کرتا تھا، شاید یہی وہ لمحہ تھا جب فنونِ لطیفہ نے میرے اندر تخلیقیت کا پودا لگا کر میرے ہاتھوں میں بچوں کے رسائل تھما دیئے تھے جو میں محلے کی واحد لائبریری سے کرائے پر لے آتا اور دن رات ان ہی میں گھسا رہتا تھا مگر گھر کا ماحول اتنا سخت تھا کہ میرے ان پڑھ غریب والدین یہ سمجھتے تھے کہ میں اپنا وقت ضائع کر رہا ہوں اور ان رسالوں سے میری تعلیم کا بہت حرج ہو رہا ہے اس لئے اکثر وہ بچوں کے رسالے پھاڑ دیا کرتے تھے اور میں ہفتوں لائبریری والے سے منہ چھپائے پھرتا تھا کہ رسالے کے پورے پیسے واجب الادا ہوتے اور میری جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ ہوتی تھی. اس لئے رسالوں کو چھپا کے رکھنا بھی میرے لئے کسی امتحان سے کم نہ تھا مگر اتنی سختی کے باوجود کہانیاں پڑھنے کا میرا شوق دم نہ توڑ سکا اور میں راتوں کو چھپ چھپ کر دیئے کی روشنی میں بچوں کے رسالے پڑھا کرتا تھا. دیئے کی روشنی میں اس لئے کہ ہمارے گھر کے دو حصے تھے، نیچے میری بڑی خالہ رہتی تھیں اور اوپری منزل پر ہم سب بہن بھائی. ناچاقی کے باعث میری خالہ ہماری بجلی کی ترسیل روک لیتی تھیں اور مجبوراً ہم سب بہن بھائی رات بھر گرمی اور اندھیرے میں رہتے تھے. اس تنگ نظری کے ماحول میں بچوں کی کہانیاں ہمیشہ مجھے اپنی طرف کھینچتی تھیں کہ اس دنیا میں مجھے ایک کشش سی محسوس ہوتی اور میں اس میں میٹھی سی سرور انگیز پناہ محسوس کرتا تھا. اسی طرح پڑھتے پڑھتے پتہ ہی نہ چلا کہ ان کہانیوں نے کب میرے ہاتھوں میں قلم تھما دیا اور میں نے لکھنا شروع کر دیا. لکھتے لکھتے معلوم ہوا کہ میرے اندر بھی ایک تخلیق کار جنم لے چکا ہے.
*4۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی۔*
مزے کی بات یہ ہے کہ میری شائع ہونے والی سب سے پہلی تحریر کہانی نہیں بلکہ ایک نظم تھی جو غالباً ساتویں جماعت میں "پیارا طوطا” کے نام سے لکھی تھی جو لاہور سے شائع ہونے والے اس وقت کے رسالے "بچوں کا مون” میں شائع ہوئی تھی جبکہ پہلی کہانی بعنوان شعاعی پین بھی اسی ہی رسالے میں چھپی تھی.
*5۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلے داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق.*
ہمارے سماج کا نفسیاتی چال چلن اپنی جگہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے. ملائیت کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہمارے اس کج فہم معاشرے کی بد نصیبی ہے کہ یہاں سوال کرنا ممنوع قرار دیا جا چکا ہے، سوچنے پر پابندی عائد ہے جبکہ علمی اور فکری سطح پر مکالمہ نہیں کیا جا سکتا. چلن کے جو راستے طے کر دیئے گئے، زندگی گزارنے کا جو سانچہ ڈھال دیا گیا ہے وہی حرفِ آخر ہے اور اس پر سوالات کھڑا کرنے والوں کو عجیب عجیب القابات سے نواز کر سماجی دائروں سے باھر پھینک دیا جاتا ہے. اس لئے ہم پسماندگی کی گہری کھائیوں میں گر کر دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں. یقیناً کتاب اور تخلیق سے ٹھٹھہ کرنے کا انجام ہم سب بھگت رہے ہیں. تحریروں کے ذریعے سے جب بھی کوئی نئی بات کی جاتی ہے، نیا نقطہ پیش کیا جاتا ہے تو عام لوگ اسے قبول نہیں کر پاتے بلکہ الٹا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ملائیت نے ان کے اندر لچک پیدا ہی نہیں ہونے دی کہ صرف سامنے ہی دیکھنا ہے، دائیں بائیں دیکھا تو پتھر کے بن جاؤ گے. جہاں تک میرے لکھنے پڑھنے کے حوالے سے رکاوٹوں کی بات ہے تو مجھے بچپن سے ہی بہت ساری مشکلات کا سامنا رہا ہے جن کا تذکرہ میں اوپر کر چکا ہوں. یہاں ایک اور واقعے کا ذکر بھی کرتا چلوں کہ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میری کہانیاں بچوں کے مختلف رسالوں میں باقاعدگی سے شائع ہوا کرتی تھیں اور میرے ہم جماعت باری باری رسالہ اپنے گھر لے جاتے، میری کہانی پڑھ کر دوسرے دن واپس لے آتے تھے. ایک دن ہمارے اسلامیات کے استاد صاحب نے میرے ایک ہم جماعت کو اپنے بیگ سے رسالہ نکالتے ہوئے دیکھ لیا اور لڑکے کے ہاتھ سے چھین کر اسے کھڑا کر دیا. جب انہیں پتہ چلا کہ وہ رسالہ میرا ہے اور اس میں میری کہانی چھپی ہے تو انہوں نے مجھے کھڑا کر کے سب کے سامنے میری جو درگت بنائی اسے میں آج تک نہیں بھلا پایا. انہوں نے بھری کلاس میں مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تمہیں شرم نہیں آتی جھوٹ بکواس لکھتے ہوئے…؟؟؟ اور پھر انہوں نے وہ رسالہ پھاڑ کے پھینک دیا. اس طرح کے رویوں نے میرا کبھی پیچھا نہیں چھوڑا. جب میں نے باقاعدہ افسانے اور نظمیں لکھنا شروع کیں تو اکثر میرے دوست مجھ سے پوچھتے تھے کہ یار…یہ سب تم کیوں لکھتے ہو؟ کیا فائدہ ہے اس کا…؟؟؟ تبھی میں نے ایک نظم "ہم کیوں لکھتے ہیں” کے عنوان سے لکھی جو میری نظموں کی کتاب "زندگی چہرہ مانگتی ہے” میں بطورِ دیباچہ شامل ہے. بلکہ کتاب چھپنے کے بعد بھی مجھے ایسے ہی رویوں کا پھر بھی سامنا کرنا پڑا. جب میری نظموں کی کتاب کی رونمائی ہوئی تو ہمارے شہر کے ایک سینئر شاعر نے اپنے مقالے میں یہاں تک کہہ دیا کہ منیر فردوس نے شروع میں افسانے لکھے مگر جب بات نہ بنی تو اس نے نثری نظمیں لکھنا شروع کر دیں. حالانکہ یہ بات سراسر غیر منطقی تھی اور ویسے بھی رونمائی میں مقالے کا یہ مزاج نہیں ہوتا مگر میں نے ایسے رویوں کی کبھی پرواہ نہیں کی اور ہمیشہ اپنے کام پر توجہ دی. اقبال نے کہا ہے کہ
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
*6۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا.*
اس ضمن میں کچھ کہنا اس لئے بھی مشکل ہو جائے گا کہ شروع میں چند افسانے لکھنے کے بعد ایک لمبا وقفہ آ گیا کہ نثری نظم نے مجھے اپنا لیا تھا. کیونکہ 2005میں دھشت گردی کے باعث ہمارے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے حالات بہت زیادہ خراب ہو گئے تھے. گلی کوچوں میں ویرانی اور لاشیں بکھری تھیں تو اس درد کے فوری اظہار کے لئے نثری نظم نے میرے اندر کو آنکھیں عطا کیں اور افسانہ مؤخر کر کے میں نے نظمیں لکھنا شروع کر دی تھیں. مخدوش حالات کی وجہ سے ایک تواتر کے ساتھ نظمیں میرے دل کے ویران آنگن میں اگتی گئیں اور پتہ ہی نہ چلا کہ 2011 میں میری نثری نظموں کی کتاب "زندگی چہرہ مانگتی ہے” منظرِ عام پر آ گئی جسے سنجیدہ ادبی حلقے میں بہت پسند کیا گیا. اس لئے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری پہلی پہچان میری نظموں کی کتاب ہی بنی مگر ادبی دوست احباب مجھے افسانہ نگار کے طور پر جانتے تھے اور شاید یہی میری اصل شناخت بھی تھی. اس لئے میں نے 2015 میں دھڑا دھڑ افسانے لکھ کر اپنے افسانوں کی پہلی کتاب "سناٹوں کا شہر” کے نام سے چھپوائی اور الحمد للہ ادبی حلقوں سے خوب پذیرائی ملی اور یہی کتاب میری بطورِ افسانہ نگار پہچان اور شناخت بنی.
*7..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو۔*
بطورِ افسانہ نگار شروع میں مجھے جس شفیق ہستی کا ساتھ میسر آیا وہ ہیں محترم حامد سراج، جن کی اولین کتاب "وقت کی فصیل” نے اُس وقت میرا ہاتھ تھاما جب میں افسانہ لکھنے کے لئے پر تول رہا تھا. ان ہی دنوں میں میرے شروع کے آٹھ دس کمرشل افسانوں پر تنقیدی محفلوں میں قینچیاں چل چکی تھیں. مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ افسانہ کیسے لکھتے ہیں. ایسے وقت میں "وقت کی فصیل” نے ہی میری انگلی پکڑ کر مجھے افسانے کا صحیح راستہ سجھایا. کتابیں چھپنے کے بعد جن احباب سے شناسائی ہوئی ان میں محترم حمید شاھد جیسے پیارے انسان کی محبت شامل ہے کہ ان کی شفقت حبس میں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی. ان کے علاوہ موجودہ عہد کے نامور افسانہ نگار محترم محمد الیاس کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلم احمد بشیر، محترم نصیر احمد ناصر، محترمہ فرحت پروین، محترم گلِ نوخیز اختر، محترمہ روما رضوی، محترم نعیم بیگ، محترمہ شاھین کاظمی، محترمہ شبہ طراز اور محترم ریاض مجید جیسے بڑے ناموں سے شناسائی ہوئی.
*8۔۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے۔*
ہر دور میں ہر معاشرے کے لئے ادب کی کافی گنجائش رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی. اس بات کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ادب کیا ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ادب معاشرے کے لئے کیوں ضروری ہے؟ میرے نزدیک سماج میں پائی جانے والی بے ترتیبیوں، ناہمواریوں اور بے قاعدگیوں کی نشاندھی کرنا ادب ہے. اور یہ تو طے ہے کہ معاشرے میں بے شمار بے قاعدگیاں ھر دور میں پائی جاتی رہی ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گی کہ لین دین اور معاملات میں بہت سارے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں. جیسا کہ قدرت کا دستور ہے کہ ہر سو سال بعد دنیا کے حالات، معیارات اور تقاضے بدل جاتے ہیں تو اسی مناسبت سے دنیا کے سبھی معاشرے ہمیشہ توڑ پھوڑ کا شکار رہتے ہیں اور ان میں مختلف نوعیت کے مسائل خودرو پودوں کی طرح سے جنم لیتے رہتے ہیں جنہیں ادیب ایک خاص انداز میں لوگوں کے سامنے لاتا ہے کہ اسے قدرت نے قلم دیا ہی اسی لئے ہے کہ وہ لکھ کر معاشرے پر کمنٹ کر سکے. ادیب کا لکھنا میری نظر میں معاشرے پر کمنٹ کرنا ہے. اس لئے معاشروں میں ادب کی گنجائش ہمیشہ سے موجود رہی ہے. اس سوال کے دوسرے حصے کا جواب کہ آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟ اس ضمن میں میرا یہ کہنا ہے کہ آج کا قاری ادیب سے اپنی ذھنی، فکری، نفسیاتی اور باطنی تسکین چاہتا ہے. وہ ایک ادیب کی کہانیوں میں اپنے آپ کو پڑھنا چاہتا ہے اس کے کرداروں میں اپنا عکس دیکھنا چاہتا ہے. وہ چاہتا ہے کہ ایک ادیب اپنی کہانیوں میں اس کی بات کرے، اس کے مسائل پر بات کرے، اس کے ساتھ ہونے والے استحصال کو موضوع بنائے. مگر جب اسے ادب میں ایسا کچھ نہیں ملتا تو اس کی تسکین نہیں ہو پاتی اور وہ مایوسی اوڑھ کر کتاب سے کچھ اور دور ہو جاتا ہے. اس لئے آج کے ادیب پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی کہانیوں میں اپنے سامنے کا منظر نقش کرے، اپنی زمین سے، اپنے لوگوں سے جڑا ہوا ادب تخلیق کرے تاکہ اس کی کہانیاں کسی اور دنیا کی کہانیاں محسوس نہ ہوں.
*9۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان.*
دیکھئے ادبی تحریکیں یونہی بیٹھے بٹھائے بند کمروں میں ایک دم سے شروع نہیں ہو جاتیں بلکہ مخصوص حالات و واقعات کے پس منظر میں جنم لیتی ہیں جو اپنے خاص مقاصد کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں جن کی تکمیل تک تحریکیں چلتی رہتی ہیں جبکہ ان مخصوص حالات میں لکھا جانے والا ادب بھی انہی تحریکوں کے زیرِ اثر رہتا ہے کہ وہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہوتا ہے جیسا کہ تحریکِ پاکستان اور بٹوارے کے فسادات کا ادب اٹھا کر دیکھ لیجئے جس نے اپنا کام کر دکھایا اور تحریک بھی ختم ہو گئی. مگر ترقی پسند تحریک اردو ادب کی سب سے بڑی تحریک مانی جاتی ہے جس نے اردو ادب کو درباروں میں لکھے جانے والے قصیدوں اور داستانوں سے نکال کر ملک کے گلی کوچوں میں پھیلا دیا. جس نے سب اچھا کی رپورٹ مرتب کرنے کی بجائے ادب میں عام طبقے کو نمائندگی دے کر حقیقت نگاری کی بنیاد ڈالی. پسے ہوئے طبقے کی بات کر کے اس کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی. عام آدمی کو احساس ہوا کہ اس کی طرف کسی نے توجہ دی ہے، کوئی اس کی بات کرنے والا آ گیا ہے. عام طبقات کے حوالے سے ترقی پسند تحریک اردو ادب میں بہت سودمند ثابت ہوئی، اس لئے اسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اس کی بدولت ادب میں عام آدمی جگہ پا کر امر ہو گیا.
*10۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔*
میرا خیال یہ ہے کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا تخلیقی نقطہِ نظر سے ایک تخلیق کار کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بلکہ اس کا کام صرف تخلیق کرنا ہے. جدیدیت اور مابعد جدیدیت تو تنقید کی وہ دکانیں ہیں جہاں کچھ لوگ مختلف تنقیدی تھیوریاں سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں. ادیب کے لئے سب سے اہم بات ہے اس کی اپنی تخلیقی کائنات کے ساتھ جڑت کہ جس میں رہ کر وہ لکھتے ہوئے اپنے تخلیقی منصب کو جلا بخشتا رہتا ہے بغیر کسی تنقیدی تھیوری کے اطلاق کے. یہ تو ناقد حضرات ہیں جو ہر تخلیق پر تنقیدی تھیوری کے مختلف ٹیگ لگا کر ادبی مارکیٹ میں نئی جنس لانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں تاکہ اپنی موجودگی ظاھر کر کے خود کو منوا سکیں. ان کی موجودگی اس صورت میں ہی ظاھر ہو سکتی ہے جب وہ پہلے سے چمکتے ہوئے سیاروں میں اتر کر چند کرنوں پر ہاتھ صاف کر سکیں تاکہ ان کی دکان بھی چمک اٹھے. ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ایک ادیب کے لئے یہ شرم کی بات ہو گی کہ اس کے پڑوس میں معصوم بچے بھوک پیاس سے تڑپ رہے ہوں، ماں باپ غربت سے مجبور ہو کر انہیں بیچنے یا جان سے مارنے کی تیاری کر رہے ہوں اور ایک ادیب اپنے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر قلم ہاتھ میں لئے جدیدیت کے نقشے بنانے میں لگا ہو. تخلیق کار کی ذمہ داری ہے لکھنا جدیدیت اور مابعد جدیدیت سے ماورا ہو کر.
*11۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ  ادب کا قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔*
میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ عام آدمی آج کے ادب میں خود کو پڑھنا چاہتا ہے. اپنی تسکین چاہتا ہے اس لئے ادب کا اپنی مٹی سے جڑا ہوا ہونا چاہئے. عام آدمی کو یقین ہونا چاہئے کہ ادیب کا قلم صرف میرے لئے ہی اٹھتا ہے اس کا دماغ صرف مجھے ہی سوچتا ہے. تبھی عام آدمی اور ادیب کے درمیان تعلق جڑا رہے گا.
*12۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔*
میرے خیال سے ایسا نہیں ہے. اردو ادب نے ہر دور میں اچھا ادب تخلیق کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوذ جاری ہے. سوال یہ ہے کہ آج کے ادب کو کتنا دریافت کیا گیا ہے…؟؟ کیا نقادوں کا کام 90 کی دھائی سے آگے بڑھ پایا ہے…؟؟؟ جب آج کے تخلیق کاروں پر توجہ ہی نہیں دی گئی تو ان کا کام کیسے سامنے آئے…؟؟؟ نہ ان کے کام کی پذیرائی ہوئی اور نہ تراجم ہوئے کہ عالمی سطح پر ان کا کام سامنے آ سکے. بلکہ ادب میں جڑ پکڑتی بے اعتنائی سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے کہ آج کے ادیب کو اپنا نقاد بھی خود ہی لے کر آنا پڑے گا.
*13۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے۔*
ماضی کے افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو، غلام عباس اور احمد ندیم قاسمی جبکہ موجودہ دور میں مظہرالاسلام، محمد الیاس، محمد حامد سراج اور بطور ناول نگار نیلم احمد بشیر قابلِ ذکر ہیں کیونکہ ان کا ادب اپنے تہذبیبی اور سماجی منظر نامے سے جڑا ہوا ہے جو عام آدمی کو بہت اپیل کرتا ہے. البتہ مظہرالاسلام مجھے علامت اور تخلیقی نثر کی وجہ سے بہت متاثر کرتے ہیں.
*14۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے۔*
میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ افسانہ نگار موضوع کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتا ہے. اگر زندگی کھربوں سال پرانی ہے تو پھر نئے موضوعات کہاں سے اگ آئیں…؟؟؟ کیا افسانہ نگار اس دنیا کو چھوڑ کر کسی اور دنیا کی بات کرے.. ؟؟؟ کیا اس دور میں عام آدمی کے مسائل ختم ہو گئے ہیں…؟؟؟ کیا آج غربت نہیں رہی…؟؟؟ کیا خود کشی کرنے کی روایت دم توڑ گئی…؟؟؟ کیا آج معاشرے میں طلاقیں نہیں ہو رہیں..؟؟؟ کیا اس دور میں بھی عام لوگوں کا استحصال نہیں ہو رہا…؟؟؟ یقیناً آج بھی یہ سب کچھ ہو رہا ہے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ہو رہا ہے مگر انداز بدل گئے ہیں. بیروزگاری اور غربت نے جرائم کی شرح بڑھا دی ہے یہاں تک کہ معاملہ دھشت گردی تک جا پہنچا ہے، غربت اتنی بڑھ گئی ہے کہ غریب والدین اپنے بچوں کو بیچنے پر آمادہ نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے جسمانی اعضاء فروخت پر مجبور ہو گئے ہیں. کیا غربت کے یہ شاخسانے نئے نہیں ہیں…؟؟؟ یہ موضوعات نئے نہیں ہیں…؟؟؟ مسائل وہی ہیں مگر انداز بدل گئے ہیں. تو ان سب معاملات کو لکھنا ایک ادیب کی ہی ذمہ داری بنتی ہے. البتہ یہ بات سوچنے کی ہے کہ وہ ان موضوعات کو کس طرح انداز میں نبھاتا ہے کہ ان میں ایک نیا پن پیدا ہو جائے. یعنی وہ کس طرح کا لہجہ اپناتا ہے کہ پرانی بات بھی نئی نئی سی لگے. میرے خیال میں ایک تخلیق کار کا تخلیقی رویہ اور تجزیہ ہی ہی کسی پرانے موضوع کو نکھار عطا کرنے میں اھم کردار ادا کرتا ہے.
*15۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔*
میری نظر میں تنقید کا مطلب ھے کسی تخلیق میں سے کھرا کھوٹا الگ الگ کر کے اس میں سے نئے امکانات ڈھونڈنا یا ان کی نشاندھی کرنا. تنقید کے حوالے سے محترم محمد حمید شاھد مجھے اپنے دل کے بہت زیادہ قریب محسوس ہوتے ہیں کہ وہ کسی کے فن پر پہلے سے گھڑی گھڑائی تنقیدی تھیوریاں لاگو نہیں کرتے بلکہ تخلیقات کے بطن میں اتر کر جو کچھ ان کے ہاتھ لگتا ہے وہ سامنے لے آتے ہیں.
*16۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔*
آپ کے لئے یہ بات یقیناً حیرت کا باعث ہو گی کہ مجھے مغربی ادب نے کبھی بھی متاثر نہیں کیا. عجیب بات ہے کہ مغربی ادب پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ ایک اجنبیت سی محسوس ہوئی اور اس کی فضا نامانوس لگی. میں نے دوستو فسکی، چیخوف، ٹالسٹائی، موپساں، میکسم گورکی، اوھنری وغیرہ کو پڑھ رکھا ہے. تاھم مجھے موپساں اور چیخوف نے کسی حد تک ضرور متاثر کیا ہے.
*17۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں۔*
میں سمجھتا ہوں کہ افسانہ ہی کہانی کی اصل اور حقیقی روایت رہی ہے اور رہے گی کہ اس میں کہانی اپنی اصل شباہت کے ساتھ زندہ ہے، جس میں بہت کچھ کہنے کی سہولت موجود ہے. تاھم میرے نزدیک افسانچے کی بھی کافی گنجائش موجود ہے اور وہ اس لئے کہ افسانچہ اظہار کا فوری اور سب سے بڑا وسیلہ ہے. جسے فوری پڑھ بھی لیا جاتا ہے اور اس کے نتائج بھی اسی وقت سامنے آ جاتے ہیں.
*18۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔*
میں اپنی زندگی میں اپنے ملک و قوم کو بہت آگے دیکھنے کا خواہشمند ہوں.
*19۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔*
محبت کے بغیر زندگی کا تصور ایسے ہی ہے جیسے بغیر پانی کے زندہ رہنا. محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر دل میں پیدا ہوتا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ نرم دل اسے سینچنا شروع کر دیتا ہے اور بنجر دل اسے اکھاڑ کے پھینک دیتا ہے. میرا خیال ہے کہ زندگی میں ہمیشہ چھوٹی چھوٹی محبتیں ہوتی رہتی ہیں اور شاید ان کی گنجائش بھی رہتی ہے جیسے ہمیں تروتازہ رہنے کے لئے ہر وقت بارشوں کی ضرورت ہوتی ہے اور جب بارش نہ ہو تو کتنی گھٹن سی ہو جاتی ہے. مگر زندگی میں ایک بڑی محبت ضرور ہونی چاھئے.
*20۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔*
زندگی تو واقعات سے بھری پڑی ہے مگر ایک واقعہ ایسا ہے جس کا میں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں. بیس سال پہلے میں ایک پرائیویٹ کالج میں پڑھایا کرتا تھا. مختلف کلاسز میرے ذمہ تھیں اور طالب علم مجھے اپنے بہت قریب محسوس کرتے تھے اس لئے وہ مجھ سے ہر بات بلاجھجھک شیئر کر لیا کرتے تھے.
ایک روز آٹھویں کلاس کا ایک طالب علم جس کا نام علی تھا، مجھ سے کہنے لگا سر…! یاسر نے مجھے شیعہ کافر کہا ہے.
میں یہ سن کر ششدر رہ گیا کہ یہ غلاظت سکول کالجوں میں کیسے پہنچ گئی.؟
میں نے بڑے پیار سے دونوں لڑکوں کو بلایا اور یاسر سے بڑی ملائمت اور اپنائیت سے کہا کہ بیٹے یہ بتاؤ کہ مسلمان کی کیا تعریف ہے؟ مگر وہ چپ رہا.
میں نے کہا اچھا تم مجھے کلمہ سناؤ. اس نے سنا دیا. میں نے کہا اب ایمانِ مفصل ترجمہ کے ساتھ سناؤ. اس نے سنا دی.
پھر میں نے علی سے کہا کہ اب تم کلمہ سناؤ. اس نے بھی سنا دیا. میں نے کہا ایمانِ مفصل بھی ترجمہ کے ساتھ سناؤ. اس نے سنا دی.
پھر میں نے یاسر سے کہا کہ بیٹے…! جن باتوں پر تم ایمان لا رھے ہو اس پر تو علی بھی ایمان لا رہا ہے. تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم میں سے مسلمان کون ہے اور کافر کون…؟؟؟
اس بات پر یاسر بہت شرمندہ ہوا اور اس نے ساری کلاس کے سامنے علی سے معافی مانگ کر اسے گلے لگا لیا.
*21۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔*
کچھ خاص نہیں…میں خود کو ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح سے سمجھتا ہوں. جہاں سے بھی پڑھ لیا جاؤں پوری طرح سے سمجھ میں آ جاتا ہوں.
*22۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔*
تمام قارئین اور ادیبوں سے یہ درخواست ہے کہ کتاب کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں اور اپنے بچوں کو کتاب سے محبت کرنا سکھائیں. بلکہ ہر یکم کو گھر والوں اور بچوں کی چیزیں خریدنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بچوں کے رسالے بھی لایا کریں تاکہ اس ملک کو وہ نسل نصیب ہو جو کتاب پڑھ کر بڑی ہوئی ہو اور ان کے ذھن کی زمینوں پر خرافات کی جھاڑیاں نہ اگ سکیں.
*23۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔*
آپ کی سچی اور کھری ادب پروری سے میں بہت متاثر ہوں. آپ نے ہمیشہ قلم کی حرمت کا خیال رکھا ہے. آپ نے اردو لکھاری ڈاٹ کام پر ادیبوں سے انٹرویو کا یہ بہت عمدہ سلسلہ شروع کیا ہے. یقیناً آپ اور اردو لکھاری ڈاٹ کام مل کر ادب کی ترویج میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں.

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے