سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔ رضاالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔ رضاالحق صدیقی

بروک سائیڈ بوٹینیکل پارک

قدرت کے مناظر مجھے بہت متاثر کرتے ہیں،میری لینڈ،ورجینیا اور واشنگٹن قدرتی سرسبزخوبصورتی سے مالا مال ہیں۔یہ علاقے سیاہ فاموں کے ہیں یہاں سیاہ فام خاص طور پر میکسیکنز بڑی تعداد میں آباد ہیں۔امریکہ میں ورجینا نام کی دوریاستیں ہیںایک ساﺅتھ اور دوسری نارتھ۔ایک میں غالب اکثریت سیاہ فاموں کی ہے اور دوسرے میںگورے۔میری لینڈ میں سیاہ فام زیادہ نظر آتے ہیںیہاں مساجد تو نہیں ہیں لیکن کیمونٹی سنٹر کے ایک ہال میں جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں نماز کے لئے آنے والوں کی زیادہ تعداد سیاہ فام باشندوں کی ہوتی ہے۔

میں جب سے آیا ہوں،جہاں بھی گیا، اکیلا نہیں تھا ،میرے ساتھ ساتھ میری نصف بہتر چل رہی ہوتی تھیں،ہم دونوں کے درمیان میری جان عنایہ جان ہوتی تھی،ہمارے آگے دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا چل رہا ہوتا تھا

عدیل اور رابعہ ہمارے آگے آگے چل رہے تھے۔

کونسا باپ ایسا ہوگا جسے اپنا بیٹا اور بہو دنیا کا خوبصورت ترین جوڑا نہ لگتے ہوں۔ میرے والدبابا جی سرکار کے نزدیک میں اور لبینہ بھی حسین ترین مثالی جوڑا تھے۔

عدیل اور رابعہ ہمارے ساتھ بہت فرینک ہیں لیکن ہماری موجودگی میں یہاں کے جوڑوں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر نہیں چل رہے تھے حالانکہ ان کے درمیان جو رشتہ تھا وہ ان کی مسکراہٹوں اور ایک دوسرے کی قربت کے احساس سے پھولوں پر شبنم کے قطروں کی مانند ظاہر ہو رہا تھا۔

عدیل نیلی پولو ٹی شرٹ اور جین میں مجھے میری لینڈبھر میں سب سے وجیہہ لڑکا لگ رہا تھا اور رابعہ سرخ ،مرچ جیسی تیزی والے، کرتے اور سیاہ ٹائٹ میں سب سے پیاری لڑکی لگ رہی تھی۔

اس وقت ہم برو ک سائیڈ بوٹینیکل پارک جا رہے تھے،اس پارک میں درختوں کے خوبصورت پتوں کے ساتھ ساتھ پھولوں کی مسرور کن فضا انسان کو خود میں سمو لیتی ہے۔رنگ برنگے پھول جو برصغیر کی فضا میں نظر نہیں آتے لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہاں صرف ایسا ہی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے یہاں درختوں کے پتوں کے بھی کئی رنگ ہیں۔ستمبر کے بعد جب خزاں اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے تو یہاں درخت خوبصورتی کا نیا راگ الاپتے ہیں۔ موسمِ بہار کے بعد خزاں آنے سے پہلے دور دور تک خوبصورتی اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے۔

پارک کے درمیان پکڈنڈی پر چلتے چلتے عدیل پچھے مڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ منٹگمری کاونٹی میں موجود یہ پارک 50ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں،امریکہ میں یہ ایوارڈ یافتہ ہیں۔

یہ ایوارڈ ان پارکوں کو نہیں ملا ہو گا بلکہ یہ ایوارڈ شاید ان افراد کے لئے ہوگا جو ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے ہوں گے،عدیل کے بتانے پر میرے دل میں ایسا خیال آیا کیونکہ اس طرح کے پارک تو اس سب سے بڑے مصور کی تخلیق ہیں جس نے لینڈ سکیپ کے طور پر دنیا بنائی اس پر پہاڑ جمائے،درخت و پھول بوٹے اگائے،ان پارکوں کے یہ حسین مناظراس کی ثناءکر رہے ہیں،میں ان مناظر میں کھویا ہوا خود بھی ایک ایستادہ پوداہی لگ رہا تھا جس کا سایہ دوسرے درختوں کی مانند سورج کے مغرب کی جانب ڈھلنے کی بنا پر لمبا ہوتا جا رہا تھا اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا سایہ میرے بڑھتے سائے کو پکڑنے کی سعیِ لاحاصل میں سبزے کے قالینوں پر بھاگا پھر رہا تھا اور یہ عنایہ تھی میری ننھی پوتی۔

ہاں میں سب سے بڑے مصور کی اس تخلیق میں دور تک اندر جا چکا تھا۔یہ ایک سحر کا سفر تھا جو میرے اندر جاری تھا۔

ڈھلتے سائے، ہر سو خامشی، آج پرندے بھی نجانے کیوں خاموش تھے،ہلکے ہلکے بادلوں میں سے در کر آتی سورج کی روشنی میں اس پارک کے سرو قد پودے زمین کو آسمان سے ملا رہے تھے۔

،،ابو،ابو، عنایہ کو پکڑنا وہ جھیل کی طرف بھاگ رہی ہے،،دور سے آتی رابعہ کی آواز مجھے منظرنامے سے باہر لے آتی ہے اور میں بے ساختہ عنایہ کے پیچھے بھاگتا ہوں کیونکہ آگے ڈھلوان ہے اور بچے اس عمر میں بے خطر بھاگتے ہیں۔

جھیل کے پانیوں میں قطار اندر قطار کھڑے درختوں کا عکس عجیب منظر پیش کر رہا تھا،بروک سائیڈ پارک کے روشنی میں چمکتے سر سبز درخت، جھیل کے ساکت پانی میں دائرے بناتے چھوٹے چھوٹے کچھوے،اس ہٹ سے بہت خوش نما لگ رہے تھے جہاں اس وقت ہم موجود تھے،اس جیسے منظر نامے میں داخل ہونے والا ہرشخص خود بھی منظر بن جاتا ہے۔

مجھے ہر طرف خامشی لگ رہی تھی،نہ شہر میں سنائی دینے والا شور تھا اور نا کسی پتے کے ہلنے کی صدا تھی،ناشہر میں فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے ہمہ وقت ہارنوں کی کوئی آواز، یہاں کا منظر بالکل ایک ساکت تصویر کی مانند تھا۔یہ پارک اتنا بڑا تھا کہ ہمارے ساتھ پارک میں داخل ہونے والے افراد نجانے پیچھے کس سمت مڑ گئے تھے۔

اچانک سامنے ایک خوبصورت ہٹ نظر آیا جہاں ایک چینی یا شاید جاپانی جوڑا اپنی محبت کو امر کرنے میں مصروف تھا اور ایک تیسرا فرد ان کے اس محبت نامے کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا،میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن بچہ لوگ اس منظرنامے سے پہلو تہی کرتے ہوئے ایک دوسرے راستے کی جانب مڑ کر آگے جا چکے تھے،میں اپنے پیر میں موجود ویری کوز وینز (varicose veins)میںکھنچاﺅ کی بنا پر پیچھے رہ گیا تھا،میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس جوڑے پر ڈالی اور اسی راہ پر چل دیا جس پر میرے بچے گئے تھے۔

جھیل کا پانی ایک تنگ سے راستے سے ہو کر دوسری جانب جا رہا تھا اس رستے میں انتظامیہ نے زگ زیگ کی شکل میں پتھر رکھے ہوئے تھے جن پر پیر رکھ کر دوسری جانب اسی پکڈنڈی کا تسلسل تھا جس سے گذر کر ہمیں آگے جانا تھا،اس منظر کو دیکھ کر مجھے مصطفی زیدی کا شعر یاد آ گیا۔

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آﺅ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

بعض اوقات ایسی باتیں ذہن میں در آتی ہیں جو پوری طرح منظر میں فٹ نہیںآتیں لیکن کوئی ایک چیز انسانی ذہن کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔

جھیل کے اس تنگ سے راستے کے دونوں جانب میموریل پتھر ایستادہ تھے یا یوں کہہ لیجئے کہ کتبے آویزاں تھے، بچہ لوگ وہیں موجود تھے اس سے پہلے ایک وسیع و عریض سا ڈھلوانی لان تھا جہاں عنایہ ڈھلوان پر نیچے کو بھاگی چلی جا رہی تھی اور عدیل اس کے تعاقب میں تھا۔

خاموشی کے سحر میں ڈوبی اس شام میں، میں نے ان میموریل پتھروں پر نظر ڈالی،یہ پتھر بولنے لگے کہ سن2002میں دو جنونی افراد کی تخریب کاری نے تیرہ معصوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان میں سے 10مردوزن کو سنائپرز نے واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں موت کی نیند سلا دیا۔ دوسرا پتھر بتانے لگا کہ مجھ پر ان دس افراد کے نام کنندہ ہیں جو اس حادثے میں مارے گئے۔یہاں یہ پتھر اس بات کی گواہی کے لئے لگائے گئے ہیں کہ یہ افراد ہم میں سے تھے اور ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اور ان کے لواحقین تنہا نہیں ہیں، یہ پتھران کی فیملیز کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار کرنے والوں کی محبت کا اظہار بھی ہے۔

میرے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا،جنونیت اور وحشی پن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی کوئی مذہب نہیں ہوتا،یہ ہر ملک و قوم میںموجود ہوتا ہے۔یہاں ایک محبت بھرا پتھر شاید لواحقین کے لئے کافی ہوتا ہو گا کہ کچھ مہربان ان کی کفالت کر دیتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ ہمارے ہاں محبت بھرے پتھروں سے کام نہیں چلتا اور کتنے پتھر لگائے جائیں گے اور کون ان کے لواحقین کی اشک شوئی کرے گا۔جب تک بچہ لوگ آگے چلنے کے لئے تیار نہیں ہو گئے میں نے ان پتھروں پر کندہ اور اپنے وطن کے ایسے ہی بے نشان افراد کے احترام میں خاموشی اختیار کئے رکھی۔

وائلن بجاتی،سر بکھیرتی۔ وہ لڑکی

میری لینڈ کے اوشن سٹی کا ساحلِ سمندر گوروں کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔شہروں کی رونقیں دیکھتے دیکھتے اچانک اوشن سٹی کے تفریحی مقام پر چند روز گذارنے کا پروگرام بنا،اچانک تو یہ ہمارے لئے تھا لیکن عدیل اور رابعہ نے ہمارے پاکستان سے آنے سے پہلے ہی ہمیں گھمانے کا پورا پروگرام مرتب کررکھا تھا،یہی نہیں،عدیل نے اپنی سالانہ چھٹیوں میں سے دو ہفتے اسی سلسلے کے لئے بچا رکھے تھے۔

اوشن سٹی،میری لینڈ ریاست کا ایک جزیرہ ہے اور امریکہ میںاسے مڈ اٹلانٹک ریجن اور تعطیلات کے لئے اہم مقام گردانا جاتا ہے جہاں ہر سال 80لاکھ افرادتفریح کے لئے آتے ہیں۔ جسے ایک طویل پل نے باقی علاقوں سے جوڑا ہوا ہے۔اوشن سٹی جس جگہ آباد ہے اسے ایک لو کل امریکی سے ایک انگریز تھامس فنوک نے حاصل کیا۔سن1869میں ایک بزنس مین اساک کوفن نے ساحلِ سمندر پر پہلے فرنٹ بیچ کاٹیج تعمیر کئے۔سن 1952میںچیسا پیک ،بے برج ،کی تعمیر نے اس علاقے کی رونق میں اضافہ کر دیایہ وہی طویل پل ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔یہاںسیاہ فام تو کم ہی آتے ہیں لیکن گوروں کی یہ ایک جنت ہے۔گورے یہاں یا تو ساحلِ سمندرپر اوندھے پڑے سن باتھ لے رہے ہوتے ہیں یا پھر ساحل کے ساتھ ساتھ بورڈ واک کر رہے ہوتے ہیں۔

ساحلِ سمندر کے رتیلے حصے کے ساتھ ساتھ لکڑی کا میلوں لمبا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے جسے بورڈ واک کہتے ہیں جسے1902میں تعمیر کیا گیا جس کے آگے دکانوں کی ایک لمبی قطار ہے،اس سے پیچھے ہوٹل ہیں۔دوکانیں ہیں کھانے پینے کی،کھیلوں کی ،جن میں کیچرز لگے ہوئے ہیںان میں بہت قیمتی چیزیں پڑی ہیں،کیمروں ،آئی پوڈز سے لیکر بہت اعلیٰ قسم کے سٹف ٹوائے تک،آپ ایک یا دو ڈالر ان مشینوں میں ڈال کر قسمت آزما سکتے ہیں۔یہ دکانیں کیسینو سے مختلف ہیں۔بورڈ واک کے آخری حصے میں طویل القامت فیری ویل نصب ہے جس میں ہنڈولے لگے ہوئے تھے،بچوں نے ہمیں بھی اپنے ساتھ ہنڈولے میں بٹھا لیا۔جب ویل میںڈولتا ہوا ہنڈولاہمیں لے کر بلندی پر پہنچا تو چاروں طرف عجیب منظر تھا،دور دور تک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر،ایک جانب ایک پل جس پر گاڑیا ں اس جزیرے پر مسافروں کو لاتی لے جاتی کھلونا گاڑیوں کی مانند نظر آ رہی تھیں۔

مجھے بلندی سے خوف آتا ہے لیکن اب جب بچوں نے ساتھ بیٹھا ہی لیا تھا تو میں ان پر اپنا خوف ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔چہرے پر مسکراہٹ اور ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی خوف کی سر سراہٹ کے ساتھ میں جبر کر کے بیٹھا ہوا تھا۔چار پانچ چکروں کے بعد ویل رک گیا تو میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراتی خوف کی لہر بھی تھم گئی۔خوف کا ایسا ہی احساس مجھے اس وقت محسوس ہوا تھا جب پاکستان میں واپڈا ایک ہی تھااور مجھے واپڈا کی سالانہ رپورٹ کے لئے تصاویر درکار تھیں اور مجھے پاور سٹیشنوں کی تصاویر بنوانے فوٹوگرافرز کے ساتھ کوٹ ادو اور مظفرگڑھ میں فوٹوگرافی کرانی تھی،پاور ہاوس کی سو فٹ اونچی چمنی کی فلمبندی کے لئے ایک کرین مہیا کی گئی جس کے ساتھ پنڈولیم کی طرح ایک پلیٹ فارم جھول رہا تھا ایسا پلیٹ فارم جس کی کوئی دیوار نہ تھی،اللہ بخشے مسعود ذوالفقار کو وہ پلیٹ فارم پر چڑھا ،کرین آپریٹر نے پلیٹ فارم کو اوپر اٹھانا شروع کیا،ابھی پلیٹ فارم پندر ہ، بیس فٹ ہی اوپر گیا تھا کہ مسعود ذوالفقار نے اوپر سے کچھ کہا،میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا،اس نے بھی ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ کرین کو نیچے کروائیں،میں سمجھا اسے ڈر لگ رہا ہے،کرین نیچے آئی تو مسعود ذوالفقار نے مجھے کہا،، سر آپ بھی ساتھ آئیں،میں اکیلا بنا تو لوں لیکن رضی صاحب کی ڈانٹ سے آپ ہی بچا سکتے ہیں کہ تصاویر آپ کی دی گئی ہدایت پر بنائی گئی ہیں،میں نے لاکھ کہا کہ میں کہہ دوں گا تم بناﺅ،لیکن وہ نہ مانا،مجبوراََ مجھے اس کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا پڑا،ذرا غور کیجئے چارفٹ ضرب چار فٹ سائز کاڈولتا ہوا بغیر حفاظتی دیواروں کا پلیٹ فارم ،میں،مسعود ذوالفقار اور علی کمال اس پلیٹ فارم پر سوفٹ کی بلندی پر ڈول رہے تھے اس وقت مسعود ذوالفقار اور علی کمال فوٹو گرافی میں مصروف تھے ،ایسے میں خوف کی ایک لہر میرے تن بدن میں دوڑ گئی،اس سے پہلے کے میں چکرا کر گر جاتا میں کرین کی زنجیر پکڑ کر پلیٹ فارم پر بیٹھ گیا،ویل کے ہنڈولے میںخوف کی یہ کیفیت تو نا تھی لیکن اس سے اتر کر میں نے بچوں سے کہا کہ ایسے کسی اورکھیل میں مجھے حصہ نہیں لینا،بس تم ہی بیٹھنا۔اپنی فطری کمزوری سے انسان زندگی میں دو بار سے زیادہ کیا کھیلے؟

امریکہ کا کوئی بھی علاقہ ہو ،اس کے ہر شہر میں کسی نا کسی سڑک پر،موسیقی کا مظاہرہ کرتے گروپس یا تنہا ڈرم،گٹار،وائلن،ٹرمپٹ بجاتا کوئی نا کوئی فرد نظر آ ہی جاتا ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ گروپوںجسے، بچے بینڈ کہتے ہیں کی چیختی چنگھاڑتی انگلش موسیقی مجھے کبھی پسند نہیں رہی۔بچہ لوگ پاکستان میں بھی اپنی دیسی موسیقی کے ساتھ اسے بھی سنتے ہیں لیکن میرے من کو یہ کبھی نہیں بھائی،ویسے بھی انگریزی کے حوالے سے میرا ہاتھ ہمیشہ ہولا رہا ہے،موسیقی کی چونکہ کوئی زبان نہیں ہوتی، نا اردو اور نا انگریزی اس لئے دھیمے سر بکھیرتی موسیقی روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے۔یہ موسیقی اگر کھلی فضا میں ہو تو سننے کا یہ تجربہ روح کی بالیدگی کا باعث ہوتی ہے۔جس طرح صحرا میں دور سے ابھرتی،ڈوبتی کسی چرواہے کی صدا۔

اوشن سٹی کے اس بورڈ واک پر سیر کرتے کرتے وائلن کی دھیمی سی ،مدھر سی،ابھرتی ہوئی آواز مجھے اپنی جانب کھینچ رہی تھی۔ساحلِ سمندر کے کنارے کھلی فضا میں وائلن کی اس آواز میں سمندر کی لہروں کا شور بھی شامل تھا، بورڈ واک کرتے آپس میں باتیں کرتے افراد کی باتوں کا شور بھی تھا،اس معاشرہ میں اظہارِ محبت میں سرِ عام بوسہ لینے کی دھیمی سی آواز بھی اس کھلی فضا میں سنی جانے والی وائلن کی آواز میں ہم آھنگ ہو کر زندگی سے قریب تر محسوس ہو رہی تھی۔

ہم دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھے اور آہتہ آہستہ وائلن کی آواز بلند ہو کردوسری آوازوں کو دبا رہی تھی پھر یوں ہوا کہ ایک موڑ پر وائلن نواز سامنے آ گیا ،یہ وائلن بجاتی ایک لڑکی تھی،اپنی دھن میں مگن وائلن کے تاروں سے دل کو موہ لینے والی موسیقی تخلیق کر رہی تھی،آنکھیں بند کئے،سر کو جھکائے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں اتنی مگن تھی کہ شاید اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ ایک خلقت نصف دائرے کی شکل میں اس کے فن سے نا صرف محظوظ ہو رہی تھی بلکہ اس پر سکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہی تھی۔ مجھے گذشتہ اتوار کو سلور سپرنگ کے ڈاﺅن ٹاﺅن میں کیمونٹی سنٹر کے پختہ ایونٹ گراونڈ میں سٹیج پر وائلن بجاتا فن کار یاد آگیا،عمارتوں میں گھرا یہ یختہ ایونٹ گراﺅنڈاور اس پر وائلن بجاتا تنہا فن کاروہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا جو یہ کھلی فضا میں وائلن بجاتی تنہا لڑکی کر رہی تھی۔

امریکہ کے ہر شہر میں یہ کھیل تماشے ہوتے رہتے ہیں۔

کچھ آگے ایک اور لڑکی اپنے لچکیلے،تھرکتے بدن کے گرد روشنی سے جگمگ کرتا رِنگ گھمانے کا مظاہرہ کر رہی تھی۔وائلن بجاتی تنہا لڑکی تو اردگرد سے بے پرواہ تھی اور لوگ اس کے فن پر سکوں اور ڈالروں کی بارش کر رہے تھے لیکن رِنگ گھماتی لڑکی کے تھرکتے بدن کے لشکاروں کے باوجود اس کے سامنے پڑے ہیٹ میں ابھی چند ہی سکے نظر آ رہے تھے شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو گی کہ لچکنا،تھرکنا ان کے معمولات اور ماحول کا حصہ ہے اور وہ اپنے روزمرہ کے محاورے میں اس کھیل تماشے کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے۔،یہ چند سکے بھی اس کے بدن کے گردگھومتے روشنی کے جگمگاتے رِنگ کی بدولت تھے،اس کے فن کایہی مظاہرہ اگرہمارے ملک میں ہو رہا ہوتا تو اس پر نوٹوں کی بوچھاڑ ہو جاتی۔اس لڑکی کے منہ پر مسکراہٹ سجی تھی لیکن اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگ بتا رہے تھے کہ وہ خاصی مایوس ہے۔ہم تھوڑی دیر وہاں رکے،اس کی نظر چند لمحوں کے لئے ہم پر رکی اور پھر وہ دوسری جانب دیکھتے ہوئے تھرکنے لگی۔عدیل نے ایک سکہ عنایہ کو دیا کہ جاﺅ اس ہیٹ میں ڈال آﺅ،عنایہ کچھ جھجکی،پھر آگے بڑھی،ہیٹ میں سکہ ڈالا،واپس مڑی،بھاگتی ہوئی واپس آئی اور اپنے بابا کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔بچے کتنے معصوم ہوتے ہیں۔

رات کی تاریکی گہری ہوتی جا رہی تھی لیکن روشنی سے منور بورڈ واک پر بھیڑ بڑھنے لگی تھی،سمندر کی سفید ریت پر دوپہر کو جسموں پر سن بلاک لوشن کا بھرپور سپرے کئے اوندھے پڑے سن باتھ لیتے گورے بھی اپنے ہوٹلوں میںشاور لے کر اب بورڈ واک پر آ گئے تھے،یہاں کھانے کی بہت سی دکانیں تھیں لیکن یہاں ہمارے لئے کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا کیونکہ یہاں کچھ بھی حلال نہ تھا۔ہاں آلو کے فرائز تھے یا پاپ کورنز۔ ہم نے پہلے فرائز لئے جو عنایہ بھی کھا سکتی تھی پھر پاپ کورنز لئے اور چلتے چلتے کھانے لگے۔

کیچ اینڈ وِن والی بہت سی دکانیں تھیں،وہاں کیچرز میں بیش قیمت چیزوں کو دیکھ کر میں کئی بار ان کے نزدیک گیا لیکن پھر واپس بچوں کے پاس آ گیا۔وہاں کھڑے ہو کر مجھے لاہور میںگلبرگ کا سٹی2000یاد آ گیا جہاں عدیل جب چھوٹا سا تھا تو اس کی ضد پر اکثر وہاں جانا ہوتا تھا،عدیل جی بھر کر رائیڈز کے مزے لیتا اور میں وہاں نصب کیچرز سے کھیلتا تھا اور ہر بار کوئی نا کوئی کھلونا نکال کر عدیل کی خوشی دوبالا کر دیتا تھا، اب جب میں چوتھی بار اس دکان پر جا کر کھڑا ہوا تو عدیل بھی میرے پاس آگیا اور کہنے لگا،،بچپن میں تو آپ بڑے ایکسپرٹ تھے کھلونے نکالنے میں،یہاں بھی کوشش کر کے دیکھ لیں عنایہ خوش ہو جائے گی۔

میں نے پچیس(25) سال بعد کوشش کی لیکن کھلونا کیچر سے اس وقت گر گیا جب اس کے ڈراپ بکس میں گرنے کی منزل دوگام رہ گئی تھی۔

—0—0—

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضاالحق صدیقی

میسی اور دوسرے سٹورز ہمیں امریکہ آئے پندرہ دن ہو گئے تھے۔عدیل آفس چلا جاتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے