سر ورق / سفر نامہ / مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

مسافر تیرے شہر میں ۔۔۔ ساجد فاروق میاں

”میرے بابا جی“

                اکثر اوقات جب مجھے لائبریری جانے کا اتفاق ہوتو تو وہیں لائبریری سے ملحقہ باغیچے میں ایک خوش پوش اور سوبر سے بابا جی تشریف فرما ہوتے۔ میں انہیں چند لمحے دیکھتا رہتا ور انہی چند لمحوں کے دیکھنے کو اپنے تیئیں ملاقات کردان لیتا۔ ان کے اس طرح بیٹھنے سے مجھے یوں لگتا کہ جیسے بابا جی اور اس باغیچہ کی رفاقت بڑی پرانی ہو۔ وہ عام ہجوم سے ہٹ کر ایک پر سکون گوشے میں دھرے بینچ پر بیٹھے، موٹے موٹے عدسوں والی عینک سے بڑی معنی نظریں ہمیشہ فضا میں گاڑے کسی ن کسی سوچ میں کھوئے ہوتے۔ کبھی کبھار ہلکا سا مسکرا بھی دیتے۔ تب یوں محسوس ہوتا کہ جیسے سوچ کی بحث میںکسی کو شکست دے چکے ہوں۔ بابا کو نہ تو سگریٹ پینے سے شغف تھا اور نہ ہی کبھی ان کے ساتھ کسی اور کو وہاں ان کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا۔ا نہیں دیکھ کرف پتہ نہیں کیوں یہ گمان ہونے لگتا کہ وہ اکیلے ہی ہیں۔

                مسیولینی کو بابا کی مسحور کن دیومالائی شخصیت پسندتھی۔ وہ اکثر اس تاک میں رہتا کہ بابا جی سے گفتگو کی جائے۔ مگر میں اسے ہمیشہ منع کر دیتا۔ وہ اس لیے کہ میں سمجھتا تھا کہ بابا جی تخلےے میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں انہیں بلاوجہ تنگ نہیں کرنا چاہئے۔

                ایک دن میں اور مسیولینی لائبریری سے نکلے۔ فوراً نظر اس طرف گئی جہاں بابا جی تشریف فرما ہوا کرتے تھے۔ اس دن بھی وہ حسب معمول اپنے پسندیدہ بینچ پر براجمان سوچوں میں گم تھے۔ دفعتاً ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی۔ نجانے مسیولینی کے ذہن میںکیا آیا فوراً اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ وہ سیدھا بابا جی کے پاس چلا گیا۔ اپنے بازو پر لٹکائی ہوئی فولڈنگ چھتری کو باباجی کی طرف بڑھاکر بڑے ہی ادب سے بولا

                ”بابا جی! بارش ہونے کو ہے آپ یہ چھتری لے لیجئے“ بابا جی نے بڑی خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا اور انکار میں سر ہلاتے ہوئے آہستہ آہستہ کہا۔ ”میں نے سر ہیٹ لے رکھا ہے اور میں ہمیشہ موسمی خبروں سے با خبررہتا ہوں۔ یہ صرف پھوار ہے۔ بارش نہیں ہو گی۔ ہاں مگر کل سے موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ جوپورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس کے ساتھ ہی سردی کی ہلکی سی لہر بھی آئے گی جو موسم کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دے گی۔ یہ سلسلہ ہفتے تک جاری رہے گا۔ “ یہ کہ کر وہ گویا پر سکون ہو گئے۔ مسیولینی میرا منہ ہی تکتا رہ گیا۔ اس دن بات اس سے آگے نہ بڑھ پائی۔ پھر گزرتے ہوئے چند ہفتوں کے بعد بابا جی سے ہلکی پھلکی گپ شپ معمول بن گیا۔

                بابا جی ان دنوں پچھترویں سال میں تھے۔ وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ ریٹائیرڈ زندگی گزار رہے تھے۔ مسیولینی کے استفار پر بابا جی نے بتایا کہ انہوں نے 1937ءمیں پنجاب یونیورسٹی میں میٹرک کا امتحان دیا تھا اور پورے ہندوستان میں تہتر ہزار طلبہ میں اول رہے تھے انہیں گولڈ میڈل ملا تھا۔

                ”بابا جی گولڈ میڈل تو آپ کے پاس ہو گا۔؟“ مسیولینی نے بڑے چاہ سے پوچھا۔

                نہیں ! اس کے میں نے اپنی بیوی کو جھمکے بنوا دیئے تھے۔ یہ کہتے ہوئے بابا جی تھوڑا سا شرما بھی رہے تھے۔ اس دن مسیولینی نے اسی حوالے سے میرے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بڑے ڈرامائی انداز میںکہا کہ عورتیں جھمکے اس لیے پہنتی ہیں کہ کان وزن سے تھوڑا سا کھچاﺅ میں آ جاتا ہے ، چونکہ جھمکے عموماً دھات کے بنے ہوئے ہوتے ہیںاس لیے آواز کا ارتعاش پیدا ہوتا ہے اس طرح انہیں زیادہ سنائی دیتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ عورتیں پیدائشی طور پر ذرا کم سنتی ہیں اور ان جھمکوں سے آواز ٹکرا کر دو گنا ہو جاتی ہے۔ یہ مسیولینی کا خیال تھا جس سے اتفاق کرنا ضروری بھی نہیں تھا۔

                گزرتے دنوں کے ساتھ یوں لگتا کہ جیسے بابا جی لائبریری سے باہر اسد چھوٹے سے باغیچے میںہمارا انتظار کر رہے ہیں۔جونہی ملاقات ہوئی، بابا جی کا چہرا کھل جاتا۔ ہزار کوشش کے باوجود کبھی بھی ہم سے کنٹین سے چائے کی پیشکش قبول نہیں کی۔ ایک دن بابا جی نے بتایا کہ انہوں نے پوری دنیا میں ملازمت کی ہے۔جس امریکی کمپنی میں وہ ملازم تھے۔ وہ ہر سال انہیں ایک نئے ملک میں بھیج دیا کرتی تھی۔ بابا جی اپنے اندر بہت اعلیٰ درجے کی حس مزاح بھی رکھتے تھے۔ اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں ، فقروں اور لفظوں سے خوب ہنسایا کرتے تھے۔دنیا بھر کی جغرافیائی معلومات پر انہیں عبور حاصل تھا۔ ایک دن مسیولینی نے اہرام مصر کے بارے میں پوچھ لیا۔اس پران کی معلومات قابل داد تھیں۔ بڑا وسیع و بلیغ قسم کا لیکچر تھا۔ سخت سردی میں انہیں پیشانی پر پسینہ آ گیا۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کے جغرافیہ دان اس بات پر حیران ہیں کہ صحرا میں کوئی چیز اتنے عرصے تک نہیں رہ سکتی۔ بلکہ وہ آہستہ آہستہ ریت بن جاتی ہے کیونکہ سخت گرمی میں جب ریت سخت گرم ہو جاتی ہے تو چیزیں بھی پھیلنا شروع کر دیتی ہیں اور رات کی ٹھنڈک میں سکڑ کر اپنی جگہ پر آنے کی کوشش میںچٹخ جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ ریت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ لیکن اہرام مصر کو صدیوں سے کوئی مسئلہ درپیش نہین ہوا۔ جغرافیہ دان اہرام مصر میں استعمال ہونے والے پتھروں کے بارے میں یہ قیاس کرتے ہیں کہ یہ دریائے نیل کے منبع والی جگہ سے آئے ہیں۔ بابا جی یہ بتا رہے تھے کہ اچانک مسیولینی نے پوچھا” بابا جی آپ نے اہرام مصر تعمیر ہوتے دیکھا ہے ۔ “ اگلے ہی لمحے وہ چونکتے ہوئے ہنس دیئے اور مسکراتے ہو ئے بولے” میں اتنا بھی پرانا نہیں ہوں۔“

                ایک دن بابا جی نہایت افسردگی کے ساتھ گردن جھکائے بینچ پر بیٹھے تھے۔ تشویش ہوئی کہ آج بابا جی کی نظروں کو منتظر نہیں پایا کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ کافی دیر پوچھتے رہنے کے بعدانہوں نے بس اتنا کہا کہ آج انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے۔ آج ان کی طبیعت خراب ہے مگر مسیولینی ان کی آنکھوں میںتیرتے ہوئے آنسوﺅں کو دیکھ چکا تھا۔ یوں جیسے طوفان کے بعد سمندر میںکسی ٹوٹے ہوئے جہاز کا کوئی آوارہ تختہ تیر رہا ہو۔ مسیولینی بھی انتہائی اداس ہو گیا۔کتنی ہی دیر تک خاموشی ڈیرہ جمائے رہی۔ بابا جی ہی نے مسیولینی کو چلے جانے کے لیے کہا لیکن وہ ہر گز ہر گز اس بات پر راضی نہیں تھا کہ بابا جی اسے کچھ نہ بتائیں گے۔ بابا جی نے بڑھتے ہوئے اصرار کو دیکھا اور بڑی اجنبی آواز میں کہتے چلے گئے۔

                وہ اپنے گھر میں خوش نہیں تھے۔ وہاں ان کے ساتھ جانوروں کا سا سلوک کیا جاتا تھا۔ پہلے تو ان کی بہو نے یہ کہہ کر اتوار کو کھانا دینا بند کر دیا کہ اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ اس لیے چھٹی کے دن کھانا بھی نہیں پکا کرے گا۔ وہ بہو کے اس روےے کر برداشت کرتے رہے۔ لیکن اس دن باباکے بد بخت بیٹے نے انہیں ٹھوکر مار دی تھی۔ انہوں نے پتلون اورپر اٹھا کر زخم دکھایا جس سے اب بھی خون رس رہا تھا۔وہ بات کرتے کرتے آبدیدہ ہو گئے اور پھر ضبط کا بندھ ٹوٹ گیا۔ مسیولینی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھا تھا۔ میرے لیے بھی اس ماحول میں خاصی مشکل پیدا ہو رہی تھی۔ل سرد ماحول کو گرم آنسوﺅں کی حدت نے یکسر اجنبی کر دیا تھا۔ میں نے دونوں کو اٹھایا اور زبردستی کنٹین کی طرف لے گیا۔ ینچ سے اٹھنے اور کنٹین کی کرسی پر بیٹھنے کے وقفہ میں ماحول قدرے بدل گیا۔ بابا جی نے ہماری ہزار منت سماجت کے باوجود چائے کے کب کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بس منہ میں بڑبڑاتے رہے۔” خود تو وہ زمین اوڑھ کو سو گئی ہے مجھ اکیلے کو ان مصائب میں تنہا چھوڑ گئی ہے۔ “غالبا ً وہ اپنی بیوی کو یاد کرتے ہوئے کچھ کہہ رہے تھے۔ مسیولینی بہت جذباتی ہو رہا تھا۔ وہ بابا جی کی جنت سماجت کرنے لگا اور انہیں اس بات پر راضی کرنے لگا کہ وہ ہمارے ہاں آ کر رہنا شروع کر دیں یا کم از کم اتوار کا کھانا ہی ہمارے ساتھ کھا لیا کریںکہ ہمارے لئے باعث سعادت ہوگا۔ بابا جی نے ساری باتیں بڑے تحمل سے سنیں اور پھر سنی ان سنی کرتے ہوئے ہاتھ ملایا اور کہنے لگے۔ ”میں پاکستان جا رہا ہوں اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے میں تمہاری ترقی کے لئے دعا کروں گا۔تم بھی میرے لئے دعا کرنا“

                ”کیوں نہیں بابا جی خدا آپ کو صحت دے“ میں اور مسیولینی یک زبان ہو کر بولے۔

                ”نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ! میری صحت کے لئے نہیں میری موت کے لئے دعا کرنا“ یہ کہتے ہوئے ہیٹ کو سیدھا کیا اور لائبریری کے گیٹ کی طرف چل دےے۔ ہم انہیں جاتا ہوا دیکھتے رہے۔

مو م کی گڑیا

                شیلاہماری کلاس فیلوتھی۔ وہ ہندو ہونے کی وجہ سے ماتھے پر بندیا بڑی اہتمام سے لگایا کرتی تھی۔ بڑی نازک اندام اور بہت پیاری سی تھی۔ اس کا انگ انگ باتیں کرتا تھا۔ مگر اس کی نیلے کانچ کی مانند آنکھیں بے جان سی لگتی تھیں۔ وہ مجھے شائد اس لیے پسند تھی کہ وہ بہت کم بولتی تھی۔ پڑھنے میں ذرا نالائق تھی۔ سارا دن دانتوں سے ناخن تراشتی یا پھر قلم سے کاغذ کاٹتی رہتی۔نجانے کسی نے اسے یہ کام سونپا ہوا تھا یا پھر اپنی مرضی سے کرتی تھی۔ ہیلو، ہائے کے علاوہ اس کے منہ سے کبھی کسی نے کچھ نہیں سنا تھا۔سارا دن خاموش نگاہوں سے خلا میں گھورتی رہتی یا پھر سمرتی کی ورق گردانی کرتی رہتی۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ شیلا قوت گوئی سے محروم ہے۔

                ایک دن شیلا پہلے سے بھی زیادہ اداس تھی۔ یوںمحسوس ہوتا تھا کہ کسی نے گلاب کا پھول توڑ کر رکھ دیا ہواور تھوڑی دیر کے بعد اس کی پتیاں اپنی زندگی کھو چکی ہوں۔ میںاس کی حالت دیکھ کر پوچھنا چاہ رہا تھا کہ اسے کیا دیکھ ہے وہ آنکھیں بند کئے کسی یوگی کی مانند آسن جمائے بے جان سی بیٹھی ہوئی تھی۔اسے اردگرد کا ہوش نہیں تھا۔ تبیاس کے لب کھلے سرگوشی کی آواز میں ہلکے ہلکے بولی”بھگوان ! مجھے ابھی نہیں مرنا،مجھے جینا ہے ۔ میری ماتا کے لیے، اپنے پتا کے لئے۔ بھگوان ! مجھے جینا ہے۔ ۔۔۔۔“اس کی ان سرگوشیوں میں ذرا بھی عزم نہیں تھا۔ بس لاچاری ہی لا چاری تھی۔ میں اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اسے دلاسہ نہ دے سکا۔ اس کا چہرہ آہستہ آہستہ پیلا ہو رہا تھا۔ جیسے شیلا نے ابھی ابھی ہلدی سے بنا ہوا ابٹن ملا ہو۔

                اسی دن کلاس میں کسی وقت شیلا بے جان ہونا شروع ہو گئی۔ جیسے روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ دینا چاہتی ہو۔ پتہ نہیں کس نے ایمبولینس کو کال کر لیا تھا۔کچھ دیر بعد شیلا انتہائی نگہداشت وارڈ میںپہنچ گئی۔ اس سے کسی کو ملنے کی اجازت نہ تھی۔ ہسپتال میں پتہ چلا کہ شیلا کو خون کا سرطان تھا۔ اتنی مستقل مزاج لڑکی تھی۔ معلوم ہوتے ہوئے بھی کسی سے بھی اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اپنے دکھ کو اپنے من میں ہی رکھا۔ خواہ مخواہ اسے بانٹنے کی کوشش نہیں کی۔ مجھے یاد تھا کہ میں نے ایک بار شیلا سے پوچھا بھی تھا کہ اسے کیا دکھ ہے ۔ جس پر اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ بس میرے چہرے کی طرف دیکھتی رہی تھی۔ تب میں نے کہا” کیوں نہ ہم دکھ بانٹ لیں“

                تب اس نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ جواباًکہا تھا” دکھ بانٹنے والی چیزیں نہیں ہوتی اور نہ ہی دکھ ادھار دیئے جاتے ہیں۔“

                ہم ہسپتال میںاچھی خبر سننے کے لئے ٹھہرے ہوئے تھے۔ تبھی وہاں کے عملے کے ایک چھوٹے سے غول نے ہمیں بتایا کہ شیلا ہمیں چھوڑ کر چلی گئی۔ ہمیشہ کے لئے۔ تبھی ہمارے کلاس فیلو نے آ کر بتایا کہ وہ کہیں نہیں گئی وہ تو اندر بستر پر سور ہی ہے ۔ بہت ہی میٹھی نیند۔ اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ شیلا اب نیند سے کبھی بیدارنہیں ہو گئی۔ اگرچہ اکٹھے پڑھتے ہوئے بھی اتنی مدت نہیں ہوئی تھی مگر اس وقت یوں لگ رہا تھا کہ بہت پرانی چیز گم ہوگئی ہے۔ جس کے ملنے کی کوئی امید نہ ہو۔ ہندو کمیونٹی والوں نے شیلا کے جسد خاکی کو بڑے اہتمام سے آخری رسومات نبھانے کے بعد جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس کی چتا سے اٹھنے والے شعلوں اور دھویں نے سب کچھ ختم کر دیا تھا لیکن شیلا کے معصوم چہرے اور کم گو شخصیت کی یاد کو ختم نہ کر سکا تھا۔ مخصوص کئے گئے ایک دن کلاس میں سب نے شیلا کی یاد میں پندرہ منٹ خاموشی کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اپنے اپنے مذہب کے مطابق اسے خراج پیش کیا۔

                اس دن یونیورسٹی میں پہلے سمسٹر کا آخری دن تھا۔ ساری کلاس گم سم تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ شیلا کو کسی نے بھی نہیں بھلایا۔ حالانکہ کچھ لوگ اس کے ”کریا کرم“ میں بھی گئے تھے۔ ہر چہرہ بے چینی کی سی کیفیت میں تھا۔کلاس ختم ہوتے ہی گیٹ سے باہر آ رہے تھے کہ اپنے سامنے ”جیا جی“ کو پایا۔ جو پھٹی پھٹی آنکھوں اور خالی خالی نگاہوں سے کسی کو تلاش کر رہی تھی۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ کسے تلاش کر رہی ہے۔ جیا جی، شیلا کی ماتا تھیں۔ شیلاکی موت نے ان کے دماغ پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ اور انہوں نے ابھی تک شیلا کی موت کو قبول نہیں کیا تھا۔ کیاتو ہم نے بھی نہیں تھا لیکن کیا کرتے ہونی کوکون روک سکتا ہے۔ جیا جی کو دیکھتے ہی سب ادھر ادھر ہو گئے۔یہ اس لیے کہ کسی کا حوصلہ بھی نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ ان کا سامنا کر سکیں۔ میں نے بھی وہاں سے اوجھل ہو جانا چاہا مگر مسیولینی نے مضبوطی سے میرا بازو پکڑ لیا اور کاندھے سے ہلاتے ہوئے کہا۔”چلو جیا جی کو حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کا غم ہلکا ہو جائے گا۔“ اجڑی ہوئی ماتا کی حالت دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ زبردست کوشش کے باوجود غم زدہ ماتا کے قریب نہ جا سکا۔ مسیولینی مجھے کوستا ہوا اور منہ میں کچھ بڑ بڑاتا ہوا جیاجی کی طرف لپکا ۔ اس نے جیا جی کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لئے اور تسلی دلاسے والی باتیں کہتا چلا گیا۔ مگر جیا جی مسلسل مسیولینی کو پتھرآنکھوں سے تکتی رہی۔جیسے کچھ بھی نہیں سن رہی ہو۔ کچھ دیر بعد آہستہ سے بولیں ”شیلا کہاں ہے؟“

                مسیو لینی خاموش رہا۔ اس بات کا وہ کیا جواب دیتا۔ جس پر جیا جی کہتی چلی گئیں۔” آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔ کل دیوالی پر بھی نہیں آئی۔ میں نے اس کے ئے گاچیا، پاپڑے بنائے ہیں۔ اور ہاں ا س کی پسندیدہ دش بمبے مکس بھی بنائی ہے۔ ”انہوں نے یہ سب کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے ہوئے شاپنگ بیگ کو کھولا ۔ جیا جی نے کسی ننھے بچے کی طرح یہ ساری چیزیں نکال نکال دکھائیں۔ مسیو لینی یہ ساری چیزیں ایک ایک کر کے بیگ میں ڈال رہا تھا۔ تبھی جیا جی نے پھر پوچھ لیا۔ ”بتاﺅ میری شیلا کہاں ہے“

                مسیولینی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ میں نے دیکھا اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہیں ۔ قریب تھا کہ جام جھلک پڑتا، میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔ اور ادھر ادھر کی باتوں میںلگانے کی کوشش کی۔ میں نے اس سے کہا۔ ” ہم اس طرح جیا جی کو دلاسہ نہیں دے پائیں گے۔ رو دینے سے ان کا دل ہلکا ہونے کی بجائے مزید بوجھل ہو جائے گا۔“

                جیا جی خالی خالی ا ٓنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔ کبھی عمارت کے دروازوں کی طرف نگاہ جاتی۔ یوں جیسے کہ وہاں سے کسی کے آنے کی منتظر ہوں اور کوئی نہیں آ رہا۔ حالانکہ شیلا کی چتا کو آگ بھی جیا جی نے خود لگائی تھی۔

                کئی دن گذر گئے۔ شیلا سب کو بھولتی جا رہی تھی۔ اب اس کا ذکر بہت ہی کم ہوتا تھا۔ اب اس کی مخصوص نشست پرایک ساہ فام بیٹھا کرتا تھا یا پھر کوئی اور۔ دن اسی طرح گذرتے جا رہے تھے کہ اچانک ایک دن مسیولینی نے اکسانا شروع کر دیا کہ کیوں نہ جیا جی کے گھر چلیں۔میں نے اس کی سنی ان سنی کر دی۔مگر وہ باز آنے والوں میں سے نہیں تھا۔ میں نے اسے سمجھایا کہ پوری کلاس جائے گی تو چلیں گے۔ لیکن وہ بضد رہا کہ صرف ہم دونوں جائیں گے۔ آخر طویل بحث کے بعد طے پایا کہ ہماری کلاس فیلو ”یونگ“ بھی ہمارے ساتھ جائے گی۔ یونگ چینی طالبہ تھی اور شیلا کی قریبی دوست بھی۔ پروگرام کے مطابق ہم اتوار کو بریکسٹون(Brixion) میں واقع شیلا کے گھر گئے۔کناٹ سٹریٹ میں پانچواں گھر اس کا تھا۔ یونگ نے گھنٹی بجائی۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر جیا جی نمودار ہوئیں۔ انہوں نے سفید رنگ کی ساڑھی پہنی ہوئی تھی اور ماتھے پر تلک نہیں تھا۔ آنکھیں بتا رہی تھیں کہ جیا جی رات بھر نہیں سوئی تھیں۔ ہمیں دیکھتے ہی بھاری سے دو آنسو جیا جی کی گالوں پر اتر آئے۔ جیا جی نے ساڑھی کے پلو سے انہیں صاف کیا اور اندر آنے کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ مسیولینی بہت جذباتی ہو رہا تھا۔شایداس لیے کوئی بات نہیں کر رہا تھا کہ آواز لڑ کھڑا نہ جائے۔ گھر اچھا تھا۔ چھوٹا سا صاف ستھرا اور ہر چیز سلیقے سے رکھی ہوئی تھی۔۔ بیٹھنے والے کمرے میںشیلا کی بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ اس تصویر پر تازہ گلاب اور موتیے کے پھولوں کا ہار بتا رہا تھا کہ جیا جی روز ایسے ہی تازہ پھولوں سے اس کی تصویر کو سجائے رکھتی ہیں۔

                ہم لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئے۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ پہ چپ تھے۔ اتنے نفوس ہونے با وجود گہرا سناٹا طاری تھا۔ شاید ہر کوئی یہی سوچ رہا تھاکہ اس خاموشی کو کون توڑے اور ان کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہ ہو۔ خاموش جیا جی نظریں قالین پر گاڑے ہمارے سامنے والے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں۔کوئی بھی اس گہرے سناٹے کو توڑنے کی سعی نہیں کر رہا تھا۔

                ”گڈ مارننگ۔۔۔۔۔۔“

                ہم سب چونکے یہ آواز کمرے کے داہنے جانب راہداری سے آئی تھی۔ تبھی جیا جی بولیں۔”یہ سونندا ہے۔ شیلا کی چھوٹی بہن میری دو بیٹیاں ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ شیلا اب اس دنیا میں نہیںرہی اور سونندا چل نہیں سکتی۔“

                اتنے میں سونندا اپنے دونوں ہاتھوں سے ویل چیئر کو پہیوں سے دھکیلتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے نظر کا ہلکا چشمہ لگایا ہوا تھا۔ اس کی گود میں چارلس ڈکنز کا ناول تھا۔ شاہد وہ پڑھ رہی تھی اور ہماری آمد کا احساس کر کے ادھر آ گئی۔ سونندا نے اپنی ماتا کو بوسہ دیا اور ہماری طرف متوجہ ہوگئی۔

                سونندا قدرت کا حسین شاہکار تھی۔ چشمے کے اوپر سے وہ اپنی خوبصورت آنکھوں سے مسلسل مسیولینی کو گھور رہی تھی۔ ساتھ میں اپنی طرح کی خوبصورت باتیں بھی کرتی رہی۔ میں سوچ رہا تھا کہ محرومی بھی کی چیز ہے۔خدا کے آگے کسی کا زور نہیں چلتا۔ اس کی مصلحتیں وہی جانے۔ کافی دیر گپ شپ چلی۔جس سے زیادہ وقت شیلا کو یاد کرنے میں گذرا۔ بات کوئی بھی ہوتی شیلا کا ذکر آ جاتا۔ جیا جی نے اپنے ہاتھ سے اپنے انڈین طرز کے انڈوں کی بھجیا اور گرم نان بنائے اور ہمیں بڑے پیار سے کھلائے۔ سونندا ہمیں اپنے کمرے میں لے گئی۔ جیاجی نے بتایا کہ سونندا کبھی کسی سے تعلق نہیں جوڑتی۔ لیکن آپ لوگوں کے ساتھ بہت مانوس ہو گئی ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ یونگ اور مسیولینی سے اس کی اچھی خاصی انڈر سٹینڈنگ ہو رہی ہے۔ سونندا کو پڑھنے کا جنون تھا۔اس نے اپنے کمرے میں چھوٹی سی لائبریری ترتیب دے رکھی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس نے شکاگو یونیورسٹی سے پیراسائیکالوجی میں ڈگری کی ہوئی ہے۔ فلسفے کے ساتھ اس کا گہرا لگاﺅ ہے۔ پڑھنا اس کی عادت ہے۔ خاموشی اسے پسند ہے۔ میوزک اس کی عبادت ہے اور اندھیرے اس کو اچھے لگتے ہیں۔ سونندا نے ساری باتیں ایک ہی سانس میں بتائیں تھیں۔

                یانگ کی فرمائش پر سونندا نے وائلن پر بہت خوبصورت دھن بجائی۔ وہ وائلن کی تاروں پر انگلیاں چلاتے ہوئے بالکل موم کی گڑیا لگ رہی تھی۔ جب وہ ہلتی یو پھر بالوں کو ایک جھٹکے خاص سے سنوارنے کی کوشش کرتی تو احساس ہوتاکہ موم کی گڑیا میں جان بھی ہے۔ سونندا نے یونگ کی ناگواری کو محسوس کر لیا تھا۔ اسے اس بات کا احساس بھی تھا کہ یونگ کو انڈین موسیقی سمجھ نہیں آتی ہو گی۔ تب اس نے خود سے فیصلہ کرتے ہوئے ”ایلٹن جان” کی خوبصورت دھن بجائی۔ مسیولینی اس بات پر بہت خوش تھا۔

                جیا جی کے گھر سے رخصت ہوتے وقت تک مسیولینی کے ذہن میں ابھی تک ایک بات اٹکی ہوئی تھی۔ وہ آخر اس نے سونندا سے پوچھ ہی لی۔”کہ اسے اندھیرے کیوں پسند ہیں۔”موم کی گڑیا دل موہ لینے والے انداز میں مسکرائی اور بڑے نرم اندا زمیں بولی۔

                ”مجھے اندھیرے اس لیے پسند ہیں کہ ان میں سایہ نظر نہیں آتا۔“

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضاالحق صدیقی

میسی اور دوسرے سٹورز ہمیں امریکہ آئے پندرہ دن ہو گئے تھے۔عدیل آفس چلا جاتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے