سر ورق / جہان اردو ادب / شاہد جمیل احمد…. محمدزبیرمظہرپنوار

شاہد جمیل احمد…. محمدزبیرمظہرپنوار

اسلام علیکم ”  سلسلہ ( جہان اردو ادب ) میں تمام ادباء و قارئین کو خوش آمدید ۔۔ آج کے اس خصوصی انٹرویو میں میرے ساتھ موجود ہیں جناب محترم شاہد جمیل احمد صاحب ۔۔ شاہد جمیل احمد صاحب کے متعلق بتاتا چلوں کہ آپ کا شمار اساتذہ میں ہوتا ہے آپ شاعر بھی ہیں افسانہ نگار بھی ہیں مبصر بھی ہیں نقاد بھی ہیں اردو ادب میں فکشن کے لیے آپکی بہت سی خدمات ہیں ۔ آپ نے ہر صنف پہ طبع آزمائی کی اور ہمیشہ کامیاب رہے چاہے ناول ہو افسانہ ہو نظم ہو غزل ہو یا پھر مختصر ترین کہانیاں ہوں ۔ آپ روئیہ ہمیشہ مثبت رہا سیکھنے سکھانے کے عمل میں کبھی تذبذب کا شکار نہیں رہے ۔ قارئین اور ادباء کی آپ کی شخصیت سے انسیت اپنی مثال آپ ہے ۔ آئیے جہان ادب میں شاہد جمیل احمد صاحب کے ساتھ چند باتیں ہو جائیں ۔۔
میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار
مہمان ۔۔ شاہد جمیل احمد ( گجرانوالہ ” پاکستان )
 سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔
جواب۔۔میرا اصل نام شاہد جمیل جبکہ قلمی نام شاہد جمیل احمد ہے۔ میرے نام نے بھی دراصل میری ہی طرح کئی ارتقائی منازل طے کی ہیں۔ جب میں پیدا ہوا تو حسبِ روایت دادا ابُو سے کہا گیا کہ بچے کا نام رکھیں۔ دادا ابُو نے اِک ذرا توقف کیا اور کہنے لگے ! نام کیا رکھنا ہے بس جمیلہ کا بھائی جمیل! میری بہن کا نام جمیلہ تھا۔ پھر جب سکول میں داخل ہونے کا وقت آیا تو میرے بڑے بھائی محمود خاں مجھے نہلا دُھلا ، نئے کپڑے اور نئے جُوتے پہنا سکول ماسٹر کے پاس لے گئے ، وہ یعنی میرے بھائی اُن دنوں کالج میں پڑھتے تھے ، مزید یہ کہ اُس عرصہ میں اداکار شاہد کا شہرہ تھا ، لہذا میرے بھائی نے میرے نام کو ماڈرن ٹچ دینے کے لئے شاہد کے لاحقہ کا اضافہ کر کے میرا نام سکول میں شاہد جمیل لکھوایا۔
سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔
جواب ۔۔ میرے والد خورشید احمد کا تعلق ضلع انبالہ ، تحصیل نارائن گڑھ موضع جنگُو ماجرا ( جنگُو مزرع) انڈیا جبکہ والدہ کا تعلق موضع تلہیڑی ضلع کرنال انڈیا سے تھا اور یہ لوگ سنتالیس میں ہجرت کرکے پاکستان آئے، ہجرت کے فوری بعد ان کی شادی ہوئی اور یہ لوگ کئی سال فیصل آباد اور پھر گوجرانوالہ کے مختلف دیہات میں پھرتے پھراتے موضع بھرائیاں ، تحصیل نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ میں آباد ہوئے، تعلق راجپوت فیملی سے ہے ، انڈیا میں میرے دادا کی زرعی زمین تھی جو پاکستان آنے کے بعد الاٹمنٹ کلیم کے مسائل اور ان کے اپنے وسائل کی وجہ سے انہیں نہ مل سکی ! الاٹمنٹ کلیم ملنے کے دنوں میرے دادا کی نمبردار کے بھائی سے لڑائی ہو گئی اور دادا نے لاٹھی کے وار سے اس کی ٹانگ توڑ دی ، دو تین ماہ جیل میں رہے اور جب واپس آئے اور صلح وغیرہ ہوئی تو نمبردار نے یہ کہہ کر الاٹمنٹ کلیم دینے سے انکار کردیاکہ تم نے میرے بھائی کو مارا تو میں نے تمہارا کلیم حقے کی چلم میں رکھ کر پھونک دیا تھا، خیر ان واقعات نے لٹے پُٹے خاندان کے معاشی و معاشرتی مسائل میں بے حد اضافہ کیا لیکن میرے والد نے ہمت نہیں ہاری اور ازسرِ نو اپنے خاندان کو پاوٗں پر کھڑا کیا ، بچوں کو پڑھایا۔ میں نے پرائمری تعلیم اپنے گاوٗں یعنی گورنمنٹ پرائمری سکول بھرائیاں سے حاصل کی ، اس دوران ایک واقعہ پیش آیا ! سکول جوہڑ کنارے واقع تھا، مون سُون کی بارشوں کی وجہ سے سکول کی اکلوتے کمرے پر مشتمل عمارت گر گئی ، سکول ایک ٹہنے والے پہاڑی کیکر تلے لگنے لگا ، پھر عارضی طور پر ساتھ والے گاوٗں الدتہ منتقل ہوا جہاں ہم سال بھر بوریاں گھسیٹتے جایا کئے۔ ہمارا پرائمری سکول کا سنٹر کا امتحان ایک اور گاوٗں ماڑی خورد میں ہوا اور میں نے نمایاں پوزیشن حاصل کی لیکن اس بابت ہمارے سکول کے واحد استاد نے ذات برادری مختلف ہونے کی بنیاد پر گاوٗں میں بھنک نہ لگنے دی ۔ مڈل سکول کی تعلیم کے لئے میں نے ایک اور دور دراز گاوٗں ماڑی بھنڈراں کا رُخ کیا ، داخلے کے وقت مجھے ہیڈ ماسٹر نے کہا کہ اپنے والد کو لے کر آوٗ لیکن ابُو اس کے لئے تیار نہ تھے ، وہ سادہ ، ان پڑھ آدمی تھے ، دھوتی باندھتے تھے اور انہیں سکول وغیرہ جاتے جھجھک آتی تھی ، مزید یہ کہ کھیتی باڑی میں بہت مصروف بھی ہوتے ،اُنہوں نے اس مسئلے کا ایک حل نکالا کہ ساتھ والے گاوٗں کے ایک استاد جو مڈل سکول میں پڑھاتے تھے اُن کو راضی کر لیا کہ وہ اپنا انگوٹھا لگا کر مجھے سکول داخل کروا دیں۔میں تین سال تک سائیکل چلا کر اس گاوٗں جاتا رہا جو سات آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھا ، سارا راستہ کلری تھا ، نہ درخت نہ پانی کے لئے نلکا ، جب مڈل اسٹینڈرڈ کا رزلٹ آیا تو میں نے سکول میں دوئم پوزیشن حاصل کی ، اُن دنوں میں شہر اپنے بھائی کے پاس تھا ، سکول میں تقریب ہوئی لیکن ہمارے گاوٗں کے بالکل ساتھ والے گاوٗں میں رہنے والے اساتذہ کہ جن کا مڈل سکول میں اثر و رسوک تھا ایک بار پھر مجھے اس تقریب سے مختلف برادری کی بنا پر دور رکھنے اور اطلاع نہ دینے میں کامیاب ہوئے، ان اساتذہ کا تعلق سید برادری سے تھا ، خدا کا کرنا دیکھیے کہ مشکل ترین حالات اور برادری ازم کی مخالفتوں کے باوجود میں ، میرا بھائی اور بہن ہی تھے جنہوں نے علاقے میں اول اول گریجوایشن کی اور بعد ازاں اعلی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک سائنس کے لئے میں نے گورنمنٹ ملت ہائی سکول گوجرانوالہ شہر میں داخلہ لیا کہ اب تک میرے بڑے بھائی وکالت کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کرکے گوجرانوالہ میں وکالت شروع کر چکے تھے ، یہ انیس صد چوراسی کی بات ہے، اس کے بعد ایف ایس کی ڈگری گورنمنٹ بوائز کالج سیٹلائٹ ٹاوٗن گوجرانوالہ سے انیس صد ستاسی میں مکمل کی، اس کے بعد میں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ لیا اور یہاں سے بی ایس سی (آنرز) اور ایم ایس سی ( آنرز) زراعت کی ڈگیاں مکمل کیں ، بعد ازاں میں نے یونیورسٹی آف لاہور سے مارکیٹنگ میں ایم بی اے بھی کیا۔
سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔
جواب ۔۔جب میں نے میٹرک میں گورنمنت ہائی سکول گوجرانولہ میں داخلہ لیا ، یہ انیس صد چوراسی کی بات ہے ، بہار کے دن تھے ، سکول اُس وقت ضلع کچہری کے پاس ہوا کرتا تھا اور اس کے ساتھ لیاقت پارک تھا ، میں لیاقت پارک میں اکثر گھوما کرتا ، اس دوران میں نے پہلی باقاعدہ نظم لکھی جس کے شعر اور عنوان وغیر ہ تو مجھے یاد نہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ یہ نظم پابند تھی اور بہار کے موضوع پر تھی ، اس سے پہلے بھی میں چلتے پھرتے اِکا دُکا شعر موزوں کیا کرتا لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ اِن چیزوں کو محفوظ بھی کرنا ہوتا ہے ، میری ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا ، ادب سے لگاوٗ کی وجہ خالص اندرونی نوعیت کی تھی اور بس اندر ہی اندر ، دل ہی دل میں ، دماغ ہی دماغ میں ایک بے چینی سی درآئی محسوس ہوتی اور میں شعر کہنا شروع کر دیتا ،آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے لکھنے کا محرک اور ادب سے لگاوٗ کی وجہ وجدانی نوعیت کی تھی ، یہ سلسلہ اب بھی برقرار ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ فکشن یا افسانہ بھی شعر ہی کی طرح قلبی اور وجدانی واردات اور کیفیت کا مرہونِ منت ہے ، میں نے کم از کم اسے ایسا ہی پایا ہے، ایک اور بات ! مختلف اوقات میں میرا مختلف تخلیقات کو جی چاہتا ہے ، کبھی افسانہ کہتا ہوں ، کبھی شاعری کرتا ہوں ، کبھی فکاہیہ و سنجیدہ مضامین لکھتا ہوں وغیرہ وغیرہ۔
سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔
جواب ۔۔ اول اول میرے اندر کہانی کا رحجان کہانی یا افسانہ پڑھنے کی بجائے انتہائی چھوٹی عمر میں کہانیاں سننے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ میری خالہ اور رشتے کی تائی کو کہانی کہنے میں ملکہ حاصل تھا ، بظاہر یہ ہر دو خواتین معمولی پڑھی لکھی یعنی صرف قرآن پاک پڑھی ہوئی تھیں اور عربی پڑھنے کی وجہ سے اردو بھی پڑھ لیتی تھیں اور ان کے پاس قصہ یوسف زلیخا از مولوی عبدالستار ، قصہ یوسف زلیخا از مولوی غلام رسول ، شاہنامہ اسلام، ہیر وارث شاہ ، سیف الملوک ، پکی روٹی وغیرہ سمیت نہ صرف یہ کہ درجنوں چھوٹے قصے موجود تھے بلکہ ان کو زبانی یاد تھے، علاوہ ازیں ان کو درجنوں کہانیاں زبانی یاد تھیں اور ان کے کہانی کہنے کا انداز اس قدر دلکش تھا کہ کہانی میرے اندر بچپن سے کہیں دور تک راسخ ہو گئی ، یہ کہانیاں سننے کے لئے بڑے اہتمام کئے جاتے ، ہنگورا دینے والے کی چوکسی الگ ہی موضوع ہے ، کہانیاں رات کے وقت ، گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر سنائی جاتیں، بلکہ دن میں یہ کہہ کر کہانی سنانے سے منع کر دیا جاتا کہ دن میں کہانی سنانے سے راہی رستہ بھول جاتے ہیں۔ کالج کے زمانے سے میں نے فکشن کی جملہ اصناف جیسے ناول ، افسانہ ، ڈرامہ، کہانی ، قصہ وغیرہ کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا جس نے مجھے افسانے کی بنیادی ہیئت و ما ہیت سمجھنے میں بڑی مدد کی ، سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر آپ کے اندر اچھا لکھنے کی خواہش ہے تو آپ کے لئے وقت اور تجربے سے بڑھ کر استاد کوئی نہیں ، میں زمانہ طالبعلمی میں بڑا زُود بیاں رہا ، تقریبا دو سو کے قریب کہانیاں، افسانے لکھے جن میں سے بیشتر نظرِ ثانی میں ضائع کر دیں اور ستر اسی کے قریب وہی تخلیقات بچی ہیں جو کتابوں کی صورت میں یا ادبی رسائل وغیرہ میں شائع ہو گئیں۔ میری پہلی کہانی بعنوان سنجوگ گورنمنٹ کالج فار بوائز سیٹلائٹ ٹاوٗن گوجرانوالہ کے ادبی مجلہ مہک میں انیس صد ستاسی میں شائع ہوئی۔۔
سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔
جواب۔۔افسوس کے ساتھ کہناپڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ادب اور شاعری کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا بلکہ معاشرتی طور پر مخول ٹھٹھہ سمجھا جاتا ہے ۔ اگر کسی کو پتہ چلے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی شاعری کرتے ہیں یا افسانہ لکھتے ہیں تو باقاعدہ گھروں میں صفِ ماتم بچھائی جاتی ہے ، اس کے محرکات اگرچہ ہمارے معاشی حالات ہیں اور تمام والدین چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے چاہے زندگی میں کچھ نہ کریں یعنی اُن کا اخلاقی میلان چاہے جیسا بھی ہو لیکن وہ نوکری ضرور حاصل کر سکیں اور بس ! جبکہ میں سمجھتا ہوں کہ نوکری یا ملازمت حاصل کرنا تعلیم کا سیکنڈری مقصد ہے ، شعور کا حصول پرائمری مقصد ہے لیکن یہ چیز معاشرتی طور پر ہمارے کسی کھاتے میں نہیں۔ جب میں نے میٹرک کے دوران شاعری شروع کی تو ان دنوں مجھے مشاعروں میں جانے کا شوق پیدا ہوا لیکن میرے بڑے بھائی اس عمل کو بادی النظر کی طرح اچھا خیال نہ کرتے تھے ، ایک بار رات کو دیر سے گھر آنے پر مجھے اُن سے مار بھی پڑی ، میں نے چھپ چھپا کر اس شوق کو کسی نہ کسی طور جاری رکھا ۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ ادب انحطاط کا شکار ہے لیکن ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ہم ادب کے لئے کیا کر رہے ہیں ، ہم ادب و شاعری کو اپنے معاشرے اور اپنی زندگیوں میں کیا اہمیت دیتے ہیں ۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تب ادبی پرچوں پر بڑے بڑے مدیران کندلی مارے بیٹھے تھے اور ان ادبی پرچوں میں چھپنے کے لئے لوگوں نے باقاعدہ مخصوص ادبی گروہ جائن کئے ہوئے تھے لیکن میں نے کبھی اس بابت نہیں سوچا کہ میں تو صرف اور صرف اپنی دلی تسکین کے لئے لکھتا تھا ، یوں بھی میرے پاس تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے اتنا وقت نہ تھا کی ان باتوں میں پڑوں ، آہستہ آہستہ لوگوں نے پڑھنا ، سننا ، چھاپنا شروع کیا۔
حفیظ اہلِ جہاں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں۔
سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا۔۔
جواب۔۔۔ جب میں زرعی یونیورسٹی فیصل آبا میں بی ایس سی (آنرز) کا طالبعلم تھا تو اس دوران میں نے کچھ دوستوں جیسے اکرام عارفی اور آفتاب یاسر کے ساتھ مل کر ادبی تنظیم سوسائٹی آف ایگریکلچرل رائٹرز کی بنیاد رکھی ، میں یونیورسٹی کے ادبی مجلہ کِشتِ نِو کا شریک مدیر بھی رہا ، ہم دوستوں نے ایک ماہانہ ادبی مجلہ استعارہ کا اجرا بھی کیا ، اس مجلہ میں تقریبا ہر ماہ میرا افسانہ شائع ہوتا اور یونیورسٹی کے لڑکے لڑکیاں مختلف مواقع پر یا پندرہ روزہ تنقیدی محافل میں تنقید کرتے جس سے مجھے پبلک رسپانس کا پتہ چلتا ، اس دوران میرا ایک افسانہ ’’ دی بیسٹ سیون سلیکشن ۲۰۲۱ء‘‘ شائع ہوا اور یونیورسٹی میں ہاہا کا ر مچ گئی ، یہ افسانہ ترقی پسند نظریات پر مبنی تھا اور روایتی مذہبی طبقوں کے مفادات کے بر عکس ، بڑی لے دے ہوئی ، مذہبی خیالات کی حامل طلبہ تنظیم کے لوگوں نے مجھے ڈرایا دھمکایالیکن اس واقعہ کے بعد مجھ میں مزاحمتی ادب لکھنے اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کے معاشی ، معاشرتی مسائل کو مزید اجا گر کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ بعد ازاں ماہِ نَو اور علامت میں میرے کئی افسانے چھپے جو بنیادی طور پر ادبی حلقوں میں میری پہچان کا باعث بنے ، میرے ایک افسانے ’’ مُردہ گھوڑے کے ساتھ‘‘ کو ماہِ نَو والوں نے اپنے پچاس سالہ گولڈن جوبلی نمبر میں خصوصی طور پر شائع کیا، اسی طرح علامت میں شائع ہونے والے میرے افسانوں ’’ بھیڈی خانہ ‘‘ ، ’’ پیتل کا پترا ‘‘ وغیرہ نے بھی مجھے ادبی حلقوں میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔
سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔
جواب ۔۔یونیورسٹی دور میں تو آفتاب یاسر اور اکرام عارفی میرے ادبی دوست تھے جو خود بھی اعلی پائے کے شاعر ہیں اور صاحبِ کتاب ہیں۔ جب میں تعلیم مکمل کر کے واپس گوجرانوالہ آیا ، ملازمت اختیار کی تو اس وقت میری ملاقات گوجرانوالہ میں مقیم منفرد افسانہ نگار اور ناول نگار اسلم سراج الدین سے ہوئی ، اُنہیں کے توسط سے میں نے انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ جائن کی اور اس کا جائنٹ سیکرٹری ، سیکرٹری رہا ، بعد میں میں تین سال تک انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب کا جائنٹ سیکرٹری بھی رہا ، اب بھی میں باقاعدگی سے انجمن کے پندرہ روزہ جلسوں میں شریک ہوتا ہوں ۔ اسلم سراج الدین چونکہ خود فکشن کے آدمی تھے اس لئے میری اُن سے بہت بن آئی ، چیزوں کو دیکھنے ، پرکھنے اور ادبی حوالوں سے اُن کے ادبی مستعمل کے لئے میں نے اور اسلم صاحب نے دوسرے شہروں کے سفر بھی کئے ، اسلم صاحب لکھنے کے حوالے سے اتنے ہی سخت تھے جتنے اخلاقی طور پر نرم خُو تھے ، بڑے جان جوکھم کا کام ہوتا کہ افسانہ اُن کو پسند آتا ، میرے کچھ افسانوں جیسے ’’ اسطوخودوس ‘‘ ، ’’ زندگی ‘‘ ، ’’ ہمزاد ‘‘ وغیرہ سے وہ بہت متاثر تھے۔ جنابِ منشا یاد جب علامت کے ایڈیٹوریل بورڈ میں تھے تو اس دورن میرے کئی افسانے علامت میں شائع ہوئے اور اُن سے دوستی اور خط و کتابت ہوتی رہی ، ان کے بھانجے خلیق الرحمن جو اسلام آباد حلقہ اربابِ ذوق کے سیکرٹری ہیں میرے دوست ہیں ، مزید اسلم سراج الدین بھی منشا یاد کے قریبی دوست تھے ، ان بنیادوں پر میری منشا صاحب سے یاد اللہ رہی ، منشا صاحب نے میرے افسانوں کی کتاب ’’ جاگرن ‘‘ کا تفصیلی فلیپ لکھا اور میرے ایک افسانے ’’ پورے آسماں کے برابر کہکشاں ‘‘ کو خصوصیت سے سرا ہا ۔ میں اور اسلم صاحب منشا یاد اور اکبر حمیدی سے ملنے متعدد بار اسلام آباد جاتے رہے ۔ آہ آج یہ تینوں شخصیات ہمارے درمیان موجود نہیں!
وَے صُورتیں الہی کِس دیس بستیاں ہیں
اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں ۔
سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔
جواب۔۔ادب کی انسانی معاشرے کے لئے ضرورت و اہمیت اُتنی ہی ہے جتنی انسانی زندگی کے لئے آکسیجن اور پانی کی ، ایک لمحے کے لئے آپ سوچیے کہ ہمارے اردگرد نہ شاعری ہے نہ فکشن تو انسانی زندگی کس قدر کٹھن اور پھیکی ہو جائے گی ، اس میں شک نہیں کہ ادب کے اثرات معاشرے پر غیر مرعی ، غیر محسوس اور سلو ہوتے ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ اثرات ہوتے ضرور ہیں ، انسان کو انسان بنانے اور معاشرتی شعور عطا کرنے میں ادب کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔جہاں تک آج کے قاری کا سوال ہے تو وہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ باشعور ، معاشرتی طور پر آگاہ اور معلومات کے لحاظ سے کایاں ہے ، ایسے حالات میں ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر شکاریات کے قصے لکھنے سے اُن کو متاثر نہیں کیا جا سکتا ، آج کا قاری بجا طور یہ ڈیمانڈ کرنے میں حق بجانب ہے کہ لکھاری علومِ جدید کا کماحقہُ مطالعہ رکھتا ہو اور وہ اُن کے اذہان کو جدید حالات و واقعات سے ہم آہنگ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہو۔
سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔
جواب۔۔ بہت پرانی بات نہیں ہے ، صدی پیشتر کا قصہ ہے، انیس صد سترہ میں انقلابِ روس کا واقعہ اس کا محرک بنا ، اس واقعہ نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے ، یہ وہ وقت تھا جب شاعر اور ادیب ٹالسٹائی کی جگہ لینن اور مارکس کے فکری اثرات قبول کرنے لگے، روسی ادب کا مطمعِ نظر یہ تھا کہ مذہب کی حیثیت انسانی معاشرے کے لئے افیون جیسی ہے ، انسان کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی مسئلہ ہے ، تمام انسان برابری کے لحاظ سے ایک جیسی انسانی ضروریات رکھتے ہوئے ایک جیسے وسائل کے حقدار ہیں وغیرہ ، انہی بنیادوں پر انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی گئی اور انجمن کے منشور میں انہی باتوں کو مدِ نظر رکھا گیا۔میں اس معاملے کو اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ ترقی پسند تحریک نے زبردست طریقے سے اردو ادب کے ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینکا ، موضوعات تبدیل ہوئے ، ڈکشن بدلنے لگے ، مزاحمت در آنے لگی ، ادب کے روایتی کلیشے کو توڑنے میں ترقی پسند تحریک نے زبردست کردار ادا کیا۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ترقی پسند ادیب اور ان کے ادب پارے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ، منشور کی خالی خولی کاٖغذی حیثیت ، رشین ادب کی نقل بازی ، زمینی حالات و واقعات سے عدم آگاہی ، پسند نا پسند وٖغیرہ کی وجہ سے تحریک اپنے مقاصد پورے کرنے میں بہت زیادہ کامیاب نہ ہو سکی لیکن بقول میر
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا ۔
سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔
جواب ۔۔ایک بات واضح کردوں کہ اردو ادب میں جدیدیت کا تعلق فرانس کی فانت سینیکل یا انگریزی کی ماڈرن ازم کی تحریک سے نہیں ہے کہ ہر دو کے ادبی ادوار اردو ادب میں جدیدیت کے دور سے بہت مختلف ہیں ، اردو ادب میں جدیدیت کا آغاز چالیس پچاس کی دہائیوں سے شروع ہوا اور اس کے روحِ رواں راشد اور میراں جی تھے اور تھوڑی تاخیر کے ساتھ اس میں مجید امجد شامل ہوئے ، لیکن جدیدیت ہمارے ہاں کو ئی تحریک یا تنظیم کے طور پر نہیں تھی اور نہ شمس الرحمن فاروقی کوئی لیڈر تھے ، یہ تو فقظ ترقی پسند تحریک کے ردعمل کے طور پر اردو کے ادیبوں کا ایک رویہ تھا جو وقت کے ساتھ ماند پڑتا گیا۔ ما بعد جدیدیت کا آغاز میں سمجھتا ہوں کہ بیکٹ کو انیس صد انہتر میں نوبل انعام ملنے کے بعد سے اس کی لکھے جانے والی تحریروں سے ہوا اور بعینہِ یہی دور ہمارے ہاں اردو ادب میں ما بعد جدیدیت کا دور ہے ، واضح کردوں ابھی تک میں نے جو بات کی اس کا اطلاق اردو شاعری بالخصوص غزل نظم پر زیادہ ہوتا دکھائی دیا جبکہ افسانے میں ہمارے ہاں ترقی پسند افسانہ ، پھر علامتی افسانے کی تحریک اور ساٹھ ستر کی دہائیوں میں اس کا عروج اور پھر دو عشروں بعد افسانے کی کہانی کی جانب مراجعت کے ادوار قابلِ ذکر ہیں۔ جہاں تک اردو ادب کے قاری کا معاملہ ہے تو میرے خیال میں قاری نے ہمیشہ تخلیقِ اصل کے حامل بڑے ادیبوں شاعروں کی تحریروں کو ہمیشہ پسند کیا چاہے ان کا تعلق ترقی پسندوں سے تھا ، جدیدیت والوں سے یا پھر ما بعد جدیدیت کے پروردہ اسلوبیاتی تنوع کے حامل ادیبوں سے۔
سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..
جواب۔۔ اک زمانہ تھا جب ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی مباحث عام ہوا کرتی تھیں اور یہ مباحث بعد میں میرے خیال کے مطابق اس نتیجہ پر منتج ہوئیں کہ دراصل جو ادب ہو وہ لازمی طور برائے زندگی ہی ہوتا ہے ، اب یہ بات باقی رہ گئی کہ اصل ادب سے کیا مراد ہے ، ظاہر ہے کہ ایسا ادب جسے جینوئن لوگوں نے تخلیق کیا ہو ، مجھے ڈاکٹر سید عبداللہ کی ایک بات یاد آگئی ’’ ادب یا تو ہمیں زندگی سے محظوظ ہونا سکھاتا ہے یا اسے برداشت کرنا ، جس ادب کا تعلق زندگی سے نہیں ممکن ہے وہ ادب ہو لیکن میں اس پر بیعت نہیں کر سکتا۔ ‘‘ ان حوالوں سے میرا مقصد یہ ہے کہ جینوئن تخلیقات ہمیشہ پڑھنے والوں کے دل و دماغ میں اپنی جگہ بناتی ہیں ، میں یہاں پاپولر ادب کا ذکر کرتا چلوں کہ میں اسے سنجیدہ ادب میں شمار نہیں کرتا کہ اس کے محرکات جزوقتی ، معاشی ، معاشرتی منفعت کی وجہ سے متاثر شدہ ہوتے ہیں۔
سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔
جواب۔۔ ادب ہمیشہ بوریت کے ردِ عمل کے طور پر تخلیق پاتا ہے ، دنیا کے تمام بڑے ادب کی تخلیق کا معاملہ ہو یا ادبی تحریکات کے اجرا کی بات اِن کے پس منظر میں وہاں کے سیاسی ، معاشرتی ، معاشی انسانی حالات کا بڑا عمل دخل ہے ، اس وقت دنیائے ادب میں اچھی نظم اور اچھی نثر افریقی ممالک کے ادیب و شاعر لکھ رہے ہیں اور اس کے واضح محرکات ہیں ، اردو ادب کا جائزہ لیں تو ہمیں واضح طور پر ترقی پسند ادب ، تحریکِ پاکستان ، ہجرت کے ادوار کے ادب میں بڑے ادب کی تمام خصوصیات نظر آتی ہیں۔ جہاں تک موجودہ اردو ادب کا سوال ہے تو میرے خیال میں کچھ اچھی اور پائے کی تخلیقات ہو رہی ہیں لیکن ان تخلیقات کے دوسری زبانوں خاص کر انگریزی زبان میں تراجم یا پھر اچھے تراجم نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارا کام بین الاقوامی سطح پر سامنے آنے سے قاصر ہے کہ اردو ادب تو اردو پڑھنے والے طبقے تک ہی محدود ہے ، آپ نے دیکھا کہ انتظار حسین بڑے ادیب تھے لیکن ان کی بھی عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ہوئی لیکن جب ان کی تحریروں کا ترجمہ ہوا تو ان کی کتاب مین بکر ایوارڈ تک کے لئے نامزد ہو گئی۔
سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔
جواب۔۔ افسانہ نگار: ( منشی پریم چند ) اپنے ترقی پسند نظریات اور افسانوں میں عام آدمی کے مسائل کی حقیقی عکاسی کے باعث۔
سعادت حسن منٹو۔ افسانہ نگاری میں غیر روایتی موضوعات کے مستعمل اور صنفِ افسانہ کی مبادیات کے قدرتی رچاوٗ اور سبھاوٗ کی وجہ سے۔
انتظار حسین۔ اساطیر کے گہرے مطالعہ اور اس کے دریں حالات علامتی و استعاراتی استعمال کے ذریعے جدید فکشن کی تخلیق کے باعث۔
اسلم سراج الدین۔ غیر روایتی اسلوب اورجدید علوم و مطالعہ جات کے افسانوی انداز میں پیش کئے جانے کے باعث ۔
نیئر مسعود۔ افسانے میں ما بعد جدیدیت کے اسلوبیاتی سطح کے کامیاب تجربات کی وجہ سے
ناول نگار:
قرتہ العین حیدر۔تاریخ کے وسیع مطالعہ اور اس کے فکشن کے انداز میں تخلیقی اظہاریہ کے باعث۔
عبداللہ حسین۔ جدید انسانی معاشرت و نفسیات کے قریں مشاہدہ اور ان کے فنکارانہ اُپج کے ساتھ اظھاریہ کے طفیل۔
اسلم سراج الدین۔ پوسٹ ماڈرنز م کے جدید اسلوبیاتی، تکنیکی سطح کے کامیاب تجربات کی وجہ سے۔
سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔
جواب۔۔ اردو افسانے کو دورِ جدید میں موضوعاتی اور اسلوبیاتی ، دونوں سطح پر بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے کہ ہمارے اردگرد لکھا جانے والا بیشتر افسانوی ادب یا تو ریپیٹیشن کے زمرے میں آتا ہے یا غیرِ ادب کی مد میں ، ایسے میں ضرورت ہے کہ جدید سائنسی ، نفسیاتی ، سیاسی ، معاشی ، جینیاتی ، کاسمالوجی ، کونیات ، طبیعات ، ما بعد طبیعات کے موضوعات پر ما بعد جدیدیت کے اسلوبیاتی پیرایوں میں جدید افسانہ لکھنے کی کوششیں کی جائیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادیب ، افسانہ نگار عصرِ حاضر کے جدید علوم و فنون کے مطالعہ سے بہرہ مند نہیں ، یہ کمی اور کجی تنقید کی سطح بھی بہت نمایاں ہے ا ور یہی وجہ ہے کہ ہر دو سطح پر کوئی خاس قبابلِ ذکر کام فی الحال سامنے نہیں آرہا ، جہاں تک قاری کا تعلق ہے تو وہ ہر جگہ ہر معاشرے میں مختلف تخلیقات کو ایک دم کبھی بھی قبول نہیں کرتا اور اس کی تربیت بھی دراصل لکھاری نے ہی کرنی ہوتی ہے لیکن اس کے لئے لکھاری کو پہلے اپنے آپ کو تیار کرنا پڑتا ہے ۔
سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔
جواب۔۔ میں بنیادی طور پر ایک تخلیق کار یعنی افسانہ نگار اور شاعر ہوں اور یہی میری پہچان ہے، اگر دل کی بات کہوں تو مجھے افسانہ نگار اور شاعر ہونا ہی اچھا لگتا ہے۔ میرا نظریہ ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک اچھا تنقید نگار نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود تخلیقی تجربے سے نہ گزر چکا ہو، با الفاظ دِگر میرا یہ ماننا ہے کہ ہر شعرو افسانہ ایک خاص تخلیقی تجربہ و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے اور از خود تخلیقی تجربہ کا حامل ہوئے بغیر اس کی تشریح و توضیح اور اس کی باطن فہمی تو دور کی بات اس کی ظاہری اور اُوپری نہج تک کا ادراک بھی مشکل ہے۔ میں نے پہلے اکتیس سال تک افسانے لکھے ہیں ، شاعری کی ہے تب جا کر مجھے تھوڑا بہت یہ اعتماد حاصل ہوا ہے کہ میں دیگر تخلیقات بارے اپنی نا چیز رائے پیش کر سکوں۔ خالی خُولی تنقید نگاروں کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ چھاج تو بجے پہ چھلنی تو نہ بجے ، یہاں فیس بک کے حوالے سے میں چند ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو دوچار کتابوں کے مطالعے کے زور پر تنقید کی مد میں دُور کی کوڑی لانے کی بہتیری کوشش کرتے ہیں لیکن تخلیق کی سطح پر ان کی تحاریر صفر ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی باتیں تخلیقی تجربے کی حامل نہ ہونے کی بنا پر انتہائی سطحیت کی حامل ہیں اور نقد لکھنے پر آئیں تو غالب سے کم کو ہاتھ نہیں ڈالتے، یہ سراسر زیادتی ہے ، غالب کی شرح و تنقید کے لئے ویسی تخلیقی اُپج اور تخلیقی تجرِبہ بھی چاہئیے۔
ایک بات واضح کردوں کہ میں صرف اصل شاعر اور اصل افسانہ نگار کی بابت بات کر رہا ہوں جبکہ غیرِ شاعر ( (Pseudo Poet اور غیرِمصنف ( (Pseudo Writer میرے نزدیک اہمیت کے حامل نہیں چاہے تخلیقات پیش کریں یا تنقید لکھیں۔ اگر افسانے کی تنقید کے حوالے سے بات کروں تو مجھیمحمد حسن عسکری کا کام بہت پسند ہے ، اردو ادب کے ساتھ اُن کی عالمی ادب پر بھی بہت گہری نظر تھی۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر بھی جدید ادب کے عصری شعور اور جدید تنقید کے قومی و بین الاقوامی ادراک کی وجہ سے مجھے پسند ہیں ۔
سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔
جواب۔۔ بہتیرے ہیں لیکن شاعروں میں مجھے چارلس بودلیئر کی شاعری بہت ہانٹ کرتی ہے ، انکی شاعر کی دو کتب یعنی سپلین ڈی پیرس اور لیس فلیور ڈیو مال کمال کی تخلیقات ہیں۔
ترقی پسند نظریہ و خیال کے حوالہ سے مجھے برٹرینڈ رسل کے مضامین بہت پسند ہیں ، اسی طرح فلسفیاتی گہرائی اور گیرائی کی وجہ سے مجھے ویٹیگن سٹائن اور ان کی کتاب ٹریکٹیٹس لاجیکو فلاسوفیکس نے بہت متاثر کیا ، فکشن کے حوالے سے مجھے روسی ادیب ایوان گونچاروف کے ناول اوبلوموو نے بہت متاثر کیا ۔
سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔
جواب۔۔جیسے جیسے زندگی مصروف سے مصروف تر ہوتی جا رہی ہے ، اردو ادب میں بھی انگریزی کی طرح مختصر فکشن یاافسانے کی ضرورت و اہمیت بڑھ رہی ہے لیکن ایک بات کا خیال رکھیے کہ افسانہ جس قدر مختصر ہوگا ، اس کو لکھنا اسی قدر مشکل ہوگا ، جو لوگ مختصر افسانہ کو آسان ہدف کے طور پر اپنانے کی سعی کرتے ہیں یا کر رہے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔
سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔
جواب۔۔ میں بنیادی طور پر سیلف میڈ آدمی ہوں ، مجھے زندگی میں سب کچھ یا کہہ لیں کہ کچھ بھی کیا کرایا یا ہوا ہوایا نہیں ملا ، زندگی کی چھوٹی بڑی ضرورتیں خود بہم کرنا پڑی ہیں جس کی بنا پر زندگی سخت محنت پر مبنی ھونے کی بنا پرسچی بات کہوں تو خوشی بہت کم اثر کرتی ہے یا یوں کہہ لیجے کہ حاصل ہی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کریز تقریبا ختم ہو جاتا ہے۔ میرے مطابق تو زندگی میں کھو دینے کی تکلیف زیادہ رہی ، تین بڑے حادثات گزرے ، پہلے واقعہ میں ایم فل کی ریسرچ کے دوران ، لیب میں کھولتی ہوئی الکلی دونوں آنکھوں اور چہرے پر گر گئی ، ڈاکٹروں نے نظر کی بحالی بارے شک کا اظہار کیا ، تین چار ماہ کچھ نہ دیکھ سکا لیکن پھرآہستہ آہستہ نظر آنا شروع ہو گیا ، دوسرے واقعہ میں گوجرانوالہ شہر میں بینک کے قرضے سے بنایا ہوا گھر دورانِ فروخت ایک پراپرٹی گینگ نے ہتھیا لیا جس وجہ سے تھانوں ، کچہریوں اور عدالتوں میں رسوا ہوتا رہا لیکن ہمت نہیں ہاری اور نئے سرے سے زندگی کی بنیاد رکھتا رہا ، پھر کچھ سال پہلے میری والدہ کا انتقال ہو گیا تو جیسے زندگی اندھیر ہو گئی ۔ سیدھی بات ہے کہ تمام عمر لکھنے لکھانے سے متعلق رہ کر ہی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔
سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔
جواب۔۔ محبت ، عشق کا دائرہ محدود اور مسدود نہیں ہے، نہ ہی کوئی ذاتی تجربہ اس قدر اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے چہ جائیکہ اس کی تہہ میں کوئی آفاقی فکر کارفرما نہ ہو ، سادہ طور پر یوں سمجھ لیجے کہ محبت کرنے سے محبت کرنی آجاتی ہے ، عشق سے عشق کے قابل ہو پاتا ہے انسان لحاظہ وہ جز میں کل کو دیکھنے لگتا ہے، دوسرے لوگوں کے دکھ تکالیف اسے اپنے ہی دکھ درد لگنے لگتے ہیں ، یہی وہ شے ہے جس کی کہ فطرت ، ادیان ، فکشن راہ دیکھتے آئے ہیں مگر اس کا حصول محبت میں ہے ، محبت سے ہے۔ اتنی اچھی اور من بھاونی شے تھی تو مجھے بھی لازمی ہوئی ہو گی۔
سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔
جواب۔۔ میں ایک مزے کی بات آپ کو بتا تا ہوں ، میں اکثر گھر میں اعلان کرتا ہوں کہ سنو سنو کوئی بتاوٗ کہ میری اب تک نو کتب شائع ہوئی ہیں ، کیا کسی نے مجھے قلم کاغذ لے کر باقاعدہ لکھتے دیکھا ہے تو جواب آتا ہے کہ نہیں تو ، اس کا مطلب ہے کہ میرا لکھنے کا کوئی مخصوص یا باقاعدہ طریقہ کار نہیں ہے ، مجھے اتنا یاد ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرا لکھنے کا عمل دل و دماغ میں خودکار نظام کے تحت سر انجام پاتا رہتا ہے اور جب پایہٗ تکمیل کو پہنچتا ہے تو دل اس کو صٖفحہٗ قرطاس پر منتقل کرنے پر مائل ہوتا ہے ، میرے بعض افسانوں کی تخلیقی عمر یعنی میرے دل و دماغ کے پزاوے یا چندے میں رہنے کی عمر میری عمر کے برابر ھو گی۔ میری دانست میں سوچ سوچ کر اور خاص فکر کو ذھن میں رکھ کر افسانہ لکھنا مشکل ہے ، صرف اپنے تخلیقی تجربہ کی بنا پر بات کر رھا ہوں۔
سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔
جواب۔۔ میری کوئی باقاعدہ صف نہیں ہے ، حقیر فقیر آدمی ہوں ، یہ ضرور ہے کہ میں نے اپنے حساب سے ، متاثر ہوئے بغیر، اپنے اوریجنل اسلوب و احساس کے ساتھ لکھنے کی کوشش کی ہے جن میں فینٹسی فکشن کی بجائے سنجیدہ سائنسی ، ادیانی ، سیاسی اور فلسفیاتی موضوعات کو فکشنلائز کرنا شامل ہے، میرے لئے میرا خیال ہے کہ یہ کافی ہے، ویسے بھی تخلیق کی اپنی بڑی تسلی اور تشفی ھوتی ہے جو مجھے کسی نہ کسی حد تک حاصل ہے مگر میری یہ سعی ابھی بہت لوگوں سے مخفی ہیں ۔
سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔
جواب۔۔ تخلیقی کام کونے کھدرے میں بیٹھ کر کرنے کا ہوتا ہے اور میں نے اک عمر یہ کام اپنی پوری دیانتداری اور احساس پروری کے ساتھ کرنے کی سعی کی ، مجھے کافی عرصہ پہلے یہ بات سمجھ آ گئی تھی کہ ادب ایسا میدان نہیں کہ جہاں آنا فانا کوئی معجزات رو نما ہوں اور آدمی دیکھتے دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے ، میں نے اس بنیادی فکر کو ذھن سے نکال کر لکھا ہے ، فی زمانہ ادب میں فروغ و ستائشِ باہمی کے رحجانات بھی ہیں بلکہ سدا سے رہے ہیں ، ادب میں فوری رسپانس کی ریت بھی کم ہے ، ان سب چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ، دیگر لکھاریوں اور خاص کر نئے لکھنے والوں سے بھی مجھے اسی حوصلے ، تحمل اور ادبی بردباری کی تمنا ہے !
سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔
جواب۔۔ خلل پذیر بود ہر بنائے می بینی
مگر بنائے محبت کہ خالی از خلل است ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سید کامی شاہ ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سید کامی شاہ ۔۔۔۔۔ انٹرویو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اردو لکھاری ڈاٹ کام) میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار  1..آپ کا اصل …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہت شکریہ , بڑی محبت عزیزم محمد زبیر مظہر پنوار , اردو لکھاری ڈاٹ کام کے سبھی دوستوں کا ممنون احسان ہوں , سلامت رہیں , شاد رہیں –

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے