سر ورق / کہانی / خواب!۔ یاسین صدیق

خواب!۔ یاسین صدیق

خواب !

یاسین صدیق

دوسرا اور آخری حصہ

میرا دل تو چاہا کہ اس کا منہ نوچ لوں مگر اس سے حاصل کچھ نہیں تھا۔ اس لیے اس کی زہر بھری باتیں سنتا رہا۔ جب برداشت نہ ہوئیں تومیں نے دلیل سے اپنے حالات بتائے۔

”آپ کو بھائی اچھا اسٹارٹ مل گیا تھا۔ ایک واضح راسة ،آپ نے اس راستے پر محنت کی اور آپ کے پاس اتنے پیسے تھے کہ آپ نے میڈیکل سٹور کھول لیا ۔“

 میں ایک لمحے کو رکا اسے غور سے دیکھا اور دوبارہ کہا ۔” جب میں نے کام شروع کیا تو گھر کے حالات درگوں تھے۔ مجھے والد کی ادویات خرید ناتھیں گھر کا چولہا جلانا تھا۔ آپ کے ساتھ خدا کے فضل سے کوئی ایسی پرابلم نہیں تھی۔ابو کی وفات کے بعد ہم مقروض تھے وہ قرض اتارنا تھا ۔آپ نے چار سال تک بناں تنخواہ کے کام کیا ۔تب یہاں تک پہنچے ۔ اور میرے گھر میں چار ماہ تک گزارہ مشکل تھا۔“

 مگر میری یہ دلیل ان کے سر پر سے گزر گئی ۔کہنے لگے ۔”تم اب بھی کوئی کام مستقل طور پر کرلو ۔“ میں نے ان سے وعدہ کیا ۔

امی جان نے چائے اور بسکٹ سے ان کی ضیافت کی۔ وہ تکلف کرتے رہے۔ پھر باتوں کا موضوع بدل گیا۔امی جان بھی وہاں موجود تھی جب اس نے بتایا ۔”میں جلد امی ابو کو خالہ عائشہ کے گھر بھیج رہا ہوں تاکہ کلثوم کا رشتہ پوچھ آئیں ۔“

میری تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔دل چاہا ۔ کفیل کو مارنا شروع کر دوں ۔

 کفیل میرے حالات سے بے خبر اپنی سنائے جا رہا تھا اور امی جان بھی سن رہی تھیں ۔امی جان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ اس کا بیٹا کلثوم سے کتنی محبت کرتا ہے۔میری محبت بارے چند افراد کو ہی علم تھا۔جن میں ایک بشری کو علم تھا۔ کیا اس نے بھی کفیل کو نہیں بتایا تھا ۔میں نے غور سے اسے دیکھا کہ مذاق تو نہیں کر رہے ۔لیکن وہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ویسے بھی کفیل بھائی سے میری بے تکلفی نہیں تھی ۔میں تو ان کے سٹور پر بھی بہت کم جایا کرتا تھا ۔جب تک والدہ زندہ رہے ہماری تایا جان سے کشیدگی رہی ۔ان کی وفات کے بعد علیم عالی و بشری اور تائی سے کسی حد تک تعلق قائم ہوا تھا ۔تایا جان تو ابا جان کی وفات کے بعد اب تک ہمارے گھر نہیں آئے تھے ۔ کفیل بھائی امی جان سے کہہ رہے تھے۔

”چچی میری بات پلے باندہ لیں ۔خرم کی شادی تب کرنا جب یہ اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہو جائے کوئی کام کرنے لگ جائے ۔بعد میں اخراجات پڑھ جاتے ہیں۔“ مگر مجھے کچھ سنائی نہ دے رہا تھامیں وہاں سے اٹھ آیا۔میں گھر سے تو باہر نکل آیا تھا۔ مگر جاتا کہاں۔ کسی جگہ قرار نہ تھا ۔میرے لیے ہر جگہ ایک جیسی تھی ۔ میں واپس آ گیا۔اس وقت کفیل اپنے گھر جانے کے لیے تیار تھے ۔

 رات ہو رہی تھی آج میں بہت اداس تھا۔ بہت اضطراب تھا۔ بہت بے چینی تھی ۔آج میں بہت اداس تھا ۔ مجھے متلی سی ہو رہی تھی۔ دل گھبرا سا رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرے ساتھ جو ہو رہا وہ درست ہو رہا ہے یا کہ غلط ہو رہا ہے ۔میرا دماغ خالی خالی سا تھا مجھ سے شام کا کھانا بھی نہ کھایا گیا۔ میرا تو سینہ بند ہو رہا تھا۔ رات بھر میں لیٹا چھت کو تکتا رہا۔

میں نے سوچ لیا تھا کہ کلثوم سے بات کرو ں گا کہ وہ کفیل کا رشتہ آئے تو انکار کر دے۔ وہ خود بھی مجھے پسند کرتی تھی ۔ میری خامی یہ تھی کہ میں غریب تھا اور میرا کوئی خاص مستقبل نہ تھا۔ مگر کفیل سے میں خوبصورت زیادہ تھا ۔میری عمر بھی اس سے دوچار سال کم ہو گی۔ یوں مجھے ڈھارس بندھ گئی تھی۔اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کلثوم مجھے پیار کرتی تھی ۔میں نے برسوں خیالوں میں اسے سوچا تھا ۔

میں رابعہ کی شادی کر دیتا اس کے بعد مجھے کوئی فکر نہیں تھا۔ امی جان نے رابعہ کی پیدائش سے ہی اس کا جہیز بنانا شروع کردیا تھا ۔رابعہ کے رشتے بھی آ رہے تھے۔ بس انتخاب کرنا تھا۔ امی جان میری اور رابعہ کی شادی ایک ساتھ ہی کرنا چا ہتی تھی۔ مگر ابو کا خیال تھا کی پہلے رابعہ کی کردی جائے خرم کی بعد میں دیکھی جائے گئی۔اب ابو نہیں رہے تھے فیصلہ مجھے کرنا تھا ۔میںنے رابعہ کی شادی کا فیصلہ کر لیا ۔

سردیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا ۔دھند گزشتہ کئی ایک سال سے زیادہ پڑ رہی تھی ۔سعید دو دن سے بیمار تھا ۔اسے ٹھنڈ لگ گئی تھی ۔اس رات اس کی بیماری میں اچانک شدت آگئی ۔اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا اور محسوس ہونے لگا کہ بس اب آخیر قریب آ گیا ہے ۔میں گلی میں آن کھڑا ہوا ۔کار اسٹینڈ دور تھا ۔ایک رکشہ پکڑا ۔میں نے اور حمید نے اسے رکشہ میں بٹھایا ۔ساری رات ہسپتال میں کٹ گئی ۔صبح طلوع ہونے کے ساتھ دو پریشانیاں تھیں ۔گھر جانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے ۔اور گھر میں بھی پیسے نہیں تھے ۔ابھی سعید کو مکمل آرام نہیں آیا تھا لیکن اب وہ یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ آرام محسوس کر رہا ہے ۔ ا ±س کے سینے کا درد اور بخار اچانک غائب ہو گئے ہوں ۔ اور اس کا چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہشاش بشاش دکھائی دے رہاتھا۔لیکن ڈاکٹر نے کہا تھااس کے سینے میں شدید انفکشن ہوا ہے ۔اسے ہسپتال میں ہی داخل رہنے دو ۔میں نے حمید کو وہاں چھوڑا اور خود پیدل ہی گھر کی راہ لی ۔گھر تک سوچوں میں گم پہنچ گیا ۔دروازے پر دستک دینے سے پہلے خیال آیا ”مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور گھر میں تو کوئی پیسے نہیں ہیں ۔“اسی وقت دروازہ کھل گیا سامنے امی کھڑی تھی ۔اسے کیسے علم ہوا کہ میں آنے والا ہوں ۔میں نے سوچا اور سلام کے بعد گھر داخل ہو گیا ۔

”کیسا ہے اب سعید ۔“اس نے پہلا سوال پوچھا ۔’

’اب بہت بہتر ہے ۔“میں نے کہا ۔رابعہ مصلے پر بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی ۔مجھے دیکھا تو قرآن پاک بند کر کے اندر رکھنے چلی گئی ۔واپس آ کر مجھ سے لپٹ گئی جیسے صدیوں کی بچھڑی ہو ۔میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا ۔آدھے گھنٹے بعد میں تایا جان کے گھر تھا ۔میں نے صرف عالی کو حالات بتائے اس نے نہ صرف دو ہزار لا کر دیے بلکہ میرے ساتھ ہی چل پڑا ۔وہ سیدھا ہسپتال چلا گیا ۔میں امی اور رابعہ کو تانگے پر ہسپتال لے آیا ۔حمید باہر ہی مل گیا ۔رات کو جاگ کر اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ہم سعید کے پاس پہنچے اب محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ پچھلے دو تین دن سے وہ بستر پڑا ہو تھا اور ا ±س کی حالت سخت خراب تھی ۔ وہ تکیے کی ٹیک لگا کر بستر پر بیٹھا تھا ۔شام تک عالی ہسپتال رہا ۔اس کے جانے کے بعد میں نے حمید اور امی وغیرہ سے کہا کہ وہ بھی گھر چلی جائیں ۔کافی دیر سے سعید سو رہا تھا ۔کمرے میں اب کچھ اندھیرا ہونے لگا تھا ۔ہم نے کافی دیر سے سعید کی طرف کوئی توجہ نہیں دی تھی ۔ اب جب امی جب گھر جانے سے پہلے اسے دیکھنے اس کے بستر کے پاس پہنچی اسے جگانے کی کوشش کی ،اسے ٹٹولا اس کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی ۔امی چونکی ۔مجھے آواز دی ۔رابعہ مجھ سے پہلے پہنچی ۔میں ڈاکٹر کو بلانے چل پڑا ۔جب میں ڈاکٹر کو لے کر آیا۔ امی جان ، سعید کے بسترپر اس سے لپٹ کر رو رہی تھی ۔نرس نے امی کو پکڑ کر الگ کیا ۔ڈاکٹر نے سعید کی نبض چیک کی ،سینے پر زور زور سے ہتھڑ مارے ۔میری طرف مایوسی سے دیکھا ۔اب کہنے کو کچھ نہیں رہا تھا ۔وہ جسے ہم سمجھ رہے تھے کہ سعید سو رہا ہے ۔وہ اس وقت سے موت کی نیند سو رہا تھا ۔

٭٭٭

تین ماہ گزر گئے ایک دن کام سے چھٹی کے بعد میں سیدھا تایا جان کے گھر جا پہنچا۔علیم عالی مل کر بہت خوش ہوا ۔ عالی اور کفیل میں فرق یہ تھا کہ کفیل خود کو بہت بڑی توپ سمجھتا تھا ۔اس میں غرور بھی پایا جاتا تھا ۔علیم ایسا نہیں تھا ۔حلانکہ دونوں بھائی تھے ۔عالی نے بی اے کرنے کے بعد زمین داری سنبھال لی تھی ۔مال مویشی رکھے تھے ۔دو ایکڑ ان کی اپنی زمین تھی ۔باقی اس نے ٹھیکے پر لے رکھی تھی ۔تایا جان نے اب کام چھوڑ دیا تھا ۔حقہ ہوتا اور تایا جان ہوتے ،ان کے دوست ہوتے ،جوانی کے قصے ہوتے ۔تائی اس گھر میں سب سے ہمدرد خاتون تھی ۔بشری تھی گھر میں رقیہ کی شادی ہو چکی تھی ۔تایا جان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سورج غروب ہو گیا ۔ان کے ہر سوال میں کفیل کی طرح پیسہ لازمی ہوتا تھا۔پنی تعریف لازمی ہوتی تھی ۔ہم اعلی ہیں تیرا باپ گھٹیا تھاکیونکہ وہ غریب تھا ۔

شاید یہ ہی وجہ تھی کہ اباجان کی تایا جان سے بنی نہیں تھی ۔اب یہ خامی یا خوبی کفیل میں پائی جاتی تھی ۔میں بڑی مشکل سے ہربات کے جواب میں بین السطوربتاتا رہا کہ

”آپ اعلی ہیں ،عقل مند ہیں ،پیسے والے ہیں،میرا والد بے وقوف تھا ،میں بے وقوف ہوں ۔کیونکہ ہم غریب ہیں ۔“

علیم بھی میرے ساتھ بور ہوتا رہا ۔خدا خدا کر کے ہماری جان چھوٹی ۔ہم گھر میں داخل ہوئے ۔دروازے پر علیم کہنے گا ۔

”آپ ابو کی بات کا برا نہ منایا کریں ۔“

”مجھے علم ہے کہ ان کی عادت ہے ۔“میں نے جواب دیا ۔

تائی بڑے تپاک سے ملی ۔بشری چپ چپ تھی۔وہ شوخیاں ،وہ تبسم ،وہ قہقے نہ رہے تھے ۔جیسے ہی تنہائی کا وقت ملا کہنے لگی ۔”خرم بھائی آپ کو ایک بات بتانا تھی ۔“

میں نے کہا ۔”میں نے کب روکا ہے بتادو۔“

” کفیل کہتے ہیں ،میں نے شادی کرنی ہے تو صرف کلثوم سے ۔میں نے اسے بتایا کہ کلثوم خرم سے محبت کرتی ہے ۔لیکن وہ سمجھ نہیں رہے “

اسی وقت عالی بھی واپس آگیا ۔بشری نے مایوسی سے مجھے دیکھا ۔میں نے کہا ۔”آپ بات جاری رکھیں ۔“

وہ ہمارے پاس ہی بیٹھ گی ۔”کفیل بھائی اور کلثوم میںاب موبائل پر روزبات بھی ہوتی ہے ۔“ان دنوں نئے نئے موبائل مارکیٹ میں آئے تھے ۔اور چند ایک ماڈل ہی دستیاب تھے ۔جن میں 3310 بھی شامل تھا جو بعد ازاں بابائے موبائل کہلایا ۔

”اچھا اگر یہ بات ہے تو میں کلثوم سے ایک بار بات کر لیتا ہوں ۔‘میں نے عالی کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

”ہم نے بھائی کو بتایا ہے کہ خرم اور کلثوم بچپن سے ایک دوسرے کو چاہتے ہیں ۔اور ان مین دوستی ہے ۔لیکن وہ نہیں مان رہے ،وہ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔“

”کیا کہتے ہیں ۔؟“

”کہتے ہیں ،دوستی ہے تو کیا ہے کزن ہیں۔بچپن کی محبت کچھ نہیں ہوتی ۔عورت کی زندگی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ اور ۔۔۔۔۔۔“

اس نے ہونٹ بھینج لیے ۔میں نے اس نے چہرے پر نظریں گاڑ دیں اور پوچھا ۔”اور۔۔۔۔کیا کہتا ہے ۔“

”نہیں کچھ نہیں بس ۔“

”پھر بھی ۔۔۔۔“میں نے زور دے کر کہا ۔تو اس نے نظریں جھکا کر بتایا ۔

”کہتا ہے ،خرم کے پاس ہے کیا ۔نہ نوکری،نہ پیسے ۔صرف شکل صورت اور اچھی اچھی باتیں کرنے سے زندگی بسر نہیں ہوتی نہ پیٹ بھرتے ہیں اور نہ ہی اس معاشرے میں عزت ملتی ہے ۔“

میں نے کہا ۔

”بے شک کڑوا ہے لیکن سچ یہی ہے ۔پھر بھی دیکھتے ہیں ۔میں جلد فیصل آباد جاوں گا ۔مجھے اپنی بہن کی زیادہ فکر ہے ۔اس کی شادی کا فکر ہے ۔“میں دل کی بات زبان پر لے آیا ۔

”آپ فیصل آباد جائیں ،پہلے کلثوم سے بات کریں ۔رابعہ کی فکر چھوڑ دیں ۔“عالی جو اب تک خاموش تھا اچانک بول پڑا ۔

میں نے اس پر صرف عالی کی جانب دیکھا ۔

”آپ نے اب تک کلثوم سے کوئی خاص رابطہ بھی تونہیں رکھا۔“بشری کہنے لگی

”بھائی کفیل سابقہ چار ماہ میں چار مرتبہ فیصل آباد سے ہو آئے ہیں ۔“ہماری خاموشی پر بشری نے ہی دوبارہ بتایا ۔

ہم ایسی ہی باتیں کر رہے تھے جب تائی جان وہاں آ بیٹھی ۔پھر باتوں کا موضوع بدل گیا ۔ایک گھنٹا وہاں گزار کر میں گھر لوٹ آیا ۔علیم عالی باہر تک چھوڑنے آیا تھا۔رات ڈھل گئی تھی جب میں گھر آیا ۔رابعہ نے کھانا دیا ۔ حمید کو میں نے اپنے کمرے میں بلایا ۔ان سے تعلیم کا پوچھا ۔حمید اختر نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ اس نے کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا ۔جو پیسے میں نے اسے دے تھے وہ اس کے پاس تھے ۔وہ ایک الیکٹریشن کی دکان پر کام کر رہا تھا ۔اسے کام کرتے ہوئے دوماہ ہو چکے تھے ۔اب اسے پیسے بھی مل جاتے تھے روز کے بیس روپے ۔اس نے اس راز میں کسی کو شریک نہیں کیا تھا۔وہ صبح کالج جانے کی تیاری کرتا ۔شہر دکان پر جاتا ۔وہاں کپڑے تبدیل کر کے کام کرتا ۔شام دوبارہ کپڑے تبدیل کر کے گھر واپس آجاتا ۔میں نے کچھ اور کہنے کے لیے بلایا تھا ۔لیکن بھائی کی یہ بات سن کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔میں نے اٹھ کر اسے سینے سے لگا لیا ۔مجھ سے تو کچھ کہا بھی نہیں گیا ۔مجھے خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی ہوا ۔

٭٭٭

 میں نے اپنے دھڑکتے دل سے دروازہ پر دستک دی۔ تھوڑی دیر کے بعد کلثوم کی آواز آئی ۔”کون ہے ؟“

”ایک پردیسی۔“

”کون پردیسی۔“آواز میں روکھا پن تھا ۔

 میں نے اپنا نام بتایا تو اس نے جھٹ دروازہ کھول دیا۔ لیکن دروازے کو پکڑے ہی رہی ۔ یا پھر طاق چھوڑ نے کا اسے خیال نہیں آیا وہ مجھے دیکھتی ہی رہ گئی ۔میں نے بھی اسے کافی عرصے کے بعد دیکھا تھا۔اس کا جسم بھر گیا تھا وہ موٹی نہیں تھی لگتی تھی ۔اس کا بدن کسا کسا ساتھا ۔یا اس نے کسا کسا سوٹ پہنا تھا۔آنکھوں میں چمک پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔ اس نے کبھی مجھے اس طرح ایک ٹک دیکھا بھی نہیں تھا ۔

 میں نے قدم اس کی طرف بڑھا دیے۔ وہ سامنے سے ہٹی نہیں۔ میں نے ایک ہاتھ سے اسے سائیڈ پر کرنا چاہا ۔ اس نے مجھے باہوں میں بھرلیا۔دروازہ کھلا تھا ۔میں نے ٹانگ مار کر اسے بند کیا ۔وہ پہلی مرتبہ میرے گلے نہیں لگی تھی۔ مگر اب کے بات اور تھی۔ مجھے یقین ہو گیا وہ مجھ سے اب بھی محبت کرتی ہے۔ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے ۔یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہے ۔اس وقت میں نے سوچا اندر آنٹی ہو گی۔ وہ کیا سوچے گی ۔میں نے سر گوشی کی ۔”خالہ کدھر ہے؟“

”وہ چچا اکبر کے گھر گئی ہے ۔“اس کی آواز میں لرزش تھی ۔

میں اسے چومتا چلا گیا اس کے گلابی رخسار اور گلابی ہو گے ۔ میں نے اسے چھوڑا تو اس نے دروازہ کو کنڈی لگا کر میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

” میں تمھارا روز انتظار کرتی تھی ۔ مگر تم تو مجھے بھول گئے ۔تم کو علم ہے کہ تم میری پہلی محبت ہو ۔“

” دوسری محبت کو ن سی ہے ؟“میں نے اس کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے سب سے اہم سوال پوچھا۔

اس نے گھور کر مجھے دیکھا اور بات بدل دی ۔”آج سے پانچ برس پہلے جو میں نے رابعہ کو خط دیا تھا۔کیا تم کو مل گیا تھا ۔“

میں نے اقرار میں گردن ہلا دی۔

” تو تم نے جواب کیوں نہیں دیا۔“

” جواب کی بجائے میں خود جو آگیا ہو ں ۔“

”بڑی جلدی آ ئے ہیں آپ ۔“

کمرے میں آ کر اس نے بستر کی چادردرست کی۔ میں بیٹھ گیا ۔ کہنے لگی ۔

”بولو کیا کھاو ¿ گے ۔ کیا پیو گے ۔“

 میں نے کہا۔” بس تم میر ے پاس بیٹھ جاو ¿۔ تمھاری آنکھوں سے ہی پیوں گا۔“

” مجھ سے شادی کرلو ۔ میں تمھاری ہو جاو ¿ں گی۔“

 میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا ۔اس نے مزاحمت نہیں کی ۔اس کی سانسوںکی گرم مہک نے مجھے بے خود کردیا ۔جیسے جادوگرنی پھونکیں ماررہی ہو ۔ کافی دیر تک میں اسے پیا ر کرتا رہامگر دل بھرتا نہیں تھا۔ میرے ہاتھ جب حد سے آگے بڑھے تو اس نے مجھے روک دیا۔

”خرم نہیں ۔ابھی نہیں۔ امی آگئی تو۔“

 وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ مجھے بڑی شرم محسوس ہوئی۔ ابھی ایک لمحہ پہلے مجھ پر شیطان غالب آ گیا تھا۔ میں نے سوچا اس سے معافی مانگ لو ں۔مگر وہ مسکرا رہی تھی کہنے لگی۔

” ابھی اتنا حق آپ کو حاصل نہیں ہے ۔یہ حق نکاح کے بعد ملتا ہے۔“

 میں نے کہا ”اچھا نکاح بھی ہو جائے گا ۔“

”میںاس رات کا انتظار کرتی رہوں گی۔“

 اس نے اپنے لباس کو درست کیا ۔بال سنوارے اور بھاگ کر منہ ہاتھ دھوآئی۔تو لیے سے منہ صاف کیا۔گیلا تولیہ میرے منہ پر پھیرا اور کہنے لگی ۔

” اب کوئی شرارت نہ کرنا ۔ امی جا ن کسی لمحے بھی آسکتی ہے ۔“

” میرے ساتھ آجاو ¿۔ باورچی خانے میں ۔ہم باتیں کرتے ہیں ۔ورنہ امی ناراض ہو گی کہ میرے بھانجے کو کچھ کھلایا نہیں ۔“

 میں اس کے ساتھ باورچی خانے میں آگیا۔

” تم سے ایک بات کرنی ہے۔“ اس نے مجھے دیکھا ۔

”مھاری باتیں تو سننے کے لیے آیا ہوں ۔“

” میرے رشتے آرہے ہیں۔ ابو جان کہ رہے کہ ہم نے کلثوم کی شادی وہاں کرنی ہے جو گھر داماد بن کر رہے۔“ہمارے درمیان خاموشی کا ایک طویل وقفہ آیا اس دوران چائے بن گی ۔اس نے دو کپ بھرے ۔ایک میرے ہاتھ میں تھما دیا ۔پھر خود ہی خاموشی کو توڑا

” میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ تم میری خاطر یہ بات قبول کرلو ۔“

”شاید یہ ممکن نہ ہو۔“میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

” مگر میری خواہش ہے کاش تجھ سے شادی ہو جائے ۔تم جا کر اپنے خالہ کو بھیجو تو سہی ۔“

”وہ تو میں بھیج دوں گا ۔لیکن سوچ لو ۔اب انکار کا دکھ ان سے برداشت نہ ہوگا ۔“

” ایک بات اور کرنا ہے ۔تمھارے تایا جان ایک ماہ پہلے آئے تھے ۔انہوں نے کفیل بارے بات کی تھی ۔اس رات ہی ابو نے امی سے گھر جوائی رکھنے کا کہا تھا۔اب ان کا کوئی بیٹا تو ہے نہیں ۔ایک لحاظ سے وہ ٹھیک ہی سوچتے ہیں ۔“

”خالہ عائشہ ابھی تک نہیں آئیں ۔“میں نے پوچھا

 اس نے بتایا ۔” چچی سعدیہ کی طبعیت خراب ہے کوئی زچگی کا مسلہ ہے۔“

ہم چائے کے کپ پکڑے باورچی خانے سے باہر نکل آئے ۔برآمدے میں پڑی چارپائی پر میں بیٹھ گیا ۔سامنے ایک سٹول رکھ کر وہ بھی بیٹھ گی ۔ہم ابو بکر کی ،سعید کی باتیں کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی ۔

میں نے جا کر دروازہ کھول دیا ۔ خالہ عائشہ تھی اس کا رنگ اڑا ہو ا تھا۔ وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گی ۔پھر مجھے گلے لگایا۔ اور کلثوم کا پوچھا ۔میں نے کہا اندر ہے ۔

خالہ عائشہ اندر آئی اور میرے بارے میں پوچھا۔” کب آئے ۔“

” ابھی تھوڑی دیر پہلے ۔“

”اچھا ہوا تم گھر میں ہو ۔مجھے دوبارہ جا نا ہے ۔سعیدہ کو ہسپتال لے کرجاناہے ۔میں کلثوم کو لینے آئی تھی ۔کچھ کھایا پیا ہے یا نہیں ۔“

اتنی دیر میں کلثوم بھی کمرے سے نکل آئی ۔یہ ہی باتیں خالہ نے کلثوم سے کیں ۔اور کہا ۔”خرم کو بازار بھیج کر گوشت منگوا لو ۔شام کا کھانا تیار کر لو ۔میں ہسپتال جا رہی ہوں ۔شام کو تمہارے ابو آ جائیں گے ۔ تو اس کے ساتھ ہی تم دونوںبھائی اکبر کے گھر آ جانا ۔“

کلثوم نے کہا ۔”ٹھیک ہے امی ۔ویسے سعیدیہ کیسی ہیں اب ۔“

”دعا کریں ۔“ یہ کر خالہ دوبارہ واپس جانے کو مڑ ی تو کلثوم نے کہا ایک منٹ رک جائیں ۔وہ باورچی خانے میں گئی اور خالہ کو چائے لا کر دی ۔چائے پینے کے دوران خالہ تاکید کرتی رہی ۔”گوشت منگوا لینا ،کھانا جی پھر کر کھانا ۔تمہاری امی کیسی ہے ؟ رابعہ کیسی ہے ؟ حمید کیا کرتا ہے ؟ “۔میں انہیں ان باتوں کے جواب دیتا رہا ۔جب وہ جانے لگی تومیں نے کلثوم سے کہا ۔”میں ابھی آیا ۔“اور خالہ کے ساتھ ہی گھر سے نکل آیا ۔خالہ اپنے دیور اکبر کے گھر کی طرف مڑ گی اور میں بازار کی طرف۔ آدھے گھنٹے بعد میں گوشت لے کر واپس آگیا تھا ۔دن کے بارہ بج رہے تھے ۔وہ پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔اس کا لباس بھی بدلا ہوا تھا ۔اس نے اس آدھے گھنٹے تو ضائع نہیں کیا تھا ۔اس نے آٹا گھوندھا ،روٹیاں پکائیں ،دو انڈے پکائے میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا ۔اس کے چہرے پر سکھ کے آثار تھے میں اسے تکتا رہا۔ میں اس کے ساتھ ہی باورچی خانے میں بیٹھا اسے جی بھر کر دیکھتا رہا ۔کہنے لگی میرے چہرے پر کیا دیکھتے ہو میں نے بتایا کہ

”میں تجھے دیکھنے کو ترس گیا تھا سوچا آج جس بھرکے دیکھ لوں پھر زندگی میں موقع ملے نہ ملے۔ “

 تجھے دیکھا ہے آج برسوں کے بعد

 آج کا دن گزر نہ جائے کہیں

اس نے با ت بدل دی کہنے لگی ”اپنے بالوں کا خیال رکھا کرو“ اور مانگ بائیں طرف نکالا کرو ۔“

میں نے کہا” میں اپنی طرح سے کافی لاپروہ ہوں ۔تم میری ہو جاوگی تو مجھے اٹھنا بیٹھنا اور بن سنور کر رہنا آجائے گا۔“

کھانا کھانے کے بعد وہ میرا لایا ہواگوشت دھونے لگی ۔میں نے کہا ۔”ابھی تو کھانا کھایا ہے ۔“

اس نے شوخ نظروں سے دیکھا ۔”یہ تو شام کے لیے ہے ۔“

”شام تو ابھی بہت دور ہے ۔“۔”دور ہے تو پھر کیا کریں ۔“

میں نے اٹھ کر اس کا بازو پکڑلیا ۔اس نے گوشت کو وہیں چھوڑا ۔اٹھ کھڑی ہوئی ۔مجھے کہنا نہیں پڑا ۔خود ہی میرے گلے لگ گی ۔

”یہاں نہیں ،کمرے میں ۔“اس نے کہا ۔لیکن کمرے کے دروازے پر پہنچ کر کہنے لگی ۔

”پہلے باہر کا دروازہ اچھی طرح دیکھ کر آو “

میں واپس آیا تو اسے نے خود کو میرے سپرد کر دیا ۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔اور مسکراہٹ میں بلا کی کشش تھی ۔میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا تھا ۔جیسا اس نے سوچا تھا۔چند لمحوں بعد میں نے حسن و دلکشی کی وہ روشنی دیکھی کہ آنکھیں جھپکانا بھول گیا ۔یہ روشنی آگے بڑی اور میری گود میں سما گی ۔وہ سرگوشی میں کہہ رہی تھی ۔”میں نے خوابوں میں تیرے ساتھ ایسے لمحے ہزاروں بار گزارے ہیں ۔“

شاید اس لیے اس میں اتنی بے باکی تھی ۔میں اس روشنی کو سمیٹنے لگا ۔اس کے کتنے رنگ تھے ۔میں نے ایک ایک رنگ کو دیکھا اور چھوا۔مجھ پر نشہ چھانے لگا ۔میں نشے میں بہتا بہتا روشنی کے ساتھ ساتھ دور بہت دور نکل گیا ۔مجھ پر روشنی کی برسات برس رہی تھی ۔ہم بار بار اس روشنی میں خوب نہائے ۔نہا دھو کر اس نے لباس بدلا۔ وہ کلی سے پھول بن کر نکھر گی تھی ۔اس کی چال بھی بدل گی تھی ۔میں نے نہا کر اپنے ساتھ لایا دوسرا سوٹ پہنا بائیں طرف مانگ نکالی ۔ شیشے میں خود کو دیکھا تو دیکھتارہ گیا۔بالوں کا انداز بدل دینے سے بھی آدمی کی شخصیت پر اثر پڑتا ہے۔ اس بات کا مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا۔وہ گوشت پکا رہی تھی ۔میں پاس جا بیٹھا ۔مجھے دیکھ کر اس نے شرما کر گردن جھکا لی ۔وہ تھوڑی دیر پہلے والی کلثوم لگ ہی نہیں رہی تھی ۔

” میں تم سے محبت کرتی ہوں اﷲکرے تم سے شادی ہو جائے اور اگر بدقسمتی سے نہ ہوئی۔تو بھی میں تم سے محبت کرتی رہوں گی۔ محبت کا مطلب شادی ہونا نہیں ہوتا۔ محبت تو دوررہ کر بھی جاسکتی ہے۔ تم مجھ سے وعدہ کرو مجھ سے ملتے رہو گے ۔تمام عمر ۔ “

ایسا کہتے ہوئے مجھے اس کی آنکھوں میں آنسو محسوس ہوئے ۔ تھوڑی دیر تک میں چپ رہا پھر میں نے اس سے کہا ۔

”کلثوم میں ایسی محبت کا قائل نہیں ہوں ۔جس میں تم مجسم میری نہ ہو۔ اس محبت کا کیا فائدہ کہ تم کسی اور کی ہو جاو ¿ اور میں تمھاری یاد میں آہیں بھرتا رہو ں۔ باشعور انسان حقیقت کو دیکھتے ہیں کسی بھی لڑکی سے محبت اس کو اپنانے کے لیے کی جاتی ہے ۔دور رہ کر یا لڑکی کسی اور کی ہو جائے اور محبت قائم رہے۔ میں ان باتوں کا قائل نہیں کہ تم کسی اور کے تصرف میں رہو اور میری محبت کا دعویٰ کرتی رہو۔اس سے دھوکہ کرتی رہو ۔میں کسی اور سے شادی کروں ،یاد تمہیں کرتا رہوں ،محبت تم سے کرتا رہوں ۔اس سے منافقت کرتا رہوں ۔“

میں ایک لمحے کو رکا اسے دیکھا ۔”اور تم سے شادی کیوں نہیں ہو گی ۔تم نے ایسا سوچا ہی کیوں ۔“ کلثوم کو شائد میرے اس جواب کی توقع نہیں تھی اس لیے اس کی آنکھوں میں سمندر بھر آیا ۔جتنی وہ خود نازک تھی اس کے احساسات بھی اتنے ہی نازک ہوں گے۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اس میں اس کی محبت کی بھی توہین تھی ۔

وہ میری محبت تو ہوس بھی خیال کرسکتی تھی۔ مگر میری اس بات اور ہوس میں فرق تھا ۔ اسے اداس دیکھ کر میرا دل بھر آیا ۔ میں نے اسے پکارا۔

اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا ۔میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔میں وہ لفظ ڈھونڈ تا رہاجو کلثوم سے کہوں بہت سے خیالات میرے دماغ میں آئے میں نے رد کر دیے ۔مجھے یہ قبول ہی نہیں تھا وہ کسی اور کی ہو جائے۔اور جھوٹی تسلی اسے دینا نہیں چاہتا تھا۔میں چاہتا تھا وہ گھر والوں کو مجبور کر دے ۔وہ اکلوتی تھی ایسا کر سکتی تھی ۔وہ خاموش بیٹھی رہی ۔ اب کہتی بھی کیا ۔میں نے اس کے نہ ملنے کی صورت میں اس کی محبت سے منہ موڑ لیا تھا ۔اس کے سامنے دو ہی راستے تھے ۔اگر مجھ سے شادی نہیں ہوتی تو میں نے بتا دیا کہ میں اس کی زندگی سے نکل جاوں گا ۔اور شادی کیوں نہیں ہو گی ؟ہمارے درمیان طویل خاموشی حائل ہو گی ۔میں نے ہی دوبارہ پوچھا ۔”جب اب ہم اتنے قریب آ گئے ہیں ۔یہ بچپن کی محبت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔اب کیسے تم کہہ رہی ہو کہ اگر ہماری شادی نہ ہوئی تو ۔۔۔۔یہ تم نے سوچا کیسے ہے ؟۔“

”تم ایک مرد ہو اس لیے ایسا کہ سکتے ہو ۔میں والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں ۔تم ان مسائل کو جان بھی نہیں سکتے جو میرے ساتھ ہیں ۔لیکن یاد رکھنا مجھے تم سے محبت ہے ۔‘ ‘اتنا کہ کر وہ اٹھ گئی ۔کھانا تیار ہو چکا تھا ۔شام پانچ بجے آنٹی اور خالو صفدر ایک ساتھ آئے۔ آنٹی سعدیہ ہسپتال میں تھیں ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تھی ۔

٭٭٭

وقت کی پابند ہیں۔آتی جاتی رونقیں

وقت ہے پھولوں کی سیج ۔وقت ہے کانٹوں کا تاج

وقت سے دن اور رات ۔وقت سے کل اور آج

وقت کی ہر شے غلام ۔وقت کا ہر شے پر راج

آدمی کو چاہیے ۔وقت سے ڈر کر رہے

کون جانے کس گھڑی ۔وقت کا بدلے مزاج

زندگی کا کیا ہے یہ گزرتی ہے۔ دکھ آتے ہیں گزر جاتے ہیں۔ سکھ آتے ہیں گزر جاتے ہیں ۔رات دن گزر جاتے ہیں۔میں دل لگا کر کام کرنے لگا ۔چند ماہ بعد علیم عالی کے ماں باپ ہمراہ بشری وکفیل ہمارے گھر آئے ۔انہوں نے رابعہ کا رشتہ پوچھا ۔ہم نے ہامی بھر لی ۔چند دن بعد ہی ان کی منگنی کر دی گی ۔تایا جان نے بتایا کہ ۔”وہ جلد فیصل آباد جائے گا ۔اور کفیل کے رشتے کے لیے صفدر سے بات کرے گا ۔“

تائی نے بتایا کہ ۔”وہ گھر جوائی رکھنا چاہتے ہیں ۔اور کفیل بھی اس کے لیے تیار ہے ۔“

کفیل کہنے لگا ۔”فیصل آباد کون سا دور ہے ۔میں وہاں شہر میں ہی میڈیکل سٹور بنا لوں گا ۔“

بشری نے لقمہ دیا ۔”خالو کا جو کچھ بھی ہے وہ ان کی بیٹی کا ہی ہے ۔اور بھائی گھر جوائی بن کر سب حاصل کر لیں گے ۔“

میں نے بشری کو دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔اس کے لہجے میں تلخی تھی جیسے وہ طنز کر رہی ہو ۔لیکن شاید اس بات کو صرف میں نے ہی محسوس کیا ۔باقی سب تو اپنی باتوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔ حمید کو اپنی بہن کی منگنی کی بہت خوشی ہوئی ۔اس کی آنکھیں بھری ہوئی تھیں ۔رابعہ شرمائی شرمائی بیٹھی تھی ۔تائی خوشی سے پھولے نا سما رہی تھی ۔میرے دل پر چھریاں چل رہی تھیں ۔میں اٹھ آیا ۔برآمدے میں آ کر کھڑا ہو گیا ۔اب کفیل سے کوئی بھی بات کرنا مناسب نہیں تھا ۔کیونکہ اب وہ بہن کے سسرال بن چکے تھے ۔ وقت کا مزاج بدل گیاتھا ۔شام کو سب مہمان چلے گے ۔ میرے لیے یہ بات بڑی حیرت ناک تھی کلثوم کا روّیہ میرے ساتھ ایسا تھا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہہ وہ کسی اور سے محبت کرسکتی ہے ۔ بھائی کفیل میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ سب سے پڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مالی لحاظ سے زیادہ مضبوط تھا اس کا اپنا میڈیکل سٹور تھا۔پھر وہ فیصل آباد گھر جوائی بننے کے لیے بھی تیار تھا۔وہ خوبصورت تھا ۔پڑھا لکھا تھا ۔وقت اس کے ساتھ تھا۔

 میں نے سوچا کہ مجھے بھائی کفیل سے خود ملنا چاہیے اور اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

کفیل سے زیادہ مجھے غصہ کلثوم پر تھا ۔چندماہ قبل ہی وہ میرے ساتھ بڑے رنگین لمحات گزار چکی تھی ۔مجھے امید تھی اب وہ کہیں اور شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔اکلوتی ہے ۔جو کہے گی گھر والے وہی مان لیں گے ۔اس کی شادی زبر دستی تو نہیں کر سکتے تھے ۔اسے کفیل سے محبت تھی تو میرے سامنے اسے سچ بول دینا چاہیے تھا؟مجھے اس نے کیوں دورا ہے پر رکھا تھا۔میری آنکھوں کو کیوں خواب سونپے تھے ۔میرا دم گھنٹے لگا تھا ۔دل میں کوئی جیسے آرے چلا رہا تھا ۔غصہ بھی مجھے خود پر بھی بہت آرہا تھا۔ غلطی ہماری تھی۔ ہمیں بہت پہلے اس کا رشتہ پوچھ لینا چاہئے تھا۔اب تو بہت دیر ہو گئی تھی۔ ہم مناسب وقت کا انتظار کرتے رہے ۔مجھے یاد آیا کلثوم نے مجھ سے کہا تھا کہ ”میرے والدین اس سے میری شادی کریںگے جو گھر داماد رہ سکے ۔“

 اس کا مطلب یہی تھا کہ اگر میں اقرار کر لیتا تو ۔یک دم مجھ پر سب کچھ روشن ہو گیا ۔ ہاں بالکل یہی بات تھی۔

 اس نے کہا تھا ”اگر ہماری شادی نہ ہوئی تو بھی مجھ سے محبت کرتی رہے گی۔ “

آخر اس بات کا مطلب کیا تھا ۔یہی مطلب تھا کہ اس نے پہلے سے سب کچھ سوچ رکھا تھا ۔مجھے اس بات کا بھی یقین تھا کہ اس کے والدین اس کی مرضی کے بغیر اس کی شادی نہیں کریں گے ۔وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی ۔ اور اس سے اس کے والدین محبت بھی بہت کرتے تھے ۔میں جتنا سوچتا رہا میرے سامنے کلثوم کھل کر آتی گی ۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ

”تم ایک مرد ہو اس لیے ایسا کہ سکتے ہو ۔۔تم ان مسائل کو جان بھی نہیں سکتے جو میرے ساتھ ہیں ۔لیکن یاد رکھنا مجھے تم سے محبت ہے ۔‘ ‘

بات کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا۔اس نے خود کو سونپ کر اپنی طرف سے محبت کا قرض اتار دیا تھا ۔

لیکن میرے لیے اب سب سے اہم سوال یہ تھا کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیے ؟ جتنا میں اس موضوع پر سوچتا ۔اتنا سر میںدرد بڑھتا چلا گیا۔

پھر اس نے اپنا آپ مجھے کیوں سونپ دیا تھا ۔کیا اس لیے کہ اس نے میرے خواب اپنی آنکھوں میں سجائے تھے ۔اس کا اس نے اقرار بھی کیا تھا۔اس نے اپنا خواب پورا کر لیا تھا۔میں نے تو ایسا کچھ نہیں سوچا تھا ۔جیسا اس نے سوچا تھا ۔اور اپنی سوچ کے عین مطابق اس نے مجھے استعمال کیا تھا ۔میں اٹھ کھڑا ہوا ۔کمرے میں ٹہلنے لگا ۔میں اس کی پہلی محبت تھا ۔یہ ہی اس نے کہا تھا ۔اس کا مطلب ہے دوسری محبت بھائی کفیل تھا ۔اس دن اس نے اس سوال کے جواب میں مجھے گھور کر دیکھا تھا ۔

¿¿¿µµµ¿¿٭٭٭

دوسرے دن کام سے واپسی پر میں بھائی کفیل سے ملنے اس کے پاس سٹور پرچلا گیا ۔وہ بڑے تپاک سے ملا ۔باتیں عام سے موضوع سے شروع ہوئیں ۔وہی کھسے پٹے سوالات۔ کیسے ہو ؟ کیا کر رہے ہو؟۔ کتنی تنخواہ ہے ؟ مجھے بعض اوقات وحشت ہوتی ہے ان سوالات سے کوئی بھی یہ نہیں پوچھتا تم کتنی نماز یں پڑھتے ہو ؟ کتنے لوگوں کے کام آتے ہو؟ کیا خدمت خلق کرتے ہو ؟اپنی زندگی سے خوش کتنے ہو؟

 میں کفیل بھائی کے سوالات کے جوابات دیتا رہا۔ میرے دماغ میں تو ریت بھری ہوئی تھی۔ میں اس سے کلثوم کے متعلق پوچھنے آیا تھا۔ مگر کیسے بات شروع کروں سب کچھ دماغ میں گڈ مڈ ہو گیا ۔اب ان سے رشتہ بھی بڑا نازک سا ہو گیا تھا ۔وہ میری بہن کے سسرال تھے ۔مجھے سوچ سمجھ کر بات کرنا تھی ۔مجھے تو وہ الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے ۔آخر میں نے اسے اسے مبارک باد دی کہ اس کی کلثوم سے منگنی ہوگئی ہے۔ وہ ہنس دیا

 ”ارے واہ خرم تم نے بھی خوب کہی ۔“

میں صرف اسے دیکھ کر رہ گیا ۔

”منگنی ہوئی کہاں ہے۔ مگر ہو جائے گی ۔دو مرتبہ والدین رشتہ پوچھنے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تھوڑے دن اور بعد میں بتاتے ہیں ۔نا جانے وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔حالانکہ میں ان کی ہر شرط ماننے کو تیار ہوں ۔“

میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا ۔وہ شاید مجھے یہ سب کچھ سنانے پر تیار بیٹھا تھا اس لیے بولتا چلاگیا ۔

میں شاید اس کی منت کرنے آیا تھا کہ وہ کلثوم اور میرے درمیان سے ہٹ جائے۔ میں اس کے بناں ادھورا رہوں گا۔ اس کا کیا ہے اس کو تو ہزاروں مل جائیں گئیں ۔مگر میں ایسا کہ نہ سکا۔ وہ بولتا جا رہا تھا ۔اس نے بتایا ۔” ابھی تھوڑے دن پہلے اس کے دولیٹر ز بھی میرے نام آئے ہیں اس نے خط میں لکھا ہے کہ ” ان خطوط کا کسی کو پتہ نہ چلے ۔“اس نے ایک لمحے کو رکا سانس درست کی دوبارہ گویا ہوا۔

 ”تم کو بتا رہا ہوں تم غیر تھوڑی ہو ۔“

 اس نے اٹھ کر مجھے اس کے خطوط دراز سے نکال کر دیے ۔ اس دوران چائے آگی ۔ میں نے کانپتے ہاتھوں سے اپنی محبوبہ کے کسی اور کے نام لکھے جانے والے خط کھولے اور ان کو پڑھا مجھ پر حول سا طاری ہو رہا تھا ۔میرے دماغ میں اندھراچھایاہوا تھا۔آنکھوں کی روشنی اتنی ضروری نہیں ہوتی جتنی دماغ کی ہوتی ہے۔ دماغ میں اندھیرا چھایا ہو تو آنکھوں سے بھی نظر نہیں آتا۔ خط کے الفاظ نظر نہیں آرہے تھے۔ دل بہت گھبرا رہا تھا ۔ میںنے خط ہاتھ میں پکڑ کر چائے پینی شروع کر دی ۔دکان پر ایک گاہک آیا ۔کفیل اس سے مصروف ہو گیا ۔میں نے خود میں حوصلہ پیدا کیا اور خط پڑھ ڈالے ۔ بڑی چابکدستی سے لکھے گئے تھے یہ خط۔ان میں کوئی ایسا لفظ نہیں تھا جس سے یہ گمان ہوتا یہ محبت نامے ہےں۔ گھر کے حالات اپنے گھر والوں کے بارے میں کفیل بھائی کی بہنوں اور والدین کے متعلق پوچھا تھا۔ایک لائن کو میں نے بار بار پڑھا لکھا تھا ۔کلثوم نے نہ جانے یہ کیوں لکھا تھا”آدمی آدمیوں سے بے راز ہے اور آدمی کو آدمی کے بغیر چین بھی نہیں “ یہ لائن میری بے چینی کو بڑھا گی۔ آخر اس کا مطلب کیا تھا۔ اس نے ایسا کیوں لکھا تھا۔ وہ کفیل کو کیا اشارہ دینا چاہتی تھی ۔ دونوں خطوط میں صرف یہ ایک لائن ہی ایسی تھی ۔ میں نے اسے بار بار پڑھا اور خط بھائی کفیل کو واپس کر دیے ۔ جب میں خطوط کا مطالعہ کر رہا تھا تو وہ مسلسل بولتے رہے تھے مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا۔

 تھوڑی دیر مزیدوہاں بیٹھ کر میں اٹھ آیا ۔ گھر جانے کی بجائے سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا رہا۔ میرا کہیں بھاگ جانے کو ویرانے میں جا کر رہنے کو دل کرتا تھا ۔میں نے کئی مرتبہ سوچا کسی گاڑی کے نیچے آجاو ¿ں ۔ اب مجھے سب کچھ معلوم ہو گیا تھا۔اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ کلثوم مجھ سے محبت کرتی تھی ۔لیکن میری دوری اس سے بالکل رابطہ نہ رکھنے سے اس سے دور ہوتا چلا گیا ۔بے شک ایسا میرے حالات کی وجہ سے ہوا ۔اس دوران کفیل بھائی نے اس پر توجہ دی ۔اور اب دوسری وجہ خالو صفدر کی داماد کو اپنے گھر رکھنے کی شرط تھی ۔جس پر کلثوم ماں باپ کو دکھ نہیں دینا چاہتی تھی ۔میں گھر جوائی بننے کی شرط کسی بھی طرح نہیں مان سکتا تھا ۔اس بات کو وہ اچھی طرح جانتی تھی ۔

رات گئے میں گھر واپس آیا۔ رابعہ نے کھانا دیا میں نے یوں ہی لوٹا دیا۔ میں چار پائی پر پڑا رہا اور میرے مساموں سے پیسنہ پھوٹتا رہا ۔ میں کفیل سے کیا کہنا چاہتا تھا ۔ مگر وہ اس سے کہہ ہی نہیں سکا تھا۔ اگر میں کہہ بھی دیتا تو کیا اس کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ؟ پھر یہ بھی تھا کہ کیا وہ بات مان بھی لیتا ؟۔مجھے خود سے ہی نفرت سی محسوس ہو رہی تھی ۔ اور اپنا آپ بھی گھناو ¿نا سا لگ رہا تھا۔ ایسے ہی میں خود کو نوچتا رہا۔ رات گزرتی رہی ۔ پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گی ۔

بڑے عرصے کے بعد میں نے صبح کی نماز ادا کی اور سیر کے لیے نکل گیا۔اس دن میں نے پابندی سے نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔اس کے بعد اس پر قائم بھی رہا ۔ایک دن جمعہ پڑھنے مسجد گیا مولوی نے داڑھی بارے احادیث سنائیں اور ساتھ ہی اس کے سائنسی فوائد گنوائے میں نے داڑھی بھی رکھ لی ۔ہمارے معاشرے میں نمازی کو طنزاََ مولوی یا ملّا کا خطاب دیا جاتا ہے اور لوگ خود کو اس سے اچھا خیال کرتے ہیں اﷲکے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اپنے گناہوں کو فخر سے بیان کرتے ہیں ۔میں کوئی اتنا پارسا نہیں تھا۔ میں شاید ان سے زیادہ گناہ گار تھا ۔ میں نے کبھی کسی کو تبلیغ نہیں کی کہ وہ میرے ساتھ چل کرنماز پڑھیں۔بس جب نماز کا وقت ہوتا میں خاموشی سے چلا جاتا تھا۔ مجھے کلثوم کی جدائی اور اس کی بے وفائی کا اتنا دکھ ہوا تھا کہ اگر میں نماز کا سہارا نہ لیتا تو شاید مر جاتا۔ ابو بکر کی وفات کے بعد میں نے سوچا تھا کہ آدمی کتنا ناپائیدار ہے اور کلثوم کی بے وفائی کے بعد سوچا تھا کہ دراصل محبت صرف اورصرف اﷲسے کرنی چاہیے ۔لیکن یار لوگ مجھے مولوی کہنے لگے ۔مولوی خرم میرا خودبخود نام پڑ گیا ۔پہلے پہل تو مجھے عجیب سا لگا لیکن رفتہ رفتہ اس کا عادی ہوگیا ۔اور ایک دن تو بہت برا ہوا۔ وہ ایسے کہ ایک لڑکا ندیم میرے ساتھ ہی کام کرتا تھاوہ ہر وقت مسکراتا اور ہنستا رہتا۔ ساتھ کام کرنے والے لڑکوں سے مذاق کرتا رہتا اس دن اس نے ایسا ہی کوئی مذاق کیا تھا۔مجھے نہ جانے کیا ہو اتھا۔ میںنے اسے مارنا شروع کردیا۔ سب نے مل کر اسے مجھ سے چھڑایا ۔بعد میں اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔ میں نے اس سے معافی بھی مانگ لی ۔دوسروں کی بات مجھے خود پرطنز لگنے لگی تھی ۔ جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہاہو۔ سچی بات ہے کہ میںکوئی نفسیاتی مریض بن گیا تھا۔ ساتھ کام کرنے والے مجھ سے دور رور رہنے لگے تھے ۔جیسے میں پالگل ہوں ان کو کاٹ لوں گا۔ تب مجھے اس بات پر غصہ آنے لگا ۔وہ مجھ سے دور کیوں رہتے ہیں۔ کیا میںآدمی نہیں ہو ں؟۔ بعض آدمی ادھورے بھی تو ہوتے ہیں۔ یہ دنیا کی ایک اٹل حقیقت ہے کہ لوگ ہنسنے والوں کے ساتھ ہنستے ہیں رونے والوں کے ساتھ کوئی روتا نہیں ہے ۔ندیم نے میرے کھوئے کھوئے رہنے کی وجہ ”روگ“ کہا تھا ۔اس نے سچ کہا تھا ۔میں اسے گالیاں دینے لگا تھا ۔اس نے جواب میں گالی دی تو میں اس سے لڑ پڑا تھا ۔

دوسرے دن کی بات ہے کہ مجھے دو لڑکوں نے سڑک پر گھیر لیا۔میں بازار سے کوئی چیز لینے نکلا تھا۔ انہوں نے میرا نام پوچھا اور بسمجھ سے گھتم گھتا ہو گے ۔ ایک تو میں بے خبر تھا دوئم ان سے ویسے بھی کمزور تھا۔ قصہ کوتاہ میرا سر پھٹ گیا۔ وہ دونوں یہ جا وہ جا۔سب مجھ سے پوچھ رہے تھے ۔وہ کون تھے؟ ۔میں ان کو کیا بتاتا۔ مجھے خود علم نہیں تھا۔تھوڑی دور ہی کفیل کا میڈیکل سٹور تھا ۔ایک جاننے والا مجھے وہاں لے گیا ۔وہاں سے ہسپتال ۔پٹی کرو انے کے بعد میں گھر لوٹا ۔بھائی کو علم ہوا تو وہ لڑنے مرنے پر اتر آیا ۔لیکن حقیقت میں ان کو میری طرح علم ہی نہیں تھا کہ وہ تھے کون ؟۔ بہت بعد میں ندیم نے مجھے خود بتایاتھا۔جب وہ کام چھوڑ کر جانے والا تھااس وقت اس سے دوستی بھی ہو گئی تھی اس نے غلطی کی معافی بھی مانگی تھی۔ میں نے اسے دریا دلی سے معاف کر دیا تھا۔

ایسے ہی میں نے چار ماہ گزارے تھے اور کلثوم کو بھول نہیں سکا تھا۔ وقت اور حالات کے تحت انسان کے نظریات وخیالات بدلتے رہتے ہیں ۔میں نے کلثوم سے اس دن کہا تھا ”محبت کے لیے اس کا ملنا ضروری ہے جس سے محبت ہو۔“

 اب سوچاکرتا تھا کہ ”کوئی ساری زندگی لے کر مگر کلثوم سے ایک مرتبہ جی بھر کے باتیں کر لینے دے ، اس کو دیکھ لینے دے “۔

کہتے ہےں مجازی محبت وہ راستہ ہے۔ جو عشق حقیقی کے کوچے کو جاتا ہے ۔ٹوٹے ہوے دل میں گداز پیدا ہو جاتاہے۔ پتھروں کو تو جو نک بھی نہیں لگتی۔ مجھے پتہ چل گیا تھا کہ کلثوم اور کفیل کی منگنی ہو گی ہے ۔میں نے اس بات کو خندہ پشمانی سے قبول کرلیا تھا ۔مگر اندر ہی اندر کوئی چیز ٹوٹتی رہتی تھی ۔میرا دل دنیا سے اچاٹ سا ہوگیا تھا ۔یہی وجہ تھی کہ میں سب سے کھنچا کھنچا سا رہتا تھا ۔ایک بات میں نے محسوس کی کہ بشری مجھ سے دلچسپی لینے لگی تھی ۔وہ خوبصورت تھی ، اس قابل تھی کہ بندہ خود کو گنواکر اسے حاصل کر لے ۔ اس کا رنگ گورا نہیں تھا لیکن خوبصورتی رنگ گورے سے کب مشروط ہے ۔اس کا جسم ایک سانچے میں ڈھلا ہواتھا ۔ایک بار دکھ کر دوسری بار نظر کو روکنا مشکل ترین تھا ۔جب کبھی وہ ملتی ۔میرا بڑا خیال رکھتی ۔میں اس سے دور ہی رہتا ۔لیکن اس سے اس کی خدمت میں کوئی فرق نہ پڑتا ۔وہ جب بھی شہر آتی اپنی بھابھی سے یعنی رابعہ سے مل کر جاتی ۔اکثر میرا اس سے سامنا ہو جاتا ۔وہ کوئی نہ کوئی تحفہ میرے نام کا مجھے دے جاتی ۔کبھی پرفیوم ،کبھی رومال ،ایک بار پرس بھی دیا ۔جمعہ کا دن تھا مجھے چھٹی تھی ۔جمعہ پڑھنے کے بعد میں گھر میں لیٹا ایک کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا جب تائی اور بشری آئیں ۔وہ بازار سے شاپنگ کرنے آئیں تھیں ۔امی کو ساتھ لے کر جانا تھا ۔امی واش رام میں تھی۔رابعہ چائے بنانے لگی ۔تائی نماز پڑھنے لگی ۔وہ میرے پاس آ کر بیٹھ گی ۔

” آپ سے ایک بات کرنا تھی۔“

” میں نے کب روکا ہے ۔“

”آپ کیا بننا چاہتے تھے ؟“

” سچ بتاو ¿ں۔“

 ” ہاں ۔“

” مجھے خود اس بات کاعلم نہیں ہے ۔میں نے کبھی دولت کو اتنی اہمیت نہیں دی۔اور مزے کی بات بتاوں ۔۔“

”جی۔“

”دولت نے بھی مجھے کبھی اہمیت نہیں دی ۔“میری اس بات پر وہ کھل کھلا کر ہنسی ۔

 ” مجھے پتہ ہے آپ یہی تو انفرادیت پائی جاتی ہے ۔“

”ورنہ میں نے تو جتنے لوگ دیکھے ہیں ۔سب ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ایک جیسی باتیں کرتے ہیں ۔ایک جیسی خوہشات ہوتی ہیں۔ دولت کے بچاری ۔“اس کے لہجے میں کاٹ تھی ۔

 میں نے کہا ”دولت اتنی بری چیز بھی نہیں ہے۔“

”ہاں آپ سچ کہتے ہیں۔“

 ” سب کچھ دولت نہیں ہے اور زندگی صرف دولت کے سہارے نہیں گزاری جاتی۔ خاص کر ایک لڑکی ایسانہیں سوچ سکتی دولت مند آدمی ہر وقت دولت کی باتیں کرتا ہے۔ اسے اپنی دولت پر بڑا ناز ہوتا ہے۔ وہ مزید دولت جمع کرنے کے لیے بھاگتا رہتا ہے۔ وہ بے حس ہو جاتاہے۔ اسے رفتہ رفتہ اپنے سوا کوئی نظر نہیں آتا۔انسانیت کا دکھ وکرب اس میں نہیں ہوتا ۔“

میں نے کہا ۔”لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ عورتیں ہی زیادہ دولت کی بچاری ہوتی ہیں ۔مرد سے شادی کی بجائے ۔وہ مکانات ،بینک بیلنس ،کار دیکھتی ہیں ۔زمانے میں یہ ہی ہے ۔یہ ہی دیکھا جاتا ہے ۔باقی سب کہنے کی باتیں ہیں ۔ لڑکیاں دولت کو دیکھتی ہیں ۔ان کو اپنے کپڑوں اور نمائش کا شوق ہوتا ہے اور یہ دولت بناں ممکن نہیں ہے ۔ “

اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔”سب ایسی نہیں ہوتیں ۔“

میں نے ہاتھ چھڑا لیا ۔”تم ایسا کہہ سکتی ہو کیونکہ تم نے غربت دیکھی کہاں ہے ۔“

اس نے میری بات سے اختلاف نہیں کیا ۔

 ”میں تو اتنا جانتی ہوں ۔ اصل چیز شوہر کی محبت ہوتی ہے ۔“

”اچھا بابا تم کو ئی غریب آدمی دیکھ کر اس سے شادی کرنا۔“

 نہ جانے میرے منہ سے کیسے نکل گیا۔وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔

” میں نے ایسا مرد تلاش کر لیا ہے ۔وہ بہت اچھا ہے۔ سندرہے۔ بہت محبت کرنے والا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی اور بسا ہوا ہے۔جو بسا ہے وہ اب اس کا نہیں ہے ۔لیکن وہ اب بھی اسی کا ہے ۔بے وقوف کہیں کا ۔ایک دن اسے اپنی بے وقوفی کا احساس ہو گا ۔“

میں اٹھ بیٹھا ۔لیکن وہ دروازے سے نکل گی ۔میں نے کتاب کو ایک طرف رکھا ۔اورآدھ کھلے دروازے کو دیکھتا رہ گیا ۔وقت نے مجھے بھی وقت دے دیا تھا ۔

٭٭٭

اس شام میں نے بشری سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ہمارا گاوں شہر سے متصل تھا ۔بشری کے گھر جانے کے لیے تین چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا ۔علیم عالی وغیرہ جب کبھی شہر آتے تو ہمارے گھر ہو کر جاتے ۔ہمیں ان کے گھر جانے کے لیے اسپیشل جانا پڑتا تھا۔ ۔اب اس سے ملنے کے پروگرام بنا تا۔ایسے ہی سوچتے ہوئے کہ اس جمعہ کو جاوں گا ۔جمعہ جمعہ کر کے کئی ماہ گزر گے ۔پھر ماہ رمضان آگیا ۔روزہ رکھ کر کام پر جاتا ۔وہاں سے دو بجے چھٹی کر کے گھر آ جاتا ۔اس وقت تک روزہ بھی لگ جایا کرتا ۔یہ بھی جمعہ کا ہی دن تھا ۔عید میں چند دن باقی تھے ۔

میں نے نہا کر کپڑے پہنے اور کلثوم کے بتائے ہوئے طریقے سے مانگ نکالی ۔اور دھوپ میں کرسی نکال کر بیٹھ گیا۔ گھر میں ایک پرانی کتاب پڑی ہوئی تھی ۔میں اسے پڑھنے لگا ۔اس کا نام اور ٹائٹل پھٹا ہوا تھا۔ اس میں بڑی حیرت انگیز باتیں لکھی ہوئی تھیں ۔یہ ابو کی کتاب تھی ۔اس پڑھنے کے دوران میں نے سوچا میرا علم کتنا ناقص ہے۔ ہم مادی وجود کو انسان خیال کرتے ہیں اس میںلکھا تھا۔ اصل انسان مادی وجود نہیں ہے بلکہ روح ہے ۔ روح کا لباس مادی وجود ہے۔ مادی وجود ختم ہو جاتا ہے ۔جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا لباس مادی وجود ہے مادی وجود ختم ہوجاتا ہے۔ جسم سے کیا چیز نکل جاتی ہے ، اس میں سے روح نکل جاتی ہے۔ مصنف نے بڑی دلیلیوں سے یہ بات ثابت کی تھی کہ انسان اصل میں روح ہے۔ دوسرے باب میں بتایا گیا تھا کہ روح کیاہوتی ہے۔ نظر نہیں آتی ۔قرآن و حدیث نبویﷺمیں روح کے متعلق بتایا گیا تھا کہ روح اﷲکا امر۔ ”اے محمدﷺ لوگ تجھ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں کہدو روح اﷲکا امر ہے ۔پھر لکھا گیا تھا کہ ”اﷲکا امر یہ ہے کہ وہ جب ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہو جا بس و ہ ہو جاتی ہے“(القراآن) ۔میں نے پوری یکسوئی سے کتاب کا مطالعہ کیا اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ دنیا تمام کی تمام اﷲکا ارادہ ہے۔ اﷲکا ارادہ ہی اسے زندہ رکھے ہوئے ہے یہ انسان حقیقت میں روح ہے اور روح لباس بدلتی ہے۔ دنیا میں اس کا لباس مادی جسم ہے۔ قیامت کے بعد اسے لباس دیا جائے گا۔ چو نکہ یہ باتیں قرآن وحدیث کی رو سے تھیںاور سائنس کی روشنی و دلائل سے ثابت تھیں اس لیے بالکل سچ تھیں ۔کتاب پڑھنے میں میں اتنا منہک تھا کہ مجھے علم ہی نا ہو سکا کب بشری وغیرہ ہمارے گھر آئے تھے ۔کب وہ میرے پاس آ کھڑے ہوئے تھے ۔

”اب بس کریں آپ حفظ ہی کرنے لگے۔“علیم عالی کی آواز سن کر میں چونکا ۔ اچھی خاصی دھوپ چڑھ آئی تھی۔

ساتھ ہی رابعہ اور بشری کھڑے تھے ۔اب علیم عالی بھی بہانے بہانے سے ہمارے گھر کے چکر لگایا کرتا تھا ۔ایک بار مجھے حمیدنے کہا تھا کہ اسے روک دینا چاہئے ۔لیکن میں نے حمیدکو ایسا کرنے سے روک دیا تھا ۔

”ہم نے اپنی بہن کی اس سے منگنی کر دی ہے ۔اب اگر وہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے ہیں تو اس میں برائی کیاہے ۔ہمیں چاہئے کہ ان کی شادی جلد کر دیں ۔روک دینا اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا ۔“میری بات بھائی کی سمجھ میں آ گی تھی ۔

 ”مجھے پتہ ہی نہیں چلا آپ کب آئے ۔“میں نے اٹھتے ہوئے عالی سے کہا ۔

”مجھے اس با ت کا بھی پتہ ہے ۔آپ تو یہاں رہتے ہی نہیں۔ خیالوں میں رہتے ہیں۔ آپ کو اپنے ارد گرد کا کچھ ہوش نہیں ہوتا۔ بیٹھے بیٹھے خیالوں میں گم ہوجاتے ہیں ۔ہمارے آنے کی خبر کیسے ہوتی ۔“

بشری نے گہری چوٹ کی ۔رابعہ ہنسنے لگی ۔حمید نے اسے گھور کر دیکھا ۔ میں نے حمید کو ۔عالی کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی ۔

”اصل میں کتاب اتنی دلچسپ ہے کہ کیا بتاوں ۔“ میں نے انہیں ملتے ہوئے کہا ۔”اس میں انسان ،روح،مادی جسم یعنی انسان کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے ۔“

”اس کا کسے علم نہیں ہے ۔“عالی نے کہا ۔

”مجھے علم نہیں تھا ۔اس کا ۔“ میں سچ بولا

”چلو بازار چلتے ہیں ۔“

تھوڑی دیر بعد ہم سب کزن بازار میں تھے ۔

میری خیالوں میں اب کلثوم آتی تو ساتھ ہی بشری کا خیال آ جاتا ۔ ماہ رمضان گزر گیا ۔وہ عید کا دن تھا جب ہم بھائی عید کی نماز ادا کر کے گھر آئے تو تائی جان ،بشری اور کفیل ہمارے گھر آئے ہوئے تھے ۔رابعہ خوشی سے بھاگی پھر رہی تھی ۔میں کفیل اور حمید امی کے اور تائی کے پاس جا بیٹھے ۔بشری اور رابعہ کھانا تیار کرنے لگیں ۔اس دن میں بھی خوب ان سے باتیں کرتا رہا۔ہم نے جی بھر کر قہقے لگائے ۔ایسے ہی کسی کام کے سلسلے میں ہمارے پاس سے بشری گزر رہی تھی ۔مجھ سے نظر ملی تو میں نے بائیں آنکھ بند کر کے کھول لی ۔اس کو آنکھ مارنا کہتے ہیں ۔یہ سوچ کر میں مسکرا دیا ۔بشری کے چہرے پر حیرت بکھر گی ۔اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔برسوں بعد ایسی شوخی مجھ میں لوٹ کر آئی تھی ۔بشری سے میری اچھی دوستی تھی ۔وہ میری ہمراز بھی تھی اس کا منگیتر شہید ہو چکا تھا ۔جو میرا واحد دوست تھا ۔اس کے بعد عالی سے دوستی ہوئی تھی ۔میری محبوبہ کی کسی اور سے منگنی ہو چکی تھی ۔ہم دونوں محبت کر چکے تھے ۔اور ایک کو حالات نے دوسرے کو قسمت نے شکست دی تھی ۔دونوں کا غم کسی حد تک مشترک تھا۔ میں نے اب اس سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔اب اس سے اظہار ضروری تھا ۔جس کا موقع نہیں مل رہا تھا۔وہ اس کے بعد جب بھی کسی کام سے ہمارے پاس سے گزری مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ۔میں شریر سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ادھر ادھر دیکھتا رہتا ۔کھانا کھانے کے دوران بھی میں نے ایک بار ایسا ہی کیا تو وہ اچھی خاصی کنفیوز ہو گی ۔دوسری تبدیلی یہ آئی کہ آج اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔نا ہی میں نے کوئی بات اس سے کی ۔اس کے چہرے پر حیرانی ،الجھن کے رنگ تھے ۔وہ اچھی خاصی بے چین ہو گی تھی ۔

جانے سے تھوڑی دیر قبل جب میں ان کو چھوڑکر آنے کے لیے بائیک نکال رہا تھا۔بشری سب سے پہلے باہر آ گی ۔

” خرم۔ “

”ہاں “

 ”آج بہت اچھے لگ رہے ہیں آپ ایسے ہی خوش رہا کریں۔“میں نے کہیں پڑھا ہوا فقرہ اسے سنا دیا ۔

” آدمی ہی آدمی کے لیے بہار وخزاں ہوتے ہیں۔“اس کے چہرے پر حیرانی گہری ہو گی ۔میں نے مزید کہا” اس دنیا میں آدمی بہت کم ملتے ہیں اور جب مل جائے توپھر ایسی ہی بہار چہروں پر آجاتی ہے جیسی آج میرے چہرے پر آئی ہے ۔“

 اس نے سٹ پٹا کر مجھے دیکھا ۔”میں نے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔“

”کس سے ۔“وہ جلدی سے بولی

”تم سے ۔امی کو بھیج دوں گا جلد۔“اس نے منہ پھیر لیا ۔کیونکہ دروازے پر کفیل نمودار ہو رہا تھا لیکن آہستہ سے مجھے

”اچھا“ کہنا نہیں بھولی ۔

انہی دنوں بشری نے مجھے خط لکھا تھا۔ کافی لمبا تھا ۔میں یہاں خاص بات لکھ رہا ہوں۔ ”مجھے بڑی خوشی ہوئی ۔آپ خود کو بدلنا شروع کر دیا ہے اور کافی بدل لیا ہے۔ میں آپ کے چہرے پر وہ مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہوں جو صرف میرے لیے ہو۔“

اس خط کے بعد میں نے خود پر نقاب ڈال لیا۔ اس نقاب پر یا اپنے چہرے پر جو چہرا سجایا اس پر مسکراہٹ تھی۔ یہ مسکراہٹ دوسروں کے لیے تھی۔ مجھے دوسروں کے لیے جینا تھا ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔”جب انسان بہت زیادہ دکھی ہو جائے کہ دکھ ہڈیوں میں جسم سے گزر کر روح میں اتر جائے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اس سے بڑھ کر کیا نقاب ہو سکتا ہے۔“

پھر سب کچھ بہت جلد ہو گیا ۔بشری کے رشتے کا انتظار تھا ۔جیسے ہی وہ طے ہوا ۔ہمارے خاندان میں ایک ساتھ تین شا دیاں ہوئیں ۔بس فرق یہ پڑا تھا کہ بشری بیاہ کر ہمارے گھر آ گی تھی ۔اور رابعہ تایا جان کے گھر چلی گی ۔لیکن کفیل بھائی سسرال چلے گئے ۔

اس رات جس کو سہاگ رات کہتے ہیں میں نے بشری نے خوب باتیں کیں، وعدے کیے ۔ ساتھ رہنے کے خواب دیکھے۔ وہی باتیں جو دو پیار کرنے والے کرتے ہیں۔ جن باتوں میں کچھ نہیں ہوتا اور بہت کچھ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کی خدمت ہمدردی ، الفت، احساس، وغیرہ جیسے پاکیزہ اور انمول خیالات احساسات ۔اس کا خواب پورا ہو گیا تھا ۔وہ بہت خوش تھی ۔خواب تو کفیل کا بھی پورا ہو گیا تھا۔اور کلثوم ک بھی ۔عالی اور رابعہ کا بھی ۔لیکن میرا خواب پورا نہیں ہوا تھا ۔وہ خواب جو مین نے بہت شدت سے برسوں دیکھا تھا ۔اب اس بات کو پچیس سال گزر گے ہیں ۔لیکن کبھی کبھی اس خواب کے پورا نہ ہونے کا دکھ جاگ جاتا ہے ۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے