سر ورق / ناول / درندہ۔۔ قسط نمبر 14۔۔خورشید پیرزادہ

درندہ۔۔ قسط نمبر 14۔۔خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 14

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

راجو جب واپس وردا کے گھر پہنچا تو وردا کھڑکی میں ہی کھڑی تھی اور بار بار باہر جھانک رہی تھی- راجو کو دیکھتے ہی اس نے پردہ گرا دیا-

”یہ لو- ہوگیا ان کا ڈرامہ شروع- میں آپ کو سمجھ گیا ہوں وردا جی- دماغ خراب تھا میرا جو آپ سے محبت کر بیٹھا- مجھے دیکھتے ہی پردہ گرا دیا- کیا میری شکل اتنی بری ہے یا آپ کو اتنی بری لگتی ہے کہ دیکھنا بھی گوارا نہیں ہے- بس اب بہت ہوگیا- اب آپ سے کوئی بات نہیں کرں گا-“ راجو نے دل ہی دل میں وردا سے باتیں کیں اور خاموشی سے جیپ میں بیٹھ گیا-

راجو نے اس بات کی طرف دھیان ہی نہیں دیا کہ وردا گھر کا دروازہ کھول کر کھڑی ہے- اسے دیکھتے ہی وہ نیچے آگئی تھی-

”میں نے اس سے کہا بھی تھا کہ شام کو بات کریں گے- اور اب آنکھیں بند کئے چپ چاپ بیٹھا ہوا ہے- یہ خود کو سمجھتا کیا ہے- مجھے کوئی بات نہیں کرنی اس سے-“ وردا نے زور سے دروازہ پٹخا اور کنڈی لگا لی-

دروازے کی آواز سے راجو نے فوراً آنکھیں کھول دیں- ”یہ آواز کیسی تھی-“ راجو نے گن مین سے پوچھا-

”دروازہ بند ہونے کی آواز تھی سر- شاید گھر کے اندر سے آئی تھی-“ گن مین نے کہا-

”ٹھیک ہے- تم لوگ ہوشیار رہو-“ یہ کہہ کر راجو نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی-

٭٭٭٭٭٭٭

مراد کچھ فاصلہ دے کر بلیک اسکارپیو کا تعاقب کر رہا تھا- اس نے کار کی نمبر پلیٹ پر غور کیا-

”یہ تو اسلم شاہ کی گاڑی ہے- چلو دیکھتا ہوں آج یہ کہاں جا رہا ہے-“

تھوڑی دیر بعد کار ایک گھر کے آگے آکر رکی- اسلم شاہ کار سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوچکا تھا- مراد نے کچھ دور اپنی بائیک روک دیا ور کیمرہ لے کر دبے پاﺅں گھر کی طرف بڑھا- رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا اس لئے مراد کا کام اور بھی آسان ہو رہا تھا-

مراد ایک کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہوا- کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور اس پر پردے گرے ہوئے تھے- مراد نے ہاتھ سے ذرا سا پردہ ہٹا کر اندر جھانکا- اسلم شاہ ایک خوبصورت سی لڑکی کے سامنے کھڑا تھا-

”سوئیٹی- میں نے کتنے فون کئے تمہیں- تمہیں میرے ساتھ کام کرنا ہے یا نہیں؟-“

”کام تو کرنا ہے سر- کچھ دنوں سے میری طبیعت بہت خراب ہے-“ لڑکی نے کہا-

”تو انفارم کیا تمہارا باپ کرے گا کہ تمہاری طبیعت خراب ہے- اتنی بھاری تنخواہ دیتا ہوں تمہیں- یہ گھر بھی خرید کر دیا- پھر بھی تم کو میری قدر نہیں ہے-“ اسلم شاہ نے غصے سے کہا-

”سر آپ نے اپنی بیوی کے سامنے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ ٹھیک نہیں تھا-“ مراد اس لڑکی کو نہیں پہچانتا تھا کہ یہ اس کی وکیل شہناز مرزا ہے-”مجھے کنجری اور پتہ نہیں کیا کیا کہا-“

”اس دن میرا موڈ ٹھیک نہیں تھا- وہ سالا دو کوڑی کا پولیس والا مجھے گھر سے گھسیٹ کر لے گیا تھا- بس دماغ خراب ہوگیا میرا-“ اسلم شاہ نے اپنے موڈ کی وضاحت دیتے ہوئے کہا-

”سر میں نے اپنا سب کچھ آپ کو سونپ دیا- اور آپ ایسا برتاﺅ کرتے ہیں میرے ساتھ جیسے میں کوئی سڑک چھاپ لڑکی ہوں-“ شہناز شکایتی لہجے میں بولی-

”چلو ٹھیک ہے- آئندہ خیال رکھوں گا— آج میرا بہت موڈ ہو رہا ہے تمہارے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا- آﺅ کچھ موج مستی کرتے ہیں-“ اسلم شاہ نے اپنے مطلب کی بات پر آتے ہوئے کہا-

”وہ تو ٹھیک ہے- مگر پلیز دوبارہ کبھی مجھے کنجری مت کہئے گا-“

”ارے ٹھیک ہے نا- بتایاتو ہے کہ غصے میں بولا تھا اس دن- چلو اب آﺅ— تم نے مجھے جو سرور دیا ہے وہ آج تک کوئی لڑکی نہیں دے پائی ہے اور میں اپنی بیوی کو یہی دکھانا چاہتا تھا- ہی ہی ہی-“

”مگر یہ تو سوچیں کہ ان کے دل پر کیا گزری ہوگی- آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا-“

”یار اب تم بار بار اس بات کا ذکر کرکے میرا موڈ خراب کر رہی ہو-“ اسلم شاہ نے منہ بنا کر کہا-

”سوری سر-“ یہ کہہ کر شہناز اٹھی اور اسلم شاہ سے لپٹ گئی-

”گڈ— اسی کام کی تو تنخواہ دیتا ہوں تم کو- ورنہ یہاں تو وکیل ریوڑوں کے حساب سے بھرے پڑے ہیں- ہا ہا ہا-“ اسلم شاہ مست ہو رہا تھا-

مراد یہ سب کھیل دیکھ رہا تھا اس نے کیمرہ سنبھالا اور ان کی تصویریں بنانے لگا- ”یہ تصویریں روبینہ کے کام آئیں گی-“

اسلم شاہ نے شہناز کو کمر سے پکڑ کر اتنی زور سے جکڑا کہ اس کی سانس اکھڑنے لگی- اس نے زور لگا کر خود کو چھڑایا-

”سر پلیز-“

”دیکھو اس وقت میں کتنے اچھے موڈ میں ہوں- اب تم روک ٹوک لگا کر میرا موڈ خراب مت کرو–“

”سوری سر- غلطی ہوگئی-“

”گڈ گرل- اب تمہارا بونس پکا-“ اسلم شاہ نے خوش ہو کر کہا-

مراد اپنے ڈیجیٹل کیمرے سے تصویریں بھی لے رہا تھا اور ویڈیو بھی ریکارڈ کر رہاتھا-

اندر اسلم شاہ اور شہناز مرزا ایک دوسرے میں کھونے کی تیاری کر رہے تھے-

”واہ بھئی واہ- کیا بات ہے مسٹر اسلم شاہ- اپنے ملازمین کو ہر طرح سے استعمال کرتے ہو تم-“

یہ آواز سن کر اسلم شاہ اور شہناز دونوں ہی چونک گئے- دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا- ان کے پیچھے ایک نقاب پوش ہاتھ میں پستول لئے کھڑا تھا-مراد نقاب پوش کو دیکھتے ہی کھڑکی سے ہٹ گیا مگر دوبارہ احتیاط سے اندر جھانکنے لگا-

”کون ہو تم- اور یہاں کیسے آئے-“ اسلم شاہ نے غصے سے پوچھا-

ِ”تم جس پوزیشن میں ہو اسی میں رہنا- ہلنا مت- واہ کیا خوبصورت منظر ہے- اچھی پینٹنگ بنے گی-ہی ہی ہی-“ نقاب پوش ہنستے ہوئے بولا-

”سالے کتے کی طرح کیوں بھونک رہا ہے- بتا ﺅ کون ہو تم-“

”پورے شہر میں میری دہشت کے چرچے ہیں اور ایک تم ہو جو مجھ سے واقف نہیں ہو- چہ چہ چہ— لوگ مجھے درندہ کہہ کر بدنام کر رہے ہیں- جبکہ میں ایک فنکار ہوں- جو بہت ہی انوکھی تصویریں بناتا ہے- اب یہی دیکھو کہ تم دونوںاس وقت کتنے انوکھے پوز میں کھڑے ہو-اب اگر اسی پوزیشن میں رہتے ہوئے اس کی پیٹھ پر خنجر گھونپتے جاﺅ گے تو آرٹ کا ایسا نمونہ بنے گا جو دنیا نے آج تک نہیں دیکھا ہوگا- انمول آرٹ کا نمونہ-ہی ہی ہی-“ درندے نے غراہٹ نما ہنسی ہنستے ہوئے کہا-

”سس سر یہ کیا کہہ رہا ہے-“ شہناز خوفزدہ لہجے میں بولی-

”وہی کہہ رہا ہو جانِ من جو تم سن رہی ہو- میری بات کا یقین کرو- جب خنجر تمہاری اس گوری پیٹھ میں پیوست ہوگا تو ایسا لطف تم نے پہلے کبھی نہیں اٹھایا ہوگا- ہی ہی ہی ہی-“ درندے نے سنگدلی سے کہا اور شہناز کو اپنا دل بلیوں اچھلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا-

”تم کو کتنا پیسہ چاہئے- بولو- میں دینے کو تیار ہوں-“ اسلم شاہ بولا-

”پیسے سے کہیں زیادہ انمول پینٹنگ بنے گی تم دونوں گی- ایسی پینٹنگ کے آگے پیسے کی کیا اوقات ہے- پیسے سے خوبصورت اور حسین جسم تو خریدا جا سکتا ہے لیکن ایسا آرٹ نہیں خریدا جا سکتا مسٹر اسلم شاہ—- یہ لو خنجر پکڑو اور اس کی پیٹھ میں مارتے جاﺅ- اگر تم نے اسے نہیں مارا تو میں تمہارا بھیجہ اڑا دوں گا- میں تو ویسے ہی درندہ کہلواتا ہوں- اور درندے خون بہا کر کتنی تسکین حاصل کرتے ہیں- یہ تو شاید تم جانتے ہی ہوگے-“ یہ کہہ کر درندے نے خنجر اسلم شاہ کے ہاتھ میں تھما دیا-

”سر پلیز- مجھے مت مارنا-“ شہناز گڑگڑانے لگی-

”اگر ایک منٹ کے اندر اندر خنجر اس کی پیٹھ میں نہیں گھسا تو میرے پستول کی گول تمہاری کھوپڑی میں گھس جائے گی-ہا ہا ہا ہا-“

”سر اس کی بات مت ماننا پلیز-“ شہناز کو اپنی موت سامنے نظر آنے لگی تھی-

”چپ کر سالی کنجری— میں تمہارے لئے اتنا کچھ کر سکتا ہوں تو کیاتم میرے لئے اپنی جان نہیں دے سکتیں-“ اسلم شاہ نے بے رحمی سے اس کے بال جکڑتے ہوئے کہا-

مراد نے کھڑکی کے پاس سے ہٹ کر فوراً رفیق کو فون ملایا اور ساری حقیقت اسے بتا دی-

”مرادمیں ابھی بھی ہسپتال میں ہوں- مگر تم فکر مت کرو- میں فوراً ایک پولیس پارٹی وہاں بھیج رہا ہوں- تب تک تم درندے پر نظر رکھو-“ رفیق نے دوسری طرف سے کہا-

مراد واپس کھڑکی پر آگیا اور اس نے اندر جھانکا تو دیکھا کہ اسلم شاہ نے خنجر ہوا میں اٹھا رکھا ہے- اور اس سے پہلے کہ مراد کچھ کرنے کے لئے کچھ سوچ پاتا‘ اسلم شاہ نے خنجر شہناز کی پیٹھ میں گاڑ دیا-کمرے کی شہناز کی بھیانک چیخ گونج اٹھی-

”گڈ— ویری گڈ- ایک اور وار کرو- ایسے ہی شاباش- ہا ہا ہا-“

اسلم شاہ دوبارہ مارنے کے لئے خنجر اوپر اٹھایا ہی تھا مارنے کے لئے کہ درندے نے آگے بڑھ کر تیزی سے اسلم شاہ کا گلا کاٹ دیا-

اور وہ خرخراتا ہوا شہناز کو اپنے ساتھ لیتے ہوئے نیچے گر پڑا-

”کمینہ کہیں کا— سمجھتا ہے کہ تنخواہ دے کر کسی کے ساتھ کچھ بھی کر لے گا- شرم آنی چاہئے تمہیں- مگر فکر مت کرو- تم دونوں بھی میرے فخریہ آرٹ کا حصہ بن چکے ہو- یہ پورا سین میں نے ریکارڈ کر لیا ہے- اب گھر جا کر اطمینان کے ساتھ اس منظر کی پینٹنگ بناﺅں گا-ہا ہا ہا-“ درندہ خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا-

”یہ پولیس کہاں رہ گئی- ہمیشہ لیٹ ہوجاتی ہے— میں کیا کروں- میرے پاس تو کوئی ہتھیار بھی نہیں ہے- کیا کروں- کیا کروں- اگر میں نے کچھ نہیں کیا تو یہ درندہ واپس اپنی کمین گاہ میں جاکر چھپ جائے گا-“ مراد الجھتا ہوا سوچ رہا تھا-

درندے نے آرام سے اپنا سارا سامان سمیٹا اور واپس جانے لگا-

”یہ ضرور گھر کی پچھلی طرف سے داخل ہوا ہوگا- مجھے کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہوگا-“ مراد اپنا سامان وہیں چھوڑ کر گھر کی پچھلی طرف بھاگا-تب تک درندہ گھر سے باہر آکر اپنی کار کی طرف بڑھ رہا تھا- مراد نے دیکھا کہ اس بار اس نے بلیک اسکارپیو استعمال نہیں کی تھی بلکہ کوئی اور ہی ماڈل تھا-

”رک جاﺅ- ورنہ گولی مار دوں گا- ہاتھ اوپر کرو اور زمین پر بیٹھ جاﺅ-“ پیچھے سے مرا دنے رعب دار آواز میں درندے کو للکارتے ہوئے کہا-

درندے نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور ہنستے ہوئے بولا- ”میں کتوں کے بھونکنے سے نہیں رکتا- یہ سب بھونکنے سے پہلے کہیں سے پستول تو لے آتے اپنے ساتھ-“

گھر کے پیچھے اندھیرا تھا اس لئے درندہ مراد کو پہچان نہیں پایا تھا-

”پولیس نے تمہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے- اب تم بچ کر نہیں جا سکتے- چپ چاپ اپنے ہتھیار نیچے پھینک دو-“

”پولیس کو تو میں نے الو کی طرح نچا کر رکھ دیا ہے بیٹا- اس لئے تم پولیس کی تو بات ہی مت کرو-“ درندے نے مراد کی طرف پستول تانتے ہوئے کہا-

مراد درندے کو باتوں میں الجھانے کی کوشش کر رہا تھا- مگر درندہ اس جال میں پھنسنے والا نہیں تھا- اس نے مراد کے سر کا نشانہ لے کر فائر کیا مگر مراد بھاگ کر دیوار کی دوسری طرف چھپ گیا-

”اپنا نام بتا دیتے تو دوبارہ ملنے میں آسانی ہوجاتی- تمہاری بھی پینٹنگ بنا دیتا- ہی ہی ہی-“ درندہ بولااور اپنی کار کی طرف بڑھنے لگا-

مراد نے ایک بڑا سا پتھر اٹھایا اور درندے کے سر کا نشانہ لے کر دے مارا- پتھر سیدھا درندے کی کھوپڑی سے ٹکرایا اور خون بہنے لگا-

”کتے تیری یہ ہمت-“ درندے نے غصے میں ادھر ادھر کئی بے مقصد فائر کئے اور کار میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گیا- شاید اسے ڈر تھا کہ فائرنگ کی آواز سن کر پولیس نہ پہنچ جائے-

مراد دوڑتا ہوا دوبارہ کھڑکی کی طرف آیا اور اپنا سارا سامان اٹھا کر بائیک اسٹارٹ کرکے سڑک پر دوڑا دی-

”آج تمہیں چھوڑوں گا نہیں-“ مراد بڑبڑا رہا تھا مگر جتنی دیر میں وہ گلی سے بڑی سے سڑک پر پہنچتا درندے کی کار وہاں سے غائب ہوچکی تھی-

”کہاں گیا وہ کتے کی نسل— اندھیرے کی وجہ سے کار کا نمبر بھی نہیں دیکھ سکا میں-“ مراد بری طرح مایوس ہو رہا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے دس بج رہے تھے- راجو نے کئی بار وردا کی کھڑکی کی طرف دیکھا مگر ہر بار پردہ گرا ہوا پایا-

”اگر ان کو مجھ سے محبت ہوتی تو کھڑکی میں کھڑی ہوتیں- کیا وہ میرے لئے اتنا بھی نہیں کرسکتیں-“ راجو یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ کھڑکی کا پردہ ہٹا اور وردا نے چپکے سے راجو کو جھانک کر دیکھا– راجونے وردا کو دیکھا تو جیپ سے نیچے اتر آیا- مگر وردا نے راجو کو جیپ سے باہر آتے دیکھ کر دوبارہ پردہ گرا دیا- اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا-

”یار ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے- پھر سے پردہ گرا دیا- راجو آج آر یا پار والی بات ہوہی جائے-“ یہ سوچ کر راجو دروازے کی طرف بڑھا اور بیل بجا دی- آج کام والی ماسی گھر میں نہیںرکی تھی اس لئے دروازہ وردا کو ہی کھولنا تھا-

”اب یہ کیا چاہتا ہے- پہلے تو چپ چاپ آکر آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا تھا جیپ میںاور اب بیل کیوں بجا رہا ہے-“ وردا نے سوچا اور اسی ادھیڑ بن میں اس نے دروازہ نہیں کھولا مگر پانچ چھ منٹ گزرنے کے بعد کچھ سوچ کر اس دروازہ کھولا تو دیکھا کہ راجو دوبارہ اپنی جیپ کی طرف واپس جا رہا ہے-

”کیا ہے- بیل کیوں بجا رہے تھے؟-“ وردا نے آواز دے کر کہا-

راجو واپس پلٹ کر اس کے پاس آیا اور بولا- ”آپ کے ساتھ مسئلہ کیاہے- کیا میری شکل اتنی ہی بری لگتی ہے کہ مجھے دیکھتے ہی آپ پردہ گرا دیتی ہیں-“

”تو کیامیں تمہارے لئے کھڑکی پر ہی ٹنگی رہوں—- مجھے اور کوئی کام نہیں ہے کیا-“

”محبت کرتا ہوں آپ سے کوئی مذاق نہیں- مگر آپ نے تو میری محبت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے- لگتا ہے آپ نے مجھے برباد کرنے کی ٹھان لی ہے-“ راجو غصہ دکھاتا ہوا بولا-

”میں ایسا کچھ نہیں کر رہی ہوں- تم ہی واپس آکر چپ چاپ جیپ میں بیٹھ گئے تھے-“ وردا نے بھی شکایتی جواب دیا-

”ہاں تو اور کیا کرتا- مجھے دیکھتے ہی پردہ گرا دیا تھا آپ نے-“

”میں تمہیں دیکھتے ہی بھاگ کر نیچے آئی تھی- مگر تمہیں کیا- جاﺅ یہاں سے- مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے-“ وردا نے روتے ہوئے کہا اور دروازہ راجو کے منہ پر بند کرکے کنڈی لگا لی-

یہ سب سن کر راجو تو حیران ہی رہ گیا-”ارے ہاں – دروازے کی آواز تو آئی تھی- اف میں بھی کتنا بے وقوف ہوں- — وردا جی پلیز دروازہ کھولیں-“ راجو دروازہ پیٹنے لگا-

وردا نے دروازہ کھولا اور سسکتے ہوئے بولی- ”کیا ہے اب— مجھے بار بار کیوں پریشان کر رہے ہو-“

”بس ایک سوال کا جواب دے دیں- پھر کبھی پریشان نہیں کروں گا— کیا آپ— مجھ سے— محبت کرتی ہیں؟-“ راجو نے توڑ توڑ کر اپنا سوال مکمل کیا-

”تمہیں کیا لگتا ہے؟-“ وردا نے الٹا اسی سے پوچھ لیا-

”مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ میرے ساتھ کوئی کھیل کھیل رہی ہیں-“

”میں محبت کرتی ہوں تم سے کوئی مذاق نہیں- اور مجھے پتہ ہے کہ کھیل تم کھیلو گے میرے ساتھ-“ یہ جواب دے کر وردا نے پھر سے دروازہ بند کرلیا-

”اب یہ کیا بات ہوئی— آپ نے محبت کا اظہار بھی کیا اور میری ناک پر دروازہ بھی دے مارا- یہ کھیل نہیں ہے تو اور کیا ہے-“راجو بھی تپ گیا تھا- یہ کہہ کر وہ پاﺅں پٹختے ہوئے دوبارہ جیپ میں آکر بیٹھ گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

درندہ اپنے گھر میں بیالیس انچ ایل ای ڈی اسکرین پر اسلم شاہ اور شہناز مرزا کے قتل کی ویڈیو دیکھ رہا تھا-

”اسلم شاہ نام ہے میرا- تم نے چلا کر یہی کہا تھا نا مجھ سے- ایک تو پیچھے سے میری کار کو ٹھوک دیا اوپر سے رعب بھی جما رہا تھا- تم جیسے ہائی کلاس کیڑے کو ایسی ہی موت ملنی چاہئے تھی- اور اپنے ساتھ ساتھ بیچاری ایمپلائی کی جان بھی لے بیٹھا- ہا ہا ہا- اس منظر کی تو ایسی شاندار پینٹنگ بنے گی کہ شاہکار ہوگی شاہکار- اور میں تمہارا شکر گزار ہوں اسلم شاہ کہ تمہاری وجہ سے ایسا شاہکار وجود میں آرہا ہے- — اب ٹھیک ہے تمہیں مجھ پر رعب جمانے کی سزا ملی اور مجھے اس کے بونس کے طور پر شاہکار پینٹنگ— مگر-“ اچانک درندہ غصے سے تلملانے لگا- ”مگر وہ کون تھا جس نے میرا پھوڑنے کی جرات کی- بس مل جائے- اس کی تو بہت ہی بھیانک پینٹنگ بناﺅں گا میں- اس کے بارے میں کیسے بھی کرکے پتہ کرنا ہوگا- اندھیرے کی وجہ سے اس کی شکل نظر نہیں آئی ورنہ پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالتا اس حرامی کو— کوئی بات نہیں- جلد ہی پتہ لگ جائے گا اس کا اور پھر – ہا ہا ہا ہا-“ درندہ کینوس پر اسلم شاہ اور شہناز مرزا کی تصویر بنانے میں مگن ہوگیا-

”بہت آرام آرام سے بناﺅں گا یہ پینٹنگ – کیونکہ میں نے ایسی موت آج تک کسی کو نہیں دی- ہا ہا ہا ہا-“

٭٭٭٭٭٭٭

راجو سے جیپ میں بیٹھا نہیں گیا اور وہ دوبارہ گھر کا دروازہ پیٹنے لگا- مگر وردا نے دروازہ نہیں کھولا- وہ دروازے کے سہارے ہی کھڑی تھی‘ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا- جذبات میں بہہ کر محبت کا اظہار جو کر بیٹھی تھی- اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں- اب راجو سے نظریں ملانا اس کے لئے مشکل ہوگیا تھا-

”تو آخر اس نے مجھے اپنی محبت کے جال میں پھنسا ہی لیا- مگر میں اسے وہ گھناﺅنا خواب کبھی پورا نہیں کرنے دوں گی- محبت کا مطلب دو جسموں کا ملاپ تو نہیں ہے-“ وردا نے خود سے کہا-

”وردا جی دروازہ کھولیں- دیکھیں آپ اچھا نہیں کر رہی ہیں- آخر آپ کیوں ستا رہی ہیں مجھے- راجو چیختا ہوا بولا-

”آہستہ بولو- تمہارے ساتھ اور لوگ بھی ہیں- وہ سن لیں گے تو کیا کہیں گے- تم کیوں مجھے بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہو-“ وردا نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”کوئی کچھ نہیں سن رہا— آپ دروازہ کھولیں پلیز- ہمارا آپس میں بات کرنا بہت ضروری ہے- کیا آپ اپنی محبت کا اظہار کرکے مجھے یوں تڑپتا ہوا چھوڑ دیں گی-“محبت نے راجو کو بتاتیں کرنا سکھا دیا تھا-

وردا نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا- ”میرے ساتھ زیادہ اسمارٹ بننے کی کوشش مت کرنا- باقی دس دس لڑکیوں کے ساتھ جو کیا ہے وہ میرے ساتھ نہیں چلے گا- کیا مطلب ہے تڑپتا چھوڑ دینے کا- اتنی جلدی تم یہ سب سوچنے بھی لگ گئے- شیم آن یو-“

راجو کو سمجھ نہیں آئی کہ وردا کہنا کیا چاہتی ہے- اور وہ سمجھتا بھی کیسے- اب اسے کیا پتہ کہ وردا نے خواب میں کیا دیکھا تھا-

”آپ کیوں ناراض ہو رہی ہیں- اگر آپ ایسا سمجھتی ہیں تو مت کریں مجھ سے محبت— میں آپ کو کسی الجھن میںنہیں دیکھنا چاہتا-“ راجو نے سچے دل سے کہا-

”کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ آخر تم مجھ سے محبت کیوں کرتے ہو—دیکھو جھوٹ مت بولنا-“ وردا نے پوچھا-

”وردا جی- آپ کی طرح مجھے بھی نہیں پتہ کہ اس محبت کا مطلب کیا ہے– بس اتنا جانتا ہوں کہ آپ سے محبت ہوگئی ہے— یہ محبت کیوں ہوئی؟—- اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے— بس اتنا جانتا ہوں کہ آپ کی ان جھیل سی آنکھوں میں ڈوب چکا ہوں میں-“ راجو اپنی محبت کی جتنی وضاحت کر سکتا تھا اس نے وردا کے سامنے کردی-

”کیا تمہیں میری آنکھیں جھیل سی لگتی ہیں؟-“ وردا نے پوچھا-

”آپ کو نہیں پتہ کیا— مجھے ڈبو دیا ان آنکھوں نے اور خود آپ انجان بنی بیٹھی ہیں-“

”یہ فلرٹ ہے یا محبت؟-“ وردا نے مزید وضاحت طلب کی-

”آپ کو کیا لگتا ہے-“ راجو ہنستے ہوئے بولا-

”مجھے لگتا ہے کہ تم میرے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہو-“ وردا نے کہا-

”میں محبت کرتا ہوں آپ سے کوئی مذاق نہیں- اور مجھے کوئی کھیل کھیلنا نہیں آتا- آپ کے لئے دل میں صرف اور صرف محبت رکھتا ہوں میں-کہو تو اپنا دل نکال کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں-“

یہ سن کر وردا کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تیرنے لگی- اور راجو بس وہ مسکراہٹ دیکھتا ہی رہ گیا-

”ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟-“ وردا نے لجاتے ہوئے کہا-

”اگر تھپڑ نہیں ماریں گی تو ایک بات کہوں-“

”اب تھپڑکیوں ماروں گی تمہیں-“

”بہت پیاری مسکراہٹ ہے آپ کی- میںنے بہت دنوں بعد آپ کے ہونٹوں پر یہ مسکراہٹ دیکھی ہے- ہمیشہ ایسے ہی مسکراتی رہنا-“ راجو نے پیار سے دیکھتے ہوئے کہا-

یہ سن کر وردا کی آنکھیں بھر آئیں- راجو نے بھی اس کے آنسو دیکھ لئے-

”کیا ہوا— کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا— دیکھیںمیں آپ سے کوئی دل لگی نہیں کر رہا ہوں- نہ ہی کبھی آپ کی جھوٹی تعریف کی ہے- دل لگی جھوٹی ہوتی ہے اور محبت اپنی سچائی خود ثابت کر دیتی ہے-“ راجو نے تڑپ کر کہا-

امی ابو میری وجہ سے مارے گئے— یہ خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے- ہر طرف ان کی یادیں بکھری ہوئی ہیں- بہت ہی دکھی زندگی جی رہی ہوں میں- ایسے حالات میں بھی پتہ نہیں کیوں تمہاری بات پر مسکرا دی میں-“ وردا نے ٹوٹے ہوئے لہجے میںکہا-

”یہ تو اچھی بات ہے— وقت ہر زخم کا مرہم ہے— ہمیں سب کچھ بھول کر آگے بڑھنا ہوگا- ورنہ یادیں انسان کا جینا دوبھر کر دیتی ہیں-“

”ہمیں مطلب؟-“ وردا نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا-

”تو کیا محبت کا یہ سفر آپ اکیلے طے کریں گی— کیا مجھے حق نہیں ہے کہ میں بھی آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلوں-“

”راجو مجھے ابھی کچھ بھی نہیں پتہ کہ محبت کی منزلیں کیسے طے کی جاتی ہیں- مجھے کچھ وقت دو- میرا دل گھبرا رہا ہے- امی ابو کی بہت یاد آرہی ہے- ہم بعد میں مزید بات کریں گے-“ وردا کی آنکھیں پھر بھر آئی تھیں-

”بالکل وردا جی- آپ آرام کریں- باتیں کرنے کے لئے تو ساری عمر پڑی ہے-“

”تو تم نے یہ محبت ساری عمر کے لئے سوچ کر کی ہے-“ وردا نے پوچھا-

”جی ہاں- میں آپ سے محبت کرتا ہوں کوئی مذاق نہیں- ساری عمر نبھائیں گے ہم-“

”تمہاری باتیں بہت خوب ہوتی ہیں- اچھا میں چلتی ہوں- اب مزید بات نہیں کر پاﺅں گی-“ وردا بولی-

”کوئی بات نہیں- اوکے- گڈنائٹ-“ راجو نے خوشدلی سے کہا-

وردا نے دروازہ بند کی اور سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں آگئی اور کھڑکی کا پردہ ہٹا کر دیکھا- راجو جیپ سے باہر ہی کھڑا تھا- اسے پتہ تھا کہ وردا کمرے میں جاکر کھڑکی سے ضرور جھانکے گی-

دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا دیئے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں پھر سے محبت کا اظہار ہونے لگا- اور وردا پردہ گرا کر بستر پر لیٹ گئی-

”کہیں میں کچھ غلط تو نہیں کر رہی ہوں- مجھے یہ محبت کیسے ہوگئی—“ وردا نے خود سے پوچھا- مگر راجو کی طرح اس کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے بارہ بج رہے تھے جب ایس پی صاحب شہلا اور اور رفیق کو دیکھنے ہسپتال پہنچے- شہلا ابھی بھی آئی سی یو میں اس لئے وہ رفیق کے کمرے میں چلے آئے-

”اب کیسے ہو رفیق— دیکھا- اس لئے کہتا تھا کہ اس درندے کا کچھ کرو- اب ا س کی اتنی ہمت بڑھ گئی ہے کہ وہ پولیس کے افسروں کو بھی شکار کرنے لگا ہے-‘ ‘ ایس پی نے کہا-

”سر ہم سے جو بھی ہوسکتا تھا کر رہے ہیں- مگر وہ درندہ بہت شاطر ہے-“

”یاد رکھو- مجرم کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو- اپنے پیچھے کوئی نہ کوئی سراغ ضرور چھوڑ جاتا ہے— تم نے اس سراغ کو ڈھونڈنا ہے- میں خوش ہوں کہ تم دونوں کی زندگی بچ گئی-“

”ابھی میڈم کو ہوش آنا باقی ہے سر- ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ صبح تک ہی ہوش آنے کی امید ہے- اور سر آپ کو بتا دوں کہ اس درندے نے اسلم شاہ کو بھی مار دیا ہے-“

”ہاں مجھے پتہ چلا ہے- اس درندے نے تو تمام حدیں پار کر لی ہیں- اب میری اپنی نوکری خطرے میں ہے- میں اوپر والوں کو ٹال ٹال کر تھک چکا ہوں- مجھے لگتا ہے کہ میں کبھی بھی معطل ہوسکتا ہوں- یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سزا کے طور پر میرا تبادلہ کر دیا جائے- مگر تم کسی بھی صورت میں اس درندے کو چھوڑنا مت-اسے ہر حال میں گرفتار کرنا ہے-“ ایس نے اپنی مجبوریاں بتاتے ہوئے کہا-

”سر آپ کا تعاون رہا تو ہم آپ کی توقعات پر ضرور پورا اتریں گے-“ رفیق بولا-

ایس پی صاحب کے جانے کے بعد رفیق گہری سوچوں میں ڈوب گیا-

”اسلم شاہ پر شک تھا- مگر اب وہ بھی مر چکا ہے— اب صرف دو ہی مشکوک بچے ہیں- کرنل داﺅد خان اور راجہ نواز— اور ان دونوں کا کہیں پتہ نہیں چل رہا- ہسپتال سے چھٹی ملے تو دیکھوں کہ کیا کر سکتا ہوں- ڈاکٹر نے تو ایک ہفتے سے پہلے چھٹی دینے سے انکار کر دیا ہے- مگر میں ایک دو دن سے زیادہ یہاں نہیں رک سکتا-“

پھر اس نے کچھ سوچ کر راجو کو فون کیا- ”ہیلو- ریاض حسین- تمہیں ایک کام اورکرنا ہوگا-“

”ہاں بولیں سر- کیا کرنا ہے-“ راجونے کہا-

”تم صبح ہسپتال آجانا- ہمیں اس جگہ جانا ہے جہاں درندے نے ہمارے ساتھ یہ واردات کی تھی- ہوسکتا ہے کہ وہاں کوئی سراغ مل جائے- پھر بعد میں جہاں اسلم شاہ کا قتل ہوا ہے وہاں بھی جانا ہے- اپنے دوست مراد کو بھی ساتھ لے لینا کیونکہ وہ اسلم شاہ کے قتل کا چشم دید گواہ ہے- مجھے امید ہے کہ کوئی نہ کوئی سراغ ہم ضرور ڈھونڈ نکالیں گے-“

”اوکے سر- میں آجاﺅں گا- مگر کتنے بجے؟-“ راجو نے پوچھا-

”سات بجے تک آجانا-“

”رائٹ سر-“

جیسے ہی رفیق نے لائن کاٹی اس کا فون بجنے لگا- اس نے دیکھا ریما کی کال تھی-

”ہیلو-“ اس نے کہا-

”رفیق—- تم ٹھیک تو ہونا-“

”پوچھو مت- آج میں درندے کے فن کا حصہ بنتے بنتے بچا ہوں- ابھی ہسپتال میں ہوں-“ رفیق نے کہا-

”کیا تم ہسپتال—- اوہ—“

”ارے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے- تم سناﺅ-“

”رفیق- کل مجھے لڑکے والے دیکھنے آرہے ہیں- کیاکروں میں—- مجھے بڑی مشکل سے ملا ہے یہ فون- بھیا نے چھپا کر رکھ دیا تھا-“

”تم فکر مت کرو- میں تمہارے بھیا سے بات کروں گا- وہ یہیں ہیں ہسپتال میں-“ رفیق نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”کیا بات کرو گے؟-“ ریما نے پوچھا-

”ہماری شادی کی بات اور کیا؟-“

”تم مجھ سے شادی کرو گے- جبکہ تم مجھ سے محبت تو کرتے نہیں ہو-“ ریما بجھے ہوئے لہجے میں بولی-

”ریما- میرے دل میں تمہارے لئے کچھ تو ہے— وہ محبت ہے یا کچھ اور پتہ نہیں- اگر تمہارے بھیا مان گئے تو کیا تم مجھ سے شادی کے لئے راضی ہوجاﺅ گی؟-“ رفیق نے پوچھا-

”کیوں نہیں کروں گی— ضرور کروں گی– تم کیسے بھی کرکے بھیا کو منا لو-“ ریما نے خوش ہوکر کہا-

”یار انہیں منانا ہی تو مشکل ہے—- سمجھ میں نہیں آتاکہ کیا کروں- ایک نمبر کا کمینہ ہے تمہارا-“ رفیق جملہ مکمل نہیں کر پایا کیونکہ دروازے پر چوہان کھڑا اسے دیکھ رہا تھا- رفیق نے فوراً لائن کاٹ دی-

چوہان غصے سے لال پیلا ہوتا ہوا کمرے کے اندر آگیا- ”میری بہن کا پیچھا چھوڑتے ہو یا نہیں- اچھی طرح سمجھ لو— ورنہ گولی ماردوں گا تم کو- بعد چاہے جو بھی ہوتا رہے-“

”سر میں ریما سے شادی کرنا چاہتا ہوں- وہ مجھ سے محبت کرتی ہے- ہمیشہ اسے خوش رکھوں گا-“

”ریما کی شادی اور تم سے— آئینے میں شکل دیکھی ہے اپنی—- ریما کی شادی وہیں ہوگی جہاں میں چاہوں گا- لڑکے والے اس کی تصویر دیکھ کر اسے پسند کر چکے ہیں- کل بس رسماً اسے دیکھنے آرہے ہیں- چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دوں گا— اگر تم میں ذرا بھی شرم باقی ہے تو میری بہن سے دور رہنا- اس کی خوشیوں میں آگ لگانے کی کوشش مت کرنا- اور تم نے دوبارہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو تم سے تو بعد میں نمٹوں گا پہلے اسے ہی ختم کر دوں گا-“ رفیق کو اس وقت چوہان پنجابی فلموں کے ولن کے عین مطابق لگ رہا تھا- جو سماج کی دیوار بن کر خواہ مخواہ ہیرو ہیروئن کے بیچ میں آکر رخنہ ڈال دیتا ہے کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی-

رفیق نے کچھ کہنے سے چپ رہنا زیادہ بہتر سمجھا- کیونکہ وہ جتنا زیادہ بولتا- چوہان کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا-

چوہان کے جانے کے بعد دوبارہ رفیق کا فون بج اٹھا- یہ بھی ریما کی کال تھی-

”کیا ہوا رفیق تم نے فون کیوں کاٹ دیا تھا؟-“ ریما نے استفسار کیا-

”ریما اگر تم کو مجھ سے شادی کرنی ہے تو اپنے بھیا کی مرضی کے خلاف کرنی ہوگی- تم صرف ہاں کہہ دو- باقی سب میں سنبھال لوں گا-“

’نہیں رفیق- میں ایسا نہیں کر سکتی- میں ان کی مرضی کے خلاف ایسا نہیں کر سکتی—- امی ابا کے گزرنے کے بعد انہوں نے ہی مجھے پالا ہے- میں کروں گی تو ان کی مرضی سے ہی شادی کروں گی-“ ریما نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا-

”پھر ہماری شادی کو بھول جاﺅ- اور جاکر وہیں شادی کرلو جہاں تمہارا بھیا چاہتا ہے-“

”رفیق پلیز-“ ریما روہانسی ہوگئی-

”سوچ لو ریما— وہ کسی صورت بھی نہیں مانے گا— ہاں تم منا سکتی ہو تو منا لو-“

”میں اس موضوع پر بھیا سے بات نہیں کر سکتی رفیق-“

”تو پھر میری بات مان لو- ہم ان کی مرضی کے خلاف جاکر ہی یہ شادی کر سکتے ہیں-

”سوری رفیق- مجھ سے یہ نہیں ہوگا- تم پلیز کسی بھی طرح بھیا کو منا لو-“ ایسا لگ رہا تھا جیسے ریما ابھی رو پڑے گی- ایک طرف بھائی کی محبت اور دوسری طرف اس کی اپنی محبت- وہ دونوں کو کھونا نہیں چاہتی تھی-

”اوکے- بعد میں بات کریں گے- مجھے صبح جلدی اٹھنا ہے- اور اہم تفتیش کے لئے جانا ہے-“

”اوکے رفیق- سو جاﺅ- گڈ نائٹ-“

رفیق نے فون بند کرکے آنکھیں بند کرلیں- اور ہر سوچ کو اپنے دماغ سے باہر نکال کر سونے کی کوشش کرنے لگا-

٭٭٭٭٭٭٭

صبح ہوئی تو شہلا کو بھی ہوش آگیا- اس کے والدین نے پوری رات آئی سی یو کے باہر بے چین رہ کر گزاری تھی-

ڈاکٹر کی جانب سے ملنے کی اجازت ملنے کے بعد والدین کمرے کے اندر آگئے-چوہان بھی ان کے ساتھ ہی اندر آگیا تھا-

”رفیق کہا ں ہے؟—- وہ ٹھیک تو ہے نا؟-“ شہلا نے ہوش میں آنے کے بعد سب سے پہلے رفیق کے بارے میں ہی دریافت کیا-

”میڈم وہ تو صبح صبح ہی ہسپتال سے کہیں چلا گیا ہے- وہ تو بالکل ٹھیک تھا‘ اسے کچھ نہیں ہوا تھا- آپ سے ملنے تک کی فرصت نہیں ہے اس خواہ مخواہ کے مصروف آدمی کے پاس- پتہ نہیں کہاں منہ مارنے گیا ہے صبح ہی صبح-“ چوہان نے اپنے اندر کی آگ اگلی-

”یہ سنتے ہی شہلا کا چہرہ اتر گیا اور اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں-

”بیٹا ہماری تو پوری رات تمہارے لئے دعائیں کرتے گزر گئی- خدا کا شکر ہے کہ اب تم ٹھیک ہو- مگر بیٹا یہ سب ہوا کیسے؟-“ شہلا کے ڈیڈی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا-

شہلا نے چوہان کو باہر بھیج دیا اور اپنے والدین کو پوری تفصیل بتا دی-

”بیٹا اسی لئے تو میںپولیس کی جاب سے منع کرتا تھا- کسی اور ڈپارٹمنٹ میں ٹرائی کرتیں-“ ڈیڈی بہت پریشان لگ رہے تھے-

”ڈیڈی- مجھے یہ جاب پسند ہے- ہاں یہ نہیں جانتی تھی کہ اتنا کچھ ہوجائے گا میرے ساتھ- میں تو ہمت ہی ہار چکی تھی- مگر پتہ نہیں رفیق مجھے یہاں تک کیسے لے آیا-“

”یہ رفیق کون ہے بیٹا؟-“ ممی نے پوچھا-

”وہ ایک انسپیکٹر ہے- درندے کا کیس میںنے اسے ہی دے رکھا ہے-“

”اگر وہ ڈھنگ سے اپنا کام انجام دیتا تو یہ مصیبت ہی نہ آتی تم پر- اب تم یہ کیس کسی اور کے سپرد کردو-“ ڈیڈی نے کہا-

”ایسی بات نہیں ہے ڈیڈی- وہ بہت محنت کر رہا ہے- آہ ہ ہ ہ -“ بولتے بولتے شہلا کراہنے لگی-

”کیا ہوا؟-“ ممی نے گھبرا کرپوچھا-

”پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے-“

ِِ”میں ڈاکٹر کو بلاتا ہوں-“ ڈیڈی یہ کہتے ہوئے باہر نکل گئے-

ڈاکٹر نے آکر درد کش انجیکشن دیا جس سے شہلا کو کچھ آرام ملا-

”جب تک زخم پوری طرح بھر نہیں جاتا‘ یہ درد تو رہے گا- لیکن پین کلر سے آپ کو آرام ملتا رہے گا- گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے-“ ڈاکٹر نے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق‘ راجو اور مراد کے ساتھ صبح ہی صبح اس جگہ پہنچ گیا جہاں درندے نے شہلا کو پیڑ سے لٹکا رکھا تھا- ان کے ساتھ چھ سپاہی بھی تھے-

”ہر طرف دیکھو‘ یہاں کچھ نہ کچھ ضرور ملے گا-“ رفیق نے کہا-

اس پیڑ اور ا س کے آس پاس نہایت باریکی سے معائنہ کیا گیا مگر کوئی ایسا سراغ نہیں ملا جو انہیں درندے تک لے جاتا-

”واقعی بہت ذہین اور شاطر دماغ ہے وہ درندہ- اس نے کوئی ایسا سراغ نہیں چھوڑا جس سے اس کی شناخت ہوسکے-“ راجو نے مایوسی سے کہا-

”وہ یہاں کھڑے ہو پینٹنگ کر رہا تھا- لگتا ہے اسے پینٹنگ کا بہت شوق ہے-“ رفیق بولا-

”یس سر- میں نے بھی یہی نوٹ کیا ہے- اسلم شاہ کو مارتے وقت بھی وہ اپنے فن کی بات کر رہا تھا- بہت ہی زیادہ سنکی قاتل لگتا ہے وہ-“ مراد نے کہا-

”اگر وہ سنکی نہ ہوتا تو اس طرح کی غیر انسانی حرکتیں کیوں کرتا- عجیب بات تو یہ ہے کہ یہاں اس کے جوتوں تک کے نشانات نہیں ہیں- صرف میرے پاﺅں کے نشان نظر آرہے ہیں- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے قدموں تک کے نشانات مٹا دیئے ہیں-“ رفیق غور سے دیکھتاہو ابولا-

”مگر سر پھر بھی وہ اپنا ایک ثبوت تو دے ہی گیا ہے نا ہمیں-“ راجو نے کہا-

”کون سا ثبوت- جلدی بتاﺅ-“ رفیق نے بے چین ہوکر پوچھا-

”یہی پینٹنگ کا شوق- اگر ہم نے درندے کو پکڑنا ہے تو پھر ہمیں ایک ایسے مصور کو تلاش کرنا ہے جو موت کی عجیب و غریب تصویریںبناتا ہو-“ راجو نے بہت دور کی بات کی-

”ایک آدمی پر شک ہے مجھے- وہ ہے ریٹائرڈکرنل داﺅد خان- تین باتیں ایسی ہیں جو اسے شک کے دائرے میں لاتی ہیں— پہلی بات یہ کہ اس کے پاس بلیک اسکارپیو ہے– دوسری یہ کہ اسے پینٹنگ کا شوق ہے- اور تیسری بات یہ کہ اس کے گھر میںموت کی ایک بہت ہی عجیب پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہے-“ رفیق نے اپنے شک کا مفصل اظہار کرتے ہوئے کہا- ”جیسی تصویر میں نے اس کے گھر میں دیکھی ہے ویسی تصویر کوئی سنکی اور نفسیاتی مصور ہی بنا سکتا ہے- ایک جنگل کے بیچ گھوڑا کھڑا تھا اور اس کی پیٹھ پر کٹا ہوا انسانی سر رکھا ہوا-“

”اگر ایسی بات ہے سر تو ابھی جاکر اس کا انکاﺅنٹر کر دیتے ہیں- ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے-“ راجو جوش میں آگیا-

”ریاض حسین‘ مرنا تو اسے ہے— ہم اسے حوالات تک نہیں لے جائیں گے- اگر ہم اسے حوالات تک لے گئے تو ہوسکتا ہے کہ وہ قانونی داﺅ پیچ کا سہارا لے کرسزا سے بچ جائے- لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ مکمل یقین ہونا چاہئے کہ درندہ کون ہے- پھر اطمینان سے گولی مار دیں گے سالے کو-“ رفیق نے کہا-

”نہیں سر- میں اسے اتنی آسان موت دینے کے حق میں نہیں ہوں- اس کے ساتھ بھی گیم کھیلی جانی چاہئے تاکہ اسے پتہ چلے کہ جنہیں وہ گیم کھیلنے پر مجبور کرتا ہے ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہے- اور اس کی موت کی بھی پینٹنگ بننی چاہئے-“ مراد کا جنون بھی باہر آرہا تھا-

”ہاں استاد- تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو-“ راجو نے مراد کی تائید کرتے ہوئے کہا-

”وہ بھی کر لیں گے- پہلے یہ اطمینان تو ہوجائے کہ درندہ ہے کون؟-“ رفیق نے ان کے خیالات کی نفی نہیں کی-

”سر ہمیں اب اس کرنل کی کڑی نگرانی شروع کر دینی چاہئے-“

”میں نے پہلے ہی سے کچھ لوگ اس کام پر لگا رکھے ہیں-“ رفیق نے بتایا-

”سر اگر آپ برا نا مانیں تو مجھے بھی شریک کرلیں- میںبھی اس کرنل کی نگرانی کرنا چاہتا ہوں- شک کی ہر سوئی اب اسی کی طرف اشارہ کر رہی ہے-“ مراد نے اپنی درخواست پیش کی-

”بالکل- تم جو کرنا چاہتے ہو تمہیں پوری اجازت ہے- مگر ایک مشکوک شخص اور ہے- اس کا نام راجہ نواز ہے-“

”کوئی بات نہیں- میں اس پر بھی نظر رکھ لوں گا- ویسے اس پر شک کرنے کی وجہ کیا ہے؟-“ مراد نے پوچھا-

”وہ بھی بلیک اسکارپیولے کر گھوم رہا ہے اور پچھلے دو تین دن سے بالکل غائب ہے-“ رفیق نے بتایا-

”ٹھیک ہے- آپ مجھے دونوں کا ایڈریس دے دیں- میں آج سے ہی اس کام پر لگ جاتا ہوں-“

”راجو تم فی الحال وردا کے گھر پر ہی رہو- میڈم کو ہوش آگیا ہوگاتو میں ان سے تمہاری ڈیوٹی چینج کروانے کی بات کرلوں گا-“ رفیق نے راجو سے کہا-

”نہیں سر- اب چینج نہیں کروانی- میں وہیں رہنا چاہتا ہوں-“

”آر یو شیور؟-“

”یس سر- میں شیور ہوں-“

رفیق اپنی جیپ میں بیٹھ گیا اور مراد ‘ راجو کے ساتھ اس کی جیپ میں بیٹھ گیا اور واپس شہر کی طرف چل پڑے-

”کیوں بھائی راجو صاحب- کیسا چل رہا ہے تمہارا لو افیئر؟-“ مراد نے مسکراتے ہوئے پوچھا-

”بہت ہی اچھا چل رہا ہے استاد- کل رات وردا جی نے اپنی محبت کا اظہار بھی کر لیا ہے-“ راجو نے خوش ہوکر بتایا-

”کیا-“ مراد نے حیرت سے پوچھا- ”ایسا کیسے ہوگیا— وردا نے محبت کا اظہار کر دیا- ناممکن-“ مراد کو یقین ہی نہیں آرہا تھا-

”استاد- اگر دل میں سچا پیار ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے-“

”یار تمہارا تو پیشاب نکل گیا تھا اس کے سامنے—- وہ تم سے محبت کیسے کر سکتی ہے-“ مراد کی ہنسی نکل گئی وہ لمحہ یاد کرکے-

”استاد – میں تم کو ابھی جیپ سے باہر پھینک دوں گا- — تم جانتے ہی ہو کہ وہ میری میڈکل پرابلم ہے- پھر بھی-“ راجو نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”ہاں یار جانتا ہوں- بس ایسے ہی مذاق کر رہا تھا- وردا سے کچھ لپٹے شپٹے بھی یا نہیں-“

”ایسی باتیں مت کرو استاد- بڑی مشکل سے تو انہوں نے محبت کااظہار کیا ہے- اتنی جلدی لپٹنا شپٹنا کہاں سے ہوجائے گا- ابھی تک تو ٹھیک سے بات بھی نہیں ہوئی ہے-“ راجو نے کہا-

”ارے بھائی اگر پیار سے کسی کو اپنے ساتھ لپٹایا نہیں تو پھر کیا کیا— میں نے تو بھئی اسی معاملے میں بڑی جلدی دکھائی ہے- محبت بڑھتی ہے ان باتوں سے-“ مراد نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا-

”ایسا ہے کیا-“

”اور نہیں تو کیا—“

مگر وردا جی ایسی نہیں ہیں- وہ ان سب باتوں سے بہت نفرت کرتی ہیں- استاد کہیں تم مجھے غلط مشورہ تو نہیں دے رہے؟-“ راجو نے مراد کی طرف شک کی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا-

”نہیں- بالکل صحیح مشورہ دے رہا ہوں- میں کوئی تمہارا دشمن ہوں جو تم کو غلط مشورہ دوں گا- بس آج ہی وردا کو اپنی بانہوں میں جکڑ لینا پھر دیکھنا کہ تمہارا پیار اور بھی زیادہ مہک اٹھے گا-“

”میں اس بار ے میں سوچوں گا-“ راجو نے کہا- اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی- شاید وردا کو اپنی بانہوں میں لینے کا احساس اسے مسکرانے پرمجبور کررہا تھا- مگر اس کا دل اس بات سے بھی گھبرا رہا تھا کہ کیا یہ سب ممکن بھی ہے ؟-

”استاد یہ کچھ جلدی بازی تو نہیں ہوگی- مطلب اتنی جلدی—- کچھ عجیب سا لگ رہا ہے-“ راجو نے کہا-

”راجو تم تو ایسے بات کر رہے ہو جیسے تم کبھی کسی لڑکی کے نزدیک گئے ہی نہیں- اتنا تجربہ ہونے کے باوجود گھبرا رہے ہو-“ مراد نے اسے جوش دلایا-

”استا د لڑکیوں کے ساتھ میرے تعلقات رہے ہیں‘ ان میں سے کسی کے ساتھ محبت کا رشتہ نہیں تھا- بس ہوس کا ایک کھیل کھیل کر الگ ہوجاتے تھے ہم- کسی کو بھی محبت کے جذبے سے کبھی اپنی بانہوں میں نہیں لیا میں نے- اس لئے گھبرا رہا ہوں-“

”بالکل ایسا ہی ہوا ہوگا کیونکہ تمہیں ان سے محبت نہیں تھی- مگر اپنی محبت کی گہرائی جانچنے کے لئے ایک دوسرے کو بانہوں میں آکر آنکھوں میں جھانک کردیکھنا پڑتا ہے- جتنی زیادہ گہرائی ہوگی محبت اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوگی- اور محبت کی مضبوط کو جانچ کر ایک دوسرے کے ہونٹوں پر مہر ثبت کی جاتی ہے- “

”وردا جی کے ہونٹوں پر مہر-“ راجو اور بھی گھبرا گیا-”یار تم مروا مت دینا مجھے— بڑی مشکلوں سے تو ان کو اپنی محبت کا یقین دلا پایا ہوں-“

”ارے کچھ نہیں ہوگا- تم تو جانتے ہی ہو کہ سحرش بھی وردا سے کم نہیں ہے- محبت کی باتوں سے کوسوں دور بھاگتی تھی- جب سے اس کے ہونٹوں پر مہر لگائی ہے تب سے سب ٹھیک چل رہا ہے-“

”بہت خوب استاد- تم تو بہت آگے جا رہے ہو- مگر پتہ نہیں کیوں مجھے وردا جی سے بہت ڈر لگتا ہے ایسی باتیں کرتے ہوئے-“

”تم نے سنا نہیں کہ جب پیار کیا تو ڈرنا کیا- تمہیں اپنے اندر سے یہ ڈر نکالنا ہوگا- نہیں تو بس وردا کی نظروں میں تمہارا وہی پیشاب کردینے والا تاثر ہی بنا رہے گا- مہر محبت کی مضبوطی کی ©ضمانت ہوتی ہے-“مراد نے اسے ہمت دلاتے ہوئے کہا-

”اچھا-“

”ہاں- اور ہاں جب مہر ثبت کر دو تو مجھے فون کرکے بتا دینا کہ کیسا لگا تم کو یہ سب-“

”میں اپنی پرائیویٹ باتیں تم کو کیوں بتاﺅں گا— کان کھول کر سن لو-میں وردا جی کے بارے میں تم سے کوئی بات ڈسکس نہیں کروں گا-وہ میرے لئے بہت قیمتی ہے استاد-“

”ارے بابا ڈسکس مت کرنا- بس مہر لگانے کے بعد کا احساس بتا دینا-ہی ہی ہی-“

”تم ہنس رہے ہو استاد- اس کا مطلب ہے مجھے پھنسانا چاہتے ہو-“ راجو بدک کر بولا-

”میں بس تمہارا بھلا چاہتا ہوں اور کچھ نہیں- باقی تمہاری مرضی- اب کچھ نہیں کہوں گا میں-“ مراد نے یہ کہہ کر منہ پھیر لیا-

”ناراض کیوں ہو رہے ہو استاد- میں بس وردا جی کے لئے بہت حساس ہوں-“ راجو نے کہا-

”نہیں راجو- میں برا کیوں مانوں گا- مجھے معلوم ہے کہ تم اس کے لئے بہت حساس ہو-“

”شاید استاد ٹھیک ہی کہہ رہا ہے- مگر وردا جی سے ڈر لگتا ہے اور مہر لگانا تو بہت دور کی بات ہے- – – ابھی تو وہ اپنا ہاتھ بھی پکڑنے نہیں دے گی-“ راجو نے دل ہی دل میں سوچا-

اب ان کی اگلی منزل شہناز مرزا کا گھر تھا- جہاں اس کے ساتھ اسلم شاہ کا قتل ہوا تھا- مگر وہاں بھی انہیں کوئی سراغ نہیں ملا-

وہاں سے رفیق ہسپتال کی طرف چلا گیا اور راجو ‘ مراد کو اس کے گھر ڈراپ کرکے وردا کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق ہسپتال پہنچا تو اس نے چوہان سے شہلا کے بار ے میں پوچھا- اس وقت شہلا کے والدین کمرے کے اندر ہی تھے-

”میڈم کیسی ہیں اب-“

”میڈم اب ٹھیک ہیں- تمہیںپوچھ رہی تھیں‘ اور سمجھ لو کہ تمہاری خیر نہیں ہے- اس وقت تو وہ میڈیسن اور انجیکشن کے زیراثر سو رہی ہیں- انہیں ڈسٹرب مت کرنا- ویسے تم صبح صبح کہاں چلے گئے تھے-“ چوہان نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”ایک ضروری کام تھا-“

”کھائی میں گرنے سے کم از کم تمہاری ٹانگ تو ٹوٹنی ہی چاہئے تھے- تم بچ کیسے گئے-“ چوہان نفرت سے بولا-

”سر میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے پسند نہیں کرتے- لیکن میری پھر بھی ہر طرح سے یقین دلانے کو تیار ہوں کہ میں ریما کوہمیشہ خوش رکھوں گا- جب میں اس سے ملا تھا تب میں نہیں جانتا تھا کہ وہ آپ کی بہن ہے- ورنہ بات کو آگے بڑھنے ہی نہیں دیتا- میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ریما کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیجئے-“ اور رفیق نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے-

”دیکھو رفیق- جو بات ہو ہی نہیں سکتی- اس کے لئے درخواست مت کرو- خود کو اور کتنا گراﺅ گے تم- مجھے پتہ ہے کہ میری بہن کہاں خوش رہے گی- تم اس کا پیچھا چھوڑ دو- او ر اس کی زندگی میں زہر گھولنے کی کوشش مت کرو- اسے سکون سے رخصت ہوجانے دو- میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ تم ریما کو فون نہیں کرو گے- تمہاری غلطی کی سزا اسے دے کر آیا ہوں میں- کل رات تمہارا سارا غصہ میں نے اس کو مار کر نکالا ہے-“

”ٹھیک ہے- جو آپ کو اچھا لگتا ہے کریں- مگر اسے ماریں مت- اس نے محبت کی تھی‘ کوئی گناہ نہیں کیا اس نے-“ رفیق نے کہا-

”شٹ اپ- میں تم سے مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا-“

چوہان غصے میں پاﺅں پٹختا ہوا وہاں سے چلا گیا اور رفیق آئی سی یو کے باہر پڑی بینچ پر بیٹھ گیا-

”میں صبح صبح کہیں چلا گیا- یہ جان کر میڈم کو بہت برا لگا ہوگا—- مگر میں بھی تو آفیشل کام سے گیا تھا- شاید اب ڈانٹ سننی پڑے گی- راستے میں میڈم کو اٹھائے میں نے ان کو نہ جانے کیا کیا بول دیاتھا- اس وقت نہ جانے مجھے کیا ہوگیا تھا- لیکن میں نے جو بھی کیا ان کی جان بچانے کے لئے ہی تو کیا تھا- امید ہے کہ میڈم مجھے غلط نہیں سمجھیں گی-“ رفیق اکیلا بیٹھا خود سے باتیں کر رہا تھا-

جب موبائل کی بیل بجنے کی آواز آئی تو اس نے اسکرین پر دیکھا – کال اس درندے کی تھی-

”ہیلو مسٹر مغلِ اعظم— میرے فن کا کوئی حصہ زندہ بچ جائے تو مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا- تم دونوں کو اب تڑپا تڑپا کر ماروں گا- اس بار تم دونوں کی ایک خوفناک پینٹنگ بناﺅں گا- اس وقت میں کسی اور پینٹنگ بنانے کے موڈ میں ہوں- اس لئے جتنی سانسیں باقی ہیں لیتے رہو- جلد ہی ملیں گے-ہی ہی ہی -“

”کرنل صاحب- اب آپ اپنی فکر کریں- کیونکہ پینٹنگ اب میری نہیں تمہاری بنے گی-“ رفیق نے غصے سے کہا-

درندے نے کچھ نہیں کہا اور فوراً لائن کاٹ دی-

”اندھیرے میں تیر چھوڑا تھا- لگتا ہے نشانے پر لگ گیا- داﺅد خان اب تمہاری خیر نہیں-“ رفیق فون کو گھورتا ہوا بولا-اور دوسرے ہی لمحے اس نے تھانے کا نمبر ملایا- ”بھولو- جلدی سے دس بارہ سپاہیوں کی پارٹی تیار کرو- ہمیں فوراً ایک اہم آپریشن پر نکلنا ہے- میں تھانے ہی آرہا ہوں-“

رفیق نے شیشے والی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا- شہلا ابھی بھی سو رہی تھی-

”میڈم سے تو بعد میں مل لوں گا- اس وقت درندے کی گرفتاری سب سے اہم ہے-“

رفیق تھوڑی ہی دیر میں تھانے پہنچ گیا اور وہاں سے پولیس فورس لے کر سیدھا کرنل داﺅد خان کے گھر کے باہر گھیرا ڈال دیا-

رفیق کے بیل بجانے پر اسی پرانے ملازم نے دروازہ کھولا-

”تمہارے صاحب کہاں ہیں-“ رفیق نے پوچھا-

”وہ تو ابھی بھی باہر کہیں ہیں-“ ملازم نے کہا-

”کہاں گئے ہیں؟-“

”بتا کر نہیں گئے-“

”پورے گھر کی تلاشی لو-“ رفیق نے سپاہیوں کو حکم دیتے ہوئے کہا-

”تلاشی— مگر پہلے صاحب کے آنے کا انتظار تو کرلیں-“

ِِ”ایک طرف چپ کرکے بیٹھ جاﺅ- پولیس کے کام میں ٹانگ مت اڑاﺅ-“

”سر یہ روم تو لاک ہے-“ ایک سپاہی نے کہا-

”اس کمرے کی چابی کہاں ہے؟-“ رفیق نے ملازم سے پوچھا-

”چابی صاحب ہی رکھتے ہیں- میرے پاس نہیں ہے-“

”ہوں— تالا توڑ دو-“

کمرے کا تالا توڑ گیا اور رفیق کمرے کے اندر داخل ہوا- اندر آتے ہی رفیق کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں-

ایک کینوس پر اسی واقعے کی پینٹنگ تھی جب رفیق پیڑ کے تنے پر چڑھ کر شہلا کے ہاتھ کھول رہا تھا- دوسرے کینوس پر دونوں کو نیچے گرتا ہوا دکھایا گیا تھا-

”تو میرا شک صحیح نکلا—- کرنل داﺅد خان ہی اصلی درندہ ہے-“

وہیں ایک میز پر لیپ ٹاپ رکھا تھا جس پر ایک ویڈیو چل رہی تھی- رفیق نے غور سے دیکھا تو چونک پڑا- وہ ایس پی صاحب کا بنگلہ تھا-

”اوہ میرے خدا— تو اب درندہ ایس پی صاحب کی ویڈیو نگرانی کر رہا ہے- شاید اسی لئے کہہ رہا تھا کہ کسی دوسری پینٹنگ میں مصروف ہے-“

رفیق نے وقت ضائع کئے بغیر ایس پی صاحب کا نمبر ملایا مگر ان کا نمبر بند جا رہا تھا-

”کہیں وہ درندہ اس وقت ایس پی صاحب کے گھر پر تو نہیں-“ یہ سوچ کر رفیق نے چوہان کو فون کرکے ساری تفصیل سے آگاہ کر دیا-

”میں ایک پولیس پارٹی لے کر ایس پی صاحب کے گھر پہنچ رہا ہوں- تم بھی وہیں پہنچو- میری اطلاع کے مطابق آج ایس پی صاحب چھٹی کرکے اپنے گھر پر ہی ہیں-“

رفیق نے کرنل کے بنگلے کو سیل کر دیا اور ایس پی صاحب کے بنگلے پر پہنچ گیا-

مگر جب وہ وہاں پہنچا تو ایس پی صاحب کو اسٹریچر پر ڈال کر ایمبولینس کی طرف لے جایا جا رہا تھا-چوہان بھی وہیں کھڑا تھا-

”کیا ہوا سر؟-“ رفیق نے چوہان سے پوچھا-

”ہم نے آنے میں دیر کر دی رفیق- وہ درندہ پھر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا- ایس پی صاحب کا پورا پیٹ چھلنی ہے- ان کے بچنے کی بہت کم امید ہے-“

”یا خدا—- اس درندے نے تو پورے پولیس ڈپارٹمنٹ کو ہی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے-“

”ہاں- اور اتنی بڑی واردات کے بعد بچ کر نکل بھی گیا-“ چوہان نے کہا-

”اب زیادہ دن نہیں بچ پائے گا- پہلے ہم اندھیرے میں تھے- لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہے- چھوڑوں گا نہیں سالے کو-“

ایس پی صاحب کو بھی اسی ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں شہلا داخل تھی-

رفیق پولیس پارٹی لے کر کرنل کی تلاش میں نکل پڑا-

”کرنل صاحب اب آپ کی خیر نہیں- میرا یہ خیال درست نکلا کہ درندہ ایک ایسا شخص ہے جس پر کسی کو شک نہیں ہوسکتا- وہ تو شکر ہے کہ مراد نے تم کو بلیک اسکارپیو میں دیکھ لیا اور ہمیں ایک سراغ مل گیا- ورنہ تمہیںڈھونڈنا بہت مشکل تھا- تمہار ا پینٹنگ بنانے کا شوق میں بہت جلد پورا کر دوں گا— اب تمہاری موت کی پینٹنگ میں خود بناﺅں گا-“ رفیق کے ذہن میں ایسی ہی باتیں کلبلا رہی تھیں-

رفیق پولیس پارٹی کے ساتھ ہر ممکنہ جگہ پر گیا جہاں کرنل کے ہونے کا امکان ہوسکتا تھا- اس نے ایس پی صاحب کے بنگلے کے چاروں طرف بہت غور سے چھان بین کی مگر نہ تو کرنل ملا اور نہ ہی کرنل کا کوئی سراغ مل سکا- رفیق کی ہدایت پر پورے شہر میں کڑی ناکہ بندی کر دی گئی تھی-

”میرا خیال ہے مجھے واپس کرنل کے بنگلے پر جانا چاہئے- وہاں کئی سراغ اور مل سکے ہیں- مجھے تسلی سے‘ سکون سے سب کی جانچ کرنی ہوگی-“

رفیق نے اپنی پارٹی کا رخ کرنل کے گھر کی طر ف موڑ لیا- اس نے راجو اور مراد کو بھی فون کرکے وہیں پہنچنے کی ہدایت کی-

”ریاض حسین کا دماغ کافی تیز چلتا ہے- وہ ساتھ رہے گا تو تفتیش میں کافی مدد ملے گی- مراد بھی ذہین ہے اور درندے کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے- وہ بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے-“

ادھر وردا‘ راجو سے کوئی بات نہیں کر رہی تھی- وجہ— وجہ صرف یہ تھی کہ راجو صبح صبح بتائے بغیر کہیں چلا گیا تھا- وہ ایک بار بھی کھڑکی پر نہیں آئی اور نہ ہی راجو کے بیل بجانے پر دروازہ کھولا-

راجو نے ناکام ہوکر اس کا نمبر ملایا اور کئی بار لائن کاٹنے کے بعد آخرکار اس نے فون ریسیو کر ہی لیا-

”کیا بات ہے؟-“ وردا نے برہمی سے پوچھا-

”کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں-“ راجو نے ڈرتے ڈرتے کہا-

”میں کیوں ناراض ہونے لگی-“

”پھر آپ میرے لئے دروازہ کیوں نہیں کھول رہی ہیں- مجھے رفیق سر نے بلایا ہے- میں جا رہا ہوں- آپ کسی بات کی ٹینشن مت لینا-“

”اور صبح صبح کہاں چلے گئے تھے تم- اپنی کسی -“ وردا نے بات ادھوری چھوڑ دی-

”آپ خواہ مخواہ شک کر رہی ہیں- صبح بھی رفیق صاحب کے پاس ہی گیا تھا- ان کے ساتھ ایک انویسٹی گیشن پر جانا تھا-

”ٹھیک ہے جاﺅ— مجھے نیند آرہی ہے-“ وردا نے یہ کہہ کر نہ صرف لائن کاٹ دی بلکہ فون ہی سوئچ آف کردیا-

راجو نے کئی بار ٹرائی کیا مگر ہر بار نمبر بند ہی مل رہاتھا-

”یہاں تو بات بھی بند ہوگئی— مہر لگانا تو بہت دور کی بات ہے— اف- یہ حسینائیںایسا کیوں کرتی ہیں اپنے عاشقوں کے ساتھ-“ راجو بڑبڑاتا ہوا جیپ میں بیٹھ کر کرنل کے بنگلے کی طرف چل دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق‘ راجو اور مراد بہت باریک بینی سے اس کمرے میں موجود پینٹنگز اور دوسری چیزوں کا معائنہ کر رہے تھے-

راجو نے لیپ ٹاپ کو چیک کرنا شروع کیا- اس میں ایک پین ڈرائیو لگی ہوئی تھی- راجو نے اس ڈرائیو کو اوپن کیا تو اس میں ایک ویڈیو کلپ تھی- راجو نے ویڈیو آن کی تو چونک پڑا-

”سر یہ دیکھیں- یہ کلپ تو آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ہے-“

رفیق اور مراد لیپ ٹاپ کے پاس آگئے-

”کمینہ ہر گیم کی ویڈیو بناتا ہے اور پھر گھر پر اطمینان سے انہیں دیکھ کر کینوس پر پھیلاتا ہے-“ رفیق نے کہا-

”اسی لئے تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس درندے کو اسی کے اسٹائل سے مارا جائے- وہی اس کی سب سے بڑی سزا ہوگی-“ مراد بولا-

”لیکن سر ایک بات سمجھ میں نہیں آئی- درندے جیسا ذہین اور شاطر اتنے سارے ثبوت اپنے گھر میں کیسے رکھ سکتا ہے- مجھے یہ بات بہت عجیب سی لگ رہی ہے-“ راجو نے اپنی ذہنی الجھن کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”ہاں- عجیب تو مجھے بھی لگ رہا ہے- لیکن آنکھوں دیکھے سچ کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا-“

”مگر سر- یہاں صرف پینٹنگ کا سامان موجود ہے- قتل کرنے کا کوئی آلہ ابھی تک یہاں نظر نہیں آیا-“ راجو نے اپنی تفتیش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا-

”ہاں یار- یہ تو تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو-“ مراد نے راجو کی پیٹھ تھپتھپائی-

”دوبارہ چیک کرو- اگر پینٹنگ کا سامان یہاںموجود ہے تو آلہ قتل بھی یہیں کہیں ضرور ہونا چاہئے-“ رفیق نے کہا-

دوبارہ پورے گھر کی تلاشی لی گئی مگر انہیں کوئی خنجر یا پستول نہیں ملا-

”یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ اپنے ہتھیار وہ ہمیشہ اپنے ساتھ ہی رکھتا ہو- ابھی وہ اس کے پاس ہوسکتے ہیں- کیونکہ وہ گھر سے قتل کے ارادے سے ہی نکلا ہے-“ رفیق نے توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا-

”ہاں یہ بھی ممکن ہے-“راجو بولا-

”آﺅ اب ذرا کرنل صاحب کے ملازم کو کھنگالتے ہیں-“ رفیق نے ایک سپاہی سے کرنل کے ملازم کو لانے کے لئے کہا- ملازم ایک سرونٹ کوارٹر میں رہتا تھا-

سپاہی نے واپس آکر بتایا – ”اس کے کوارٹر میں تو تالا لگا ہوا ہے-“

”تالا لگا ہوا ہے- کہاں چلا گیا وہ-“ رفیق نے چونک کر کہا-

”پتہ نہیں سر-“

”ٹھیک ہے- فی الحال یہاں سے چلتے ہیں- ہم جو توقع کر رہے تھے اتنے سراغ نہیں ملے ہمیں-“

”مگر سر- ایک طرح سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کرنل صاحب فرار ہیں- یہ بات ہم نظر انداز نہیں کر سکتے- ملازم کے کہنے کے مطابق وہ صبح گھر سے نکلا تھا-اب شام ہونے کو آرہی ہے- اس جیسا ذہین اس بات سے کیسے انجان رہ سکتا ہے کہ اس کا گھر سیل کر دیا گیا ہے- ملازم بھی اسے یہ خبر دے سکتا تھا-“ راجو نے کہا-

”ہاں بالکل- اور اب ملازم بھی فرار ہے-“ مراد بولا-

”آہ ہ ہ ہ- زیادہ موومنٹ کرنے سے اب میرے گھٹنے درد کرنے لگے ہیں- میں ہسپتال جاتا ہوں- ابھی میری ٹریٹمنٹ باقی ہے-“

”بالکل سر- آپ جائیں- یہ گھرتو سیل ہی رہے گا- ضرورت ہوئی تو پھر آجائیں گے-“ راجو نے کہا-

”میں کچھ لوگوں کو کرنل کی تلاش پر لگا دیتا ہوں-اس کا کوئی دوست یا رشتے دار ایسا ضرور ہوگا جس کے پاس وہ چھپا بیٹھا ہوگا-“

”مگر سر ابھی ہمیں راجہ نواز پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے- معاملہ ابھی بھی کلیئر نہیں ہے-“ راجو نے کہا-

”ہاں اس پر بھی نظر رکھی جائے گی- مراد اپنی طرف سے یہ کام کر ہی رہا ہے- کیوں مراد-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں سر بالکل— میںراجہ نواز پر نظر رکھوں گا- بس ایک بار مل تو جائے- وہ بھی کہیں غائب ہے-“ مراد نے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

ہسپتال آکر رفیق نے سب سے پہلے دردکش انجیکشن لگوایا- پھر وہ شہلا کے کمرے کی طرف آیا- چوہان باہر ہی کھڑا تھا-

”کیا اب میڈم جاگ رہی ہیں-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں جاگ رہی ہیں- مگر ان کے کچھ رشتے دار آئے ہوئے ہیں انہیں دیکھنے کے لئے- تم تھوڑا انتظار کرلو-“ چوہان نے کہا-

رشتے داروں کے جانے کے بعد رفیق کمرے کے اندر آگیا- شہلا آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی-

”اب کیسی طبیعت ہے میڈم-“ رفیق نے آہستہ سے پوچھا-

شہلا نے آواز سے پہچان لیا کہ رفیق ہے مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں-

”لگتا ہے میڈم سو رہی ہیں- بعد میں آجاﺅں گا-“ رفیق بڑبڑا کے باہر جانے کے لئے مڑا-

”رکو- کہاں جا رہے ہو-آہ ہ ہ-“ شہلا نے زور سے چیخ کر کہا اور کراہ اٹھی-

”کیا ہوا میڈم؟-“

ِِِ”ڈاکٹر نے زیادہ بولنے سے منع کیا ہے-“

”تو آپ مت بولیں- چپ رہیں- سب ٹھیک ہوجائے گا-“ رفیق نے کہا-

”تم کو اب فرصت ملی ہے مجھے دیکھنے کی-“ شہلا نے رفیق کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا-

”ایسی بات نہیں ہے میڈم— میں کئی بار آیا مگر آپ سو رہی تھیں اور میں نے آج کافی کام کیا ہے-“ رفیق نے یہ کہنے کے بعد آج کے دن کی ساری کارروائی شہلا کے گوش گزار کر دی-

”تمہارے زخم اتنی جلد بھر گئے کیا جو تم یہ سب کرتے پھر رہے ہو- کیا تم آرام نہیں کر سکتے تھے- آخر تم خود کو سمجھتے کیا ہو-“ شہلا نے ڈانٹنے والے انداز میں کہا-

”سوری میڈم- لیکن میں نے محسوس کیا کہ ڈیوٹی میرے زخموں سے زیادہ اہم ہے- اس لئے-“

اسی وقت چوہان نے اندر آکر سلیوٹ کیا- ”میڈم آپ سے کوئی ملنے آیا ہے-“

”ٹھیک ہے- تھوڑی دیر میں بھیجنا-“ شہلا نے کہا-

چوہان حیران پریشان باہر چلا گیا-

ِِ”میڈم آپ مل لیں- میں بعد میں آجاﺅں گا-“رفیق یہ کہتے ہوئے باہر جانے کے لئے مڑا-

”ٹھہرو- ایک بات کہنی تھی تم – بہت ضروری بات-“

”ہاں بولیں میڈم-“

”تھینک یو-“

”کس بات کے لئے؟-“

”تم اچھی طرح جانتے ہو کس بات کے لئے- تم نے میرے لئے جو کیا وہ میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گی-“ شہلا ممنویت سے کہا-

”میڈم آپ کو پتہ نہیں کیا کیا کہہ دیا تھا میں نے- پتہ نہیں مجھے کیاہوگیا تھا- بس آپ کے بار بار مرنے کی بات سن کر جھنجھلا گیا تھا میں- وہ سب بھلا کر مجھے معاف کر دیجئے گا-“

”جو کچھ تم نے مجھے کہا تھا اس کے لئے تمہارے خلاف محکمہ جاتی کارروائی ہوگی- مگر بعد میں- فی الحال معاف کیا جاتا ہے-“ شہلا نے ہنستے ہوئے کہا-

رفیق بھی مسکرانے لگا- دونوں کی نظریں ٹکرائیں اور انہیں یوں لگا کہ ایک پل کے لئے وقت تھم سا گیا- شاید بہت ساری باتیں ہوجاتی آنکھوں ہی آنکھوںمیں مگر چوہان پھر بیچ میں ٹپک پڑا-

”میڈم- انہیں بلاﺅں کیا-“

”ہاں بھیج دو-“ شہلا نے غصے سے کہا-چوہان باہر نکل گیا تو شہلا نے رفیق نے مخاطب ہوکر کہا- ”رفیق اپنا خیال رکھا کرو- زخم بھر جانے دو- کام تو ہوتا ہی رہے گا- از دیٹ کلیئر-“

”یس میڈم سب کلیئر ہے-“ رفیق نے سلیوٹ مار کر کہا-

”جاﺅ – اب آرام کرو-“ یہ کہتے ہوئے شہلا کے ہونٹوں پر پیاری سی مسکراہٹ تھی-

رفیق ایک عجیب سا احساس لے کر باہر آگیا- ایسا احساس اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا-

”یہ سب کیا تھا- میڈم کتنے پیار سے دیکھ رہی تھی میری طرف- میں تو ان کی آنکھوں میں کھو کر ہی رہ گیا تھا- ہم دونوں کا ایک ساتھ درندے کے چنگل میں پھنسنا‘ پھر کھائی میں گرنا اور پھر اب میڈم کا یوں پیار سے میری طرف دیکھنا— یہ سب محض ایک اتفاق ہے یا پھر میری منزل کی طرف اشارہ-“ رفیق بہت گہری سوچ میں ڈوب گیا اور پھر اچانک دھیرے سے بولا- ”اس کھائی میںکہیںمیں اپنی زندگی کو گود میں اٹھا کر تو نہیں گھوم رہا تھا – اگر میرا اندازہ درست ہے تو یہ محبت کی ابتداءہے- بہت ہی محبت بھری محبت کی ابتدائ- مگر میں ریما کو کیا جواب دوں گا- وہ بھی تو مجھ سے بہت محبت کرتی ہے- بہتر ہے کہ میں سب کچھ وقت کے ہاتھوں میں چھوڑ دوں- اگر ریما سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس آئی تو میں اس کا ہاتھ تھام لوں گا- اور اگر وہ نہیں آئی تو میں میڈم سے اپنے دل کی بات کہہ دوں گا- مجھے یقین ہے کہ وہ میری محبت کا جواب محبت سے ہی دیں گی- اب دیکھتا ہوں کہ وقت مجھے کس راستے پر لے جاتا ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔۔آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 1

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 1 ”مریم تم نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے