سر ورق / افسانہ / پُلِ صراط …زاہد مختار

پُلِ صراط …زاہد مختار

پُلِ صراط

زاہد مختار

            شبستان کے شکم سے ابھی سحر کا جنم نہیں ہوا تھا۔ موذن نے ابھی اذان بھی نہیں دی تھی ۔ بند ڈربے میں پڑی مرغیوں نے ابھی اپنے پروں کو پھیلانے کی جسارت بھی نہیں کی تھی کہ باہر خاموش سڑک پر ایک گاڑی لاوڈ سپیکر پر اعلان کرتی ہوئی گذر گئی۔ میں اس اچانک شور سے ہڑ بڑا کر جاگ پڑا اور جب تک میں کچھ سمجھ پاتا وہ گاڑی ہمارے محلے کے حدود سے بہت دور نکل چکی تھی اور یوں اُس اعلان کے یہ آخری الفاظ ہی میرے پلے پڑے ۔

”سبھوں کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ وہ پوپھٹتے ہی نزدیکی پارک میں جمع ہوجائیں “

             میں نے بجلی آن کردی اور بچوں نے اپنے بستر میں کروّٹ بدل کر جیسی غیر متوقع روشنی کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کردےا۔ میری بیوی اپنی آنکھیں ملتی ہوئی اُٹھ بیٹھی اور بنا کسی تحقیق وتفتیش کے اپنا فیصلہ صادر کر دیا ”اُٹھ گئے سوےرے سوےرے سگریٹ اور ماچس کی ڈبےا اُٹھا کر ایک سگریٹ سلگا ہی لی

            ”تم نے سنا نہیں باہر کوئی اعلان ہورہا تھا“

            ”کیا ! “ میری بیوی کو جیسے کسی کٹھمل نے ڈس لیا”کیا کہہ رہے ہو، کیسا اعلان“

 ”خدا بہتر جانتا ہے ۔ نہ جانے آج پھر کس بات پہ بلاوا آیا ہے “ میں نے سگریٹ کا ایک لمبا کش لیتے ہوئے کہا

            ”مگر وہ تو کہہ رہے تھے کہ اب کبھی ایسا نہیں ہوگا“

            ”کون ؟ کن کی بات کررہی ہو؟“

            ”وہی جو پچھلے دنوں ووٹ مانگنے آئے تھے۔ وہ تو کہتے تھے ہمیں ووٹ دو گے تو تمہیں ایسے بلاوے نہیں آئینگے“

            ”پاگل ہوتم ، ان کا کام تو صرف کہنا ہوتا ہے ۔ جہاں تک کرنے کی بات ہے اُس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ‘ وہ فیصلہ تو کہیں اور ہوتا ہے“

            میری بیوی نے پھر ایک لمبی آہ بھرلی اور نہ جانے خود سے کیا بڑ بڑاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی اور میں کمرے میں گردش کرتے ہوئے دھویں کے مرغولوں کو دیکھتارہ گیا۔ میرے معصوم بچے خواب خرگوش میں ڈوبے ہوئے تھے۔ وہ ناکردہ گنا ہوں کی سزا پارہے تھے ۔ سگریٹ کا زہر ےلادھواں اُنکی نس نس میں سمارہا تھا ۔ کھڑ کی کے پٹ بھی ایک دوسرے کے ساتھ یوں چمٹے ہوئے تھے جیسے اُن پر بھی کوئی انجانا خوف طاری ہوچکا ہو۔ وہ ایکدوسرے کو ویسے ہی دلاسہ دے رہے تھے جیسے ہم لوگ اکثر اس بلاوے کے بعد ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے رہتے ہیں ۔

            اعلان نشر کرنے والے لاوڈ اسپیکر کی آواز اب بھی کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی مگر اعلان کا مفہوم اب بھی شعور کی گذر گاہ سے کافی دور تھا۔

            انسان کی فطرت کایہ رنگ بھی عجیب ہے کہ جو بات اُسکے شعور کے اسکرین پر ایک بار اپنا عکس ثبت کرتی ہے اُسکا ایک ہی اشارہ اُسے سارا مفہوم سمجھا دیتا ہے اسی لئے شاید میں اعلان نہ سننے کے باوجود بھی خود کو آنے والے لمحوں کے لئے تیار کر رہا تھا کیونکہ اس اعلان کا خاکہ برسوں سے میرے ذہن ودل پر ویسے ہی منعکس ہوچکا تھا جیسے دنیا کے نقشے پر برصغیر ہند پاک کے ممالک کا نقشہ اُور اُن کے درمیان نفرتوں اور سرحدوں کی لاتعداد لکیریں جن کے اس پار اور اُس پار نہ جانے کتنے لوگ ایک ”جنت“ بھی اب گُم ہوگئی ہے اور عنقریب ہی ماہرارضیات کو ایک اور اہم کام سونپا جارہا ہے کہ وہ اس گم گشتہ جنت کا سراغ دُنیا کے نقشے پر تلاش کریں۔

            میں نہ جانے کس جہاں میں کھو جاتا اگر سکریٹ کی چنگاری میرے بائیں ہاتھ کی درمیانی اُنگلی پر اپنی جلن کا احساس نہ دلا دیتی ۔ میں نے سگریٹ کے آخری ایک دو کش لگا کر اُسے ایش ٹرے میں دفن کردیا۔ سنا ہے زمینی جنت میں اب ہزاروںلوگ بڑی عجلت میں دفن ہوگئے ہیں ۔ اب تو ہمارے محلے کے بزرگ بھی یہ صلح مشورہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہےں کہ قبرستان میں چونکہ میتیں دفنا نے کے لئے جگہ نہیں بچی ہے اس لئے محلے کی پارک کو ہی قبرستان بنایا جائے۔ خدارحم کرے میں تقریباً اُچھل کر بستر سے باہر نکل گیا جیسے میں نے جاگتی آنکھوں سے کوئی بھی ا نک خواب دیکھا ہو۔

            کچھ دیر کے بعد ہم دونوں میاں بیوی نمکین چائے پی کر اپنی تلخیوں کی کڑواہٹ کم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ چائے کے سماوار میں اگرچہ ابھی بھی کچھ چائے باقی تھی لیکن کھڑکیوں سے چھن چھن کر آتی ہوئی صبح کی روشنی مجھے پارک میں جاکر محلے والوں کے ساتھ شامل ہونے کا اشارہ کر رہی تھی ۔ میں نے فرن پہن کر بیوی کی جانب بے بس نظروں سے دیکھا اور سرد صبح کی ہلکی ہلکی دھند میں کود پڑا ۔ میرے ہمسائے بھی ایک ایک کر کے اپنے اپنے گھروں رہے تھے ۔ ہم سبھوں کو معلوم تھا ہمیں کیا کرنا ہے، کس طرح خاموشی کے ساتھ اُس پارک میں جمع ہونا ہے۔ جس پارک میں کبھی محلے کی کسی دلہن کا باپ خوبصورت سائبان لگا کر دولہے کا شاندار استقبال کرکے کشمیری وزاوان سے مہمانوں کے منہ کا ذائقہ خوشبودار بنا دیتا تھا۔ اس پارک میں کبھی ہم اپنے بچپن میں کرکٹ کھیلتے ہوئے پٹوڈی ، حنیف یا بریڈ مین بننے کا خواب دیکھاکرتے تھے۔ اسی پارک میں ہمارے ایک ممبرا سمبلی نے ایک زبردست سےکورٹی کے دوارن ایمبسڈر کار کی چھت پر چڑھ کر نہ جانے کون کون سے سہانے سپنے دکھائے تھے ۔ آج کل وہ خود سپنوں کی دنیا میں رہتا ہے اور ہم پھر سے اُسی پارک میں جمع ہورہے ہیں ۔ میں اب اُسی پارک کے مین گیٹ سے داخل ہوتے ہوئے اپنے سکڑے سمٹے ہمسائیوں کو دیکھ رہا تھا جو پارک میں ایک ایک کر کے جمع ہورہے تھے۔ میں خود بھی سکڑا سہما ایک کونے میں دُبک کے بیٹھ گیا۔ یہ وہی کونہ تھا جہاں ایک زمانے میں ایک ولی خدا کے عرس کے دوران یوپی کے حلوائی اپنا سائبان لگا کر لوگوںکو آتش چنار کے رنگ کا حلوہ کھلایا کرتے تھے۔ آج بھی اُس کونے میں ایک سائبان لگا تھا ۔ چاروں طرف سے بند ٹینٹ ، نہ جانے اُس ٹینٹ میں کون کون بیٹھا تھا،

            کچھ لمحوں کے بعد جب محلے کے سب چھوٹے بڑے مرد جمع ہوگئے تو ہمیں حسب روایت قطاروں میں بیٹھے کا ”آدیش“ ملا۔ جو دہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ بیت گیا۔ ابھی ہمیں مسجدوں میں صفیں درست کرنے کا سلیقہ نہیں آیا ہے۔ نہ جانے ان حالات میں یہ متعدد صفیں ایک لمحے میں کیونکر اپنے سلیقے کا اظہار کرتی ہیں ۔ سبھوں نے مشینی انداز میں اپنی اپنی جیبوں سے اپنا چہرا نکال کر اپنی ہتھیلوں پر رکھتے ہوئے اپنی ولدیت، سکونت اور پیشے کا گردان کیا۔ کیامعلوم کب کون سا سوال پوچھا جائے۔ ایک گول ربر مہر کے عکس تلے زردی مائل فوٹو لئے ہوئے میرا شناختی کارڈ بھی میرے ہاتھوں میں اپنی موجود گی کا احساس دلا رہا تھا،

            ”کتنی بار اپنا نام دہرانا پڑے گا، اب تو اپنا نام بھی پرایا لگنے لگا ہے “ میری سوچ میرے اندر مقید تھی اور ہم ایک ایک کر کے ’ پُل صراط“ پر سے گذر نے لگے۔

            جب میں اپنی گھر کی دہلیز پر واپس پہونچا تو دروازے کی چوکھٹ پر میری توقع کے خلاف کوئی منتظر نہ تھا ۔ میں نے بند دروازے پر دستک دی ۔ چند لمحوں کے بعد اندر سے ایک نحیف ونزار عورت نے میرے لئے دروازہ کھولا۔ کچھ دیر تک میں اُسکے چہرے پر پہچان کے نقوش تلاش کرنے لگا اور جب اُس چہرے نے میری نگاہوں کو اپنی شناخت کا منظر عطا کیا تو میں تقریباً چلا اُٹھا

            ”تم ۔۔میری بیوی۔۔۔اتنی بوڑھی۔۔۔؟“

            ”آواندر آجاو۔ برسوں کے بعد لوٹے ہو۔ اندر میرے سوا اب کوئی نہیں رہتا بس ایک ٹوٹا پھوٹا آئینہ ہے ، وہی تم کو ساری ہانی سُنا دےگا“

            میں گھر کے اندر جانے کی بجائے دروازے کی چوکھٹ پر ہی بے دم ہوکر بیٹھ گیا کیونکہ اب مجھ میں آئینے کے سوالات کا سامنا کرنے کی جرات نہیں تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

لبرل جڑیں ۔۔۔نورالعین ساحرہ

لبرل جڑیں نورالعین ساحرہ ” پچھلے ایک ہفتے میں ہر روز پہلے سے زیادہ حیران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے