سر ورق / جہان اردو ادب / محمد حمید شاہد۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

محمد حمید شاہد۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

آج تعارفی علمی و ادبی گفتگو اور تعارفی سلسلہ ( جہان اردو ادب ) میں میرے ساتھ جو مہمان موجود ہیں وہ ایک انتہائی شفیق استاد عظیم نقاد ادیب افسانہ نگار ہیں ۔ آپ اردو ادب و عالمی ادب میں یکساں شہرت رکھتے ۔ جہاں اردو ادب آپکے کام کا احسان مند نظر آتا ہے وہیں اردو ادب سے وابستہ دیگر ادباء ناقدین اور قارئین کے لیے آپ کی شخصیت رول ماڈل کی سی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے 2016 میں ادبی خدمات کے عوض صدارتی اعزاز سے بھی نوازہ جو بلاشبہ آپکا حق تھا ۔ بتاتا چلوں کہ علم و ادب میں آپکی شہرت مشرق تا مغرب شمال تا جنوب پھیلی ہوئی ہے مانو کہ جیسے سورج کی کرنیں اور برستی بارش سے مخلوق خدا فیضیاب ہوتی ہے ۔ بندہ ناچیز اس قابل تو ہرگز نہیں کہ محترم محمد حمید شاہد کے شایان شان تعریف کی الفاظ ڈھونڈ لا کر سکے ہاں محمد حمید شاہد صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سلیوٹ کرتا ہوں ۔۔

جہان اردو ادب

مہمان ۔۔ محمدحمیدشاہد ( پنڈی گھیپ ضلع اٹک پنجاب ”  پاکستان )

میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سوال۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ؟

محمدحمید شاہد ۔۔

والد صاحب نے میرا نام محمد حمید رکھا تھا۔ ہم سات بھائی تھے سب کے نام محمد سے شروع ہوتے اور "د” کے حرف پر تمام ہوتے ۔ سب سے بڑے محمد جاوید،پھر محمد خورشید، اس کے بعد یہ خاکسار ، میرے بعد محمد وحید، محمد نوید، محمد شاہد اور محمد زاہد ۔ جب میں میٹرک میں پہنچا تو بورڈ کے امتحان کے لیے فارم پُر کرنے کے مرحلے پر استاد مکرم نے کہا اپنے نام کے ساتھ اب جو اضافہ کرنا ہے کر لیجئے ۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی  محمد شاہد، کہ جسے میں بہت قریب محسوس کرتا تھا کے نام کو اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا ۔ اس کا ایک اور سبب بھی تھا ، اُن دنوں مجھے اپنے نام کے بارے میں ایک  خیال بہت ستانے لگا تھا ، جی یہی کہ شاید میرا نام  معنوی اعتبار سےدرست نہیں ہے۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ معنیٰ تو بہت عمدہ تھے مگر بہ طور نام جب میں اسے اپنے وجود سے جوڑ کر دیکھتا تھا تو تھر تھر کانپنے لگتا تھا ۔  مجھے لگتا نام کا پہلا لفظ”محمد” اسم صفت نہیں ، بلکہ جناب رسالت مآبﷺکا اسم پاک ہے  اور جب اسے نام کے دوسرے حصے سے جوڑ تا تو میری سماعتوں میں بہت میٹھی اور دھیمی آواز  میں درود پاک پڑھنے کی ایسی آواز  رس گھولنے لگتی جیسے کئی لوگوں کے ایک ساتھ  مل کر محبت سے سرگوشی کر رہے ہوں۔جب سے میں نے یہ پڑھا تھا کہ "حمید”خدا وند کریم کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے اور اس کے معنیٰ کیا ہیں ،میری بے کلی بڑھ گئی تھی ۔ میں اپنے دو حرفی نام کا عجیب عجیب معنوی خاکہ بنایا کرتا اور نہ جانے کیوں ان دوحرفوں کو بطور نام اپنے وجود سے جوڑ کر جب بھی دیکھتا مجھے بے ادبی کا شدید احساس اپنی گرفت میں لے لیتا تھا۔ میڑک کے امتحان کے وقت جب اپنے نام کے ساتھ ایک اور حرف ٹانکنے کا موقع نکلا تو جھٹ میں نے "شاہد” لگا کر اسے دیکھا تو مجھے لگا کہ اب یہ معنوی اعتبار سے ٹھیک ہو گیا تھا ۔  لہٰذا یہی میرا اصل نام بھی ہے اور قلمی نام بھی۔

  سوال ۔ آپکی ولادت ابتدائی زندگی خاندانی اور تعلیمی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں سر ۔

محمدحمید شاہد ۔۔

میرے والد صاحب کا نام غلام محمد اور والدہ کا نام بخت بیگم ہے ،نسبی طور پر اعوان اجمال ہیں ۔ میں 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک(پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوا۔ اباجی اپنے علاقے  میں علم دوست سماجی سیاسی شخصیت کے طور پر معروف تھے اور انہوں نے گھر میں کتب خانہ بنا رکھا تھا۔جس ماحول میں میری پرورش ہوئی اس میں انسان اور انسانیت کی توقیر کا بہت خیال رکھا جاتا تھا ۔میں مطالعے کی طرف بھی اپنے گھر کے ماحوال کی وجہ سے راغب ہوا تھا۔ میرے دادا حافظ غلام نبی نے 1947 میں اپنے گائوں چکی کو خیر باد کہہ کر پنڈی گھیب میں سکونت اختیار کی تھی اور محلہ ملکاں میں جو حویلی انہوں نے خریدی اسی میں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا۔ یہ حویلی اب بھی محلہ ملکاں میں موجود ہے اور میرا چھوٹا بھائی محمد وحید اس کا مالک و مقیم ہے۔ میں نےابتدائی تعلیم پنڈی گھیب سے ہی پائی جبکہ میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد چلا گیا جو ان دنوں لائل پور ہوا کرتا تھا ۔ یونیورسٹی سے ہی ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور بہ قول سید ضمیر جعفری زراعت اور بستانیت کا فاضل ہوا۔  ہارٹیکلچرمیں فاضل ہونے کے بعد،  میں نےپنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایف ای ایل میں داخلہ لے لیاگویا زراعت سے قانون کی طرف جانا چاہا مگر والد صاحب کی شدید علالت اور ازاں بعد وفات سے یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور ایک بینکار کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کر دیا۔

سوال ۔۔ کچھ عملی زندگی کے باب میں کہیں ۔ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیق کار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔ اب سامنے آنے والا کام اور اس پر ردعمل کیا رہا؟

محمدحمید شاہد ۔۔

عملی زندگی کا اغاز میں نے ایک بینکار کی حیثیت سے کیا اور بتیس سال خدمات سر انجام دینے کے بعد  زرعی ترقیاتی بنک پاکستان  سے 22 مارچ 2017 کو ریٹائرہوا۔میں خوش ہوں کہ اس سارے عرصہ میں میری خدمات کا ہر ہر سطح پر اعتراف ہوا ۔اپنی سروس کے دوران اندرون ملک  شہر شہر گھوما، دیہی زندگی کو قریب سے  دیکھا اور کئی ممالک کا دورے کیے۔ بنک کے سٹاف کالج میں مستقل طور پر کریڈٹ، ریکوری، اکاونٹنگ ، رسک مینیجمنٹ  اور آن لائن بینکنگ جیسے موضوعات پر افسروں کو تربیتی لیکچرز دیے ۔ان موضوعات پر دوسرے بینکوں، مالیاتی اداروں اور یونیورسٹیوں میں بھی خصوصی لیکچرز دینے کے مواقع ملے ۔ یہ سب کچھ مجھے میرے بنک نے دیا ۔ اس بنک میں کئی پالیسیاں میری ہی ڈرافٹ کی ہوئی ہیں ، ریکوری، ری شیڈولنگ، ری سٹریچرنگ، رائٹ آف،رمشن، برانچ منیجمنٹ،رسک کنٹرول اور کئی دوسری پالیسیاں ۔ اسی طرح کئی سسٹم بھی میری نگرانی میں بنے جن پر بنک کا بزنس چلتا ہے ، جیسے سپیشل ایسٹس مینیجمنٹ سسٹم، لون پراسیسنگ اینڈ مینیجمنٹ سسٹم ، رسک مینیجمنٹ سسٹم وغیرہ ۔یہی سبب ہے کہ جب اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوا تو مجھے ایک خصوصی تقریب میں صدر زرعی ترقیاتی بنک کی طرف سے تمغہ  اعتراف اور شیلڈ سے نوازا  گیا۔

میری ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلے "کشت نو” کا مدیر رہا۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے

میں لکھا۔ پہلی کتاب ” پیکر جمیل” بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ تاہم افسانوں کا پہلا مجموعہ ” بند آنکھوں سے پرے "تھا جو کہیں جاکر  1994 میں تب شائع ہوا تھا جب میں اسلام آباد میں مقیم ہو چکا تھا۔ دوسرا مجموعہ "جنم جہنم”ہے جس کے بعد”مرگ زار”اور "آدمی” سے دومزید مجموعے شائع ہوئے۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے” معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ  میرےنائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت”  کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا ۔میرے ناول کا نام”مٹی آدم کھاتی ہے” ۔ فکشن کی میری ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات”،”اردو افسانہ:صورت و معنیٰ”، "اردو فکشن:نئے مباحث”،”کہانی اور یوسا سے معاملہ ” کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ” اس  حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب”راشد ،میراجی، فیض” کے علاوہ میری نثموں کی کتاب "لمحوں کا لمس” اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب”سمندر اور سمندر” بھی ادبی حلقوں میں توجہ پاتی رہی ہیں۔

میں اپنے آپ کو ان خوش بخت لوگوں میں سمجھتا ہوں جن کے کام کو توجہ سے دیکھا گیا اور اس پر سنجیدہ مکالمہ قائم ہوا۔ ممتاز مفتی،احمد ندیم قاسمی، وزیر آغا، اشفاق حسین، انتظار حسین، عبد اللہ حسین، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی سے لے کر منشایاد تک اردو کےکتنے ہی نمایاں ترین لکھنے والوں سے مکالمے کا موقع ملا اور ان میں کئی لکھنے والوں نے میرے فن پر لکھا ۔ میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ مجھے ادب کے حوالے سے بھی حکومت پاکستان نے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز” دیا میری  کتاب ” دہشت میں محبت” پر لٹریچر ایکسی لینس ایوارڈ ” دیا گیا مگر سب سے بڑا ایوارڈ یہی ہے کہ پڑھنے والوں کی مجھے محبتیں ملی ہیں ۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

محمدحمید شاہد ۔۔

میں بتا چکا ہوں کہ پہلی کہانی میں نے یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی تھی تاہم پہلی تحریر جو اخبار میں شائع ہوئی وہ کہانی نہیں ایک مضمون تھا ۔ وہ مضمون میں نے میٹرک کے زمانے میں لکھا تھا اور چوں کہ ہمارے ہاں راولپنڈی کاروزنامہ”نوائے وقت” آیا کرتا تھا اس لیے ،اسے بھیج دیا اور لطف کی بات کہ وہ مضمون وہاں چھپ بھی گیا۔ لیکن اسے کہیں پہلے میرے اندر لکھنے کی تاہنگ پیدا ہو چلی تھی ۔ کئی برس پہلے حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی نے میرے ساتھ ایک نشست کی تھی ، تب غالباً عاصم بٹ اس کے سیکرٹری تھے اور انہوں نے مختلف لکھنے والوں کے تخلیقی عمل کو سمجھنے اور اسے زیر بحث لانے کے لیے ایسی نشستوں کا اہتمام کیا تھا ۔ وہ نشست جو میرے ساتھ تھی، اس کی صدارت منشایاد نے کی تھی اور اس میں ،میں اپنے ہاں پہلی بار شناخت

ہونے والے تخلیقی عمل کے بارے میں ایک تحریر پڑھی تھی، جی چاہتا ہے وہ عین مین یہاں مقتبس کردوں :

"ذرا تصور باندھیے ایک ایسے گھر کا‘جس کے وسیع آنگن میں آسمان ہررات‘ سارے تارے جھولی میں بھر کر‘ اُترا کرتا تھا ۔

آپ گماں باندھ چکے ہیں تو جان لیجئے کہ وہ گھر میرا تھا ۔

سہ پہرہوتے ہی پورے آسمان تلے کھلے آنگن میں چھڑکاؤ ہوتا اور شام پڑتے ہی بہن بھائیوں اور اَمّاں ابا کی کھاٹیں ایک خاص ترتیب میں بچھا دی جاتی تھیں ۔ اُدھر اوپر کی سمت ابا کے لیے مخصوص تھی‘ دائیں کو اَمّاں اور باجی کے لیے‘ جب کہ بائیں کو‘ جدھر بکائن سے پرے ڈیوڑھی تھی‘ ہماری کھاٹیں بچھتی تھیں ۔ اوپر لینے کو سب کے پاس سفید چادریں تھیں۔ جب ہم ان چادروں کو تان کر سو رہے ہوتے تو رات سارے تارے ان کی سفیدی پر انڈیل دیا کرتی تھی ۔

آپ کو یقین نہیں آئے گا مگریہ واقعہ ہے کہ تارے اُن اجلی چادروں پر بھی لش لش کرتے رہتے تھے ۔

ہمارے سونے کا ایک وقت مقر ر تھا ۔ نیند آئے نہ آئے ہمیں اپنے اپنے بستر وں پر لیٹ کر خامشی سے نیند کا انتظار کھینچنا ہوتا تھا ۔ نیند دبے پاؤں آیا کرتی تھی ‘اور ہر روز بلا ناغہ آتی تھی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ عین اس وقت‘ جب میں چمکتے تاروں کے آبدار کناروں کو اپنے تصور کی نازک پوروں سے ٹٹول رہا ہوتا تورات مجھے اپنے آپ سے بے گانہ کر دیا کردیتی تھی ۔ یہی وہ لمحات تھے جب آسمان کالا چغا پہن کر میرے قدموں کی سمت سے نمودار ہوتا اور اپنی بھری جھولی کے سارے تارے میرے اوپر بچھی دودھ جیسی سفیدچادر پر ڈال دیتا تھا۔ یکایک سارے میں یخ لَو ‘بھر جاتی۔ میں بے تابی سے تاروں کو ٹٹولتا جاتا۔ وہ مجھے اتنے نرم اوراتنے ملائم لگتے کہ اُن کا گداز میرے دل میں بھر جاتا تھا ۔

پھر یوں ہوا کہ سب کچھ تلپٹ ہو گیا ۔

مگر یہ اس رات ہوا تھا جب آنگن میں کھاٹیں نہیں تھیں کہ خنکی بڑھ گئی تھی ۔ ہم بستروں پر لیٹا کرتے تو کچھ ہی لمحوں میں ہمارے بستر جادو کاقالین بن کر ہمیں تاروں بھرے کھلے آسمان تلے لے آتے تھے ۔ لیکن جس رات کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ معمول کی راتوں سے کہیں زیادہ تاریک تھی۔ ابا اپنے کمرے میں سو نہیں سکے تھے۔۔۔ اور ہم بھی اپنے اپنے بستروں سے نکل ‘ باہر آنگن میں آکر ہکا بکا اور دل گرفتہ کھڑے تھے ۔ ہم سب کھلے اور کالے آسمان تلے تھے مگر جیسے وہاں تھے ہی نہیں۔۔۔ کہ وہاں تو صرف ابا تھے جو چاروں اور گھوم گھوم کر اوپر آسمان کو تکے جاتے تھے اور سسکاریاں مار مار کر کہتے تھے‘ دیکھو یہ ٹوٹ گیا ۔

وہ آسمان تھا۔۔۔!

وہ تارے تھے ۔۔۔!

وہ دل تھا۔۔۔!

کہ وہ دھرتی تھی۔۔۔!

کچھ بچا تھا یا سب کچھ ٹوٹ گیا تھا، میں پوری طرح سمجھنے سے قاصر تھا۔ بس یوں محسوس ہوا تھا جیسے آسمان کے سارے تاروں نے پہلے تو دھماکے

سے باہم جڑ کر ایک بڑا سا گولا بنا یا تھا‘ آسمان جتنا بڑا۔۔۔اور پھردوسرے ہی لمحے میںیہ گولا ٹوٹ کر ہمار ی دھرتی پر ‘نہیں شاید ہمارے دلوں پر برس پڑا تھا۔۔۔ یوں سب کچھ پاش پاش ہو گیا تھا ۔

مجھے یقین سا ہو چلا ہے کہ یہی وہ رات تھی جب میں نے اچھی طرح چہرہ دِکھانے والے دُکھ اور پوری طرح شناخت نہ ہونے والے تخلیق کے اَسرار کی خوشبو میں رَچے بسے لمحوں کو ایک ساتھ اَپنے بدن کے خَلیے خَلیے میں‘ رگوں میں اور ہڈیوں کے گودے میں محسوس کیا تھا ۔ اس رات ہمارے گھر میں کوئی نہ سویا تھا کہ ابا کسی طور سنبھلتے ہی نہ تھے ۔ جو بڑے تھے وہ ابا کو سنبھال رہے تھے اور میں اندر ایک کونے میں دبکا بیٹھا کا غذ پر کچھ لکھ رہا تھا یا پھر یوں ہی کچھ لکیریں کھینچ رہا تھا ۔

میں آج تک وطن ٹوٹنے والی اُس رات کا تعلق اُڑتے ستاروں کے بھرا مار کر جڑ نے اور ٹوٹنے سے نہیں جوڑ پا یا ہوں تاہم یوں ہے کہ میں اپنے تخلیقی عمل کو کسی نہ کسی طرح پاکیزہ جذبوں کی اِسی نہج کی لطیف تُندی سے جوڑتا رہتا ہوں ۔ اِس سے کم پر میرے اندر تخلیقیت بیدار ہونے پر راضی ہی نہیں ہوتی۔”

اقتباس طویل ہوگیا مگرآپ جان گئے ہوں گے کہ لکھنا محض میرا شوق نہیں ہے ، یہ زندگی اور موت کے سے مسئلے کی طرح مجھے بے چین اور بے قرار رکھتا ہے۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

محمد حمید شاہد ۔۔

اس باب میں ،میں بہت خوش قسمت رہا کہ مجھے گھر میں ایسا ماحول میسر تھا جہاں کتاب سے محبت کی جاتی تھی ۔ یونیورسٹی کے زمانے میں ،میں ادب کی طرف متوجہ ہوا ۔بہت جلد وہاں لوگ کہنے لگے تھے کہ میں جو لکھتا ہوں وہ متوجہ کرتا ہے ۔ بس پھر کیا تھا لکھنا پڑھنا میری پہلی ترجیح ہوگیا ۔اب رہ گیا یہ معاملہ کہ ہمارے معاشرے میں لکھنے والوں کی اور دانش سے معاملہ کرنے والوں کی کوئی قدر نہیں ، تو ایک سطح پر یہ درست بھی ہے ۔ جہاں بھوک ، مفلسی، بے روزگاری، جہالت ننگا ناچ رہی ہو ، جہاں قوت اور طاقت رکھنے والے پورے نظام کا ناس مار کر رکھتے ہوں کہ وسائل پر قابض رہیں ،جہاں رشوت، بے ایمانی ، استحصال عام ہو ، وہاں علم، ادب اور دانش کو مقام کہاں مل پائے گا جو ایک جمے جمائے ترقی یافتہ معاشرے میں ان کا ہوتا ہے ۔ تاہم میں مایوس نہیں ہوں ۔ یہ مثبت قدریں عملی زندگی میں ہمارے ہاں وہ ترجیح نہ پاسکیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ معاشرہ انہیں مثبت اقدار کے طور پر شناخت نہ کر پاتا ہو۔ دیکھیے یہ ایسے ہی ہے ،جیسے ہجوم میں پھنسا ہوا کوئی شخص یہ تو جانتا ہوں کہ اسے کس سمت جانا ہے، وہ ادھر جانا بھی چاہتا ہے مگر لوگوں کا ریلا اسے کسی اور سمت بہالے جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں عام آدمی میں ادب کی، اورعلم کی اور نیکی کی طرف لپکنے اور مثبت اقدار کو اپنالینے کی تاہنگ موجود ہے مگر سماجی اکھاڑ پچھاڑ، معاشرتی دھکم پیل اور معاشی چیرہ دستی کے ریلے نے اسے درست سمت بڑھنے سے روکا ہوا ہے۔ایک ادیب کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ لوگوں سے محبت ملی ہے اور اتنی بے پناہ ملی ہے کہ میں زندگی کی باقی ماندہ سانسیں اس کے شکر میں گزار دوں تو بھی حق ادا نہ ہوگا۔

سوال ۔۔ صحیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر /تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

محمد حمید شاہد۔

میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ میں باقاعدہ ادب سے یونیورسٹی کے زمانے میں جڑا ہوں ۔ علم کے دیگر شعبے اس سے پہلے میری دلچسپیوں کا سامان رہے ۔ فیصل آباد کے ادبی حلقوں کی نشستوں میں بیٹھنے لگا اور باذوق احباب کی صحبت  ملی تو پڑھنے کی طرف تو میں پہلے ہی راغب تھا، ادب کی باقاعدہ اصناف کی طرف بھی رغبت بڑھتی چلی گئی۔  تاہم درمیان میں لگ بھگ ایک دہائی ایسی ہے کہ میں لکھنے سے کترانے لگا تھا ۔ وہی جو آپ نے اوپر ایک سوال میں کہا ، مجھے بھی معاشرے سے شکایت تھی کہ یہاں کوئی قدر نہیں وغیرہ وغیرہ مگر جب مجھے احساس ہوا کہ ایسا سوچنا دراصل کچھ نہ کرنے یا نہ کر سکنے کے بہانے ہیں  یعنی پڑھ تو مسلسل ریا ہوں اور کچھ لکھ نہیں رہا تو یہ کاہلی اور سستی تو ایک طرح  حرام خوری ہوئی ۔ خیر جب میں کوئی  ربع صدی پہلے اسلام آباد آگیا اور حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد میں افسانہ”برف کا گھونسلا” پڑھا اور اس پر خوب توجہ اور پذیرائی ملی تو پھر بات آگے بڑھتی گئی حالاں کہ میرا پہلا افسانہ”ماسٹر پیس” کئی سال پہلے شائع ہو چکا تھااور اس کے بعد بھی کئی لکھے مگر آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہی افسانہ میری پہلی شناخت ہے  اورپھر چل سو چل ۔ جو بھی لکھتا گیا اس پر بات ہونے لگی۔ میرے افسانے اور دوسری تحریریں جن جرائد میں شائع ہوتی رہیں ان میں ”فنون“،”اوراق “،”شب خون “،”مکالمہ“،”ماہ نو“،”دریافت “،” آئندہ “، ”دنیازاد“،”آفاق“،”ادبیات“،”کتاب“،”جدید ادب “،”عالمی اردو ادب “، ”تخلیقی ادب“، ”منزل“، ”سمبل“ اور دوسرے ادبی جریدے اور کتابی سلسلے شامل ہیں۔ ان ہی کی وساطت سے میں میرا ادبی کام ادب کے سنجیدہ حلقوں میں پہنچا لہذا ان سب کا شکریہ مجھ پر واجب ہے۔

سوال۔ آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

محمد حمید شاہد۔۔

جب میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا توڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر انور محمود خالد، احسن زیدی  جیسے سینیر لکھنے والوں سے لے کر کاشف نعمانی، اشفاق احمد کاشف، انجم سلیمی ، مقصود وفا،شبیر قادری جیسے نوجوانوں تک سب نے ایسا ماحول دیا کہ ادب میری ترجیحات میں اوپر ہوتا چلا گیا ۔ اگر میں ادیب نہ ہوتا تو ان سب سے میری دوستی بھی نہ ہو پاتی۔ فیصل آباد میں تھا جب انور سدید سے ملاقاتیں رہیں اور سرگودھا جاکر وزیر آغا سے ملا۔ فیصل آباد جو ان دنوں لائل پور تھا،صحیح معنوں میں میری ادبی جائے پیدائش ہے۔وہاں ہم محفل ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے۔ لاہورجاتاتو احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، اشفاق احمد،قتیل شفائی، احمدراہی سب سے ملنا ہوتا۔ امجد طفیل اورضیاالحسن جیسے دوست  اسی زمانے میں ملے، جب اسلام آبادآیا توممتاز مفتی،فتح محمد ملک ،منشایاد،ضیا جالندھری،جلیل عالی،احسان اکبر، رشید امجد،افتخار عارف،مسعود مفتی ، وقار بن الہی،توصیف تبسم جیسے سینئر لکھنے والوں سے لے کر علی محمد فرشی،نصیر احمد ناصر، رفیق سندیلوی، طارق نعیم، محبوب ظفر، روف امیر، سلمان باسط،نجیبہ عارف اوران کے بعد کےنوجوان لکھنے والوں سے جو دوستاں بنیں تو سب ادب ہی کے طفیل بنی ہیں ۔کشور ناہید، شبنم شکیل،نیلوفر اقبال، فرخ یار، پروین طاہر،حارث خلیق، کیسے کیسے دوست ہیں جو اپنے اندر تخلیقی وفور رکھتے ہیں اور ہر بار آپ کا ادب پر ایمان مستحکم کرتے رہتے ہیں۔ادبی کانفرنسوں میں شرکت نے مجھے اس باب میں اور بھی مالامال کر دیا ہے۔شمس الرحمن فاروقی، انتظار حسین،شمیم حنفی ،آصف فرخی، خالد جاوید، مبین مرزا ، اخلاق احمد، اے خیام صاحب کس کس کا نام لوں پورا ایک قبیلہ ہے جو اس ادب کی عطا ہے۔یہ انٹر نیٹ کا زمانہ ہے دنیا بھر کے ادیب،جن سے مل نہیں سکتا ، اس وسیلے سے قریب آئے ہیں ، محمد عمر میمن سے جو مکالمہ رہا ایک کتاب بن گئی ،  سید محمد اشرف،ستیہ پال آنند، تصنیف احمد، سعید نقوی؛ دنیا میرے لیے سمٹتی چلی گئی۔ تویوں ہے کہ ہمارا تعلق ادب کے وسیلے ہی سے بنا ہے۔ انسان باہمی تعلقات سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ میں نے بھی دوستوں سے بہت  کچھ سیکھا ہے۔

سوال۔۔ آپ کی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟

محمد حمید شاہد ۔۔

گویا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ادب اور شاعری پڑھتاتو کوئی نہیں ، ادیبوں شاعروں کی وہ قدر نہیں جو ایک پیسے والے کی ہے، چاہے وہ حرام کا پیسہ ہی کیوں

 

نہ ہوں، سب اپنے اپنے تعصبات لے کر دھینگا مشتی کر رہے ہیں ، دست و گریباں ہیں ، طاقت ور ملک ہوں یاادارے  اور افراد سب وسائل ہتھیانے کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔کھلے عام وسائل ہتھیائے جا رہے ہیں ، دوسروں کے حقوق مارے جا رہے ہیں اور انہیں نئی نئی اصطلاحات کے ذریعے جائز ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ان اصطلاحات کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے ،ہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ، جہاد، مجاہد، بنیاد برست، عظیم تر ملکی مفاد،وغیرہ وغیر ہ جیسی اصطلاحیں جن کے معنیٰ تک نئی صورت حال نے متعین کیے ہیں ، اس جنگ کا زائیدہ ہیں ، اور بات  کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہی، ثقافت کا شعبہ ہو یا معیشت کا ،معاشرہ ہر سمت سے اس کی زد میں ہے ، اس یلغار نے سماج کا بیانیہ بدل کر رکھ دیا ہے، لیجئے ایک اور اصطلاح آگئی ۔ یہ بیانیہ محض اور صرف فکشن کا نہیں ہے کہ اس نے تو تہذیبی بنیادوں میں رخنے ڈال دیے ہیں ۔ ہمیں رہ رہ کربتایا جا رہا ہے کہ دریدا نے سب کچھ ختم ہونے کا بتا رکھا ہے۔ بتا رکھا ہے کہ تاریخ کا خاتمہ ہو چکا۔ طبقاتی جد وجہد کا خاتمہ ہو چکا۔ فلسفہ ختم۔ خدا مر گیا اور مذاہب  کا جنازہ بھی اٹھ چکا۔مسیحیت  اوراخلاقیات ٹائیں ٹائیں فش۔عبارت گئی ،جوموضوع  تھا وہ بھی گیا۔آدمی کا سر کا قبر کے پتھر سے جا لگا ہے۔ دریدا کا لکھا جو ہمیں سنایا جاتا رہا ہے ، اس سے یہی بیانیہ بنتا ہے کہ ادب،مصوری اور دوسرے فنون ختم سمجھیے، اس پس منظر میں دیکھیں تو آپ کا سوال بھی دہشت زدہ کرنے لگتا ہے۔  اور یہ نئی تنقید والے گزشتہ اڑھائی تین دہائیوں سے ہمیں دریدا کا کہا سنا کر دہشت زدہ کرتے آئے ہیں۔ ہمارے دوست تھے سکندر احمد، فوت ہو گئے ہیں انہوں نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ صاحب دریدا نہیں چالاک تھا ، اس نے سب چیزوں کے خاتمے کے اعلان میں بھی ڈنڈی ماری تھی ۔ اس نے مابعد جدید فکر کے نتیجے میں خواب ، مذاہب، اخلاقیات، فنون سب کے خاتمے کی بات کی مگر کچھ بچا بھی لے گیا تھا ۔ اس کی نظر میں اس فکر سے جسے بچ جانا تھا وہ یہودیت اور نسل تھی  کیوں کہ یہودیت مذہب سے زیادہ نسلی تصور ہے۔ سکندر احمد کا کہنا تھا کہ دریدرا بڑا چالاک تھا اس نے مسیحیت کے خاتمے کا اعلان کیا یہودیت اور ریس یعنی نسل سے کنی کاٹ کر نکل گیا بلکہ صاف صاف کہہ دیا یہ ختم نہیں ہوں گے۔ خیرکہنے والے کہتے ہیں کہ دریدا نے  اپنی اس یہودی فکر کی ترجمانی کی ، اس یہودی فکر کی جس کا درس اس  نے اپنی ماں کی گود سے حاصل کیا تھا۔ پھر وہ ایک زمانے میں شدت پسند یہودی بھی رہ چکا تھا ۔ اچھا قمر صدیقی نے اپنے مضمون ، جس کا حوالہ سکندر احمد والے مضمون میں موجود ہے، یہ تک کہہ دیا تھا کہ "دریدا کی تعریف کے مطابق مابعد جدیدیت کے زیر سایہ ایک یہودی مرکز تیار کرنے کی کوشش کا آغاز ہوچکا ہے” لیجئے سوال آپ کا سادہ سا تھا مگر میں کہیں اور الجھ کر رہ گیا ۔ ممکن ہے یہ کسی کاایجنڈا نہ ہو، اور سب کچھ حالات کے زور پر خود بہ خود ہوتا جا رہا ہو، اور ہاں یہ کہنا کہ اس ساری خرابی میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے یہ بھی درست نہ ہوگا۔ صاحب وہ جو کسی نے کہہ رکھا ہے کہ اس عجیب عہد میں دانشوروں کی دانش چوری ہو گئی ہے اور المیہ یہ ہے کہ انہیں اس کی خبر ہی نہیں ہے ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں ایک تشکیل شدہ بیانیہ ہوتا ہے اور ہمارا پہلا قصور یہی ہے کہ ہم اس حقیقت کو جانے بغیر اگلے ہوئے نوالے چبائے جارہے ہیں اور اس زعم میں کہ یہی سب کچھ نیا ہے ۔ خیر کہنا مجھے یہ تھا کہ  دہشت کی ایک جنگ ادب کے شعبے تک آگئی ہے۔ یہاں بھی اجنبی اصطلاحوں کہ اندر جھانک کر دیکھیں گے تو ایسا یدھ نظر آئے گا کہ توبہ ہی بھلی۔ تو بھائی اس ساری صورت حال سے مت پریشاں ہوں ۔ ہر دور کی اپنی مشکلات اور اپنی سہولتیں ہوتی ہیں ، اپنی لعنتیں اور اپنی برکات ہوتی ہیں ۔ اس عہد کی لعنت اگر یہ قبضے والی ذہنیت ہے تو اس عہد کی ایک برکت یہی ہے کہ آپ اپنی بات بھی بہ سہولت دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا سکتے ہیں ، دنیا سمٹ گئی ہے ۔رہا آپ کے سوال کا دوسرا حصہ کہ”آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟” تو میرا سوال الٹا آپ سے یہ ہے کہ” ادیب نے قاری کے مطالبات پرلکھنا کب سے شروع کیا؟”۔۔۔ یہ تو اس کے اندر ایک تخلیقی ابال ہوتا ہے جو اسے لکھنے کی طرف مائل کرتا ہے ۔ میں نے کبھی اس لیے نہیں لکھا کہ میں مشہور ہو جائوں ۔ میرا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ جو میں لکھتا ہوں وہ سب کو پسند آئے گا ۔ اپنے اندر کے مطالبے پر لکھنا اور تخلیقی تجربے کو خود اسلوب میں ڈھلنے دینا ایسا قرینہ ہے جو عام قاری اور ایک ادیب کے درمیان دھند سی پیدا کر دیتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ادب پڑھنے والے ہر معاشرے میں آٹے میں نمک جتنے ہوتے ہیں۔ادب اور شاعری کی کتاب کبھی فرنٹ شیلف پر نہیں رہی ہیں،ادب سماج کی پاپولر ایکٹویٹی نہیں ہے اور اگر یہ اپنے قاری کے مطالبے پر لکھا جائے گا تو پاپولر ہوجائے گا مگر ادب نہیں رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے