سر ورق / افسانہ / آج بھی نتالی نہیں آئی۔۔۔ سید کامی شاہ 

آج بھی نتالی نہیں آئی۔۔۔ سید کامی شاہ 

آج بھی نتالی نہیں آئی۔۔۔

سید کامی شاہ

مجھے شدید قسم کی شہوت نے جگایا تھا۔ میں نے ایک ہاتھ کو وہیں رکھے رکھے دوسرا ہاتھ بڑھا کر قریب پڑا موبائل فون اٹھایا۔ پانچ بج رہے تھے۔

یہ صبح کا وقت ہے یا شام کا۔؟ میں سوچنے لگا۔

مجھے یاد آنے لگا، ساڑھے سات بجے میں نے موبائل فون سائلنس پر لگایا تھا اور ٹھنڈے رنگین پانی سے بھرے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔

وقت کا بڑا کھیل ہے میرے یار۔۔۔،، اتنی ساری آوازوں میں ایک آواز گونجی تھی۔۔۔

وہ تین تھے یا پانچ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں۔۔ مگر وہ تھے۔۔ میرے علاوہ تین تھے یا پانچ۔۔ مگر وہ تھے۔۔ کوئی کمرہ تھا جس میں لال رنگ کا قالین بچھا تھا اور کانچ کے گلاسوں میں بھرے ارغوانی رنگ کے سیال پانیوں میں ٹھندی برف تیرتی تھی۔۔ اور وہ شام کا وقت تھا۔

آخری دوست کب گیا ، مجھے یاد نہیں۔۔ میں نے ساڑھے سات بجے کے بعد وقت نہیں دیکھا تھا کہ وقت خود کو رُک کر دیکھنے کی مہلت ہی کہاں دیتا تھا۔ سر پر پائوں رکھے بھاگتا چلا جاتا تھا۔۔ یار یہ نمٹالیں تو گھر بھی جانا ہے۔۔،، اتنی ساری آوازوں میں کوئی آواز گونجی تھی۔

گھر۔؟ مگر گھر کہاں تھا۔؟؟ کوئی سوال تھا جو اپنی جگہ ایستادہ تھا۔۔

یہ میرا گھر ہے یا میں کسی کے گھر میں ہوں۔۔۔؟ میں تو فقط یہاں کچھ وقت گزارتا ہوں اور اس کی اضافی قیمت ادا کرتا ہوں۔ اس گھر کا مالک تو کوئی اور ہے۔۔ جس کی مرضی سے بجلی کے میٹر چلتے تھے اور میں آن لائن ہو کر ان عورتوں سے گفتگو کرتا ہوں جو مجھے اپنی روح کے قریب محسوس ہوتی ہیں۔۔۔

میں نے اپنی رانوں کے بیچ دبائو محسوس کیا۔۔۔ مجھے ایک عورت کی خواہش ہورہی تھی۔ ایک مکمل اور بھر پور عورت جو خود کو جانتی تھی اور میرے مرد ہونے کی ازلی کمزوری سے پوری واقفیت رکھتی تھی۔۔ میں اپنی کنپٹیوں کو رگڑنے لگا۔۔۔ گلابی اور ارغوانی پانیوں کی ٹھنڈک میرے سر میں لہراتی تھی اور میری آنکھوں کے آگے بار بار ریشمی

پردے گرتے اور اٹھتے تھے۔۔

May I come in sirrrrrrrr….???

وہ فرانسیسی لہجے میں انگریزی بولنے والی اپنے فقرے کے آخری لفظ کو لمبا کھینچتی تھی، ہنسلی کی ہڈیوں کے بیچ سے اٹھتی آواز اس کے ہونٹوں کی جُنبش کے ساتھ لہراتی اور فضا میں آخری لفظ کی گونج پھیلتی چلی جاتی۔

You must love to see me playinnnnggg! Don’t You Mr Mannnnnn?

 وہ ”مین” پر زور دیتی تھی اور اس کی مسکراہٹ ہونٹوں کے کناروں سے پھیل کر اس کے کانوں کی لوئوں کی طرف بڑھتی تھی۔

 ہاں۔۔۔۔۔ اچھی لگتی ہو تم مجھے

  میں بھاری سانسوں کے ساتھ اس کی طرف دیکھتا ہوں۔۔

کتنی اچھی۔؟ میری ٹانگوں کے بیچ بیٹھی وہ اپنے دونوں ہاتھ میری رانوں پر چلاتے ہوئے نیچے کی طرف لے جاتی تھی۔۔ اس کے گرم ہاتھوں کا مخلمیں لمس میری ٹانگوں سے پھسلتا ہوا میرے ٹخنوں کی طرف بڑھتا تھا مگر اس کے ساتھ ہی ایک شدید مضطرب قسم کی لہر تھی جو ٹخنوں سے اٹھ کر میری ٹانگوں کے بیچ کہیں منتج ہوتی تھی۔۔ ایک عجیب دو رُخا سا دائرہ تھا جو اس کے ہاتھوں کے لمس سے پھیلتا ہوا نیچے کی طرف بڑھتا اور نیچے سے اوپر کی طرف اٹھتا تھا۔ میں اس کے چہرے کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر میرے ہاتھ وہاں نہیں ہیں جہاں انہیں ہونا چاہپیے۔۔ میں حیرت سے اپنے کندھوں پر اس جگہ نگاہ کرتا ہوں جہاں سے آدمی کے بازو شروع ہو تے ہیں اور انگلیوں کی پوروں تک پہنچ کر ہاتھ بن جاتے ہیں۔۔

میرے ہاتھ کہیں کھوگئے ہیں یا کبھی تھے ہی نہیں۔؟ میں سوچ میں پڑجاتا ہوں۔ کمرے میں سرمئی دھواں پھیلتا ہے اور بہت ساری آنکھوں سے ارغوانی دھاریں چھوٹتی ہیں۔

عورت کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں۔،، بہت ساری آوازوں میں کوئی آواز گونجتی ہے۔۔ میں گلاس میں گھلتی برف کو دیکھتا ہوں

ذہین مردوں کو چونکہ پہیلیاں گھڑنا اور سلجھانا اچھا لگتا ہے تو انہوں نے عورت کو بھی ایک پہیلی بنا رکھا ہے۔،، وہی آواز مسلسل اپنے ہونے کا اظہار کرتی ہے۔

عورت چاہے کہیں کی بھی ہو۔۔ اسے بس عزت، توجہ اور پیار چاہییے ہوتا ہے۔،،

اپنی پسند کا بندہ اور اپنی مرضی کا پیار۔،،

دیواریں قہقہے لگاتی تھیں اور کھڑکیاں اُداسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتی تھیں۔ اور بہت ساری چیزیں، تاکہ وہ گاہے بگاہے ان میں نقص نکالتی رہے۔۔،، اتنی ساری آوازوں میں کوئی اور آواز گونجتی ہے۔۔ اور کمرہ قہقہوں سے بھرا جاتا ہے۔۔

میرے تین بچے ہیں اور ایک شوہر۔۔ مگر مجھے پھر بھی دوسرے مرد اچھے لگتے ہیں۔ خاص طور پر تمہارے جیسے مضبوط مرد۔۔ جو عورت کو اس کا ہونا بتاتے ہیں۔۔ اور عورت اپنے ہونے کا مزہ لیتی ہے۔۔

وہ ”ہونے” پر زور دیتی تھی۔

کیا تم مجھ سے کھیلنا چاہو گے۔۔؟ میں جو اپنے ہاتھوں کی تلاش میں پڑا تھا، اس کے سوال سے گھبرا جاتا ہوں۔۔

میں ایک پہیلی ہوں۔۔۔ میں عورت ہوں۔ کیا تم مجھے بوجھنا چاہو گے۔۔؟

وہ کہتی تھی اور ”عورت” کہتے وقت ہونٹ سکیڑتی تھی۔۔۔ اس کے سینے پر ابھری ننھی ننھی چوٹیاں لرزتی تھیں اور وہ ایک ہاتھ سے اپنی مصنوعی دُم کو سہلاتی تھی۔۔

پکڑنا چاہو گے مجھے۔؟ اس نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر ایک طرف کو چھلانگ لگادی۔۔

اُدھر اندھیرا تھا۔۔ میں اس کے پیچھے لپکا تھا۔۔۔ آگے سیڑھیاں تھیں جو نیچے کی طرف جاتی تھیں۔۔ میں بے دھیانی میں دو چار سیڑھیاں پھلانگ گیا، پھر یکدم احساس ہوا کہ اگر منہ کے بل گر گیا تو کیا ہوگا۔؟ میرے پاس تو ہاتھ بھی نہں کہ خود کو گرنے سے روک سکوں۔۔ میں نے اپنے کندھوں کی طرف دیکھا مگر وہاں اس قدر شدید اندھیرا تھا کہ مجھے کچھ سجھائی نہ دیا۔۔ بس اندھیرے میں ایک ہلکی سی میائوں گونجی اور میں اس آواز کے پیچھے لپکتا

چلاگیا۔۔

Can you catch me Misterrrrr?

کوئی آواز تھی جو مجھے اپنے پیچھے لگائے لئے جاتی تھی۔ سیڑھیاں نیچے کی جانب اترتی ہی چلی جاتی تھیں۔۔ کسی پاتال کی طرف۔۔ مگر میں چلا جاتا تھا۔۔

 تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں کوئی تشنہ گھریلو عورت ہوں۔؟ وہ فون پر بولنے والی چلاتی تھی۔؟ میں اپنے شوہر سے بہت مطمئن ہوں۔۔ سمجھے تم۔؟

اور خود سے۔؟ میرے اندر جیسے کوئی سوال گونجتا تھا۔

تمہیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے۔۔؟ آواز میں وہی درشتی قائم رہی۔۔

تو پھر یہاں وہاں بھٹکتی کیوں پھرتی ہو۔؟ سوال اپنی جگہ مذکر رہا۔

یہ میری مرضی ہے۔ میرا دل، میرا جسم میرا اپنا ہے۔۔ میں جہاں چاہوں اسے خرچ کروں۔ تم کون ہوتے ہو پوچھنے والے۔۔؟

تو پھر مجھے کیوں مصروف کیا ہوا ہے۔؟ میں پوچھتا ہوں مگر سنـاٹا سیڑھیوں پر پھیلتا چلا جاتا ہے۔

میائوں۔۔۔ پھر وہی آواز مجھے کھینچتی ہے۔

پانی مٹی کی طرف بھاگتا ہے نہ ہمیشہ۔۔،، کوئی کہتا ہے اور گلاسوں میں ہلکورے لیتا ارغوانی رنگ چھلکتا ہے۔

آخر میں سب مٹی پانی اور پانی مٹی ہوجاتا ہے۔۔۔،،

اور پھر ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ۔۔۔ اتنی ساری آوازوں میں کوئی آواز گونجتی ہے اور کمرے کی بے رنگ دیواریں ارغوانی قہقہوں سے لتھڑنے لگتی ہیں۔۔

کوئی اور راستہ ہے۔؟ میں پوچھتا ہوں۔

نہیں۔۔۔ انہی سیڑھیوں سے اتر کر نیچے جانا ہے۔،، آخری دوست کے الفاظ کانوں میں گونجتے ہیں۔ وہ گھٹنوں کے بل جھکی میری طرف بڑھتی ہے۔

I`d love to touch youuuu!!!

 وہ کہتی ہے۔۔

چاروں ہاتھوں پیروں پر چلتی ہوئی۔۔ کسی مست اور جنس زدہ بلی کی طرح۔۔۔۔۔۔وہ مجھ پر چھاجانے کی نیت لیے آگے بڑھتی ہے میں اسے روکنا چاہتا ہوں۔ مگر میرے ہاتھ میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ میں اٹھنا چاہتا ہوں۔ مگر میرا جسم بھی

میرے اختیار سے باہر ہے۔ میں بے بس ہوجاتا ہوں۔۔ کون ہو تم۔۔ میں زور سے چلاتا ہوں۔

I am your little French Girl, why are you shouting Misterrrrr?

اس کا لمس مجھے بے چین کرتا ہے۔

دفع ہوجائو یہاں سے۔۔،، میں آنکھوں میں غصہ بھر کر اس سے کہتا ہوں۔۔

میں جانے کے لیے نہیں آئی ہوں یہاں۔،، اس کی آواز میں سنجیدگی در آتی ہے۔

تو کیوں آئی ہو۔؟ میں پوچھتا ہوں۔

سب اپنے اپنے حصے کا کام کیے جارہے ہیں۔، مجھے اس وقت ہونا تھا یہاں۔ سو میں ہوں۔،،

مگر تم میرے کسی کام کی نہیں ہو۔۔،، میں بے بسی سے چیخ پڑتا ہوں۔

ترجیحات کا تعین تم نے کرنا ہے۔،، وہ مسکراتی ہے۔

میرے ہاتھ کہاں ہیں۔؟ میں پوچھتا ہوں۔

وہ کیا ہوتا ہے۔؟ وہ معصومیت سے میری طرف دیکھتی ہے۔ میں غصے سے چہرہ دوسری طرف گھما لیتا ہوں۔

میائوں۔،، وہ کہیں قریب ہی ہے۔ میں احتیاط سے سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچتا ہوں۔

میں ایک ہاتھ ٹانگوں کے بیچ میں رکھ کر دباتا ہوں اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرتا ہوں۔ میائوں۔،، وہ کہیں قریب ہی سے مسلسل اپنے ہونےکا اظہار کیے جاتی ہے۔

اُف۔۔۔،، میں اپنی کنپٹیاں سہلاتا ہوں۔۔ اور دوسرا ہاتھ وہاں سے ہٹا کر موبائل فون اٹھاتا ہوں۔ ساڑھے پانچ بج رہے ہیں۔ تو گویا صبح ہونے والی ہے۔ میں سوچتا ہوں۔

کیا یہ اُسی شام سے اِس صبح تک کا وقت ہے۔؟

تو کیا واقعی صبح ہونے والی ہے یا کسی اور شام کی آمد ہے۔۔؟

کمرے میں پھیلے ملگجی اندھیرے میں صبح شام کی تمیز کرنا مشکل ہے۔

عورت چاہے کہیں کی بھی ہو، اس کا مرد کے بغیر گزارا نہیں۔،، اتنی ساری آوازوں میں کوئی آواز گونجتی ہے۔

اور مرد کا۔؟

سوال اپنی جگہ بدلتا ہے

مرد تو کہیں نہ کہیں منہ مار کر گزارا کر ہی لیتا ہے۔،،

اتنی ساری آوازوں میں کوئی آواز گونجتی ہے

اور عورت۔؟

سوال خود کو دہراتا ہے

 اس کے لئے مصنوعی ذرائع کی کمی ہے کوئی۔؟

جواب سال بن جاتا ہے اور دونوں قہقہوں کی لہر میں سگریٹ کے دھویں کی طرح مدغم ہوجاتے ہیں۔

نہیں، مجھے بے جان کھلونوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔،، وہ منہ بناتی ہے۔

اور تمہارے جیسے مرد کے ہوتےہوئے۔ مجھے کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے۔،،

 وہ میری آنکھوں میں جھانکتی ہے۔ اس کے انگلیاں جیسے اپنے مقدر میں کھُلی چھوٹ لکھوا کر لائی ہیں۔۔

Please Stop!!!

میں چلاتا ہوں۔

کیا ہُوا، اتنا غصہ کیوں کررہے ہو۔؟ وہ معصوم نگاہوں سے پوچھتی ہے۔

تم جائو یہاں سے۔، مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔،،

سب کی اپنی اپنی ضرورتیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ جو تمہارے لیے اہم ہو وہ دوسروں کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہو۔،، اس کی آواز میں سنجیدگی درآئی ہے۔

میں بہت دور سے آئی ہوں اور شدید پیاس لگ رہی ہے۔ تھوڑا سا پانی پلا دو پھر میں چلی جائوں گی۔،، وہ میری طرف دیکھے بغیر کہتی ہے۔

اچھا ٹھیک۔،، میں قریب پڑی پانی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرے بدن میں تو ہاتھوں کا کوئی نام و نشان ہی نہیں۔ میں بے بسی سے اس کی طرف دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں کوئی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔

میائوں۔،، کہیں قریب سے کوئی آواز آتی ہے۔۔۔

سیڑھیاں ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ میں نیچے کی طرف بھاگتا چلاجاتاہوں۔

اچانک سیڑھیاں ختم ہوجاتی ہیں اور میں باہر آجاتا ہوں۔ ملگجی اندھیرے میں اونچی عمارت میں بنی کھڑکیاں دکھائی دیتی ہیں۔۔ میں انہیں گننے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر اندھیرے کی زیادتی میرےلیے کسی بھی چیز کو مکمل طور پر سمجھنے میں رکاوٹ بنی رہتی ہے۔ چاروں جانب بڑی بڑی دیواریں ہیں اور ان میں کھڑکیاں بنی ہیں۔۔ میں اندازے سے ان کی طرف بڑھتا ہوں۔۔ پھر کوئی دیوار نیچے کی طرف جھکتی ہے یا میں اوپر اٹھ جاتا ہے۔۔ سامنے بڑا سا ہال نما کمرا ہے جس میں بہت سے پنجرے رکھے ہیں۔۔ ان سب میں کوئی نہ کوئی ہے۔۔۔

کوئی بساندھ بھری موجودگی ہے جو کسی کا ہونا بتاتی ہے

میں قریب ہو کر آنکھیں چندھیا کر دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔۔ کمرہ شدید بو سے بھرا ہے۔۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔۔۔ میں اپنی گردن مسلنا چاہتا ہوں۔۔ مگر میرے وجود میں ہاتھوں کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔۔۔۔ قریب ہی کہیں وہی مانوس سی ”میائوں” گونجتی ہے اور ایک ایک کرکے سارے پنجروں سے کُتیوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔ پھر وہ سب مل کر بھوکنے لگتی ہیں۔۔

یہ کتے ہیں یا کتیاں۔۔۔؟ میں سہم کر پیچھے ہٹتا ہوں۔۔۔ آوازوں سے اندازہ لگانا مشکل ہے۔۔ مگر پہلی ہی ”بھوں” سن کر مجھے نہ جانے کیوں لگا کہ کوئی کُتیا ہے۔۔ پھر وہ آوازیں بڑھنے لگیں اور بڑھتے بڑھتے ان گنت ہوگئیں۔۔ میں الٹے پائوں پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ چاروں طرف دیواریں تھیں اور ان میں کھڑکیاں بنی تھیں۔ تو کیا ان سب میں ایسے ہی پنجرے تھے جن میں کتیاں بھونکتی تھیں یا کتے تھے۔۔ یقین سے کچھ بھی کہنا مشکل تھا۔۔

میں بے سمت بھاگنے لگا۔۔۔ دل سینے سے نکل کر پائوں کے تلووں تک جا پہنچا تھا اور زمین پر پڑتے ہر قدم کے ساتھ سر میں دھمکتا تھا۔۔۔ میرا سر بھاری ہونے لگا اور حلق میں کانٹے پڑنے لگے۔۔۔

میں سر دبا دوں آپ کا۔۔۔؟ سوال نما خواہش تھی یا خواہش نما سوال، میں نے زیادہ دھیان دیئے بغیر آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔ میرا سر کسی ریشمی گود میں تھا اور بند آنکھوں کے پیچھے کہیں وہ ”میائوں میائوں” کرتی تھی۔۔

کیسی عجیب بات ہے ناں۔۔ کبھی کوئی آپ کے ساتھ ہو کر بھی آپ کے ساتھ نہیں ہوتا اور کبھی کوئی ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی آپ کے آنسو پونچھ لیتا ہے۔،، کیسا عجیب ہے ناں یہ سارا کھیل۔؟ وہ بچوں کی طرح مجھ سے سوال کرتی تھی اور میں اس کے ہر سوال کا جواب دیئے چلاجاتا تھا۔ وہ میرے جواب سے مطمئن ہوتی تھی یا نہیں یہ اس نے کبھی نہیں بتایا تھا۔

تم اتنے کھُلے ملک میں رہتی ہو جہاں فرد کو فرد سے معاملات رکھنے کے لیے کسی سماجی معاہدے کی ضرورت نہیں پھر تم اس سے اتنی وابستہ کیوں ہو۔؟

عورت کو ہر حال میں ایک محفوظ زندگی کی تمنا ہوتی ہے نہ میرے پیارے بدھو۔،، وہ ہنستی تھی اور مسکراہٹوں پر مبنی اشکال میری طرف اچھالتی تھی۔

تم کہتی ہو تمہیں وہ شخص بہت زیادہ پسند نہیں تو پھر اس کے ساتھ کیوں رہتی ہو، جبکہ اسے تمہارے احساسات کی بھی زیادہ پروا نہیں۔؟

وہ میری ضرورتیں پوری کردیتا ہے اور میں اس کی خواہشیں، سو دونوں مل جل کر ہنسی خوشی رہ رہے ہیں۔،، وہ ہنستی تھی اور فضا میں ارغوانی دھاریاں چھوٹتی تھیں۔

اور تمہاری خواہشیں۔؟

تم ہو ناں۔۔۔۔میرے پیارے ٹائم پاس،، اس کے مسرت بھرے قہقہے دیواروں پر کاسنی اور عنابی رنگ بکھیرتے تھے۔

تو کیا میں صرف تمہارے لیے وقت گزاری کا ایک ذریعہ ہوں۔؟ مجھے شدید سُبکی کا احساس ستانے لگا۔

ہم سب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کی تسکین کا ذریعہ ہیں۔ ہاں کبھی کبھی چیزیں ہماری مرضی سے بھی ہوجاتی ہیں۔،، وہ کم کم سنجیدہ ہوتی تھی۔

نہیں، مجھے میرے بارے میں بتائو۔۔ دو ٹوک بات کرو۔ میں کون ہوں تمہارے لیے۔؟ مجھے سچ مچ اپنے استعمال شدہ ہونے کا احساس ہونے لگا۔ میں نے غصے سے کہا۔

بعد میں بات کریں گے۔۔ تم آرام کرو تم اپنا ٹائم پاس کرو میرا شوہر آنے والا ہے۔۔۔،، اس کے نام کے ساتھ جگمگاتا سبز دائرہ بے رنگ ہوگیا۔

وہ آف لائن ہوچکی تھی

میں نے موبائل فون پر وقت دیکھا۔ چھ بج رہے تھے۔۔ کھڑکی کا پردہ سرکایا تو باہر اجالا ہورہا تھا۔۔

اوہ تو صبح ہورہی ہے۔؟ میں نے سوچا اورسگریٹ کے پیکٹ سے ایک سگریٹ نکال کر سلگالیا۔ میائوں میائوں کرنے والی فرانسیسی بلی میرے دماغ کے پانیوں پر کہیں پنجوں کے بل چل رہی تھی۔ میں اٹھا اور ایک بٹن دبا کر کمرے میں روشنی کردی۔۔ شام کی محفل کے بہت سے آثار نمایاں تھے۔۔۔

اچھا۔۔۔ صبح سمیٹ لوں گا۔۔۔،،

صبح۔؟ صبح تو ہوچکی ہے، اور کتنا وقت چاہیے اس بکھرائو کو سمیٹنے کے لیے۔؟

سوال کسی دیوار سے لگا فرش کی جانب رینگ رہا تھا۔

ہاں تھوڑی دیر میں دیکھ لوں گا۔

میں اپنے دائیں ہاتھ سے گردن کا عقبی حصہ ملتے ہوئے ہوا کمپیوٹر والی ٹرالی کی طرف بڑھا۔۔ الٹے ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ دبائے دبائے میں نے کمپیوٹر کا بٹن آن کیا۔ تھوڑی دیر بعد مانیٹر کی اسکرین روشن ہوگئی۔ سنہری بالوں والی فرانسیسی گڑیا جیسی نتالی اسی روشن ڈبے کے ذریعے مجھ تک آتی تھی۔۔ میں نے ایک بلاگ پر جا کر لاگ ان کیا اور ان باکس کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ سگریٹ جلتے جلتے میری انگلیوں تک آن پہنچا تھا۔ میں نے حدت کا احساس ہوتے ہی چونک کر سگریٹ کی طرف دیکھا اور ہاتھ بڑھا کر سگریٹ کا آخری سرا ایش ٹرے میں مسل دیا۔

ان باکس کھُل چکا تھا۔۔ میں میسجز دیکھنے لگا۔۔ باہر کےکچھ دوستوں کے ایسے ہی دوچار فارمل ہائے ہیلو کے میسیجز تھے۔۔۔ میں اسے دیکھنے لگا جس کی خاطر میں یہاں پر آیا تھا۔۔ پھر کچھ میسجز سے نیچے جا کر اس کا نام دکھائی دیا اور اس کے پروفائل پر لگی پیاری سی بلی کی تصویر نظر آئی۔۔

نتالی بانجور، پیرس گرل۔۔۔۔۔

میں نے اس کا نام دیکھا اور اس کے نام پر کلک کیا۔۔ اس کی اور میری چیٹ ہسٹری کھُلنے لگی۔۔۔ میں اس کے میسجز دیکھنے لگا۔۔۔ اس کا آخری میسج دو دن پہلے آیا تھا۔

تمام شُد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

لبرل جڑیں ۔۔۔نورالعین ساحرہ

لبرل جڑیں نورالعین ساحرہ ” پچھلے ایک ہفتے میں ہر روز پہلے سے زیادہ حیران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے