سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 23 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 23 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 23
حسام بٹ کی واپسی دفتر کے بعض ساتھیوں کے لیے اطمینان بخش نہیں تھی اس حوالے سے ہمارے بعض مخلصین نے ہمیں تنبیہہ بھی کی کہ آپ نے یہ غلط فیصلہ کیا ہے، جمال احسانی بھی ہمارے پاس آئے، وہ حسام بٹ کی بے وفائی سے خوش نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں نے اسے چھوٹے بھائیوں کی طرح رکھا اور اپنا فیملی ممبر سمجھا، ہمیں ہوشیار رہنے کی نصیحت کرکے وہ چلے گئے لیکن ہم مطمئن تھے، اصولی بات یہ ہے کہ اگر آپ صحیح ہیں اور زندگی کے درست اصولوں پر کاربند ہیں، اپنی زندگی مثبت انداز میں گزارتے ہیں تو آپ کو کبھی فکر مند نہیں ہونا چاہیے، مثبت رویے کے حامل افراد زندگی میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں، ان کے مخالف بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑسکتے،منفی رویہ اور طرز عمل اختیار کرنے والے ہمیشہ نت نئے مسائل اور ناکامیوں کا شکار رہتے ہیں۔
حسام بٹ کی فطری پراسراریت برقرار تھی، وہ زیادہ کسی سے نہیں کُھلتے تھے بلکہ دوسروں کو کھولنے کی کوشش ضرور کرتے تھے تاکہ ان کی کمزوریوں سے واقف ہوسکیں، ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ان کی رہائش کہاں ہے، ہمارے اصرار پر انھوں نے بتایا کہ شاہ فیصل کالونی کے کسی بہت ہی کمتر درجے کے ہوٹل میں رہ رہے ہیں جہاں کا ماحول نہایت ہی خراب ہے،کمرے میں پنکھا بھی نہیں ہے،فرش پر سونا پڑتا ہے، ہمیں بہت افسوس ہوا اور ہم نے ان سے کہا کہ آپ جیسے پہلے دفتر میں رہ رہے تھے اسی طرح رہنا شروع کردیں، اس طرح ان کی واپسی مکمل طور پر دفتر میں ہوگئی، آفس بند ہونے کے بعد وہ دو ٹیبلز باہم جوڑ کر انھی پر سوجایا کرتے تھے، کھانے پینے کا انتظام ہوٹل سے ہوتا، اسی انداز میں گاڑی چلتی رہی، کام کے معاملے میں انھوں نے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ ہمارے بہترین معاون ہیں، اس حوالے سے ہمیں ان سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی، شاید ایک دو ماہ بعد ایک بار معراج صاحب نے ہم سے پوچھا کہ وہ کیسے چل رہے ہیں تو ہم نے انھیں یہی بتایا کہ انھوں نے وصی بدایونی (مرحوم) کی جگہ بہ حسن و خوبی سنبھال لی ہے۔
سرگزشت آہستہ آہستہ اپنا مقام بنارہا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بھی سرگزشت کے قارئین میں شامل ہورہے تھے جو کبھی ڈائجسٹ نہیں پڑھا کرتے تھے،ایسے لوگوں میں بہت سے اہل علم و ادب بھی شامل تھے جو عام طور پر کسی ڈائجسٹ کا نام سن کر ناک بھوں چڑھا لیتے تھے، اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ ماہنامہ سرگزشت عام ڈائجسٹوں کے مقابلے میں ایک مختلف ذائقہ رکھنے والا میگزین ہے، مشہور افراد کی کہانیوں کے ساتھ سرگزشت کی سچ بیانیوں میں بھی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اکثر سچی کہانیاں لکھوائی جائیں اور انھیں اولیت دی جائے، ان سچ بیانیوں میں بعض مشہور اور نامور لوگوں کی کہانیاں بھی اس طرح شائع کی گئیں کہ ان کے اصل نام تبدیل کردیے گئے مثلاً استاد امانت علی خاں سے سچا عشق کرنے والی ایک پروگرام پروڈیوسر کی کہانی جو منظر امام نے لکھی تھی ، استاد مہدی حسن کی ایک دیوانی کا قصہ جو جناب ایچ اقبال نے تحریر کیا تھا، مشہور ہدایت کار خلیل قیصر کے گھر میں چوری کرنے والے چور اور قاتل کا قصہ اور اس کا انجام جسے جناب اختر حسین شیخ نے تحریر کیا تھا، الغرض بے شمار کہانیاں اہم افراد سے متعلق سچ بیانیوں میں شامل رہی ہیں۔
حاجی عدیل
حاجی عدیل کا اصل نام کیا تھا، یہ معلوم کرنا ہم نے کبھی ضروری نہیں سمجھا، ممکن ہے ڈائجسٹ کے نئے اور پرانے قارئین ان سے واقف ہی نہ ہوں لیکن یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے تقریباً تمام ہی ڈائجسٹوں میں مسلسل لکھا ہے، کسی ایک آدھ کہانی پر ان کا نام شائع ہوتا تھا، باقی کہانیوں پر کچھ دوسرے فرضی نام ڈال دیے جاتے تھے، وہ عمران ڈائجسٹ، مسٹری میگزین، ایڈونچر، نئے افق، نیا رخ، جاسوسی، سسپنس اور سرگزشت میں مستقل لکھتے رہے، ہم سے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن کچھ تکلفات کے ساتھ یعنی اپنے پس منظر کے بارے میں انھوں نے ہمیں کبھی کچھ زیادہ نہیں بتایا اور ہم نے بھی کبھی انھیں بہت زیادہ کریدنے کی کوشش نہیں کی، ان کی رہائش حیدرآباد میں تھی، مہینے میں ایک چکر کراچی کا لگالیا کرتے تھے، سندھ کے پس منظر سے بھرپور واقفیت کے سبب انھوں نے سندھ کے دیہی ماحول پر بہت اچھی کہانیاں لکھیں، ان کی کہانیوں میں ایک سچی کہانی ’’پیر کی اونٹنی‘‘تھی، اس پیر کی اونٹنی کی تفصیل بیان کرنا آج بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے،اندرون سندھ رہنے والے جان سکتے ہیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔
حاجی عدیل اچھے خاصے صحت مند شخص تھے، ہم نے کبھی نہیں سنا کہ انھوں نے اپنی کسی بیماری یا تکلیف کا خصوصیت سے ذکر کیا ہو، شاید 2001 ء کا ذکر ہے کہ اچانک ان کے انتقال کی خبر آگئی، کیا ہوا؟ کیسے ہوا؟ کچھ معلوم نہ ہوسکا، ان دنوں حیدرآباد سے ایک ادبی پرچا بھی شائع کر رہے تھے، بہر حال نہایت شریف اور وضع دار انسان تھے، کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتے تھے اور ہم نے کسی سے بھی کبھی ان کی برائی نہیں سنی، بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ حق مغفرت کرے۔
ایک روایت
بعض روایات اور اصول ایک مصنف کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں، ایسی ہی ایک روایت ڈائجسٹ انڈسٹری میں رائج رہی ہے اور اب تک رائج ہے یعنی مصنف کا نام اُس کی کسی ایک کہانی پر دے دیا جاتا ہے اور اگر اُسی مصنف کی کوئی دوسری کہانی بھی شمارے میں شامل کی جائے تو اس پر کوئی فرضی نام ، عام قارئین تو یہی سمجھتے ہیں کہ کہانی جس نام سے شائع ہوئی ہے وہی اس کا مصنف یا مترجم ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، اس طرح مصنفین کا بے تحاشا کام اس کے نام سے شائع نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتا ہے،مصنف اس نا انصافی کو برداشت کرنے پر اس لیے مجبور ہیں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ کہانیاں جلد سے جلد شامل اشاعت ہوسکیں اس طرح ان کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے، اس حوالے سے اگر تحقیق کی جائے تو تقریباً تمام ہی مصنفین اس زیادتی کا مجبوراً یا خوش دلی سے شکار رہے ہیں، حاجی عدیل نے بھی بہت لکھا مگر جتنا لکھا شاید اُس کا نصف ہی ان کے نام سے شائع ہوا ہوگا، البتہ مصنفین کو یہ رعایت دی جاتی تھی کہ وہ اپنی پسند سے ایک یا ایک سے زیادہ نام دے دیں تاکہ ان کی دوسری کہانیوں پر لگادیے جائیں لیکن یہ نام پھر مستقل طور پر ادارے کی ملکیت ہوجاتے تھے مثلاً اقبال کاظمی اپنے نام کے علاوہ سنجیدہ کاظمی اور محسن رضا کے نام سے لکھتے تھے مگر ان کے ادارے سے علیحدہ ہونے کے بعد بھی یہ نام استعمال ہوتے رہے ، احمد اقبال جاسوسی ڈائجسٹ میں سرورق کی کہانی اپنی بڑی صاحب زادی صبا احمد کے نام سے دیا کرتے تھے ، عبدالقیوم شاد کی کہانیوں پر ابوالمنصور کا نام شائع ہوتا تھا، ایک نام کوئی اور بھی تھا جو ہمیں یاد نہیں، اسی طرح اثر نعمانی صاحب کی دوسری کہانیاں انجم نوید اور ایک اور نام سے شائع ہوتی تھیں ، علیم الحق کی کہانیوں پر بہت سے نام شائع ہوتے رہے ہیں، وہ اپنے دوست احباب کا نام بھی دے دیا کرتے تھے البتہ ان کی ایک کہانی پر شگفتہ شام کا نام ہم نے ڈالا تھا جس پر وہ بہت خوش ہوئے کیوں کہ شگفتہ ان کی بیگم تھیں اور شام ان کا تخلص تھا،محمود احمد مودی کی کہانیوں پر نجمہ مودی اور ان کے بیٹا بیٹی کا نام دیا جاتا تھا، منظر امام کو ان باتوں سے زیادہ دلچسپی کبھی نہیں رہی، کوئی بھی نام ان کی کہانی پر ڈال دیا جائے تو وہ کوئی شکایت نہیں کرتے تھے، یہ روایت دیگر ڈائجسٹوں میں بھی چلتی رہی ، سلسلے وار کہانیوں پر عام طور سے کہانی کے مرکزی کردار کا نام دینا بھی ڈائجسٹوں کی ہی روایت ہے۔
اس حوالے سے مدیران گرامی اور مالکان کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اگر ایک ہی شمارے میں کسی مصنف کی ایک سے زیادہ کہانیاں شامل اشاعت کی جائیں اور ان پر نام بھی مصنف کا ہی دے دیا جائے تو قارئین کو یہ محسوس ہوگا کہ گویا آدھے سے زیادہ پرچا ایک ہی مصنف سے لکھوایا گیا ہے، طویل کہانیاں جو مصنف کے نام سے شائع نہ ہوسکیں انھیں جب کتابی شکل میں شائع کیا گیا تو اصل مصنف کا نام سامنے آیا، اس سے پہلے ہم چچا اسلام حسین کا تعارف کراچکے ہیں انھوں نے بھی ڈائجسٹوں میں جو کچھ بھی لکھا وہ کبھی ان کے نام سے شائع نہیں ہوا، ان کی کہانیوں پر ظفر اعجاز لکھا جاتا تھا، بالکل اسی طرح الیاس سیتا پوری کا نام تاریخی کہانیوں پر تو شائع ہوتا تھا لیکن اولیائے کرام اور دیگر بزرگان دین پر انھوں نے جو کچھ لکھا وہ ضیا تسنیم بلگرامی کے نام سے لکھا اور بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے نام اب ہمارے ذہن میں نہیں ہے ،ماہنامہ سرگزشت میں شائع ہونے والی سچ بیانیاں بھی مشہور لکھاریوں کے زور قلم کا نتیجہ رہی ہیں، یہ الگ بات کہ کوئی سچی کہانی اگر ڈاک کے ذریعے یا کسی اور ذریعے سے آتی اور لکھنے والے یا بیان کرنے والے اسے درست طریقے سے نہ لکھ پاتے تو کسی پختہ مصنف کو دے دی جاتی تاکہ وہ اسے قابل اشاعت بناسکے لیکن بے شمار کہانیاں اپنے حقیقی مصنفوں کے نام سے محروم رہیں مثلاً ایچ اقبال ، منظر امام، حاجی عدیل، ایم الیاس، انور فرہاد، غلام قادر، عزیز الحسن قدسی، سلیم فاروقی، کاشف زبیر اور بہت سے نئے اور پرانے لکھنے والے اس فہرست میں شامل ہیں جن کے نام اب ذہن میں نہیں ہیں، یہ کہانیاں غیر معمولی طور پر اعلیٰ درجے کی کہانیاں تھیں، ان کا اس طرح بے نام و نشاں رہنا خاصا تکلیف دہ ہے۔
لاہور کا پہلا سفر
مجاہد ماہنامہ سرگزشت کا واحد سلسلہ تھا جسے جاسوسی ڈائجسٹ سے سرگزشت میں منتقل کیا گیا تھا اور پروگرام یہی تھا کہ کچھ عرصہ بعد جب پرچا اپنی بنیادیں مضبوط کرلے گا تو اسے ختم کرکے کوئی نیا سلسلہ شروع کیا جائے گا، مجاہد کی ابتدا ایم اے راحت صاحب نے کی تھی لیکن درمیان میں انھیں روک کر یہ کہانی عزیز الحسن قدسی سے لکھوائی گئی، قدسی صاحب علیم الحق حقی کے گہرے دوستوں میں سے تھے، ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھے اور پارٹ ٹائم کے طور پر کہانیاں بھی لکھتے تھے، زیادہ تر ترجمے کا کام کیا، شاید جاسوسی ڈائجسٹ کے قارئین کو یاد ہو، ان کا ترجمہ کیا ہوا ایک طویل ناول جاسوسی کے ابتدائی صفحات میں شائع ہوا تھا جس کا موضوع چوہوں کی پھیلائی ہوئی تباہ کاری اور ہلاکت تھا، قدسی نے اظہر کلیم کے ساتھ بھی کام کیا اور ان کی کہانیاں نئے افق اور نئے رخ میں بھی شائع ہوئیں، جب حقی صاحب ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ ہوئے تو قدسی بھی مستقل بنیادوں پر جاسوسی سے وابستہ ہوگئے، ماہنامہ سرگزشت کے لیے انھوں نے طبع زاد سچی کہانیاں بھی لکھیں، دوسری شادی نمبر میں حلالہ کے موضوع پر لکھی جانے والی نہایت عمدہ کہانی عزیز الحسن قدسی ہی کی تھی۔
مجاہد کی طوالت سے خود قدسی بھی کچھ بے زار ہورہے تھے اور معراج صاحب بھی چاہتے تھے کہ نئی قسط وار کہانی شروع کی جائے، اس سلسلے میں طے یہ ہوا کہ ماضی کی مشہور سلسلے وار کہانی گمراہ کو مزید آگے بڑھایا جائے لیکن سوال یہ تھا کہ آگے کون بڑھائے گا؟ محترم جبار توقیر ایک صاحب طرز اور روشن خیال ادیب تھے، ان کے اچانک انتقال سے جو خلا پیدا ہوا، وہ کوئی نہ بھر سکا، وصی بدایونی مرحوم نے اس کہانی کو اختتام تک پہنچایا لیکن وہ اسے سنبھال نہ سکے۔
بالآخر قرۂ فعال عزیزم طاہر جاوید مغل کے نام نکلا، معراج صاحب اور ہم اس پر متفق تھے کہ طاہر جاوید اس کہانی کو اس کی حقیقی روح کے مطابق آگے بڑھاسکتے ہیں،وہ پنجاب کی معاشرت اور معاشرتی مسائل سے بھرپور آشنائی رکھتے ہیں، گھومنے پھرنے کے شوقین اور پاکستان سے باہر بھی آتے جاتے رہے ہیں مگر بھائی طاہر کے لاشعور میں شاید کوئی خوف موجود تھا لہٰذا وہ فوری طور پر کوئی وعدہ کرنے سے ہچکچا رہے تھے ،شاید ہم نے پہلے انھیں فون پر اطلاع دی اور وہ یہ اطلاع سن کر کچھ ہڑبڑا سے گئے کیوں کہ انھوں نے اس وقت تک گمراہ پڑھی بھی نہ تھی۔
بہر حال پروگرام یہ بنا کہ ہم خود لاہور جائیں اور مغل صاحب کے سرپر مسلط ہوجائیں، معراج صاحب نے لاہور کا ریٹرن ٹکٹ بنوادیا اور طے یہ ہوا کہ ہمارا قیام طاہر کے گھر پر ہی رہے گا، طاہر اس میزبانی کے لیے بہ خوشی تیار تھے۔
ہم نے لاہور کے سفر کو پہلا سفر اس لیے لکھا ہے کہ پورے ہوش و حواس میں یہ لاہور کا پہلا سفر تھا، اس سے پہلے جب ہماری عمر بارہ سال تھی تو ایک بار سیالکوٹ سے واپس آتے ہوئے ہم دو روز کے لیے لاہور گئے تھے اور لاہور کے مشہور یکی دروازے کے ایک فلیٹ میں قیام رہا،گویا اسٹیشن سے یکی دروازے گئے اور پھر یکی دروازے سے اسٹیشن چناں چہ پہلی بار ہم نے لاہور دیکھا ہی نہیں۔
اس بار جب پرانے لاہور ائرپورٹ پر پہنچے تو مغل صاحب موجود تھے ، وہ اپنی گاڑی میں ہمیں اپنے گھر لے گئے جو اسکیم موڑ کے قریب اقبال ٹاؤن میں تھا، لاہور آنے کا اولین مقصد تو مغل صاحب کو سلسلے وار کہانی لکھنے کے لیے تیار کرنا تھا لیکن لاہور کے بعض دیگر لکھاریوں سے بھی رابطہ کرنا پروگرام میں شامل تھا، ساتھ ہی انارکلی میں پرانی کتابوں کے بازار جانا بھی ضروری تھا، حضرت علی سفیان آفاقی بھی لاہور میں تھے اور بھائی ذاکر حسین بھی جو ٹائٹل بنایا کرتے تھے،اب یہ ساری ذمے داریاں طاہر جاوید مغل کے سر تھیں کہ وہ ہمیں جہاں بھی جانا ہو ، لے کر جائیں کیوں کہ ہماری مثال تو لاہور میں اس اندھے جیسی تھی جو کسی لاٹھی کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاسکتا تھا۔
پہلے ہی دن خاصی مرغن خوراک ہمارے سامنے آئی یعنی مرغ قورمہ وغیرہ، ہم کبھی بھی ایسی مرغن غذاؤں کے عادی نہیں رہے لہٰذا صاف صاف کہہ دیا کہ بھائی ہم تو دال سبزی کے شوقین ہیں لہٰذا آئندہ یہ تکلفات نہ کیے جائیں، گرمی کا زمانہ تھا ، شاید مئی کا مہینہ تھا لہٰذا ہم نے صبح ناشتے میں بھی لسّی کی فرمائش کی چناں چہ جب تک ہم وہاں رہے ناشتے میں لسّی ملتی رہی، مغل صاحب کی بیگم یعنی ہماری بھابھی روایتی کھانے بہت اچھے بناتی تھیں جس کا تجربہ ہمیں بعد تک ہوتا رہا خصوصاً ہماری ایک پسندیدہ ڈش سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی وہ بہت عمدہ بناتی تھیں، ان شاء اللہ برسوں بعد اب نومبر میں لاہور جائیں گے تو اس ساگ کا موسم ہوگا۔
طاہر کے لیے ہم گمراہ کا پورا سیٹ ساتھ لے گئے تھے تاکہ وہ اسے پڑھ کر اصل کہانی اور کرداروں کو سمجھ لیں لیکن وہ بہر حال یہ بڑا کام شروع کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ کا شکار تھے مگر پانچ دن میں ہم نے انھیں راضی کرلیا، ان کا حوصلہ بڑھایا اور یقین دلایا کہ آپ سے بہتر اس کہانی کو کوئی اور نہیں لکھ سکتا، اس طرح یہ مسئلہ تو حل ہوگیا ،

ذکر ِ ذاکر

 دوسرے روز ہم نے سب سے پہلے ذاکر صاحب کے اسٹوڈیو میں حاضری کا پروگرام بنایا اور پھر وہاں سے روزنامہ نوائے وقت کے دفتر میں آفاقی صاحب سے ملاقات کا ارادہ باندھا، طاہر ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھا کر روانہ ہوئے اور راستے بھر یہ بھی بتاتے رہے کہ یہ لاہور کا کون سا علاقہ ہے۔
ذاکر صاحب کا اسٹوڈیو لاہور میں کیپٹل سنیما کے اندر تھا، طاہر نے ہمیں کیپٹل سنیما کے سامنے اتاردیا کیوں کہ انھیں کوئی اور ضروری کام بھی تھا، ان سے یہ طے ہوا کہ ہم آفاقی صاحب کے دفتر ذاکر صاحب کی رہنمائی میں پہنچ جائیں گے اور پھر آپ ہمیں وہاں سے پک کرلیں۔
کیپٹل سنیما میں داخل ہونے کے بعد ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ذاکر جیسے عظیم آرٹسٹ کا اسٹوڈیو جو ہمارے خیال میں بڑا عالی شان ہونا چاہیے تھا ، کہاں ہوسکتا ہے کیوں کہ سنیما بند تھا ، صبح کے تقریباً دس بجے تھے اور سنیما کے دائیں طرف سے ایک راستہ اندر کی طرف جارہا تھا ، ہمیں بتایا گیا تھا کہ اسی راستے پر سیدھے اندر آجائیں تو دائیں ہاتھ پر اسٹوڈیو ہے، ہم چلتے چلتے سنیما کے عقب میں پہنچ گئے لیکن ہمیں ایسی کوئی چیز نظر نہ آئی جسے اسٹوڈیو کہا جاسکے ، اس زمانے میں موبائل فون کا رواج نہیں تھا ورنہ فوری طور پر ذاکر صاحب کو فون کرکے راستہ سمجھ لیتے ، بہر حال ہم ایک خستہ حال دو منزلہ مکان کے قریب پہنچ گئے جو سنیما کے عقب میں واقع تھا اور حیرت سے چاروں طرف دیکھ رہے تھے، اس اثنا میں ایک صاحب اس مکان کے زینے سے اترتے نظر آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کہ یہاں ذاکر آرٹسٹ کا اسٹوڈیو کہاں ہے تو انھوں نے کہا ’’اسی سیڑھی سے اوپر چلے جائیں‘‘ اور پھر مکان کی دوسری منزل کی طرف انگلی سے اشارہ کیا، ہم نے سر اٹھاکر اوپر دیکھا تو دوسری منزل پر پکی چھت نہیں تھی بلکہ ایسبسٹاس کی چادریں پڑی ہوئی تھی ، بہر حال ہم نے زینہ چڑھنا شروع کیا جو لکڑی کے تختوں کا بنا ہوا تھا، اوپر پہنچے تو ایک گیلری سے گزر کر اس ’’اسٹوڈیو‘‘ کے دروازے پر پہنچ گئے جس کی طرف رہنمائی کرنے والے نے انگلی سے اشارہ کیا تھا ، دروازہ کھلا ہوا تھا، اندر داخل ہوئے تو ایک لڑکا جو ذاکر صاحب کا بیٹا تھا ، ایک کرسی پر براجمان تھا ، ایک نظر میں یہ کمرہ کوئی کباڑ خانہ معلوم ہوتا تھا، ہم نے صاحب زادے سے پوچھا ’’ذاکر بھائی ہیں؟‘‘
اس نے اشارے سے دائیں طرف نظر آنے والے ایک چھوٹے سے دروازے کی طرف اشارہ کیا، ہم آگے بڑھے ،دروازے سے اندر جھانکا تو ذاکر صاحب تشریف فرما تھے لیکن ایک ایسے کمرے میں جس میں ان کے اور ان کی ٹیبل کے علاوہ صرف دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، ٹیبل کے قریب ہی ایک بینچ نما نشست گاہ تھی ، ذاکر بھائی ہمیں دیکھ کر کھڑے ہوگئے ، ٹیبل کے پیچھے سے نکل کر باہر آئے اور ہمیں گلے لگایا پھر اسی بینچ پر بٹھا دیا اور واپس اپنی کرسی پر براجمان ہوگئے۔
ہم ابھی تک حیرت کے سمندر سے نہیں نکلے تھے چناں چہ فوراً ہی پوچھ بیٹھے ’’ذاکر بھائی ! یہ آپ کہاں بیٹھے ہیں ؟کوئی ڈھنک کا اسٹوڈیو بنایا ہوتا، آپ کو تو کام کرتے ہوئے برسوں گزر گئے ہیں؟‘‘
ذاکر صاحب نے نہایت قلندرانہ شان سے جواب دیا ’’بھائی! سالوں سے یہیں بیٹھا ہوں اور لاہور میں اس سے بہتر پرسکون ماحول مجھے کہیں اور نہیں مل سکتا، باقی زیادہ ٹپ ٹاپ کا میں قائل نہیں ہوں‘‘
ذاکر حسین ان آرٹسٹوں میں سے ہیں جنھوں نے اپنے کرئر کا آغاز سب رنگ ڈائجسٹ سے کیا اور بعد میں لاہور چلے گئے کیوں کہ صرف سب رنگ کا کام کرکے گزارا نہیں ہوسکتا تھا ،لاہور میں ڈائجسٹوں کے ٹائٹل بنانے کے علاوہ انھیں فلموں کے پوسٹرز بنانے کا کام بھی ملا، پرانے دور میں فلموں کے بڑے بڑے پوسٹر چھاپ کر کسی بڑے فریم پر لگادیے جاتے تھے اور پھر علاقے کی مختلف دکانوں کے اوپر یا دیگر مقامات پر وہ پوسٹرز دیکھنے کو ملتے تھے،لاہور ہمیشہ سے پبلشنگ کا بڑا مرکز رہا ہے لہٰذا ذاکر صاحب کو کتابوں کے سرورق کا کام بھی باآسانی مل جاتا تھا اور ان کی زندگی آرام و سکون سے گزرتی تھی، کثیرالاولاد ہیں اور اس میں بھی بیٹیوں کی تعداد زیادہ ہے، بے حد محنتی اور مسلسل کام کرنے والے انسان۔
اگر آپ ذاکر صاحب سے ملیں تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ وہ کوئی آرٹسٹ ہیں، نہایت سادہ لباس یعنی شلوار قمیض میں ملبوس ، خوش مزاج ، فقرے باز، لطیفہ گو ، ہنسنے ہنسانے والے ، نہایت بے تکلف ان کے خانوادے کا تعلق دہلی سے ہے لہٰذا دہلی کی ٹکسالی زبان خوب جانتے ہیں لیکن برسوں لاہور میں رہنے کے بعد پنجابی پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں بلکہ ان کی اردو بات چیت میں بھی پنجابی لب و لہجہ چھلکتا ہے، خاص طور سے جب وہ دوستوں کی بے تکلف محفل میں بیٹھے ہوں تو پھر ان کی چھوڑی ہوئی پھلجڑیوں پر محفل میں قہقہے گونجتے ہیں،جب بھی کراچی آتے ، کوئی نہ کوئی دو چار نئے لطیفے ضرور سناتے۔
ہمیں ان سے جاسوسی سسپنس کے آنے والے ٹائٹلز کے حوالے سے بھی بات چیت کرنا تھی، انھوں نے بعض ٹائٹلز جو تیار شدہ تھے ہمیں دکھائے اس حوالے سے باہمی مشاورت ہوتی رہی اور جب کھانے کا وقت ہوا تو انھوں نے کہا کہ آج آپ کو لاہور کے گوال منڈی کی مشہور مچھلی کھلاتے ہیں، یہ سردار کی مچھلی کے نام سے مشہور تھی۔
ہم نے پوچھا ’’مشہور تو پھجّے کے پائے بھی ہیں، وہ کب کھلائیں گے؟‘‘
چہک کر بولے ’’جب کہو لیکن ابھی تو گرمی کا موسم ہے، پائے کھانے کا لطف تو سردیوں میں آتا ہے‘‘
ہم نے کہا کہ ’’مچھلی کھانے کا بھی یہ موسم نہیں ہے‘‘
کہنے لگے’’ مچھلی کھانے کا کوئی موسم نہیں ہوتا‘‘
بہر حال اس روز پہلی مرتبہ سردار کی مچھلی کا لطف اٹھایا جو بلاشبہ خاصے کی چیز تھی، ہم نے کہا کہ یہاں سے ہم کو آفاقی صاحب کی طرف جانا ہے، وہ تیار ہوگئے، کھانے سے فارغ ہوکر ہم کیپٹل سنیما سے باہر آئے اور سڑک پر آتی جاتی سواریوں پر نظر ڈالنے لگے مگر ذاکر صاحب پیدل ہی ایک طرف چل پڑے، ہم نے پوچھا ’’کیا نوائے وقت کا دفتر قریب ہے؟‘‘
بولے ’’ہاں، زیادہ دور نہیں ہے، آجاؤ‘‘
ہم ان کے ساتھ چل پڑے، یہ خاصا پرہجوم علاقہ ہے، ذاکر صاحب ہمیں مختلف سڑکوں اور گلیوں میں سے گھماتے ہوئے بالآخر نوائے وقت کے دفتر لے گئے، ہمارے حساب سے یہ فاصلہ کافی زیادہ تھا ، ہم کوئی رکشا ٹیکسی ضرور کرتے، اگر اکیلے ہوتے مگر بعد کے تجربات سے بھی معلوم ہوا کہ ذاکر صاحب کو لاہور میں پیدل مارچ کرنے کا خصوصی شوق ہے، آئندہ بھی جب ہم لاہور گئے اور ذاکر صاحب سے فرمائش کی کہ فلاں جگہ جانا ہے تو انھوں نے یہی کہہ کر کہ قریب ہی ہے، ہمیں پیدل ہی مارچ کرائی۔
ایک بار ہم لاہور گئے تو اختر حسین شیخ صاحب کے گھر پر ، ان کی ضد کی وجہ سے قیام کیا، ہماری عادت تھی کہ واپسی پر لاہور کی کوئی خاص اور مشہور چیز ضرور لے کر آتے تھے ، طاہر جاوید مغل لاہور کے پتیسے کو بہت پسند کرتے تھے لہٰذا ہم نرالا سویٹ کا پتیسا ضرور لاتے لیکن شیخ صاحب پرانے لاہور کو جتنا جانتے تھے شاید ان کے بعد اتنی واقفیت صرف آفاقی صاحب ہی کو تھی، انھوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ نے کبھی ’’لال کھو کی برفی‘‘ کھائی ہے؟‘‘
ہم نے انکار میں سر ہلایا تو شیخ صاحب نے لال کھو کی برفی اور اس برفی بنانے والے کی پوری تاریخ بیان کردی،وہ تقسیم ہند سے قبل سے اپنی برفی کے لیے مشہور تھا اور ہم سے اصرار کیا کہ اس بار آپ لال کھو کی برفی ضرور گھر لے کر جائیں چناں چہ ہم نے ذاکر بھائی سے کہا کہ لال کھو کی برفی لینی ہے، ذاکر صاحب تیار ہوگئے اور ہمیں ساتھ لے کر حسب معمول کیپٹل سنیما سے لال کھو کی طرف مارچ شروع کردیا ، ہم نے بھی روایت کے مطابق یہ ضرور پوچھا ’’ کیا قریب ہی ہے؟ اور حسب معمول ہمیں جواب ملا ’’تھوڑا دور ضرور ہے مگر جوان آدمی ہو، پیدل چلا کرو، اس طرح صحت اچھی رہتی ہے‘‘
ہم باتیں کرتے ہوئے چلے جارہے تھے اور لال کھو کا دور دور تک پتا نہ تھا، بالآخر ایک ایسی گلی میں داخل ہوئے جو زیادہ کشادہ نہ تھی اور اس میں بارات میں بجائے جانے والے بینڈز کی دکانیں تھیں، ہر دکان پر رنگ برنگی وردیاں اور مختلف قسم کے باجے نظر آرہے تھے، ہم نے ذاکر صاحب سے پوچھا ’’یار! آپ ہمیں برفی دلانے لائے ہو یا ہماری شادی کے لیے کوئی بینڈ بک کرانا ہے؟‘‘
ذاکر صاحب نے ہمارے سوال کو نظر انداز کرکے اس گلی کے مشہور بارات بینڈز کے بارے میں تفصیلات بیان کرنا شروع کردیں،بہر حال خدا خدا کرکے ایک حلوائی کی دکان تک پہنچے جہاں لال تو کیا کوئی کالا پیلا یا سفیدکنواں بھی نہیں تھا۔
ہم نے پوچھا ’’لال کھو کہاں ہے؟‘‘
ذاکر بولے ’’او یہیں کہیں ہوگا، تمھیں کیا لال کھو کا پانی پینا ہے‘‘
وہاں سے برفی لی اور پھر واپسی ہوئی، راستے بھر ہم ذاکر صاحب سے یہی اطمینان حاصل کرتے رہے کہ یہ لال کھو کی مشہور برفی ہے یا آپ ہمیں کسی غلط جگہ پر لے گئے تھے لیکن ہماری اس بدگمانی پر وہ ذرا بھی ناراض نہ ہوئے بلکہ ایک قہقہ لگایا اور کہا ’’گھر جاکر کھاؤگے تو پتا چلے گا کہ یہ کیا چیز ہے‘‘
آفاقی صاحب کے حضور
علی سفیان آفاقی صاحب سے ان کے دفتر میں پہلی بار ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وہ اپنے دفتر میں بھی اپنے مخصوص اصول و قواعد کے پابند ہیں، دفتر کے باہر ہی دروازے پر ایک چھوٹی سی تختی لگی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا ’’وقتِ ملاقات دوپہر ایک بجے کے بعد‘‘
ہم نے پوچھا کہ یہ پابندی کیوں ہے؟ تو جواب ملا ’’میاں ہم کام کرتے ہیں، آپ کی طرح سارا دن بیٹھ کر آنے جانے والوں سے گپ نہیں لڑاتے‘‘
ہم نے عرض کیا ’’ہمارے پاس آنے جانے والے بھی دفتری کام کے سلسلے میں ہی آتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ اپنے فالتو وقت میں دوسروں کا قیمتی وقت ضائع کرنے کے شوقین ہوتے ہیں تو ایسے لوگوں کا علاج بھی ہم جانتے ہیں اور انھیں زیادہ دیر بیٹھنے کا موقع نہیں دیتے‘‘
آفاقی صاحب نے بتایا کہ میں صبح ٹھیک 9 بجے دفتر آجاتا ہوں اور اس کے بعد لکھنے پڑھنے کا کام دوپہر کے کھانے سے پہلے ختم کرلیتا ہوں پھر کھانا کھانے کے بعد جو بھی ملنے آئے ، خوش آمدید‘‘
دوسرے روز ہم پھر ذاکر صاحب کے ’’اسٹوڈیو‘‘ پہنچ گئے ، آج دوپہر کے کھانے کا پروگرام آفاقی صاحب کے ساتھ ان کے دفتر میں تھا ، ذاکر صاحب کی مصروفیت کچھ خصوصی نوعیت کی تھی، چناں چہ ہم تقریباً بارہ بجے ایک رکشا پکڑکر نوائے وقت کے دفتر پہنچے تو آفاقی صاحب نے ہماری غیر وقت آمد پر کوئی اعتراض نہ کیا کیوں کہ یہ وقت ان کا ہی دیا ہوا تھا، کھانے کا وقت ہوا تو دفتر ہی میں ان کی ایک معاون لڑکی نے کھانا سرو کیا، ہم نے دیکھا کہ وہ آفاقی صاحب کا اس طرح احترام کر رہی تھی جیسے کوئی بیٹی کرسکتی ہے، اُس روز ہم شام پانچ بجے تک آفاقی صاحب کے دفتر ہی میں بیٹھے رہے اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، اسی دوران میں ایک عجیب واقعہ ہوا جو ہمارے لیے بڑی حیرت کا باعث اور آفاقی صاحب کی ایک خاص صفت سے آشنائی کا سبب بنا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 27۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. سید عارف مصطفیٰ

    آپکی تحریر میں اک عجب طرح کی جاذبیت ہے جو پورا مضمون پڑھنے سے پہلے اٹھنے نہیں دیتی ، بلاشبہ کہانی کاری اور رپورتاژ کا مرقع ہے۔۔۔ چونکہ سرگزشت میں ہر شعبہء زندگی کے متفرق مشاہیر کی زندگی کے حقائق پہ مبنی تحریروں نے بہت سی معلومات اور دلچسپ و عجیب گوشے آشکار کیئے تھے چنانچہ یہ عین مناسب ہوگا کہ 3-4 اقساط صرف ایسی چنیدہ معلومات و انکشافات کے خلاصے پہ مشتمل ہوں یا جستہ جستہ انہیں شامل کیا جاتا رہے ،جس سے اس تحریر کی افادیت بہت بڑھ جائے گی کیونکہ اب کسی کے پاس اتنا وقت کہاں کے وہ سرگزشت کے پرانے شماروں تک رسائی حاصل کرسکے اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں صفحات سے ایسی چیزیں کھوج پائے۔۔۔ آپکا یہ عمل پڑھنے والوں کے لیئے خصوصی خوان نعمت سے کم ہرگز شمار نہیں کیا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے