سر ورق / کہانی / انتہا۔۔ مہتاب خان

انتہا۔۔ مہتاب خان

انتہا 


پہلا حصہ

محبت جب انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو دیوانگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے اس منزل پر پہنچ کر انسان انسان نہیں رہتا بلکہ کوئی اور روپ اختیار کر لیتا ہے 

الیکٹرونک میڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک خوبصورت خاتون صحافی کی روداد اس کا شوہر اسے دیوانگی کی حد تک چاہتا تھا-

                 رامین فواد اس ملک کے سب سے بڑے نیوز چینل کی مشہور و معروف اینکر تھی- یہ بجا طور پر اس کی زندگی کا شاندار دور تھا- کامیابیاں اس کی چشم براہ تھیں ان گنت آنکھیں اور دل اس کی راہ میں بچھے رہتے تھے وہ جہاں جاتی محفلوں کی جان قرار پاتی تھی -تقریبات اس کی آمد کے ساتھ ہی اہمیت اختیار کر جاتیں تھیں – شخصیت کا ظاہری حسن وقت گزرنے کے ساتھ گھٹنے کے بجائے بڑھتا چلا جا رہا تھا- خود کو ثابت کرنے کا جنون اسے پہلے بھی تھا مگر اب وہ ایک ضد  کی شکل اختیار کر گیا تھا- اس کے ذہنی اور جسمانی معمولات ایسے تھے کہ اسے ذرا فرصت نہیں ملتی تھی البتہ دل وہیں کا وہیں تھا اسی دشمن جاں کے قبضے میں-

                 اس کی ضد اور وفاداری کا بھی عجیب عالم تھا -رنجش اور محبت اپنی جگہ جوں کی توں قائم تھی- فواد کو وہ آج بھی اتنا ہی چاہتی تھی جتنا تین سال پہلے-اس جزوی علیحدگی کے دور میں اگرچہ کئی  مردوں نے اس کے قریب آنے کی بہتری کوششیں کیں لیکن اس کے پتھر دل پر تو گویا اسی کی مہر لگی ہوئی تھی وہ نہ جانے کس امید سے بندھی تھی- کام سے رامین کی کمٹمنٹ نے جس شخص کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا تھا وہ داؤد پراچہ تھا- اس پرائیویٹ نیوز چینل کا مالک- اشتہارات کی بھرمار اپنی جگہ مگر اس کے ٹاک شوز نیوز بلیٹن اور اسی نوعیت کے دیگر پروگرامز کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو مشہور یا بدنام کرنے کی قدرت رکھتے تھے- رامین کا ٹاک شو اس وقت ملک کے طول  و عرض کا سب سے مشہور شو تھا- کمال شیرازی اس شو کا پروڈیوسر تھا وہ اور اس کی ٹیم کی پیدا کردہ نت نی تبدیلیوں کی بدولت یہ شو اس وقت ریٹنگ میں سب سے آگے تھا  غرض بے تحاشہ آمدنی اور بے پناہ اثر و رسوخ وہ جادو تھا جو داؤد پراچہ کے سر چڑھ کر بول رہا تھا-

               صبح کے دس بجے تھے وہ دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی-اسی وقت اس کے موبائل کی گھنٹی بجی تھی- اس نے فون ریسیو کیا دوسری طرف ارسلان تھا-

               ” رامین تم کہاں ہو؟”

               ” میں آفس کے لیے نکل رہی ہوں خیریت؟”

               ” خیریت نہیں ہے تم جلدی آفس پہنچو کمال شیرازی نے خودکشی کر لی ہے-"

               ” کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ "رامین چلائی یہ جھٹکا اس کے لیے بڑا شدید تھا- ” تمہیں پتا ہے کمال خودکشی نہیں کر سکتا-"

               ” ہاں  مجھے پتا ہے بہرحال تم جلدی آفس پہنچو- پولیس انویسٹیگیشن کے لیے یہاں بھی آئے گی- باس اس سسلے میں اسٹاف کو کچھ ہدایات دینا چاہتے ہیں-"

              ” اوکے میں آ رہی ہوں-” اس نے کار کی چابیاں اٹھائیں اور تیزی سے باہر نکل آئ – پھر اسے کچھ پتا نہیں کہ وہ کس طرح ڈرائیو کر کے آفس پہنچی تھی- یہ صدمہ اس کے لیے بڑا جانکاہ تھا- کمال شیرازی اس کے شو کا ایک نہایت ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال پروڈیوسر تھا- گو کہ کمال کی ذاتی زندگی المیوں سے دو چار تھی اور کچھ عرصے سے وہ ذہنی طور پر بہت پریشان تھا مگر وہ مثبت سوچ کا حا مل  انسان تھا اس سے خودکشی جیسے اقدام کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی- وہ آفس پہنچی تو ہر طرف کھلبلی سی مچی ہوئی تھی- داؤد پراچہ نے اسٹاف کے چیدہ چیدہ افراد کو اپنے روم میں طلب کیا ہوا تھااسے اپنے درمیان دیکھتے ہی خاص طور پر خواتین اسٹاف میں کھسر پھسر شروع ہو گئی- وہ کافی دنوں سے اپنے ساتھیوں کے رویے میں پیدا ہونے والی اس تبدیلی کو محسوس کر رہی تھی-

              ” سب لوگ آ گئے ؟” داؤد پراچہ کی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی-

              ” جی سر -” ارسلان نے کہا

              انہوں نے کھنکار کر گلا صاف کیا پھر گویا ہوئے ” کمال شیرازی ہمارے چینل کا ایک اہم اور ٹیلنٹڈ پروڈیوسر تھا- اس کی کمی ہمیں ہمیشہ محسوس ہو گی- بہرحال یہ بھی سچ ہے کہ وہ پچھلے کئی  ماہ سے کچھ پریشان تھا اس کی خودکشی کی خبر کو لے کر ہمارے مخالفین اس کو خوب اچھالیں گے اور بریکنگ نیوز بنا کر تہلکہ مچانے کا یہ موقع ضائع نہیں کرے گےلیکن آپ لوگوں کو میری ہدایت ہے کہ ہمیں اس خبر کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ اس کی اہمیت کم سے کم ہو جائے- آپ سب کا تعاون ہمارے ادارے کو بدنامی سے بچا سکتا ہے اور انفرادی طور پر پولیس اگر آپ لوگوں سے پوچھے تو یہی بتانا ہے کہ کمال ذہنی طور پر پریشان تھا-"

             ” لیکن سر ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ وہ ایسا شخص نہیں تھا کہ خودکشی کر سکتا- یہ سراسر قتل ہے-” رامین سے برداشت نہیں ہوا تو وہ بول پڑی –

              ” ہمیں ادارے کو مشکلات اور بدنامی سے بچانا ہے یہ پولیس کا کام ہے کہ وہ پتا لگائے کہ یہ قتل ہے یا خودکشی اور رامین کبھی کبھی گھریلو تنازعات ایسی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں کہ انسان کو موت کی وادیوں میں ہی پناہ ملتی ہے-” وہ معنی خیز لہجہ میں رامین سے مخاطب تھا- ” بس مجھے یہی کہنا تھا اب آپ لوگ جا سکتے ہیں-"

             کمال کی چند ماہ پہلے اپنی بیوی سے سیپرشن ہو گئی تھی- ان کے دو بیٹے تھے جن کی عمر بالترتیب گیارہ اور تیرہ سال تھیں- دونوں بچے اس کی بیوی کے پاس تھے- ان دونوں کی کسٹڈی کے لیے کمال نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہوا تھا- ان دنوں کمال کلفٹن کے علاقے میں وقع ایک فلیٹ میں تنہا رہائش پزیر تھا- صبح آٹھ بجے حسب معمول اس کی ملازمہ جب فلیٹ پر پہنچی تو بیرونی دروازہ کھلا  ہوا تھا وہ اندر گئی تو وہاں کوئی نہیں تھا- وہ کمال کے بیڈ روم میں پہنچی تو وہاں اسے کمال کی لاش چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی- اس نے فوری طور پر پڑوسیوں سے مدد طلب کی تھی یوں پولیس  نے موقع پر پہنچ کر انویسٹتی گیشن شروع کر دی تھی-

             رامین اپنے روم میں آ گئی تھی اور ریوالونگ چیئر پر سر تھامے بیٹھی تھی- اسے کسی طرح یقین نہیں آ رہا تھا کہ کمال اب اس دنیا میں نہیں ہے- اس سے وابستہ ایک ایک یاد اس کے ذہن کے پردے پر فلم کی طرح چل رہی تھی- وہ اور کمال اپنی ٹیم کے ساتھ چند ہفتے پیشتر اپنے شو کی ریکارڈنگ کے لیے اسلام آباد گئے تھے- اسلام آباد سے آنے کے بعد دفتر  میں اس کا پہلا دن تھا- اس کی عدم موجودگی میں داؤد پراچہ نے اس کے روم کی از سر نو تزیین و آرائش کروائی تھی- اس نے تنقیدی نظروں سے اپنے روم کا جائزہ لیا تھااور ستائشی نظروں سے ان تبدیلیوں کو دیکھا تھا-

            ” خوش آمدید محترمہ مبارک ہو آپ کو آپ کا روم بھی آپ کی طرح ترقی کر رہا ہے-” ارسلان احمد اندر آتے ہوئے بولا تھا-

            ارسلان ایڈیٹنگ کے شعبے کا انچارج تھا اور اپنی فیلڈ کا جینئیس تھا- بلا کا منہ پھٹ مگر اس کا دل اتنا ہی صاف اور کھرا تھا اگرچہ اسے چینل جوائن کیے ہوئے زیادہ عرصہ  نہیں ہوا تھا مگر اپنی بے تکلفانہ فطرت کی وجہ سے وہ ادارے میں سب کا چہیتا تھا اور رامین سے تو اس کی گاڑھی چھنتی تھی- اس نے کرسی کھینچی اور بیٹھنے کے بعد اپنے مخصوص پر مزاح انداز میں بولا-

          ” کیا میں بیٹھ سکتا ہوں؟”

          ” تم کب سے اجازت طلب کرنے لگے-"

          ” یہ بتاؤ اسلام آباد یاترا کسی رہی؟” ارسلان قدرے سنجیدگی سے بولا-

          ” شاندار-” وہ فخریہ انداز میں بولی”تم دیکھنا ہمارے آئندہ آنے والے شوز ریٹنگ میں سب پر بازی لے جائیں  گے- "

          ” ہاں بھئی باس نے لاکھوں کچھ دیکھ کر ہی لگائے ہیں-” وہ شرارت سے ہنستے ہوئے بولا- واقعی حسن کبھی  گھاٹے میں نہیں رہتا اسے تو عقل بھی درکار نہیں ہوتی-"

          ” میری محنت کا الزام حسن کو تو نہ دو-” رامین نے ہنستے ہوئے کہا پھر کچھ توقف کے بعد اس نے پوچھا- ” یہ بتاؤ کیا پیو گے؟” پھر وہ اس کا جواب سنے بغیر انٹرکام پر کچھ ہدایتیں دینے لگی-

          کچھ ہی دیر میں پیون چائے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا-

         ” میں اس وقت تم سے بہت اہم بات کرنے آیا تھا-” ملازم کے جاتے ہی وہ بولا-

         ” ہاں  بولو-” چائے کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا –

          ” تمہارے اور کمال شیرازی کے بارے میں اسٹاف میں بڑی چہ مگویاں ہو رہی ہیں پتا چلا ہے کہ کمال اور اس کی وائف کی سپریشن کی وجہ بھی تمہاری کمال سے دوستی ہے-"

           رامین کو جیسے سانپ سونگھ گیا وہ اس کی ہلکی براؤں آنکھوں میں دیکھنے لگی کچھ دیر وہاں گہرا سکوت چھایا رہا رامین کے ہونٹ اچانک سختی سے بھینچ گئے – وہ کاٹ دار لہجہ میں بولی-

           ” میرے پاس ان فضول باتوں پر توجہ دینے کی فرصت ہے نہ ضرورت اور تم مجھے اچھی طرح جانتے ہو اور کمال کو بھی-"

           ” میں تم دونوں کو غلط کب کہ رہا ہوں میں تو صرف یہ سمجھانا چاہ  رہا ہوں کے محتاط  رہو- ویسے بھی آنٹی کے انتقال کے بعد تم بالکل تنہا رہ گئی ہواور تنہا عورت پر بہتان لگانا لوگوں کے لیے کتنا آسان ہے تمہیں بخوبی اندازہ ہو گا-

           کچھ عرصے سے اسے بھی دفتر میں کسی ناپسندیدہ تبدیلی کا احساس ہوا تھا-اسے دیکھ کر اسٹاف آپس میں سرگوشیاں کرنے لگتا اور اسے قریب دیکھ کر بات کرتے کرتے وہ ایک دم خاموش ہو جاتے تاہم وہ پریشان نہیں تھی- اس کی مصروفیات اسے گرد و پیش کے بارے میں سوچنے کی مہلت ہی نہیں دیتی تھیں- پھر وہ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے اسی وقت رامین کے انٹرکام پر بیل ہوئی-

           ” جی اوکے میں آ رہی ہوں-‘ اس نے دوسری طرف کی بات سننے کے بعد کہا تھا- ” کمال صاحب اپنے روم میں بلا رہے  ہیں کچھ ڈسکشن کرنی ہے-” وہ اٹھ کھڑی ہوئی-ارسلان بھی ٹھنڈی سانس لے کر اس کے پیچھے روم سے نکل گیا-

           وہ اور کمال باتوں میں اس قدر محو تھے کہ انہیں وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا- باہر رات گہری ہو گئی تھ-آفس کا تمام اسٹاف جا چکا تھا- رامین کی نظر اچانک وال کلاک پر گئی تو وہ چونکی اس نے اٹھتے ہوئے کہا-

           ” کافی دیر ہو گئی میں اب چلتی ہوں-"

           کمال بھی اٹھتا ہوا بولا  ” چلو میں بھی چلتا ہوں -” وہ دروازے کی سمت بڑھا  اسی وقت رامین کا پاؤں راستے میں پڑی ہوئی کرسی سے الجھا اور وہ ڈگمگا گئی اس سے پہلے کے وہ زمیں پر گر پڑتی کمال نے آگے پڑھ کے اسے تھام لیا –

            عیین اسی وقت دروازہ کھلا  سامنے داؤد پراچہ کھڑا تھا-

              ” ارے تم دونوں ابھی تک ………..”

ان دونوں کو اس حالت میں دیکھنا داؤد پراچہ کے لیے اچنبھے کا باعث تھا رامین نے تیزی سے خود کو سنبھالا کمال بھی خجل سا نظر آ رہا تھا- جو کچھ اسکی آنکھوں نے دیکھا تھا اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا-اسے ان تمام افواہوں پریقین

      آ گیا تھا –  جو وقتاً فوقتاً اس نے سنیں تھیں- بڑی پارسا بنتی تھی ہونہہ -” اس نے سوچا تھا اور جب سے وہ پیچ و تاب کھا رہا تھا اسے کسی پل قرار نہیں تھا-

           اگلی صبح وہ اٹھی تو اس کا ذہن خلاف معمول ہلکا تھا- غسل کے بعد اس نے جم کر ناشتہ کیا اور پھر خاصی دیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنی نوک پلک درست کرتی رہی کار میں بیٹھتے وقت اس کی سج دھج قابل دید تھی – چہرے پر کامیاب اور پر آسائش زندگی کی دلکش چمک تھی اور آنکھوں میں وہی للکار جو اس کی شخصیت کا خاصہ تھی-

            اس نے گاڑی متوازن رفتار سے روڈ پر ڈال دی اس کا رخ چینل کی جانب تھا- وہ آفس پہنچی تو سیکریٹری نے بتایا کہ منان حسین کافی دیر سے اس کا انتظار کر رہے  ہیں- رامین کو دیکھ کر پہلے وہ خوش ہوا پھر ایک دم رنجیدہ ہو گیا-

          ” بی بی صاحبہ آپ-” اس کی آواز ٹوٹنے لگی اور آنکھوں کے کنارے آن  کی آن  میں نم ہو گئے –

          ” کیسے ہیں منان حسین ؟” رامین کا دل بھی دکھنے لگا- تاہم جلد ہی اس نے خود پر قابو پا لیا –

          ” زندہ ہوں آپ کی دعا سے-” منان سر جھکاتے ہوئے بولا-

          ” اور تمھارے صاحب کیسے ہیں؟”

          ” بس کیا پوچھتی ہیں ان کا حال تو ہم سے دیکھا نہیں جاتا-” منان نے دکھ بھرے لہجہ میں کہا –

          ” آئیں میرے کمرے میں-” منان مؤدب انداز میں اس کے پیچھے چل دیا- رامین  اسے اپنے کمرے میں لے آئ –

         ” بیٹھیں ” اس نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا – "بڑے دن بعد آپ کو میری یاد آئ آپ اور آپ کے صاحب تو شاید مجھے بھول ہی گئے-"

         "یہ کیا بول رہی ہیں بی بی صاحبہ آپ -” وہ گھائل لہجہ میں بولا- ” بھلا کون بھلا سکتا ہے آپ کو اور صاحب کا حال تو مجھ سے دیکھا نہیں جاتا- دفتر جانا چھوڑ چکے ہیں سارا دن اپنے کمرے میں بند بیٹھے رہتے ہیں دن رات بس نشے میں-……… میں تو جانوں صاحب کو غصّہ ہے کسی بات پر -"

          ” اچھا-” رامین پر سوچ انداز میں بولی تھی- ” آپ خیال رکھا کریں ان کا-"

          ” ان کا خیال نہ ہوتا تو یہاں نہ آتا- آپ کے علاوہ انہیں کوئی نہ سمجھا سکے ہے-"

          ” میں بھلا کون ہوتی ہوں؟”

          ” دل چھید نے والی باتیں مت کریں -” منان درد بھرے لہجے میں بولا- "اپنی بٹیا جانتے ہیں آپ کو تو بول رہے  ہیں ورنہ نا یہ اوقات ہے ہماری نہ ہی آپ کو اعتبار آئے گا نوکر ہیں آپ کے -"

          ” غلط نہیں کہ رہی بابا-” رامین نے بڑی رسانیت سے اسے مخاطب  کیا-

          ” آپ کے صاحب نے مجھے گھر سے نکال دیا- مجھ سے ہر ناتہ توڑ لیا- تو کس منہ سے انہیں منانے جاؤں -"

          "میں تو یہ مانوں کے تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے-"

          ” بابا آپ نہیں سمجھیں گے-"

          ” پیاری بٹیا-” منان پدرانہ شفقت سے بولا-"جنے کتی میرے صاحب پر مرتی تھیں اور کب سے پر قسم ہے الله پاک کی صاحب جتی محبت آپ سے کرتے ہیں دیکھنے میں نہیں آئ آج تلک – یہ معمولی بات نہیں ہے بٹیا اور چشم فلک کے آگے تو خیر ہر آنکھ اندھی پڑ جاوے ہے مگر آپ کی دعا سے اس بڈھے نے کم رنگ نہیں دیکھے دنیا کے- آدھی زندگانی کوٹھوں پر بتائی ہے اور کوٹھے بھی اگلے وقتوں کے جدھر جینے کے قرینے ہی نہیں مرنے کی ادا بھی سکھلائی جاوے تھی- آنکھ بند کر کے یقین ماں لیجیئے صاحب آپ کے بغیر جی نہیں پائیں گے- میں کوئی عدالتی گواہی نہیں دے رہا آنکھوں دیکھی بول رہا ہوں–” وہ باقاعدہ رونے لگا-

           ” مجھے پتا ہے بابا-” وہ منان کا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولی- ” بس یونہی آپ کو چھیڑ رہی تھی………آپ کو فواد نے بھیجا ہے؟”

          "نہیں جی میں خود آیا ہوں ان کو تو پتا بھی نہ چلے کے میں ادھر آیا تھا- ان ہاتھوں نے انہیں پروان چڑھایا ہے جیسے وہ میرے لیے ہیں ویسے میں آپ کو بھی جانتا ہوں-” منان آنسو پونچھتا  ہوا بولا-” میرے منہ میں خاک خدانخواستہ بات نہ بنی تو آپ دونوں کسی اور کے ہونے کے نہیں- ایسے نایاب پھولوں کا بکھرنا کس سے برداشت ہووے گا- میں تو کہوں جلدی سے کچھ کر لیجیے ورنہ صاحب ……………… ٹھیک ہے بٹیا اب میں چلتا ہوں-” کچھ دیر بعد انہوں نے کہا  اور  وہ اٹھے اور اسے گہری سوچوں میں چھوڑ کر باہر نکل گئے-

          داؤد پراچہ اپنے روم میں بیٹھا تھا- اس نے ہاتھ میں تھامے گلاس کا باقی ماندہ سنہرا سیال حلق میں انڈیلا کمرے کی خنک فضا نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا- اس کے ذہن میں سابقہ شکاروں کی گنتی شروع ہو چکی تھی- وہ ادارے کی ہر قابل ذکر لڑکی پر ہاتھ صاف کر چکا تھا تاہم رامین وہ واحد چوٹی تھی جسے وہ شدید خواھش کے باوجود سر نہیں کر پایا تھا- شروع شروع میں وہ اس خوف سے اس پر ہاتھ نہیں ڈال پایا تھا کہ کہیں وہ ادارہ چھوڑ کر نہ چلی جائے بڑے  عرصے بعد اسے اتنی خوبصورت اور ذہین اینکر ملی تھی- پھر اس نے شادی کر لی اور وہ بھی انتہائی طاقتور اور مشہور و معروف فیملی میں تاہم کچھ ہی عرصہ  بعد اس کی علیحد گی ہو گئی تھی ممکن ہے جلد مکمل سپریشن بھی ہو جاتی- وہ اسی وقت کا انتظار کر رہا تھا لیکن کل جو کچھ اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا اس نے اسے انتہائی مشتعل کر دیا تھا -اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا- اس کا منصوبہ ساز ذہن کئی  منصوبے بناتا اور رد کرتا رہا- اس نے اپنا سر ریوالونگ چیئر کی پشت سے لگا دیا تھا – اس کی موٹی موٹی مخمور آنکھیں بند تھیں-

         شام تک وہ اسی ادھیڑ بن میں رہی کہ فواد کو فون کرے یا نہ  کرے آخر اس نے فواد کا نمبر ڈائل کیا- دوسری طرف گھنٹی بج رہی تھی-

         ” ہیلو -” فواد کی بھا ری  آواز گونجی تو بے اختیار اس کا دل دھڑکا کچھ توقف کے بعد اس نے آہستگی سے کہا –

         ” ہیلو فواد میں رامین-"

         ” کیوں فون کیا ہے تم نے؟” وہ تیزی سے بولا-

         رامین نے گہری سانس لی اور قدرے جھجھکتے ہوئے بولی-

         ” کیسے ہو تم؟”

         ” تمہاری بلا سے تمہیں اس سے کیا دلچسپی کہ میں کیسا ہوں تین سال بعد تم پوچھ رہی ہو کہ میں کیسا ہوں؟ اور مجھ پر کیا گزر رہی ہے؟”

         ” تم نے بھی تو اس دوران کوئی رابطہ نہیں رکھا-"

         ” خیر یہ بتاؤ کہ فون کیوں کیا ہے تم نے ……….. مجھے منانے کے لیے؟”

         ” روٹھنے منانے کا دور پیچھے رہ گیا ہے فواد اب زندگی ہم سے زیادہ ظرف اور زیادہ سنجید گی کی متقاضی ہے- تم خود کو کیوں تباہ کر رہے  ہو کیا ثابت کرنا چاہتے ہو تم؟”

        ” تم نے مجھے کچھ بھی ثابت کرنے سے بے نیاز کر دیا ہے-” کچھ دیر دونوں طرف خاموشی چی رہی بلآخر وہ بولا-

        ” جس انتہا تک تم پہنچنا چاہتی ہو تم پہنچ گئیں؟ ……… تنہا کھڑی ہو نہ وہاں ………ہاہاہاہا ……….کوئی ستائش کرنے والا بھی نہیں ………..اپنے سوا تمہیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا ہو گا ………. ہاہاہا -” وہ ہذیانی انداز میں قہقہے لگا رہا تھا رامین کو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا-

         ” تمہارے خیالات آج بھی ویسے ہی ہیں- کوئی فائدہ نہیں-” وہ برہم لہجے میں بولی-  اتنی ہی بری ہوں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے- دے دو طلاق-"

         ” ہرگز نہیں کان کھول کر سن لو میں تمہیں کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتا- تمہیں واپس آنا ہوگا- ہر قیمت پر……..تم…..” وہ نہ جانے کیا کچھ کہتا رہا مگر رامین فون بند کر چکی تھی-

         ” یہ چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑی ہوئی ہیں-” اسی وقت ارسلان اس کے روم میں داخل ہوتے ہوئے بولا- "اور تم ابھی تک بیٹھی ہو ملک صاحب کے گھر پارٹی میں نہیں جانا کیا؟”

         ” اوہ میں بھول گئی تھی تم چلو میں آتی ہوں-"

         پورا دن وہ اتنے جذباتی صدموں سے دوچار رہی تھی کہ بالکل بھلا بیٹھی تھی کہ شام میں اسے ملک امتیاز کی پارٹی میں جانا ہے- ملک امتیاز ایک نامی گرامی سیاسی لیڈر تھا- یہ پارٹی اس نے الیکشن جیتنے کی خوشی میں دی تھی- داؤد پراچہ اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ دوست تھا- الیکشن کمپین میں داؤد پراچہ کے چینل نے اس کا بھر پور ساتھ دیا تھا- یہی وجہ تھی جو ملک امتیاز نے چینل کے چند اہم افراد کو بھی مدعو کیا ہوا تھا- ان میں رامین، کمال شیرازی اور ارسلان بھی  شامل تھے- ملک امتیاز اور داؤد پراچہ ایک میز کے گرد بیٹھے مشروبات سے لطف اندوز ہو رہی تھے کچھ ہی فاصلے پر لان کے نیم تاریک گوشے میں کمال شیرازی اور رامین کھڑے باتیں کر رہی تھے- داؤد ایک ٹک رامین کو گھور رہا تھا- ملک امتیاز نے اس کی نظروں کے تعاقب میں رامین کو دیکھا جو انتہائی حسین لگ رہی تھی-وہ مسکرایا اس نے داؤد کی خلاف معمول خاموشی کو محسوس کر لیا تھا- اسی وقت کمال کی کسی بات پر رامین کھلکھلا کر ہنسی تھی-

         ” یہ شادی نہیں ہو سکتی- میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا-"

         ” کیا بڑبڑا رہے ہو کیسی شادی کس کی شادی ؟” ملک امتیاز نے حیران نظروں سے اس کی طرف دیکھا-

         ” رامین اور کمال کی شادی-"

         ” کیا؟” ملک حیرت زدہ لہجے میں بولا-  ” رامین کی طلاق ہو گئی؟”

         ” نہیں لیکن شاید ہونے والی ہے میں نے اڑتی اڑتی خبریں سنی ہیں-"

         ” ویسے یہ بات ماننی پڑے گی رامین کے معاملے میں تم بڑے بھوندو ثابت ہوئے ہو- تمہاری جگہ میں ہوتا تو کب کا………”

         ” میں فواد سے اس کی علیحدگی کا انتظار کر رہا تھا- لیکن……….”

         ” رہنے دو یار اتنے عرصے میں تم کچھ نہیں کر پائے اور مجھے بھی اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہے -” وہ شکایتی لہجے میں بولا- ” جب وہ فواد سے ناراض ہو کر آئ تھی تب تمہیں جال پھینک دینا چاہئے تھا لیکن اب تو مچھلی کسی اور کے کانٹے میں پھنس چکی ہے-” اس نے کمال کو دیکھتے ہوئے کہا –

         ” جو اڑنا  سکھاتے ہیں وہ پر کترنا بھی جا ننتے ہیں-” داؤد نے زہر خند سے کہا –

         ” تم سے کچھ نہیں ہونے والا مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا-” ملک امتیاز جیسے کچھ ٹھان چکا تھا-

         اور پھر اگلی صبح کمال شیرازی اپنے بیڈ  روم میں مردہ پایا گیا تھا-اگرچہ قاتل  نے کمل کی موت کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس کی انویسٹی گیشن سے یہ بات ثابت ہو گئی تھی کہ اسے قتل کیا گیا تھا اور بعد میں اس کی لاش کو پنکھے سے لٹکایا گیا تھا- مگر قتل کا محرک اور قاتل کو تلاش کرنے میں پولیس ناکام رہی تھی-

        کمال کی بیوی نے رامین پر قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا- وہ اس سے گن گن کر بدلے لے رہی تھی- اسی سلسلے میں اسے پولیس اسٹیشن بلوایا گیا تھا جہاں انسپکٹر نے اس سے تند و تیز سوالات کی بوچھاڑ  کر دی تھی- یہ اس کی زندگی کے مشکل ترین دن تھے- اسے چاروں طرف سے پریشانیوں نے گھیر رکھا تھا- میڈیا میں اس کے کردار پر کیچڑ اچھالا جا رہا تھا- داؤد پراچہ بھی چینل کے حوالے سے کچھ اہم معاملات کو نمٹانے اسلام آباد گیا ہوا تھا – ایسے میں ایک ارسلان ہی تھا جو اس کا سچا ہمدرد اور دوست ثابت ہو رہا تھا- پولیس اسٹیشن آئے اسے کئی گھنٹے گزر چکے تھے- انسپکٹر کے الٹے سیدھے سوالات کے جواب دیتے دیتے اس کے حواس ساتھ چھوڑ چکے تھے ایسے میں ملک امتیاز کی پولیس اسٹیشن میں آمد اس کے لیے اچنبھے کا با عث تھی- اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اس نے منٹوں میں پولیس سے اس کی جان چھڑوا دی تھی- بہرحال پولیس کمال شیرازی کے قاتل  کو تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی-

       ” ارے آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ پولیس آپ کو تنگ کر ہی ہے- ورنہ نوبت یہاں تک نہیں پہنچتی-"

       ” پھر آپ کو کیسے پتا چلا؟”

       ” داؤد مجھے فون کر چکا ہے کہ آپ کی مدد کے لیے جاؤں حالانکہ میں پارٹی کی ایک اہم میٹنگ میں بیٹھا تھا- سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آیا ہوں-"

        وہ پولیس اسٹیشن سے نکلنے کے بعد ملک امتیاز شاندار کار کر میں بیٹھے تھے جسے ملک خود ڈرا ئیو کر رہا تھا-

        ” آپ کا بہت بہت شکریہ آپ کو میری وجہ سے زحمت اٹھانی پڑی -” رامین نے شکر گزاری سے کہا –

        ” تکلف سے کام نہ لیں-” ملک امتیاز نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا پھر مسکرا کر بولا- ” میں کسی مشکل میں پڑ جاؤں تو آپ دیکھ لیجئے گا- دیکھیں گی نا؟”

        ” وائی ناٹ -” اس نے کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی- اس کا ذہن ملک امتیاز کے بارے میں سوچ رہا تھا- جو بظاھر خاصا معقول نظر  آتا تھا مگر خواتین کے بارے میں اس کی شہرت اچھی نہیں تھی- تاہم رامین کا معاملہ مختلف تھا- اس کے ساتھ تو داؤد پراچہ کا رویہ بھی انتہائی شریفانہ تھا جو کہیں سے بھی شریف آدمی نہیں تھا-

         کار اچانک ایک مشہور و معروف ریسٹورنٹ کے سامنے رکی تو رامین نے سوالیہ نظروں سے ملک امتیاز کو دیکھا-

         ” اگر پسند کریں تو کھانا کھا لیں؟” اس نے انتہائی مہذب انداز میں پوچھا- ” مجھے فورا ً آپ کے پاس پہنچنا تھامگر اب بالکل برداشت نہیں ہو رہا-"

         ریسٹورنٹ کے اندر ماحول بڑا پر سکون اور آرام دہ تھا- چاروں طرف مدھم موسیقی کی دھن پھیلی ہوئی تھی- امتیاز رامین کو ایک کونے میں واقع ٹیبل پر بیٹھا کر واش روم میں گھس گیاتھا – اس نے کوٹ کی اندرونی جیب سے ایک بوتل نکالی جس میں اس کی مرغوں شراب بھری ہوئی تھی- مے نوشی سے نمٹ کر وہ کھانے  کی میز پر پہنچ گیا- کھانے کے دوران گمبھیر خاموشی کو ملک امتیاز کی آواز نے توڑا –

        ” رامین میں آج آپ کو ایک آفر دینا چاہتا ہوں-” رامین جو سر جھکائے کھانے میں مشغول تھی نے چونک کر سر اٹھایا-

        ” ہماری پارٹی اپنا ٹی وی چینل لاونچ کرنا چاہتی ہے- آپ ہمیں جوائن کر لیں- ایک بات اور یہاں آپ کی حثییت داؤد کے چینل کی طرح ملازم کی نہیں بلکہ مالکن کی ہوگی- آپ اس کی حصّہ دار ہوں گی آپ اپنی پسند کی ٹیم ہائر کریں اور اپنی مرضی کے مطابق کام شروع کر دیں – اخراجات تمام پارٹی کی ذمہ داری ہو گی-"

       ” آپ کیا کہ رہے  ہیں میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا- داؤد صاحب آپ کے دوست ہیں اور آپ؟”

       ” داؤد کی آپ فکر نہ کریں اسے میں سنبھال لوں گا- میں تو صرف آپ کے جواب کا منتظر ہوں-"

       ” ابھی تو میں کچھ سوچنے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں-” اس نے کہا –

       ” مجھے کوئی جلدی نہیں آپ آرام سے سوچ کر فیصلہ کریں-” ملک امتیاز اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا-” آپ نے کھانے سے ہاتھ کیوں کھینچ لیا ڈٹ کر کھانا کھائیں اور اپنی سب پریشان میرے حوالے کردیں اب ملک امتیاز آپ کے ساتھ ہے-” رامین خوش خلقی سے مسکرائی تھی-

        دفتر میں رامین کے لیے حالات ناسازگار تھے اسٹاف کے لوگ پہلے ہی اس سے دور دور رہتے تھے اور اب تو کمال کی بے وقت موت کی وجہ سے اس کی ٹیم بھی ٹوٹ چکی تھی- نئے آنے والے پروڈیوسر سے اس کی ذہنی ہم آہنگی نہیں ہو رہی تھی- داؤد پراچہ کا رویہ بھی اس سے بڑا سرد سا ہو گیا تھا- بہرحال حالات اسے ملک امتیاز کی طرف دھکیل رہے تھے آخر اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ ملک کی آفر قبول کر لے گی- اس نے جب اپنے اس فیصلے سے ارسلان کو آگاہ کیا تو اس نے کہا تھا-

        ” سچ پوچھو تو میں عورت کے باہر نکلنے اور کام کرنے کے خلاف ہوں اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو کیا ضرورت ہے خود کو مشکلات میں ڈالنے کی- محض وقت گزاری اور اپنی انفرادیت دکھانے کے لیے اپنی ارضی جنت کو جہنم نہیں بنانا چاہیئے-” ارسلان کے ان جملوں نے اسے چونکا دیا- فواد بھی یہی کچھ کہا کرتا تھا- اسے یوں لگ رہا تھا جیسے فواد ارسلان کا روپ دھار کے سامنے موجود ہو-

       ” تم سب مردوں کی سوچ ایک جیسی ہوتی ہے-تم لوگوں سے عورت کی آزادی اور خود مختاری ہضم نہیں ہوتی-” وہ طنزیہ لہجے میں بولی-

        ” لفظی اعتبار سے عورت کا آزاد رہنا جتنا خوبصورت ہے اس کا عملی تجربہ اتنا ہی بھیانک ثابت ہوتا ہے- الله نے عورت اور مرد کی تمام ذمہ داریاں کھول کر بیان کر دی ہیں- سرخاب کے پر کسی میں نہیں لگے-دونوں کی پوزیشن متعین ہیں دونوں قابل احترام ہیں- عورت گھر اور خاندان کو مرتب رکھتی ہے تو کمال نہیں کرتی اسی طرح مرد معاشی ضروریات کی فراہمی کا بند و بست کرتا ہے تو احسان نہیں کرتا- الله کے بنائے گئے قوانین میں ہی عافیت ہے ورنہ جنت کی طرح جہنم کی وسعتیں بھی لا محدود ہیں-جہاں چاہو خود کو گم کردو- بہرحال میرا مشورہ تو یہی ہے کہ ملک امتیاز سے دور رہو-"

        رامین کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا جلدی سے اس نے موضوع بدلا  اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی-

        ارسلان کی جن باتوں کو اس نے بکواس سمجھ کر رد کر دیا تھا انہوں نے لاشعور میں نقش ہو کر اس کے وجود میں ھل چل سی مچا دی تھی-لیکن پھر اس ھل چل پر اس کی فطری ضد اور آنا غالب آ گئی-

                دوسری صبح اس نے اپنا ریزآئن داؤد پراچہ کو بھجوا دیا تھا- اسی سہ پھر وہ ملک امتیاز کے شاندار آفس میں اس کے مقابل بیٹھی آنے والے چینل کے خد و خال پر باتیں کر رہی تھی- ابھی انہیں وہاں بیٹھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ داؤد پراچہ آندھی اور طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا-

        ” مجھے امید تھی کہ تم یہیں ملو گی-” وہ دانت پیستے ہوئے رامین سے مخاطب ہوا پھر امتیاز کی طرف رخ کرتے ہوئے بولا- ” اور تم دوست نہیں آستین کا سانپ ہو تمہیں تو میں دیکھ لوں گا-” اس کا تھل تھل کرتا وجود غصہ سے کانپ رہا تھا-

        ” بزنس میں کوئی دوستی دشمنی نہیں ہوتی- تم بیٹھو یہ باتیں بیٹھ کر بھی ہو سکتی ہیں-” ملک امتیاز نے ٹھنڈے لہجے میں کہا –

         رامین نے اس سے پہلے داؤد کو کبھی اتنے غصّے میں نہیں دیکھا تھا- داؤد مغلظات پر اتر آیا تھا- پھر وہ  رامین سے مخاطب ہوا-

         ” اتنی اونچی اڑان مت بھرو کہ خاک چاٹنی پڑے – جو بنانا جانتے ہیں وہ تباہ کرنا بھی جانتےہیں-” رامین بد حواسی سے ملک امتیاز کو دیکھنے لگی -ملک تیزی سے داؤد کے قریب آیا اور کہا –

         ” تم زیادتی کر رہے ہو داؤد-"

         ” آستین کے سانپ تیرا منہ تو میں خود کچلوں گا اور تیری اس ………….” اپنے بارے میں ناقابل بیان الفاظ سن کر رامین کا چہرہ توہین کے احساس سے سرخ ہو گیا- وہ اٹھ کھڑی ہوئی- داؤد مغلظات بکتا ہوا وہاں سے طوفان کی طرح چلا گیا-

         یہ اتوار کا دن تھا-وہ دیر تک سوتی رہی تھی- بارہ بجے وہ سو کر اٹھی تھی اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی سآتھ ہی اخبار کا مطالعہ بھی- شہہ سرخیوں پر نظر دوڑاتے ہوئے اس کی نظر ایک خبر پر ٹک گئی اور وہ ہکا بکا رہ گئی- ہاتھ میں تھاما چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا- خبر کے مطابق ملک امتیاز رات اپنے بنگلے کے لان میں مردہ پایا گیا تھا- ( جاری ہے )

                                                                                               …………………………………………………………………………………………….

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے