سر ورق / جہان اردو ادب / ڈاکٹر کاشف مصطفٰی۔۔۔۔عالیہ ذوالقرنین

ڈاکٹر کاشف مصطفٰی۔۔۔۔عالیہ ذوالقرنین

سرجن کاشف مصطفیٰ کا تعلق بنیادی طور پر راولپنڈی سے ہے۔ وہ قلب اور پھیپھڑوں کی سرجری کے ماہر ہیں۔ انگلستان سے اعلیٰ تعلیم کے بعد

وہاپنے گروڈاکٹر حسنات احمد کے مشورے پر جنوبی افریقا آ گئے یہیں ملازمت اور سکونت اختیار کرکے ایسا نام کمایا کہ جنوبی افریقا کے مشہور عالَم لیڈر نیلسن منڈیلا کے بھی معالج رہے۔ سیر و سیاحت کے بے حد شوقین ہیں۔ دنیا کو کھلی نظر سے آدھے راستے میں آن کر کشادہ دلی سے گلے

لگاتے ہیں۔ پچھلے دنوں وہ ارض مقدس کے سفر پر گئےتھے۔ یہ ان کے سفر نامہ مسجد اقصیٰ کی روداد ہے-

سوال :آپ کا مکمل تعارف

جواب : میرا مکمل تعارف یہ ہے کہ میرا نام ڈاکٹر کاشف مصطفٰی ہے -میری پیدائش راولپنڈی کے ایک شہر بنّی میں ہوئی-سن بتا کر میں آپ کو حیران اور اپنے آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا –

؎ کب سے ہوں کیا بتاؤں جہان ِ دراز میں

سوال : تعلیمی قابلیت :

میں نے سینٹ میری کیمبرج سکول سے میٹرک کیا پھر راولپنڈی میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور اس کے فوری بعد میں لندن چلا گیا جہاں میں نے سرجری کی تعلیم اور پھر ہارٹ سرجری میں سپیشلائز کیا پھر میں جنوبی افریقہ آ گیا اور یہاں میں کئی سالوں سے مقیم ہوں  اور بطور ہارٹ سرجن کام کرتا ہوں –

؎ ہے مشق ِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی

یک تماشہ ہے کاشف کی طبیعت بھی

سوال : آپ کا بچپن کیسا گزرا؟

جواب : میرا بچپن راولپنڈی کے قدیم علاقے بنّی میں گزرا – تنگ تاریک آپس میں الجھتی گلیاں، جو نا ختم ہونے والے طعنوں بانوں میں الجھی ہوتی ہیں، انہیں گلیوں میں کرکٹ ہاکی کھیلنا، پرانے گھر کی چھتوں پر پتنگیں اڑانا،قدیم جگہوں سے دوستوں کے ساتھ کھانا کھانا، نان بائی کی دکانوں سے صبح اٹھتی کلچوں کی خوشبو، نان خطائیاں ،باقر خانیاں، ان سب کے ذائقے، ان کی مہک اس قدیم شہر کی یادوں کی طرح ابھی بھی میرے ذہن میں زندہ ہیں –

ہر حساس شخص کی طرح میرے بھی اپنے تعلیمی ادارے راولپنڈی میڈیکل کالج کے بارے میں وہی ہیں کہ جو وقت میں نے گزارا کسی اور نے نہ گزارا ہو دوستیاں، یاریاں، محبتیں، رنجشیں ، کدورتیں، احساسات، تعلیم.،کمپٹیشن، مستقبل کے خواب، یہ سب کچھ کیا جو کہ ایک میڈیکل کا طالبعلم اپنی زندگی میں کرتا ہے – میڈیکل کالج کی دوستیاں دائمی ہوتی ہیں وہ لوگ جو آپ کے ساتھ پروفیشنل کالج میں ہوتے ہیں پھر اسی پروفیشن کی وجہ سے آپ کی زندگیوں سے بندھ جاتے ہیں – میرے میڈیکل کالج کے دوست اب بھی میرے دوست ہیں گو کہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ پیچھے دیکھنے سے ڈر لگتا ہے لیکن جب کبھی ملتے ہیں پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں-

اور کبھی کبھی ہمارے کالج کی تقریب میں ساری دنیا سے ہمارے سے کلاس فیلو شریک ہوتے ہیں پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں وہ لڑکیاں جن پر ہم عاشق ہوا کرتے تھے مرا کرتے تھے ان کو دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں کہ یہ اب نانیاں بن گئی ہیں وہ بھی یقیناً ہمارے بارے میں یہی سوچتی ہوں گی کہ یہ وہی بابے ہیں جو کسی زمانے میں ہیرو بنے پھرتے تھے – تو یہی خوش گوار یادیں ہیں تو جوں جوں آدمی کی عمر گزرتی ہے یہی خوش گوار یادیں اس کے شعور میں پختہ ہوتی جاتی ہیں –

سوال : آپ کی وجہ شہرت :

جواب: یہ وجہ شہرت والا سوال بڑا مشکل ہے کہ

؎ ہم کہاں کے دانا تھا کس ہنر میں یکتا تھے

بہرحال اللہ کا شکر کہ اپنی فیلڈ ہارٹ سرجری میں اللہ نے ایک اچھا مقام دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے کیرئیر کا عروج یہ تھا کہ جنوبی افریقہ نینسن منڈیلا جو ان کے دیوتا کی مانند لیڈر تھے،بیمار ہوئے تو ان کے علاج کے لیے ٹیم سلیکٹ کی گئی تو اس میں اس نا چیز بھی شامل کیا اور میں ان کا معالج ریا ان سے میرا قرب رہا میری باتیں رہیں اس عظیم انسان کے ساتھ میں نے بہت سی صبحیں گزاری بہت سی شامیں گزاریں اس کا علاج کرتے اس سے باتیں کرتے، میں اس چیز کو اپنے کیرئیر کی معراج سمجھتا ہوں اورلکھنا لکھانا، سیاحی، گھومنا، یہ میرا شغل ہے اب تک میں تقریباً ایک سو اسی ممالک کی سیاحت کر چکا ہوں اور کبھی لکھنے کا احساس نہیں ہوا جب تک کہ میں اسرائیل نہیں گیا اسرائیل جا کر میں نے پھر یہ سفر نامہ لکھا” دیوار ِ گریہ کے آس پاس “  اور ایک گمنام سی کیفیت میں،

؎ جیسے کوئی لکھتا ہے دست ِغیب اس کتاب میں

 میں نے یہ سفر نامہ لکھا اور الحمد للہ یہ کتاب پاکستان میں بہت مشہور ہوئی 2016 کی بیسٹ سیلر رہی اس کتاب کا  سندھی اور پشتو میں ترجمہ ہو چکا ہے اور انگریزی میں اس کا ترجمہ ہو رہا ہے –

سوال : وہ کیا چیز ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے؟

جواب : میں اپنے آپ کو یقیناً کسی بھی عام انسان سے ممتاز نہیں سمجھتا مجھ میں ہر وہ خامی ہے جو ایک عام انسان میں ہوتی ہے اگر میں کسی ایک چیز کا تھوڑا سا کریڈٹ لے سکوں تو وہ صرف یہ ہے کہ شاید میری ٹائم مینجمنٹ بہت مناسب ہے- دن میں دس گھنٹے کام کرتا ہوں ، چھ گھنٹے سوتا ہوں اور باقی کے سات گھنٹے بچتے ہیں اس اوقات میں فیملی، دوست احباب، پڑھنا لکھنا یہ سب ہوتا ہے اور یہ میری ایسی روٹین ہے جو سالوں سے قائم ہے اور میری خواہش ہے کہ یہ اسی طرح قائم رہے-

سوال : آپ کو کامیابیوں کے لیے کن مشکلات سے گزرنا پڑا؟

جواب : "مجھے کامیابی کے لیے کن مشکلات سے گزرنا پڑا یہ بڑا بنیادی سوال ہے اور میرے خیال میں وہ کوئی بھی انسان جس نے کامیابی کے زینے پر دو چار سیڑھیاں چڑھی ہیں اس کا ایک ہی جواب ہوگا کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔ جو اس پہلی  سیڑھی پر گر جاتے ہیں، سہم جاتے ہیں، ٹھہر جاتے ہیں وہ اگلہ زینہ یا کامیابی کا زینہ کبھی  نہیں چڑھ سکتے۔ مجھے بھی ہر انسان کی طرح ان ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، تعلیمی لحاظ سے بھی، پروفیشنل لحاظ سے بھی۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اتنا شعور دیا کہ ان ناکامیوں سے میں کبھی دل برداشتہ نہیں ہوا۔ آگے کا سفر جاری رکھا، ناکامیوں سے سبق سیکھا، کامیابیوں کی آرزو ہمیشہ دل میں قائم رکھی۔ رب کریم کا بڑا کرم ہے کہ آج میں پروفیشنلی، اکیڈیمکلی اس مقام پر ہوں کہ مجھے مزید اوپر جانے کی کوئی خواہش نہیں رہی۔ یہ اللہ تعالی کا قدرت ک قانون ہے کہ وہ آپ کو آزماتا ضرور ہے کہ جو خواب کامیابی کے آپ نے اپنی آنکھوں  میں سجائے ہیں؛ کیا آپ میں اتنی استعداد ہے کہ وہ آپ سنبھال سکیں۔ اس لیئے اللہ تعالی کی یہ قدرت آپ کو ہمیشہ دینے سے پہلے  آزماتی ہے اور وہ آزمائش عموما ناکامی  کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس  آزمائش  میں کامیاب ہونا اس سے نکل کر بڑا انسان بننا۔ بہت اہم ہے،  بہت ضروری ہے۔ اگر کوئی چھوٹے  بچے، نوجوان ڈاکٹر اور رائٹر میرا انٹرویو پڑھ رہے ہیں یا سن رہے ہیں، ان کو میری یہی ایک نصیحت ہے کہ اگر آپ نے ناکامی نہیں دیکھی اور ناکامی کو نہیں جھیلا تو آپ کبھی زندگی میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ انگریزی میں کہتے ہیں:

You’ll not be a good winner, unless you’re a good looser.

سوال : وہ جگہ جہاں جا کر آپ کو اپنے آپ پر رشک آیا؟

وہ جگہ جہاں جا کر مجھے اپنے اپ پر رشک آیا، وہ جگہ یقینا بیت المقدس، اسرائیل، جروشلم، مسجد اقصی۔

مسجد اقصی کے اندر میں نے اللہ کے کرم سے بہت کم پاکستانی وہاں گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کہ بہت ساری غلط فہمیاں جو لوگوں کے دماغ  میں ہیں  کہ مسجد اقصی کون سی ہے؟ کہاں ہے؟ اس کے  بارے میں، میں نے کتاب سے اور سوشل مڈیا پر ضرور لوگوں کی غلط فہمیاں دور کیں۔ مسجد اقصی ایک چھوٹی سی، اداس، بہت پتھریلے اور  سمنٹ کہ اور بغیر و روغن کی مسجد ہے۔ اس کوئی ایک ایسا حصہ نہیں ہے جہاں  پر کسی نبی یا فرشتے نے سجدہ نہ کیا ہو۔ ہمارے آقائے کرم حضرت  ﷴ ﷺ  کو معراج پر بھیجنے سے پہلے اسی لیے پہلے یروشلم، مسجد اقصی لایا گیا تھا کہ اس کے اطراف میں بہت سی برکتیں ہیں اور آپ کو ان برکتوں سے ان رحمتوں سے آگاہ کرنا تھا۔ ورنہ اللہ تعالی سیدھا مکہ سے بھی آپ ﷺ  کو معراج پر لے جا سکتا تھا۔ تو وی بہت ہی بابرکت اور روح پرور جگہ ہے۔ آپ میں سے جس کو بھی اللہ تعالی نے ایسی حیثیت اور مواقع دیے ہیں کہ وہاں جا سکے تو میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ وہاں ضرور جائیں۔ یورپ میں، مڈل ایسٹ میں، فار ایسٹ میں جانے سے بہتر ہے کہ کچھ دن وہاں  گزاریں۔ مسجد اقصی میں نوافل ادا کریں۔ یہ ان تین مسجدوں میں سے ہے جس پر اللہ تعالی کا ارشاد  ہے کہ سفر کرو تو ان کے ارادے سے سفر کرو۔ اور وہ یقینا وہ جگہ تھی جو میں اپنی زندگی میں سارے 180 ممالک کی سیاحت کا ثمر مسجد اقصی میں گزرے ہوئے کچھ دنوں کو سمجھتا ہوں۔

سوال : دوران سیاحت کوئی خوشگوار / ناخوشگوار واقعہ پیش آیا؟

جواب : "دوران سفر تو بہرحال سفر وسیلہ ظفر بھی ہے اور اگر انگریزی والا ‘suffer’    بھی اکثر بن جاتا ہے۔ یہ تو بہر حال اسی لیے اللہ تعالی نے انسان کو سفر میں بہت سی رعایتیں دی ہیں؛ نمازیں کسر کرنے کی اور اللہ تعالی نے مسافر کو بہت سی مذہبی اور سماجی آسانیاں  پیدا کی ہیں۔ مسافر کی امداد جو ہے اور اس کی کسی قسم کی نصرت اس شہر کے لوگوں پر واجب قرار دی ہے۔ اس کی وجہ  یہ ہے کہ انسان سفر کرتا ہے تو انسان بہت vulnerable(غیر محفوظ) ہوتا ہے۔ اپنے ماحول سے، کلچر سے، زبان سے، اپنی known environment(مانوس ماحول) سے دور ہوتا ہے تو اس لیے اس پر ہر طرح سے کہیں بھی، کسی طور سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ آسکتا ہے۔ میرے ساتھ بھی بے انتہا واقعے ہوئے ہیں کیونکہ میں نے بہت دنیا دیکھی  ہے۔ لیکن ایک وہ جو واقعہ جو اسرائیل میں میرے ساتھ پیش آیا تھا کہ جب میں حرم ابراہیمی، (حبرون میں وہ جگہ جہاں حضرت  ابراہیم علیہ السلام اور کے صاحبزادوں، حضرت اسحاق علیہ السلام، ان کی اہلیہ اور ان کے باقی حضرت یعقوب، حضرت یوسف علیہ السلام کی قبریں ہیں) گیا تو اندر جانے سے پہلے میرے علم میں نہیں تھا کہ یہ ملٹری زون ہے اور یہاں پر تصویریں لینا ممنوع ہے تو میں نے اس انجانے پن میں وہاں پر کچھ تصویریں کھینچ لیں جس پر مجھے وہاں کی اسرائیل کی آرمی،  Israili Defence Force, IDF نے گرفتار کر لیا۔ میرے سر پر اور میرے سینے پر بندوقیں تان لیں اور ج  میرا پاسپورٹ دیکھا  تو، حالانکہ وہ پاسپورٹ غیر ملکی تھا لیکن اس پر جائے پیدائش پاکستان لکھی تھی تو اس کے بعد ان کے ذہن مین مزید یہ شک ہو گیا کہ شاید  یہ کوئی انٹیلیجینس کا جاسوس ہے۔ اس دھکم پیل میں میرے  منہ سے خون بھی نکل آیا اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ شاید یہ مجھے غائب کردیں گے اور میرا یہاں  دوبارہ پتا بھی نہیں چلے گا میرے گھر والوں کو میں کہاں گیا۔ لیکن پھر ہمیشہ اللہ کی غیبی مدد کیونکہ میری نیت صاف تھی، میری نیت میں کوئی فطور نہیں تھا۔ اللہ تعالی نے اس سچویشن سے مجھے بچایا، وہاں پر کچھ یونائٹڈ نیشنز کے لوگ تعاینات تھے؛ ان میں سے ایک صاحب جنوبی افریقہ کے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ میں بھی جنوبی افریقہ سے آیا ہوں تو ان کے دل میں اپنے ہم ملک کے لیے ہمدردی آئی تو انہوں نے ان اسرائیلی ڈفینس فورس والوں سے negotiate (گفت و شنید) کیا۔ جس کے بعد انہوں نے وہ تصاویر میرے فون سے ڈلیٹ کرکے مجھے جانے دیا۔”

سوال : کم بجٹ میں سیاحت ممکن ہے؟

جواب : "کم بجٹ کے اندر سیاحت قصعا مشکل کام نہیں ہے۔ کم بجٹ میں مطلب یہ کہ سفر کے اندر تین بنیادی اخراجات ہوتے ہیں:

1۔ آپ کا وہاں تک پہنچنا یعنی بزریعہ روڈ، ٹرین یا ہوائی جہاز جائیں۔ اس میں اگر آپ ورک آوٹ کریں تو کئی دفعہ آپ کو اسپیشلز یا بعض دفعہ لمبی ٹرانزٹ والی فلائٹ سستے ریٹ میں آپ کو مل جاتی ہیں۔

2۔ ہوٹل  کا قیام اور وہاں کا کھانا پینا۔ اس میں، میں نے ساری عمر اس فلسفے  پر زاتی طور پر عمل کیا ہے کہ انسان جہاں جائے اس شہر کے ساتھ زندہ رہے۔ اس طرح ریے جس طرح وہ شہری رہتے ہیں نہ تو سیاح کے طور پر۔  میں ہمیشہ پرانے شہر  میں رہتا ہوں، چھوٹے ہوٹل میں رہتا ہوں۔ ان جگہوں سے کھانا کھاتا ہون جہاں سے مقامی لوگ کھاتے ہیں۔ ان جگہوں سے کھانا نہیں کھاتا جہاں پر سیاح کھاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح سفر کرتا ہوں جیسے وہاں کہ مقامی لوگ سفر کرتے ہیں، بسوں میں یا رکشہ میں، یا ٹرین کے اندر کیونکہ اس طرح آپ اس شہر کے ساتھ رہتے ہیں۔ آپ اس شہر کا پورا تاثر اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔ ورنہ اگر آپ  مہنگی ٹیکسیوں میں یا رینٹ آ کار کے اندر یا شوفو ٹرون گاڑیوں کے  اندر پھریں تو آپ کبھی بھی اس شہر کا، اس ملک کا، اس معاشرے کا، اس سماج کا، تاثر اپنے اندر سمو نہیں سکیں گے۔ آپ سیاح کبھی نہیں بن سکیں گے۔ سیاح بنتا ہی وہ ہے جو کم بجٹ پر چلتا ہے کیونکہ پھر وہ شہر کے ساتھ رہتا ہے، اس ماحول کے ساتھ زندہ رہتا ہے اور یہ بہت معمولی بات ہے ساری دنیا کے اندر مہنگی جگہیں بھی ہوتی ہیں اور سستی جگہیں بھی ہوتی ہیں رہنے کی اور کھانے پینے کی۔ میں نے ہمیشہ سستی جگہوں  کا اسی لیئے انتخاب کیا کہ ایک یہ ہے کہ وہ تو کم بجٹ ہوتی ہیں۔ دوسرا اس کے علاوہ یہ کہ وہ اس شہر کا پورا تاثر اس کا پورا کلچر، مکمل طور پر معاشی، سماجی آپ کے اندر جذب ہو جاتا ہے۔”

سوال : دوران سیاحت آپ کو کیا چیز سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے؟

جواب : "دوران سیاحت مجھے سب سے زیادہ کیا چیز متاثر کرتی ہے؟  اگر آپ ایک سچے سیاح کی وضاحت لیں تو ایک سچا سیاح نسل، رنگ، مذہب ان تمام چیزوں سے بالا تر ہوکر انسان اور قدرت کے جو چند زیریں اصول ہیں، انسانیت دوستی کے اس حوالے سے ہر جگہ کو دیکھتا ہے۔ ایک انسان کی شعور کی تسکین مختلف طریقوں سے ہوتی ہے۔ جیسے اپ بیت المقدس گئے تو آپ کی روحانی تسکین ہوئی۔ میں ایمازون کے جنگلوں میں اور افریقہ کے گھنے جنگلوں میں بھی  گیا تو بہت سیاحت ہوئی ہے۔ تو اس سے اپنے اندر کا جو آوارہ  گرد ہوتا ہے۔ ایک معاشرے سے بھاگنے کا، قدرت سے قریب ہونے کی جو انسان کے اندر طلب ہوتی ہے وہ  اللہ تعالی پوری کر دیتا ہے۔ اور ترقی کے حوالے سے آپ جاپان، امریکہ، جرمنی ان جگہوں کا infrastructure (بنیادی دھانچہ)، ان کا  social setup (سماجی ربط) دیکھتے  ہیں تو کافی متاثر ہوتے ہیں۔ میں بنیادی طور پر یہ تمام چیزیں کرتا ہوں، میں قدرت بھی دیکھتا ہوں، میں تاریخ بھی دیکھتا ہوں، میں ماڈرن دنیا جو بھی کچھ آج کل کے مادی حساب سے ہے اسے بھی دیکھتا ہوں اور سراہتا ہوں۔ لیکن میرے اندر جو مین سیاح  ہے تو میں بیسکلی تاریخ کا دلدارہ ہوں۔ وہ جگہیں جنہوں نے انسانی تاریخ پہ، انسانی شعور  کی راہنمائی کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا ہے مذہبی طور پہ، روحانی طور پر، تاریخی طور پر، میں  ان جگہوں پر جانے کا بڑا شوقین ہوتا ہوں۔ یہ سیاحت کے حساب سے سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ چونکہ یہ جگہیں سیاحتی کتابچوں میں اور سیاحتی ریڈارز کے اندر اتنی واضح نہیں ہوتیں۔ وہاں  جانا مشکل ہوتا ہے۔ کئی کئی دفعہ مجھے صحراوں میں، پہاڑوں میں، جنگلات میں، کنڈرات میں؛  ایک چھوٹی سی جگہ، ایک چھوٹی سی دیوار، ایک چھوٹا سا غار یا کوئی درخت دیکھنے  کے لیے پورا پورا دن گھومنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ میں کرتا ہوں، میرا شوق ہے، وہ میرا جنون ہے اور جو لوگ مجھے سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں  انہوں نے وہ تصاویر  دیکھی  ہوں گی کہ  بہت کم لوگ ان جگہوں پر پہنچ پائے ہیں۔ میں ان شاء اللہ  پہنچتا رہوں گا جب  تک صحت ہے زندگی ہے اور آہ سب کے سامنے لاتا رہوں گا۔”

سوال : کوئی ایسی جگہ جہاں دوبارہ جانے کا دل چاہتا ہے؟

جواب : "کوئی ایک ایسی جگہ جہاں مجھے دوبارہ جانے کا دل چاہتا ہو۔ سیاحت اصل میں دو طرح کی ہوتی ہے کہ ایک یہ سیاح جاتا ہے، اس جگہ کے تاثر کو سمو کر اپنے ساتھ لے آتا ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کی  سیاح اپنا دل یا دماغ یا اپنا شعور اس شہر کے اندر، اس ماحول  کے اندر  چھوڑ آتا ہے۔ میں دونوں طرح کا سیاح ہوں۔ میں ان جگہوں کا تاثر بھی لے کر آتا ہوں اور کچھ جگہیں  ایسی ہوتی ہیں جہاں اپنے وجود کا ایک حصہ وہاں چھوڑ آتا ہوں۔ آپ کو شاید یہ سن کر بڑی حیرت ہوگی کہ وہ جگہ جہاں میرا دوبارہ بڑے جانے کی خواہش ہے وہ دنیا کا کوئی بڑا ملک یا کوئی ایسی بڑی  مذہبی جگہ نہیں ہے۔ میں جب اسرائیل  کے سفر میں تھا تو اتفاق سے راہ چلتے چلتے میری ایک پاکستانی صاحب سے ملاقات ہوئی (واقعہ میری کتاب میں تفصیل سے آپ پڑھیں گے) جو کہ اسرائیل  کے ایک چھوٹے سے قبضے  ‘الہلہول’ کے اندر پچھلے پچاس سال سے آباد ہیں۔ اور وہ میرے آبائی شہر راولپنڈی کے تھے۔ ہلہول بالکل ایک تاریخ کے ریڈار، دنیا کے ریڈار، دنیا کے ایٹلس اور نقشوں کی کتابوں سے الگ  کٹا  پٹا ایک چھوٹا سا، اداس سا شہر ہے جہاں پر شاید صرف انگور اگتے ہیں۔ایک چھوٹی سی آبادی، خوبصورت پہاڑی علاقہ، اسرائیل  کو واحد علاقہ ہے جہاں  پر برف باری بھی ہوتی ہے۔ تو مجھے چونکہ اس قصبے کے اندر،پاکستانی صاحب راجہ ممریز کےگھر میں ایک رات رہنے کا اتفاق ہوا۔ وہ بہت تھوڑی ہی جگہوں میں سے ایک ہے جہاں پر میں اپنے وجود کا تھوڑا سا حصہ چھوڑ آیا ہوں اور وہ حصہ واپس لینے کے لیے ضرور  زندگی میں کبھی اس قصبے الہلہول میں جاوں گا۔”

سوال : کوئی ایسی جگہ جہاں جانے کا شوق ہو؟

جواب : "کوئی ایسی جگہ رہ گئی ہو جہاں مجھے ابھی بھی جانے کا احساس ہے وہ یقینا بہت سی دنیا میں جگہیں ہیں۔ لیکن الحمدللہ  جو زیادہ تر میرے دماغ یا ذہن میں جن چیزون کی خواہش تھی وہ رب کریم نے پوری کی ہیں۔ ایک جگہ میرا جانے کا ابھی بھی بہت شدت سے تڑپ ہے وہ ہے ‘Central Asia،  بلخ بخارا، تاشکند’ ان کو دیکھنے کا۔ کیونکہ یہ کسی زمانے اپنے آپ کے نیویارک تھے۔ تہذیب کے عروج پر تھے۔ جس طرح آج کل زمانے میں لوگ نیویارک جانے کے بارے میں یا فرینکفرٹ یا لندن جانے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہاں کا طرز زندگی، معیار تعلیم، معیار صحت دنیا میں عروج پر ہے۔ تو اسی طرح کسی زمانے میں یہ شہر تھے جن کے بارے میں محاورہ بھی کہ ‘جو مزہ چھجو کے چوبارے وہ نہ بلخ نہ بخارے-‘ بہرحال وہ اسلامی تہذیب  کے حوالے  سے بھی بہت سارے عظیم فقہی، عالم، درویش، صوفی، بزرگ ان علاقوں سے آئے۔ تو ان شاء اللہ  عنقریب میں سینٹرل ایشیا  کی جو ریاستیں ہیں، ان کا سفر اختیار کروں گا اور اللہ نے صحت زندگی دی تو ان کے بارے میں کتاب بھی ضرور لکھوں گا-"

سوال : آپ کی کامیابیوں کا کیا راز ہے؟

جواب :  "زندگی میں کامیابی کا راز! اگر کوئی مجھے کامیاب سمجھتا ہے تو اس کی بڑی مہربانی ہے۔ کامیابی ایک توازن ہے۔ قدرت میں ہر چیز ایک توازن میں ہوتی ہے۔  حسن خوبصورتی بھی ایک توازن ہے۔ کامیابی بھی ایک توازن ہے۔ کامیابی کا مطلب پیسے کمانا نہیں، یا صرف شہرت نہیں، صرف عزت نہیں، صرف نیک نامی نہیں، ان تمام چیزوں کا ایک متناسب مرکب کامیابی ہوتا ہے۔ اس حساب سے میں نے بھی زندگی انہی اصولوں کے تحت گزارنے کی کوشش کی ہے کہ پروفیشنلی، گھریلو، اور مشغلے  کے حساب سے اپنی زندگی، اپنے وقت کو تقسیم کروں۔ میرے خیال میں، میں کسی حد تک کامیاب  رہا کہ اپنے پروفیشن میں، میں الحمدللہ ٹھیک ہوں۔ جو میرا مشغلہ ہے سیاحت اس پر بھی الحمدللہ  میں  نے بہت  دنیا دیکھ لی۔ لکھنے لکھانے میں بھی اب شروع کیا، کتاب لکھی جس کو آپ سب سے بہت پذیرائی دی۔ دوسری کتاب میری اب لکھنے کے مرحلے میں ہے۔ امید ہے وہ بھی آپ کو پسند آئے گی۔ جو میری زندگی کی ناکامیاں ہیں  وہ میری اپنی کمزوریاں، کوتاہیاں ہیں کہ شاید میں کسی وقت پر، کسی دور میں، زندگی کے  کسی موڑ پر کوئی صحیح فیصلہ نہیں کر سکا اور یہ ہر انسان کی زندگی میں ہوتا ہے۔ ناکامیوں کو جیسے پہلے کہہ چکا ہوں کہ میں نے کبھی  End point (نقطہ اخیر) نہیں سمجھا۔ ناکامیوں کو صرف ایک موڑ سمجھا ہے جو آپ کو واپس کامیابی کی طرف لے کر جاتا ہے۔”

سوال : زندگی میں کامیابیوں کے لیے وقت کی تقسیم کا کتنا ہاتھ ہے؟

جواب : "اس بات کا تو میں کسی حد تک جواب پہلے  دے چکا  ہوں لیکن  میں دوبارہ دے دیتا ہوں کہ اگر آپ کائنات دیکھیں ساری، اس دنیا سے جو کہ ایک چھوٹا سا سیارہ ہے سے لے کر ہمارا نطام شمسی  اور پھر ہماری گیلیکسی اور پھر کئی ہزار گیلیکسیاں جو  قدرت کی ساری تخلیق ہے جو رب کریم کا سارا مظہر ہے اس میں آپ ایک چیز نوٹ کریں  گے وہ ہے وقت کی تقسیم۔ کائنات کی ایک ایک چیز ایک ایک سیکنڈ کے حساب سے پرفیکشن سے چلتی ہے۔ اگر ایک چیز بھی ایک سیکنڈ کے حساب سے ادھر ادھر ہو، سیاروں کی، ستاروں کی گردش آگے پیچھے ہو جائے تو سارا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اللہ تعالی کا قدرت کا اصول ہے کہ اس نے ہر انسان کو ہمارے جو دنیا کے سب سے کامیاب انسان، ہمارے آقائے کریم ﷴ ﷺ ہیں، ان سے لے کر ہمارے جیسے ایک عام امتی کو ہر ایک کو چوبیس گھنٹے دیے ہیں۔ کسی کو اٹھارہ  گھنٹے نہیں دیے، کسی کو اٹھائیس گھنٹے نہیں دیے۔ آپ رسول ﷺ   ان چوبیس گھنٹے کے اندر دنیا کا سب سے بڑا انقلاب لے کر آ گئے۔ دنیا میں ہر چیز ٹائم مینیجمینٹ  ہے، وقت کی تقسیم ہے۔ آپ قدرت سے سیکھیں آپ اپنے رسول اکرم ﷺ  سے سیکھیں۔ آپ اللہ تعالی کے مذاہب  سے سیکھیں۔ جس نے وقت کی تقسیم کا  وقت کا احترام  نہیں کیا وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔”

سوال : کیا احساسات کو الفاظ میں ڈھالا جا سکتا ہے،

جواب : "جی بالکل احساسات کو الفاظ میں بالکل ڈھالا جاتا ہے، یہی رائٹر کا یہی کام ہوتا ہے۔ پکاسو جو بڑے مشہور  پینٹر تھے انہوں نے کہا تھا کہ پینٹگ جو ہے وہ اندھوں کا پیشہ ہے۔ پینٹر وہ نہیں پینٹ  کرتا جو وہ دیکھ  رہا ہوتا ہے، پینٹر وہ پینٹ کرتا ہے جو وہ محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیئے جو رائٹر ہوتا ہے وہ، وہ نہیں لکھ رہا ہوتا جو وہ دیکھ رہا ہوتا ہے، وہ، وہ لکھ رہا ہوتا ہے جو وہ محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر وہ اپنے احساسات کو شامل کر کے کسی کتاب پر لکھتا ہے۔ اسی لیئے اگر اپ دیکھیں  گے کہ ایک ہی جگہ پر مختلف لوگ جاتے ہیں اور اس کے بارے لکھتے ہیں تو ان سب کی تحریروں میں آپ کو فرق نظر آئے گا، وہ ان کے احساسات ہوتے  ہیں جوکہ وہ بیان کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ اس جگہ کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔

یقینا احساسات کو الفاظ میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ میں نے بھی ڈھالنے کی کوشش کی اور ساری عمر جب سے تحریری زبان انسانی تاریخ کے اندر آئی تقریبا تین، ساڑھے تین، چار ہزار سال پہلے سے لوگ لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کچھ  لوگ مشاہدہ کرتے ہیں۔ احساسات کو بیان کرنے کا ایک طریقہ پینٹنگ ہے، ایک لکھنا ہے، ایک شاعری ہے، اور جیسے جیسے انسانی دماغ نے ترقی کی تو ان تمام چیزوں کے اندر انسان نے ہر طرح سے  اپنے احساسات کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی کبھی پینٹگ کرکے، کبھی شاعری  کر کے، کبھی لکھ کر-"

سوال : آپ کی کتنی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں؟

جواب :” دیوار ِ گریہ کے آس پاس “ منظر عام پر آنے والی میری پہلی کتاب ہے اور میری دوسری کتاب” الٹے قدم “ تکمیلی مراحل میں ہے –

سوال : آپ کے خیال میں دور ِ حاضر میں اخلاقی گراوٹ کی کیا وجہ ہے؟

جواب : ” عصر حاضر کا جو اخلاقی گراوٹ کے بارے میں جو آپ نے  سوال کیا وہ دلچسپ ہے- میں خود بھی اس کے بارے میں اکثر سوچتا ہوں کہ جو اخلاقی گراوٹ ہوئی ہے، معاشرے کی تنزلی کا شکار  ہے۔ اس کی اصل وجہ کیا ہے کہاں جو یہ تہذیب اور اخلاقیات، یہ پہلے  معاشرے سے گئیں یا گھر سے گئیں۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ گھروں سے گئیں پہلے، پھر معاشرے  سے گئیں، کیونکہ معاشرہ گھروں سے بنتا ہے اور گھر سے کیوں گئیں، کیونکہ افراد میں سے گئیں۔ افراد میں سے کیوں گئیں، کیونکہ  ہماری ترجیحات بدل گئیں۔ اس کو واپس کیونکر لایا جا سکتا ہے کہ بڑی سادہ سی  وجہ ہے کہ اگر آپ کسی بھی انبیاء، امت مسلمہ  یا تاریخ کے بڑے لیڈرز کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں  تو انہوں نے ہمیشہ یہ کیا تھا کہ اپنی امت یا قوم کو پہلے  یکجا کیا۔ پھر اسے آگے لے کر گئے پیچھے لے کر نہیں گئے۔ یہی طریقہ ہے آگے بڑھنے کا ترقی کرنے کا کہ ہم اپنی بنیاد کی طرف واپس جائیں جو ہمارے دین نے، ہمارے معاشرے نے ہمیں سکھائی تھیں۔ یہ جو مادی دور ہے اس کی کوئی انتہا نہیں اور نہ اس کی کوئی انتہا ہو سکتی ہے۔ یہ شیرے میں ڈوبتی ہوئی مکھی  والا حساب ہے کہ مزہ تو بہت آ رہا ہوتا ہے لیکن انسان ڈوب کر مر رہا ہوتا ہے-"

سوال : آپ کا مشن ؟

جواب :

"دیکھیے جناب! بحیثیت ڈاکٹر جو مشن ہے وہ تو بڑا سمپل ہے کہ میں ہارٹ سرجن ہوں، لوگوں کا آپریشن کرتا ہوں۔ بیس سالوں سے یہی کر رہا ہوں، یہی کرتا رہوں گا۔اس میں مجھے بہت پروفیشنل سیٹسفیکشن ملتی ہے۔ اب کچھ عرصے سے میں نے تعلیم و تدریس کا بھی سلسلہ شروع کیا ہے کہ یہ ایک ایسی فیلڈ ہے جو کم ہے دنیا میں۔ جس طرح پاکستان میں ہارٹ سرجن کم ہیں تو میں پاکستان آنا شروع کر رہا ہوں۔ وہاں پر لیکچرز دوں، گا سکھاوں گا۔ یہ میرا پروفیشنلی مشن ہے۔ جہاں تک میرا شوق ہے سیاحت اور کتابیں، تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپ ڈیوٹی سمجھ لیں کہ ایسی  جگہیں جن کے بارے میں دنیا بھول چکی ہے۔ ان جگہوں کے بارے میں جن کا ذکر  قرآن میں ہے اور وہ انہیں تمام تر نشانیوں اور علامتوں کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن ہم چونکہ مغرب کی طرف اور مشرق وسطی کی طرف اور فار ایسٹ کی طرف جاتے ہیں چھٹیوں میں۔ تو وہ چیزیں ہم بھول گئے ہیں کہ اصحاب کہف کا غار ابھی بھی وہیں پر ہے۔ وہ صحابی درخت اردن کے صحراؤں میں ابھی تک کھڑا ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے اور میں یہ تمام چیزیں لوگوں تک پہنچاتا رہوں گا ان شاء اللہ –

ڈاکٹر صاحب آپ کا وقت دینے کا بہت شکریہ –

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے