سر ورق / جہان اردو ادب / فارس مغل ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

فارس مغل ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

آج میرے ساتھ میرے قریبی ساتھی ادیب دوستوں میں سے ایک جناب محترم فارس مغل صاحب ہیں ۔۔ آپکا تعلق بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ شہر سے ہے ۔ انکے متعلق بتاتا چلوں کہ فارس مغل نے اردو ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ۔ شکل و سیرت دونوں خوبصورت انتہائی پرکشش ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ انکی طرف کھینچے چلے آتے ہیں ۔ فارس مغل ان ادباء میں سے ہے جسکے پاس موضوعات کی کمی نہیں فن افسانہ شاعری اور ناول پہ کمال کی حد تک دسترس حاصل ہے جتنی ان میں بیشمار خوبیاں اور صلاحتیں ہیں وہیں مجھے ایک افسوس بھی ہے کہ مستقبل اور حال کے بڑے رائیٹر کو لوگ ضائع کر رہے ہیں ۔ فارس نے ہمجان لکھ کر ادبی دنیا میں ادباء کو اپنے ہونے کا جہاں احساس دلایا وہیں قارئین کے دلوں میں بسنے لگے ۔ اسکے بعد حال ہی میں انکا ناول سو سال وفا منظر عام پہ آیا جسکا موضوع اتنا حساس اور پیچیدہ ہے میرا خیال ہے خیال ہے ایسے موضوع کو چننے میں بڑے سے بڑا ادیب بھی شاید کتراتا ہو گا ۔ بلوچستان کی اندرونی صورتحال کو کہانی کی صورت لے کر چلے ہیں جہاں محب وطنی کا درس بھی ہے قلم علم و ادب کیطرف توغیب بھی دلائی گئی احساس محرومی اور کمتری دور کرنے کے کئی نظریات اور فلسفہ بھی دیا گیا ۔ کل ملا کر فارس نے جو پیغام پہنچانا چاہا وہ پہنچا کر رہے مزید ناول کے متعلق بات نہیں کرونگا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ محب وطن قاری کو فارس مغل کا سو سال بعد وفا ناول پڑھنا چاہیے ۔۔ آئیے اب زرا فارس مغل سے علمی و ادبی گفتگو ہو جائے زرا ۔۔

جہان اردو ادب

مہمان ۔۔ فارس مغل ( کوئٹہ پاکستان)

میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار ( حاصلپور ۔ پاکستان )

سوال: آپ کا اصل اور قلمی نام کیا ہے؟

جواب: میرا نام ڈاکومنٹ میں غضنفر علی ہے جبکہ قلمی نام فارس مغل ہے۔

سوال:تعلیمی اور خاندانی پس منظر؟

جواب: الحمدللہ میرے والدین تعلیم یافتہ ہیں میری والدہ شادی سے پہلے یعنی ساٹھ کی دہائی میں گورنمنٹ ٹیچر رہ چکی ہیں میرے والد نجی کول کمپنی میں ’چیف سروئیر‘ تھے۔میری ابتدائی تعلیم کا میڈیم انگریزی تھا بعد ازاں ایم اے سوشل ورک اور ایم اے ایجوکیشن تک اردو سے عشق ہوچکا تھا۔

سوال: ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے؟

جواب: اس بارے میں وثوق سے کچھ کہہ نہیں سکتا البتہ یہ جانتا ہو ں کہ اسکول سے یونیورسٹی تک کتب بینی کا شوق ایک روز چپکے سے لکھنے لکھانے کی راہ پر ڈال گیا۔

سوال: پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی؟

جواب: ماہنامہ”شاد”کوئٹہ میں میرا پہلا افسانہ شائع ہوا۔سال ٹھیک سے یاد نہیں غالباً ۲۰۰۶ یا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔اس سے پہلے صرف شاعری کا بھوت سر پر سوار رہتا۔پہلی نظم ایک روزنامے میں ۱۹۹۷ء میں چھپی تھی۔

سوال: ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق؟

جواب: میری فیملی میں تو اردو ادب کارسیا ماضی قریب کیا ماضی بعید میں بھی نہیں پایا جاتا جبکہ میرے تمام دوستوں میں سے فکشن کی جانب صرف میرا میلان تھا ہاں جب میرا اولین ناول’’ہمجان‘‘ ۲۰۱۲ء میں منظر عام پر آیا تو سب کے چہروں پر خوشگوار حیرت دیکھنے کو ملی۔

سوال: صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا؟

جواب: یونیورسٹی کے زمانے میں تو شاعری کی حوالے سے لوگ تھوڑا بہت جانتے تھے مگربطور ادیب اصل پہچان ناول’ہمجان‘کی اشاعت کے بعد بنی۔یہی وہ میری اولین تخلیق ہے جس نے مجھے ادبی حلقوں کے اندر صحیح معنوں میں متعارف کروایا ہے۔

سوال:آپ کے ادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو؟

جواب: میں بڑی حد تک گوشہ نشین ہوچکا ہوں۔ ادبی محافل میں نہیں جاتا۔اتنی کتابیں میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں پڑھی ہوں گی جتنی کتب کا گزشتہ دس برسوں میں کر چکا ہوں اور یہی کتابیں میری بہترین دوست اور رہنما ہیں ۔ان کے علاوہ ’فیس بک‘ پر آپ جیسے دیگر اور بہت سے پیارے دوست ہیں میں جن کی ادبی اور علمی قابلیت کا معترف ہوں ہاں یہ اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں برادرمحمود ظفر اقبال ہاشمی اور بھارت میں محترمہ نگار عظیم صاحبہ ، یہ دونوں وہ عظیم شخصیات ہیں جو میرے ادبی حلقہ احباب میں سب سے پہلے داخل ہوئیں اور اب تک میرے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔

 

سوال: آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟

جواب: میری رائے میں ادب معاشرے میں تبدل و تغیر کا میرِ کارواں ہے اورآج کا قاری ادیب سے اس’ احساسِ ذمہ داری‘ کا متقاضی ہے جس کے بعد سماج میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوسکیں۔تاریخ گواہ ہے کہ ادب انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

سوال: کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان؟

جواب: اس تحریک کا محرک انقلابِ روس ہے جب عالمی سطح پر سماجی سیاسی اور معاشی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئی تھیں ۔میری رائے میں نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہوا۔ترقی پسند تحریک نے بورژاویت کے بت پر کاری ضرب لگائی اور پرولتاریہ کے استحصال پر آواز بلند کی اگر آپ اس دورِ غلامی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترقی پسند تحریک کے مینی فیسٹوکا بغور مطالعہ کریں تو آپ بھی قائل ہوجاتے جس میں کارل مارکس کے اشتراکی نظریہ کی اردو ادب میں ترجمانی کی گئی ہے مثلاً ادب کو معاشرے کا ترجمان ہونا چاہیے، آزادی اور جمہوریت کا علمبردار ہونا چاہیے اور اسے سامراجیت اور فاشزم کی مخالفت کرنی چاہے، رجعت پسندی،تنگ نظری، روایت پرستی اور ماضی پرستی کی مخالفت کرنی چاہیے وغیرہ۔ اس تحریک سے اردو ادب میں ایک انقلاب پیدا ہوا جس سے ادب کو بہت زیادہ فروغ ملا اور ساتھ ہی سماجی زندگی میں ترقی اور آزدی کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

سوال: ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے؟

جواب: جدیدیت دراصل فرد کے داخلی کرب کا اظہا رہے آج اردو ادب کن رجحانات کے زیر اثر پروان چڑھ رہا ہے اس سوال کا جواب اردو ادب کی اْن نفسیاتی، رومانی،مارکسی،ترقی پسند تحریکوں سے وابستہ ہے جن کا سلسلہ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں جاری رہا۔ ان میں 60ء کی جدیدیت کے رجحان نے تمام اصنافِ ادب کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ مابعدجدیدیت کا راستہ بھی ہموار کیا۔جدید افسانہ موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے وجودی فکر کے تحت آیا۔ ساخت تبدیل ہوگئی اورداخلی احوال کا تخلیقی جوہر ابھر کر سامنے آیا مگر اردو ادب میں جدیدت اور مابعد جدیدت کی گھتی سلجھانا اس قدر سہل امر نہیں ہے خاص کر اردو ادب میں جوہری تغیر کے حوالے سے۔میری رائے میں آج کا جدید افسانہ ہئیت اور موضوعاتی سطح پر جس تجریدی تجربے سے دوچار ہے اس میں قاری کے لیئے سب سے بڑی رکاوٹ ترسیل کی ہے۔کوئی بھی بڑی تخلیق ترسیل کے بغیر عام قاری کے لیئے غیر اہم ہے جدیدت کے نام پر لکھے گئے کئی فن پارے ابلاغ کے معاملے میں روایتی افسانے سے بھی کئی کوس پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔علامتی تجریدی افسانوں کی گھتیاں سلجھانے کے لیئے قاری کی ذہنی صلاحیت اعلٰی ادبی ذوق سے مشروط ہے بصورت دیگر اوسط ذہن کا قاری جدید افسانے کے نام پر لکھی جانے والی پہیلیوں کو بوجھنے کی بجانے روایتی افسانے کی کہانیوں میں ہی سکون کا سانس لے گا۔

سوال: کیا آپکی نظر میں موجودہ ادب کا قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب؟

جواب: عصرِ حاضر میں تو خیر بہت اچھا ادب تخلیق ہورہا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کتب بینی سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔میری رائے میں پہلے تو’ کتاب دوستی‘ کی جانب ٹھوس اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے اس کے بعد ہی اس بارے کوئی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ قاری ادب \سے مطمئن ہے یا نہیں۔

سوال:  کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا

کام کیا مگر اب فقدان؟

جواب: عالمی سطح کا ادب تخلیق کرنے کے لیئے ہمیں انگریزی سے گلو خلاصی اور اردو زبان کو ہر سطح پر رائج کرنا ہوگا بس وہ قوم زندہ ہے جس کی زبان زندہ ہے۔قومی زبان ہی کسی بھی ملک کے عوام کا تشخص ہوتی ہے اور ہم اپنا یہ تشخص کھو رہے ہیں موجودہ نسل رومن اردو کی جانب گامزن ہے کتابیں نستعلیق میں شائع ہورہی ہیں انگریزی میڈیم کی بیل اردو شاعری افسانہ ناول کی دیوار چڑھنے سے قاصر ہے اردو میڈیم کے پودے خزاں اور بہار کے درمیان کھڑے کانپ رہے ہیں آدھے تیتر آدھے بٹیر، تربوز کی مانند اوپر سے سبز اندر سے لال۔۔۔اس صورتحال میں تو مجھے اردو ادب کا مستقبل بھی زیادہ روشن دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ہاں اردو ادب میں ایسی تخلیقات موجود ہیں جنہیں اہلِ مغرب کے حوالے کیا جاسکتا ہے دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے روزبروز فاصلے سمٹتے جارہے ہیں مغرب مشرق کے مابین ادبی حوالوں سے جہاں رکاوٹیں ہیں انھیں دور کرنے کی سعی کرنی چاہیئے۔ ہمارا ادب مغرب سے متاثر ہے مگر ہمارے موضوعات بہت حد تک مغرب میں کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں۔فی زمانہ مجھے افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ ہمارا مقامی قاری اردو ادب کو عالمی سطح تک پہنچانے میں معاون ثابت نہیں ہوسکتا اس کے لیئے ہمیں ترجمے کا سہارا لینا پڑے گا اور یہ کوئی نئی روایت نہیں ہے کئی ممالک میں مقامی زبانوں کے لکھاری جب انگریزی میں ترجمہ ہوئے تو گارشیا مارکیز،نجیب محفوظ اور پائلو کوئیلو بن گئے۔۔۔ آج ہمارا ادب اور ادیب جس دور سے گزر رہے ہیں اسے ایک نظرئیے یا تحریک کی ضرورت ہے جو عالم میں ہمارے آزاد اور غیرجانبدارانہ ادب کی اہمیت کو واضح کرے۔

سوال: آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار۔۔ کس وجہ سے؟

جواب: عبدللہ حسین، شوکت صدیقی، انتظار حسین ،کرشن چندر، منٹو ۔۔۔موجودہ دور کے فکشن نگاروں کی فہرست کافی طویل ہے اس لیئے ایک دو نام بتانا ناممکنات میں سے ہے ۔

سوال: ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے؟

جواب: ایسا نہیں ہے آج بھی بہترین افسانہ لکھا جا رہا ہے جہاں تک موضوعات کے چناؤ کی بات ہے تو ہمارے معروض سے جڑے مسائل مغربی دنیا سے الگ ہیں ہمارا خطہ دہشت گردی، لاقانونیت، جنگ ، آبی وسائل میں کمی، انصاف کے فقدان ، گندگی کے ڈھیر، ہر سطح پر استحصال جیسے ان گنت مسائل سے نبردآزما ہے ہمارے موضوعات کا چناؤ چاند اور اس سے آگے مریخ کی گھتیاں سلجھانے کو سردست چھو بھی نہیں سکتا۔جدت کے نام پر لے دے کر "جنس” کا موضوع رہ جاتا ہے جسے کہانی میں ڈھال کرہم گھٹن زدہ ماحول میں اپنے تئیں "ٹھنڈا سانس” لے کر اچھلنے لگتے ہیں۔ادیب خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قاری کی ذہن سازی کر سکتا ہے ادب پرور معاشروں میں سسٹم کو بدلنے کے لیئے افسانہ ناول شاعری کوایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے دورِ حاضر میں شیکسپئرکے ڈراموں سے فلموں کے مضبوط اسکرپٹ تیار کر کے پیش کیئے گئے ہیں اور وہ فلمیں کامیابی سے ہمکنار بھی ہوئیں۔یعنی پامال موضوع بھی نئے ٹریٹمنٹ میں ڈھل کر آج کی نسل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سوال: آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا؟

جواب: تنقید کا تعلق تخلیق سے ہے ادب پاروں سے حاصل کردہ نتائج پر فنی تخلیقات ہی تنقیدی اصول کی بنیاد ہے مگر چونکہ تخلیق اپنے ساتھ نئے رحجانات اور معیار لے کر آتی ہے اس لیئے میری رائے میں تنقید کے رائج اصولوں کو وقت کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہے نقاد کا ایک ہی نمبر کے چشمے سے ساری زندگی تخلیقات کو پرکھنا درست نہیں ہے ایلیٹ نے کہا تھا کہ "ہر دور کا عظیم فن پارہ اپنے تنقیدی اصول لے کر پیدا ہوتا ہے” گویا پرانی ڈور سے تیز ہوا میں اڑتی جدید پتنگ کو سنبھالا نہیں دیا جا سکتا۔ہاں یہ درست ہے کہ ایک زیرک نقاد ہی تخلیقکار کو ذرے سے آسمان میں چمکتا ستارہ بنا سکتا ہے کہ تخلیقکار بھی عقلِ کْل نہیں ہوتا۔

سوال: مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے؟

جواب: مجھے اجازت دیجئے کہ میں سوال میں لفظ ” مغرب” کی جگہ "عالمی” لگا کر جواب دوں۔۔ پہلا نام مصر کے نجیب محفوظ کا ہے ترقی پسند ادیبوں کی فہرست میں نجیب محفوظ کا نام نمایاں ہے جنہوں نے عربی ناول کو عالمی سطح پردور جدید کی ترقی یافتہ زبانوں کے ادب کے مقابل لا کھڑا کیا۔اور دوسرا نام "یشار کمال” کا ہے جو ترکی میں صفِ اول کا ناول نگار ہوتے ہوئے بھی ترکی میں banned ہے یشار کمال نسلاً کرد ہے اس کے ناولوں میں کیسے کیسے درد پنہاں ہیں یہ الم صرف وہی جان سکتے ہیں جو اس کی کتاب سرہانے رکھ کر سو نہیں پاتے۔

سوال: اردو ادب میں افسانچہ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں؟

میری رائے میں تمام جدید تجربات کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سوال: زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش؟

جواب: زندگی دھوپ چھاؤں کا نام ہے اسے راضی بہ رضا ہو کے گزارنے میں سکون ہے میرے نزدیک خواہشات کا عذاب پالنے والے زندگی کی رعنائیوں سے محروم رہتے ہیں۔بہرحال زندگی کی پہیلی مشکل تو ہے۔ یہاں اپنا ہی ایک شعر یاد آرہا ہے۔۔

یہ جان جاؤ گے کیوں خدا کو تڑپ تڑپ کے پکارتے ہیں

وہ زندگی تم گزار دیکھو، جو زندگی ہم گزارتے ہیں

سوال: محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی؟

جواب ۔۔ جی محبت نہیں محبتیں ہوئی ہیں۔در اصل محبت اور نفرت ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں محبت کرنے والا نفرت کی رمز سے واقف ہوتا ہے اور اسی طرح نفرت کرنے والا محبت کی۔ میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے محبت میں نفرت کی ہے یعنی خود کو تباہ کر لیا۔ اور ایسے بھی دیکھے جنہیں جب محبت نے اک بار چھو لیا پھر نفرت کو مڑ کے نہیں دیکھا۔شدید نفرت بھی محبت کی ایک قسم ہے جس میں سے انتقام اور غصے کو منہا کر دیا جائے تو حاصل ضرب بے پناہ محبت ہوگی۔

سوال: اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ؟

جواب: انمول واقعہ تو یہی رونما ہوا ہے کہ میں اپنے خاندان میں پہلا فرد ہوں جسے کتابوں سے عشق ہوا ہے۔

سوال: آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ؟

جواب: بہت سے لوگ اب بھی نہیں جانتے کہ میں ۲۰۰۹ء سے وہیل چیئر پر ہوں۔

سوال: اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام؟

جواب ۔۔فی زمانہ یہی ایک پیغام پھیلانے کی ضرورت ہے کہ” کتاب دوستی” کو جس قدر ممکن ہو فروغ دیجئے..

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سید کامی شاہ ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سید کامی شاہ ۔۔۔۔۔ انٹرویو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اردو لکھاری ڈاٹ کام) میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار  1..آپ کا اصل …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    سلیم انور عباسی

    فارس مغل میرے لیے محبت و جرئت کا استعارہ ہیں جن کا ناول ہم جان پڑھ کر جانا کہ محبت ہی زیست کا حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے