سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

 

سر اپنا جو نزدیک سے دِکھلاتا ہے گنجا

دل زوجہ کا اِس طرح بھی متلاتا ہے گنجا

اِک بار تو ہر چیز کی رُک جاتی ہیں سانسیں

کنگھا جو کبھی ہاتھ میں لہراتا ہے گنجا

ڈیشنگ ہو کوئی ہم سا تو پھر سامنے آئے

آئینے میں خود سے یہی فرماتا ہے گنجا

جیسے کسی تربوز کو ٹانگیں سی لگی ہوں

یوں دور سے دیکھیں تو نظر آتا ہے گنجا

ٹوپی جو اُتارے تو نکل آتا ہے ہیلمٹ

حیران و پریشان کئے جاتا ہے گنجا

بینگن کبھی لگتا ہے تو ٹینڈا کسی لمحے

ہر روپ میں ڈیسینٹ نظر آتا ہے گنجا

اُس پار کی لٹ کھینچ کے لاتا ہے جو اِس پار

صحرا پہ کوئی پُل سا بنا جاتا ہے گنجا

جوﺅں کے تو جل جاتے ہیں فورا! وہیں پاﺅں

جب ٹنڈ کو لئے دہوپ میں آ جاتا ہے گنجا

دہوتا ہی چلا جاتا ہے دھونے جو لگے منہ

ماتھے سے کمر تک بھی پہنچ جاتا ہے گنجا

جاتے ہوئے آتا ہوا دیتا ہے دکھائی

ہر سمت سے اِک جیسا نظر آتا ہے گنجا

سر تیل سے چمکاتا ہے جب مار کے ٹاکی

ایسے میں تو سورج کو بھی چندھیاتا ہے گنجا

اولے تو بڑی بات ہے ، بارش بھی پڑے تو

سر دیر تلک بچوں سے دبواتا ہے گنجا

اِک بار تو ہو جاتا ہے نائی بھی پریشاں

جھالر اسے گردن کی جو پکڑاتا ہے گنجا

خالد محمود

کہنی ہے اِک غزل کہ ہوجس کی ردیف ”سانپ“

موٹا بہت ہو سانپ یا بالکل ںنحیف سانپ

شکلِ بشر میں سانپ ملے مارِ آستیں

لیکن گھنے بنوں میںملے ہیں شریف سانپ

چشمہ لگا کے خوب لگاتا تھا قہقہے

 دیکھا تھا ہم نے خواب میںکل اِک ظریف سانپ

 پالا ہے ایک سانپ یہاں گوری میم نے

 ”بیکن “وہ کھا رہی تھی تو کھاتا تھا ”بیف“ سانپ

 جو سانپ،سانپ گھر میںہیںبے حدنفیس ہیں

بیت الخلا میں آتے نظر ہیں کثیف سانپ

 میدانِ جنگ ایک تھا زیرِ زمیں نہاں

فوجیں تھیں کنکھجوروں کی اور اُن کا ”چیف“ سانپ

 ہوتے تھے پاﺅں سانپ کے’ تورات ‘ یہ کہے

 وہ چھِن گئے ، بنا جو بدی کا حلیف سانپ

بیگم بہت نحیف تھی ، بِل میں تھی وہ پڑی

 اُس کو پلانا ” سُوپ “ تھا، لایا تھا قیف سانپ

 یارو! سمجھ لو دونوں میں کیا ہیں تعلقات

ڈاکو تھا اژد ہا تو بنا ایک ” تھیف“ سانپ

 عہدِ شباب یاد کیا تو اُداس ہے

پہلے جوان سانپ تھا ، اب ہے ضعیف سانپ

 اے پھول ! تیرے پہلو میں رانی ہے رات کی

ہشیار ہو کہ بن گیا تیر ا حریف سانپ

تنویر پھُول

تمہاری دو رُخی آنکھوں کو ہم نے جھیل کرنا ہے

یہاں ہر شخص کو مکھن لگا کر ڈیل کرنا ہے

ہماری ساس کو اللہ نہ بخشے اس حیاتی میں

فقط مقصد یہی، داماد کی تذلیل کرنا ہے

ہمارے واسطے سرکار ہے سسرال بھی اپنا

ہمارا کام ہے اِتنا کہ بس تعمیل کرنا ہے

حسیناﺅں کو جب بھی دیکھنے پر آئیں یہ لڑکے

تو یہ لگتا ہے نظروں سے اُنہیں تحلیل کرنا ہے

ہماری آنکھ سے نکلے ہوئے آنسو جمع کر لو

کہ ہم نے ایک دن اس کی گلی کو نیل کرنا ہے

سید فہیم الدین

جس لڑکی سے مار وہ اکثر کھاتا ہے

اُس کے ابا سے پٹی کرواتا ہے

اک دن اُس کے نقشِ پا کو چوما تھا

وہ سمجھی یہ اب بھی مٹی کھاتا ہے

اُس نے ہر لڑکی کو ٹوٹ کے چاہا تھا

اب وہ دل کے ٹکڑے ویلڈ کراتا ہے

وہ شوگر ہونے سے ڈرتا ہے اِتنا

میٹھی باتوں سے ہی دل بہلاتا ہے

آج کی ہیر تو بھینسوں سے ناواقف ہے

رانجھا اب اُس کی گاڑی نہلاتا ہے

اُس کی ایک سہیلی مجھ سے کہتی تھی

کیوں بھینسوں کے آگے بین بجاتا ہے

سعدی سا بزدل کس کھیت کی مولی ہے

بیوی سے تو رستم بھی ڈر جاتا ہے

ڈاکٹر سعید اقبال سعدی

ترے واسطے دو جہاں چھوڑ آئے

محلے کی سب لڑکیاں چھوڑ آئے

تمہاری گلی میں لگایا ہے کھوکھا

وہ چلتی چلاتی دکاں چھوڑ آئے

سڑک پار کرتے ہوئے بولی بھائی

سڑک کے جسے درمیاں چھوڑ آئے

حقیقیت کھلی کل کہ خواجہ سرا تھا

وہ گھر تک جسے دو جواں چھوڑ آئے

نہیں ڈالتی گھاس بھی اب ہمیں وہ

وہ جس کے لئے اپنی گاں چھوڑ آئے

حسینہ کی شادی پہ مہندی کے دن ہم

سلینسر کا اپنے دھواں چھوڑ آئے

پلٹتی جھپٹتی رہی پہلی بیوی

یہ شیروں کی خالہ جہاں چھوڑ آئے

جو اماں تھی گھر میں تو بیوی تھی میکے

جو بیوی کو لائے تو ماں چھوڑ آئے

ہمیں دوسری شادی کر کے ملا کیا

یہ منجھ لے کے آئے وہ گاں چھوڑ آئے

مروڑیں پڑی ہیں رقیبوں کے ٹڈمیں

کل اسلام لمبی جہاں چھوڑ آئے

اسلام الدّین اسلام

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

جری ابنِ جری ہوں، وہ سدا اعلان کرتا ہے بڑا رُستم بنا پھرتا ہے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے