سر ورق / جہان اردو ادب / سلیم انور عباسی ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سلیم انور عباسی ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

( جہان اردو ادب ) سلسلہ میں میرے ساتھ جو مہمان میرے ساتھ موجود ہیں آپ ایک سندھی ادیب ہیں بہترین مبصر ہیں اور شعبہ صحافت میں اپنا اپنی مثال آپ ہیں یہی وجہ ہے کہ صحافت میں آپکا مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ محترم سلیم انور عباسی چونکہ میرے اچھے دوست اور راہنما بھی ہیں انکی شخصیت کے متعلق بس اتنا کہنا چاہونگا کہ انتہائی مخلص شفیق اور محبت کرنے والی شخصیت ہیں ۔ مجھے جب کبھی بھی اپنی تحریروں کے متعلق راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو میں سلیم انور عباسی صاحب کو جب بھی یاد کرتا ہوں آپ دوڑے چلے آتے ہیں اور مجھ نالائق کی کمیوں کوتاہیوں سے گاہے باہے آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔۔

جہان اردو ادب

مہمان ۔۔ سلیم انور عباسی ( لاڑکانہ ” سندھ پاکستان )

میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سوال ۔۔ آپ کی ولادت ”  اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب۔۔ ہمارا اصل نام سلیم انور عباسی،قلمی اسما ساگر سلیم،دانش سلیم،نجیب اسد ہیں جن سے گاہے بہروپ بدل کر لکھتے ہیں۔۔ ہمارا جنم لاڑکانہ  کے قریب واقع ہریالی و سبزے میں گھرے بہت مختصر آبادی والے گاؤں دودو سنھڑی میں 19دسمبر1969 کو کڑی دوپہر کے سمے اس وقت ہوا جب بچھیا نے بچھنی کو جنم دیا۔ابتدائی تعلیم لاڑکانہ کےانگریزوں کے بنائے ہوئے وسیع عریض  پائلٹ ہائی اسکول سے حاصل کی اورکراچی میں آنے کے بعد بی اے تک تعلیم کا سلسلہ گورنمنٹ کالج فار مین ناظم آباد سے مکمل کرکے ایم اے انگریزی میں کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لیا،جہاں پورا انگریزی ادب تو چاٹ لیا لیکن سند لیے بغیر صرف اس بات پر روٹھ کر چلا گیا کہ ہمارے انگلش ڈپارٹمنٹ کے چیئرمینمسعود صاحب نے کہا کہ شیکسپیئر کا ترجمہ نہیں ہوسکتا اور ہم یہ کہہ کر چلے آئے کہ ’’ہونا نہ ہونا سوالِ دگر ہے‘‘ بعد ازاں وہ بارہا کہتے رہے آؤ آکر ڈگری لو لیکن صحافت کی دنیا میں آنے کے بعد کسے فرصت پلٹ کر دیکھے تاہم کراچی یونیورسٹی میری یادوں محبتوں کا وہ گلستان ہے جہاں کے ہاسٹل میں گزارے ایام ،سارا دن بیٹھ کر ہیملٹ پڑھنا ،ہر وقت رومانوی شاعری کو یاد کرنا کبھی نی بھولﷺ گا، میرا شمار دنیا کے ان خوش قسمت لوگوں میں ہوتا ہے کہ اگر آج بھی جامعہ کراچی کا دروازہ پار کرکے اندر جاؤں تو وہی محبت کے کھلتے گلاب ملتے ہیں،۔اب بھی پریم گلی میں میری محبت کی صدائیں ہیں۔اب بھی لڑکیاں روک روک کر پوچھتی ہیں:’’ایکس کیوز می! آپ کا نام عباسی تو نہیں! بڑے چرچے سنے آپ کے کہ ان فضاؤں نے ایسا دیوانی عاشقدیکھا جس کے لیے محبت اور کتاب عبادت ہوا کرتی! وہ پہروں بیٹھا صرف دیکھتا !کبھی نی کسی کو کہا:’’مجھے تم سے محبت ہے۔آپ کو یاد ہے مشہور ٹی وی اداکارہ ثانیہ نے کیسے آپ کا نفسیاتی انٹرویو لیا اور کیسے آپ کے جوابات نے انہین فرسٹ پوزیشن  دلادی!۔آج بھی آپ ہو بہو ایسے ہیں۔تب ہم نے کہا من کے سچے تبدیل نہیں ہوتے۔ضمیر کا سودا کرنے والے کبھی شاد نہیں ہوتے! اور جب صحافت کی دنیا میں آیا تو جانا ہمارے سیاست دان بھی کیسے وفا داریاں تبدیل کرتے ہیں۔سب کو دیکھ لیا۔اب عمران کو دیکھنے میں بھی کوئی ہرج نہیں۔اک اسی امید پر ہی تو عوام نے ووٹ دیا نیا پاکستانی م بھی تو دیکھیں۔

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔ تعلیم بی اے کراچی یونیورسٹی والدِ محترم انور عباسی بھی شاعر و افسانہ نگار اور انگریزی گرامر کے مانے جانے والے اساتذہ میں شمار ہوتے۔۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ ادب سے لگاؤبچپن سے تھا۔ٹارزن کی کہانیوں سے ابتدا کرتے ہوئے مکمل کلاسیک ادب تک پہنچے۔افسانہ،ناول،شاعری،سائنسی ادب سائنس فکشن،تاریخ،فلسفہ،مابعد الطبیعیاتی علوم اور انسائیکلوپیڈک معلومات تک زیست کو کئی رنگوں سے کتابوں سے جانا۔ادب اظہار کا سلیقہ پایا ایک آدھ افسانے کے جوہر دکھا کر آج کل روزنامہ جنگ میں مدیرِ متن یعنی کانٹینٹ ایڈیٹر ہیں۔۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ پہلی کہانی ’’’زیست کے زہر کو امرت کیا‘‘ لکھی جو سندھی زبان کے معروف ادبی جریدے نئوں نیاپو میں چھپی جسے بعد ازاں ہندستان سے بھی پذیرائی ملی۔۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔  مجھے سندھی ادب نے بہت مان دیا۔ایک ہی تخلیق نے امر جلیل کے مقابل لاکھڑا کیا۔کافکا میرا نام ہی پڑ گیا کہ ان کے میٹا مورفسس کا شارح رہا ،ڈکشنری اور اقوام کی انسائیکلو پیڈیا لکھی تو دانشور کہلایا۔کبھی کسی نے طنز سے نہیں نوازا ہر سو اللہ کے کرم سے محبت کی مالائیں پہنائی گئیں۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔ آج کی رات ٹھہر جا‘‘ یہ وہ افسانہ تھا جسے پڑھنے والے اب بھی یاد کرتے ہیں دوبارہ تخلیق کرنا بھی چاہوں تو شاید نہ ہوسکے کہ زندگی اور تخلیق ایک بار ہی ملتی ہے۔یہ بھی سندھی زبان میں تحریر کیا۔۔اردو ادب کی بات کی جائے تو ایک کہانی لکھی ہے جو منتظر اشاعت ہے انہماک ادبی جریدے میں اور ہم ان میں سے نہیں جو ہر اک کو ایک ہی افسانہ دے کر خود کو شرمسار کریں۔۔

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ میرے ادیب دوستوں میں انعام عباسی کو پہلے نمبر پر رکھتا ہوں کہ سندھی ادب میں میرے روحانی استاد ہیں ۔جب کہ اردو ادب و ثقافت میں میرے گرو میرے مرشد سید قاسم محمود رہے جن کی بدولت میں تحریر کی دنیا میں آیا سائنس میگزین، افسانہ ڈائجسٹ سے ہوتے انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا تک تعلق و وابستگی کی ایک طویل تاریخ ہے۔رئیس امروہوی صاحبِ عالم کو بھلا دینا بے واجبی ہوگی جن سے روح کی گہروائیوں میں جھانکنے کا سلیقہ پایا پھر شکیل عادل زادہ سا متبسم چہرہ جن سے ہر سو ملاقاتیں رہتی ہیں۔ڈاکٹر محمد علی صدیقی صاحب معروف ناقد میرے ہم محلہ تھے نارتھ ناظم آباد میں جو اکثر بہت پیار سے متبسم لہجے میں کہتے سب زبانیں عظیم ہیں کیوں کہ ماں عظیم ہوتی ہے مادری زبان کا بھی یہی رتبہ و مقام ہے،زیب اذکار حسین،رفاقت حیات، آصف فرخی سمیت جن جن اہل دانش سے ملا بہت اسیر ہوا،اجمل کمال علی اکبر ناطق شاہد حمید سے شاہکار ادیبوں سے شناائی و تعلق اک نعمت جانیے ان میں عقیل عباس جعفری صاحب کا نام بی فہرست میں شامل کیجیے۔سندھی ادب کے زریں ستاروں میں شیخ ایاز،شمشیر الحیدری،علی بابا اورتاجل بے وس میری ادبی حیات کے اٹوٹ انگ رہے۔۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ معاشرے کی تفہیم ادب دیتا ہے اور آج کا قاری ادیب سے ادب چاہتا ہے جو دل کے تار چھیڑ دے۔یہ خدمت میرے لحاظ سے کما حقہ ہورہی ہے سب بساط مقدور بھر زندگی کے رنگ پینٹ کر رہے ہیں جنہیں قاریپڑھتا ہے بات بھی کرتا ہے۔قاری ادیب سے تخلیقات کا طلب گار ہے لیکن آج کل اردو سندھی کے سارے ادیب کالم نگار بن کئے ہیں،انورسن رائے صاحب کے بقول پیٹ کی آگ بجھائیں یا ادب لکھیں پھر بھی انہوں نے چیخ اور ذلتوں کے مارے لوگ جیسے شاندار ناول دئیے جنہوں نے مجھے جریدہ صحافت سے روزنامہ صحافت میں متعارف کروایا روزنامہ پبلک کے ذریعے۔۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ بہت زیادہ یہ تحریک نہ ہوتی تو ہمیں بے مثال افسانہ نگاروں کی پوری نسل نہ ملتی نہ ہم سے آشفتہ سر پہچانے جاتے اس تحریک کے اردو اور پاکستانی زبانوں کے ادب پر دیرپا اثرات ہیں جو اب بھی موجود ہیں۔۔

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔ ہم جس عالمگیریت کے ماحول میں بستے ہیں وہاں جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی ادبی تحاریک سے متاثر ہونا اور اس کے تتبع میں لکھنا فطری عمل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا تاہم ان نظریات کے عملی اطلاق کے لیے ابھی ہمارا قدامت پسند معاشرہ کم از کم ایک صدی ضرور لے گا۔ ابھی تو ہم ہجرت اور تقسیم ہند کے کرب سے نہیں نکلے جب ہمارے پاکستانیوں کی 10ویں نسل پیدا ہو تو وہ نئے امکانات کی دنیا کو تخلیق کرے پاکستانی ثقافت کی تشکیل ہو جہاں تمام پاکستانی جملہ تعصبات اور تنگ نظریوں سے پاک ہوجائیں۔پھر کہیں جاکر ہم جدیدت  و مابعد جدیدیت کو اپنے ماحول سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پوری دنیا کے لوگوں کے ساتھ  ہم آواز ہوکر بین الاقوامی شہری بن جائیں گے۔۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔ اردو ادب نئے قاری کو اپیل نہیں کرتا وہ انگریزی ادب کے پاس چلا گیا ہے اردو ادیبوں کے شخصی کج آرائیوں اور تو میرا حاجی میں تیرا حاجی سے بیزار ہوکر اب نیا قاری اپنے ذہنی افق کو وسیع کرنے کے لیے انگریزی ادب سے رجوع کر رہا ہے اس لیے کہ اب اس کے لیے اسمارٹ بکس انگلش میں تو ریڈنگ لرننگ ہیں لیکن اردو میں متحرک توانا بیدار کرنے والی کتب اور مظالعاتی تدریس بہت اجنبی سادکھائی دے رہا ہے۔اب تو دیدہ زیب باورچی خانہ اجنبی سا لگتا ہے اہلِ خانہ ہو وہ اسمارٹ کچن پسند کرتی ہیں اور انہیں لائیف اسٹائل بھاتا ہے نہ کہ طرزِ حیات ۔اب ہمارے اشتہارات بھی انگریزی نما اردو بن گئے ہیں۔رومن اردو تو لکھ سکتے ہیں لیکن نستعلیق اردو کے لب و لہجے ے آج کا قاری دور ہے۔ہم نے احبابِ ستائشِ باہمی کے تحت تو اردو کو زندہ رکھا ہوا ہے لیکن نئی نسل ہمیں خبطی آؤٹ ڈیٹیڈ کہتی ہے ان کے لیے مدت الخارج سا لفظ اجنبی ہے اور وہ اپنی مادری زبان کو کہتے ہیں ہماری مدر لینگویج ڈیڈ ہوچکی۔یہ ہے اردو ادب کا المیہ۔۔۔ہم آپ جس ماحول کے پروردہ رہے وہاں ہر ماں کی عزت و تکریم رہی اب کے ریڈر قاری نہیں رہے جو قرئتِ قرآن کرین۔اب تو ہم بھی پروڈکٹ ہوگئے ہیں کون کیسے خود کو کمرشیل کرتا ہے ننھے پروفیسر زیڈان خان کی طرح وہی اب بقا پائے گا۔۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔

جواب۔۔ عالمی معیاری اردو ادب کی بات کی جائے تو مغرب اور ہم میں ایک واضح فرق یہ دکھائی دیتا ہے کہ ماضی میں آپ کو یاد ہوگا ہر سال اردو ادب کی ییئر بک آیا کرتی جس میں سال بھر کے نمائندہ اور منتخب افسانے شایع ہواکرتے اور اس کے مطالعے سے قاری سے ادیب و نقاد جنم لیتے لیکن 80 کی دہائی کے بعد ہماری ادبی ترجیحات تبدیل ہوکر سستی شہرت اور شارٹ کٹ کی نظر ہوگئیں ۔اینتھالوجیز کا کام ختم ہوا۔بیسویں صدی کے افسانوں کے انتخاب بھی آئے تو معیار سے زیادہ پی آر کی بنیا دپر کئی یار لوگوں نے اپنے طبع شدہ مضامین کی کتابیں چھپواکر اعزازات و اتعامات پائے ایسے میں گر ہم بھی ایسا کرتے کہ اپنا سو صفحے کا توصیفی مجلہ شایع کرتے تو شاید احباب جانتے ٹائیم 100 کی مکمل سیریز کا ترجمہ کیا،ہمزاد کیا ہے؟ روحوں کے مظاہر کے مترجم رہت 1985 سے تادم تحریر لکھنا لکھنا لکھناشیوہ رہا ادب سائنس عشق فلسفہ تاریخ،اثریات وبشریات پر لکھے مضامین اور کالمز کی کتابیں آتیں تو پہچانے جاتے۔یہی کام مغرب کرتا ہے ان کی اینتھالوجیز آج بھی انہیں معتبر کیے ہوئے ہیں۔ہمارے ہاں ادبی انسائیکلو پیڈیا کا ترجمہ تو ملے گا لیکن پورے ملک کے ادیبوں پر مشتمل پاکستانی ادب انسائیکلوپیڈیا سے محروم ہیں اور مغرب نے ایک ادب و سائنس ہی کیا ہر علم پر انسائیکلوپیڈیاز کے ذخائر جمع کردئیے ہیں ۔ہمارے ہاں کبھی پاکستا ییئر بک آیا کرتی وہ بھی زمانہ ہوا معدوم ہوگئی ناپید اشیا کی طرح۔ہمارے ادیبوں کے گھر کہاں ہیں !؟ لیکن مغرب کے ادباک کے گھر میوزیم بن گئے ہیں ۔ی ہے ہم میں اور مغرب میں کہ وہ مستقل مزاجی سے کام کرتے ہیں اور ہم جذباتی ہوکر جب ابال آیا تو کچھ کر لیا اسی پر ساری عمر تعریفیں سندیں عہدے لیت رہے۔۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ منٹو اور قرہالعین حیدر۔۔۔منٹو اپنی بے باکی سے اور عینی آپا اپنی تاریخی ناول نگاری آگ کا دریا سے جس پقائے کا ناول مغرب میں لکھا جاتا تو نوبل انعام ضرور پاتا،حال کاذکر کریں تو زیب اذکار حسین اور رفاقت حیات اپنے فطری اسلوب کے باعث بہترین افسانہ نگار لگے اور ناول نویس کے طور پر ہم نےمستنصر حسین تارڑ اورفارس مغل کو بہاؤ اور ہمجان کی صورت بے مثال پایا جن کے ہاں تحریر میں دریا سی روانی ہے۔ان کے ہاں الفاظ خیال کی رو کے ساتھ بہتی چلی جاتی ہے۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔ فنِ افسانہ نگاری میں کوٗی خلا واقع نہیں ہوا ۔ہر چہار سو ادبی جرائد شایع ہورہے ہیں لیکن قاری کے وسیع حلقے تک ان کی رسائی نہیں ہے۔اخبارات نے بھی نئے قاری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔تشہیر کا پلیٹ فارم اخبار ہونے کی وجہ سے ان کی بالادستی قائم ہے کہ کس جریدے کی خبر چھاپیں کسے نظر اندازکردیں۔اسکے بعد ہے ادبی گروہ بندی۔جس نے ناقد کو بھی فرمائشی اور جانب دار کردیا ہے۔تحریر کا معیار کیسا بھی ہو ناقد سے راہ و رسم اب لازم ٹھۃری ایسے میں ہم سے گوشہ نشین کیسے خود کو کہلائیں ہم اتنے پارسا۔۔۔خود کو خود سے متعارف کرانا تو ذات کی معراج ہے لیکن دوسروں سے اپنی زبانی کہنا ہم سا ہو تو سامنے آئے !ْ کہاں کی شرافت اور فضیلت ہے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔ تنقید سے مراد انتہائی غیر جانبدار ہوکر تحریر کے اجزائے ترکیبی کا بصیرت افروز ناقدانہ جائزہ ہے اس کی تیکنیک ُلاٹ،آہنگ،ماحول سے مماثلت کے حوالے سے کریٹیکل تھنکنگ کی تمام خوبیان ناقد میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہیں جو ادب کا سائنسی انداز سے مطالعہ کرتے ہوئے اس کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ایسا ناقد ہم نے حسن عسکری،ممتاز حسین،وقار عظیم اور ڈاکٹر محمد علی صدیقی کو پایا جو فن کی روشنی میں جائزہ لیتے نہ کہ چہرہ دیکھ کر ہمارے نقاد شاعرات کو آسمانِ ادب کا چمکدار ستارہ کہہ رہے ہیں اور جب ڈائس پر کھڑے توصیف کرتے ہیں تو شاعرہ کی طرف اٹھی ان کی نگاہ میں شہوت کے وہ سارے رنگ دکھائی دیتے ہیں جو آوارگی کا لازمہ ہوتے ہیں۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ دوستو وسکی اور گارشیا مارکیز۔۔۔برادر کرامیزوف اور تنہائی کے سوسل کے حوالے سے ۔انہیں  انسان کے باطن میں جھانک کر دل میں چھپی پوشیدہ خواہش کو جاننے کا کملا حاصل تھا ۔۔۔گر حال کی بات کی جائے تو میلان کنڈیرا وجود کی بے پناہ مسرت اورپاؤلو کوہیلو الکیمسٹ کے باعث دل کے پاس پاس رہے جن کے ہر لفظ میں فن کی وہ جادوگری ہے جو قاری کو اپنے حصٓر میں مقید کرلیتی ہے ۔ان دو ادیبوں کے کئی شاندار جملے بہت سے لوگوں نے کاپی کیے جس میں پاؤلو کوہیلو کا معروف جملہ بالی ووڈ نے چرایا کہ کسی کو دل سے چاہو تو پوری کائنات مدد کو موجود ہوتی ہے۔۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔ بہت زیادہ گنجائش ہے جس کے لیے تحسین گیلانی صاحب نے تو باقاعدہ اک تحریک چلا رکھی ہے اور کئی لوگوں کو مائیکروفکشن کی طرف مائل کیا ہے جس کا دیرپا اثر تادیر قائم رہے۔میں بھی مائیکرو فکشن کاقائل ہوں ۔کوئی ایک جملہ ہی آپ کی کایا پلٹ سکتا ہے جیسے دنا کی مختصر ترین کہانی لکھنے کا اعزازارنسٹ ہیمنگوے کو حاصل ہے جنہوں نے 6 الفاظ پر مشتمل کہانی لکھ کر نہ صرف یہ اعزاز اپنے نام کیا بلکہ10 ڈالر کی شرط بھی جیت لی۔ذرا کہانی کا اسلب ملحظہ کریں:’’بےبی شوز،برائے فروخت،کبھی نہ پہنے‘‘ اس کہانی کے تتبع میں گر ہم کہیں:صاحب جسم بیچتی ہوں!!!تو کیا!میں ضمیر بیچتا ہوں۔‘‘ اب اس کتھاکا اختتامیہ پڑھیے اور سوچیے معاشرے پر کتنی گہری چوٹ ہے ایک طوائف کہتی ہے میں جسم کا سودا کرتا ہوں تو جوباًایک ادیب کہتا ہے تم میں مجھ میں کیا فرق میں بھی تو قلم بیچتا ہوں اپنے ذہن کا سودا کرتا ہوں ۔اس لیے آنے والے دور میں آپ ہر جا مائیکرو فکشن یا فلیش فکشن کا دور دورہ دیکھیں گے،جس کے سرخیل بلاشبہ سید تصین گیلانی صاحب ہوں گے۔اب مجھے میری مختصر ترین کہانی پر کون اعزازدے گا؟۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔ زندگی نے اپنی خواہش سے بڑھ کر دیا۔۔۔اک خاکبہ سر فرد کو اتنے عظیم ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا کچھ بھی نہیں میں۔کوئی نہ سرخاب کا پر نہ شاہی دروازہ پھر بھی اہلِ ادب کی محفل میں جگہ پاؤں۔اللہ مالکِ کون و مکان کا شکریہ ادا نہ کروں تو اور کیا کروں جن سے اکثر یہی حجت کرتا ہوں::’’میرے مولا! مجھے اپنا گھر دے جہاں آوارہ کتابوں کو کوئی ٹھکانہ ملے۔اتنی دولت دے کہ 40 شب و روز عزت سے کٹ جائیں۔اتنی فرصت دے دل سے کلام کرسکوں! اور مجھے یقین ہے اللہ تو ہی سنتا ،تو ہی کرتا ہے۔ہم تو ہر سانس تیری لیے اس دنیا میں آئے جا تیری رضا وہ ہمیں قبول ہے لیکن قسمت سنوارنے والے میرے اللہ میری خواہشوں کی تکمیل کردے!‘‘

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ محبت سے کون انکار کرے ہم رومانوی والدین کی تخلیق کیوں کر محبت سے شاد نہ ہوں۔ ہم تو یک طرفہ محبتوں کے قبرستان کہلاتے ہیں ۔جسے دیکھا دیکھا کیے۔جسے چاہا اس نے بھی ہمیں چاہا کبھی نہ ہوا یہ منھ مسور کی دال یوں40 محبتوں کی مکمل کہانیوں میں سے میرا پہلا پیار ،زیست کے زہر کو امرت کیا ،آج کی رات ٹھہر جا اور اچھا ہوا تو لکھی باقی کہانیاں منتظرِ قلم ہیں ۔کبھی فرصت ملی تو لکھیں گے (محبت کے جھروکے سے ) کے عنوان سے ایک ناول جانِ حیات بھی لکھنے کا طلب گار ہے۔ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔میرے لیےمحبت بہت سجل قیمتی اور لازمِ حیات ہے۔یہ ساری شاعری یہ سارے نغمے یہ ہم سب محبت ہی کے دم سے ہیں ۔میرے ہاں محبت کسی جسم کی طلب گار نہیں جسے چاہا اس طور چاہا کہ کبھی جسم کی طلب ہی نہیں رہی ۔اک گلاب چہرہ ہو ،ہوس ہو ہمیں کہیں منظور نہیں کہیں تودل کے اندر جھانکتا ہوں کسی مسکا،کسی جلترنگ قہقہے کسی مرمریں ہاتھ کے  چھو جانے سے ذہن نے افسانہ تو تخلیق کردیا مگر جنسی زاویے نہ بن سکے۔میرے ہاں محبت میں جسم کا طواف گناہ ہے۔میری نظر کا کمال ستائشِ رب ہے کہ کنا سہنا تینوں رب نے بنایا دل کہے ویکھدا رہا۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ زندگی کے گزرتے لمحوں کی بیاض کبھی نہ بنائی ہرلمحے کوزیست کا انمول لمحہ جانا لیکن ہماری شادی ایک انمول واقعہ ہے جو تمام دوستوں کے لیے بریکنگ نیوز بن کر سامنے آئی عباسی نے شادی کرلی جو کہا کرتا تھا کبھی شادی نہیں کروں گا۔وہ بھی اردو گھرانے میں شاعر لکھنوی کی نواسی سے۔وہ لکھنؤتہذیب جس کے حسن  کے چرچے اب بھی چہاردانگِ عال ہیں!؟ ییہ کیسے ہوا؟ پھر ہماری سابقہ محباباؤں نے بھی شکوہ کیا محبوب میرے تم کہا کہا کیے کبھی نہ شادی کرو گے! پھر ہم میں کیا کمی تھی۔تب ہم نے یہی کہا:محبت محبت ہے۔وہ کبھی مٹنہیں سکتی کبھی مر نہیں سکتی لیکن شادی نصیب کا وہ فیصلہ ہے جس پر ہمارا بس نہیں چلتا اور ہم نے بھی ہونے والی اہلیہ سے صاف کہہ دیا یہ ضروری نہیں آپ ہمارے دل کو بھائی ہیں ہان یہ اشد ضروری ہے کہ ہمارا چہرہ کیسا لگا آپ کو۔اثبات سے گردن ہلاکر ہاں کہہ دی۔انتہائی مختصر لمحے مختصر لوگوں کی محفل مین ہم انہیں اپنی دلہن بناکر لائے اور پورے سچل میں ایسی رومانوی جوڑی بنی ہماری کہ500 سندھیوں نے ماں باپ کو ہماری مثال دے کر اردو گھرانوں میں شادی پر مائل کرکے سندھی اردو ادب کی دودھیا کہکشاں بنا ڈالی ۔پھر بڑے چاؤ سے جب بھی ملتے ہیں یہی کہتے ہیں اردو بولنے والی لڑکیاں بہت وفا شعار ہوتی ہیں۔یوں ہم اس تبدیلی کی ابتدا ہوئے جو آج عمران خان لارہے ہیں اور یہی تبدیلی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی ضامن ہے امام ضامن کی مانند۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔ ہم کبھی اوجھل نہ رہے کھلی کتاب کی مانند سب کے سامنے رہے ہر ایک کو گائیڈ کیا ۔کبھی ایک بھی سیکریٹ اپنے پاس نہ رکھا،علم کو امانت جانا۔آگے منتقل کیا۔ جو زیست کے لمحے ملے ان میں کبھی کسی کا دل نہ دکھایا ،نصیب کی خوسی و غمی پر شاکر رہے ۔کبھی خود کو تیس مار خان نہ جانا۔عقل و ذہانت اور علم و تدبر کی معراج اللہ کو جانا ۔ہر دم یہی کہا کیے:’’اللہ اللہ کر بھیا اللہ سے ڈر بھیا۔۔۔وگرنہ ہم تووہ ہیں جنہوں نے سندھی ادبکواے ٹی شاہانی کی انگریزی سندھی لغت سے نجات دلاکر جدید اوکسفرڈ طرز پر ڈکشنری مرتب کرکے تعلیم وتدریس کو تبدیل کردیا۔

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔ ہمارا یہ منصب نہیں کہ قلم قبیلہ سے وابستہ نامور ادبا سے مخاطب ہوں لیکن یہاں جبیہ ذمہ داری ڈالی گئیہے تو عرض کروں کہ راجندر سنگھ بیدی کا پہلا سبق اوائلی عمر میں  ہی حاصل کیا کہ عظیمادب عظیم کردار سے جنم لیتا ہے۔اس لیے اپنا کردار بلند رکھیں ۔ہمارے ادیبوں کی اکثریت ثھیل ثھبیلہ بن کر ادیباؤں کے گرد مڈلاتی ہے جوان کے پیشے کوزیب نہیں دیتا۔ادیبوں کی ان حرکات کی وجہ سے ادبی محافل میں جانے سے گریز کرتا ہوں۔قاری بھی ادیبوں کے اسکینڈل سن کر اوب گیا ہے۔ادیب کردار کا دھنی ہوگا تو ایسے قاری بھی ملے گااور پیروکار بھی۔اسی فضا سے تنگ آکر بھارت کی ادیباؤں نے تو الگ فورم بنا لیا ہے اب کوئی دن نہیں جاتا جب خاوتین شاعرات اور ادیبائیں بھی مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے می ٹو کی تحریک چلا کر کہیں گی ہمیں ان بدکردار ادیبوں کی سند نہیں چاہیے اس لیے میری تمام ادیبوں سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ خدارا اپنے مرتبے و مقام اوراردو ادب کی عزت کا خیالل رکھتے ہوئے اپنے قول و فعل میں موجود تضاد میں تبدیلی لائیں جو نئے پاکستا ن کا نعرہ ہے۔

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔ 23 اردو لکھاری ڈاٹ کام کا یہ کام اپنی نوعیت کا بہترین قدم ہے،جس سے ہمیں ہم ؑضر ادبا کی زندگیوں کے بارے میں اہم معلومات ملے گی اور یہ پتہ چلے گا کہ آج اردو ادب کہاں کھڑا ہے اردو ادیب کیا سوچتا ہے۔آپ کےلیے خصوصی پیغام ایک ہی ہے۔۔۔منفرد سوچ رکھو،اپنا اسلب، اپنی کہانی اپنا جہاں آباد رکھیں اور سیکھنے کے عمل کو کبھترک نہ کریں کہ زندگی  میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔وقت کبھی پلٹ کر نہیں آتا اس لیے اپنی زندگی کو طے شدہ لکیر پر چلنے کے بجائے  سوچ کا افق اتنا وسیع رکھیں کہ پوری کائنات ذہن کے نگار خانے میں سمٹ جائے۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محسن علی ۔ مدیحہ ریاض

ڈرامہ نگار محسن علی سے گفتگو۔۔۔  مدیحہ ریاض اسلام و علیکم محسن علی صاحب و …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے