سر ورق / جہان اردو ادب / زاہد مختار۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

زاہد مختار۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام؟
جواب۔۔ اسلام علیکم…..میرے والدین کا دیا ہوا خوبصورت نام مختار احمد ہے بس میں نے قلم ہاتھ میں لے کر اس میں زاہد کا اضافہ کردیا

سوال۔ آپکی ولادت ” تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں۔

جواب۔۔ میں اسلام آباد (اننت ناگ) کشمیر کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔ میرے محترم والد صاحب ایک مشہور مبلغ اور عالم دین تھے حا لانکہ ہمارا خاندان ’’مولوی خاندانوں‘‘میں شمار نہیں ہوتا لیکن میرے والد صاحب کی علمی اور دینی دلچسپی اُنہیں اس جانب اس حد تک مائل کر چکی تھی کہ اُنہوں نے اپنی ایک علمی شناخت قائم کر ہی لی۔ اُسی علمی اور دینی چھاؤں تلے میں اکلوتا فرزند اپنی دو بڑی بہنوں کے ساتھ بڑے ہی لاڈ و پیار کے ساتھ پروان چڑھتا رہا اور یوں بچپن سے ہی ہمیں خوشخط لکھائی، اردو زبان کے تئیں دلچسپی، قلم ، تختی، سیاہی ، حروف اور کاغذ کی دنیا سے دوستی ہونے لگی۔ والد صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ قلم کی دوستی انسان کو کبھی بھی محتاج ہونے نہیں دیتی۔ ہمارے خاندان میں میرے والد صاحب ، میرے چاچا اور میری اردو لکھاوٹ آج بھی کیلی گرافی کی حد تک خوبصورت کا عکس پیش کرتی ہے۔ میرے پاس اب بھی میرے والد صاحب کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کچھ اچھے کلام جن میں نعتیہ کلام بھی شامل ہے موجود ہیں۔ میں خود اُسی وراثت کی بدولت اپنے اخبار ہفت روزہ ’’ المختار‘‘ ( ۱۹۹۰ ء) اور ابتدائی اشاعت کے دوران لیتھو میں چھپنے والے اپنے رسالے ’’ لفظ لفظ ‘‘ کی کتابت ۱۹۸۳ عیسوی میں کیا کرتا تھا۔ اس بات کو کہنے میں مجھے زرا بھر بھی تامل نہیں کہ علم و ادب ، دینی لٹریچر سے شغف اور خوشخط لکھائی کا ورثہ مجھے اپنے والد صاحب کی بے پناہ محبت کے ساتھ ملا ہے جس میں خوشبو کی طرح میری سادگی کی پیکر ماں کا بھر پور ہاتھ ہے۔ وہ میری ماں ہی تھی جس نے میرے ادبی شوق کو اپنی محبتوں ، شفقتوں اور دعاؤں کا منوں رس پلایا ہے اور جس کی دعاؤں کے طفیل ہی مجھے اللہ ہر قدم پہ کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔

سوال۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے۔

جواب۔۔ ادب کا یہ لگاؤ ، اپنے اندروں کسی ادیب کی دبے پاؤں چلنے کی آہٹ تو تب سے ہی محسوس ہوئی جب میں چھٹی کے دودھ کا پوری طرح سے معنی بھی نہیں سمجھتا تھا۔ سکول اور پھر کالج میں میں ادب کی طرف بھی مائل ہوا۔ سٹیج کی کائنات کو بھی چھونے کا جتن کیا اور فنون لطیفی کے مختلف خانوں میں بھی جھانک جھانک کر اپنے اندرون میں بسے اس ادبی شہزادے کی دلچسپیوں کو سیراب کرتا رہا۔ پہلی نظم موضوعاتی چھٹی جماعت میں لکھی ہے جسے انعام سے نوازا گیا اور جسے سُن کر میرے اساتذہ کو بھی مجھ میں چھپا کوئی ’’ زاہد
نظر آنے لگا ‘‘ حالانکہ اُن دنوں مختار احمد ابھی زاہد مختار نہیں بنا تھا لیکن اُن ہی لمحات میں کچھ کچھ اپنے شفیق محبوں کو پالنے میں پوت کے پاؤں نظر آنے لگے تھے اور یوں اُنہوں نے میرے ابتدائی سکول ایام کے دوران ہی مجھے کافی حوصلہ بخشا اور زاہد کو باہر آنے میں اپنا بھر پور تعاون دیا۔ اللہ میرے اساتذہ کا درجہ بلند فرمائے۔

سوال۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی۔

جواب۔۔ ۱۹ ؍ ستمبر ۱۹۷۵ میں میری پہلی کہانی ’’ بے نام ‘‘ یہاں کے ایک مقامی اردو روزنامہ ’’ آفتاب ‘‘ میں چھپی ، اُس سے پہلے میں نے اشاعتی دنیا میں اپنا قدم ڈالنے کی جسارت نہیں کی تھی ۔ حالنکہ میں ۱۹۷۳ عیسوی سے ہی ادب کی جانب پوری طرح سے مائل ہوا تھا۔ اخبار آفتاب کے بارے میں کشمیر میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہاں جتنے بھی اردو کے میرے ہم عصر قلمکار ، شاعر اور مصنف ہیں وہ سب اس اخبار کے ادبی صفحات سے ہی اپنے ادبی سفر کی شروعات کر چکے ہیں اور اس اخبار کے ایڈیٹر مرحوم خواجہ ثنا ء اللہ بٹ صاحب نہ صر ف خود ایک بلند پایہ صاحبِ قلم تھے بلکہ ہم جیسے ادنیٰ قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش رہتے تھے اور اُنہوں نے نے ستر کی دہائی میں اپنے اخبار کے جمعہ ایڈیشن میں ایک ادبی صفحے کی روایت قائم کرکے بہت سارے گمنام اور نو آموز ادیبوں کو منصہ الشہود پہ لایا۔ خواجہ صاحب کا ا تحریر کردہ مستقل اور مشہور کالم ’’ خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے‘‘ آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔یہ اسی اخبار کی مسلسل حوصلہ افزائی تھی کہ اُس کے بعد میری ایک کہانی ’’تخلیق کے گھاؤ‘‘ جموں کشمیر اکادمی آف آرٹ اینڈ کلچر کے رسالے ’’ شیرازہ ‘‘ میں ۱۹۷۷ میں جب منظر عام پہ آئی تو اُس وقت مختار احمد کی جگہ زاہد مختار نام پوری طرح سے میرے اپنے لاشعور میں رچ بس گیا تھا اور قارئین نے بھی اللہ کے فضل سے اس نئے نام کو قبول کر لیا تھا۔
سوال۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے۔۔ اور آپ تو ماشائاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقیناًابتدائی دنوں میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔ جی نہیں۔ اس معاملے میں، میں بڑا خوش قسمت رہا ہوں۔ سب سے پہلے جو شخص میری تحریر کردہ شاعری یا افسانوں کو سراہتا تھا وہ میرے والد ہ تھی۔ ماں ان پڑھ ہونے کے باوجود مجھ سے میری کہانیوں کا خلاصہ سُنتی۔ بالخصوص جب میں نے ریڈیو کشمیر یا دور درشن سرینگر کے لئے ڈرامے لکھنے شروع کیے تو ہمارے گھر میں پہلا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ماں کے اصرار پہ لایا گیا تھا کہ اُسے اپنے بیٹے کے لکھے ڈراموں اور کہانیوں سے دلچسپی تھی ۔ اُن دنوں میں ٹی وی کے ادبی پروگرام ’’ نئے چراغ‘‘ کے ساتھ بھی جُڑ چکاتھا جس کے پروڈیوسر مرحوم ظفر احمد سے ہم نے متعدد ایسے اُردو لفظوں کا صحیح تلفظ سیکھا ہے جن سے ہم نابلد تھے۔ مجموعی طور پر صحت مند تنقید سے بالاتر مجھے ادب کے حوالے سے فیملی سطح پہ، اقارب کی طرف سے یا شناساؤں ، دوستوں، اجنبیوں کی جانب سے کوئی ایسی دل شکنی محسوس نہیں ہوئی۔ الحمد اللہ۔ حد یہ کہ والد صاحب میری اس کاوش کو جِلا بخشتے رہے اور کہانیاں بنتی گئیں، غزلین اور نظمیں شائع ہوتی رہیں۔ مجامین تخلیق کیے اور معتبر نقادوں کی نشتر زنی مثبت طور پہ جراحی کا کام کرتی رہی اور اب بھی کر رہی ہیں ۔ زاہد ہنوز اپنے اساتذۂ ادب اور محبانِ فن کے سامنے دو زانو تہہ کئے بیٹھا ہے۔ بہت کچھ ہے جو ابھی سیکھنا باقی ہے۔

سوال۔۔ صحیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا۔

جواب۔ صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو جب میں نے اپنے ہمعصروں کے ساتھ ادبی زندگی کا آغاز کیا تھا تب اُتنا لمبا چوڑا کارواں ہمارے آس پاس نہیں تھا سوائے اُن معتبر اور نامور ادبی شخصیات کے جو ادبی کہکشاں پہ چمکتے ستاروں کی مانند ہماری ادبی راہیں روشن کیا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں اکثر ادبی محفلیں سجتی تھیں۔ ’’ محفل فکر و سخن ‘‘ ادبی تنظیم کے بینر تلے ہم نے کئی شاندار ادبی نشستیں منعقد کیں جن بھی صاحب قلم استاد فن نامور قلم کار مرحوم محترم شوریدہ کاشمیری جنہیں اقبالیات اور فن خطوط نویسی پہ یدولیٰ حاصل تھا کے علاوہ ساہیتہ اکادمی ایوارڈ یافتہ کہنہ مشق شاعر و ادیب مرحوم غلام نبی ناظر، پنڈت کاشی ناتھ باغوان، منورخادم جیسے نامور شاعروں اور ادیبوں کے بیچ میں کوئی تحریر باپت تنقید پیش کرنے کا سلسلہ قائم تھا۔ اسی کسوٹی پہ پرکھی بہت ساری کہانیوں نے مخمور سعیدی کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالہ ’’ نگار‘‘ کے علاوہ دلی سے شائع ہونے والے کئی رسائل اور بالخصوص بمبئی کے معتبر اور دیرینہ رسالے ’’ شاعر‘‘ کے صفحات میں چھپی کئی کہانیوں نے زاہد کو ادبی دنیا میں متعارف کرانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن اگر میں اپنے ٹی وی مشاعرے تیس جنوری ۱۹۸۰ کو جودور درشن کیندر سرینگر سے ٹیلی کاسٹ ہوا اور جس کے پروڈیوسر مشہور ٹی وی فلم ’’ حبہ خاتون‘‘ کے ڈایریکٹر محترم بشیر بڈگامی تھے کا ذکر نہ کروں تو ناانصافی کے مترادف ہوگا جس میں وادی کے لگ بھگ سبھی کہنہ مشق شاعر موجود تھے اور جن کی صف میں بھی بحیثیت طفلِ مکتب کے نہ صرف موجود تھا بلکہ خوش بختی سے مجھے اُس مشاعرے کی نظامت کا موقع بھی عنایت ہو ا تھا ۔ اس مشاعرے نے ٹیلی کاسٹ ہوتے ہی یوں سمجھئے مجھے راتوں رات نہ صرف علمی بلکہ عوامی سطح پر بھی متعارف کرایا۔ اور یہ کرم ہے خالق کائنات کا کہ اسی پروگرام نے میرے اینکر بننے کی خواہش کا دروازہ وا کر دیا۔ الحمداللہ اب میں نے کئی کُل ہند مشاعروں کی بھی نظامت کی ہے جن میں ندا فاضلی صاحب، مخمور سعیدی صاحب، ڈاکٹر راحت اندوری صاحب، منور رانا صاحب، پروفیسر حامدی کاشمیری، عرش صہبائی صاحب، محترم کر شن کمار طور جیسے درخشاں ستاروں نے اپنی ادبی روشنی بکھیری ہے۔ مزید بر آں میں پچھلے دس سال سے دور درشن کے مقبول عام مارننگ شو ’’ گُڈ مارننگ جے اینڈ کے‘‘ کے اینکرس میں بھی شامل ہوں۔

سوال۔ آپ کے ادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو۔۔
جواب۔ میرے ادبی کاروں میں میرے بہت سارے مشفق اور محب میرے اساتذہ ہیں جن سے مجھے ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتاہے۔ مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ میں کب گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ رحمان راہی صاحب۔ سابقہ وایس چانسلر اور معتبر قلمکار محترم پروفیسر حامدی کا شمیری صاحب۔ کہنہ مشق ادیب و محقق محترم محمد یوسف ٹینگ صاحب۔ سابقہ ڈایریکٹر دور درشن جناب فاروق نازکی صاحب جیسے نامور ادیبوں کی صف میں بیٹھنے کی نہ صرف سعادت حاصل کر سکا بلکہ انہیں دل ہی دل میں اپنا رفیق و رہبر تصور کرنے لگا اور وہ صحیح معنوں میں میرے لئے مشعل بردار ہی بنے۔ اسکے علاوہ ایک لمبا چوڑا کارواں ہے ہم عصر ساتھیوں کا ۔ وہی تو ہیں جو دوست ہیں رفیق ہے میری زندگی کا مال متاع ہیں۔ ورنہ لفظ تو قرطاس کی زینت بن کے سوچ اور بصارت کی نذر ہو جاتے ہیں لیکن ادب نے جو محبوں کی رفاقتیں عنایت کی ہیں وہ اثاثہ ہے زندگی کا۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے۔

جواب۔ معاشرہ میں ادب کی گنجائش ہر دور میں رہی ہے کیونکہ ادب میں بذاتِ خود معاشرہ پنہاں ہے ، عیاں ہے ، عریاں ہے، گُل افشان ہے۔ معاشرے کو ادب سے اور ادب کو معاشرے سے الگ کیا ہی نہیں جاسکتا چاہے وہ کسی بھی نوعیت کا ادب کیوں نہ ہو۔ لوگ آج بھی غالبؔ سنا کرتے ہیں ، منٹوؔ پڑھا کرتے ہیں، قاری آ ج بھی اپنی بات دیکھنا اور سننا پسند کرتا ہے۔ ہاںیہ بات بھی اپنی جگہ سچ ہے کہ کچھ ادب قاری سے دور ہوتا جارہا ہے لیکن مجموعی طور ادب قاری کے قریب ہے اور قاری بھی ادیب کے منہ میں اپنا کلیجہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اور اسی تو کچھ ادیبوں کی عرق ریزی دیکھ کر یہ شعر زبان پہ آجاتا ہے۔ سمندرمیں سمندر بولتا ہے کلیجہ منہ کے اندربولتا ہے


سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان۔۔

جواب۔۔ ترقی ہر دور کے بطن سے پیدا ہونے والی شئے کا نام ہے۔ انسان لباس سے طعام تک۔ سوچ سے اپروچ تک۔ انداز سے ادب تک ترقی کا متمنی رہا ہے ۔ ممکن ہے اسی جنون میں ایک الگ یا پھر ایک نئی راہ کو متعین کرنے کے شوق میں اُس ترقی پسند ادب نے جنم لیا ہو جس کی جانب آپ کا اشارہ ہے۔ اس ادبی رجحان نے بالخصوص ایک طرح کی گروہ بندی کو بھی جنم دیا ہے لیکن مجموعی طور ایک اچھے ادب کی جانب میں کچھ قدم بھی بڑھائے ہیں ۔ ہر دور نے ادب کے خزانے میں کوئی نہ کوئی موتی ڈال دیا ہے اور یوں ترقی پسند ادب نے بھی کچھ اچھا تخلیق کیا۔ لیکن کچھ اس کی تقلید میں اس حد آگے بڑھ گئے کہ ادب ایک نعرہ بن کے اُبھرنے لگا۔ کچھ اسے ایک ’’ سپانسرڈ ادب ‘‘ کا طعنہ بھی دینے لگے لیکن یہ بات اپنی جگہ مسلم کہ ہر ترقی پسندی، پسند اور نا پسند کی کسوٹی سے گزر کر ہی آگے بڑھتی ہے اب یہ تحریک ادب کے لئے نقصان دہ رہی یا فائدہ مند اس کا تجزیہ مجھ جیسا طفل مکتب کیا کرے ۔ ہم خانوں میں نہ کبھی بٹے ہیں اور نہ ہی خانوں میں بیٹھ کر ایک مخصوص روشن دان سے باہر کی ادبی وادی کا نظارہ کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم ادب کو ادب مانتے ہیں۔ نہ اسے نعرہ بازی ب سمجھتے ہیں ۔نا ہی پینترہ بازی۔ گروپ ازم تب بھی تھا اب بھی ہے۔ من ترا حاجی بگوید تو مرا حاجی بگو کا عالم برسوں سے جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گا۔

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے۔


جواب: میں اس بات کا قائل ہوں کہ ہر دور اپنے ساتھ ایک جدیدیت لاتا ہے اور ہردور میں جدید ادب تحریر ہوتا رہتا ہے ۔ اب اس جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے آئینے میں اگر کچھ برس قبل کے اور کچھ آج کے ادب کو دیکھا جائے تو اس نظریے نے اپنی جانب سے کافی زور آزمائی کی یہ ایک عالمی ادب کا پیش خیمہ ثابت ہو لیکن ایسا نہ ہوسکا کیونکہ جب تک جدیدیت اپنا ڈنکا بجاتا ، مابعد جدیدیت تب تک اپنے آنے کا نقارہ بجا چکا تھا اور یوں جب عالمی سطح پہ معاشرے نے ، سیاست نے، اخلاقی اور تہذیبی قدروں نے کروٹ لی معاملہ بہت آگے نکل گیا۔ کچھ اثرات معدوم ہوگئے اور کچھ عیاں۔ کچھ قبول ہوئے، کچھ رد۔ انسان اپنی جبلت و فطرت سے مجبور ہے بھلے ہی وہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو۔ سوچ نت نئے زاویوں پہ مرکوز ہو گئی اور یوں ادب اپنے دامن میں نت نئے خیال، نت نئے تجرُبات اور نِت نئے رنگ اور اوصاف لیے آج بھی رواں دواں ہے اب یہ الگ بات ہے کہ سبک روی سے محو سفر ہے یا تھکے قدموں سے۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے.
.
جواب۔۔ اس کے جواب میں ہاں بھی ہے نہیں بھی ۔ کچھ ادب ایسا بھی تخلیق ہو رہا ہے جسے ہم فیس بُکی ادب کہتے ہیں ۔ یار دوست بنا پڑھے واہ واہ لکھ دیتے ہیں ۔ اِملا اور تذکیر و تانیث سے نا بلد افراد کا یہ عالم کہ ہانکتے عرش کی لیکن خود کسی فرش پہ نہیں۔ کہیں پہ ادب کے نام پہ خرافات ، کہیں اپنے آپ کو دُہرانے کا عمل لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اچھا ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے۔ کچھ شہہ پارے اب بھی وجود میں آتے ہیں ہاں یہ بات اپنی جگہ کہ ہم کتابوں کی دنیا سے دور ہو رہے ہیں۔ اب کوئی کاغذ کو ہاتھ لگانے کا شوق کم اور
ای بُک کو دیکھنے کا ذوق زیادہ رکھتا ہے۔ نہ جانے یہ ہوائیں ادب کو کہاں لے جائینگی۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں۔۔

جواب۔۔ موازانہ نہیں کیا جاسکتا۔ مغرب اپنے کئی معاملات میں بہت آگے بھی ہے اور بہت بے باک بھی ۔ ہمارے ہاں اس معاملے میں ابھی کچھ بندشیں ہیں ، سرحدیں ہیں، ناگزیر اخلاقی تقاضے ہیں جو ایک اچھی بات ہیں ۔ ہم خوشبو کی طرح پزیرائی کرنے والا ادب اب بھی پسند کرتے ہیں بھلے ہی وہ کسی ادب سے آگے ہو یا پیچھے۔ کہنے دیجئے کہ جب جب جس جس دور میں اُردو ادب کا اچھا ادب تخلیق ہوا ہے اُس نے اپنا وقار، اپنی انفرادئیت، اپنی شان اور بان قائم کی ہے اور کر رکھی ہے۔ مجھے اچھے ادب کا فقدان کسی بھی حال میں نظر نہیں آتا کیونکہ ایک ادنیٰ سے اردو ماہنامہ سیریز ’’ لفظ لفظ ‘‘ کا مدیر ہونے کے ناطے میں اب بھی بہت سار اچھا ادب ڈاک اور ای میل کے طفیل دیکھتا رہتا ہوں بھلے ہی وہ ہند کا ادب ہو یا پاک کا ۔ برصغیر کا اُردو ادبی گُلستان مہک رہا ہے بس سیلانی ان وادیوں کی طرف رُخ کرے تو۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار۔۔ کس وجہ سے۔۔؟

جواب: مجھے اُردو ادب میں سعادت حسن منٹو کا ادبی وائرس بہت دور تک اپنے اندر پھیلا ہوا ہمیشہ محسوس ہوا ہے۔ اُن کے افسانے اپنی جگہ ایک چھُبن ، ایک تلخی ، ایک سچائی ایک بے باکی، ایک ادبی چاشنی لیے آج بھی مرکز نگاہ۔ بس کوئی چٹخارے لینے کے نہ پڑھے تو…!!! ذکر اردو شاعری کا بھی ہو تو غالب نے مجھے اپنے بے مثال انداز کی شاعری کا گرویدہ بنا دیا ہے ؂ کب کہا ہم نے ہو بہو ہوتے کاش غالب کے روبرو ہوتے۔۔۔
رہی بات ناول کی تو ہم نے جوانی میں اتنے سارے ناول پڑھے ہیں کہ اب اُن میں سے ایک کا انتخاب کرنا چنداں مشکل۔ بس اتنا کہہ سکتے ہیں۔ کہ ناول کی دنیا سے ہم طوالت و مصروفیات کی وجہ سے دور ہیں لیکن ابھی تک جس جس کو پڑھا ہے وہ نقش بر آب نہیں۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو۔ ناقدین کو اسلئے کہ شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے۔

جواب۔۔ کسی حد تک تلخ بھی اور مبنی بر صداقت بھی۔ میں ناقدین سے زیادہ ادبا کو اس کا ذمہ دار مانتا ہوں پہلے یہ کہ اُردو کو یہاں تعصب کا شکار بنا دیا گیا ۔ اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ میری ریاست جموں کشمیر جہاں اردو سرکاری زبان ہے غیر سرکاری بن کے رہ گئی ہے۔ انگریزی سکول سے بُک سٹال تک، ادب سے صحافت تک اپنی دھاک بٹھانے کے درپے اور اُردو ادب بشمول شاعری و افسانہ ، مضامین و تنقید کچھ بند کمروں یا آڈیٹوریم ہالز کی چار دیواری تک محدود۔ مشاعرے ۔ افسانوی نشستوں پر غالب ۔ اس پہ یہ طرہ کہ کہانی افسانوں سے غائب، بیانیہ انشایہ اور افسانے کے بیچ کہیں لٹکتا ہوا۔( یہ میں ہم عصر قلمکاروں کی بات کر رہا ہوں)۔ کچھ ناقدین کا یہ کہنا بھی مبنی بر صداقت ہو سکتا ہے کہ کہانی ڈر گئی ہے اسی لئے آج کے افسانوں میں شامل ہونے سے کترا رہی ہے کیونکہ کہانی کا سچ بھیڑ میں گُم چہرے کا عکس نہیں بلکہ بھیڑ میں قتل چہرے کا لہو ہے۔ جسے نعرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے چاہے ادھر کا لکھنے والا ہو یا اُدھر کا نتیجہ کہانی کار موضوعات سے آنکھ چُرا کر یا تو عاشق معشوق کے گُلستان کے چکر کاٹ رہا ہے یا پھر عریانیت کی املی چاٹنے میں ہی اپنی خیر مناتا ہے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا۔

جواب۔ وارڈس ورتھ تو تنقید کو تخلیق سے کمتر مانتا ہے وہ اس بات کا قائل ہے کہ ’’ تنقیدی قوت، تخلیقی قوت کے مقابلے میں کم تر درجے کی چیز ہے اور وہ قوت جو دوسرے کے کاموں پر تنقید لکھنے میں صرف کی جائے اگر تخلیقی کاموں پر لگائی جائے تو زیادہ مفید ہے‘‘
ہم وارڈس ورتھؔ سے اتفاق بھی کر سکتے ہیں اور اختلاف بھی کیونکہ نشتر زنی سے ہی تو تخلیقی اجسام کی جراحی ممکن ہے جو ہر حال میں تخلیق اور تخلیق کار کے لئے سود مند ثابت ہوتی ہے ہاں یہ بات اپنی جگہ اہم کہ نقاد تخلیقی پرتوں کو کھولنے کے بجائے ایک وعظ خوان بن کر اپنی ہی تحریر سے ہدایتی اصول وضع نہ کرے اور تنقید اس حد تک بھی گہرائیوں میں نہ ڈوب جائے کہ وہ تحقیق کے زمرے میں آجائے۔ تنقید کی وضع کردہ کسوٹی پہ جب ایک تخلیق کا جسم تشخیص کے لئے زیر جراحی لایا جاتا ہے تو نقاد جراح کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس تخلیق کی استعاراتی، تشبیہاتی اور علامتی پرتیں کھول کر ان میں کسی بھی خامی کو دور کرنے کی کوشش کرے نہ کہ پہلے سے ہی طے شدہ مدح سرائی یا تنقید برائے تنقید کرکے تخلیق کو مبالغہ آرائی کا شو پیس بنا دے یا اُسے سرے سے ہی خارج از ادب کر دے۔ مزید بر آں یہ بھی اہم کہ نقاد تخلیق کار اور قاری پر اپنی دھونس جمانے کے لئے ایسی زبان استعمال نہ کرے کہ اُس تنقید کی پرتوں کو کھولنے کے لئے کسی ادبی کتاب سے کوئی کھل جا سم سم والا جملہ تلاش کرنا پڑے تب جاکے نقاد صاحب کے خزانے کا در کھلے۔ مجھے بہت سارے نقاد پڑھنے کا موقع فراہم نہیں ملا ہے لیکن جتنا مشتے از خروارے سامنے آیا ہے اُن میں مجھے کبھی مرحوم آل احمد سرور کو پڑھنے کا بھی بہت پہلے موقع ملا۔ مجھے پروفیسر حامدی صاحب کی اکتشافی تنقید بھی کچھ الگ سی لگی۔ جس کے ساتھ اتفاق و اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے۔ہم آل احمد سرور کی ان باتوں کو بھی زیر نظر رکھیں تو بہت سارے نقادوں کی تحریروں کا جائزہ لینے میں آسانی ہوتی ہے۔وہ رقم طراز ہیں
’’تنقید دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کردیتی ہے ۔ تنقید وضاحت ہے ، تجزیہ ہے، تنقید قدریں متعین کرتی ہے۔ ادب اور زندگی کو ایک پیمانہ عطا کرتی ہے ۔ تنقید انصاف کرتی ہے، ادنیٰ اور اعلیٰ، جھوٹ اور سچ، پست اور بلند معیار قائم کرتی ہے، تنقید ہر دور کی ابدیت اور ابدیت کی بصیرت کی طرف اشارہ کرتی ہے ، تنقید بُت شکنی بھی کرتی ہے اور بُت گری بھی ، تنقید کے بغیر ادب میں موزونیت اور قرینے کا پتہ نہیں چلتا‘‘

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے۔۔

جواب۔۔ او ہنری ۔ اور شیکسپئیر کیونکہ مجھے اپنے ذریعہ معاش میں کہانیوں اور ڈرامہ سے ہی واسطہ پڑا ہے۔ مجھے او ہنری کا کہانی پن اور شیکسپیر کا تجسُس بھرا ڈرامائی عنصر ہمیشہ اچھا لگا ہے۔ اُن کے تئیں یہی شوق مجھے یو کے کی سیر کے دوران اُن کے آبائی شہر ہنلی سٹریٹ سٹیڈ فورڈ انگلینڈ لے گیا۔ ہاں کبھی کبھی کیٹس کو پڑتا ہوں کیونکہ وہ مجھے اپنے کشمیری شاعر رسُل میر کی یاد دلاتا ہے جو اُسی کی طرح عالم جوانی میں موت کے لبوں کو چوم بیٹھا۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں۔

جواب۔۔ یہ کرکٹ کے ٹیسٹ میچ سے، ون ڈے کے بعد ٹونٹی ٹونٹی میچ جیسی بات ہو گئی۔ افسانے کے لئے پہلے الفاظ کی تعداد متعین کرو اُس کے بعد شعوری طور پلاٹ کے میدان پر کرداروں کی نکیل کس کے اپنی مرضی سے یک جملہ افسانہ تخلیق کرتے ر ہو… کیا یہ ادب کے لئے خوش آیندہے مانا کہ ایسے بھی کبھی کبھار حادثاتی طور کچھ اچھی باتیں
( کہانیوں کی طرح نہیں بلکہ اقوال زریں کی مانند) سامنے آتی ہیں۔ رہی بات گنجائش کی۔ ادیب انسان ہونے کے ناطے کب چین سے بیٹھتا ہے کہ اپنے لئے ، اپنے فن کے لئے کوئی نہ کوئی گنجائش نکال ہی لاتا ہے بھلے ہی بعد میں آزاد غزل کی طرح کسی صنف کا بُرا حشر ہی کیوں نہ ہو۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش۔۔

جواب۔۔ سچ پوچھئے تو زندگی ہم سے کچھ نہیں چاہتی ، ہم زندگی سے بہت کچھ چاہتے ہیں ۔ ایک بیچاری زندگی ہی تو ہے جو ہماری خواہشوں کے حصار میں کبھی دوڑتی ہے ۔ کبھی سسکتی ہے۔ کبھی تھک جاتی ہے لیکن سستانے کا موقع نہیں پاتی ۔ ہر شخص زندگی کے سفر میں ایک ایسے پڑاوپہ پہنچ ہی جاتا ہے جب وہ سوچ کی لہروں میں ڈوب جاتا ہے اور شاید محاورتاً ڈوبتے ڈوبتے تنکے کا سہارا تلاش کرنے لگتا ہے۔ تنکے مل جائیں تب بھی کوئی سہارا زندگی کے ازلی انجام میں مدغم ہونے سے نہیں روک سکتا ۔ زمانہ اپنی جگہ، بہانے اپنی جگہ لیکن اس پوری کائنات میں جب جب جو جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کے رہ جاتا ہے اور جسے جس انداز سے وقوع پزیر ہونے کا پروانہ مل چکا ہوگا وہ ویسے ہی منصہ الشہود پہ آجائے گا تب تک جب تک آنے اور جانے کا یہ کھیل جاری ہے۔ کُن فیکون اور کُل من علیھا فان کے درمیان ایک انجانے یا جانے پہچانے سفر کی مانند۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی۔

جواب: محبت زندگی کے پھول کی ایک خوشبو ہے ۔ یہ ایک احساس کا نام ہے جسے ہم جان بوجھ کر جسم کے پیراہن میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہی اس کا اصلی مفہوم بدل کر اسے ہوس بنا دیتا ہے۔ محبت میرے سامنے ایک ایسی شئے کا نام ہے جسے بس دیکھا جائے ، محسوس کیا جائے ، چاہا جائے، لیکن چھوا نہ جائے۔ محبت کو عشق کی حد تک لاکر ہی انسان ماورا ہو جاتا ہے اگر مجازئیت کی طلب نہ ہو لیکن آدم، آدم ہی رہتا ہے اور مجھے اعتراف ہے کہ وادی کشمیر کی جنت میں میں خود ایک آدم کی زندگی یا سزا گزار رہا ہوں جسے شجر ممنوع نے اپنی جانب کھینچا ہے۔ بے اختیار۔

سوال۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسپ خوبصورت اور انمول واقعہ۔۔

جواب۔۔ بہت سارے واقعات اپنی زندگی میں یوں شامل رہے ہیں اور یادوں کے اوراق پہ پھیلے ہیں کہ لگتا ہے کئی افسانے ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ کہاں کا سرا کہاں تلاش کروں۔ بچپن نے جہاں خوبصورت انمول لمحے بخشے وہیں ابتدائی جوانی نے مشکلات اور صبر آزما لمحات کی دہلیز پہ کھڑا کردیا ۔ ایسے ہی دنوں کا ایک خوبصورت واقعہ میری زندگی ک ک صفحات میں شامل ہے جب میں نے بے پناہ جدو جہد کے بعداپنی پہلی کمائی اپنے والدین کے ہاتھ پہ رکھ دی ۔مجھے اب بھی اُس لمحے ماں کی وہ دعائیں اور باپ کی آنکھوں میں اُبھری بشاشت بھری چمک یاد ہے۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ۔۔

جواب۔ اس سوال کے پیچھے سوال پوچھنے والے کا یہ مقصد اگر کارفرما ہے کہ آدمی اپنے راز فیس بُک پہ یا اخبار اور رسالے کے اوراق پہ عیاں کر دے گا تو اُسے اس میں کامیابی نہیں ملے گی ۔ لوگ ، وہ بھی بالخصوص قلم کار بڑے ما ہرانہ انداز میں تراشے گئے لفظوں کا سہارا لیکر اصلی بات پہ پردہ ڈال دینگے ۔ مجھے تو اس سوال کے جواب میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ لوگ شاید مجھے ملنسار ، شریف اور کسی قابل سمجھتے ہوں لیکن مجھے اس بات کا احساس ہے کہ میری شخصیت کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ مجھے جب غصہ آتا ہے تو بہت آتا ہے۔ اور شاید میں اپنی لفظی پینترہ بازی سے اُس پہلو کو عام ہونے سے چُھپا رہا ہوں۔ اسے لئے لوگ میرے اُس پہلو سے واقف نہیں ہوں اور جو ہیں اُن کے لئے کڑواہٹ مکرر۔
سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ؟
جواب: اس کے جواب میں بس اتنا کہنا چاہونگا کہ آپ جو قاری ہیں ، قلمکار ہیں ۔ قلم کے محافظ ہیں ۔ ادب کے محب ہیں عملی طور کچھ کریں ۔ قول تو سب کے لبوں پہ لرزاں ہیں ۔ بات تب بنتی ہے جب اردو ادب کو نعرہ بازی سے نہیں بلکہ عملی طور قلمے ، درمے ، سخنے سینچا جائے۔

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو۔

جواب۔۔ اُردو لکھاری ڈاٹ کام آپ کے خلوص کا ایک عملی ثبوت ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس شجر کی آبیاری کریں تو اغلب ہے کہ یہ ایک تناور درخت بنے گا جس کے چھاؤں تلے ادب کی نوجوان نسل بھی پروان چڑھتی رہے گی اور کہنہ مشق ادبا کا ادبی خزانہ بھی محفوظ رہے گا۔ اب رہی آپ کی شخصیت کی بات۔ مبالغہ آرائی کے مترادف کوئی نہ سمجھے تو کہہ دوں کہ آج کے پتھر کے دور میں اُس عظیم تخلیق کار نے آپ کو کس مٹی سے تخلیق کیا ہے کہ جس میں خوشبو بھی ہے۔ محبت بھی ۔، سادگی بھی ، شرافت بھی ۔ اخلاق بھی اور آداب بھی ۔ اللہ کرے شان سادگی اور زیادہ۔

زیادہ حدِ آداب

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے