سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا۔۔امجدجاوید ۔۔۔ قسط نمبر 1

بے رنگ پیا۔۔امجدجاوید ۔۔۔ قسط نمبر 1

بے رنگ پیا

امجدجاوید

قسط نمبر 1

” یارطاہر ، مجھے آج تک یہ پتہ نہیں چلا کہ تمہیں لڑکی کس طرح کی پسند ہے؟“

اس دن بھی حسب معمول وہ تینوں دوست کیمپس کینٹین پر بیٹھے ہوئے تھے جب ساجد نے طاہر سے یہ پوچھا۔ یہ سوال معمول کی گفتگو سے بالکل ہٹ کر تھا۔ طاہر کو یہ سوال انتہائی فضول لگا۔ اسی لئے وہ فوراً جواب نہیں دے پایا۔ اُسے یہ سمجھ بھی نہیں آیا کہ اس طرح کا سوال کیا ہی کیوں ؟ اس نے سوچتے ہوئے سامنے میز پہ دھرے پیکٹ میں سے سگریٹ لیا ، اُسے سلگانے لگا تو منیب نے طاہر کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے تبصرہ کیا

” ہاں نا، طاہر نے کبھی کسی لڑکی کے بارے اپنی پسند کا اظہار نہیں کیا۔“

” مطلب وہ آ ئیڈیل لڑکی جو اس کے خیالوں میں بستی ہے۔“ساجد نے کہا اور ہنس دیا

”یہ کوئی انکشاف نہیں ہوگا۔“ طاہر اُلجھتے ہوئے بولا

” پھر بھی کوئی اندازہ تو ہو نا چاہئے نا؟“ساجد نے خالص غنڈوں کی طرح آنکھ مارتے ہوئے اصرار کرنے والے لہجے میں پوچھا۔ طاہر نے بات نظر انداز کرتے ہوئے سگریٹ سلگا لیا ۔ یوں جیسے اس کی بات کو دھوئیں کے ساتھ فضا میں اچھال دیا ہو۔ اسے ساجد کا سوال اور سوال کرنے کا انداز بالکل بھی اچھا نہیںلگا تھا۔ جبکہ وہ دونوں تجسس سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

دوپہر کے وقت وہ کیمپس کی اس کینٹین پر بیٹھے ہوئے تھے جو ان کا ہی نہیں، ان جیسے بہت سارے لوگوں کا ٹھکانہ تھا۔ دراصل کینٹین ایسی جگہ پر تھی جہاں کیمپس کا مرکزی بس سٹاپ بالکل سامنے تھا ۔ صبح سے لیکر رات گئے تک کیمپس کی بسیں آ کر وہاں رکتیں اور وہیں سے چلتیں تھیں ۔ اس سٹاپ پرلڑکے اور لڑکیوں کا ہجوم جمع رہتا ۔ خاص طورصبح اور دوپہر کے وقت بہت زیادہ رش ہوتا تھا۔یہ کینٹین وہ پوائنٹ تھا جہاں آنکھیں سینکنے والے تو بیٹھے ہی رہتے تھے ۔ کھانے پینے والے بھی اسی جگہ کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ بھی شروع شروع میں اسی مقصد کے لئے بیٹھنے لگے تھے ۔ پھر آنکھیں سینکنے والی دلچسپی تو نہ رہی ، مگر کینٹین ان تینوں کا مستقل ٹھکانہ بن گئی۔ ان کے جاننے والے سبھی لوگوںکو یہ معلوم ہوتا تھا کہ کلاس کے بعد ان تینوں میں سے کوئی نہ کوئی یہاں ضرور مل جائے گا۔

 اس دن ساجد نے جواس طرح کا سوال کیا تو طاہر کو بہت عجیب لگا ۔ اور اس پر عجیب تر اس وقت لگا جب منیب نے بھی اس کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی ضد جاری رکھی۔ طاہر جب کچھ نہ بولا تو اس نے زور دیتے ہوئے جھنجھلا کر کہا

” یار جب بچہ کہہ رہا ہے کہ تمہیں کیسی لڑکی پسند ہے تو بتا دو، اس میں کنواری لڑکیوں جیسا شرمانے کی ضرورت کیا ہے ۔“

” اگر میں بتا بھی دوں کہ مجھے کیسی لڑکی پسند ہے تو پھر ہوگا کیا؟“ اس نے بھیخواہ مخواہ کی بحث کرتے ہوئے کہا تو ساجد بھی سنجیدگی سے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے حتمی لہجے میں بولا

”دیکھو، میں تم سے یہ سوال یونہی فضول میں نہیں کر رہا ۔ میرا اس سوال پوچھنے کا کوئی مقصدہے، تم بتاﺅ گے تو بات آگے بڑھے گی نا۔“

اس پر طاہر چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا، جیسے اس کی بات کا یقین کر رہا ہو کہ وہ واقعی ہی سچ کہہ رہا ہے یا محض اپنی ضد کی خاطر اداکاری کر رہا ہے ۔ پھر ایک دم سے بولا

” تم جانتے ہو لڑکی میرے لئے کبھی مسئلہ نہیں رہی اور نہ میں ان پر توجہ دیتا ہوں۔ کیمپس میں کتنی لڑکیاں ہیں،میں نے کس پر کتنی توجہ دی یہ تم لوگ بھی جانتے ہو ۔ میںایک زمیندار کا بیٹا ہو ں اور مجھے سیاست کرنی ہے، یہ لڑکیوں والی فضول حرکتیں نہیں۔ میری دولت سیاست کے لئے ہے اوریہاں رہتے ہوئے ….“

”او خدا کے لئے یار۔! مجھے تیرا تاریخ جغرافیہ نہیں سننا ، میں جانتا ہوں تم پیسے کے زور پر کچھ بھی کر سکتے ہو ، میرا سوال یہ نہیں، میںنے تو فقط اتنا پوچھا ہے میری جان ،تمہیں لڑکی کس طرح کی پسند ہے؟“ اس نے طاہر کی بات کاٹ کر اکتائے ہوئے لہجے میںپوچھا۔

” تو پھر سنو۔! مجھے ایسا کوئی آئیڈیا نہیں ہے ، کیونکہ میں نے کبھی ایسا نہیںسوچا ۔“اس نے بالکل سچ کہہ دیا۔

” طاہر ، تم اس بات کوفضول مت سمجھو، جس طرح ہر لڑکی یا لڑکے کاایک آئیڈیل ہوتا ہے اور یہ ایک فطری سی بات ہے۔ بس تم سوچ کر یہی جواب دو۔ تمہیں کس طرح کی لڑکی اچھی لگتی ہے ؟ “ منیب نے یوں کہا جیسے اس سوال کے جواب میں کوئی بڑی اہم بات پوشیدہ ہے۔

” کوئی تو آئیڈیل ہو گی تمہاری ، کوئی خوابوں کی شہزادی، جس کے ساتھ تم زندگی کی راہوں پر چلنا چاہتے ہوگے۔“ ساجد نے سنجیدگی سے کہنا چاہا لیکن وہ اپنی مسکراہٹ پر قابو نہ رکھ سکا تو طاہر کو ایسا لگا کہ کوئی شرارت ہے جو اُن کے دماغ میں چل رہی ہے۔ اس لئے اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سکون سے کہا

” نو آئیڈیا اور نہ کوئی آئیڈیل۔“

 اس کے انکار پر ساجد نے اُلجھتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ جیسے بے بسی کے ساتھ اُسے غصہ بھی آ رہا ہو۔ پھر ایک دم سے بس سٹاپ کی طرف دیکھ کر سمجھانے والے انداز میں بولا

” چلو ایسا کرو ۔ وہ دیکھو، سامنے بس سٹاپ ہے نا ، اس پر کافی ساری لڑکیاں کھڑی ہیں، انہیں غور سے دیکھو، ان سب میں سے تمہیں کون سی لڑکی سب سے اچھی لگتی ہے، کوئی ایک تو پر کشش لگے گی تمہیں ۔“

” اس سے کیا ہوگا؟“ طاہر نے ہنستے ہوئے پوچھا

” یار کم از کم تمہاری پسند کے بارے اندازہ توہو جا ئے گا۔“ منیب نے سنجیدگی سے کہا

” تم سے ایک بے ضرر سا سوال کیا ہے اور تم ہو کہ لڑکیوں کی طرح شرما رہے ہو ، حالانکہ شرم تمہیں چھو کر نہیں گزری۔“ ساجد نے کہا

” یہ شرم ، حیا، سنجیدگی تم سے پناہ مانگتی ہیں۔“ منیب نے طنزیہ لہجے میں کہا تو اسے لگا کہ اب یہ دونوں خواہ مخواہ کی بکواس شروع کر دیں گے۔ اس کے خیال میں بتا دینے میں بھی کوئی حرج نہیں تھا ۔ اگر کوئی فضول بات ہوئی تو پھر وہ انہیں دیکھ لے گا۔ تبھی اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکتے ہوئے کہا

” اچھا بتاتا ہوں، لیکن اگر کوئی بات نہ ہوئی تو پھر تم دونوں کو پتہ ہے میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتا ہوں ۔“

” یہ ہوئی نا بات ۔“ ساجد ایک دم خوش ہو کر بولا تو منیب نے اسی یقین دلایا

” میں قسم کھاتا ہوں کہ بات ہے اور وہ بھی بہت اہم قسم کی ، تم خود کہو گے یار کہ بات اہم ہے ۔“

”دیکھو ، مثال کے طور پر….“ یہ کہتے ہوئے اس نے بس سٹاپ پر کھڑی لڑکیوںکی جانب اشارہ کرکے کہا،” ان میں سے کوئی ایک ، جو تمہیں سب سے اچھی لگے، اورتم اُسے اِن سب میں سے نمبر ون قرار دے سکو، مطلب تمہیں جو سب سے خوبصورت دکھائی دے رہی ہے ، بس اتنا۔“

” اوکے ۔“ طاہر نے سنجیدگی سے کہا اور پلٹ کر سامنے بس سٹاپ پر دیکھنے لگا۔

وہاں بہت سارے لڑکوںکے درمیان کافی ساری لڑکیا ں تھیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی جگہ خوبصورت اور اچھی تھی ۔ تبھی طاہر کی نگاہ ایک ایسی لڑکی پر پڑی جو اِن سب میں سے بالکل منفرد تھی۔ بھرے بھر ے بدن والی، گورا رنگ ،بوائے کٹ گیسو، جس سے اس کی شفاف گردن صاف دکھائی دے رہی تھی۔ گول چہرے پہ نقوش کافی حد تک تیکھے تھے۔اس نے میک اپ توکیا، لبوں پر لپ سٹک تک نہیں لگائی ہوئی تھی۔ ملائیشین طرز کا کھلاکُرتا،نیلی جینز اور سیاہ رنگ کا سلیپر نما جوتا پہنا ہوا تھا۔ پہلی نگاہ میں اس کے جسم کے نشیب و فراز بارے کوئی حتمی اندازہ نہیںلگایا جا سکتا تھا ۔ آنچل نام کی کوئی چیز اس کے شانوں پر نہیں تھی۔ بس ایک چھوٹا سا بیگ تھا جو دائیں کاندھے پر لٹک رہا تھا۔ اس نے چند لمحے اس لڑکی کو دیکھا، تب اسے بھی شرارت سوجھی ۔ طاہر نے اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

” وہ لڑکی ، وہ جس نے ملائیشین کرتا پہنا ہوا ہے۔ وہ والی ، مجھے ان سب میںسے اچھی لگی ہے ۔“

” وہ ، موٹی ، پھیکی ڈبل روٹی، جس کا پتہ نہیں چل رہا کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا؟“ساجد نے انتہائی حیرت سے بے ساختہ کہا

” اوئے، ایسی ہے تیری پسند،آئے ہائے ۔! مایوس کیا تو نے تو یار، یہ ہے تیری پسند؟۔“ منیب نے منہ بناتے ہوئے تبصرہ کیا

”تم دونوں تو اس طرح کہہ رہے ہو کہ جیسے تم لوگ میرے لئے کوئی رشتہ لئے بیٹھے ہو ئے ہواور اب تمہیں مایوسی ہو رہی ہے۔“ اس نے یونہی کہا تو منیب نے چونکتے ہوئے کہا

” ہاں نا، رشتہ ہے۔“ پھر یوں رُک گیا جیسے اسے خیال آ گیا ہو کہ ایسی بات نہیں کرنی۔تبھی اس نے کہا ، ’ ’ چھوڑ یار ، بس ختم کر ۔“

” کیوں چھوڑوں، وہ مقصد بتاﺅ جس کے لئے میری پسند پوچھی تھی ؟“ اس نے ضد کرتے ہوئے کہا،وہ سمجھ تو گیا تھا کہ کوئی بات ہے ضرور، پر اس وقت وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ دونوں کرتے کیا ہیں ۔ تبھی ساجد نے سر مارتے ہوئے کہا ۔

” اصل میں ہمارے پاس ایک آپشن تھا ، لیکن اب کوئی فائدہ نہیں۔ اس بات کو یہیں ختم کردو ، بلکہ دفن ہی کردو۔“ساجد کے یوں کہنے پر اسے لگا کہ انہیں واقعی ہی مایوسی ہوئی ہے اور اسے دکھ بھی ہے ۔مگر اب وہ ان کا پیچھا چھوڑنے والا نہیںتھا۔

”بکواس کرتے ہو تم دونوں ہی ، بلکہ ’چَولیں‘ مار رہے ہو۔ یہ تم دونوں کو ماننا ہوگا۔“ طاہر نے ایش ٹرے میں سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا۔

” یار بات تو تھی ۔ میں نے قسم بھی کھائی تھی ۔ لیکن اب اس بات کے کہنے کاکوئی فائدہ نہیں، چھوڑو۔“ منیب نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا

”مگر اب بتانا تو ہوگا۔ چاہے فائدہ ہو یا نہیں ۔ “ اس نے ان کی طرف دیکھ کر ضدی لہجے میں کہا

” ایک شرط پر بتاﺅں گا، اگر تم اپنی پسند کی اُس حور پری کویہاںلا کر چائے، کافی یا ٹھنڈا کچھ بھی پلادو۔“ ساجد نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا تو اسے ان پر ایک دم ہی بہت زیادہ غصہ آ گیا ۔وہ تنتناتے ہوئے لہجے میں کہا

”اب یہ دونوں کی پہلے سے بھی زیادہ فضول اوراحمقانہ حرکت ہے ۔بچوں جیسی حرکت، یہ کیسی فضول شرط ہے ،اگر وہ لڑکی تمہیں بری لگی ہے تو یہ تمہاری سوچ ہے ۔ اور تمہارے سوال میں یہ شرط نہیںتھی کہ میں اسے یہاں لاﺅں ، کھلاﺅں پلاﺅں۔بکواس کرتے ہو تم دونوں۔ یہاں سے اٹھ کر چلے جاﺅ، یا پھر میں تم میں دونوں کا سر پھاڑ دوں گا۔“ طاہر کو ایک دم سے ان پر غصہ آگیا۔اس کا دماغ گھوم گیا تھا کہ اتنی دیر سے فضول بات کرنے کے بعد وہ ایسا کہیںگے ۔طاہرواقعی آپے سے باہر ہو گیا تھا۔ اسے یہ سوچ کر شدید دکھ ہوا تھا کہ یہ دونوں اس سے کھیل رہے ہیں۔جیسے وہ ان کے لئے کوئی کھلونا ہو۔ اسی لمحے منیب نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور معذرت خواہانہ لہجے میںبولا

”طاہر پلیز ، غصہ مت کرو، میں تمہیں تفصیل ابھی بتا دیتا لیکن ابھی تمہارا موڈ ٹھیک نہیں ۔“

”گولی مارو موڈ کو، بات بتاﺅ یا پھر دفعہ ہو جاﺅ ۔“ اس نے غصے میں کہا تو ساجد تیزی سے بولا

” چلو ٹھیک ہے ۔ میں بتا دیتا لیکن بات وہی ہے ، اُسے یہاں لا کر….“

ساجد کی ہٹ دھرمی پر اس کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔اس نے انتہائی غصے میں بنا سوچے سمجھے کہا۔

” میں نے یہ بھی کر دیناہے لیکن تمہارے پاس پھر بھی کوئی بات نہیں ہوگی اور اگر ایسا ہوا تو میں نے تمہارا سر پھاڑ دینا ہے ، اورتم جانتے ہو کہ مجھے ایسا کرنے سے کوئی نہیںروک سکتا، میں تم سے….“

تبھی ساجد نے طاہر کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے کہا

” اگر کوئی بات نہ ہوئی اور وہ بات اہم بھی نہ ہوئی ، تب تم جو چاہے سزا دے لینا، جیسا جرمانہ چاہے کر لینا ، جو تمہارے جی میں آئے کرنا۔“

” اوکے ، ڈن ہے ؟“ اس نے حتمی لہجے میں ساجد کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا

” ڈن۔“ ساجد نے بھی جوش میں کہہ دیا ۔ طاہر نے ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی اور اٹھ گیا ۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ان کے پاس کوئی معقول بات نہ ہوئی تواس کے یو ں اٹھنے پر وہ اسے روک لیں گے ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

چند قدم چل آگے بڑھ جانے کے بعد طاہر کو احساس ہوا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہوں۔ اس کے دوستوں نے اسے غصہ دلایا اور وہ بے وقوفوں کی طرح اس لڑکی کو دعوت دینے چل دیا ۔ اس دعوت کا ردعمل کیا ہونے والاتھا، اس کااندازہ اسے بخوبی تھا۔ ہمارے معاشرے میں ایک اجنبی لڑکا ، کسی اجنبی لڑکی کو جا کر چائے کی دعوت دے تو گالیاں کھانے اور بے عزت ہونے والی احمقانہ حرکت ہی تو ہے ۔ یہ نسوانی فطرت ہے کہ وہ یوں کسی اجنبی پر بھروسہ نہیں کرتی، چاہے وہ جتنا مرضی ایڈاوانس، بولڈ اور بااعتماد ہو۔ وہ تیزی سے سوچ رہا تھا کہ کسی طرح بچ جاﺅں ۔ لیکن بڑھتے ہوئے قدموں کے ساتھ اسے کچھ بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔ اس کا دوران خون تیز ہو گیا۔ اس کے لاشعور میں اتنی بات ضرور تھی کہ اس قدر ماڈرن اور ایڈوانس لڑکی جیسا کہ اس کے حلیے سے ظاہر ہورہا تھا، ایک دم سے گلے نہیں پڑے گی۔ مان گئی تو ٹھیک ورنہ وہ انکار ایسے نہیں کرے گی کہ سٹاپ پرکھڑے سب لوگوں کو پتہ چل جائے ۔ وہ تحمل سے بات ضرور سن لے گی ۔ یہی سوچتے ہوئے اس نے خود پر قابو پایا اور بڑھتا چلا گیا ، یہاں تک کہ وہ بس سٹاپ پر کھڑی اس لڑکی کے قریب پہنچ گیا۔ اس نے جاتے ہی اس سے بڑے نرم لہجے میں جھجکتے ہوئے کہا

” السلام علیکم۔“

لڑکی نے اس کے چہرے پر غور سے دیکھا، پھر لمحہ بھر دیکھتے رہنے کے بعد نرم لہجے میں جواب دیا

” جی وعلیکم السلام۔“

اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ اس لئے وہ اعتماد سے بولا

” دیکھیں ، میں جانتا ہوں کہ ہمارے درمیان کوئی شناسائی نہیں ہے اور ہم اجنبی ہیں۔میں آپ سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ برا محسوس نہ کریں اور آپ کو جلدی نہ ہو تو پلیز….“

” جی بولیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔“ اس نے طاہر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسی نرم لہجے میں پوچھا تو وہ خود پر قابو پاتے ہوئے بولا

” یہاں کھڑے رہ کر بات کرنا کچھ عجیب سا لگے گا۔ اگر آپ چند قدم وہاں کینٹین تک چلیں، وہاں سکون سے بیٹھ کر بات ہو سکتی ہے ۔“

اسے لگا کہ وہ لڑکی اس کے چہرے پر دیکھ کر جیسے کچھ مسکرا رہی ہے لیکن اس کا دھیان کسی دوسری طرف ہے لڑکی کے چہرے پر نرماہٹ تھی ،سکون تھا،اور مسکراہٹ یوں لگ رہی تھی ، جیسے کسی معصوم بچے کی بات پر کوئی سمجھ دار ردعمل دیتا ہے ۔ چند لمحے بعد وہ ہلکے سے لہجے میں بولی ۔

” چلیں۔“

اس قدر آسانی سے مان جانے پر اسے خود بڑا عجیب سا لگا جہاںبچ جانے کے احساس سے اس نے بے سا ختہ اطمینان بھری ایک طویل سانس لی۔ وہاں جیت کے خمار نے اس میںخوشی بھر دی تھی۔

وہ اس کے ساتھ چلتی ہوئی ، کینٹین تک آ گئی۔ ایک میز کے گرد خالی کر سیوں پر بیٹھتے ہوئے اس نے انتہائی مودب لہجے میںپوچھا

” چائے ، کافی یا ٹھنڈا؟“

” جو آپ کا دل چاہے ۔“ اس لڑکی نے کندھے اُچکاتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا تو اس نے فریش جوس کا آرڈر دے دیا تولڑکی نے بڑی متانت سے پوچھا

” جی ، بولیں کیا کہنا ہے آپ نے؟“

” بتاتا ہوں ، ذرا آپ سے بات کرنے کا حوصلہ تو جمع کر لوں ، جوس سے میرا حلق تر ہوگا تو بات نکلے گی نا ۔“ اس نے فطری خوشگوار انداز میں کہا

”بات، اس قدر خشک ہے ۔“وہ مسکراتے ہوئے بولی

” شاید ۔“ اس نے کہا تو وہ بولی

” چلیں جیسے آپ کی مرضی۔“

اُن دونوں میں اس وقت خاموشی چھا ئی رہی ، جب تک ویٹر جوس نہیں لے آیا۔لڑکی نے گلاس اپنے سامنے رکھا اور ایک سپ لے کر طاہر کی طرف دیکھنے لگی۔ تبھی اس نے چند سپ لینے کے بعد جھجکتے ہوئے کہا

”مجھے نہیںمعلوم کہ آپ کا نام کیا ہے ا ور آپ کون ہیں۔ میں نے شاید آج آپ کو پہلی دفعہ دیکھا ہے ۔ ہم کچھ دوست یہاںبیٹھے ہوئے تھے ۔ اب بھی میری دائیں جانب وہ بیٹھے ہوئے ہیں اور یقیناہمیں دیکھ رہے ہوں گے۔“ اس نے کہا تو لڑکی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور ادھر ادھر دیکھے بغیر شائستہ لہجے میں بولی

” آپ میں شرط کے جیسی کوئی بات ہوئی ہوگی اور آپ مجھے یہاںلے آئے۔ایسے ہی ہے نا؟“

” آپ کو کیسے پتہ ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” ایسی ہی معصوم اور احمقانہ قسم کی شرطیں کیمپس میں لگتی ہی رہتی ہیں۔ کیا آپ کا یہ پہلا سال ہے ؟“

” نہیں ، دو سرا سال ہے اوروہ بھی ایم فل کا ۔“ طاہر نے مسکراتے ہوئے کہا

” مطلب کافی پرانے ہیں اس کیمپس میں ۔“ وہ بھی لبوں پر مسکان لاتے ہوئے بولی

”اور آپ ؟“ طاہر نے پوچھا

” میری چھوڑیں، آپ نے میرے بارے میںجان کر کیا کرنا ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے لمحہ بھر کو سانس لیا پھر بولی۔” میرا خیال ہے کیمپس سے جاتے ہوئے اب یہ شرارتیں کرنے کا دل چاہتا ہوگا، ورنہ تو یہ کیمپس کے پہلے دوسرے سال کی باتیں جو آپ لوگ اب کر رہے ہیں۔“

” نہیں بس ، ان کی باتوں میں پھنس گیاہوں۔اپنے غصے کی وجہ سے۔خیر۔! آپ کا اتنا اچھا روّیہ دیکھ کر میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ کو اچھا سا کھانا کھلاﺅں۔“ اس نے پورے خلوص سے اسے دعوت دے ڈالی ، لیکن اس کے ساتھ اسی لمحے اس کے ذہن میں خیال آیا تو وہ جلدی سے بولا،” پلیز یہ مت سوچئے گا کہ جیسے وہ مردوں کی عادت ہوتی ہے نا کہ انگلی تھماﺅ تو …. میں پورے خلوص سے آپ کو ٹریٹ دینے کی آفر کر رہا ہوں، تھینکس کے لئے پلیز۔“

” کوئی بات نہیں میں سمجھ رہی ہوں۔“ یہ کہہ کر اس نے سپ لیا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ ایک دم سے اجنبی لگنے لگی تھی۔جیسے اس کے چہر ے پر زبردستی کی مسکراہٹ ہو لیکن اس میں بہت سارا حزن و ملال بھی شامل ہوچکا ہو۔ ایک عجیب سی نہ سمجھ آنے کیفیت طاری ہو گئی تھی۔اس نے دو چار سپ لئے ، چند لمحے سوچتی رہی پھر سراٹھا کر بولی،” ابھی کھانا کھلاﺅ گے یا پھر کسی دن ؟“

” جب آپ چاہیں ، چاہیں تو ابھی سہی۔“

” اسی کینٹین سے ؟“ اس لڑکی نے خوش دلی سے پوچھا تو اسے یوں لگا جیسے وہ طنز کر رہی ہے ۔ تبھی طاہرنے گڑبڑاتے ہوئے کہا

”یہ تو ابھی طے ہی نہیں ہوا کہ آپ کھانا کھا ئیں گی، اس کے بعد ہی طے ہوگا نا کہ کس ریستوران سے کھائیں گے یا …. ؟“

” مطلب آپ شہر کے کسی ریستوران میں کھانا کھلانا چاہتے ہیں؟“ لڑکی نے پوچھا تو طاہر نے شہر کے بہترین ریستوران کا نام بتایا تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولی

” میں نے اس شہر کا کوئی ریستوران ٹرائی نہیں کیا ۔ آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے ، مجھے شہر جانا ہے ۔ کیا ہم ابھی جا رہے ہیں؟“ اس نے یوں کہا جیسے وہ تیار بیٹھی ہو ۔ طاہر کوبھی اس کا یہ بے تکلفانہ انداز اچھا لگا تھا۔

” ٹھیک ہے ،آپ اب بس میں نہیں ، میرے ساتھ کار میں جائیں گی ۔ میں پارکنگ سے کار یہاں سامنے لاتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے اٹھتے ہوئے کہا تو لڑکی نے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔

طاہر اسے اپنے ساتھ پارکنگ میں لے جا سکتا تھا۔ لیکن اس نے ساجد اور منیب کو فون کرنا تھا۔ اس نے سیل فون نکالا اور ساجد کو کال کی ۔اس نے فوراً رسیو کرتے ہوئے کہا

” ہاں بول۔“

” اب میں تیری اس لگتی کو کھانا کھلانے لے جا رہا ہوں ۔ پھرآکرپوچھتاہوں، بلکہ اب تو’ ڈیرے‘ پر ہی بات ہوگی اور اگر کوئی بات نہ ہوئی توسمجھ لے تیری آج خیر نہیںپتر ۔“ طاہرنے دانت پیستے ہوئے کہا پھرریستوران کا نام بتاتے ہوئے اس کی کوئی بات سنے بغیر کال بند کر دی ۔

 طاہر پارکنگ تک گیا اور کار لے کر کینٹین کے سامنے آ گیا ۔ساجدا ور منیب دونوں ہی وہیں نہیں تھے۔ لڑکی نے اسے کار میںبیٹھا ہوا دیکھا اور بڑھ آئی ۔ طاہر جلدی سے اترا، اس نے پسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا، اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا ۔ وہ پسنجر سیٹ پر بیٹھی تو ایک مہنگے پرفیوم کی مہک چاروں طرف یوں پھیلی جیسے کار اسی مہک سے بھر گئی ہو ۔ اس نے کار بڑھا دی۔ کیمپس سے نکلتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کرایا۔

” مجھے طاہرحیات باجوہ کہتے ہیں۔ میرا میڈیا ڈیپارٹمنٹ ہے اور ایم فل کے آخری سال میں صرف دو تین ماہ رہ گئے ہیں۔“

” اورمیرا نام آیت النساءہے ۔ سب مجھے آیت کہتے ہیں۔“ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا

” یہ تھوڑا منفرد سا نام نہیں ہے ؟“ اسے واقع ہی اس کا نام کچھ الگ سا لگا تھا۔

” یہ نام میرے دادا جی نے رکھا تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ خیر ، مجھے تو یہ نام بہت اچھا لگتا ہے ۔ عربی میں ہے اور اس کا مطلب، عورتوں کی علامت ،بنتا ہے یا کہہ لیں مثالی عورت۔“

” آپ کے دادا نے پیار سے رکھا ہے تو بہت پیار ا ہے ۔“ اس نے اپنی رائے دی توان میں خاموشی چھا گئی۔

شہر کے مہنگے ریستوران میں اس کی پسند کا کھانا کھا لینے کے بعد جب طاہر بل دے چکا تو اس وقت ساجد اور منیب بھی آگئے۔ ظاہر ہے وہ تصدیق کرنے آئے تھے۔ وہ ان کی طرف نہیں آئے بلکہ ساتھ والی میز پر بیٹھ گئے۔ طاہرنے ان کی طرف توجہ دئیے بغیر آیت سے کہا

” میں پھر سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری ….“

” کوئی بات نہیںطاہر، اس میں شکریہ والی کون سی بات ہے۔“ اس نے سکون سے تو کہا مگر اسے لگا جیسے وہ بات تو اس سے کر رہی ہے لیکن اس کا دھیان کسی دوسری طرف ہے۔

” پھر بھی ، آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں یوں کسی لڑکی سے کہنا، آپ میچور ہیں اور بات کو سمجھ گئی تو میری عزت رہ گئی ورنہ دونوں طرف سے بے عزت ہو جاتا۔ میں بہر حال آپ کا شکر گزار ہوں ۔ “ اس کے لہجے میں ممنونیت بھری ہوئی تھی ۔

” اگر آپ واقع ہی میرے مشکور ہیں تو آپ میری تھوڑی مدد کریں گے ؟“ آیت النساءنے اچانک سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا

” جی بولیں۔“ طاہر نے کہا

” مجھے ایک جگہ کام ہے ، آپ میرے ساتھ وہاں تک چلیں گے؟ “ اس نے پوچھا

” جی کیوں نہیں ، چلیں۔“ اس نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ اپنا پرس سنبھالتے ہوئے اٹھ گئی ۔

 وہ کچھ دیر یونہی سڑکوں پر پھرتے رہے۔ طاہر نے اچھی طرح یہ بھانپ لیاتھا کہ اسے نہیں پتہ تھا کہ کہاں جانا ہے ۔ طاہرنے بھی نہیںپوچھا۔ یہاں تک کہ اسے ایک جیولر کی دوکان دکھائی دی ۔ تبھی اس نے وہیں رک جانے کا کہا۔وہ اسے جیولر کی دوکان میں لے گئی۔ کاﺅنٹر پر موجود جیولر کے سامنے بیٹھ کر اس نے اپنی کلائی میں موجود کنگن اُتار کر کاونٹر پر رکھ دیا۔

” مجھے یہ کنگن بیچنا ہے؟“

جیولر نے وہ کنگن اٹھایا ۔ پارس پر رگڑ کر اپنی تسلی کی، تولا ، اچھی طرح اطمینان کیا، کچھ دیر بعد اس نے کنگن کی قیمت بتائی۔ جسے سن کی آیت کے چہرے پر عجیب سا دکھ پھیل گیا۔ انہی لمحات میں طاہر کو احساس ہوا جیسے وہ یہ کنگن ضرورت کے لئے بیچ رہی ہے ۔ اسے کیا ضرورت ہو سکتی ہے ؟ یہ تو معلوم نہیں تھا لیکن وہ اس کی مدد کر سکتا تھا۔

” چلیں ، ٹھیک ہے ۔“ آیت نے جیولر سے کہا تو طاہربولا

” ایک منٹ ، ہم ذرا مشورہ کر لیں۔“

اس کے یوںکہنے پر آیت نے طاہر کی طرف دیکھااور کنگن پکڑ کر اٹھ گئی ۔وہ دوکان سے باہر آگئے۔ طاہر نے پسنجر سیٹ کی طرف والا دروازہ کھولا اور آیت کو کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ طاہرنے کار بڑھاتے ہوئے پوچھا

” وہ اس کنگن کی قیمت کم دے رہاتھا نا ؟“

” کافی حد تک کم۔“ آیت نے سرسراتے ہوئے کہا، جیسے وہ بہت دُکھی ہو۔

” تمہارے خیال میںکتنا کم؟‘اس کے پوچھنے پر آیت نے اندازاً رقم بتائی ،جو اتنی زیادہ نہیںتھی۔

” یہ ڈیش بورڈ کھولو، اس میں رقم پڑی ہے ، اپنی ضرورت کے مطابق لے لو ۔“طاہر نے اس سے کہا

آیت نے ایک لمحے کے لئے طاہر کی طرف دیکھا ، چند لمحے سوچتی رہی پھر ڈیش بورڈ کھولا اس میں پڑی نوٹوں کی گڈّی میں سے اتنے ہی نوٹ لئے ، جتنے اس جیولر نے بتائے تھے ۔ پھر وہ کنگن باقی نوٹوں کے ساتھ رکھتے ہوئے بولی

”آپ جس طرح کی مدد کرنا چاہ رہے ہو، میں اسے پسند نہیں کرتی اور نہ ہی ایسا آج تک میں نے قبول کیا ہے ۔“

” کنگن رہنے دو، اسے اُدھار سمجھ لو، بعد میں دے دینا۔“ اس نے خلوص سے کہا

” کہا نا ، میں اسے پسند نہیں کرتی ہوں۔مجھے کنگن بیچنا تھا ، جیولر کو نہ سہی آپ کو سہی۔ “ اس نے دھیمے لہجے میں کہا پھر ایک دم خوشگوار لہجے میں بولی ،” آپ اسے گروی سمجھ لو۔“

” جیسے آپ کی مرضی، لیکن آپ کو میری ایک بات ماننا ہوگی۔“ طاہر نے کہا تو وہ بولی

” بولیں؟“

” آپ کچھ رقم مزید لے لیں۔پلیز“ طاہر نے کہا تو وہ آیت نے چند لمحے سوچا، پھر ڈیش بورڈ سے کچھ مزیدبڑے نوٹ لے کر اپنے پرس میں رکھتے ہوئے بولی

” اب آپ مجھے یہیں اتار دیں۔“

” کیمپس واپس نہیں …. ؟“طاہر نے پوچھا

” نہیں مجھے یہاں ایک کام جانا ہے۔“ اس نے کہا توطاہر نے کار سڑک کنارے روک دی ۔ تب وہ اترتے سے پہلے بولی

” طاہر ، میرا شکر گذار ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میں آپ سے شکریہ کہوں گی۔ کیونکہ میں اور آپ اتفاق سے نہیںملے ۔“

” اتفاق سے نہیںمطلب پلان سے ؟“ وہ گڑبڑاتا ہوا بولا

” تم شاید نہ سمجھ سکو ، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ کسی کی مرضی تھی کیونکہ یہ اتفاق ہو نہیں سکتا۔“

” میں سمجھا نہیں، مطلب، آپ کیسے کہہ رہی ہو کہ ہم تو اتفاق …. “اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی کیونکہ آیت بول پڑی تھی۔

”نہیں ایسا نہیں ہے ۔ شاید آپ ، جوس یا کھا نے کی آفر قبول کرنے کو میرااعتماد،بولڈ نیس یا کچھ اور سمجھو۔ ایسا نہیں ہے۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

” تو پھر کیا تھا، پلیز مجھے بتائیں۔“ وہ کنفیوژ ہوتا ہو ا بولا

” اچھا تو پھر سنیں، اس وقت میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوا تھا ۔ مجھے بھوک لگی ہوئی تھی ۔ میں نے یہ کنگن بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرنا تھی ۔ ڈیش بورڈ سے زیادہ میں نے اس لئے نہیں لئے کہ مجھے لگتا ہے میری ضرورت اسی میں پوری ہو جائے گی ۔ خدا حافظ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ کار سے اتر گئی ۔ سڑک کنارے جا کر اس نے قریب کھڑے ایک رکشے کو آواز دی اس میں بیٹھی اور چلی گئی ۔وہ اسے حیرت سے دیکھتا رہا ، یہاں تک کہ رکشہ نگاہوں سے اوجھل نہیںہوگیا ۔ طاہر نے ایک لمبی سانس لی اور کار بڑھا دی ۔آیت اسے کافی حد تک پراسرار لگی تھی۔ اس وقت وہ اپنے دوستوں کو بھول ہی گیا، جن کی وجہ سے آیت ملی تھی

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا۔۔ امجد جاوید ۔۔ قسط نمبر 3

بے رنگ پیا۔۔ امجد جاوید قسط نمبر 3 لاہور کے پوش علاقے میں وہ سفید …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے