سر ورق / جہان اردو ادب / غلام حسین غازی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

غلام حسین غازی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

آج میرے ساتھ علمی و ادبی مکالماتی سلسلہ میں جو مہمان ہیں ۔ وہ اپنی الگ تھلگ پہچان رکھتے ہیں ۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ اردو ادب میں کسی نے سائینس فکشن کے موضوع پہ پورا ناول لکھا ہو ۔ جہاں تک میری معلومات ہیں شاید چند گنے چنے نام ہی سائینس فکشن لکھ پائے ہیں ۔ ان میں سے ایک نام غلام حسین غازی صاحب کا بھی ہے ۔ چند ماہ پہلے کی بات ہے جب میرا سائینس فکشن پہ مبنی ایک شارٹ فکشن بعنوان تاریخ اودھ نامہ لکھنو بھارت سے شائع ہوا تو غلام حسین غازی صاحب نے میری خوب حوصلہ افزائی کی اس وقت تک یقین مانیں میں آپکو بلکل نہیں جانتا تھا خیر آپ نے مجھ سے میرا ایڈریس لیا اور مجھے اپنا ناول  ( آدم ثانی ) ارسال فرما دیا ۔ خیر دوران مطالعہ مجھ پہ کئی طرح کے انکشاف ہوئے اور میں سوچتا رہا کہ میرا مطالعہ کس قدر کم ہے ایسے بہترین ادیب کو میں پہلے کیوں نہیں پڑھ پایا ۔ خیر اس دن کے بعد آپکی شخصیت کے مزید بھید مجھ پہ کھلتے گئے اور معلوم ہوا کہ گراؤنڈ لیول اور سوشل میڈیا پہ آپکو علمی و ادبی حوالا سے یکساں شہرت اور پزیرائی حاصل ہے ۔ بطور مبصر اور نقاد کے میں نے غلام حسین غازی صاحب کو قریب سے دیکھا واقعی نیں ہی آپ عصر حاضر کے بہتربن مبصرین میں سے ایک ہیں ۔ بانو قدسیہ کے راجہ گدھ پہ آپکی کتاب ادباء اور تنقیدی حلقوں میں زبان زد ء عام ہے جس میں آپکی تخلیقی و تنقیدی بصیرتوں کی بلندیوں کا اندازہ لگانا مشکل نظر آتا ہے بالخصوص مجھ جیسے نالائق طالبعلم کو ۔۔

خیر آئیے آج آپکو علمی ادبی اعلی اخلاق اور ہمیشہ محبتوں سے نوازنے والی شخصیت سے ملواتے ہیں ۔ جنکا نام ہے محترم غلام حسین غازی صاحب ۔

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب ۔ جی!!! میرا نام غلام حسین ھے اور غازی مجھے میری فوجی یونٹ کے کرنل صاحب نے دیا۔ سو اب مدت سے غلام حسین غازی ھی لکھتا ھوں۔ پلیز

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔

2۔ میرا تعلق ارائین برادری سے(جو کوئی وجہ فخر نہیں میرے نزدیک) والد صاحب پانچ مربع زرعی اراضی کے مالک تھے۔ بچپن بہت تعیش میں گزرا کیوں کہ میں تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔۔۔ پھر بھائیوں سے کسی عناد پر والد صاحب نے ساری زمین بیچ دی اور پیسہ خدا جانے ضائع کر دیا۔ پھر لگ بھگ ساری عمر کسمپرسی میں گزری۔

تعلیم بی۔اے ایل ایل بی ھے۔۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے۔

جواب ۔۔جی ادب سے لگاو میں ساری تعریف میرے سب سے چھوٹے ماموں سرور سلاطان (مرحوم) کو جاتی ھے۔ میں جماعت ششم کا طالب علم تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے انڈین ہسٹری کا کر تھما دی یہ سنہ 1972 کی بات ھے۔۔بس پھر کیا روسی لٹریچر کیا مارکس ازم کیا اسلامی تاریخ و فقہہ بس پڑھتے رھتے تھے اور ان سے سمجھتے رھتے تھے۔

جہاں تک لکھنے کا تعلق ھے تو میری بیوی کوسنے دیتی رھتی تھی کہ میاں پڑھ پڑھ کر اندھے ھونے پر آ گئے کچھ لکھو بھی!!! پھر لاھور سے میرے دوست ڈاکٹر عرفان احمد نے بھی تحریک دی تو یک دم ھی راجہ گدھ کے ایک غیر منطقی اور سماج دشمن اور ڈکٹیٹر نواز ناول ھونے پر تنقیدی کتاب لکھ ڈالی۔ وھ کتاب دسمبر 2016 کو BOOK HOME LHR سے شائع ھو کر پذیرائی کی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔ پلیز

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔

4۔ جی میں نے عرض کیا نا کہ پہلی تحریر "راجہ گدہ – ایک تنقیدی جائزہ” ھی چھپی۔ اس کے بعد کوئی 24 افسانے لکھے ھیں۔ تین افسانے نیٹ پر ادبی فورم "نئی روایت” پر لگے ایک پر خوب لے دے ھوئی اس کا عنوان تھا”درخت بچہ” البتہ "سب سے طاقتور” اور "تھانیدار” کو خوب پذیرائی ملی اور حقیقی افسانے مانا گیا۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔ 5۔ مجھے ری ایکشن دینا آسان نہیں تھا کسی کے لئے بھی۔ ھاھاھاھا! الٹا بیوی بچوں اور خاندان اور دوستوں سے شاباشی اور حوصلہ افزائی ملی۔ ھاں!! یاد آیا! !! میں نے راجہ گدھ پر کتاب کا تلخیصی مضمون "حلقہ ارباب ذوق” لاھور میں پڑھا(تب ڈاکٹر امجد طفیل سیکریٹری حلقہ تھے)

تو میرے معزز ناقدین اس پر کچھ تنقید نہ کر سکے اور انھوں نے یک زبان فیصلہ دیا کہ یہ کتاب فورا چھپنی چاھیئے۔ پلیز

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔ جی!!! میں سمجھتا ھوں یہ راجہ گدھ پر تنقیدی کتاب ھی جس ایک نے ھی مجھے راتوں رات ادب شناسوں میں متعارف کروا دیا۔ آج تک کرم فرماوں کے فون آتے رھتے ھیں۔ وجہ یہ بنی کہ وھ کتاب بے حد سنجیدہ نقد پیش کرتی ھے۔ اور بعض لوگوں نے اسے تنقید نگاری کے اصولوں کے طور ایک اچھی کاوش قرار دیا۔

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ جی! لاھور سے ڈاکٹر افتخار حسین بخاری، ڈاکٹر عرفان احمد، ڈاکٹر امجد طفیل اور نیٹ پر یوسف عزیر، ھندوستان سے محمد ھاشم خان صاحب، ارشد عبدلحمید، آسٹریلیا سے ڈاکٹر نگہت نسیم، پاکستان سے جناب الیاس گوندل اور راو طاہر صاحب وہ حضرات ھیں جو مجھے بے انتہا محبتوں سے نوازتے اور میرے ادب سے بابت سوالات پر میری تشفی کرتے ھیں۔ میں ان دوستوں کی انجمن میں خوش رھتا ھوں۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ جی! بھائی جدید زمانہ میں تعلیم معیاری ھو تو لوگ پڑھنے کا چسکا پالیں گے (جیسے کہ مغربی دنیا یا ترقی یافتہ ممالک) اور اگر معاشرہ کوالٹی ایجوکیشن سے محروم ھے تو اسے ادب نہیں دال روٹی،صحت اور چھت کی ضرورت ھو گی۔ جیسے کہ ھمارا معاشرہ بیس کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ھے لیکن کسی بھی کتاب کا ہزار کتابوں کا ایڈیشن چھپ کر بک جانا کمال سمجھا جاتا ھے۔ اس صورت میں پاپولر

 فکشن اور دل کو مردہ کرنے والا سٹیج ڈرامہ اس معیاری ادب کو نہ سمجھنے جانے پر پیدا ھونے والے خلا کو پر کرتا ھے اور ایسا ھی ھو رھا ھے۔ لہذا ھمیں سمجھ لینا چاھیئے کہ نہ ادب قاری پیدا کرتا ھے نہ قاری ادب پیدا کرتا ھے بلکہ ایک آزاد اور بہت اعلی درجے کی تعلیمی پالیسیاں دونوں کو پیدا کرتی ھیں۔ مثلا آج کے پڑھے لکھوں کی نہ املا درست نہ Spellings درست!

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ جی! بھئی وہی تو ادب تھا جس نے انسان کو بے لاگ طور پر کھل کر اپنا مافی الضمیر لکھنے اور عوام کو پڑھنے کا موقع دیا۔ اس کی بیخ کنی کے لئے کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی لگی اور پھر ڈکٹیٹر نواز اور رجعت پرست سوچ کو پروان چڑھانے والے ادب کو بڑھاوا دے کر ڈرامہ فلم کو پروموٹ کیا گیا۔ جس کا عروج جنرل ضیاء کے دور میں ھوا۔ عوام روٹی روزی کے گھن چکر میں پھنستے چلے گئے اور سیاسی شعور بھی ذات برادری کے دھروں پر پروان چڑھا اور جو ہر شعبہ میں کرپشن اور مفاد پرستی کی دلدل میں پھنستی چلی گئی نتائج آپ کے سامنے ھے۔ ادب اور ادیب کا ترقی پسند ھونا سماج کی ترقی کا سبب بنتا ھے۔ لیکن یہاں کی اشرافیہ کو یہ قبول نہ تھا۔

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔۔ ھم جدیدیت میں جب مادی طور پر مغرب جیسی سہولیات سے ھی بہرہ ور ھی نہ ھو سکے تو یہاں ابھی جدیدیت آئی ھی نہیں تو میں اس پر بات کیا کروں۔ ویسے بھی میرے نزدیک یہ اصطلاحات مبہم ھیں۔ میرے نزدیک ہر زمانہ جدید ھی ھوتا ھے۔  زمانہ کبھی اپنے آپ کو قدیم مانتا ھی نیئں۔ آپ جس دور میں جس ماحول میں زندہ ھیں وہ جدید ھی ھے اور اس کے تقاضوں کے مطابق لکھتے رھیں۔  آپ کا یہ سوال اپنی تشفی کے لئے ھمارے درمیان ایک علیحدہ نشست کا متقاضی ھے۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔۔ بھئی روٹی روزی کی آسائشوں کے بعد ھی کوئی ادب کی طرف اے گا۔ لہذا پاپولر فکشن ھی اس خلا کی بھر پائی کر رھا ھے۔ اور ادب عالیہ میں لکھنے والوں کو بھی فرصت نہیں اس لئے ان کاوشیں بھی شاید عالمی آفاقی روح سے عاری ھوتی ھیں۔ اس لئے سب اپنا چسکا شاعری سے پورا کرنے میں جٹے ھوئے ھیں۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔

جواب۔۔ آپ کے سوالات مجھے بار بار معیشت پر بات کرنے پر مجبور کر رھے ھیں۔ باقی ھمیں کبھی بھی مغرب سے مقابلہ سوچ کر لکھنا ھی نہیں چاھیئے۔ ھماری ان کی سماجی، معاشی، اخلاقی اور سائنسی اقدار میں زمین آسمان کا فرق ھے۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل پرائز بنگال کے لوگوں کی مقامیت میں بھیگی "گیتانجلی” لکھنے پر ملا تھا نہ کہ مغرب کو خوش کرنے کے لیئے۔ ھمارے ادیب دوستوں کو اپنی معروضی حالات کی بہت گہری تہوں میں موجزن ھر طرح کے جاری و ساری مکینکس کو سمجھتے ھوئے اسے سچ سچ لکھنے میں خوبصورتی اور حقیقی ادبی روح ھو گی۔۔۔جو کبھی بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کر سکے گا۔ سماج کا معاشی و سیاسی استحصال سماج کے تانے بانے کو برباد کر کے رکھ دیتا ھے۔ پھر کبھی سوال کیجیئے گا کہ ھمارے بزدل ادیبوں کے پاس کونسا دور تھا زندہ و جاوید تحریریں لکھنے کا جو وہ ضائع کر بیٹھے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ماضی میں کئی جناتی نام ھیں بہت مشکل ھے فیصلہ کرنا میرے جیسے نالائق آدمی کے لئے۔ میری عشق کی حد پسندیدگی ھے جناب اکرام اللہ (قدیم) اور اکرام اللہ ھی(جدید) میں بھی کیوں کہ وہ ابھی حیات ھیں۔ رحمان منذب اور غلام عباس۔۔۔بس یار مت پوچھیں سب ادب کے جن تھے۔

انٹرنیٹ پر میں فارحہ ارشد سے اعلی مشکل ھی کسی کو بڑا افسانہ نگار مانوں گا۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔ جی! آپ دل پر ھاتھ رکھ کر مجھے ایک جواب دیجیئے!!! کیا ھم آزاد پیدا ھوتے ھیں اس سماج میں؟ کیا اب بھی آپ آزاد فضا میں سانس لے رھے ھین؟ جب ھمیں فوج کے خوف،  ھمیں آئی ایس آئی، مذھبی جبر کے خوف،

معاشی جبر کے خوف اور غنڈہ نما اشرافیہ کے خوف میں لکھنا پڑے تو کون حق سچ لکھے گا؟ اور کون کھل کے تنقید لکھے گا؟ آپ سماج کے ٹیٹوے سے انگوٹھا تو اٹھائیں معیار تعلیم بلند کریں سماجی استحکام بخشیں تو اعلی ادیب بھی پیدا ھونے لگ جائیں گے اور ناقد بھی محدب عدسے پکڑ لیں گے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔۔ تنقید ادب میں تو براے تعمیر ھی سمجھی جاتی ھے۔ باقی ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اور شاھد حمید، ڈاکٹر امجد طفیل اور پورا حلقہ ارباب ذوق انفرادی اور گروہی تنقید کے استعارے مانے جاتے ھیں آج کل۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ مغرب میں الڈس ھکسلے کے مضامین فرانسس کافکا کے افسانے لاجواب۔ لیکن میں روسی ادب میں پتہ نیین کیوں پاکستانی ماحول کی وجہ سے بہت پسند ھے۔ کافکا سے پہلے چیخوف کی ایک کہانی The Kiss” کا جواب ھی مشرق مغرب میں کوئی جواب نہیں اور لیو ٹالسٹائی کی لاتعداد کہانیاں لیکن The Bowl کا جواب ھمارے پاس نہیں(یہ کہانی انھوں نے ستر سال کی عمر میں لکھی تھی) پھر عظیم ترین انقلابی مصنف میکسم گورکی کے ناول "ماں” سے ھم نے بہت کچھ سیکھا۔ پوشکن تو بعض حوالوں سے عظیم ترین۔ ھاےےے ھاےےے۔ پولیٹکل تھاٹ میں مغرب سے ایڈم سمتھ کی Wealth of the Nation’s اور کارل مارکس کی Das Capital بے حد متاثر کن ھیں۔ اس پر مجھے کوئی بائیں بازو کے دوست معتوب بھی کر سکتے ھیں۔ سماجی حوالے سے فریڈرک اینگلس کی "خاندان ذاتی ملکیت اور ریاست کا اغاز” لاجواب۔۔۔ دینیات کے حوالے سے سر جیمز فریزر کی  The Golden Bough نے دماغ ھمیشہ کے لئے الٹ دیا تبھی ھم جناب علی عباس جلالپوری کی کتب سمجھنے کے قابل ھوے۔ سماجی فلسفہ میں برٹرنڈ رسل کو بہت پڑھا۔ پھر تاریخ میں گبن کی Decline nd Fall of Roman Empire ایک ناگزیر کتاب ھے۔ بس جی لمبی لسٹ ھے بہر حال چلتے چلتے ژاں پال سارتر سے کی گئی خوشہ چینی کا تذکرہ رھ گیا تو ان کی روح ناراض ھو سکتی ھے۔ ھاھاھاھا ان کے فلسفہ existentialism کی بازگشت اکثر پاکستانی رائٹرز میں دیکھتا رھتا ھوں۔۔۔ لیکن سطحی لیول کی۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔جی فلسفہ جدل میری گھٹی میں رچ بس چکا ھے۔ یہ سب تجربات ھو رھے ھیں اور اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے۔ لیکن میں اس  چھوٹی صنفے تحریر سے خوش نہیں ھوتا۔ میں اس کے لئے بہت غصے میں ایک سخت ترین جملہ بولتا ھوں۔۔۔ خیر اگر تعلیمی معیار خراب رھا تو یقین مانیے آ یہ اصناف ادب بہت ترقی کریں گی۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔۔ بہت مطمئن ھوں اپنی زندگی سے۔ جو شخص میٹرک نہ کر سکا ریگولر۔۔۔اسے نوکریوں کے ساتھ پرائویٹ پڑھنا پڑا۔۔۔وھ کتب لکھے۔ عسرت زدگی کے باوجود محنت سے کروڑوں کی جائداد بنا لے۔۔۔بہت پڑھ لے۔۔۔تیس سال پہاڑی درے عبور کرتا رھے۔۔۔ناقد بن جاے۔۔۔سب سے بڑی بات جس شخص کے پڑھاے ھوے طلبہ و طالبات اعلی مقامات حاصل کریں اور اپنی کامیابیوں کو میرے نام ڈیڈیکیٹ کرین۔ جو شخص تنقید لکھے اور صاحب ناول ھو جاے اس کے لئے راوی سب اچھا لکھتا ھے۔ لیکن اجتماعی زندگی کے حوالے سے میں دکھی ھوں۔۔۔کالج نہ جا سکا میں دکھی ھوں۔۔۔واپس وقت میں جاوں تو اساتذہ اکرام کے پیروں میں بیٹھ کر پڑھنا پسند کروں گا۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب۔۔ محبت اور روٹی کے بغیر کوئی رہ سکا ھے کیا؟

مجھ سے بہت خواتین نے محبت کی۔ میں نے جس سے کی اس کا مجرم ھو گیا۔۔۔وہ احساس گناہ بن کے میری روح کو پھپھوندی لگا گیا۔ باقی محبت پر میرے ساتھ علیحدہ نشست کیجیئے۔ بس یہ ایک اور سچی محبت والے فلسفہ پر میں یقین نہیں رکھتا۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ جی! مجھے سکینہ افتخار کو بیوی مل جانا سب سے بڑا انمول واقعہ ھے ورنہ میں کہیں تاریک راہوں میں مارا جا چکا ھوتا۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔ جی!!! میں ٹورسٹ گائڈ رھا۔ میں نے بسوں میں مالٹے بھی بیچے۔ میں بے حد تنہائی پسند ھوں اس لئے صرف دو دوست ھی مجھ سے نبھا سکے۔ میں پرانا اسلحہ جمع کرنے کا شوقین ھوں۔ قیمتی کتب جمع کرتا ھوں۔ جوہرات جمع کرتا ھوں۔ بیوی کے زیورات کی ڈیزائننگ میں سنیارے بھی مجھے استاد مانتے ھین۔ کسی سوالی کے آنے پر دل پسیج جاتا ھے خاص طور پر جو جناب رسول (ص) کا نام لے لے۔۔۔تب جو پاس ھو دے دیتا ھوں۔۔۔اب گھر والے میری جیب میں اس کارن زیادہ پیسے نہیں رھنے دیتے۔

مراقبہ اور یوگا اور ٹائی چی کی خوب پریکٹس کرتا ھوں۔ جڑی بوٹیاں اگانے اور کھانے کا شوقین ھوں۔۔۔ میرا خیال ھے کافی خفیہ پہلو بتا دیئے؟ ھاھاھاھا!

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔۔ میرے فالوورز تو پتہ نہیں کوئی ھیں بھی یا نہیں۔۔۔پھر بھی ان کے لئے یہی کہ سچ بولین۔۔۔مستقبل کا سوچیں۔

رہ گئے ادبا تو ان کے لئے میں ” کیا پدی کیا پدی کا شوربا "۔ بس سماجی دکھوں کو اتنا بڑا اور اتنا زیادہ لکھیں کہ ایک تحریک چل پڑے۔ پلیز

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔۔ ارے آپ نے زیادہ تر اچھے سوالات کئے۔ ایمانداری سے کام کیجئے گا۔ اور ادبا کو ان کے مستقبل کے منصوبوں پر سوال بھی کیجیئے۔ سچ اور حق کا دامن نہ چھوڑیئے گا۔ فطرت آپ کو بہت نوازے گی۔

اور مجھ فقیر کا انٹرویو کرنے اور شائع کرنے پر میں بے حد شکر گزار۔ سلامت رھیئے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے