سر ورق / ناول / اس کے زاد راہ۔۔ عشناء کوثر سردار

اس کے زاد راہ۔۔ عشناء کوثر سردار

اس کے زادِ راہ

وہ اک ذرا سا دیکھنا، دیکھ کے رُخ پھیرنا

چپکے سے مسکرانا، مسکرا کے دل لبھانا

یاد ہے تیری ہر ادا، مگر یہ کہاں کا اصول ہے

ایک شام روٹھ کر چلے جانا اور پھر واپس نہ آنا

وانیہ ضیاءنے ہائی اسٹریٹ پر چلتے چلتے اچانک رک کر اپنی بند مٹھی کو کھولا اور اس میں موجود اس سکے کو بغور دیکھا تھا، سرد خشک ہواﺅں نے اسے چھوا اور وہ ساکت سی کھڑی رہ گئی، جیسے اس کا وجود اتنا سرد تھا کہ اسے ان یخ بستہ ہواﺅں سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔ یک ٹک اپنی اس کھلی ہتھیلی کو اس نے چند لمحوں تک تکا اور پھر اپنی اس مٹھی کو بند کر کے چلنا شروع کر دیا۔

”محبت جلتی بجھتی آگ ہے، ایک الاﺅ ہے، اور یہ میرے لیے نہیں ہے۔“ ایک آواز نے اس کے اندر شور مچایا تھا اور اس کے قدموں کی رفتار پہلے سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔

”محبت میرے لیے نہیں ہے، بے وجہ کے حاشیے کھینچنے سے،لکیریں لگانے سے صحیح راستوں کا تعین ممکن نہیں۔محبت تک بندی نہیں، بے وقوف ہو تم۔“ وہ اپنے اندر کے شور سے یک دم ہی گھبرا اٹھی اور تیزی سے بھاگنے لگی تھی، تبھی سامنے سے آتی گاڑی کی ہیڈلائٹس نے اس کی آنکھوں کو چندھیا دیا تو اس نے فوری آنکھوں پر بازو رکھ لیا تھا۔ اسے یقین تھا یہ آخری راستہ ہے اور اس سے آگے بس سکوت ہے اور اس سکوت کے بعد آنکھ پھر نہیں کھلے گی، مگر تبھی گاڑی کے ٹائر چرچرائے تھے۔ کسی نے گاڑی کو بریک لگا کر عین اس کے قریب روکا اور پھر اس کے سامنے آن رکا تھا۔ اس نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا کر اپنے سامنے دیکھا اور ایک گہری سانس خارج کی تھی۔ زوارشاہ اس کے سامنے کھڑا تھا اور وانیہ ضیاءکو مان لینا پڑا کہ ابھی اس کا رشتہ اس حقیقت کی دنیا سے ابھی تک نہیں ٹوٹا۔

”ایسے کیا دیکھ رہی ہو…. تمہیں یقین تھا کہ تم گزر کر اگلے جہاں پہنچ چکی ہو؟“ وہ مسکرا رہا تھا۔ وانیہ نے کچھ نہیں کہا، زوارشاہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔

”تمہیں آنکھیں کھول کر چلنے کی ضرورت ہے وانیہ ضیائ! اگر ایسا نہیں کرو گی تو تکلیف ہو گی اور نقصان بھی سہنا پڑے گا۔“ زوارشاہ نے اسے جتایا۔ ”چلو آﺅ! گاڑی میں بیٹھو۔“ کہہ کر وہ پلٹ کر گاڑی کے پاس آ رکا، پھر پلٹ کر دیکھا تھا تو اسے ابھی تک وہیں کھڑا پایا۔

”وانیہ ضیائ! تمہیں اچھا لگے گا اگر میں تمہیں اپنے ان بازوﺅں پر اٹھاﺅں اور گاڑی تک لاﺅں؟“ وہ اسے بت بنا دیکھ کر مکمل پُرسکون اندازمیںبولا تو تب وانیہ کو اپنے برف سے یخ وجود کو حرکت دینا پڑی۔ وہ گاڑی تک آئی اور فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی اور چپ چاپ سی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

”میں تمہیں ڈھونڈنے نہیں نکلا تھا، مگر ماسو آپ کے لیے پریشان ہو رہی تھیں، میں ضروری کام سے نکلا تھا جب آپ سے سامنا ہو گیا۔ سو یہ مت سمجھئے گا کہ میں آپ کی جاسوسی پر معمور ہوں اور آپ کو چیس کر رہا ہوں۔“ وہ جتا رہا تھا، وانیہ نے اس کی سمت دیکھا مگر کچھ بولی نہیں۔زوارشاہ کی نظر اس کی سختی سے بھنچی مٹھی پر پڑی۔

”آپ کی مٹھی میں کیا ہے؟“ وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکا تھا۔ وانیہ نے اپنی مٹھی کو اور بھی سختی سے بھینچ لیا اور فوراً گردن موڑ لی تھی۔

”ایک تو آپ اتنی پُراسرار لگتی ہیں کہ مجھے لگتا ہے آپ کی جگہ کسی سیکرٹ ایجنٹ ٹیم میں ہونا چاہیے یا پھر اتنی عجیب لگتی ہیں کہ بارہا دل چاہا آپ کو اٹھا کر مادام تساﺅ کے میوزیم میں رکھ آﺅں اور پھر انہیں ڈسکور کرنے دوں۔“ وہ اس کی خاموشی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وانیہ ضیاءاسی طرح گردن موڑے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی، جب تک گاڑی گھر کے دروازے تک نہ پہنچ پائی تھی۔ وہ جھٹ سے دروازہ کھول کر اُتری اور تیزی سے اندر بڑھ گئی۔ زوارشاہ اسے دیکھتا رہا پھر گاڑی آگے بڑھا دی۔

٭….٭….٭

ماسو نے کافی کا کپ اس کی جانب بڑھایا اور پھر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

”تمہارے بابا کا فون آیا تھا،تمہیں بہت یاد کر رہے ہیں۔ تمہیں جا کر ان سے ملنا چاہیے۔“ ماسو نے کہہ کر اس کا ری ایکشن جاننا چاہا، مگر وہ سر جھکائے خاموشی سے کافی کے سپ لینے لگی۔

”وانیہ! بڑے غلطیاں کر سکتے ہیں، مگر چھوٹوں پر فرض ہے کہ اگر بڑوں سے کوئی کوتاہی ہو بھی جائے تو اسے درگزر کر دیں۔ ہم جانتے ہیں ضیاءبھائی صاحب نے جو کچھ بھی کیا ٹھیک نہیں تھا مگر اب جب انہیں احساس ہو گیا ہے اور وہ جان گئے ہیں کہ وہ غلطی پر تھے تو….“

”میں ان سے خفا نہیں ہوں۔“ وانیہ نے ان کی بات کاٹ کر کہا۔ ”آپ انہیں بتا دیں مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں۔“ لہجہ سرد تھا۔ ماسو نے اسے بغور دیکھا پھر اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

”وانیہ بیٹا! زندگی یہی ہے، ہم اپنی توقعات کو جتنا بڑھاتے ہیں اتنی ہی بڑی ڈس اپائنٹمنٹ ہوتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اعتدال میں رہا جائے اور رشتوں کو ان کے ٹھیک مقام پر رکھا جائے۔“

”ماسو! میں نے رشتوں کو ان کے مقام سے نہیں گرایا، نہ ہی کسی کو اس رشتے سے بے دخل کیا۔ میں جانتی ہوں رشتوں کی اہمیت۔ میں رشتوں کو پامال نہیں کر سکتی۔ کوئی کوتاہی اگر ہوئی ہے تو وہ بابا سے ہوئی ہے۔ رشتوں کو انہوں نے ہی توڑا ہے۔مجھے ان سے ایسی امید نہیں تھی۔“ وہ بہت ڈسٹرب دکھائی دے رہی تھی۔ ماسو نے اسے زیادہ ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں جانا اور پیار سے بولیں۔

”چلو اٹھو، ڈنر کرو۔ یہ سب باتیں تو ہوتی رہیں گی۔“ اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا، مگر اس نے سر انکارمیں ہلا دیا اور اٹھتے ہوئے بولی۔

”مجھے بھوک نہیں ہے ماسو! آپ کھا لیں۔“ ماسو کو اچھا نہیں لگ رہا تھا جس طرح وہ خود کو مار رہی تھی۔

”تو دوسروں کے کیے کی سزا کب تک خو د کو دو گی؟“ وانیہ ضیاءنے مسکرا کے انہیں دیکھا۔

”جب تک کہ مجھے یقین نہ ہو جائے کہ اب یہ سزا باقی نہیں رہی، یا جب تک کہ یہ اب مجھ میں سہنے کی ہمت نہیں رہی۔ ماسو! میں خود کو معاف نہیں کر پا رہی۔ ہم ہمیشہ دوسروں کے گناہ اور خطائیں دیکھتے ہیں مگر میں اپنے آپ کو جانچ رہی ہوں۔ مجھے بابا پر اتنا بھروسہ نہیں کرنا چاہیے تھا، وہ ٹوٹا تو اس کا سب سے زیادہ دکھ مجھے ہوا کیونکہ دنیا میرے خلاف کھڑی ہوتی میں قبول کر سکتی ہوں، مگر…. وہ میرے اپنے بابا تھے جنہوں نے میری طرف سب سے پہلے انگلی اٹھائی، میں وہ لمحہ نہیں بھول سکتی اور وہ مجھے یہ احساس جینے نہیں دیتا کہ میں اپنے بابا کی اچھی بیٹی بھی نہ بن سکی۔“ اس کے لہے میں بھاری پن تھا، ماسو اسے دیکھتی رہ گئیں۔

٭….٭….٭

”تم ایک بہت چھوٹی سی ڈری سہمی لڑکی لگتی ہو جو اپنی مٹھی میں کوئی ایک لمحہ بہت حفاظت سے محتاط انداز سے دبا کر بیٹھی ہو کہ کہیں یہ کسی جگہ کھو نہ جائے، یا مٹھی سے گر نہ جائے، مگر اس احتیاط کے بعد بھی وہ لمحہ کہیں کھو جائے،وہی ایک پچھتاوا میں تمہاری آنکھوں اور چہرے پر دیکھتا ہوں وانیہ ضیائ! میں چاہتا ہوں تمہیں تسلی دوں اس بات کا کچھ تو ازالہ کروں، مگر تم کھل کرنہیں کہتیں اور میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اس کا کوئی سدباب ڈھونڈسکوں اور میں واقعی تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں۔“ اسے جتاتے ہوئے زوارشاہ نے کافی کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگایا۔ وہ چہرے کا رُخ پھیر کر کھڑکی کی سمت دیکھنے لگی۔ باہر برف باری ہو رہی تھی، سفید روئی سی برف ہر طرف بکھری ہوئی تھی۔

”زوار شاہ! کبھی آپ نے برف کے اس سردپن کو جانچا ہے؟ اس کی یخ بستگی کبھی کبھی سارا وجود سرد کر دیتی ہے۔ ایک حد سے زیادہ آپ اس یخ بستگی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جھیل نہیں سکتے، میں نے اس یخ بستگی میں آنکھ کھولی ہے۔ میرا وجود برف کا سا ہے، سرد، بے حد سرد۔ اس یخ بستگی لیے ہوئے آپ مجھ میں جانے کیا ڈھونڈنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں، مگر سرد برف میں کہانیاں ڈھونڈی نہیں جا سکتیں۔ یخ بستگی میں سانس اور احساس مرتا ہے اور سارا وجود سرد پڑ جاتا ہے۔ تلاشنا ہے تو کہیں اور کوشش کریں۔میری کہانی کچھ اتنی دلچسپ نہیں۔“ وہ مسکراتی ہوئی اپنی کافی پینے لگی تو زوارشاہ مسکرا دیے تھے۔ پھر اس کی طرف بغور دیکھتے ہوئے بولے۔

”تم سے بات کرنا ہمیشہ دلچسپ لگتا ہے، تم بولتی ہو تو جانے کیوں تمہاری بات رد کرنے کو دل نہیں چاہتا۔“ وانیہ نے ان کی اور اپنی عمر کے تضاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا۔

”آپ بڑے ہیں، آپ کی نظر جانچ پڑتال کرنا خوب جانتی ہے، مگر کبھی کبھی کسی کو پڑھنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ چہرہ کھلی کتاب نہیں ہوتا۔ ویسے کب پرپوز کر رہے ہیں ماسو کو آپ۔“ شادی کے کیا پلانز ہیں؟ کہیں ساری زندگی آپ صرف میری ماسو کے پڑوسی بن کر تو نہیں رہنا چاہتے۔“ وانیہ نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا، تبھی ماسو کباب کی پلیٹ لیے چلی آئیں۔

”زوارشاہ کی بات مت کرو، وہ ایک جذبات سے عاری انسان ہے۔ یہ وہ ہیں جنہیں جذبات کا سرے سے معلوم نہیں۔“ مسکراتے ہوئے کباب کی پلیٹ ان کے سامنے رکھ کر بیٹھ گئیں اور اپنی کافی کا کپ اٹھا کر سپ لینے لگیں۔

”میں…. کوئی نہیں، دنیا میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن کو یہ سب نہیں آتا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جذبات سے عاری ہی ہوں، مجھے امید ہے زوار شاہ! آپ سے بہت پیار کرتے ہیں اور جلد ہی آپ کو پرپوز ضرور کریں گے۔ کیوں زوارشاہ کریں گے نا؟“ زوارشاہ مسکرا دئیے۔

”تم نے اپنا وکیل بہت پُراثر ڈھونڈا ہے ہادیہ! تمہیں بہت اچھے سے سپورٹ کر رہی ہے، اگر یہ پہلے مل جاتی تو شاید کہانی کا نقشہ بدل چکا ہوتا۔“

”میں نے کوئی وکیل نہیں بنایا اسے۔ وانیہ! کوئی ضرورت نہیں انہیں قائل کرنے کی۔ تمہاری ماسو کو لڑکوں کی کمی ہے بھلا؟ اپنی انرجی ضائع مت کرو، ان سے بہت اچھا لڑکا تمہاری ماسو کو مل سکتا ہے۔ یوں بھی اگلے مہینے بوا آ رہی ہیں پاکستان سے،دیکھنا لڑکوں کے رشتوں کی ایک لمبی لسٹ ساتھ لائیں گی۔ وہ وہاں اپنے قیام کے دوران اسی مشن پر ہیں۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

”دیکھیں آپ اپنا چانس خود گنوا رہے ہیں، سوچ لیں اتنی اچھی لڑکی پھر نہیں ملے گی۔“

”ہادیہ! تمہارا وکیل تو سر پر تلوار لے کر کھڑا ہو گیا۔“ زوارشاہ مسکرائے۔

”آپ خود کو اتنا ہیرو مت سمجھیں، میری ماسو کو واقعی میں لڑکوں کی کمی نہیں۔ بوا کو آنے دیں بس پھر آپ کو ہی پچھتانا پڑے گا، سوچ لیں اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔“ وانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ زوار شاہ مسکراتے ہوئے اپنا کوٹ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

”چلتا ہوں، اس سے پہلے کہ دو خوبصورت لڑکیوں کے دباﺅ میں آ کر مجھے قائل ہونا پڑے۔“

”آہ…. کوئی اس طرح بھاگ رہے ہیں، دیکھ لیں ماسو! جن پر تکیہ تھا، والا معاملہ نکلا۔“ وانیہ نے جملہ اچھالا، زوارشاہ نے مسکراتے ہوئے دروازے تک پہنچ کر مُڑ کر دیکھا۔

”فی الحال مجھے ڈراﺅ مت، ممی کا فون آیا تھا۔ ان دنوں وہ بھی یہاں آنے والی ہیں۔ اگرچہ میں کنفیوژ ہوں، لیکن لٹس سی۔“ یہ کہہ کر دروازہ کھول کر وہ باہر نکل گئے۔

”ایسے لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں نا! جو اپنی فیلنگز کوخود سے بھی شیئر کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو محبت ہو بھی جائے تو زمین کھود کر اسے زمین میں دبا دیتے ہیں جیسے کوئی بچہ کسی رازکو دباتا ہے۔ مگر اس طرح شاید راز چھپتے نہیں۔ ویسے کیا واقعی آپ کو یہ زوارشاہ اچھے لگتے ہیں؟ آپ کو لگتا ہے آپ ان کے ساتھ زندگی گزار کر خوش رہ پائیں گی؟“ وہ سیانے پن سے پوچھ رہی تھی، ہادیہ مسکرا دی۔

”تُو ایسے پوچھ رہی ہے جیسے میری دادی اماں ہو، زوارشاہ پچھلے کئی سالوں سے یہیں پڑوس میں رہتے ہیں۔ ہم اکثر ملتے ہیں، اچھے دوست ہیں، مگر شادی…. ایک بہت بڑا فیصلہ ہے۔ ہاں وہ اچھے ہیں، مگر فی الحال کچھ کہہ نہیں سکتی، لٹس سی، اور پھر بوا بھی تو پاکستان سے رشتوں کی ٹوکری بھر کر لا رہی ہیں نا…. فکر کس بات کی ہے پھر؟“ انہوں نے مسکراتے ہوئے وانیہ کی طرف دیکھا۔

٭….٭….٭

وہ ہائی اسٹریٹ پر تھی جب اسے لگا کہ کوئی اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا ہو، اس نے چونک کر اپنے پیچھے دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ شاید اس کا وہم ہو، مگر ایک مخصوص خوشبو وہ اپنے آس پاس تادیر محسوس کرتی رہی تھی۔ پھر جب وہ گھر کے لیے واک کر رہی تھی تب بھی اسے لگا کہ کوئی دبے پاﺅں اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تھا مگر اس کے پیچھے کوئی نہیں تھا۔ گھر آ کر جب ماسو کے ساتھ کچھ وقت گزار کر وہ راکنگ چیئر پر بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی تو تھکن کے باعث اچانک ہی جی اوب گیا تو وہ تھوڑا سستانے کو آنکھیں موند کر لیٹ گئیں۔

”تمہیں اپنے پیچھے اگر آہٹیں تعاقب کرتی سنائی دیں تو چونکنا مت، کیونکہ وہ آہٹیں تمہارے تعاقب میں اس لیے ہیں کہ تم تنہا چلتے ہوئے تھک نہ جاﺅ۔ تم کہیں یہ نہ جان لو کہ اب کوئی آواز تمہارا تعاقب نہیں کرے گی۔۔ میں تمہیں کسی یقین کے گمان میں نہیں، بلکہ یقین میں جیتا دیکھنا چاہتا ہوں۔“ اس کے کان میں مدھم سی سرگوشی گونجی تھی، اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں مگر اس کمرے میںوہ تنہا تھی، کوئی اور وہاں نہیں تھا۔ اس نے اپنی دھڑکنوں میں واضح ارتعاش محسوس کیا…. وہ آواز…. وہ لہجہ بھولنے والا نہیں تھا۔ کئی لمحے لگے تھے وانیہ ضیاءکو اپنی دھڑکنوں کو معمول پرلانے میں۔ اس نے اٹھ کر اپنے لیے کافی بنائی اور لیونگ روم میں آ کر کھڑکی کے پردے کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی۔ آوازیں اس کا تعاقب کرنے لگیں، کوئی اس کے اندر بولنے لگا۔

”تمہاری آنکھوں کی الجھی ہوئی کشمکش مجھے اکساتی ہے، میں تمہارے ساتھ رہوں….ساتھ چلوں…. تم اکیلے جی نہیں پاﺅ گی۔ یہ نظر مجھ سے دبے لفظوں میں گزارش کرتی ہے کہ میں کہیں دور نہ جاﺅں اور تم…. تم بس خاموش رہتی ہو۔ تم خاموشیوں میں اپنے دل کی تمام باتیں مجھ سے کہہ جاتی ہو۔تمہیں گمان رہتا ہے کہ کہیں تمہارا مان ٹوٹ نہ جائے، کوئی راز کھل نہ جائے، مگر تم اپنی احتیاط کے باوجود کچھ نہ کہے بنا بھی ساری باتیں مجھ سے کہہ جاتی ہو۔“ گرتی ہوئی برف کو وہ خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ آوازوں کا تسلسل اس کے اندر بڑھنے لگا تو اس نے تھک کر ماسو کے روم کا دروازہ بجایا۔

”کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو وانیہ!“ ہادیہ نے پریشانی سے اسے دیکھا تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔

”ہاں وہ …. بس…. نیند نہیں آ رہی تھی تو….“ اس نے یونہی بہانہ بنایا، ہادیہ نے اس کے لیے راہ چھوڑی اور وہ ان کے کمرے میں داخل ہو گئی۔

”چلو ساتھ سو جاتے ہیں،ویسے کبھی کبھی مجھے بھی احساس ہوتا ہے کہ یہ گھر کافی بڑا ہے۔ یہ تو اچھا ہوا جب سے تم آ گئی ہو مجھے بھی کمپنی مل گئی ہے، ورنہ جب تم یہاں نہیں تھیں تو میں بھی تمہاری طرح اسی طرح ڈرجاتی تھی۔“ ہادیہ نے اس پر کمبل ڈالتے ہوئے کہا۔ ”یوں بھی ٹھنڈ کتنی بڑھ گئی ہے نا۔ اس برس سردی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔“

”مجھے ٹھنڈ کا احساس نہیں ہوتا۔“ وانیہ ضیاءنے کہا، ہادیہ اسے دیکھنے لگی۔

”تم انسان نہیں ہو، زندہ انسانوں کو ٹھنڈ لگتی ہے۔ خود کو زندہ سمجھو۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولیں تو وانیہ مسکرا دی۔

”مجھے یہ سب پسند نہیں۔“

”زندگی سے فرار کی کوشش مت کرو، ورنہ زندگی اپنے دروازے تم پر بند کر دے گی، تمہیں اپنے اندر سے اس یخ بستگی کو نکال پھینکنا ہو گا۔“ ہادیہ نے سمجھانا چاہا، وانیہ دیکھ کر رہ گئی۔

٭….٭….٭

”عالیان مرزا کا فون آیا تھا۔“ وہ کھانے کی ٹیبل پر موجود تھی جب ہادیہ نے بتایا تو وہ چونک کر دیکھنے لگی۔ یہ تک نہ پوچھ سکی کہ اس نے فون کیوں کیا یا اس کے فون کرنے کا سبب کیا تھا؟

”ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ بس یونہی خیریت جاننے کو فون کیا اس نے۔“ ہادیہ نے بتایا اور اس کے لیے جیسے یہ سب جاننا معنی نہیں رکھتا تھا وہ بہت سکون کے ساتھ ڈنر کرنے لگی، ہادیہ کو اس کا اطمینان کچھ عجیب سا لگا، تبھی اس نے بتایا۔

”عالیان مرزا نے زوباریہ سے شادی نہیں کی۔“ اس نے اپنی دانست میں جیسے کوئی بڑی خبر دی تھی، مگر وانیہ ضیاءکا ری ایکشن ناپید تھا۔ وہ بڑے سکون سے کھانا کھا رہی تھی جیسے اس نے سنا ہی نہیں یا پھر وہ سنی اَن سنی کر رہی تھی۔ عالیان مرزا کے ذکر کو کوئی امپورٹنس نہ دے کر۔

”تمہارے آنے کے بعد تمہارے بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، مگر اب انکی طبیعت ٹھیک ہے۔“ وانیہ ضیاءکا ہاتھ ایک پل کو رکا تھا، بابا سے اس کا لگاﺅ فطری تھا۔ خون کا رشتہ تھا مگر کبھی کبھی رشتے بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں جب ڈھنگ سے انہیں برتا نہ جائے۔ وانیہ کی کیفیت بھی ایسی ہی تھی۔

”وانیہ! کسی کو معاف کر دینا بڑی بات ہے، اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو معاف کر دو…. تمہارے بابا ہیں۔“ ہادیہ نے صلاح دی۔

”ہادیہ ماسو! میں کسی ایک چیز کے لیے ان سے خفا نہیںہوں، انہوں نے بہت سی ناانصافیاں کی ہیں۔ پہلے اماں کو سزا دی، ان کے حق اور فرائض سے ہاتھ کھینچااور پھر…. پھر اپنی بیٹی کو بھی فراموش کر دیا، اور جب وقت آیا کہ وہ کوئی ازالہ کر سکتے تھے تو وہ میرے ساتھ نہیں میرے خلاف کھڑے ہو گئے، آپ جانتی ہیں ہادیہ ماسو! سب سے زیادہ دکھ کب ہوتا ہے جب آپ کے بہت اپنے آپ کو نہ سمجھیں یا اپنے حقوق و فرائض بھول جائیں۔ انہوں نے رشتوں کو سہی ڈھنگ سے نہیں نبھایا۔ ایک کھوٹ اور گانٹھ دلوں میں بندھتی گئی، جو بھی ہوا سو ہوا، مگر بابا کو وہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا اور عالیان مرزا! وہ صرف ایک دھوکہ ہے، فریب ہے۔ اس سے کہیے گا آئندہ یہاں فون نہ کرے۔“ کہتے ہی وہ اٹھی اور وہاں سے نکل گئی۔

٭….٭….٭

وہ ٹریوی فاﺅنٹین کے پاس کھڑی تھی جب پہلی بار اس کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی وہ لہجہ متاثرکن تھا جس نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔

”رات کی تاریکی میں اپنے خوابوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ایک آدھ ڈوبتے اُبھرتے ٹمٹماتے تاروں کی زبانی خوابوں کی اس جگہ کو دیکھنا ایک خوبصورت احساس ہے۔ اکثر بادل ہونے کے باعث ستارے دکھائی بھی نہیں دیتے، مگر اس جگہ کی خوبصورتی تب بھی اتنی ہی نظر خیرہ کر دینے والی ہوتی ہے۔ اس پُراسرار ماحول کے بھید کو سمجھو تو شاید ایک عمر نکل جائے، لیکن یہاں کوئی جادو ہے اس تالاب میں، اس ماحول میں کوئی شے ہے جو اپنے ساتھ باندھتی ہے، اس بات کی ضمانت ہے کہ ایک بار آپ نے اس میں سکہ اُچھال دیا تو آپ یہاں ضرور لوٹیں گے۔ ٹری فاﺅنٹین روم کا سب سے امیزنگ فاﺅنٹین ہے شاید اس لےے بھی کہ یہ اپنے بارے میں بہت جادوئی کہانیاں رکھتاہے۔ وانیہ ضیاءنے کوئی جواب دیئے بنا آگے قدم بڑھا دئیے تھے۔

”آپ پاکستانی ہیں؟“ پوچھتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چلنے لگا، وانیہ نے کوئی دھیان نہ دیا اور تیز تیزچلنے لگی۔

”آہ! آپ ضرور انڈین ہیں، لیکن نقوش سے تو آپ نیپالی زیادہ لگتی ہیں۔ نہیں، مجھے لگتا ہے آپ چائنیز ہیں….؟“ وہ مذاق کرنے پر آمادہ تھا، وہ رُک کر اسے گھورنے لگی۔

”آپ جتنا بے تکا بول رہے ہیں اس سے آپ کو بتانے کی ضرورت نہیں۔“ اس کے انداز سے ظاہر تھا وہ زیادہ بات کرنا نہیں چاہتی تھی یا وہ اجنبی لوگوں سے بات کرنے کے لیے محتاط تھی۔

”یہیں کہیں قریب ٹھہری ہوئی ہیں آپ؟“ اس نے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔ ”ویسے یہاں میری آنٹی رہتی ہیں، آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو آپ ان کے گھر شفٹ ہو سکتی ہیں۔ ویسے آپ روم تنہا گھومنے آئی ہیں اس جادوئی جگہ پر جہاں قدم قدم پر اثر پھیلا ہو، وہاں اکیلے آنا مناسب نہیں۔ اگر آپ کے شوہر بھی ساتھ ہیں تو…. ضرور ہنی مون ہو گا۔ اکثر لڑکیاں بڑی ایموشنل واقع ہوتی ہیں۔ اپنے شوہر پر دباﺅ ڈالتی ہیں کہ ایسی رومانٹک جگہ لے کر چلو مگر….“

”آہ…. خاموش ہو جاﺅ، اتنا فضول اور بے تُکا بولتے ہوئے میں نے آج تک کسی کو نہیں سنا۔ دنیا کے سب سے بے تُکے اور فضول انسان ہیں آپ۔“ وانیہ ضیاءنے رک کر ڈپٹا اور پھر چل پڑی، وہ مسکرا دیا۔

”اتنا غصہ صرف پاکستانی لڑکیوں میں ہی ہو سکتا ہے، چلو یہ تو کنفرمڈہو گیا کہ یہ اتنا ڈھیر سارا ایٹی ٹیوڈ رکھنے والی لڑکی میرے ملک سے ہے۔“ وہ مسکرایا۔ ”آپ سے مل کے اچھا لگا، ویسے یہ نہیں بتایا آپ نے یہ ہنی مون ہے یا….“ وانیہ ضیاءنے اسے گھورا تو وہ منہ پر انگلی رکھ کر جہاں چپ ہوا تھا وہیں دوسرے پل مسکرا دیا تھا۔

”پرائے دیس میں کوئی اپنا ملتا ہے تو بھلا لگتا ہے، آپ جانتی ہیں کتنا تھک جاتا ہے بندہ ان اجنبی لوگوں کی زبان بولتے ہوئے اور آپ شاید نہیں جانتیں، اٹالین زبان انتہائی عجیب زبان ہے، آپ کو بولنا پڑے تو پتا چلے۔ میں یہاں سات سال سے ہوں، بہت دنوں بعد اپنے دیس کا کوئی دکھائی دیا تو بھلا لگا، بے سبب بولنے کو دل چاہا۔“ وہ رکی تو وہ بھی اس کے ساتھ رک گیا۔ ”میری آنٹی کھانا بہت اچھا بناتی ہیں۔ آپ کو اگر مناسب لگے تو ہماری طرف آنا گوارا کیجئے، ہمیں مہمان نوازی کر کے خوشی ہو گی، آپ چاہیں تو اپنے شوہر کو بھی ساتھ….“ وہ جس طرح گھومی تھی وہ چپ ہو گیا تھا، پھر مسکرا کر بولا تھا۔

”ویسے اس میں اتنا غصہ کرنے والی بات کیا ہے؟ آپ سیدھے سے بتا کر کنفرمڈ کر سکتی ہیں اگر آپ شادی شدہ نہیں۔“ وہ جیسے اسے زچ کرنے پر تلا ہوا تھا۔

”لگتا ہے آپ اجنبی لوگوں سے زیادہ بات نہیں کرتیں، مگر ہم اجنبی کب ہیں؟ میرا مطلب ہے آپ بھی پاکستان سے ہیں اور میں بھی۔ اس حوالے سے تو ہم جاننے والے بن سکتے ہیں نا؟“ وہ بھی شاید اپنی طرزکا ایک ہی تھا۔ ”میرا نام عالیان مرزا ہے، اپنی آئی ٹی کی ایک چھوٹی سی کمپنی چلا رہا ہوں، اور آپ؟“ اس نے کہہ کر ہاتھ آگے بڑھایا۔ وانیہ جو بہت محتاط طبیعت کی مالک تھی اسے اپنا ہاتھ آگے بڑھانا کچھ مشکل لگا تھا، مگر جانے کیوں وہ اس سے ایک دم بھاگ کر دور بھی نہیں جا سکتی تھی۔ اسے تین مہینوں کے لیے اس اجنبی جگہ پر قیام کرنا تھا اور اگر کوئی اپنے دیس کا مل گیا تھا تو شاید یہ غنیمت تھا۔

”میرا نام وانیہ ضیاءہے، یہاں زیادہ دنوں کے لیے نہیں ہوں۔ میری کمپنی نے مجھے یہاں بھیجا ہے ایک شارٹ ورکنگ ٹرپ ہے، جیسے ہی مدت ختم ہو گی مجھے واپس جانا ہو گا۔“ کہہ کر وہ دوبارہ چلنے لگی۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا، کافی متاثرکن شخصیت تھی، اونچا لمبا قد چوڑے شانے، اس پر گفتگو کا ڈھنگ، وانیہ ضیاءکو اتنا عجیب نہیں لگا تھا۔ عموماً وہ لوگوں سے زیادہ گھلتی ملتی نہیں تھی یا بہت وقت لیتی تھی مگر اس جگہ اسے تین مہینے گزارنا تھے اور یہ غنیمت لگا تھا کہ اپنا کوئی ہم زبان مل گیا تھا جس پر یقینا وہ دوسروں کی بانسبت اعتبار کر سکتی تھی۔

”کہاں ٹھہری ہوئی ہیں آپ یہاں؟“ اس نے بغور دیکھتے ہوئے پوچھ۔

”ہسپانوی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی ہوں۔“ اس نے بتایا تو وہ مسکرا دیا۔ شاید وہ ہم وطن تھا، کچھ اور یا پرائے دیس میں کسی اپنے سے ملنے کا اطمینان کہ وہ اسے اجنبی نہیں لگ رہا تھا، جیسے وہ اسے پہلے سے جانتی تھی یا مل چکی تھی۔

”اس طرح کیا دیکھ رہی ہیں آپ؟‘عالیان مرزا نے اس کے اپنے سمت دیکھنے پر پوچھا۔

”آہ! کہیں آپ یہ تو نہیں سمجھ رہیں کہ میں کوئی ایسا ویسا انسان ہوں؟“ اس نے پوچھا تو اس نے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔

”اچھا…. ہم ساتھ بیٹھ کر کافی پی سکتے ہیں۔ اب ہم وطن ہونے کا اتنا فائدہ تو مل سکتا ہے نا؟“ وہ مسکرایا تھا۔ وانیہ ضیاءجانے کیوں انکار نہیں کر سکی۔ اس شام وہ اس کے ساتھ رہی اور لمحے جیسے کوئی جادوئی منتر پھونک رہے تھے یا شاید کوئی اور سبب جیسے وہ بندھی رہی تھی۔

”مجھے یورپین کنٹریز کی ایک بات پسند نہیں، کنٹریز تو خوبصورت ہیں مگر زبان کا مسئلہ ہے، سب اور بھی اجنبی لگتا ہے جب لوگ لوکل زبان کے علاوہ بولنے سے پرہیز کرتے ہیں۔“

”ایسا کلچر ہے یہ اپنے کلچر اور زبان پر فخرکرتے ہیں۔ انگلش زیادہ نہیں بولتے، یہاں رہنے کے لیے ان کی لوکل زبان سیکھنا ضروری ہے مگر ہر شے کا اپنا حسن ہے، خوبصورتی ہے، مگر سچ بات تو یہ ہے کہ اپنی زبان اپنی لگتی ہے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”مجھے جرمن اور اٹالین سب سے مشکل لگتی تھیں جب میں بولنا نہیں جانتا تھا۔ فرنچ، اسپینش زیادہ آسان ہیں۔ سویڈش ڈچ بھی مسئلہ نہیں کرتیں مگر جرمن اور اٹالین بولنے کے بعد منہ اچھا خاصا دکھنے لگتا ہے۔“ وہ بولا تھا تو وہ ہنسنے لگی تھی۔ وہ اسے بغور دیکھنے لگا تھا۔

”مجھے نہیں معلوم تھا آپ اتنی زیادہ زبانیں بول سکتے ہیں، آپ کے مقابلے میں میں تو صرف ایک ہی زبان بول سکتی ہوں، وہ بھی مکمل عبور تو نہیں، بس گزارا ہو جاتا ہے۔“ وہ مسکرائی۔ وہ اس کی طرف خاموشی سے دیکھنے لگا تھا، وہ سر جھکا کر اپنے کپ کی سطح پر انگلی گھمانے لگی تبھی وہ بولا تھا۔

”کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟“ پہلی ملاقات میں ایسا سوال؟ اسے بالکل ہی یقین نہیں آ رہا تھا۔

”ایکسکیوز می! آپ جانتے ہیں مجھے؟“ اس نے چونک کر پوچھا۔

”پچھلے ایک گھنٹے سے؟“ وہ اطمینان سے مسکرایا۔

”اورآپ سوچتے ہیں پچھلا ایک گھنٹہ یہ کہنے کے لیے کافی ہے….“ وہ حیران ہوئی۔

”شاید….!“ عالیان مرزا نے اس کی سمت دیکھنے کے بعد شانے اُچکا دئیے، وہ حیرت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

”شادی ایک بہت بڑا اہم فیصلہ ہے، ایک گھنٹہ کسی کو جاننے کے لیے کافی ہی نہیں ہے۔“ وہ پُرسکون انداز میں بولی تھی، عالیان مرزا مسکرا دیا۔

”جاننے کے لیے کبھی کبھی پوری عمر بھی تھوڑی پڑ جاتی ہے وانیہ ضیائ! اور کبھی کبھی آپ کسی کو چند لمحوں میں جان جاتے ہیں، تو یہ میرے لیے کافی نہیں۔“

”پاگل ہیں آپ، بے وقوف بنا رہے ہیں یا مذاق ہے یہ کوئی؟ کہیں آپ فلرٹ تو نہیں کر رہے؟“ وہ گھورتے ہوئے اعتماد سے بولی تو وہ ہنس پڑا۔

”فلرٹ اور آپ سے…. فلرٹ کے معنی جانتی ہیں آپ؟ آپ کو لگتا ہے کہ فلرٹ ایک میرج پرپوزل سے ریلیٹ کرتا ہے۔ میرا دماغ خراب ہے جو آپ جیسی لڑکی سے فلرٹ کروں؟“ وانیہ ضیاءکو جیسے یقین نہیں آ رہا تھا، وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

”مجھے جانا ہے، شکریہ کافی کے لیے۔“ کہتے ہی وہ اٹھ کر باہر نکل گئی مگر ہوٹل کے روم میں آ کر بھی وہ اس واقعہ کو بھول نہیں پائی تھی۔ وہ لہجہ اس کے اردگرد بکھر رہا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اس لہجے کو فراموش نہیں کر پائی تھی۔ اگلے کچھ دن وہ مصروف رہی، کام اتنا تھا کہ وہ نہ تو ٹریوی فاﺅنٹین کی طرف جا سکی تھی نہ ہی کسی اور طرف دیکھ سکی تھی، مگر آج جب وہ ہوٹل سے نکل کر واک کر رہی تھی تبھی وہ اسے دکھائی دیا، وہ اسے دیکھ کر مسکرایا۔

”اگر میں غلطی پر نہیں تو ہم پہلے بھی کہیں مل چکے ہیں؟“ وہ مذاق کے موڈ میں تھا، اس کے پاس آ کر بولا، وانیہ ضیاءخاموشی سے دیکھنے لگی۔

”اوہ رائٹ! اس روز شاید یہیں کہیں ملے تھے ہم۔ اوہ ہاں! ٹریوی فاﺅنٹین کے آس پاس کہیں؟ تبھی میں کہوں آپ کی صورت جانی جانی پہچانی کیوں لگ رہی ہے؟“ وہ مسکرا رہا تھا۔

”یہ بہت بھدا…. انتہائی اسٹوپڈ قسم کا مذاق ہے؟“ وہ بنا اس کی سمت دیکھے چلنے لگی، وہ ساتھ چلتے ہوئے مسکرا دیا۔

”آپ اتنا سنجیدہ کیوں رہتی ہیں؟ کہیں ارادہ فلاسفر بننے کا تو نہیں؟ خدارا اتنا ظلم مت کریں، دنیا کو اتنی خوبصورت لڑکی سے محروم مت کریں، فلاسفر کہیں کے نہیں رہتے صرف کتابوں میں بستے ہیں، کتابوں میں ملتے ہیں اور بچھڑتے ہیں اور میں آپ کو حقیقت میں جیتا جاگتا دیکھنا چاہتا ہوں۔“ وانیہ ضیاءاس کے انداز پر حیرت سے اسے دیکھنے لگی تھی۔

”کچھ عجیب ہیں آپ، ڈرامہ کوئن قسم کے انسان۔ ایک گھنٹے میں ملتے ہیں، شادی کے لیے پرپوز کرتے ہیں پھر غائب ہو جاتے ہیں اور جب ملتے ہیں تو پوچھتے ہیں آپ وہی تو نہیں؟ حقیقت میں آپ جیسے لوگ بہت خطرناک ہوتے ہیں، دور رہنا مناسب ہے۔“ وہ ٹریوی فاﺅنٹین کی سمت قدم بڑھاتے ہوئے بولی۔

”آپ سمجھ رہی ہیں مجھے آپ سچ میں یاد نہیں؟ میں مذاق کر رہا تھا، آپ مجھے کوئی بہت فضول سا انسان سمجھ رہی ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں آپ کو کھونا نہیں چاہتا تبھی ایک گھنٹے میں ہی پرپوز کر دیا۔ مجھے خوف تھا آپ اتنی اچھی ہیں، اگر کوئی اور مل گیا جو آپ کو کہیں دور لے گیا تو….“ وہ اس کے تردد کو کچھ اور معنی دے رہا تھا۔

”آپ کہیں انگیجڈ تو نہیں؟“ اس کے پوچھنے پر وانیہ ضیاءنے سر انکار میں ہلا دیا اور تب اس نے وانیہ ضیاءکا ہاتھ تھاما، اس کی ہتھیلی کو دیکھا اور پھراس پر ایک سکہ رکھ دیا۔

”خواب دیکھتی ہیں آپ؟“ وانیہ نے اس کی سمت تکتے ہوئے سر انکار میں ہلا دیا۔

”جانتا تھا، آپ کا جواب نہیں میں ہو گا، مگر اتنی خوبصورت لڑکی خواب نہیں دیکھے گی تو خوابوں کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ آپ خوابوں کو زندگی سے محروم مت کریں۔“

”مجھے ان فضول باتو ںپر یقین نہیں، زندگی خوابوں کی دنیا نہیں ہے نہ ہی اسے خوابوں خیالوں کی باتیں کرتے ہوئے گزارا جا سکتا ہے۔ ہم خوابوں میں نہیں جی سکتے، ہمیں حقیقت میں جینا پڑتا ہے اور حقیقت میں جینے کے لیے حقیقت کو قبول کرنا بہت ضروری ہے ورنہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔“ اس کے بولنے پر عالیان مرزا مسکرا دیا، پھر سر جھکا کر اس کی ہتھیلی پر پڑ اس سکے کو دیکھا۔

”وانیہ ضیائ! حقیقت اہم ہے، ہم سب جانتے ہیں، مگر ہم خوابوں سے ناطہ توڑ کر نہیں جی سکتے۔ خواب ہر کوئی دیکھتا ہے، ہاں مگر خوابوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ مگر خواب آپ کو موٹی ویشن دیتے ہیں، آگے بڑھاتے ہیں، چاہے وہ کوئی بھی میدان ہو۔ خواب ضروری ہیں۔ ایک بچہ بھی خواب دیکھتا ہے اور ایک بوڑھی آنکھ بھی، مگر اس کا خواب دوسرے کے خواب سے چاہے میل نہ کھاتا ہو مگر اس کی حقیقت اور ویلیو ہوتی ہے۔ وہ آنکھ بے نور ہوتی ہے اگر وہ خواب نہ بنے۔ اس سکے کو صرف سکہ مت سمجھو، اسے ایک خواب جانو اور پھر سوچو اپنے دل سے پوچھو تم کیا چاہتی ہو۔ اپنی اس ایک خواہش اس ایک خواب کو اس سکے سے باندھو اور اسے فاﺅنٹین میں اُچھال دو، تم جان پاﺅ گی کہ خواب حقیقت بھی ہوتے ہیں۔“ وہ اسے جتاتے ہوئے کہہ رہا تھا وہ جس طرح چپ چاپ اس کی طرف دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔

”تم خوفزدہ ہو؟“

”پتا نہیں۔“ اس نے تھک کر ایک گہری سانس لی اور اپنی مٹھی بہت زور سے بند کر لی۔

”کیانہیں پتا؟“ اس نے پھر پوچھا۔”شاید میں آزمانا نہیں چاہتی۔“ وہ صاف گوئی سے بولی۔

”اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہ پورا نہ ہوا جو تم چاہتی ہو تو….؟“ وہ جیسے اسے سطر سطر پڑھ رہاتھا۔

”شاید…. مگر یہ باتیں سننے میں بھلی لگتی ہیں مگر کرنے میں کچھ ہمت درکار ہوتی ہے۔“ وہ کچھ کچھ مان رہی تھی۔

”آہ…. ابھی آپ کہہ رہی تھیں آپ پریشان نہیں ہیں، آپ اتنی جلدی ہار مان لیتی ہیں، یہ ٹھیک نہیں۔“ وہ مسکرا دیا، اسے جیسے اُکساتے ہوئے بولا۔

”نہیں، میں جلدی ہار نہیں مانتی، مگر شاید مجھے یہ سب اتنا اہم نہیں لگتا۔“ اس نے وہ سکے والا ہاتھ اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا۔

”جو لوگ ڈرتے ہیں وہ خوابوں سے ربط ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں، انہیں درحقیقت اپنے آپ پر بھروسہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اندر کے ڈر سے نکل نہیں پاتے سو وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں، صرف دوسروں کو جتانے کے لیے کہ وہ حقیقت پسند ہیں، وہ دوسروں کے لیے جینے کی کوشش میں اپنے لیے بھی جی نہیں پاتے۔“

”ہم دنیا سے کٹ کر نہیں جی سکتے۔ دنیاداری بھی ضروری ہے۔“

”اچھا بتائیے سب سے زیادہ ڈر آپ کو کس سے لگتا ہے؟“

”کسی سے نہیں۔“ اس نے برجستہ جواب دیا تھا، وہ مسکرا دیا تھا۔

”آپ اپنے آپ سے ڈرتی ہیں۔“ اس کے سوال کا جواب عالیان مرزا کے پاس تھا اور وہ حیران رہ گئی تھی، ایک ہی ملاقات میں وہ اسے اتنا کیسے جاننے لگا تھا؟“ وہ حیران تھی۔

”آپ اپنی سوچوں میں خود اپنے آپ کی نفی کر رہی ہیں وانیہ ضیائ! کیونکہ آپ جانتی ہیں آپ اس سچ کو ماننا نہیں چاہتیں کہ کوئی آپ کو جانتا ہے یا جان سکتا ہے، وہ بھی اتنے مختصر ٹائم میں۔“ وانیہ ضیاءخاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی، وہ کچھ بھی نہیں بول پائی، کوئی جھوٹی وضاحت بھی نہیں۔

”میں چلتی ہوں۔“ وہ جیسے اپنے اندر سے خوفزدہ ہوتے ہوئے بولی تھی، وہ پُرسکون انداز میں اسے دیکھنے لگا، پھر اس کا ہاتھ تھام کر بہت مدھم لہجے میں بولا۔

”مجھ سے شادی کریں گی آپ؟“ کتنے مدھم لہجے میں کہا گیا تھا کہ وہ پہلی بار اپنے اندر اپنے دل کو دھڑکتا محسوس کر رہی تھی

”یہ کیا بچپنا ہے…. پاگل ہیں آپ؟“ وہ اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے کھینچتے ہوئے بولی۔

”مجھ سے نظر چرا کر آپ اپنی دھڑکنوں کو نظراندازنہیں کر سکتیں۔ میں سن رہا ہوں جو آپ سن کر نظرانداز کر رہی ہیں…. یہ بچپنا نہیں ہے نہ کوئی پاگل پن۔ سیدھے سے پرپوز کیا ہے آپ کو، کوئی فلرٹ نہیں کیا۔“ عالیان مرزا بولا۔

”مگر اس طرح…. شادی مذاق نہیں ہے، میں نے جس زاوئیے سے زندگی یاشادی کو دیکھا ہے…. وہاں سے یہ کچھ زیادہ پُرکشش دکھائی نہیں دیتا اور ایمان سے میں نے اس سے قبل کبھی شادی یا اپنے ہونے والے لائف پارٹنر کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔ میری ماں سے میرے بابا کی شادی بس ایک کمپرومائز تھا۔ میرے دادا دادی کا فیصلہ تھا، سو میرے بابا کبھی اس رشتے کو دل سے قبول نہیں کر سکے اور نہ ہی اس رشتے کو نبھا پائے۔ انہیں کسی اور سے محبت تھی، میں نہیں جانتی محبت کیسی ہوتی ہے، کتنی جنونی یا پاگل کر دینے والی ہوتی ہے؟ میں نے کبھی محبت کو نہیں دیکھا، کبھی محسوس نہیں کیا مگر بابا کو دیکھ کر میں جان پائی محبت شاید آس پاس کچھ نہیں دیکھتی صرف اپنے آپ اور خود کو دیکھتی ہے۔

میرے بابا نے اپنی راہ لی اور ہمیں بھول کر آگے بڑھ گئے۔ وہ شادی دیرپا ثابت نہیں ہو سکی، وہ رشتہ بے معنی ہو گیا۔ وفاداری بدل گئی اور ہم کہیں پس منظر میں کھو گئے۔ بابا کی لائف گول گول چکر کاٹتی اپنی محبت کے گرد گھومتی رہی، مجھے محبت بہت بُری لگی۔ جب میں نے اپنی ماں کو راتوں کو جاگتے اور روتے دیکھا، جب ان کی خاموشی میں ہزار سوال دیکھے۔ بابا ہمارے ساتھ نہیں رہتے تھے، پھر ذمہ داریوں سے بھی ہاتھ کھینچ لیا تھا، رشتے جب بوجھ بن جاتے ہیں تو ڈور ٹوٹ جاتی ہے۔ بابا نے جب دوسری شادی کی تو پہلی بیوی کے رشتے کا بوجھ اٹھانا انہیں اچھا نہیں لگا پھر دوریاں بڑھتی گئیں اور دوریوں کے ساتھ فاصلے میلوں، صدیوں تک پھیلنے لگے۔ دوسری بیوی کچھ ان سیکیور تھی، وہ ڈرتی تھی اگر بابا بھی واپس لوٹ گئے، سو انہوں نے دو سال قبل اس رشتے کو توڑنے کا سوچا اور جس دن انہوں نے طلاق بھیجی وہ میری ماں کی سانسوں اور امید کے ٹوٹنے کا آخری دن تھا۔ شادی، رشتے،بندھن، مجھے سب بہت بھونڈا مذاق لگا۔ محبت انتہائی فضول قسم کی شے لگی، بابا خودغرض تھے، میں باپ بیٹی کے رشتے کو کبھی ڈھنگ سے محسوس نہیں کر سکی۔ رشتوں کو برتا جائے تبھی ان کی ویلیو ہوتی ہے، ہمارے درمیان بس ایک خاموش سا رشتہ تھا، مجھے میری ممی نے پالا تھا۔ بابا کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں کہا مگر مجھے وہ مجرم لگتے تھے۔ میں ان سے قریب صرف اپنی ماں کے گزر جانے کے بعد ہوئی جب میں نے ان کے گھر میں قدم رکھا۔ دو سال قبل جب ممی نہیں رہی تھیں تو میرے پاس کوئی اور ٹھکانہ بھی نہیں رہا تھا سوائے اس کے کہ میں بابا کے گھر جا کر ان کی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتی۔ بابا سے میری قربت بہت مختصر سہی مگر مجھے وہ بہت قابل ترس لگے۔ جس طرح بزنس ختم ہونے کے بعد انہیں اس گھر میں ٹریٹ کیا جا رہا تھا وہ مجھ سے برداشت نہیں ہوا۔ میں نے اپنا بی سی ایس کرتے ہی جاب کر لی اور وہ بابا جنہوں نے کبھی بھی ہمیں اپنی زندگی میں نہیں پوچھا تھا، ان کو سہارا دینے لگی۔ میں ان کی محافظ بنی،انہیں گھر میں وہ جائزمقام دلوانے میں ان کی کھوئی ہوئی عزت بحال کرنے میں، ان کا اعتماد بحال کرنے میں، میں نے اپنا بہت سا ٹائم صرف کیا۔ وہ اولاد جو اُن کو بوجھ سمجھنے لگی تھی اور جس بیوی کے لیے وہ ناکارہ وجود بن کر رہ گئے تھے، انہیں اس گھر میں پھر سے عزت دلوائی۔ میرے پاس ممی کی دی ہوئی کچھ پراپرٹیز اور بینک میں کچھ رقم تھی، میں نے بابا کو بزنس دوبارہ کھڑا کرنے کا موقع دیا، ان کی مدد کی، سب ٹھیک ہو گیا۔ بابا بھی مجھے زوباریہ، رملہ اور شجاع کی طرح گھر میں اور اپنی زندگی میں اہمیت دینے لگے۔ مجھے بھی ان سے بظاہر کوئی گلہ نہیں رہا۔ وہ بزنس جو میرے نام اور پیسے پر شروع ہوا آج اس کمپنی میں میں ایم ڈی کی سیٹ پر ہوں۔ میں نے اپنی ممی کی اچھی بیٹی بن کر دکھایا، مگر میرے دل میں لگی وہ گرہ نہیں کھل سکی۔ آج میرے بابا میری کمپنی کی چیئرمین کی کرسی سنبھالتے ہوئے ہیں۔انہیں فخر ہے میں ان کی بیٹی ہوں۔ گھر میں سب ان کی عزت اسی طرح کرنے لگے ہیں جس طرح پہلے کرتے تھے جب وہ بہت زیادہ کماتے تھے۔ میں نے بابا کو ان کا مقام واپس لوٹا دیا، مگر میرے دل میں اب بھی بہت سے سوال سر اٹھاتے ہیں۔ میں سوتی ہوں تو مجھے اپنی ممی کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔ دبی دبی آوازمیں رونا کہ کسی دوسرے کو خبر نہ ہو اور مجھے محبت سے اور بھی نفرت ہو جاتی ہے۔ میں نے کامیابی کو چھوا اور آگے بڑھ آئی مگر میری زندگی مجھ سے پیچھے اس دن چھوٹ گئی تھی جب بابا ہماری زندگی سے میرے بچپن میں گئے تھے، لفظ شادی میرے لیے اس دن مذاق بن گیا تھا جب بابا نے ممی کو چھوڑا تھا۔ مجھے شادی کمپرومائز کے سوا کچھ دکھائی نہیںدیتی۔ میں نہیں چاہتی جو میں نے جھیلا وہ کل میری آنے والی کوئی دوسری نسل جھیلے۔ سو فی الحال شادی کے بارے میں میں سوچ نہیں سکتی۔ مجھے شادی بس ایک مذاق لگتا ہے۔ پتا نہیں کب میں خود کو اس کے لیے تیار کر پاﺅں گی۔“ کافی اس کے سامنے پڑی پڑی ٹھنڈی ہو چکی تھی، عالیان مرزا اسے بغور دیکھ رہا تھا۔ وانیہ ضیاءکا سر جھکا ہوا تھا۔ عالیان مرزا نے اس کی طرف اپنا رومال بڑھایا مگر وانیہ نے اس کا ہاتھ نظراندازکردیا۔

”میں ہرگز کمزور نہیں ہوں۔“ اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھوں سے آنے والے نمکین پانی کو رگڑ کر صاف کیا۔

”اور تم سمجھتی ہو تمام مرد ایسے ہوتے ہیں…. تمہارے بابا جیسے؟“ عالیان مرزانے پوچھا، مگر وانیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تبھی وہ اس کی سمت بغور دیکھتے ہوئے بولا۔

”وانیہ ضیائ! محبت خودغرض نہیں ہے، اگر مجھے تم سے محبت ہے تو میں آخری سانس تک تمہارے لیے لڑوں گا، تمہارے لیے کھڑا رہوں گا اور….“

”اور اگر محبت نہیں ہے تو؟“ اس نے بات کاٹتے ہوئے پوچھا۔

”تم جیسی لڑکی سے کسے محبت نہیں ہو گی وانیہ ضیائ! تمہاری جیسی لڑکی سے تو کوئی بھی محبت کرنا چاہے گا۔ تم میں بلا کی کشش ہے، تم اپنی سمت کھینچتی ہو، اپنے ساتھ باندھتی ہو، صرف اس لیے نہیں کہ تم بہت خوبصورت ہو، یہ اٹریکشن تمہاری ذات کی خوبصورتی کی ہے تمہارے دل کی خوبصورتی کی ہے۔ میں نے تمہیں تب جانا جب پہلی بار ملا۔ تمہاری آنکھوں میں مجھے ایک خاص بات دکھائی دی، ایک ایسی روشنی جس کی تلاش مجھے تھی۔ وہ روشنی مجھے اپنے حصار میں لینے لگی تبھی میں نے تم سے بات کرنے کی ٹھانی۔ اس سے پہلے جب میں تمہیں دور سے چپ چاپ دیکھ رہا تھا تمہیں اس کا احساس بھی نہیں تھا۔ بھروسہ کرو، میں مذاق نہیں کر رہا۔ مجھے پہلی نظر کی محبت پر بھی یقین نہیں ہے مگر تمہارے معاملے میں کچھ مختلف ہے، میرا دل چاہتا ہے تم سے ملوں،تمہارے ساتھ چلوں، تم سے بات کروں، بہت سی باتیں، بے معنی اور بامعنی۔ تمہاری آنکھوں میں دیکھتے رہنے کو دل چاہتا ہے وانیہ ضیائ! تم نے کیا کہا، کیا کرتی ہو نہیں جانتا، مگر تم کوئی حصار باندھتی ہو میرے گرد، میرا اعتبار کرو۔ میں تمہارے ساتھ لمحہ لمحہ گزارنا چاہتا ہوں، عمر کا ہر پل ہر لمحہ تمہارے ساتھ جینا چاہتا ہوں اور میں کبھی تم سے دور نہیں جانا چاہوں گا۔ محبت وہ نہیں ہے جو تم نے دیکھی، محبت کا جو چہرہ تم نے دیکھا وہ میری محبت سے بہت الگ ہے۔ تمہیں چاہے مجھ سے آج محبت نہ ہو، مگر مجھے یقین ہے میں تمہیں محبت کے اس احساس سے روشناس کرا دوں گا، تمہیں محبت کرنا سکھا دوں گا اور پھر تمہیں محبت سے ڈرنہیں لگے گا، پھر تمہیں محبت خوفزدہ نہیں کرے گی۔“ عالیان مرزا بول رہا تھا جب وہ اس کی جانب دیکھے بنا بولی تھی۔

”پلیز…. محبت کچھ نہیں ہے، میرے سامنے ایسی فضول بچکانہ باتیں مت کرو۔ میرے نزدیک شادی بس ایک دماغ کا فیصلہ ہے اور فی الحال میرا دماغ مجھے اس فیصلے کی اجازت نہیں دیتا۔“ وہ صاف گوئی سے بولی۔

”تم کہنا چاہتی ہو دل نہیں ہے تمہارے پاس؟“ وہ حیران ہو رہا تھا۔

”تم کچھ بھی سمجھ لو عالیان مرزا! مگر میں ایموشنل فیصلوں پر یقین نہیں رکھتی۔ مجھے جذبات اور جذباتی ہونے سے الجھن ہوتی ہے۔ جذبات سے کھیلنے والوں سے اور جذبات کا مذاق اُڑانے والوں سے خوف آتا ہے مجھے اور ایسا تبھی ہو پاتا ہے جب آپ خود ایموشنل ہوں۔ میری ممی کو دکھ اس لیے ملا کیونکہ وہ جذباتی تھیں۔ انہیںبابا سے محبت تھی اور بابا کو ان سے محبت نہیں تھی۔ میں اس الجھاﺅ میں خود کو الجھانا نہیں چاہتی نہ جذبات کی رَو میں ہنا چاہتی ہوں۔ مجھے قائل کرنے کی کوشش مت کرو، تم ہار جاﺅ گے۔ میں شاید قائل نہیں ہو سکوں گی۔ تم اچھے انسان لگتے ہو، ہم اچھے دوست بن سکتے ہیں مگر شادی بچوں کا کھیل نہیں اور اگر تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے تمہیں تب تک انتظار کرنا پڑے گا جب تک میں دماغی طور پر اس رشتے کے لیے تیار نہ ہوں۔“ وہ صاف گوئی و مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھی۔ عالیان مرزا کو وہ لڑکی بہت مختلف لگی۔ وہ اس سے مزید کچھ نہیں کہہ سکا تھا مگر وہ ہمت نہیں ہارنا چاہتا تھا۔

اس روز جب عالیان مرزا نے اپنے گھر ڈنر پر بلایا تھا اور اپنی آنٹی سے ملوایا تو واضح طور پر جتایا اور وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی جب وہ کہہ رہا تھا۔

”آنٹی! میں اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔“ اس کی آنٹی نے اس کے چہرے کو ہاتھ سے تھام کر پیار سے دیکھا اور تھپتھپایا اور پیار سے بولیں۔

”بہت اچھی ہے۔“ عالیان مرزا مسکرا دیا۔

”لیکن اس کے پاس دل نہیں ہے، شاید دنیا کی پہلی لڑکی ہو گی یہ جو دل کے بنا جی رہی ہے اور احساسات کے بنا فیصلے کرتی ہے۔“ وہ حیران نہیں تھی، عالیان کے کہنے پر آنٹی مسکرا دیں۔

”وانیہ بیٹا! اس کی باتوں کا بُرا مت ماننا۔ اس کی مذاق کی عادت ہے۔ تم یہ چکن تندوری لو،عالیان نے بتایا تھا لڑکی دیسی ہے، سو سارے کھانے دیسی ہونے چاہئیں۔ اس لیے میں نے دیسی کھانے بنائے ہیں۔“ آنٹی نے مسکرا کر کہا۔

”ہاں تو کیا غلط کہا؟ اسے اپنے دیسی ہونے پر فخر ہے، اپنے سلیقے اور ڈھنگ کے ساتھ جینے پر ناز ہے اور اس کے اس غرور سے کوئی بھی متاثر ہو سکتا ہے۔“ اس کی ذات موضوع گفتگو تھی سو وہ کچھ ان کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھی۔ آنٹی کو شاید محسوس ہوا تھا تبھی وہ ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگی تھیں۔ کھانے کے بعد جب وہ آنٹی کی بنائی ہوئی کشمیری چائے سے لطف اٹھا رہی تھی تبھی وہ بولا۔

”وانیہ! مجھے لگ رہا ہے میں لمحوں کو روکنا چاہ رہا ہوں۔ شاید اس لیے کہ ان لمحوں میں،میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مجھے وقت سے پہلی بار مخالفت ہو رہی ہے۔ میں ان بھاگتے دوڑتے لمحوں کو باندھ دینا چاہتا ہوں۔ میں خود کو جانتا ہوں اپنے دل کو جانتا ہوں۔ مجھ سے کمپرومائز والی زندگی نہیں جی جاتی، میرے خیال میں مجھے تم سے پیار ہو گیا ہے۔“ وہ بولا تو اس کے اردگرد جیسے یکدم بہت خاموشی چھا گئی تھی۔وہ یکدم سر جھکا کر اپنی کشمیری چائے کو دیکھنے لگی پھر شاید موضوع بدلنے کو یا اپنے اندر کے اس شور کو دبانے کو بولی۔

”مجھے یہ کشمیری چائے بہت پسندہے، میں نے ان فیکٹ سوچا تھا اگر میری کبھی شادی ہوئی تو میری شادی کے مینیو میں یہ کشمیری چائے ضرور شامل ہو گی اور دوسری بات مجھے فائر ورکس بہت پسند ہے۔ یہ دو چیزیں کبھی مس نہیں کر سکتی۔“ وہ کہہ کر مسکرائی۔

”جب میں چھوٹی تھی نا، ہم جس گھر میں رہتے تھے اس سے شادی ہال بہت قریب تھا اور میں اتنی پاگل تھی کہ اکثر ممی کے کمرے کی کھڑکی سے فائر ورکس دیکھا کرتی تھی۔ ممی سے بہت ڈانٹ بھی پڑتی تھی مگر میں اس کی پرواہ نہیں کرتی تھی۔“ وہ ہنسی۔ ”بچپن کی یادیں عجیب ہوتی ہیں، مزہ آتا ہے بے معنی چیزیں کر کے، چوٹیں کبھی زیادہ درد نہیں دیتیں، دھیان جلد بٹ جاتا ہے اور….“ وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب عالیان مرزا ایک قدم بڑھا کر اس کے قریب ہوا اور اس کے شانوں سے اسے تھام کر خود سے قریب کیا۔

”مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے وانیہ ضیائ! بولو کیا کروں؟“ ایک جلتی بجھتی سرگوشی اس کے کان کی لوﺅں سے ٹکرائی تھی۔ وانیہ کے لیے دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنا محال ہوا تھا۔

”ایک الجھاﺅ ہے میرے اندر، جلتا بجھتا الاﺅ ہے دور تک ایک جنگل پھیلا ہے بتاﺅ کیسے سدباب کروں؟ تم متاع جاں سے زیادہ عزیز لگتی ہو۔ تم نے لمحوں میں سب بدل دیا ہے سب اپنا کر لیا ہے۔ مجھے بتاﺅ میں کیا کروں؟ تم جب نہیں ہو گی تو کیسے جیوں گا میں؟ اگر مجھے تم سے محبت ہے تو تمہارے ساتھ کیوں نہیں جی سکتا؟ تمہیں اچھا لگتا اگر میں کہتا کہ مجھے تم سے محبت نہیں؟ تمہیں احساسات جتانا پسند نہیں تو کیا کروں؟ تم میں احساسات نہیں تو کیا کروں؟ کیسے راستہ ڈھونڈوں؟ تمہارے دل تک آﺅں، بولو وانیہ ضیائ!“ وہ اس کی سرگوشیاں اپنے کانوں میں سن رہی تھی۔ ایک الاﺅ تھا، جیسے وہ پگھلنے کو تھی تبھی اس نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کیا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔

٭….٭….٭

بہت دن تک وہ عالیان مرزا سے نہیں ملی، بات تک نہیں کی۔ وہ خود کی جانچ پڑتال کرتی رہی تھی۔ عالیان مرزا کی آنے والی ہر کال کو اس نے نظرانداز کر دیا تھا۔ کوئی میسج نہیں پڑھا تھا۔ وہ ملنے آیا بھی تو اس نے منع کر دیا تھا۔ وہ اس سے کیو ںبھاگ رہی تھی۔ صرف اس لیے کہ اسے محبت تھی یا پھر اس لیے کہ وہ اعتبار کرنا نہیں چاہتی تھی یا پھر اس لیے کہ وہ محبت سے نفرت کرتی تھی یا پھر واقعی اس کے پاس دل نہیں تھا۔

”کیا چاہتی ہو تم؟ میں نیچے تمہارا انتظار کر رہا ہوں، جلدی نیچے آﺅ۔“ اس نے ٹیکسٹ کیا تھا کہ میری کال پک کرو اور جب اس نے کال پک کی تھی تو وہ اسے نیچے آنے کو کہہ رہا تھا تبھی وہ نیچے آ گئی۔

”تم اتنی کمزور ہو؟“ اسے دیکھتے ہی اس نے پوچھا، وہ کچھ نہیں بولی۔عالیان مرزا نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ بیٹھ گئی۔ عالیان مرزا نے گاڑی آگے بڑھادی۔ وہ خاموش تھی، عالیان مرزا نے اس کی سمت دیکھا۔

”تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے؟“ اس کا سوال اتنا غیرمتوقع تھا کہ وہ چونک کر اسکی سمت تکنے لگی تھی۔

”یہ کیا بکواس ہے؟“ وہ احتجاج کرتی ہوئی بولی۔

”مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہو…. اس طرح چھپ کیوں رہی ہو؟“ وہ اس کی سمت دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا۔

”اس لیے کہ مجھے وہ پسند نہیں جو تم کہتے ہو۔“ وہ جواز دیتے ہوئے بولے۔

”کم آن! کیا میں تم سے فلرٹ کر رہا ہوں؟ اچھی لگتی ہو تم مجھے، محبت کرنے لگا ہوں شادی کرنا چاہتا ہوں۔پسند کی شادی کرنا گناہ ہے یا کسی کو پسند کرنا گناہ ہے یا محبت گناہ ہے؟ کم آن وانیہ ضیائ! کس دنیا میں رہتی ہو تم؟ مجھے اچھا لگتا تھا تمہاری ویلیوز، تمہاری سوچ، تمہارا بولنا، بات کرنا، مسکرانا مجھے سب اچھا لگتا تھا لیکن اب مجھے یہ سب دقیانوس لگ رہا ہے۔ میں سمجھ سکتا ہوں کچھ غلط ہوا ہے، تمہارا گزرا ہوا کل اس کا ذمہ دار ہے مگر تم دنیا کے تمام انسانوں کو ایک قطار میں نہیں کھڑا کر سکتیں۔ تم سب کو مجرم سمجھ رہی ہو اور یہی غلط کر رہی ہو۔ تمہارے بابا نے غلط کیا، بہت غلط کیا، مگر اس کے لیے تم تمام دنیا کوغلط نہیں ٹھہرا سکتیں۔ تمام مرد تمہارے بابا جیسے نہیں ہو سکتے۔“ وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ سکون سے بیٹھی رہی۔

”جانتی ہوں، مگر میں اس کے لیے خود کو تیار نہیں پاتی، مجھے ڈر لگتا ہے اور میں اس ڈر کو اپنے اندر سے نکال نہیں پا رہی۔“ وہ اس کی طرف دیکھے بنا بولی۔

”کیسا ڈر ہے یہ وانیہ ضیائ! محبت سے ڈرتی ہو تم۔“ عالیان مرزا نے گاڑی روکتے ہوئے اس کی سمت بھرپور توجہ سے دیکھا تھا۔ وہ اس کی سمت دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔ عایان مرزا نے اس کے ہاتھ پر بہت آہستگی سے اپنا ہاتھ رکھا، وانیہ ضیاءجیسے فرار کے راستے تلاشنے لگی تھی۔ وہ اس کی سمت متوجہ نہیں تھی، اس کی طرف دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔

”میری طرف دیکھو وانیہ ضیائ! وقت کبھی کبھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور ہم پچھتاتے رہ جاتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا تمہاری زندگی میں وہ وقت کبھی آئے۔ میں اپنی راہ کبھی نہیں بدلوں گا اس بات کی ضمانت ہے۔ جب تک سانسیں رہیں گی میں اپنی وفاداری کبھی نہیں بدلوں گا، بھروسہ رکھو۔ میں جانتا ہوں تم میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہیں، تم خوفزدہ ہو کہ کہیں مجھے پتا نہ چل جائے کہ ان آنکھوں میں میرے لیے کتنی محبت ہے۔ تم ڈرتی ہو تمہارا رازنہ کھل جائے۔ تم اس بات کا پتہ مجھے چلنے نہیں دینا چاہتیں، لیکن مجھے پتا چلنے سے تم میری نظروں میں چھوٹی نہیں ہو جاﺅ گی۔ محبت کو جرم کی طرح مت چھپاﺅ، میں جانتا ہوں تمہارے پاس بھی ایک دل ہے اور اس دل کی خواہشوں میں اب میں بھی ہوں، تمہارے دل میں میرے لیے محبت ہے مگر اس محبت کا کیا فائدہ جب اسے صرف راز بن کر رہنا ہے؟ کتنا وقت ہے ہمارے پاس اگر سوچو، فرض کرو کل کچھ ہو جاتا ہے میں نہیں رہتا تو پھر تم کس سے یہ سب کہو گی۔“

”فضول باتیں مت کرو۔“ وہ اس کی سمت دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی بولی۔ عالیان مرزا نے اس کے چہرے کا رُخ اپنی سمت موڑا اور بغور دیکھتے ہوئے مدھم لہجے میں بولا۔

”وانیہ ضیائ! ہم وقت کو اپنے اختیار میں نہیں رکھ سکتے، نہ ہی اس کو اپنے اشاروں پر چلا سکتے ہیں۔ یہ سفر کسی نہ کسی دن کسی نہ کسی موڑ پر تمام ہونا ہے۔ اس موڑ کا نہ تمہیں پتا ہے نہ مجھے۔ مگر میری خواہش ہے اس ایک موڑ کے آنے سے پہلے میں تمہارے ساتھ کچھ وقت بسر کروں۔ ایک ایک پل ایک ایک لمحہ تمہارے ساتھ چلوں، تمہارے ساتھ جیوں، میں تم سے پیار کرتا ہوں وانیہ ضیائ! میں نے زندگی میں ایسا کسی سے نہیں کہا۔ نہ کسی کے لیے ایسا محسوس کیا۔ پہلی بار کسی لڑکی کے سامنے اس طرح بے بس محسوس کر رہا ہوں میں خود کو سچ مانو۔“ وہ بولا تھا اور وانیہ ضیاءکے پاس جیسے کہنے کو کچھ باقی نہیں بچا تھا۔ وہ ہار گئی تھی مگر وہ دن بہت سہانے تھے۔ اس نے اس سے زیادہ خوبصورتی زندگی میں کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ کسی کے ساتھ چلنا، ہم قدم ہونا، کسی کے ہونے کا احساس اس کی موجودگی اس کی غیر موجودگی میں بھی اس کی خوشبو، یہ اس نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا تھا۔ ایسا پہلی بار ہواتھا اور اسے یہ سب بہت دلکش لگ رہا تھا۔ اگرچہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا لفظوں کو زبان نہیں دی تھی۔ عالیان مرزا کو کوئی قرار نہیں سونپا تھا مگر اس سے دور بھاگنا ترک کر دیا تھا۔ اگر چند دنوں کی بات تھی تو وہ زندگی کو بھرپور طریقے سے جی لینا چاہتی تھی۔

”تم اتنی خاموش رہتی ہو وانیہ ضیائ! لیکن میں اس خاموشی کو پڑھ سکتا ہوں۔میں جان سکتا ہوں جب میں آس پاس ہوتا ہوں تو تمہیں سب کتنا اچھا لگتا ہے۔ میرا ساتھ، میری موجودگی، میرا احساس، میرے ہمراہ چلنا، تمہیں سب اچھا لگتا ہے اور اگر میں پاس نہیں ہوتا تو تب بھی میرے بارے میں سوچتی ہو، آس پاس مجھے ڈھونڈتی ہو۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا وانیہ ضیائ؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔“ وہ شکوہ کر رہا تھا۔ تبھی فون بجا اور وانیہ ضیاءکی ساری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی۔

”ایکسکیوز می….!“ اس نے کہہ کر فون اٹھایا اور دور ہٹ گئی تھی۔ دوسری طرف زوباریہ تھی۔

”آپی! کیسی ہیں آپ، بابا آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ مگر اس سے پہلے مجھ سے بات کر لیں پلیز، بہت ضروری بات ہے۔ آپ ان دنوں اٹلی میں ہیں اور مجھے آپ کو بتانا تھا میرے منگیتر بھی وہیں ہوتے ہیں۔آپ وہیں ہیں تو پلیز ایک بار جا کر ان سے مل لیں۔ میں ان کی تصویراور ایڈریس آپ کو میل کر رہی ہوں۔ ممی بھی یہی چاہتی ہیں آپ جا کر ان سے ملیں۔ کئی سال سے وہ وہاں ہیں۔ بچپن کی منگنی ہے زیادہ تذکرہ بھی نہیں ہوتااب، ممی کی بہن کا بیٹا ہے۔ اس طرف وہاں جا کر انہوں نے جانے کیا سوچ رکھا ہے۔ کئی سالوں سے پلٹ کر خبر نہیں لی۔ وہ یہاں تھا تو خالہ باقاعدگی سے عیدی دینے آیا کرتی تھیں۔ جب وہ گیا تو یہ سب متروک ہو گیا۔ مجھے ڈر ہے کہیں وہ مائنڈ نہ بدل لے۔ کسی کو نہیں بتایا، آپ کو بتا رہی ہوں۔ مجھے وہ بہت پسند ہیں۔ ممی بھی چاہتی ہیں بات آگے بڑھے، مگر ایک طویل چپ ہے اور کچھ بھی ہو اب وہ چپ ٹوٹنی چاہیے۔ ممی نے خالہ سے بات کی تھی مگر وہ کچھ زیادہ کلیئر نہیں تھیں۔ کیا پتا وہاں کسی گوری سے شادی کر کے بیٹھ گئے ہوں اور یہاں میں ان کا انتظار کر رہی ہوں۔مجھے بچپن کی ان رسموں سے سخت الجھن ہوتی ہے۔ والدین کو سوچنا چاہیے بڑے ہو کر بچوں کا رجحان بدل بھی سکتا ہے اور اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو سوچیں نقصان کس کا ہو گا؟“

”اوہ….! مجھے اس بارے میں پتا نہیں تھا کہ تم انگیجڈ ہو۔ کبھی اس کا ذکر سنا بھی نہیں۔شاید دو تین سال میں تم لوگوں کے اتنے قریب نہیں آ سکی۔ اینی وے! تم مجھے تصویر اور ایڈریس بھیج دو، میں دیکھتی ہوں، اور سنو! بابا سے کہو رات بہت ہو گئی ہے وہ آرام کریں۔ میں صبح بات کر لوں گی۔“ وانیہ نے کہا۔

”اوکے! ٹھیک ہے میں بابا سے کہہ دیتی ہوں۔ آپ پلیز بھول مت جائیے گا، آپ کو یہ کام ضرور کرنا ہے۔“ زوباریہ نے یقین دہانی چاہی تھی۔ اس نے اس کو اطمینان دلایا اور عالیان مرزا کی طرف آ گئی۔

”کیا ہوا…. کوئی مسئلہ ہے؟“ وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ اس نے سر نفی میں ہلا دیا۔

”سب ٹھیک ہے، میری چھوٹی بہن تھی، اس کا منگیتر یہیںکہیں ہے۔ بچپن کی منگنی ہے شاید وہ یہاں چند سالوں پہلے آیا تھا۔ وہ چاہتی ہے میں اس کے منگیتر سے ملوں۔تم پلیز مجھے ہوٹل چھوڑ دو صبح میری ضروری میٹنگ ہے میرے پاس زیادہ وقت بھی نہیں ہے کچھ شاپنگ بھی کرنا ہے۔ کل کا دن بہت مصروف ہو گا۔“ وہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھی تھی۔ تبھی یکدم بارش شروع ہو گئی تھی۔

”یہ اچانک سے بارش۔“ وہ اُکتائے ہوئے انداز میں بولا تھا۔

”مجھے بارش پسند ہے۔“ وہ مدھم لہجے میں بولی۔ ”تم کچھ لمحوں کو گاڑی روکو گے، مجھے بارش کو محسوس کرنا ہے، اس کی آوازخاموشی میں سننا ہے۔“ اس کی درخواست پر عالیان مرزا نے گاڑی روک دی۔

وانیہ ضیاءنے کھڑکی کا شیشہ اُتارااور کتنی دیر تک خاموشی سے بارش کی آواز کو سنتی رہی پھرہاتھ کھڑکی سے باہر نکال کر بارش کی ان بوندوں کو اپنی ہتھیلی پر لیا۔ عالیان مرزا اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔ وہ کوئی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔ اچانک وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔

”وانیہ! پاگل ہو کیا، یہاں کی بارش پاکستان جیسی نہیں ہے۔ یوں بھی یہ سردی کی بارش ہے۔“ اس نے سنی اَن سنی کر دی اور آسمان کی طرف سر اٹھا کر چہرے پربارش کی بوندوں کو گرتے ہوئے محسوس کرنے لگی تھی۔ اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں وہ بارش میں بھیگتی بہت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ بارش کی بوندیں جگنوﺅں کی طرح ٹمٹما رہی تھیں۔ وہ اپنی طرف سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آیا اور وہ اسے اپنے پیچھے دیکھ کر چونکی تھی۔ کچھ دیر تک یونہی خاموشی سے اسے دیکھتی رہی تھی پھر جانے کیا ہوا تھا کہ اس نے آگے بڑھ کر اپنا سر عالیان مرزا کے شانے پر رکھ دیا تھا۔

”میں نہیں چاہتی تم سمندروں کے سفر پر جاﺅ اور کہیں کسی گمنام جزیرے پر قیام کرو اور کبھی لوٹ کر واپس نہ آنا چاہو۔“ مدھم سرگوشی کی تھی۔ ”میں چاہتی ہوں اگر تم سمندروں کے سفر پر جاﺅ، نگر نگر پھرو یا کسی جزیرے پر قیام کا سوچو تو تمہاری ہم قدم میں ہوں۔ تم وہ سفر میرے ساتھ کرو اور وہ ایک ناختم ہونے والا سفر ہو۔“ اس کی مدھم سرگوشیوں میں اقرار تھا۔ عالیان مرزا اس کا چہرہ تکنے لگا تھا۔

”میں واقعی چاہتی ہوں تم میرے ساتھ چلو، ایک پل کے لیے نہیں، دو لمحوں کے لیے نہیں، تمام عمر کے لیے۔ میں اپنے اندر کے ڈر سے باہر آنا چاہتی ہوں اور یقین کرنا چاہتی ہوں کہ میرے گمان سے آگے کی حد پر میری منزل ہے جو فریب نہیں۔ ابھی کچھ دنوں میں میں لوٹ جاﺅں گی۔ اس سے پہلے میں تمہیں بتانا چاہتی تھی میں نے بہت سوچا اور مجھے قائل ہونا پڑا میں اپنے آپ کے خلاف نہیں کھڑی ہو سکی۔“ وہ اعتراف کر رہی تھی اور وہ بارش میں بھیگتے ہوئے اس کے چہرے پر بارش کی برستی ہوئی بوندوں کو گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کی شفاف آنکھوں کی روشنی اسے وہ بھی کہہ رہی تھی جو وانیہ ضیاءکے لب نہیں کہہ رہے تھے اور شاید اسے مزید سننے کی حسرت نہیں رہی تھی۔ وہ واضح لفظوں میں اپنا عندیہ دے رہی تھی۔

”تم نے بہت دیر کر دی یہ سب کہنے میں۔“ وہ بولا اور وانیہ چونک کر دیکھنے لگی تھی۔

”مطلب؟“ وانیہ کو ایک پل میں سب دور جاتا لگا تھا۔

”مطلب ابھی کوئی شاپ نہیں کھلی، میں اس وقت انگوٹھی خرید کر تمہاری انگلی میں نہیں پہنا سکتا، تم نے پورا دن گزار کر یہ سب کہا نا؟“ وہ مسکراتا ہوا بولا۔

”اب صبح تک ویٹ کرنا پڑے گا جب تک کہ شاپس اوپن ہو جائیں۔“ وانیہ ضاءنے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر اس کے شانے پر مارا تو وہ مسکرا دیا۔

٭….٭….٭

سب کچھ اتنا دلکش اور دلفریب تھا کہ وہ جب اپنے بیڈ پر آئی تو مسکرا رہی تھی۔ پھر آنکھیں بند کر کے وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی، مگر آنکھوںمیں اتنے جگنو تھے کہ اسے ان کی روشنی سونے ہی نہیں دے رہی تھی۔ اس کا فون بجا تھا۔ شاید زوباریہ نے کال کی تھی اسے یاددلانے کے لیے۔ اس نے فون اٹھا کر دیکھا اور کال بیک کرنے ہی والی تھی جب موبائل پر میسجز دکھائی دیے۔ اس نے اوپن کیا تھا، کوئی ایڈریس تھا اور تصویر زوباریہ اپنے فیانسی کے لیے بیقرار تھی۔ شاید نیٹ ورک خراب یا سگنلز کچھ کم آ رہے تھے جبھی تصویر دکھائی دینے میں وقت لیا تھا۔ وہ بے دل ہو کر موبائل رکھنے والی تھی جب تصویر صاف ہو کر دکھائی دی اور وہ ساکت رہ گئی۔ اس کے اردگرد جتنے جگنو تھے سب نے اپنے پَر ایک ساتھ سمیٹے تھے۔ دل کی دھڑکنوں میں شام سے جو ایک شور تھا وہ یکدم سناٹے میں آ گیا تھا۔ وہ زوباریہ کے فیانسی کی تصویر بغور دیکھ رہی تھی۔ وہ کوئی اور نہیں عالیان مرزا تھا۔ وہ عالیان مرزا جو پچھلے کچھ دنوں سے اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ عالیان مرزا جس کی محبت کا یقین اس نے کر بھی لیا تھا۔ وہ عالیان مرزا جس کی محبت کے بنا اسے بھی جینا گوارا نہیں تھا جس کے بنا اسے اپنا آپ ادھورا لگا تھا۔ وہی عالیان مرزا جسے برستی بارش میں شام اس نے اپنا اقرار سونپا تھا وہ ساکت سی تھی۔ وہ اس کا نہیں تھا، کوئی واسطہ نہیں تھا اس سے وہ پہلے سے انگیجڈ تھا اور اسے….ساری رات وہ سو نہیں سکی تھی اور اگلے دن جب اسے ملی تھی تو اس نے اپنا فون اس کے سامنے کر دیا تھا۔

”یہ زوباریہ کا منگیتر ہے،میری بہن کا منگیتر، تم جانتے ہو اسے؟“ وہ تصویر اسے دکھاتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ عالیان مرزا حیران تھا۔

”مجھے نہیں پتا تم اس بارے میں کیا کہہ رہی ہو، مگر میں نے زوباریہ سے کبھی نہیں کہا کہ میں اس سے محبت کرتاہوں۔ اگر کوئی رشتہ تھا تو وہ بچپن میں میری مرضی پوچھے بنا باندھا گیا تھا۔ میں نے کبھی اس رشتے کو بڑھاوا نہیں دیا۔ کوئی وعدہ نہیں کیا نہ کوئی اقرار سونپا۔ میں نے تم سے کوئی کھیل نہیں کھیلا، نہ ہی تمہیں کوئی دھوکہ دیا۔ میرے نزدیک وہ کوئی رشتہ تھا ہی نہیں تو میں کیوں بتاتا؟ میں انگیجڈ تھا اور نہ ہوں، مگر ہونا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ۔“ وہ جتاتے ہوئے بولا تھا مگر وہ پلٹ کر وہاں سے نکل گئی تھی۔

”وانیہ…. وانیہ ضیائ! تم پاگل ہو، بات سمجھ نہیں آتی تمہاری؟“ وہ اس کے سامنے آ رُکا تھا۔ وہ بھیگتی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔

”میں کچھ سننا نہیں چاہتی، میرا راستہ چھوڑ دو۔“

”تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو، ہاں یا ناں؟“ اس نے پوچھا۔

”نہیں….“ وہ واضح انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گئی تھی۔ اس کے بعد وہ اس سے کبھی نہیں ملی۔ اس سے ملے بنا واپس آ گئی تھی۔ وہ اس قصے کو وہیں ختم کر دینا چاہتی تھی مگر اگلے ہی ہفتے وہ پاکستان پہنچ گیا اور باقاعدہ اس کا رشتہ لے کر گھر آ گیا تھا۔ اس رشتے میں اس کی فیملی کی رضامندی بھی شامل تھی۔ وضاحتیں دی گئی تھیں، معذرت کی گئی تھی۔ زوباریہ کے رشتے کو توڑنے میںجواز دیے گئے تھے، مگر اس کے باوجود الزام وانیہ ضیاءکے سر آیا تھا۔

”وانیہ ضیائ! میں نے تمہیں اپنے گھر میں جگہ دی اور تم نے کیا کیا، تم نے میری ہی بیٹی کا منگیتر چرا لیا؟ اور وہ اس الزام کی کوئی صفائی نہیں دے سکی تھی۔ عالیان مرزا نے اسے دنیا کے سامنے بے عزت کر دیا تھا۔ گھر میں اس بات کو لے کر بحث ہوئی تھی۔ ہر فرد اس کے خلاف ہو گیا تھا۔ وہ بابا کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ بات کرنے کے لیے بابا کے پاس آئی تھی۔

”بابا! کوئی اس گھر میں میری نہیں سن رہا۔ میں نے زوباریہ سے بھی بات کرنا چاہی مگر ہر طرف سے بس الزامات آ رہے ہیں۔ میں نہیں جانتی تھی کہ زوباریہ کی منگنی کبھی ہوئی تھی یا پھر یہ کہ اس کا منگیتر وہاں اٹلی میں ہے۔ میں جس شخص سے وہاں ملی اس نے نہیں بتایا کہ وہ زوباریہ کا منگیتر ہے۔ آپ تو میرا اعتبار کریں۔ میں نے جب یہ جانا کہ وہ زوباریہ کا منگیتر ہے میں نے تبھی سے اس شخص سے کنارہ کشی کر لی۔ میں نہیں جانتی وہ کب پاکستان آیا اور کیوں رشتہ لے کر اس گھر میں آیا۔ زوباریہ میری بہن ہے، میں اس کا حق کیسے چھین سکتی ہوں؟ اس شخص نے کیوں زوباریہ سے اپنا رشتہ ختم کیا یا کیوں اس گھر میں میرے لیے رشتہ بھیجا،میں اس سے یکسر بے خبر ہوں۔ پلیز آپ توسمجھنے کی کوشش کریں کہ میں نے کسی کا کوئی حق نہیں چھینا۔ وہ بابا پر مکمل اعتماد اور بھروسہ کرتے ہوئے پوچھ رہی تھی تبھی وہ بولے۔

”وانیہ!تم نے ہمارے لیے اور اس گھرکے لیے بہت کچھ کیا۔ مگر بیٹا! جو غلط ہے سو غلط ہے۔ میں اتنی ساری آوازوں پر کان بند نہیں کر سکتا اور اتنے سارے لوگ ایک ہی غلط بات نہیں کہہ سکتے۔ کچھ نہ کچھ کہیں نہ کہیں غلط ضرور ہوا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گئے اور تب اس کا وہاں رکنے کا کوئی جوازنہیں رہا تھا۔ اس نے ہادیہ ماسو کے پاس جانے کے لیے اپلائی کر دیا تھا اور جب تک اس کا ویزا نہیں آ گیا تھا وہ ہوٹل میں ہی رہی تھی۔ اس نے اپنوں پر اعتماد بھروسہ کیا تھا اور وہ بھروسہ وہیںٹوٹ گیا تھا۔ مجرم وہ قرار پائی تھی اور اتنے لوگوں کو الگ الگ وضاحتیں اور جواز وہ نہیں دے سکتی تھی۔ اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا مگر اسے الزم دیا گیا تھا۔ بابا نے مصلحتاً اس کی طرف انگلی اٹھائی تھی۔ وہ اپنے گھر کا سکون خراب نہیں کرنا چاہتے تھے اور وہ پھر سے الگ کھڑی تھی۔ لندن آ کر اس نے کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا، نہ کسی سے کوئی رشتہ رکھا تھا۔ سب جو جہاں تھا اسے وہیں اس طرح چھوڑ دیا تھا۔ باقیات میں سے اس کا کچھ باقی نہیں بچا تھا اور اگر کچھ تھا بھی تو وہ بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی۔

٭….٭….٭

ہادیہ ماسو نے صبح ناشتے کی ٹیبل پراس کے سامنے ایک لفافہ رکھا۔ جسے اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا پھر کھول کر دیکھنے لگی۔ بابا نے اس کا بزنس اس کے نام کر دیا تھا جو اس کا تھا وہ لوٹا دیا تھا ساتھ ایک مختصراً تحریر تھی۔

”میں تمہارے ساتھ مزید زیادتی نہیں کر سکتا۔ تم اپنے بابا کی اب بھی سب سے پیاری بیٹی ہو۔ میں معذرت خواہ ہوں، مجھے افسوس ہے میں تمہارے لیے تمہارے حق کے لیے اس گھر میں رہنے والوں کے مقابل ڈٹ کر کھڑا نہیں ہو سکا۔ شاید میں بہت کمزور ہوں یا مصلحت پسند، مگر میں تمہارے ساتھ مزید کوئی ناانصافی نہیں کر سکتا۔ یہ بزنس تم نے شروع کیا تھا، انویسٹمنٹ تمہاری تھی، سو اسے تمہیں سونپ رہا ہوں۔ جب تک زندہ ہوں اس کمپنی کا کیئرٹیکر ہوں۔ جو منافع ہو گا اسے تمہارے اکاﺅنٹ میں ٹرانسفر کرتارہوں گا اور اگر ہو سکے تو اپنے بابا کو معاف کر دینا۔“ وانیہ نے پڑھ کر سب واپس لفافہ میں ڈال کر رکھ دیا۔

”کیا ہوا؟“ ہادیہ نے پوچھا۔ اس نے لفافہ ان کی طرف بڑھا دیا۔

”چلو انہیں اپنے کیے کا احساس تو ہوا۔ انہوں نے آپا کے ساتھ بہت ناانصافیاں کیں۔ ان کی زندگی میں انہیں بہت دکھ دیا اور وہ تمہیں بھی کوئی کریڈٹ نہیں دے سکے۔ کچھ لوگ بہت کمزور ہوتے ہیں ۔ شاید وہ اپنے لیے بھی کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اس کا اعتراف انہوں نے کیا ہے۔“ وہ چپ چاپ بیٹھی آنسو بہانے لگی۔

”وہ اپنی فیملی کے ساتھ کھڑے ہوئے، ان کے لیے کھڑے ہوئے، اور میں؟ میں جو ان کے ساتھ رہی کبھی ان کا حصہ نہیں بن پائی؟ میں کس فیملی کا حصہ ہوں؟میں نے ایک فیملی کو اپنایا،انہیں سپورٹ کیا اور انہوں نے بدلے میں مجھے کیا دیا، چور کہا، حق چھیننے والی، سب نے مجھے پر انگلیاں اٹھائیں کہ میں نے زوباریہ کے منگیتر کو چھینا اور بابا نے بھی ان کی تقلید کی۔“ وہ بھیگتی آنکھوں سے پوچھ رہی تھی، ہادیہ نے اس کو تھام کر اپنے ساتھ لگا لیا۔

”مجھے نفرت ہے سب سے،سب اپنے مطلب کے ہیں اور اس سے بھی جس نے مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا۔ اس کی وجہ سے سب نے مجھ پرانگلیاں اٹھائیں۔ مجھے چور بنایا، میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی۔“ وہ عالیان مرزا کے لیے کہہ رہی تھی۔ ہادیہ اسے تسلی دیے بنا اسے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ کر چلی گئیں۔

٭….٭….٭

وہ سنہری روشن صبح تھی جب وہ اپنی جاب کے لیے نکل رہی تھی۔ وہ لیٹ ہو چکی تھی اور اس کی کوشش تھی کہ ٹرین مس نہ ہو جائے مگر تبھی اس کے سامنے لمبی کار آن رکی تھی۔ وہ حیرت سے دیکھ رہی تھی جب عالیان مرزا نے گاڑی کا شیشہ اُتار کر اسے دیکھا اور وہ حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی۔ وہ اسی قدر اطمینان سے بولا۔

”آﺅ بیٹھو!“ اس کے لیے فرنٹ ڈور کھولا۔ وہ چند ثانیوں تک اسے دیکھتی رہی۔

”یہ کوئی خواب یا خیال نہیں، نہ تمہارا وہم، میں حقیقت میں تمہارے سامنے ہوں۔“ وہ جتاتے ہوئے بولا تھا۔ شاید وہ پلٹ کر وہاں سے چلی جاتی مگر عالیان مرزا نے سرعت سے گاڑی سے نکل کر اس کی کلائی تھامی اور اسے گاڑی میں بٹھا لیا۔ وہ سب اتنا غیرمتوقع تھا کہ وہ حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی اور وہ دوسری طرف سے گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا اور اسے ایک نظر دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

”تم سے کہا تھا کہ تم سے دور نہیں جا سکوں گا، سو نہیں جا سکا۔ تمہیں احساس دلائے بنا تمہارے آس پاس ہی رہا۔ تمہارے ساتھ ساتھ چلتا رہا مگر تمہیں اس کی خبر نہیں ہونے دی۔ وانیہ ضیائ! تم مجھ سے دور گئیں مگر محبت مجھ سے دور نہیں گئی۔ تمہاری محبت میرے اردگرد گھومتی رہی اور مجھے تم سے جوڑتی گئی، حتیٰ کہ جب تم دور بھی گئیں محبت نے یہ سفر ترک نہیں کیا۔ میں تمہاری دی ہوئی سزاﺅں کو بھگت رہا تھا۔ وہ سزا اگرچہ بے جواز تھی مگر میں تم سے شکوہ نہیں کر سکا۔ تم عجیب ہو وانیہ ضیائ!“ وہ تھک کر رہ گیا جیسے وہ صرف سن رہی تھی اس کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کر رہی تھی۔

”وانیہ! دنیا تمہاری مرضی سے تمہارے اشاروں پر نہیں چل سکتی۔ میں کوئی کھلونا نہیں تھا جو تم مجھے اس زوباریہ کے حوالے کر کے خود وہاں سے چلی آئی تھیں۔ اگر زوباریہ کو میں نے تمہاری موجودگی میں تم سے ملنے سے پہلے نہیں چنا تو تم سے ملنے کے بعد کیسے اس کے ساتھ چل سکتا تھا؟ تمہیں سمجھنے کی ضرورت ہے وانیہ ضیائ! محبت ہر ایک سے نہیں ہوتی۔ تم جب میری زندگی میں نہیں تھیں تب بھی مجھے زوباریہ سے محبت نہیں تھی۔ کیونکہ وہ میرے لیے نہیں بنی۔ محبت کے لیے ہم خود کسی کو نہیں چنتے وانیہ ضیائ! محبت خود اپنے فریق کو چنتی ہے۔ یہ انتخاب جبری نہیں فطری ہوتا ہے۔ یہ محبت طے کرتی ہے وہ کسے اپنے لیے چنتی ہے۔ اس میں کوئی پلاننگ نہیں ہوتی۔ زوباریہ بچپن سے مجھ سے منسوب تھی، میری مرضی کے بنا مجھے اس سے جوڑا گیا تھا۔ جب مجھے شعور تھا نہ عقل۔ میں نے پہلی بار اس منگنی کی مخالفت تب کی تھی جب میںنے شعور کی دنیا میں قدم رکھا تھا اور تب تم میرے ساتھ نہیں تھیں۔ میں نے اپنی فیملی کو بتا دیا تھا کہ میں زوباریہ سے شادی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد میں اٹلی چلا گا، اس عرصے میں، میں نے زوباریہ سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ کیونکہ میں اس رشتے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتا تھا اور تب میں تم سے ملا، یہ کوئی منصوبہ بندی نہیں تھی، کوئی پری پلانڈ گیم نہیں تھا، ہم اتفاقاً ملے تھے۔ میں نہیں جانتا تم خود کو مجرم سمجھنے پر کیوں تُلی ہوئی ہو۔ دوسروں کو مجرم کیوں نہیں بنا رہی ہو۔ میں نے کوئی گناہ یا جرم نہیں کیا۔ اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر اس لیے بھجوایا کہ تم مجھے غلط نہ جانو۔ رشتے کی بات اس لیے چلائی کہ میں تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے زوباریہ کو تمہارے لیے نہیں چھوڑا اور وہ رشتہ تمہاری وجہ سے ختم نہیں ہوا۔ وہ رشتہ کبھی جڑا ہی نہیں تھا اور جس سے میں جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا اسے تم نے جڑنے نہیں دیا۔ یہ خودساختہ سزائیں ہیں وانیہ ضیائ! تم خود کو اور مجھے بے مطلب کی سزائیں دے رہی ہو۔ تم غلط تھیں اور غلط ہو۔ تمہارے وہاںآنے کے بعد کیا ہوا؟ کیا میں نے اس رشتے کو جوڑا؟ نہیں، میں ایسا نہیں کر پایا کیونکہ میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ زوباریہ کی شادی ایک اچھے انسان سے ہو گئی۔ وہ اس کے ساتھ خوش ہے۔ وہ جان گئے تم نے کوئی جال نہیں بچھایا، نہ اس کے منگیتر کو چھینا۔ تمہارے بابا اور دوسری ممی تمہیں انہی سب کی فکر تھی نا؟ تم دوسروں کے لیے جیتی آئی ہو، ان دوسروں کے لیے تم نے خود پر زندگی کے دروازے بند کر دیے اور ان دوسروں کو تمہاری کتنی پروا تھی؟“ وہ جتا رہا تھا۔

”میں نے کسی کے لیے اپنی زندگی بند نہیں کی، مجھے اپنے امیج کی فکر تھی اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ….!“ وہ بولتے بولتے رکی پھر گھڑی دیکھ کر بولی۔

”تم گاڑی روکو، مجھے دیر ہو رہی ہے۔ ورنہ مجھے شام میں ایک گھنٹہ ایکسٹرا کام کے لیے رکنا پڑے گا اور میں ایسا نہیں کر سکتی۔ مجھے ہاویہ ماسو کے ساتھ ضروری کام سے جانا ہے۔ پلیز تم اپنا اور میرا ٹائم ویسٹ کرنا بند کرو، سب وضاحتیں بیکار ہیں کیونکہ مجھے اس کی پروا نہیں ہے۔ میرے لیے کل گزر چکا ہے جو گزر جاتا ہے وہ پیچھے چھوٹ جاتا ہے۔ بالخصوص تب جب آگے دیکھنا اور آگے بڑھنا ہو۔ آگے بڑھنے کے لیے پیچھے نہیں دیکھنا پڑتا۔ سو میں پیچھے دیکھنا متروک کر چکی ہوں۔“ وہ جتاتے ہوئے بولی۔ وہ جیسے اسے اس طرح جانے دینا نہیں چاہتا تھا تبھی بولا۔

”وانیہ ضیائ! تم دنیا کی سب سے بے وقوف ترین لڑکی ہو، تم چاہتی کیا ہو؟ تم خود کو کیوں ٹھیک سمجھتی ہو اور باقی تمام دنیا کوغلط؟“ اس نے اُکتا کر پوچھا۔

”میں کسی کو غلط نہیں سمجھتی۔ میں تم سے دستبردار ہوئی کیونکہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔“ وہ پُرسکون انداز میں کہہ رہی تھی۔

”مگر تم سے دور جانے کی یہ سب وجوہات نہیں شاید یہ بھی ایک وجہ تھی، مگر میں تم سے جڑنا نہیں چاہتی تھی مگر مجھے تم سے دور لے جانے کی ایک وجہ اور بھی تھی۔ تم جس رشتے سے وبستہ تھے اس نے میری ممی کو سب سے زیادہ دکھ دیا۔ میں فیئر نہیں ہوتی اگر میں تمہارے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بارے میں سوچتی۔ تم میرے بابا کی دوسری بیوی کے بھانجے ہو۔ وہ دوسری عورت جسے بابا نے چنا اور جس سے میرے بابا کو محبت تھی اور میں اس عورت کی بیٹی تھی جس سے میرے بابا کو محبت کبھی نہیں ہوئی۔ اس محبت نہ ہونے کی سزا بہت کٹھن تھی۔ اس کااندازہ انہیں نہیں ہوا کیونکہ وہ اس سزا کو محسوس کرنے کے لیے میری ممی کے ساتھ نہیں تھے۔ مگر میں ان کے ساتھ ہر پل تھی۔ میں بابا کومعاف نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے اس درد کو محسوس کیا اور جانا تھا۔ تبھی میں ایک ایسے انسان سے رشتہ جوڑنا نہیں چاہتی تھی جس کے باعث میری ماںکو تکلیف پہنچی۔ تم میرے بابا کی زندگی سے جڑے ہو اور میں یہ بات بھول نہیں سکتی۔“ وہ حیران ہو رہا تھا اس نے گاڑی اس کے آفس کے سامنے روکی اور وہ اُتر گئی تھی۔ وہ تادیر اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ وہ لڑکی سچ مچ بہت عجیب تھی۔

٭….٭….٭

”بابا کا فون آیا تھا۔ اتنے عرصہ میں وہ ان کی کالز کو مسلسل نظراندازکرتی آئی تھی، مگر آج جانے کیا سوچ کر اس نے کال اٹھائی، بابا بے قراری سے پوچھنے لگے۔

”میری بچی! کیسی ہو تم، اپنے بابا سے اتنی ناراض تھیں؟“

”آپ نے فون کیوں کیا؟“ اس نے اپنے تمام جذبات کو ایک طرف رکھ کر پوچھا۔ بابا سمجھتے تھے وہ ایسے کیوں ہو رہی ہے تبھی بولے۔

”بیٹا! غلطیوںسے انسان سیکھتا ہے اور غلطیاں صرف چھوٹوں سے نہیں بڑوں سے بھی ہوتی ہیں اور بڑوں سے غلطیاں ہو جائیں تو وہ چھوٹوں سے معافی مانگ سکتے ہیں۔ تم اپنے بابا کو معاف نہیں کر سکتیں؟ میں نے فون عالیان مرزا کی وجہ سے کیا ہے۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ ان کی طرف سے پھر ایک بار رشتے کی بات شروع ہوئی ہے اور میں چاہتا ہوں تم ہم سب کے کیے کی سزا خود کو اور اسے مت دو۔ تم نے کسی کا حق نہیں چھینا۔ وہ شاید زوباریہ کے لیے نہیں بنا تھا سو وہ رشتہ نہیں جڑ سکا۔ مگر میں جانتا ہوں وہ تمہارے لیے بنا ہے۔ میں تمہاری ماں سے کبھی اپنے کیے کی معافی نہیں مانگ سکا۔ تم میرے کیے کی سزا خود کو مت دو۔ عالیان ایک بہترین انتخاب ہے، اسے انکار مت کرو۔ جو کوتاہیاں میں نے تمہاری ماں سے اپنے رشتے کو نباہنے میں برتیں، میں نہیں چاہتا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوں۔ میں ازالہ کرنا چاہتا ہوں اور اگر تمہیں اپنے بابا پر تھوڑا بہت بھی اعتبار ہے تو اسے معاف کر دو اور عالیان مرزا سے شادی کا پروپوزل قبول کر لو۔ اس کے حوالوں پر غور مت کرو۔ وہ جس سے جڑا ہے یہ سوچ کر اپنے در بند مت کرو۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے اور تمہارے لیے سب کچھ کر سکتا ہے۔“

”محبت رشتے کے لیے بہت اہم ہوتی ہے بابا! اس حقیقت کو مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے؟“ وہ بابا کی بات کاٹ کر بولی۔

”وانیہ بیٹا! مجھے اور شرمندہ مت کرو۔ میں نہیں جانتا مجھے تمہاری ماں سے محبت کیوں نہیں ہو سکی۔ وہ بہت سمجھدار عورت تھی۔ شاید میں نے زیادہ وقت اس کے ساتھ نہیں گزارا۔ عالیان مرزا میرے جیسا نہیں ہے۔ اس نے کوئی جبر اور زبردستی کا رشتہ نہیں جوڑا کیونکہ وہ جانتا ہے یہ کسی دوسرے کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ جس سے وہ محبت نہیں کرتا اس سے وفادار بھی نہیں رہ سکتا۔ یہ بات وہ سمجھ پایا اس نے زوباریہ سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر کے بہت سمجھداری کا ثبوت دیا۔ اس نے زوباریہ کی زندگی خراب نہیں کی۔ جیسے میں نے تمہاری ماں کی زندگی خراب کی۔ عالیان سمجھدار ہے وہ اپنی وفاداری نہیں بدل سکا۔ وہ تم سے وفادار ہے۔ وہ تمہارا بہت خیال رکھے گا۔ اس پر اپنے در بند کرنا عقلمندی نہیں ہوگی۔ میں نہیں چاہتا تم میرے کیے کی سزا خود کو یا کسی اور کو دو۔“ بابا سمجھا رہے تھے، وانیہ ضیاءفون کا سلسلہ منقطع کر کے باہر آ گئی۔

٭….٭….٭

بوا کے آنے سے گھر کی خاموش فضا میں بہت فرق پڑا تھا۔ جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کسی نے کوئی کنکر پھینک دیا ہو۔ ہادیہ ماسو نے ٹھیک کہا تھا، وہ رشتوں کی پٹاری لے کر آئیں گی اور ان کے پاس واقعی بہت سے رشتے تھے۔

”یہ بوا ہیں یا رشتہ بنانے کی مشین؟ مجھے تو یہ رشتے بنانے میںخود کفیل لگتی ہیں۔“ زوارشاہ بولے تو وہ اپنی ہنسی پر قابو نہیں کر پائی۔ دیر تک اس کی ہنسی کی آواز گونجتی رہی اور اسے خود حیرت ہوئی تھی وہ تو شاید ہنسنا ہی بھول گئی تھی۔ اسے ہنستے دیکھ کر ہادیہ ماسو بھی مسکرائیں۔

”میں نے کہا تھا ناں! رشتوں کی کمی نہیں؟ ایک بار میری بوا کو آنے دو پاکستان سے۔ رشتوں کی بڑی کھیپ ہو گی ان کے پاس۔“ ہادیہ مسکرا کر بولی۔

”ماشاءاللہ! ایک بڑی کھیپ واقعی ہے ان کے پاس۔“ زوار نے ایک اور چٹکلا چھوڑا اور بوا نے اسے چشمے کے پیچھے سے گھورا۔

”میاں! تمہارے لیے بھی کئی لڑکیوں کے رشتے مل سکتے ہیں۔ کئی اچھی لڑکیاں ہیں میری نظر میں، تم کہو تو بات چلاﺅں؟ ویسے کماتے تو ٹھیک ٹھاک ہی ہو گے نا تم؟ کرتے کیا ہو، کوئی ڈھنگ کی نوکری ہے کہ نہیں؟“ بوا زوارشاہ سے ضروری سوالات کرنے لگیں تو وہ مسکرا دیا۔

”کوئی فارم فل کرنا ہے تو بتا دیں میں اپنا مکمل بائیو ڈیٹا آپ کو دینے کو تیار ہوں۔تھوڑا بہت کما ہی لیتا ہوں، روکھی سوکھی چل ہی جاتی ہے۔“ وہ غیرسنجیدہ تھا، مگر بوا مکمل انٹرسٹ لے رہی تھیں۔

”بوا….! آپ تو میرا رشتہ کروانے آئی تھیں اور اب کسی اور کا لے کر بیٹھ گئیں؟“ ہادیہ نے گھورا۔

”مجھے لگتا ہے زوارشاہ حسد محسوس کر رہے ہیں۔“ وانیہ ضیاءنے مسکراتے ہوئے کہا تو ہادیہ مسکرا دی۔ زوارشاہ ہادیہ کی طرف دیکھنے لگا۔

”مجھے حسد کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر ہادیہ کو کوئی اچھا رشتہ ملتا ہے تو مجھے خوشی ہو گی۔ میں تو یہ کہنا چاہتا تھا کہ میری آس میں مت رہنا، کہیں دیر نہ ہو جائے۔“ وہ مسکرائے۔

”آہ….! جیسے آپ اکیلے ہی ہیں نا اس دنیا میں، میں کیوں رہنے لگی کسی آس میں؟ میرے پاس بوا ہیں اور مت بھولو بوا رشتوں میں خودکفیل ہیں۔“ اب کے ہادیہ بھی مسکرائیں۔

”زوار شاہ….! آپ جلدی سے ہاں کہہ دیں، یہ نہ ہو آپ کو ہادیہ ماسو سے ہاتھ دھونا پڑیں۔ میری ماسو جیسی لڑکی آپ کو کہیں نہیں ملنے والی، اس بات کی گارنٹی ہے۔“ وانیہ نے کہا اور زوار مسکرا دیا۔

”رکو! میںبھی اپنی طرفداری کے لیے اپنے بھتیجے کو بلاتا ہوں۔ یہ صحیح نہیں، تمہاری طرف سے تو تمہاری بھانجی حمایتی بنی کھڑی ہے اور اس طرف میں تنہا کھڑا ہوں۔“ زوارشاہ نے کہہ کر کان سے فون لگایا اور کسی کو مطلع کیا۔

”یار بات سنو! وقت ہے تو اس طرف آ جاﺅ، مردوں کی قوم پر سوال آن ٹھہرا ہے۔ بات عزت کی ہے، عورتوں کی قوم بھاری پڑ رہی ہے۔ تم نہیں آئے تو مردوں کی قوم شکست خوردہ کہلائے گی۔“ زوارشاہ کا مزاح کمال کا تھا، وانیہ مسکرا دی۔

”میں کافی لے کر آتی ہوں۔“ وانیہ کہہ کر کچن میں آ گئی اور اسے گمان نہیں تھا جب وہ واپس لوٹے گی تو وہاں زوارشاہ کا بھانجا یا بھتیجا آ چکا ہو گا۔ وہ حیران رہ گئی تھی، کیونکہ وہ کوئی اور نہیں عالیان مرزا تھا۔ وہاں اچھی خاصی محفل جمی ہوئی تھی۔ بوا اور اس کے رشتوں کو لے کر وہ دونوں اچھی خاصی محفل لگائے ہوئے تھے۔

”بوا! میرے لیے بھی کوئی اچھی سی لڑکی دیکھیں۔“ اسے دیکھتے ہوئے عالیان مرزا بولا۔ اس نے کافی کا کپ اس کی سمت بڑھایا جسے اس نے مسکراتے ہوئے تھاما۔

”اے بیٹا! ایک بار بول تو سہی کیسی لڑکی چاہیے تجھے۔ صدقے جاﺅں ایک سے ایک لڑکی مل جائے گی۔ خیر سے اتنے پُروجاہت ہو تم، یہ لمبا اونچا قد اوپر سے قابلیت۔“

”بوا! آپ نے تو خوش کر دیا۔ چلواس بات پر بتا دیتا ہوں کس طرح کی لڑکی چاہیے۔ اس کی ناک لمی ہونی چاہیے، چھوٹی ناک والی لڑکیاں مجھے پسندنہیں۔ چھوٹی ناک پر غصہ ہو تو اور بھی بُرا لگتا ہے، سو اس بات کا خیال رہے کہ غصے والی بالکل نہ ہو۔ ایٹی ٹیوڈ زیادہ ہو تو بتا دیجیے گا گھر رکھ کر آئے، لڑکے کے پاس اپنا خود کا پرسنل کافی سارا ایٹی ٹیوڈ ہے اور کیا؟“ باقی کے لیے اپنے انکل کی طرف دیکھا زوارشاہ مسکرایا۔

”ہائٹ لمبی؟“ انکل نے بھرپور مدد کی۔

”اوہ ہاں! ہائٹ اتنی لمبی نہ ہو اس کی عقل ٹخنوں میں ہو اور یہ مجھے قبول نہیں۔“ وہ مسکراتے ہوئے بتا رہا تھا۔ وانیہ نے اسے گھورا، وہ مسکراتے ہوئے بنا پرواہ کیے بولے جا رہا تھا۔

”ایک بات اور، اتنی دبلی پتلی نہ ہو، تھوڑی جان میں ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہوا چلے اور اپنے ساتھ اُڑا لے جائے۔“ وہ کہہ کر ہنسا تو انکل بھی ہنسنے لگے۔

”یار! تم اس کے دوپٹے سے ایک کنکر باندھ دینا۔ اُڑنے کی خواہش حسرت بن کر رہ جائے گی۔“ چاچا نے کہا اور دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے۔دونوں لڑکیاں اور بوا ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔

”بوا! ان لوگوں کو بتا دیں یہاں آپ کس کے لیے آئی ہیں۔ ہم نے آپ کو بلایا ہے اتنی دور پاکستان سے، سو پہلے اگر کوئی رشتہ طے ہو گا تو ہماری ہادیہ ماسو کا۔ ان سے کہہ دیں کوئی اور میرج بیورو دیکھ لیں۔“ وانیہ ضیاءنے عالیان مرزا کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔

”بوا! آپ ان کو بتا دیجیے، آپ کے سارے کلائنٹ آپ کے لیے برابر ہیں اور آپ اس میں کوئی بھید بھاﺅ نہیں کرتیں۔“ عالیان مرزا نے کہا۔ زوارشاہ نے پرزور حمایت کی۔ وہ گھورتی ہوئی وہاںسے اٹھ کر ٹیرس پر آ گئی۔ جانے کب وہ بھی اٹھ کر اس کے پیچھے آ گیاتھا۔

”زوار انکل میرے ڈیڈی کے کزن ہیں،مگر تم یہ مت سمجھو کہ میں تمہارے لیے یہاں آیاہوں۔ یہ محض اتفاق ہے کہ ایک تعلق نکل آیا۔“ وہ اس کے پیچھے کھڑا کہہ رہاتھا۔ وہ پلٹے بنا اُکتا کر بولی۔

”پلیز اسٹاپ اٹ، کس رشتے کی بات کر رہے ہو تم۔ میں تمہیں کہہ چکی ہوں یہ ممکن نہیں ہے۔ اپنا بچپنا بند کرو۔میں ساری زندگی کسی احساس جرم میں مبتلا نہیں رہ سکتی۔“ ”وہ اپنی ضد پر اَڑی ہوئی تھی۔ اس نے ہاتھ پکڑ کر رُخ اپنی طرف پھیر لیا تھا۔ یہ اتنا اچانک تھا کہ اسے سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ اس کا سر اس کے سینے سے آن ٹکرایا تھا۔

یکدم اتنی قربت، اس کی خوشبو…. اس کی گرم سانسیں، وہ کتنے لمحوں تک سنبھل نہیں سکی تھی۔ سنبھلی تھی تو خود کی دھڑکنوں کی آواز پر وہ خود حیران رہ گئی تھی۔ سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا وہ اس کے بازوﺅں کے حصار میں تھی۔ وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ انداز بے بسی لیے ہوئے تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی کیفیت تھی۔ کناروں میں نمی آن ٹھہری تھی۔ وہ بغور اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جیسے انتشار کے کسی عمل سے گزر رہی تھی۔ اس کا وجود اس کے بازوﺅں میں کانپ رہا تھا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر اسے اس لمحے اس سے کچھ کہنا مناسب نہیں لگا تھا۔ بہت آہستگی سے اس نے وانیہ ضیاءکو اپنے بازوﺅں کے حصار سے آزاد کیا اور پلٹ کر وہاں سے چلا گیا۔

وانیہ اپنے آنسوﺅں پر قابو نہیں رکھ سکی اور آنکھوں سے بندھ توڑ کر ایک نمکین سمندر بہہ نکلا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے