سر ورق / جہان اردو ادب / نور العین ساحرہ۔۔۔محمد زبیر مظہر پنوار

نور العین ساحرہ۔۔۔محمد زبیر مظہر پنوار

جہان اردو ادب میں آج جو تخلیقکارہ میرے ساتھ ہیں ان کے متعلق اتنا کہوں گا کہ قلیل مدت میں آپ نے خود کو بطور عمدہ اور جینؤئن تخلیقکارہ اور مبصرہ منوایا ہے ۔۔ آپکی کہانیوں میں احساس درد فکر  ہوتی ہے جسے ہر قاری گویا خود پہ یوں محسوس کرتا ہے کہ کہانی کا کردار وہ بذات خود ہے اور مزکورہ کہانی جیسے اسی کی آپ بیتی ہو ۔ بالخصوص عورت کی ہمارے معاشرے میں موجودگی اسکی اہمیت اس کی سماجی معاشرتی مذہبی نجی کتھائیں جو ایک طرف ظلم و زیادتی کا نوحہ سنا رہی ہوتی ہیں تو دوسری طرف اسے آئیڈیل بھی بنا رہی ہوتی ہیں ۔۔ خیر آج کی مہمان ہیں ”  جی ہاں بلکل آپ درست سمجھے کہ مجھ سمیت آپ سب کی پسندیدہ امریکہ میں مقیم انتہائی ہونہار قابل اور نڈر تخیقکارہ نور العین ساحرہ ۔۔ آئیے زرا ”  نور العین صاحبہ سے کچھ نجی اور کچھ علمی و ادبی مکالمہ ہو جائے۔۔

سوال ..آپ کا قلمی نام ؟

جواب ۔۔ نور العین ساحرہ

سوال۔۔ تعلیمی اور خاندانی پس منظر؟

جواب ۔۔ کمپیوٹر میرا فیلڈ ہے لیکن اتفاق سے جاب ہمیشہ مختلف انٹرنیشنل کمپنیز میں ایڈمنسٹریشن کی کرتی آئی ہوں۔ خوش قسمتی سے میں ایسے مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوئی جہاں علم  کی اہمیت مسلم تھی ۔ بہت وسائل نہ ہونے کے باوجود بچپن ہی سی جیسے تیسے کر کے مجھے بچوں کے تمام رسائل مہیا کیے گئے تاکہ میرا ذہنی رحجان کتب بینی کی طرف مائل ہو، خاندان میں میرے علاوہ کوئی قلمکار تو نہیں البتہ قاری سبھی لوگ ہیں اور کتاب سے بہت گہرا شغف رکھتے ہیں۔ میرا آبائی شہر ساہیوال ہے۔ ابتدائی تعلیم واہ کینٹ اور لاہور میں حاصل کی۔ 1998 میں ہجرت کر کے ہمیشہ کے لئے امریکہ آ بسے اور پاکستان سے ناطہ ٹوٹ گیا لیکن محبت کبھی کم نہیں ہوئی، اسی کو قائم رکھنے کے لئے اردو ادب سے ناطہ جوڑلیا ہے۔

سوال .. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے؟

جواب ۔۔ "سویا ہوا محل ” والی بچوں کی کہانی سے شروع ہونے والے کتابیں پڑھنے کے جنون نے ہائی اسکول پہنچنے تک منٹو ، شہاب نامہ ، یادوں کی بارات ،آگ کا دریا سمیت تمام مشہور تصنیفات اور بڑے مصنفین، انکی بائیو گرافی اور بے شمار سفر نامے پڑھوا دیے تھے۔ جب بھی ملکی و غیر ملکی ادب پڑھتی اور اسکا موازنہ اپنے معاشرتی مسائل اور ثقافتی و ادبی رحجانات سے کرتی تو ہمارے حالیہ ادب میں کمرشل ادب کا دور دورہ نظر آتا۔ جیسے جیسے پاپولر اور کلاسیکل ادب میں فرق کی پہچان ہونے لگی ۔ ویسے ویسے میری کوفت اور الجھن میں اضافہ ہونے لگا ۔ میں ہمیشہ سے ادب برائے زندگی کی متلاشی تھی اور ادب کو معاشرے میں بگاڑ یا بہتری کا بہت طاقتور ذریعہ سمجھتی ہوں۔۔ یہ اندازہ تو نہیں تھا کہ کبھی خود رائٹر بنوں گی مگر لگتا تھا ہمارے معاشرے میں کسی تبدیلی یا انقلاب کی اشد ضرورت ہے ۔ ہمارے سیاست دان، دانشور اور Think Tanks اس طرف متوجہ نظر نہیں آتے تھے۔ تب مجھے لگا دوسروں کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نا اپنے قلم کو ہتھیار بنا کرہم خود بھی اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ سوئے ہوئے ذہنوں کا طلسماتی و الف لیلوی داستانوں سے نکل کر حقیقت کی تلخ دنیا میں آنا ضروری ہے تاکہ ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ اسی دوران مجھے سبط حسن ، مبارک علی، سید علی عباس جلال پوری کو پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ مارکسزم پڑھنے اور سمجھنے کا موقع بھی ملا جس کے بعد میری یہ خواہش اور بھی زیادہ شدت سے بڑھنے لگی کہ ہمارے ہاں طبقاتی فرق ختم ہو جائے۔ ہمارے گم نام ادیب اور ہمارا اردو ادب بھی انقلابی طرز اپنائیں تاکہ دنیا میں انکی پہچان ایک زندہ قوم کے طور پر ہو اور اردو ادب میں بھی کوئی نوبل پرائز حاصل کرسکے۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی؟

جواب ۔۔ سوری، اس سوال کا جواب اتنا آسان اور مختصر نہیں ،کچھ  پیچیدہ سا ہے اس لیے ذرا تفصیل میں جانا پڑے گا۔

چھوٹی عمر میں بچوں کے  مختلف رسائل کے علاوہ اخبار جہاں ،فیملی میگزین وغیرہ  میں تھوڑا بہت لکھا تھا۔ اسکے بعد ایک طویل وقفہ محض قاری بنے رہنے کا آیا۔ امریکہ آنے کے بعد اردو ادب کی تلاش میں نیٹ پر مارے مارے پھرتے ہوئے اقبال سائبر لائبریری مل گئی اور اگلے کچھ سال تک میں  بہت خاموشی سے وہاں موجود کتابیں پڑھنے میں منہمک رہی ۔ اسکے بعد نئی تلاش شروع ہوئی اور ایک دن اچانک "ون اردو فورم” مل گیا ( جہاں پہلے دو سال تک اکاؤنٹ بنائے بغیر ہی بطور مہمان وزٹ کرتی رہی) جس کا میری زندگی اور ادبی دنیا میں بطور قلمکار داخل ہونے کا بہت بڑا حصہ ہے۔۔ وہاں موجود ساری کتابیں پڑھ لینے کے بعد ان پر جب تبصرے شروع ہوئے تب میں پاپولر فکشن کے بہت خلاف بولتی تھی اور ایسے ادب پر سخت احتجاج کیا کرتی تھی جہاں کم و بیش وہی تمام کہانیاں نام بدل بدل کر مسلسل دہرائی جا رہی تھیں ۔ جسکا مقصد  خلائی مخلوق جیسے عجیب و مضحکہ خیز ناموں والی ایک امیر ترین خاتون کو کسی ایسے ہی نام والے غریب ترین  مرد  سے ملانا ( یا وائس ورسا) ہو جس کی زندگی کا مقصد صرف نیلی پیلی لال ہری ساڑھیاں پہن کر شرمانا لجانا یا ادائیں دکھانا ہو ۔ میرا احتجاج جیسے جیسے بڑھتا جاتا ویسے ویسے مجھے چیلینج کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا کہ میں یا تو خاموش ہو جاؤں اور اسی ادب سے سمجھوتہ کر لوں  یا پھر خود اس سے  کچھ  الگ  لکھ کر دکھاؤں۔ مجھے اپنے بارے میں کوئی خوش فہمی تو نہیں تھی مگر دل میں بہتر لکھنے کی خواہش ضرور موجود  تھی۔ کچھ ایسا جس کا انسانیت کی بھلائی کے حوالے سے باقاعدہ کوئی مقصد ہو اور وہ  قاری کی  محض جمالیاتی یا جنسی تسکین کے لئے "گھڑا” نہ گیا ہو۔ معاشرے میں ہونے والے ظلم و زیادتی پر آواز اٹھا کر اسے بے نقاب کیا جائے تاکہ تدارک کی کچھ راہیں بھی سجھائی دیں۔ تب میں نے افسانہ لکھنے کا سوچا کیونکہ افسانہ ہی اپنی مبادیات میں ایک ایسی دلچسپ ادبی صنف ہے جو مخصوص مشکلات اور حدود (ویسے تو ہر ادبی صنف میں موجود ہوتی ہیں ) کے باوجود زیادہ بہتر طریقے سے پیغام کی ترسیل کر سکتا ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ صنف کسی مخصوص مضمون ، تجرباتی، مشاہداتی بیانات یا واقعہ نگاری کی نسبت زیادہ شدت سے قاری کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے سو میں نے ایک افسانہ "مومی انگلیاں ” لکھا جسکا موجودہ نام "سنومین "ہے وہ ان خواتین کی زندگی کے تلخ حقائق کا نوحہ ہے جنہیں گرین کارڈ کے ساتھ بیاہ کر فخر کیا جاتا ہے مگر وہ بےچاری اپنی ذات کی نفی کر کے تمام عمر لایعنیت کے دائروں میں گھومتی رہ جاتی ہیں تاآنکہ انکی آنکھیں کھل جائیں۔ میں نے اب تک جتنے بھی افسانے یا تنقیدی مضامین لکھے وہ سب انڈیا اور پاکستان کے مؤقر ادبی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں اور ان میں سے کچھ دونوں ممالک کی بعض کتب میں بھی شامل ہیں ۔

سوال ۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ؟

جواب ۔۔ نہیں میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا اور شاید میں آپ سے اتفاق بھی کر  نہ پاؤں۔ میرا خیال ہے تخلیق کار ویسے بھی گہرا معنوی شعور رکھتے ہوئے ہر طرح کا اظہار کرنے کی تمام تر صلاحیت پر عبور رکھتے ہیں اور ایسی ویسی باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ مجھےلکھنے کے حوالے سے کبھی کوئی منفی تاثر نہیں ملا البتہ شروع میں کبھی کبھی سنئیرز یا دوستوں کی طرف سے بہت سخت تنقید بھی ہوئی جو ہمیشہ خوشدلی سے تسلیم کی۔۔۔ ہاں البتہ کبھی کبھی عورت ہونے کی وجہ سے کچھ مسائل کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔ ون اردو فورم کے بعد اردو پوائنٹ میری پہلی منزل تھی جہاں بے شمار افسانے شائع ہوئے اور لوگ بہت ہی اچھا رسپانس دیتے رہے ( وہاں  پر ہی  پہلی بار  گل نوخیز اختر  بھائی سے جان پہچان ہوئی تھی جنکی ایز سنئیر بہت عزت کرتی ہوں) ۔ وہاں موجود دوستوں کے  اصرار پر ہی میں نے فیس بک اکاونٹ بنایا تھا ( یہاں بھی پہلے کئی سال تک بطور مہمان ویزٹ کرنے کا اصول  قائم رکھے ہوئے تھی) ۔ ویسے  میرے اس صورت حال سے اتنا مایوس نہ ہونے کی شاید ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو  کہ میں جوں جوں مختلف ادبی تھیوریز ، سنجیدہ طرز فکر اور سماجی علوم کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ تنقید پڑھتی چلی گئی تو میری ڈکشن بھی اپنے بیانیہ و اظہار میں سنجیدہ فکر سے جڑنے لگی تب سے وہ اصناف ،جو میرے مقصد کے لئے غیر متعلق تھیں ان سے ناطہ خود بخود ٹوٹتا چلا گیا۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریریا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ؟

جواب ۔۔ پہچان "بن ” جانے کا تو ابھی تک کوئی گمان نہیں ہے کیونکہ میں خود کو ہمیشہ ادبی طالب علم اور مبتدی ہی سمجھتی ہوں۔ شعوری و غیر شعوری طور پر طبیعت و تخلیقی فکر ،سنجیدہ ادب کی طرف” زیادہ ” مائل نظر آتی تھی سو ایسے ہی کچھ افسانے لکھے جنہیں ادبی دنیا میں کافی سراہا  گیا ہے۔ان میں پہلا "ایک گاؤں کی کہانی ” تھا جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی، مذہبی جنونیت ومنافرت اور بلاسفیمی کے تناظر میں لکھا ۔ دوسرا ” پارکنگ لاٹ ” جو نفسیاتی اعتبار سے (Multi dimensional) تہذیبی ارتقاء اور ڈیاسپورا کے تصور  پر تشکیل دیا گیا۔ تیسرا "آخری کہانی” ہے جسکا بیانیہ اور مرکزی خیال صدیوں سے عورت پر روا جبر و ظلم کی حقیقت بیان کرتا ہے۔اسی کو سامنے رکھتے ہوئے اسکی ڈکشن برتی گئی ہے۔ بنیادی طور پہ تو میری پہچان افسانہ نگاری ہے لیکن تنقید میں گہری دلچسپی کے سبب کچھ مضامین بھی لکھے ، ان میں سے ایک میں منٹو کے افسانے ” بو ” کا مختلف معنوی جہتوں کے لحاظ سے متنی جائزہ لیا جسے انڈو پاک کے ادبی حلقوں میں جہاں کافی سراہا گیا وہیں ایسی ” تنقیص” کا نشانہ بھی بنایا گیا جس میں تعصب انگیز شدت کا عنصر زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ فرانز کافکا پر بھی ایک تعارفی مضمون لکھا تھا جو بہت پسند کیا گیا۔

سوال ..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ جی ہاں بے شمار ایسے سنئیرز اور دوست ہیں جن کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔ جن میں سب سے پہلے "ون اردو فورم” کے بانی شہزاد قیس صاحب ہیں جنکی حوصلہ افزائی کے بغیر شاید ہم لکھنے کا تصور بھی نہ کرتے ، انہوں نے ہمارے لئے خاص طور پر ادبی سوسائٹی بنائی تھی ، ون اردو فورم میں لبنی ،مونا ،رفعت ،دانیہ کائنات ،کوثر بیگ نے  بہت اصرار  سے  میری ہمت بندھائی اور لکھنے کا بہت حوصلہ دلایا ۔ انکے علاوہ بھی تمام ون اردو ممبران ہمیشہ ہمت افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔

یوں تو فیس بک کے کسی بھی دوست سے ابھی تک حقیقی زندگی میں ملنے کا اتفاق نہیں ہوا نہ کسی ادبی پروگرام وغیرہ میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے شاید اس لئے بھی کہ میں فطرتاً  تنہائی پسند ہوں، بھیڑ بھاڑ سے گھبراہٹ ہوتی ہے، گھرکے کسی کونے میں بیٹھ کے کتابیں پڑھنا زیادہ  اچھا لگتا ہے۔ میڈیا کی بدولت البتہ ادبی دنیا میں بہت  سے دوستوں سے قابل احترام دوستی ہو چکی ہے۔ بےشمار خواتین ہیں جن سے خلوص و عقیدت کا تعلق قائم ہے ۔ان سب کے نام لکھنا  تو ممکن نہیں ہو گا  مگرسب سے پرانی اور مخلص دوست جو مجھے یہاں ملیں ان میں نسیم سید ،کوثر جمال،صدف مرزا جیسی بہترین ہستیاں شامل ہیں جو ادبی دنیا میں میں ایک اعلی مقام اور پہچان رکھتی ہیں اور حق کا ساتھ دینے سے کبھی نہیں چوکتیں ،نہ کسی سے ڈرتی ہیں نہ جھکتی ہیں۔(ہم سب کا تعلق ایسا ہے کہ ایک دوسرے پر جتنی چاہیں تنقید بھی کر سکتے ہیں مگر اس سے ہماری دوستی پر کوئی حرف نہیں آتا۔ نسیم نے تو میرے منٹو والے مضمون کا جواب بھی لکھا ہے)۔  اسکے علاوہ سیدہ آیت اور مریم ثمر بہت پیاری دوست ہیں جن پر فخر کیا جا سکے اور قرائن بتاتے ہیں کہ مریم ثمر بہت جلد پاکستان کی ادبی اور مذہبی دنیا میں کوئی نہ کوئی انقلاب تو ضرور لا کر رہے گی ۔ان میں سے پہلی تین جب چاہیں مجھے ڈانٹ سکتی ہیں جس کا بدلہ میں مریم ثمرکو ڈپٹ کے لے لیتی ہوں البتہ وہ بےچاری اسکا انتقام پورے فیس بک سے لیتی نظر آتی ہے ۔

یہاں موجود جن حضرات نے اپنی تعریف و تنقید کے ساتھ  ہمیشہ  میری حوصلہ افزائی کی اور شروع سے اب تک میرے ساتھ ہیں ان میں عاکف محمود سر فہرست ہیں جنہوں نے نہ صرف کچھ بھی سمجھنے میں اکثر مدد کی بلکہ  تنقید اور تخلیق دونوں میں  حسب مقدور  تعریف/مین میخ ( جی بھر کے) نکالی۔  اس لسٹ میں شامل باقی دوست جنکی میں بہت شکر گزار ہوں  ان میں  پیغام آفاقی (مرحوم) ،گل نوخیز اختر ، نادر خاں سرگروہ ،اقبال حسن خاں، قمر سبز واری ، زبیر مظہر پنوار ، تحسین گیلانی ،نعیم بیگ, ارشد علی، شین زاد  اور یوسف بابا شامل ہیں ۔ اگر میری تخلیقات میں اردو کی کچھ بہتری اور انگریزی الفاظ کی کمی نظر آئے تو اسکا سہرا اقبال حسن خاں اور نادر خاں سرگروہ کے سر ہی بندھے گا۔ مجھے مختلف افسانوں پر سیر حاصل تبصرے کرتے دیکھ کر تنقید کی طرف  مائل کرنے کی پہلی عملی  کوشش عاکف محمود،  نعیم بیگ،نسترن اور فرخ ندیم نے کی اور مجھے باقاعدہ طور پر پہلی بار ( Literary theory ,criticism,Linguistics) سے روشناس کروانے والے فرخ ندیم صاحب ہی ہیں۔

باسط آزر کو استاد کہلوانے سے سخت چڑ ہے اس لئے انہیں استاد نہیں کہوں گی مگر سچ تو یہ ہے کہ ان کی علمی وسعت و بصارت  اکثر مجھے ششدر کر دیتی ہے اور یقین نہیں آتا کہ ایک اکیلے دماغ میں اتنا زیادہ علم بھی سما سکتا ہے ۔ میں نے تنقید میں بہت کچھ باسط آزر سے سمجھا ہے اور مسلسل سیکھ رہی ہوں (یہ اور بات کہ  کئی انتہائی اہم تنقیدی مباحث کا انجام ” قطع تعلقات” پر منتج ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے)۔ البتہ تخلیقی اطوار میں ہم جب بھی چاہیں، برابری کی سطح پر ایک دوسرے کے کام میں  مداخلت  کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔

سوال ۔۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے؟

جواب ۔۔ اچھا ادب قاری کی ذہنی استعداد اور پسند ناپسند کو سامنے رکھ کر  تخلیق نہیں کیا جاتا بلکہ قاری سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنی فکری قابلیت کو بالیدگی کے اس مقام تک لے جائے جہاں وہ خود ادب عالیہ کو سمجھ سکے۔ تخلیق میں تاکید ، تقلید ، اختراع ، تنوع اور مزید کچھ عوامل وقت کے ساتھ ساتھ تغیر پزیر حالتوں میں سامنے آتے رہتے ہیں ۔ اگر ان سب کو سمجھا نہ جائے اور انہیں تخلیق کا حصہ بنانے میں خاطر خواہ کامیابی نہ ہو تو موجودہ اور آئندہ تخلیقات اپنے وقت کی بجائے ماضی کی تخلیقات کا پرتو محسوس ہوتی ہیں جب کہ عصر ِ حاضر کے آئینے یا منشور بہت جدا اور نئے پیمانوں کے متقاضی ہوتے ہیں ۔

اس دور کے قاری کی مثال لیں تو ان میں بہت سے ابھی تک صرف قراۃ العین حیدر ، راجندر سنگھ بیدی ، سعادت حسن منٹو ، منشی پریم چند وغیرہ کو ہی زیادہ پڑھتے ہیں اور خود بھی ابھی تک بالکل ویسے ہی ایک صدی پرانے ادب کے متلاشی ہیں ۔ ان کو احساس ہی نہیں ہو رہا کہ زمانہ قیامت کی چال چلتا ایک صدی آگے نکل چکا ہے ۔ مسائل بدل چکے ہیں وسائل و ترجیحات نئے تقاضوں کے ساتھ موجود ہیں۔ انہیں اب فیض، ساحر، جالب، ٹیگور، ہومر ،افلاطون تھامس مور، نطشے، پی بی شیلے ،پشکن ، ٹالسٹائی ۔چیخوف، دوستو فسکی ۔میکسم گورکی ۔ جی بی مارکیز۔ بین اوکری، چنائے ایچ بی ، کیمیو برتھویٹ، ایلس واکر، جیسے انقلابی ادباء کی ضرورت ہے۔

سوال ۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ؟

جواب ۔۔ جب ادیب طبقہ فقط جمالیات سے ہٹ کر متن پر توجہ دے اور اس میں عوام کے مسائل ، نفسیات اور زمینی حقائق کو شامل کرنے لگے تو ادب زمین اور عوام سے خود بخود ربط بنا لیتا ہے ۔ یہی ادب لازوال اور امر ہوجاتا ہے ۔ ترقی پسند تحریک نے اسی شدید کمی کو پورا کیا تھا۔ جس میں ادب کا فائدہ ہی ہو سکتا ہے نقصان کا تو میری رائے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ویسے اس بارے میں اوپر بھی کسی جواب میں تفصیل سے لکھ چکی ہوں۔

سوال ۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔

جواب ۔۔ اس بحث میں پڑ کر ہم ادب میں جمود کے بعد اندھیرے میں بھٹکنے جیسی حالت میں مبتلا ہوتے نظر آتے ہیں ۔ ہمارا قاری اور تخلیق کارجدیدیت و مابعدالجدیدیت کی بحث سے ہٹ کر بہت کچھ نیا لکھنا اور بہتر پڑھنا اور سمجھنا چاہتا ہے ۔ اسی دائرے میں گھومتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ہم جو ستر ، اسی کی دہائیوں میں بہت آگے نکل آئے تھے اس کے بعد واپس بیسویں صدی کی پہلی دہائیوں کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم سب کو اس بحث سے نکل کر ان وجوہات  کو ڈھونڈنا اور دور کرنا چاہیئے جو اس تنزلی کا سبب بن رہی ہیں۔

سوال ۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ ادب کا قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ؟

جواب ۔۔ جی ہاں بالکل کیوں نہیں ورنہ مصنفین کی تعداد میں اتنا اضافہ کیوں ہوتا؟

میرا خیال ہے ادب کے قاری کی شرح بڑھ رہی ہے اور جہاں سب قلم کار بہتری کے عمل سے گزر رہے ہیں وہیں اس کارواں میں تیزی سے  تربیت یافتہ  قاری بھی شامل ہوتے جا رہے ہیں ۔ جس ذریعہ سے بھی ادب سامنے آئے گا یا پیش ہو گا وہ ایک عامل کہا جائے گا ۔ سو ایک عامل کی حیثیت سے اب تو فیس بک کا کردار بھی ادب میں بہت اہم ہو گیا ہےکیونکہ تمام لوگوں کی بہت آسانی سے اہم تخلیقات تک رسائی ہونے لگی ہے۔ انٹرنیٹ پر براہ ِ راست قاری اور قلمکار کی موجودگی ایک باالواسطہ تفاعل کا سبب بنتی ہے ۔ ساری دنیا میں موجود ادبی مسائل ، مباحث کئی جہتوں کو سامنے لاتے ہیں اور سب سے اہم بات خود قاری کا براہ ِ راست اس عمل میں شریک ہونا اسکی دلچسپی کا باعث ہے۔

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ہے۔۔

جواب ۔۔ کام تو اردو ادب میں بھی بہت اعلی پائے کا کیا گیا ہے مگر ہمارے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے اسکی اہمیت واضح کی جا سکے۔ ادباء کی معاشی صورت ِ حال اور گورنمنٹ کا ایک طرح سے قطعاً ادب کی طرف توجہ نہ دینا اور لائبریری کلچر کو فروغ نہ دینا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اسکے علاوہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ افسانہ لکھنا بہت آسان کام ہےمگر سچ تو یہ ہے کہ اوریجنل تخلیقی فن پارہ اور معیاری ادب لکھنا کسی طور جوئے شیر لانے سے کم نہیں ۔ لکھتے ہوئے جہاں تمام افسانوی مبادیات کا خیال رکھنا اہم تر ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ  افسانہ لکھنے کے لئے بہت زیادہ "ہوم ورک” کیا جائے کیونکہ اب وہ پرانا زمانہ تو رہا نہیں کہ اکا دکا پڑھنے والے مشکل سے کتاب حاصل کریں، آنکھیں بند کر کے لکھنے والے کی معلومات پہ ﺁﻣﻨﺎ ﺻﺪﻗﻨﺎ کہیں اور اس سے بھی زیادہ مشکل سے کبھی کبھار ہی اپنے خیالات کا اظہار کر پائیں۔ یاد رہے، سوشل میڈیا اور نت نئی ٹیکنالوجیز کی بھرمار نے(ناقد تو ایک طرف) قاری کو بہت زیرک نگاہ بنا دیا ہے اور بہت ممکن ہے اس کے پاس آپ سے کہیں زیادہ علم ہو ،جس کی بنا پہ وہ چند لمحوں کے اندر مختلف ادبی پیمانوں پر ناپ تول  کر  تخلیق کی ادبی قدروقیمت یا محاسن و معایب کا بیان جاری کر دے ۔ اسکے علاوہ  ایک اور بڑی کمی جو مجھے نظر آتی ہے کہ اردو ادب کے زیادہ تراجم وغیرہ بھی نہیں کیے گئے کہ باہر کی دنیا تک ان کی رسائی ہو پاتی۔

سوال ۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار  کس وجہ سے؟

جواب ۔۔ بے شمار ہیں ۔ معذرت چاہوں گی ، یہ میرے لئے ممکن  نہیں ہے کہ ان میں سے کسی دو کا چناؤ کر سکوں ۔

سوال ۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری میں خلاء پیدا ہو گیا ہے اس کی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار یا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب ۔۔ ان تمام سوالوں کا جواب کہیں نا کہیں اوپر دے چکی ہوں  اپنے جواب میں ۔ویسے یہ تمام وجوہات جو آپ نے لکھی ہیں کسی نہ کسی حوالے سے  فن افسانہ نگاری کو متاثر ضرور کرتی ہیں ۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔ میری نظر میں تنقید کا مطلب تنقیص ہرگز نہیں ہے جو محض ذاتی آراء پر استوار یا باہمی چپقلش کا شاخسانہ ہو۔ایک اور اہم بات ناقد کے لئے قطعی ضروری نہیں کہ وہ قطیعت سے خدائی احکامات صادر کرنے والا بہت خشک رویہ اور انتہائی مشکل، نہ سمجھ آنے والی جناتی اصطلاحات اپنائے اور بلاجواز و ضرورت ہمہ وقت فلسفیانہ  بقراطیت بگھارتا ہوا ،ذوق سلیم سےعاری کوئی شخص ہو بلکہ اسے  نرم خوئی مگر غیر جانبدار ی سے تخلیق اور تخلیق کار کا مددگار/تجزیہ نگار ہونا چاہیئے۔

  پرانے نقادوں پر پہلے ہی بہت کچھ لکھا جا چکا ہاں البتہ موجودہ دور کے نقادوں کے بارے میں کچھ سال بعد تفصیل سے لکھنا ممکن ہو سکے گا جب سب کی تخلیقات سامنے  آ چکی ہوں گی۔

سوال ۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ یوں تو مجھے بہت سے مغربی مصنفین پسند ہیں لیکن میں پہلے نمبر پر فرانز کافکا کو چنوں گی بلکہ پہلے ہی چنا ہوا ہے اسی لئے اسکے فن پاروں پہ  ایک مضمون بھی لکھ چکی ہوں ۔ اس کی تخلیقات کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ زیادہ تر وجودیت پر بیس کرتی ہیں یا انسانی زندگی کی لایعنیت پر لکھی گئی ہیں لیکن میں اسکو پورا سچ نہیں مانتی۔ اسکے باوجود کہ خود مجھے اس پرکبھی کبھی "اذیت پسند” ہونے کا شبہ بھی ہوتا ہے لیکن اگرغور کریں تو اس نے کچھ بھی اپنی طرف سے نہیں لکھا بلکہ اپنے وقت کےجبر اور حالات کی غیر جانبداری سے حقیقت نگاری ہی تو کی ہوئی ہے ۔

دوسرا ٹالسٹائی  پسندیدہ ہے۔ جسکا انسانیت ، محبت اور عدم تشدد کا نظریہ مجھے بہت پسند ہے۔

سوال ۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں نہیں؟

جواب ۔۔ ہاں ان سب کی گنجائش تو  ضرور ہے اور مختصر نویسی آجکل کی ضرورت بھی ہے لیکں فکشن کو چند الفاظ کی حدود میں قید کرنا مجھے ذرا عجیب لگتا ہے۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ؟

جواب ۔۔ صرف ایک پرسکون زندگی اور پرسکون گھر جس میں لکھنے پڑھنے کے لئے بہت سی فرصت میسر ہو اور مرنے سے پہلے  ایسا کچھ ضرور کر سکوں جس سے انسانیت کا بھلا ہو سکے۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی؟

جواب ۔۔ محبت ،زندگی کا سب سے خوبصورت  پہلو اور کامیابی کا سب سے اہم جزو ہے اور شاید لاکھوں میں سے کسی ایک کے حصے میں آتا ہے جو وحدت پر یقین اور خود کو فنا کرسکنے کا جذبہ رکھتا ہو ورنہ لوگ زندگی بھر سچی محبت  کو کھوجتے یہاں سے وہاں ( محض ہوس یا پھر بہتر سے بہترین کی تلاش میں) بھٹکتے ہوئے حقیقی خوشی سے محروم رہ جاتے ہیں ۔محبت صرف ان کو فیض یاب کرتی ہے جو کوانٹٹی نہیں ،کوالٹی کے متلاشی ہوں۔ محبوب کے ” کمفرٹ زون”  کو برقرار رکھنے کے لئے اپنی خواہشات کی قربانی  جب چہرے پر خوشی کے رنگ بکھیر دے ۔ خوش قسمتی سے میرا شمار ان معدودے چند میں ہے جنہوں نے اس خوبصورت احساس کو تمام تر سچائی ، خوبصورتی اور پوری شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے۔

سوال۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ؟

جواب ۔۔ دلچسپ واقعات تو  بے شمار ہیں۔ مثلا میں  تین چار سال کی عمر میں اپنے گھر کی تفصیلی رپورٹ  مع ایکشن  ہمسایوں کے استفسار پر انکے گوش گزار کرتی تھی۔ ایک دن میرے گھر والوں نے یہ  صداکاری مع اداکاری  نا صرف اپنے کانوں سے سن لی بلکہ  آنکھوں سے دیکھ  بھی لی۔  گھر وآپس لے جا کر میری خوب ” پزیرائی "کی  گئی اور کئی دن تک What Not To Do کے اسراورموز سے آگاہی کروائی گئی۔ اب جو دوبارہ ان سے  ملاقات ہوئی اور آپی نے پیار سے گود میں اٹھا کر کہا "دوسرا کلمہ سناؤ” تو میں نے جھٹ سے ان کو ڈانٹ دیا ” آپ  کیوں پوچھ رہی ہیں ؟ میں کسی کو اپنے گھر کی باتیں نہیں بتاتی "۔

دوسرا واقعہ تقریباً اسی عمر میں امی جان مجھے بہلا پھسلا کر ایک میلاد میں یہ کہ  کر لے گئیں کہ وہاں ایک معلمہ اتنا اچھا بولتی ہیں کہ انکے منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ میں بڑے صبر سے  پہلو بدل بدل کر انکا وعظ اسی امید پر سنتی رہی کہ دیکھیں کب پھول جھڑیں ، اسی خوف سے آنکھیں بھی نہ جھپکتی تھی مبادا وہ طلسماتی نظارہ دیکھنے سے محروم رہ جاؤں ۔ جب دو گھنٹے تک ایک کلی بھی نہ ٹپکی اور میرے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہیں پیر پسارے صدائے احتجاج” باآواز” بلند کی اور جھوٹ بولنے کی پاداش میں اسی وقت  انہیں جہنم واصل ہونے کا مژدہ مع  ان  تمام سزاؤں کے  سنایا جن سے وہ خود مجھے ڈرایا کرتی تھیں۔ اس کے بعد کا حال سنانے کی ضرورت تو نہیں لگتی۔

سوال ۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔

جواب ۔۔ (1) اوجھل توشاید  نہیں مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ   آٹھ، دس سال پہلے میں  انٹرنیٹ پر لڑکیوں کو کھانا پکانا اور کپڑوں کی سلائی کرنا سکھایا کرتی تھی۔

(2)کافی سال پہلے کچھ افسانے پاکیزہ  میں بھی لکھے تھے  جنکا کبھی ذکر نہیں کیا، ان میں ایک ناویلا  بھی تھا "لو میرج کی گرہیں” جو اس وقت کافی مقبول ہوا تھا۔

(3) مزاح بھی لکھتی ہوں اور  کبھی کبھار شاعری  پہ ہاتھ صاف کرنے کی کوشش بھی ۔۔۔۔۔

(4)   اسپیڈ اسکیٹنگ( Speed skating)  اورموٹرسائکلنگ (Motorcycling)   جانتی/کرتی رہی ہوں ۔

سوال ۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ؟

جواب ۔۔ میرا پیغام ہے محبت اور عدم تشدد کا نظریہ ۔ اس سلسلے میں مکمل طور پر ٹالسٹائی کی معتقد ہوں۔ پلیز صرف انسانیت کی قدر کیجیئے کہ وہی  اہم تر ہے ۔ مذہب ،ذات پات،طبقات کو اپنا ذاتی نظریہ جان کر جتنی شدت سے چاہیں "جئیں”  مگر کسی دوسرے انسان کی جان کی قیمت پرنہیں۔

سوال۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب ۔۔ امجد جاوید صاحب اور خود آپ یعنی زبیر پنوارصاحب انتہائی محنتی ،بہت مخلص دوست اور اپنے کام میں مگن رہنے والے بہت شفیق انسان ہیں ۔ یہ آپکا اخلاص ہی ہے جو وقت نہ ہونے کے باوجود ادبی تخلیقات اور دیگر ادبی کام پبلشنگ کے لئے آپکے دیے گئے ٹائم فریم کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔ آپ دونوں کی ادبی ترقی  کے لئے ڈھیروں دعائیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شاہین کاظمی … محمد زبیرمظہرپنوار

ہمان ۔۔ شاہین کاظمی ” سویٹزر لینڈ میزبان ۔ محمد زبیرمظہرپنوار سوال ۔۔ آپکا اصل …

8 تبصرے

  1. عمدہ انٹرویو ۔ زبیر کسی اخبار کے صفحے کے لیے بھی انٹرویو کیجیے ۔

  2. ما شاءاللہ
    ساحرہ سے پہلی جان پہچان و ن اردو پر ہوئی ۔ تھوڑی مس انڈرسٹینڈنگ سے شروع ہوئی اور اچھی دوستی پر جا پہنچی۔
    زندگی سے بھرپور۔ سلجھی گفتگو کرنے والی اور ایک دردمند دل رکھنے والی دوست ہیں۔
    اللہ پاک ساحرہ کو بہت عروج عطا فرمائیں آمین

  3. بہت سی باتیں پہلے علم میں تھیں ۔ بہت سی اب معلوم ہوئی ۔ نور آپی بلاشبہ بہترین لکھنے والی اور پڑھنے والی ہیں ۔۔

  4. بہت سی باتیں پہلے علم میں تھیں بہت سی اب پتا چلی ۔ بلاشبہ نور آپی بہترین لکھنے والی اور پڑھنے والی ہی ۔ خدا ترقی دے ۔آمین

  5. السلام علیکم. ساحرہ آپی سے میری واقفیت 2009 سے ہے. ہم دونوں نے شروعات میں بہت مباحثے کیے اور ان کی سیکھنے اور آگے بڑھنے کی لگن تب سے واضح تھی. مجھے خاص طور پر یاد ہے کہ ایک مرتبہ فیمیل رائٹرز اور میل ناول رائٹرز کا تقابلی جائزہ ہو رہا تھا جس دوران ان کا پہلا افسانہ اردو پوائنٹ پر شائع ہوا. تب سے لے کر آج تک انہوں نے ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی تحریر میں نکھار پیدا کیا. زندگی کے اتار چڑھاؤ اپنی جگہ ریے لیکن انہوں نے بہت حوصلے کے ساتھ تنقید بھی برداشت کی سیکھا بھی اور جہاں خود کو درست سمجھا ویاں اسٹینڈ بھی لیا. یہی میرے نزدیک ایک اچھے لکھاری کی پہچان ہے کہ وہ اپنے خیالات میں واضح اپروچ رکھتا ہو جو کہ ساحرہ آپی نے دکھائی اور اپنے ادبی ارتقا میں اپنی تحاریر میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ اپنا منفرد رنگ بھی برقرار رکھا. جس کے لیے ساحرہ آپی خصوصی داد کی مستحق ہیں. اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ انہیں مزید ڈھیروں کامیابیوں اور رفعتوں سے نوازے. آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے