سر ورق / ثقافت / غرارہ اور شرارہ۔۔۔۔۔۔ایک راویتی لباس ۔۔۔ زنیرہ ماہم

غرارہ اور شرارہ۔۔۔۔۔۔ایک راویتی لباس ۔۔۔ زنیرہ ماہم

 

 

غرارہ اور شرارہ۔۔۔۔۔۔ایک راویتی لباس

زنیرہ ماہم
پہلے یہ شادیوں وغیرہ پر ہی پہنا جاتا تھا جیسے دلہن کے لباس کا حصہ ہوتا یا مہندی کی تقریب میں زیادہ پہنا جاتا تھا لیکن اب فارمل اور کیجول دونوں طرح سے استعمال کا فیشن بڑھ گیا ہے
اب لان اور کاٹن کے غرارے بھی ان ہیں جو بازار میں بھی پہنے خواتین اور لڑکیاں نظر آتی ہیں
غرارے کے دو پائنچے ہوتے ہیں اوپر سے شلوار کی طرح لیکن نیچے جھالر لگی ہوتی ہے
پہلے جامعہ وار کمخواب یا ٹشو کے پہنے جاتے تھے لیکن اب ہر طرح کے
اور بہت پہلے نانیاں دادیاں پہنتی تھیں وہ بھی ہر طرح کے سوتی بھی اور چمکیلے بھی لیکن پھر یہ فیشن صرف دلہنوں اور شادیوں کے ملبوسات تک محدود ہوگیا تھا جبکہ اب وہ نانیوں دادیوں والا فیشن پھر سے لوٹ آیا ہے
غرارہ اصل میں پاکستانی لباس نہیں ہے بلکہ پاکستان بننے سے پہلے مسلم خواتین کا مخصوص پہناوا تها اورا ان کی پہچان مانا جاتا تها خاص طور پر لکهنو شہر میں رہنے والے نواب خاندان کی خواتین کا لباس تها یا جو مشہور مسلم خواتین کو نمایاں کرنے کے لئے پہنا جاتا تها.پاکستان بننے کے بعد بهی جو خواتین انڈیا سے ہجرت کرکے آئیں تهیں ان کا لباس کافی عرصے تک غرارہ رہا تها، محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کا پہناوا بهی غرارہ ہی رہا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ختم ہوگیا البتہ 60 70ء میں فیشن کے طور پر مشہور پہناوا رہا تها جو کہ شادی بیاہوں کی تقریبات میں پہنا جاتا تها اور آج کل پهر غرارے کا فیشن ان ہے
غرارے کے اوپر والے حصے کو گهٹنے کے قریب 12 گز چوڑے کپڑے کے ساتھ چننٹے ڈال کر جوڑا ہوتا ہے اور اوپر گوٹا لگادیا جاتا ہے صحیح غرارہ ایسا ہوتا ہے.
اور آج کل جو غرارے فیشن میں ان ہے وہ اصل غرارے سے بہت ہی مختلف ہے جوکہ اصل شکل کو بگاڑ کر مختلف طریقے سے بنائے گئے ہیں

سال2017میں جتنی بھی لان کولیکشن آئی سب ماڈلز کو غرارے پہنے دیکھا گیا حالانکہ پہلے یہ تاثر عام تھا کہ غرارہ صرف ریشمی کپڑوں کے ساتھ ہی بن سکتا ہے لیکن اس دفعہ یہ سب بھی غلط ثابت ہوا۔

لہنگا‘غرارہ اور شرارہ کے علاوہ ساڑی ایسے پہناوے ہیں جو شادی کی تقریب کے ساتھ عید پر بھی زیب تن کیئے جاسکتے ہیں۔ ان تینوں کے ساتھ چولی یا بلاوز یا کرتی پہنی جاسکتی ہے۔ بلاوز یا چولی پر کڑھائی یا زری کا کام ہو تو پھر کیا کہنے۔اگرچیکہ یہ تین لباس قدیم تہذیب کے آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ فی زمانہ انہیں بے حد شوق سے پہنا جاتا ہے۔ لہنگا‘شرارہ یا غرارہ میں چھوٹی موٹی تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہمارا پرچم، عظیم پرچم۔۔۔ زنیرہ ماہم

ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم یہ پرچموں میں عظیم پرچم عطائے رب کریم پرچم، ہمارا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے