سر ورق / افسانہ / یہ کیسا صلہ؟۔۔۔ نشاط پروین               

یہ کیسا صلہ؟۔۔۔ نشاط پروین               

یہ کیسا صلہ؟

نشاط پروین

                سنا تھا کہ کر بھلا ہو بھلا لیکن یہ کہاوت ایک دم اُلٹی پڑتی دکھائی دی۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹا پڑ گیا۔ بہت پرانی بات ہے کسی گاو ¿ں میں ایک مشہور حکیم صاحب رہا کرتے تھے۔ان کا نام تو کچھ اور تھا لیکن بڑے حکیم صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ لوگوں نے انہیں گاو ¿ں کا مکھیا بھی چنا تھا لیکن انہوں نے مکھیا کی کرسی کسی اور کو سونپ دی ۔لیکن سارا کام وہ خود ہی کیا کرتے تھے۔گاو ¿ں کے سارے مسائل کا حل وہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ڈھونڈ لیا کرتے تھے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کا معاملہ ہو یا گاو ¿ں میں بجلی لانے کا، وہ ہر کام میں یش پیش رہا کرتے۔وہ بہت اونچے اور اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔انہیں ان کے والد صاحب نے حکمت کی تعلیم کے لیے لکھنو ¿ بھیجا تھا۔ وہ چاہتے تو وہیں بس جاتے لیکن انہیں اپنا گاو ¿ں پیارا تھا اور وہ یہاں کے لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے اپنی پڑھائی پوری کر نے کے بعد یہیں اپنا مطب کھول لیا۔اللہ نے ان کے ہاتھوں میں شفا دی تھی۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس علاقے میں مشہور ہو گئے اور دور دور سے لوگ ان کے پاس بغرض علاج آ نے لگے۔ان کا دل کشادہ تھا۔ غریبوں سے وہ پیسے نہیں لیتے تھے بلکہ اگر کوئی مریض ضرورت مند ہوتا تو اپنی جیب سے اس کی مدد بھی کر دیا کرتے تھے۔ اپنی لگن،محنت، ایمانداری اور خوش خلقی کی وجہ سے وہ پورے جوار کے چہیتے بن گئے تھے۔ان کے مطب پر مریضوں کی بھیڑ لگی رہتی۔ہر شخص ان پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کر لیا کرتا تھا۔ ایک دفعہ انہوں نے کسی بچی کے لیے کوئی دوا ئی لکھ کر دی اور اس کی ماں سے کہا کہ اسے رات کو پانی کے ساتھ گھول کر پلا دینا۔وہ گاو ¿ں کی سیدھی سادی عورت۔ اس کی سمجھ میںمیں کچھ آیا کچھ نہیں آیا ۔ اس نے نسخے کو ہی پانی میں گھول کر پلا دیا ۔دوسرے روز وہ عورت ان کے پاس خوش خوش آئی اور کہنے لگی کہ اب میری بچی بالکل ٹھیک ہے۔انہوں نے پوچھا کہ دوا کتنی بار دیا تھا؟ وہ کہنے لگی کہ میں نے تو کاغذ ہی کو گھول کر پلا دیا۔

                گاو ¿ں میں طرح طرح کے قصے ہوتے رہتے ہیں۔ ایک دفعہ ہلّا ہوا کہ ارے وہ جو جمّن کی بیوی ہے نا، وہ ماں بننے والی ہے ۔اب کیا تھا، سارے گاو ¿ں والوں کے کان کھڑے ہو گئے۔لوگ چہ مگوئیاں کرنے لگے کہ اس کا شوہر تو باہر کام کرنے گیا ہوا ہے اور وہ سال میں صرف ایک بار یعنی عید کے موقع پر ہی گھر آتا ہے۔تو پھر یہ عید گذرنے کے آٹھ مہینے کے بعد وہ کیسے پیٹ سے ہو گئی۔ پورے گاو ¿ں میں چرچا ہو نے لگی۔لوگوں نے پتہ لگانا شروع کیا کہ آخر ماجرا کیا ہے۔گاو ¿ں کے لوگ بھی کمال کے ہوتے ہیں۔ بال کی کھال نکال لیتے ہیں اور سات پردوں میں چھپے ہوئے راز کو طشت از بام کر دیتے ہیں۔بہت جلد لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ یہ تو اچھن بابو کی دین ہے جن کے یہاں وہ کام کیا کرتی تھی۔۔اب کیا ہونا تھا، لوگ دوڑے حکیم صاحب کے پاس اور لگے ان کے ہاتھ پاو ¿ں جوڑنے کہ اب گاو ¿ں کی عزت آپ ہی ہاتھ ہے۔آپ کچھ ایسا کیجئے ، کوئی ایسی دوا دیجئے کہ یہ ناجائز بچہ اس دنیا میں نہ آنے پائے۔ حکیم صاحب شریف اور نیک بندے تھے ۔ ان کے دل میں اللہ کا خوف تھا ۔ان کے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ کسی پیدا ہونے والے بچے کودنیا میں آنے سے روک دیا جائے۔ وہ اس گناہ کے خیال سے ہی کانپ گئے اور انہوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ کہنے لگے:

                ” میں یہ گناہ نہیں کر سکتا۔ بچے تو فرشتے ہوتے ہیں۔ کیا پتہ یہ بچہ پیدا ہونے کے بعد نیک اعمال کرے جس سے دنیا اور دنیا والوں کا بھلا ہو۔ کہتے ہیں کہ جو جیسا خود ہوتا ہے ویسا ہی دوسروں کو بھی سمجھتا ہے۔حکیم صاحب چونکہ خود نیک اور شریف تھے اس لیے سبھوں کو ایسا ہی سمجھتے تھے۔بہر حال ! اس عورت نے ایک بچے کو جنم دیا اور ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔اس کو دو بیٹیاں پہلے ہی سے تھیں۔ہر شخص کو معلوم تھا کہ یہ لڑکا نا جائز ہے۔ لوگ اس کا مذاق اڑاتے ۔ اس کی ماں لوگوں پر بگڑتی تو وہ زور زور سے ہنستے۔ پہلے تو اسے یہ سارا ماجرا سمجھ میں نہیںآتا تھا لیکن جب وہ کچھ بڑا ہوا تو اسے بھی اپنی اصلیت کا پتہ چل گیا مگر بجائے اپنے وجود پر شرمندہ ہونے کے وہ اسے اپنے لیے فخر کی بات سمجھتا تھا اور ویسی ہی حرکتیں کرتا تھا جو اس کی ذات پر صادق آتی تھیں۔ پڑھنے لکھنے سے تو اسے کوئی رغبت نہ تھی اور نہ ہی اس نے کوئی کام دھندا سیکھا تھا۔ بس دن بھر آوارہ گردی کرنا اور گاو ¿ں کی بھولی بھالی معصوم لڑکیوں کو خراب کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ایک روز وہ کسی لڑکی کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو گاو ¿ں والوں نے اس کی جم کر دھلائی کر دی۔ وہ بھاگ کر کلکتہ چلا گیا۔وہاں پتہ نہیں اس نے کیا کیا گل کھلائے۔ پھر ایک سال بعد وہ ایک لڑکی کو لیے گاو ¿ں واپس آ گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک بے سہارا لڑکی تھی جو اس کے جال میں پھنس گئی تھی۔ اور وہ اسے بہلا پھسلا کر بغیر نکاح کیے اپنے ساتھ گاو ¿ں لے آیا تھا۔ وہ یہاں کی زبان سے ناواقف تھی اور جب کوئی اس سے کچھ پوچھتا تو وہ حیران حیران نظروں سے اس کی طرف تکتی رہتی۔ گاو ¿ں والوں کو ایک نیا مشغلہ ہاتھ آ گیا تھا ۔ پھر جب وہ یہاں کی بولی کچھ کچھ سیکھ گئی تب اس نے بتایا کہ وہ ایک غریب اور لاچار لڑکی ہے۔ اسے صمّن نے طرح طرح کے سبز باغ دکھائے تھے۔کہا تھا کہ اس کا گاو ¿ں میں ایک بڑا مکان ہے۔ کافی کھیتی باڑی ہے لیکن یہاں تو غریبی اور بھک مری ہے۔ اب وہ کہیں جا بھی نہیں سکتی۔لوگوں کو اس سے ہمدردی ہو نے لگی اور اسے گھروں میں کام ملنے لگا۔ صمّن کچھ کرتا دھرتا تو تھا نہیں لیکن ہر سال بچے پر بچے پیدا ہو رہے تھے۔بڑے حکیم صاحب کا انتقال ہو چکا تھا اور اب ان کے صاحبزادے حکیم سرور نے اپنے والد کی گدی سنبھال لی تھی۔اسے سب سے زیادہ تقویت حکیم صاحب کے گھر سے ملتی تھی۔ اس کی بیٹیاں بھی حکیم صاحب کے آنگن میں کھیل کود کر بڑی ہونے لگیں۔صمّن کو اب ان لوگوں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس کا زیادہتر وقت تاڑی خانے میں گذرتا۔خرچ کے پیسے وہ اپنی عورت سے مانگتا۔ وہ کہاں سے لاتی۔ بچیاں سیانی ہونے لگی تھیں اور انہیں اب عقل آنے لگی تھی۔نو جوان لڑکوں سے پیسے اینٹھنے کا گُر انہیں آ گیا تھا۔ماں باپ دونوں ان کی حرکتوں سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کیا کرتے تھے۔ والدین کی شہہ پاکر انہوں نے کھل کر کھیلنا شروع کیا اور گاو ¿ں کے لڑکے ان کے جال میں پھنستے گئے۔لیکن یہ سب درمیانی درجے کے لوگ تھے۔ صمن کی بڑی بیٹی بڑی چالاک اور عیار تھی۔ اسے کسی موٹے مرغے کی تلاش تھی تاکہ زندگی بھر کا سہارا ہو جائے۔حکیم صاحب کا پوتا اختر شہر میں پڑھتا تھا۔ اس بار جب وہ گرمیاں کی چھٹی میں گھر آیا تو بڑکی نے اس پر اپنا جال بچھانا شروع کیا۔ وہ دن دن بھر حکیم صاحب کے گھر پر رہتی۔ اختر سے ہنس ہنس کر باتیں کرتی۔ ان کے لیے پانی بھرتی، ان کے کپڑے دھوتی ، انہیں کھانا کھلاتی اور جب وہ چھت پر اپنے کمرے میں آرام کرنے جاتے تو ان کے پاو ¿ں دباتی۔بندہ بشر ہے ۔اختر میاں آخر کب تک اس کے شر سے بچتے۔ خیر وہ تو چھٹیاں منا کر شہر واپس ہوئے اور ادھر صمن بھی اپنی بیٹی کو لے کر وہاں پہنچ گیا۔ اچانک ایک روز پورے گاو ¿ں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ اختر نے پٹنہ میں بڑکی سے نکاح کر لیا ہے اور ایک کرائے کا مکان لے کر اس کے ساتھ رہنے لگا ہے۔ کسی کو بھی اس خبر پر یقین نہیں آیا۔ اختر سے فون پر بات کی گئی تو وہ صاف مکر گیا اور کہنے لگا کہ یہ خبر بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ جب لوگوں نے صمن اور اس کی رکھیل سے اس بابت دریافت کیا تو ان لوگوں نے بھی اس سے انکار کیا لیکن یہ نہ بتا سکے کہ آخر بڑکی گئی کہاں۔ لیکن بغیر آگ کے تو دھواں ہوتا نہیں ہے۔ ضرور دال میں کچھ کالا تھا۔آخر جب حکیم صاحب کے منشی نے شہر جاکر جب خود اپنی آنکھوں سے دونوں کو یکجا دیکھ لیا اور واپس آ کر پوری صورت حال بتائی تو سارے لوگ ہکا بکا رہ گئے۔ پھر اسے منانے اور سمجھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن ا ختر بڑکی کے عشق میں پاگل ہو چکا تھا۔ وہ اسے چھوڑنے پر کسی طرح بھی راضی نہ ہوا۔ اب اس کی نظر میں ماں باپ بھائی بہن سب برے ہو چکے تھے۔اس کے والد صاحب تو پہلے ہی دل کے مریض تھے۔اب والدہ کو بھی دل کا عارضہ ہو گیا۔ بھائی بہن اس کے لیے الگ پریشان تھے مگر وہ اپنی دنیا میں مگن تھا۔اختر کے گھر والے سوچتے کہ کاش بڑے حکیم صاحب نے ایک گناہ کر دیا ہوتا اور صمن کو اس دنیا میں آنے سے روک دیا ہوتا۔یہ کیسی بھلائی تھی جس کا بدلہ برائی سے ملا ہے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ولن۔۔ علی زیرک

اوئے۔۔۔۔ روہی میں آسمان کے کنگرے توڑتے  گنے کے  کھیت ہیں اورمیرے میں بھربھری مٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے