سر ورق / جہان اردو ادب / باسط آزر ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

باسط آزر ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

( جہان اردو ادب ) علمی و ادبی مکالماتی سلسلہ میں آج جو میرے مہمان ہیں ۔ بنیادی طور پر وہ ایک نظریاتی مارکسسٹ ادیب نقاد شاعر مبصر اور فکشن نگار ہیں ۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں میرے بہت قریبی اور بیحد پیارے دوست باسط آزر  صاحب کی ۔ آپ کا تعلق پنجاب پاکستان کے ایک قدیم ورثہ اور  تہذیب و کلچر کی شناخت رکھنے والے شہر چنیوٹ سے ہے ۔۔ باسط کے متعلق بتاتا چلوں کہ انتہائی بیبا شخص ہے ۔ ملنسار اور محبت کرنے والا انسان ہے جسکی سوچ فلاح انسانیت اور انسانیت سے وابستہ معاشرے میں فکری شعوری تعمیراتی گروتھ کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہے ۔ باسط آزر صاحب سے میری ملاقات 2015 مائیکرو فکشن کانفرنس بوریوالا میں ہوئی تھی ۔ جسکا انتظام و اہتمام اردو ادب میں مائیکرو فکشن کے اصل محرک سید تحسین گیلانی اور انہماک فورم کی انتظامیہ نے کیا تھا ۔ وہیں پہ ہی باسط آزر کا پہلا لائیو لیکچر میں نے سنا تھا جو کہ حیرت انگیز حد تک میرے لیے متاثر کن ثابت ہوا ۔ اور پھر بعد میں مجھ نالائق کو بھی باسط سمیت دوسرے شرکاء نے سنا ۔۔ خیر قبل ملاقات سے ہم سوشل میڈیا کے تھرو  ایک دوسرے کو اچھی طرح جان پہچان چکے تھے ۔ ایمانداری سے کہوں تو باسط آزر اپنی عمر کے لحاظ سے قابلیت میں بہت آگے ہے ۔ اس میں موجود علمی و ادبی اور تنقیدی قابلیت کی پوٹینشن بہت زیادہ ہے۔  مانو کہ یہ انسان ہے جن بھوت یا پھر یقینا جینیئس ہے۔ ۔ خدا جانے کہ ایسا دماغ لایا کہاں سے ہے ۔ جس موضوع پہ بات کرو اس میں قابل دوست پہلے سے ہی عالم فاضل نکلتے ہیں ۔ باسط آزر اپنے تنقیدی مضامین اور تھیوریز کے لیے ادبی اور تنقیدی حلقوں میں شہرت رکھتے ہیں ۔۔ جتنا باسط کو میں جانتا ہوں اس بناء پہ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس ہیرے کو اگر حکومت سپورٹ کرے تو یقینا تنقید میں باسط آزر پاکستان کو عالمی سطح پہ اعزاز دلوانے میں کامیاب رہے گا ۔ مطالعہ اور ادب اسکا جنون ہے ۔ سب سے اہم بات کہ باسط کسی بھی چیز کو لائیٹلی نہیں لیتے ۔ کل ملا کر باسط آزر اپنی نجی اور پرفیشنل لائف کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں تبھی کامیابی اور شہرت سائے کی طرح انکا پیچھا کرتی ہے ۔ آئیے اب زرا باسط آزر صاحب کے ساتھ علمی و ادبی اور کچھ نجی سوالات کی روشنی میں گفتگو ہو جائے ۔۔

محمد زبیرمظہرپنوار

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام)

مہمان ۔ باسط آزر ( چنیوٹ ” پاکستان )

میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار ( حاصلپور ” پاکستان )

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام )

 سوال..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

 باسط آزر ۔

باسط آزر قلمی نام ۔ اصل نام یہی سمجھ لیں

سوال ..تعلیمی اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

باسط آزر ۔۔

تعلیم ایم اے سوشیالوجی ۔ ایم ۔ اے انگلش

خاندانی پس منظر کوئی خاص نہیں ۔ بس یہ بات اہم ہے کہ نانا شمس الدین انڈیا سے پاکستان آرمی کا ریکارڈ پاکستان لانے والے چند اعتماد کے قابل افسران میں سے تھے اور رسمی طور پر مصطفٰی زیدی کے دوست تھے

سوال.. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا اور لکھنا چاہتا ہے ۔

باسط آزر ۔۔

ادب سے بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ خدا واسطے کا لگاؤ تھا جب کہ نہ گھر اور نہ ارد گرد کا ماحول اس کے موافق یا حوصلہ افزا تھا کبھی اور نہ ہی میری عادات جو قطعاً غیر شاعرانہ و ادیبانہ تھیں اور شاید ابھی تک ایسا ہی ہے ۔

بے وزن شاعری تو بچپن سے کرتا رہا ہوں جو لڑکپن کے بعد تک بے وزن سے وزن تک کا سفر نہ کر سکی ۔ اس لیے باقاعدہ شاعری کا عرصہ ٢٠١١ـ ١٢ کا کہا جا سکتا ہے ۔

٢٠٠٨ سے ٢٠١٠ کے درمیان کچھ نثر میں رومینٹسزم جیسا لکھا تھا جو تمام ایک فرد کے ہاتھ لگے اور آج تک واپس میرے ہاتھ نہ لگے ۔

حلقہ ارباب ذوق سے تعلق رکھنے والے عادل عمرانی صاحب کے نزدیک ان کا معیار اعلٰی تھا مگر اب ان کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا کہ ان کی رائے فقط حوصلہ افزائی تھی یا واقعی وہ نثر اور فن پارے اسی معیار کے تھے ۔

اس کے بعد نثر سے تعلق منقطع کر دیا اور دو برس قبل باقاعدہ نثر لکھنا شروع کی ۔۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

باسط آزر ۔۔

پہلی کہانی انٹرنیٹ ویب پہ شاید پنجند میں  صفحاتی اشاعت ادبی مجلہ سہ ماہی ناؤ میں ہوئی ۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

باسط آزر ۔۔

بحثیت مثبت فرد کے تو ہمیشہ سے ہی شہرت رہی گو ہر مقام پر بغاوت کی اور روایات کو توڑا مگر مجھے ویسی شدید مخالفت کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا. یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس مخالفت کی شدت میری برداشت سے بہت کم تھی ۔ مذاق مذاق میں دوست اور گھروالے اس حوالے سے چھیڑ چھاڑ کر لیتے ہیں مگر سنجیدگی سے کسی نے منفی ردعمل کبھی ظاہر نہیں کیا سبھی خوش ہوتے ہیں ۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

ابتدا میں دو نظمیں ۔” نذر آزر اور انحراف ” تھیں اور افسانوں میں "باندر اور تنہائی ” جنہیں کافی زیادہ سراہا گیا ۔ خوب پزیرائی اور داد ملی ۔۔

سوال ..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو؟ ۔

باسط آزر ۔۔

رہنمائی کے معاملے میں شاعری اور نثر دونوں میں محروم کہا جا سکتا ہے ۔عثمان مجھ میں ایک اچھے شاعر کو دیکھتا تھا جو میرے شاعر ہونے سے پہلے کی بات ہے ۔ ناز خیالوی چاہتے تھے کہ میں سنجیدگی سے اس ٹیلنٹ کو سامنےلاؤں جو ایک شاعر کی حیثیت سے مجھ میں موجود ہے ۔ مگر نثر میں نور العین ساحرہ سے اگر کبھی وقت میسر ہو تو مشورہ کرلیتا ہوں ۔

سوال ۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

باسط آزر ۔۔

ادب کی معاشرے میں ہمیشہ گنجائش رہتی ہے اور اہمیت بھی ۔ میں اس بات کا جواب یوں دینا پسند کروں گا کہ کسی بھی معاشرے کی زبان ادب ہی کی وجہ سے اپنی شناخت بناتی ہے ۔ معاشرت یا ثقافت ہے تو زبان بھی ہے اور زبان ہے تو ادب لازم ہے ۔ یوں بات گنجائش کے بجائے لازمیت کے زمرہ میں آ جاتی ہے۔

آج کا قاری ادیب سے وہی چاہتا ہے جو ہر زمانے کا قاری چاہتا ہے یعنی فرصت میں بہترین تخلیق ، معاشرے کے کرداروں کی ان دیکھی سطح کو جاننا اور اپنے مسائل کے ساتھ تجسس و تفکر کو مہمیز کرنا ۔ یوں ہر طرح کے ادب کی گنجائش نکل آتی ہے اور ہر طرح کے ادب کا قاری ادبا کے مختلف طبقوں کی طرح قاری کے طبقات کی صورت موجود رہتا ہے ۔ یوں ہر ادب اپنے مخصوص قاری تک کبھی نہ کبھی پہنچ جاتا ہے ۔

سوال ۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

باسط آزر ۔

ترقی پسند ادبا کی فہرست اور ان کا کام ہی بتانے کو کافی ہے کہ اردو ادب نے کچھ دہائیوں قبل جو عروج دیکھا تھا وہ بہت حد تک ترقی پسند ادبا اور شعرا کے مرہون منت ہی تھا ۔

سوال ۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔

باسط آزر ۔

جدیدیت خود انیسویں صدی کی پہلی پانچ دہائیوں میں ہی کھڑی ہوئی تھی ۔ عالمی حوالہ سے دیکھا جائے تو انتظار حسین اور کچھ دوسرے ادبا کو نکال کر نثر انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہی کہیں موجود ہے ۔ جبکہ شاعری نے بہت آگے قدم بڑھائے جیسا کہ فیض احمد فیض ، مجید امجد ، ن ، م راشد ، میرا جی ، مصطفٰی زیدی وغیرہ

سوال ۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

باسط آزر ۔۔

میری ذاتی رائے میں کوئی بھی قاری ادب کا مطالعہ لازمی طور پر دو مقاصد یا ان دو میں سے کسی ایک مقصد کے لیے کرتا ہے

اول ۔ کچھ نیا محسوس کرنے کے لیے جس میں فکری ، جمالیاتی یا لسانی تجربہ شامل کیا جا سکتا ہے

دوم ۔ کچھ نیا جاننے کے لیے ۔ جس میں مسائل ، نفسیاتی و معاشرتی الجھنیں یا اشکال یا نیا کوئی زاویہ نظر ۔

اگر اسے وہی کچھ پڑھنا پڑے جو وہ پہلے سے ہی جانتا ہے اور محسوس کرتا رہتا ہےتو اس کی دلچسپی کم اور پھر ختم بھی ہو سکتی ہے ۔ یوں آج کا ادب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں قاری کی دلچسپی کہاں تک ہو سکتی ہے یا ہو پائے گی

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغربی یا عالمی ادب کھڑا ہے ۔ حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔

باسط آزر ۔

پہلی بات تو یہ واضح کر دوں کہ ماضی میں لکھنے والی ہمارے ادبا کا رجحان عالمی ادبا کی طرز کا ہی تھا ۔ پڑھنا ، سوچنا ، سمجھنا اور پھر ایک فکر کو پروان چڑھنے دینا ۔ ایک نظر دیکھنے سے ہی ان کے ہاں کسی نہ کسی نظریے کا نہ بھی سہی کم از کم کسی تناظر کا وجود نظر آجاتا ہے مگر آج کا ادب یا تو صرف ”  پڑھ چھوڑنے ” والوں یا صرف ” لکھ دینے "والوں کے ہاتھ لگ گیا ہے ۔ لکھنا کوئی نظریہ یا مقصد نہیں کیا لکھنا ہے اور کیوں لکھنا ہے یہ خود کو بھی معلوم ہونا ضروری ہے ۔

سوال ۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔

باسط آزر ۔۔

قراة العین حیدر اور انتظار حسین کو بہترین افسانہ نگار سمجھتا ہوں کیونکہ ان کے ہاں ، تاریخی ، فکری ، اساطیری اور فکری تجربات کے لیے بہت کچھ ہے اور تخلیقات میں مضبوط تناظر موجود ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

سوال ۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

باسط آزر ۔۔

خلا پیدا ہونا مجھے ” Satire ” جیسا لگتا ہے ۔ فیس بک اور ارد گرد دیکھیں تو ہزاروں کی تعداد میں لکھاری خواتین و حضرات ہیں ۔ ایسے میں خلا کا احساس کسی یا کچھ بنیادی خامیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ فرض کریں کہ وہی بات ہے کہ بس لکھ چھوڑنا ہے تو ایسے میں یکسانیت ، فکشن کا جمود اور اہم اصولوں سے ناواقفیت یا ان کو سمجھ نہ سکنا ہی اس کی کچھ وجوہات کہی جا سکتی ہیں ۔ یہ سب بتانا ناقد کا فرض نہیں ۔ لکھنا اچھا فکشن لکھنا رائٹر کا کام ہے ۔ ناقد ادیب کا استاد ہونا کوئی حتمی اصول نہیں ۔

ٹالسٹائی کی بات کو مختصر کرتے ہوئے اسی کی بات کو دوہرؤں گا کہ میوزک کے ساز بجانے سے ناواقفیت یا فن سے نا آشنا ہونے کا اعتراف تو سبھی کر لیتے ہیں مگر فکشن لکھنے کو آسان سمجھ لیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہی ہوتا تو یہ فن نہ کہلاتا ۔ یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسے شوق یا شہرت کا ذریعہ سمجھنے سے بھی پہلے اسے فن سمجھیں ۔ جس کے اصول بھی ہیں اور تکنیکس بھی

سوال ۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

باسط آزر ۔۔

میرے نزدیک تنقید کا مطلب تحریر میں فن اور انفرادیت تلاش کرنا ہے ۔ فن اور انفرادیت تحریر سے ہی متعلق ہوتے ہیں ۔ اس عمل کو فقط تحریر تک محدود رکھتے ہوئے ممکنہ حد تک ہر بات ، اظہار ، بیان اور تکنیک کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

سوال ۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

باسط آزر ۔۔

مغربی ادب میں جیمز جوائس ان کی افسانوں کی کتاب ” ڈبلینرز "اور ناول  ” پورٹریٹ آف ینگ مین ایز آرٹسٹ ” اور فرانز کافکا جن کی کتب میں ” میٹامورفوسز ، کیسل ، ٹرائل ”  میرے پسندیدہ ادبا ہیں اور اگر روسی ادب کو بھی شامل کر لیا جائے تو دوستو فسکی شاید مجھے مذکور دونوں ادبا سے زیادہ پسند ہیں جن کی کتب میں  ” پور فول ، کرائم اینڈ پنشمنٹ ، ایڈیٹ ، بردر کرامازوف ہیں ۔

سوال ۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

باسط آزر ۔۔

گنجائش ہر صنف کی ہے ۔ اہم بات اس گنجائش کو پیدا کرنا اور نئی صنف کو مستحکم کرنا ہے ۔ ایک تخلیق کے لیے کئی پیٹرنز برتے جا سکتے ہیں پلاٹ کو مختلف طریقہ سے ترتیب دیا جا سکتا ہے اور اصول سازی کی جا سکتی ہے ۔ یوں گنجائش ہے اور بہت گنجائش ہے مگر اس کام کے لیے توازن فکر اور مہارت درکار ہے ۔ اور

”  ہے کا مطلب تو تمہیں آتا ہو گا ” ـ

سوال ۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

باسط آزر ۔۔

زندگی سے زندگی چاہنے اور اسے جبر سے آزاد ہونے پہ راضی ہوجانے کے سوا کیا افضل ہو سکتا ہے جو مانگا جا سکے  ۔

مجھے اس میں سے کچھ تو میسر ہے مگر مجھے یہ شاید دوسروں سے زیادہ چاہیے ۔

سوال ۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

باسط آزر ۔۔

انسان میں انسانیت ہو یہ ضروری نہیں ۔ انسانیت ایک اکتسابی عمل ہے جسے سمجھا سیکھا اور پھر ذات کا حصہ بنایا جاتا ہے اور یہ محبت کے بغیر ممکن نہیں۔

محبت ۔ بالکل ہوئی ۔ بچپن میں تجسس اور سوالات سے لڑکپن میں اپنی مٹی سے اور ” اس ” سے محبت ہے ۔ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ ہیں اور پوری شدت کے ساتھ ہیں ۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

باسط آزر ۔۔

بچپن کا واقعہ ہے کہ خوشاب اپنے ماموں کی شادی پہ مجھ سمیت  ہم بہن بھائیوں نے  کزنز کے ساتھ مل کر لائٹنگ کے لیے آدھے سے زیادہ منی بلبز نکال کر ان کے پٹاخے بجا دیے تھے ۔ جس کی وجہ سے کچھ گھنٹے پریشانی اور نقص کی تلاش میں ناکامی کے بعد جب ” مرچیں ” کھول کر دیکھی گئیں تو ان میں بلب کا وجود ہی نہیں تھا ۔ ہم سب پکڑے گئے بقیہ مال مسروقہ کی برآمدگی ماموں کے سامنے ہم سب کے ریمانڈ کے ساتھ انجام پائی ۔۔

سوال ۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

باسط آزر ۔۔

کوئی ایسے خاص پہلو نہیں جیسے کہ یہ بات شاید کچھ لوگ نہیں جانتے اور اتنی اہم ہے بھی نہیں کہ میٹرک کے بعد ماسٹرز کی کچھ دنوں کی ورکشاپس کے سوا میری تعلیم اور تمام ادبی و علمی سفر بغیر کسی استاد کی رہنمائی کے طے ہوا جس میں بطور طالب علم عمرانیات ، نفسیات ، فلسفہ ، شاعری ، تنقید اور کو میرے پسندیدہ شعبوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

دوسری بات شاید اہم ہو کہ ادب کی طرف سنجیدگی سے رجحان اپنے بہترین دوست عثمان کی ناگہانی موت کے بعد پیدا ہوا ورنہ شاید سوشل ایکٹوزم کو ہی ترجیح دیتا ۔

تیسری بات یہ کہ شاید ایسا سمجھا جاتا ہے کہ میں ہر وقت غصے میں رہتا ہوں بقول جمشید گل ایسا سمندر جس میں ہر وقت طوفان آیا رہتا ہے ۔

مگر ایسا نہیں ایک دو معاملات کو چھوڑ کر کہیں بھی ایسا نہیں اور میرے دوست مجھے ملنسار اور خوش مزاج ہی پاتے ہیں ۔

سوال ۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

باسط آزر ۔۔

پیغام بس یہی دینا چاہوں گا کہ زندگی ، عقائد اور نظریات کو مشکک کی نظر سے دیکھتے رہیے اور اس رویہ کو کبھی ترک مت کیجیے  ۔ پڑھیے ، لکھیے ادب بھی پڑھیے اور لکھیے مگر اسے سمجھنے کے لیے دوسرے علوم کا مطالعہ ضرور کیجیے ۔

سوال ۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

باسط آزر ۔۔

آپ کے لیے یہی کہنا چاہوں گا کہ ادب میں انقلاب نہیں آتا ، ارتقا ہوتا ہے اس لیے معیار پہ مفاہمت نہ کریں ۔ لکھنے والے آپ کے دوست ہو سکتے ہیں مگر تخلیقات کو فطرت جیسا سمجھیے غیر معیاری تخلیقات فطرت کے حادثات جیسی ہو سکتی ہیں ان سے احتراز ہی کیجیے گا ۔

آپ کا اور آپ کے ادارے کا شکر گزار ہوں کہ آپ اپنی ذات سے ہٹ کر ادب کو اہمیت دے رہے ہیں ۔ جس پر نیک خواہشات کے ساتھ آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

ایک تبصرہ

  1. سعید ابراہیم

    بہت دلچسپ اور بامعنی انٹرویو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے