سر ورق / ناول / درندہ۔۔ قسط نمبر 15۔۔خورشید پیرزادہ

درندہ۔۔ قسط نمبر 15۔۔خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 15

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

اپنے کمرے میں بستر پر لیٹ کر مراد کا ذہن درندے کی طرف گھوم رہا تھا-

”کرنل کے گھر میں موت کی پینٹنگز اور موت کی ویڈیوز ہیں- باقی اور کچھ نہیں ہے- کیا اس کو درندہ ماننے کے لئے یہ ثبوت کافی ہیں—رفیق سر کے مطابق کرنل کے گھر میں ایس پی صاحب کے بنگلے کی لائیو ویڈیو چل رہی تھی- ایس پی صاحب اب ہسپتال میں ہیں- اس درندے نے تو سب کو گھما کر رکھ دیا ہے- جو بھی ہو اس وقت کرنل مفرور ہے- اور اس وقت سارا فوکس اسی پر ہونا چاہئے- آخر اتنے اہم ثبوت ملے ہیں ان کے گھر سے- مگر اس راجہ نواز کو بھی نہیں چھوڑا جا سکتا- اس کیس پر کام کرکے بہت مزا آئے گا- اتنا الجھا ہوا کیس ہے- اگر میں نے اس کیس کو حل کر لیا تو میرا ایک نام بن جائے گا- اور پھر میں اپنی الگ انویسٹی گیشن ایجنسی کھول لوں گا-“

ابھی تک کی صورتحال کے مطابق اگر کوئی مراد کے ان خیالات کو شیخ چلی کے خیالات سے تشبیہہ دے بیٹھے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے-

”کل کلاں کو سحرش سے شادی ہوگی- بچے ہوں گے- میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے قابل ہوجاﺅں گا- میں اپنی سحرش کو ایک خوشحال زندگی دینا چاہتا ہوں- مراد صاحب اس ایک کمرے کے مکان سے بات نہیں بنے گی-“ مراد خود ہی سوچ رہا تھا اور خود ہی مسکرا بھی رہا تھا-

کہاں تو مراد کے ذہن میں درندے کے خیالات تھے اور اب بات گھوم کر سحرش پر آگئی تھی- یہ محبت اچھے خاصے انسان کو گھما کر رکھ دیتی ہے- آپ کسی کے بارے میں بھی سوچ رہے ہوں لیکن آخر میں بات گھوم پھر کر اسی پر آکر ہانپنے لگتی ہے جس سے آپ محبت کرتے ہیں-

سحرش یاد آئی تو مراد کو یہ بھی یاد آیا کہ آج کی مصروفیت کی وجہ سے وہ سحرش سے ایک بار بھی نہیں ملا ہے-

”آج سحرش سے نہیں ملا ہوں تو خود کو اندر سے کتنا خالی خالی محسوس کر رہا ہوں میں- اس نے بس اسٹاپ پر میرا کتنا انتظار کیاہوگا- فون پر بات کرکے دیکھتا ہوں-ویسے تو فون زیادہ تر نغمہ کے پاس رہتا ہے مگر کیا پتہ سحرش اٹھا ہی لے-“

مراد نے نمبر ملایا تو کال سحرش نے ہی ریسیو کی-

”شکر ہے تم نے فون اٹھایا- نغمہ نے آج تمہارے پاس کیسے چھوڑ دیا-“

”باجی گھر پر نہیں ہیں- ابا کے ساتھ گاﺅں گئی ہے- اس لئے فون میرے پاس ہے-“ سحرش نے کہا-

”یار یہ عجیب بات ہے- پھر تم نے مجھے کال کیوں نہیں کی-“ مراد نے شکایت کرتے ہوئے کہا-

”بیلنس نہیں تھا فون میں- باجی سے کہا بھی تھا کہ جاتے ہوئے بیلنس ڈلوا دینا- مگر شاید وہ بھول گئی تھی-“

”چلو کوئی بات نہیں- سوری آج میں بس اسٹاپ پر نہیں آسکا- کسی کام میں مصروف ہوگیا تھا-“ مراد نے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا-

”تھوڑی دیر کے لئے بھی نہیں آسکتے تھے کیا— میں نے تمہارا بہت انتظار کیا- کالج بھی دیر سے پہنچی تھی-“

”سوری کہہ دیا نا- اگر تمہارے پاس فون ہوتا تو کال کر دیتا- ایسا کرتا ہوں میں ایک فون خرید کر تمہیں دے دیتا ہوں-“

”نہیں- اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے- میں تم سے کوئی گفٹ نہیں لوں گی-“

”گفٹ نہیں لوں گی- کیا مطلب ہے اس کا- اس طرح میں اپنی جان کو کچھ دینے کے قابل تو ہو رہا ہوں-“

”مراد- جس دن میں خود خریدنے کے قابل ہوجاﺅں گی تو خریدلوں گی- میری تم سے محبت کسی گفٹ کی محتاج نہیں ہے-“ سحرش نے پیار سے کہا-

”ارے یار گفٹ پیار بڑھانے یا تمہیں لبھانے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے دے رہا تھا کہ ہمارا رابطہ رہے- جیسے آج تم بلاوجہ انتظار کرتی رہ گئیں- تمہارے پاس فون ہوتا تو پتہ چل جاتا کہ میں نہیںآپاﺅں گا اور تم بھی وقت پر کالج پہنچ جاتیں-“ مراد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا-

”جو بھی ہو- مجھے کوئی گفٹ نہیں چاہئے- میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دے رہا-“

”میرے لئے تو یہ اچھی بات ہی ہے- ورنہ تو گرل فرینڈز جیبیں ہی خالی کروا دیتی ہیں- ہی ہی ہی-“ مراد ہنس کر بولا-

”زیادہ مت ہنسو- شادی کے بعد اپنی جیب کی خیر منانا- میری جو جو خواہشیں ہیں تمہاری جیب سے ہی پوری کروں گی-“

”کیا— میں تو سمجھا کہ تمہارا ضمیر شادی کے بعد بھی یہی صلاح دیتا رہے گا- یہ تو غلط بات ہے یار-“

”اور نہیں تو کیا- شوہر کو لوٹنا بیوی کا حق ہوتا ہے- اور یہ لوٹ مار میں بھرپور طریقے سے کروں گی-“

”تم مذاق کر رہی ہو— ہے نا؟-“

”میں بہت سنجیدہ ہوکر یہ بات کہہ رہی ہوں-“

”چلو جو چاہے لے لینا- تمہاری لوٹ کھسوٹ پوری کرنے کے لئے قدرت مجھے ضرور ترقی دے گی-“ مراد نے پھر ہنستے ہوئے کہا-

”ہاں بہت ترقی کرو گے- اور تم جتنی زیادہ ترقی کرو گے- میں تم کو اتنا ہی زیادہ لوٹوں گی-“ سحرش بھی ہنستے ہوئے بولی-

”ٹھیک ہے- تم مجھے لوٹنا- اور میں تم کو لوٹوں گا-“

”میرے پاس ہے ہی کیا جو لوٹو گے-“

”تمہارا حسن- تمہاری جوانی— یہ خزانہ قدرت کسی کسی کو ہی عطا کرتی ہے-“

”اب تم یہ کیسی باتیں کرنے لگے ہو- گڈ نائٹ-“

مراد نے کئی بار ٹرائی کیا مگر لگتا تھا کہ سحرش نے فون سوئچ آف کر دیا تھا-

”کیا مذاق ہے سحرش— کیا میں مذاق میں بھی تم سے ایسی بات نہیں کہہ سکتا- حد کرتی ہو تم بھی—“ رفیق یہ سوچتے ہوئے بستر سے اٹھ کھڑ ا ہوا-

”میں آرہا ہوں تمہارے پاس— اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں-“ یہ سوچتے ہوئے مراد نے اپنے کمرے کو کنڈی لگائی اور سحرش کے گھر کی طرف بڑھنے لگا-

رات کا سناٹا چاروں طرف پھیلا ہوا تھا- لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے- دن بہ دن درندے کا خوف پھیلتا ہی جا رہا تھا-

”پتہ نہیں ان سڑکوں سے یہ سناٹا کب دور ہوگا- ورنہ پہلے کتنی چہل پہل ہوا کرتی تھی- مگر اب یہ منحوس سناٹا شام ڈھلتے ہی گلیوں محلوں کو گھیر لیتا ہے- کاش یہ خوف جلد سے جلد ختم ہوجائے-“

مراد نے سحرش کے درازے پر پہنچ کر آہستہ سے دستک دی-

اندر سحرش دروازے پر دستک کی آواز سن کر لرز اٹھی-”یا خدا- اس وقت کون ہوسکتا ہے-“ وہ بڑبڑائی-

مراد نے باہر سے آواز دی- ”میں ہوں مراد- دروازہ کھولو-“

سحرش دروازے کے پاس آکر بولی- ’تم یہاں کیوں آئے ہو؟-“

”ارے یار دروازہ تو کھولو-“

سحرش نے دروازہ کھولا تو مراد نے جھٹ سے اندر آکر کنڈ ی لگا لی-

”اب بتاﺅ- کیوں آئے ہو؟-“

”کیا بتاﺅں- تم نے فون بند کرکے میرے دل کی دھڑکن ہی بند کر دی تھی- یہاں نہ آتا تو اور کیا کرتا- تم نے ایسا کیوں کیا؟-“

”تم خود اپنے آپ سے پوچھو- کیا کسی لڑکی سے ایسی باتیں کی جاتی ہیں-“ سحرش نے کہا-

”جان من تم میری محبوبہ ہو اور جلد ہی میری بیوی بھی بن جاﺅ گی- تم مذاق کر رہی تھیں تو میں نے بھی مذاق میں کہہ دیا-“

”تو وہ سب مذاق میں کہہ رہے تھے تم؟-“ سحرش نے پوچھا-

”میں مانتا ہوں کہ روانی میں کچھ زیادہ ہی کہہ گیا تھا- محبت میں کچھ باتیں اندیکھی بھی کر دی جاتی ہیں- لیکن پھر بھی اگر تم کو میری باتیں بری لگی ہیں تو اس کے لئے میں تم سے معافی مانگتا ہوں-بس تم مجھ سے ناراض مت ہوا کرو-“ یہ کہہ کر مراد نے اس کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ دیئے-

”پھر ٹھیک ہے- تم بیٹھو میں تمہارے لئے چائے بناتی ہوں-“

”نہیں- میں چلتا ہوں- بس سوری بولنے آیا تھا- تم نے فون بند کر دیا تھا اس لئے خود چل کر آنا پڑا مجنوں صاحب کو-“ مراد نے ہنستے ہوئے کہا-

”میں تمہاری باتوں سے گھبرا گئی تھی- ایسی باتیں مت کیا کرو-“

”اب چھوڑو بھی- غلطی ہوگئی تھی مجھ سے- آج کے بعد ایسا کبھی نہیں بولوں گا- اور معافی بھی مانگ لی ہے میں نے-“

”ہا ہا ہا ہا— دیکھا کیسی بینڈ بجائی تمہاری—“ سحرش ہنستے ہوئے بولی-

”تو کیا یہ بھی مذاق تھا؟-“ مراد نے حیرت سے پوچھا-

”اور نہیں تو کیا- تم شادی کے بعد کی وہ سب باتیں کر رہے تھے- میں بھلا برا کیوں مانوں گی- بس یونہی تم کو ستانے کا دل کر رہا تھا- تم نے بھی تو آج مجھے بہت ستایا تھا- آنکھیں ترس گئیں تھیں تمہارا انتظار کرتے کرتے-“

”اب تم دیکھنا ہماری شادی کا بینڈ باجا کیسے بجتا ہے-“ مراد نے کہا-

”دیکھا جائے گا- ابھی تو تم جاﺅ یہاں سے- مجھے نیند آرہی ہے- صبح کالج بھی جانا ہے-“

”جب یہاں تک آہی گیا ہوں تو خالی ہاتھ کیسے جاﺅں-“

”کیا مطلب؟-“ سحرش تنک کر بولی-

”سوالی تمہارے دروازے پر آیا ہے- کیا اپنے اس بے پایاں حسن میں سے تھوڑی سی خیرات نہیں دو گی-“

”ایسے بدمعاش سوالیوں کو کچھ نہیں ملتا- سمجھے- اب بھاگو یہاں سے-“

”یہی بات میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو-“ مراد نے یہ کہتے ہوئے اسے جکڑ لیااور سحرش نے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا-

”تمہاری آنکھوں میں دیکھ کر کیسے کہہ پاﺅں گی-“

”اس سے پہلے کے میرے سوئے ہوئے جذبات انگڑائی لینے لگیں- میں چلتا ہوں ہوں- کہیں شادی سے پہلے ہی ہنی مون نہ ہوجائے-“ مراد نے شرارت سے کہا-

”مجھے بھی یہی ڈر ہے- تم بہک گئے تو تمہیں روک نہیں پاﺅں گی- مگر ہم یہ سب شادی کے بعد پر رکھیں تو زیادہ بہتر ہے- ہم دونوں کے لئے-“

مراد نے سحرش کا چہرہ اپنے ہاتھوںمیں بھر کر اوپر اٹھایااور ایک بار پھر سے اپنی محبت کی مہر ثبت کر دی-

”ارے ہاں- اپنی اس مہر سے یاد آیا کہ میں نے راجو کو بھی مشورہ دے دیا ہے کہ وہ وردا پر اپنی محبت کی مہر لگا دے‘ اپنی طرف سے تو اکسا دیا ہے میں نے- اب دیکھنا راجو کا کیسا زبردست تماشہ بننے والا ہے-“ مراد نے ہنس کر کہا-

”کیا— ایسا کیوں کیا تم نے— کیوں مروا رہے ہو بیچارے کو-“ سحرش بھی ہنس پڑی-

”اس سے یہ تو پتہ چل جائے گا نا کہ وردا کی محبت کس پیمانے کی ہے- میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کہیں میراد وست فالتو میں ہی اس کے حسن کے جال میں تو نہیں پھنسا ہوا-“

دونوں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک گھر کے باہر عجیب سی آہٹ سنائی دی-

”یہ کیسی آواز تھی— شکر ہے تم یہاں ہو- ورنہ اکیلے میں تو میری جان ہی نکل جاتی-“ سحرش نے کہا-

”لگتا ہے باہر کوئی ہے-“ مراد نے آہستہ سے کہا-

”کون ہوسکتا ہے؟-“

”میں دیکھتا ہوں-“

”نہیں- باہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- جو کوئی بھی ہوگا چلا جائے گا-“

سحرش کے گھر کے باہر ہونے والی آہٹ نے ایک دہشت سے پھیلا دی تھی اور اس دہشت نے سحرش کو مراد کے ساتھ چمٹنے پر مجبور کر دیا تھا-

”ایسے چمٹو گی تو میرے بہکنے کے سو فیصد چانس ہیں- پھر مجھے مت کہنا-“

”ایسے میں بھی تمہیں ایسی باتیںسوجھ رہی ہیں- مجھے ڈر لگ رہا ہے- کہیں ہمارے گھر کے باہر وہ درندہ تو نہیں ہے-“ سحرش نے ڈرتے ہوئے کہا-

”یہی تو میں دیکھنا چاہتا ہوں- ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ میرے پیچھے پیچھے یہاں تک آیا ہو- بہت شاطر ہے وہ- اس سے پہلے کہ وہ وار کر جائے- مجھے کچھ کرنے دو-“

”تمہارے پیچھے کیوں آئے گا وہ-“ سحرش نے پوچھا-

”میرا اس کے ساتھ دو بارہ سامنا ہوچکا ہے- وہ مجھے پہچان چکا ہوگا- اس لئے کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ وہ میرا پیچھا کر رہا ہو-“

ِ”اگر یہ بات ہے تو اب ہم کیا کریں گے-“ سحرش یہ سن کر اور خوفزدہ ہوگئی تھی-

”فکر مت کرو- فون ہے میرے پاس – پولیس کو بلا لیں گے- پہلے پتہ تو چلے کہ باہر کون ہے-“

اسی وقت باہر بڑی سڑک پر پولیس سائرن کی آوازیں سنائی دینے لگیں-

”پولیس بھی آگئی- اب اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ گڑبڑ ہے-“ مراد بولا-

”جو کچھ بھی ہوگا پولیس خود دیکھ لے گی- تم بیکار میں ٹینشن مت لو-“ سحرش اسے باہر جانے سے روکنا چاہتی تھی-

”اگر زندگی میںکچھ بننا ہے تو ٹینشن لینی ہی پڑتی ہے- بنا ٹینشن لئے کچھ نہیں ہوتا- سوچو اگر میں نے درندے کا معمہ حل کر لیا تو میری کتنی شہرت ہو جائے گی- پھر تو میں اپنی ذاتی انویسٹی گیشن ایجنسی کھول سکتا ہوں- نام ہونے کے بعد کام ہی کام ہوگا- پھر تم جی بھر کر مجھے لوٹنا- ہی ہی ہی-“ مراد نے پھر خواب دیکھتے ہوئے کہا-

”اس طرح نام کمانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- میں کیسے بھی گزارا کر لوں گی تمہارے ساتھ-“

دروازے پر ہونے والی دستک نے دونوں کو چونکا دیا- سحرش نے مراد کو اور مضبوطی سے جکڑ لیااور دھیمی آواز میں بولی- ”دروازہ مت کھولنا-“

”پاگل ہوگئی ہو کیا- ہٹو- باہر پولیس بھی تو ہے-“

”نہیں پلیز- مجھے ڈر لگ رہا ہے-“ سحرش نے کہا-

”میرے ہوتے ہوئے تم کیوں ڈر رہی ہو- دیکھنے تو کون ہے-“

دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی تھی- مراد نے سحرش کو خود سے الگ کیا اور دروازہ کھول دیا-

”اتنی دیرکیوں لگائی دروازہ کھولنے میں-“ باہر سے چوہان کی آواز آئی-

”تمہارے لئے دروازے پر نہیں بیٹھا تھا میں-“ مراد نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا-

”اوہ مس سحرش— وہاٹ اے سرپرائز- تم تو بعد میںملی ہی نہیں اس دن کے بعد- اور سناﺅ تمہارا کال گرل والا دھندہ کیسا چل رہا ہے-“ چوہان نے سحرش کو دیکھ کر خوشی سے کہا-

”جو بات کرنی ہے مجھ سے کرو- جب گھر میں مرد کھڑا ہو تو عورتوں سے بات نہیں کرتے-“ مراد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا-

ِِ”ہاں- پہلے تو تم یہ بتاﺅ کہ تم یہاںکیا کر رہے ہو سحرش کے گھر میں-“

”یہ ہمارا نجی معاملہ ہے- تم سے مطلب؟-“

”مطلب ہے- میں ایک سائے کا پیچھا کر رہا تھا- مجھے یقین ہے کہ وہ درندہ ہی تھا اور وہ اسی طرف آتے ہوئے دیکھا گیا ہے- اب یہاں تم موجود ہو- اور دروازہ کھولنے میں بھی تم نے بہت دیر لگا دی تھی- اسی لئے تو پوچھ رہاہوں کہ دیر سے دروازہ کھولنے کی وجہ کیا تھی؟-“

”تو تمہیں لگتا ہے کہ میں درندہ ہوں-“مراد نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”کچھ بھی ہو سکتا ہے- درندے کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ وہ درندہ ہے-“ پھر چوہان نے سپاہیوں سے کہا- ”پورے گھر کی تلاشی لو-“

جب گھر میں کچھ نہیںملا تو چوہان نے سحرش سے کہا- ”یہ یہاں کب سے آیا ہوا ہے؟-“

”ان کو آئے ہوئے بہت دیر ہوگئی ہے-“ سحرش نے جواب دیا-

”مس سحرش- تمہیں پتہ ہے کہ جس آدمی کے پاس تم کال گرل بن کر ہوٹل میں گئی تھیں- اس پر درندہ ہونے کا شبہ کیا جا رہا ہے- وہ تمہاری جان بھی لے سکتا تھا- تمہیں تو میرا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اس دن میں وقت پر پہنچ گیا اور تمہیں اس درندے سے بچا لیا- مگر تم خود کو ہم سے نہ بچاسکیں- ہی ہی ہی- اب دروازہ بند کرلو- میں جا رہا ہوں- ہی ہی ہی-“ چوہان مکروہ ہنسی ہنستا ہوا چلا گیا- مراد غصے سے دانت پیس رہا تھا-

مراد نے دروازہ بند کیا اور سحرش کی طرف مڑا- اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے-

”ارے سحرش-“ مراد نے آگے بڑھ کر سحرش کو اپنے امان میں لے لیا-

”وہ کمینہ پھر سے وہ سب باتیں یاد دلا گیا جنہیں میںبھولنا چاہتی ہوں-“سحرش نے سسکتے ہوئے کہا-

”اسی لئے تو کہہ رہاتھا کہ ان سب لوگوں کو مارنا ضرور ی ہے- اگر اسے بھی مار دیتا تو ہمیں یہ سب نہ سننا پڑتا-“

”میں سب کچھ سن لوں گی- مگر اب تم کوئی خون خرابہ نہیں کرو گے- تم کو میری قسم ہے-“ سحرش بولی-

”ارے میں کہاں خون خرابہ کر رہا ہوں- تم سے کیا ہوا وعدہ نہیں توڑوں گا-“

”مراد تم مجھے غلط تو نہیں سمجھ رہے نا- کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں تمہاری محبت کے قابل نہیں ہوں-“ سحرش پھر روپڑی-

”پاگل ہو کیا- غلط کیوں سمجھوں گا تمہیں- ان باتوںسے تمہارا بدن ضرور میلا ہوا ہے لیکن تمہارا دل ہمیشہ سے اجلا رہاہے-تم سے زیادہ میری محبت کے قابل کوئی اور لڑکی ہو ہی نہیں سکتی تھی- اور میں بھی کون سا دودھ کا دھلا ہوں- تمہاری باجی تک کو تو نہیں چھوڑا میں نے-“ اپنے گناہ گنوا کر مراد نے سحرش کا احساسِ گناہ کم کرنے کی کوشش کی-

”اب تو تمہاری زندگی میں میرے سوا کوئی اور نہیں ہے نا-“ سحرش نے اسے گھورتے ہوئے کہا-

”نہیں- جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو- کسی اور کو دیکھنے کا دل تک نہیں کرتا- اب میری یہ زندگی صرف تمہارے نام وقف ہے-“ یہ کہتے ہوئے مراد نے سحرش کو اپنی گود میں اٹھا لیا-

”کیا کر رہے ہو- اتارو مجھے-“

”اب اور نہیں رکا جا رہا مجھ سے- آج ہی ہنی مون منا لیتے ہیں-“

”بے وقوف مت بنو- سہاگ رات نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے- تم شادی سے پہلے ہماری محبت کو داغدار کیوں کرنا چاہتے ہو-“

مراد نے سحرش کو چھوڑ دیا- ”مجھے ناز تھا کہ مجھے ہمیشہ اپنے جذبات پر کنٹرول رہا- مگر پتہ نہیں کیوں تمہیں دیکھ کر آﺅٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہوں-“

”مراد مجھے صبح کالج بھی جانا ہے-“ سحرش نے یاد دلایا-

ِ”ہاںمجھے بھی ڈیوٹی پر جانا ہے- آج رات میں یہیں رک جاتا ہوں-تم کیا کہتی ہو-“

”اگر تم جانا بھی چاہو گے تب بھی نہیں جانے دوں- آج رات تو مجھے ڈر کے مارے اکیلے میں نیند ہی نہیں آئے گی- لیکن یاد رکھنا کوئی بدمعاشی نہیں چلے گی- شرافت سے سوجاﺅ-“

سحرش نے اپنے ابا کا بستر مراد کے لئے لگا دیا اور دونوں ایک دوسرے کو شب بخیر کہہ کر لیٹ گئے-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق ہسپتال میں اپنے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا- اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار شہلا کی آنکھیں گھوم رہی تھیں-

”میڈم نے تو مجھے اپنی آنکھوں کی گہرائی میں ڈبو ہی لیا ہے- کیا وہ بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچ رہی ہوں گی- کیا وہ بھی میرے لئے اتنی ہی بیقرار ہو رہی ہوں گی جتنا میں ہو رہا ہوں- ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی- ہوسکتا ہے میں نے ان کی آنکھوں کا غلط مطلب لیا ہو- ان کا مزاج عام لڑکیوں سے بالکل ہٹ کر ہے- انہیں سمجھنا بہت مشکل ہے-“

وہ انہی خیالات میں تھا کہ اسے اپنے کمرے کے باہر آہٹ سنائی دی- اس نے اپنا پستول اٹھایا اور دبے پاﺅں باہر جھانک کر دیکھا – اسے کوئی نظر نہیں آیا- پھر وہ شہلا کے کمرے کی طرف بڑھا- ”جا کر دیکھ لوں- سب ٹھیک ہے یا نہیں-“

رفیق وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ چار سپاہی اپنی جگہ پر کھڑے تھے جبکہ چوہان وہاں سے غائب تھا-

”چوہان صاحب کہاں گئے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”وہ راﺅنڈ پر گئے ہیں-“ ایک سپاہی نے جواب دیا-

”مگر ان کی ڈیوٹی تو یہاں تھی- میڈم کی پروٹیکشن کی-“ رفیق نے کہا-

”ہمیں نہیں پتہ سر- وہ ہمیں کچھ بتا کر نہیں گئے-“

رفیق کی نظر دیوار کے ایک کونے سے جھانکتے ہوئے آدمی پر پڑی- فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ چہرہ نہیں دیکھ سکا –

”ہے — رکو– – کون ہو تم؟-“ رفیق نے چلا کر کہا-

دوسرے ہی لمحے وہ آدمی وہاں سے ہٹ چکا تھا- رفیق پستول تان کر اس طرف بھاگا- اگرچہ اس کا گھٹنا درد کر رہا تھا مگر اس نے کوئی پرواہ نہیں کی-

اس طرف کوئی نہیں تھا- تلاش کرتے کرتے رفیق ہسپتال کے پچھلے حصے میں باہر نکل آیا- وہ پستول لئے دبے قدموںسے چل رہا تھا- اندھیرے کی وجہ سے اسے ادھر ادھر دیکھنے میںبھی دشواری ہو رہی تھی-

وہ اندھیرے میں پلٹا ہی تھا کہ ایک گھونسہ اس کے منہ پر پڑا وہ لڑکھڑا کر گرا تو ایک زوردار لات اس کے پیٹ پر پڑی-رفیق اس سائے پر فائر کرنے ہی والا تھا کہ اس کی آواز سن کر رک گیا-

”ابے درندے آج تمہاری خیر نہیں- کیمرہ آن کرو- آج اس کا انٹرویو کریںگے-“ مونا کی آواز ابھری-

”ارے میڈیا کی رانی تم یہاں کیا کر رہی ہو- یہ میں ہوں انسپیکٹر رفیق-“

”انسپیکٹر صاحب آپ- سوری- سوری- ہم تو ایک سائے کا پیچھا کر رہے تھے- مجھے لگا کہ وہ درندہ ہے-“

”تمہاری قسمت اچھی ہے کہ تم بچ گئیں- ورنہ اتنی دیر میں تو میں پورا چیمبر خالی کر دیتا ہوں- میرے بدن کی پہلے ہی بینڈ بجی ہوئی ہے- تم نے اور ایسی تیسی کر دی- کیا تم نے کراٹے سیکھی ہوئی ہے-“ رفیق نے کہا-

”ہاں- میں بلیک بیلٹ ہوں-“ مونا بولی-

”ایک تو رپورٹر- اوپر سے بلیک بیلٹ ہولڈر-واہ-“

”اب آپ مل ہی گئے ہیں تو ایک بات تو بتائیں- آپ کی نکمی پولیس کے بڑے افسران اس ہسپتال میں پڑے ہیں- تو عام شہریوں کا کیا ہوگا- لگتا ہے آہستہ آہستہ سب ہی اس درندے کے فن کا نمونہ بن جائیںگے ایک دن اور پولیس ہسپتال میں پڑی تماشہ دیکھتی رہے گی-“ یہ کہتے ہوئے جواب کے لئے مونا نے مائیک رفیق کے آگے کر دیا-

”نو کمنٹس-“ کہہ کر وہاں رفیق سے واپس مڑ گیا-

”کچھ کہنے کو ہوگا تب ہی کہیں گے نا- ناظرین یہ حال ہے ہماری نکمی پولیس کا- بات صاف ہے- ہمیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی- پولیس کے آسرے پر رہے تو ایک دن ہم سب مارے جائیں گے—- اوور ٹو یو-“ مونا نے کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”یہ مونا تو میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہے- اور کتنی زور کی لات ماری ہے گدھی نے- اف-“

رفیق نے اپنے اطمینا ن کے لئے پورے ہسپتال کا راﺅنڈ کیا مگر اسے کچھ نہیں ملا-

”کیا پتہ کوئی ویسے ہی جھانک رہا ہو- لوگوں کی عادت ہے کہ پولیس کو دیکھ کر جھانک تانک کرتے ہی ہیں-درندہ تو ویسے بھی نقاب لگا کر گھومتا ہے- اس کیس نے تو دل و دماغ کو اتنا الجھا دیا ہے کہ اب ہر کوئی درندہ ہی نظر آتا ہے- میڈم سے ملنا چاہئے- شاید وہ جاگ رہی ہوں- “ یہ سوچ کر رفیق شہلا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے بارہ بج رہے تھے- ہر طرف سناٹا پھیلا ہوا تھا- ایک عجیب سی خاموشی کا راج تھا- راجو جیپ میں بیٹھا اپنی قسمت کو رو رہا تھا-

”یار یہ کس پتھر کی مورت سے محبت ہوگئی ہے مجھے- فون بھی نہیں اٹھا رہی ہے- اور نہ ہی دروازہ کھول کر بات کر رہی ہے- اگر یہ محبت ایسے ہی چلتی رہی تو پھر میرا خدا ہی حافظ ہے-“

راجو کئی بار بیل بجا چکا تھا مگر وردا نے ایک بار بھی دروازہ نہیں کھولا تھا-

”ایک بار پھر بجا کر دیکھتا ہوں- اگر اب بھی نہیں کھولا تو دوبارہ کوشش نہیں کروں گا-“ راجو نے بیل بجائی تو اسے اندر قدموں کی آہٹ سنائی دی-

وردا نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا- ”اتنی رات کو کیوں پریشان کر رہے ہو- میں سو رہی تھی-“

”اوہ سوری- چلیں آپ سوجائیں- میں تو بس گڈ نائٹ کہنے آیا تھا-“ یہ کہہ راجو مڑ گیا-

”رکو— تم کچھ کہنا چاہتے تھے کیا؟-“

”ہاں کہنا تو بہت کچھ تھا- مگر اب رات بہت زیادہ ہوچکی ہے اور آپ کو نیند بھی آرہی ہے- کل بات کر لیں گے- گڈ نائٹ-“

”نہیں- رکو– ابھی بات کر لیتے ہیں-“

”سچ- اتنی خوشی برداشت نہیں ہوئی مجھ سے- دیکھیں میری آنکھوں میںخوشی کے آنسو بھر آئے ہیں-“ راجو نے مذاق میں کہا-

”کیا میں تم سے بات نہیں کرتی ہوں جو ایسا کہہ رہے ہو-“

”ایک بار بھی فون نہیں اٹھایا آپ نے- نہ ہی دروازہ کھولا- ایسا کون سا گناہ ہوگیا ہے مجھ سے- لگتا ہے آپ کے پاس دل نام کی چیز ہی نہیں ہے-“ راجو نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”راجو یہی بات تم پر بھی صادق آتی ہے- صبح میں اٹھی تو تمہیں ہر طرف دیکھا- مگر تم یہاںہوتے تو ملتے- سپاہیوں سے پوچھا تو جواب ملا کہ تم صبح ہوتے ہی کہیں چلے گئے تھے- کیا تم مجھے بتا کر نہیں جا سکتے تھے- ایک ایس ایم ایس تو کر ہی سکتے تھے تم-“ وردا نے بھی اپنی ناراضگی کی وضاحت کی-

”میں آپ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا- اس لئے فون نہیں کیا آپ کو- مگر یہ سن کر بہت اچھا لگ رہا ہے کہ آپ مجھے ڈھونڈ رہی تھیں- ویسے آپ مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھیں- خیریت تو تھی نا-“ راجو نے مسکراتے ہوئے کہا-

”تمہارے لئے اپنے ہاتھوں سے خاص ناشتہ بنایا تھا میںنے- تمہیں کھلانا چاہتی تھی- اور کوئی بات نہیں تھی- یوں زیادہ خوش ہوکر دانت نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے-“

”پھر تو اچھا ہی ہوا کہ میں یہاں نہیں تھا- پتہ نہیں کیا بنایا تھا آپ نے- کھا کر بے ہوش ہوجاتا تو ڈیوٹی کیسے کرتا-“

”کبھی کھایا بھی ہے کچھ میرے ہاتھ کا- بہت اچھا کھانا بناتی ہوں میں-“

”ایسے کیسے یقین کرلوں میں- میںنے تو یہی سنا تھا کہ حسینوں کو کھانا وانا بنانا نہیں آتا- بس اپنی اداﺅں سے گھائل کرنا آتا ہے انہیں-“ راجو مسکرا کر بولا-

”ابھی کچھ بنا کر دوں تو کیا یقین کر لو گے؟-“

”اس وقت— اتنی رات کو آپ میرے لئے کچھ بنائیں گی- کتنی محبت کرنے لگی ہیںآپ مجھ سے- میری آنکھیں اب سچ میں نم ہو رہی ہیں-“ یہ کہہ کر راجو جھوٹ موٹ اپنی آنکھیں ملنے لگا-

”جاﺅ جاکر اپنی جیپ میں بیٹھ جاﺅ میں کچھ نہیں بنا رہی تمہارے لئے- حد ہوتی ہے مذاق کی بھی- مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم کسی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں ہو-“ وردا نے غصے سے کہا-

”ارے آپ تو میرے مذاق کا برا مان گئیں- بھلا مذاق کا بھی کوئی برا مانتا ہے کیا-“

”کیا کہتے تھے تم مجھ سے— محبت کرتا ہوں آپ سے- کوئی مذاق نہیں- اب ایسا لگ رہا ہے کہ صرف مذاق والا حصہ ہی سچ تھا باقی سب جھوٹ-“

”آپ سے تھوڑا ہنسی مذاق کرکے دل خوش ہوگیا آج- کیا آپ مجھ سے میری یہ ہنسی چھیننا چاہتی ہیں- اگر آپ کو اتنا ہی برا لگا ہے تو پرامس آئندہ کبھی آپ سے مذاق نہیں کروں گا-“

”ایسی بات نہیں ہے راجو-“ وردا نرم پڑتے ہوئے بولی- ”میں سچ میں اچھا کھانا بناتی ہوں-میرے ہاتھ کے کھانے کی سب تعریف کرتے ہیں- اس لئے تمہارا مذاق مجھے برا لگا تھا-“

”چلیں پھر- تعریف کرنے والوں میں‘ میں بھی شامل ہونا چاہتا ہوں-“ راجو نے کہا-

”تم یہیں رکو- میں بنا کر لاتی ہوں-“

”کیا میں آپ کے کچن میں نہیں آسکتا- میں تو بس آپ کو ککنگ کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں- قسم سے آپ کے کچن سے کوئی چیز چرا کر نہیں کھاﺅں گا-“

وردا نے تھوڑی دیر سوچا- پھر بولی- ”آجاﺅ-“

”آپ نے مجھے اندر بلانے کے لئے اتنی دیر کیوں سوچا- کیا میں کھانے کی بجائے آپ کو کھا جاتا-“

”تم نہیں سمجھو گے-“ اب وردا ‘ راجو کو کیسے بتاتی اپنے خواب کے بارے میں-

وردا نے کچن میں آکر سب سے پہلے چولہا آن کیا- ”اوہ نو-“

”کیاہوا؟-“ راجو نے پوچھا-

”تم جانتے ہو نا کہ ابھی اس علاقے میں گیس کنکشن نہیںلگے- ہم سلینڈر استعمال کرتے ہیں- اور اس گیس کو بھی ابھی ختم ہونا تھا-“

”تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے- ہم بیٹھ کر باتیں کرلیتے ہیں-“ راجو نے کہا-

”ہاںمگر میرا دل کر رہا تھا کچھ بنانے کو— بھوک بھی لگ رہی تھی- یہ گیس بھی آج ہی ختم ہونی تھی-“ وردا نے بڑی معصومیت سے کہا-

راجو تو اپنی وردا کو دیکھتا ہی رہ گیا- غضب کی معصومیت تھی وردا کے چہرے پر- ایسا لگ رہا تھے جیسے کسی بچے کے کھلونا ٹوٹ گیا ہو اور وہ رونے والا ہو-

”وردا جی چھوڑیئے نا- آئیں پیار بھری باتیں کرتے ہیں- کیونکہ اب تو آپ سے پیار محبت کا رشتہ جڑ گیا ہے- کھانا پینا تو ہوتا ہی رہے گا-“ راجونے کہا-

”ہاں اب تو صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں-“

وردا کچن کے باہردیوار کے سہارے کھڑی ہوگئی- راجو اس کے سامنے کھڑا تھا- راجو رہ رہ کے وردا کے گلابی ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا-

”یہ تم بار بار کیا دیکھ رہے ہو-“ وردا نے اس کی چوری پکڑلی-

”کک کچھ نہیں— کیا میں آپ کو جی بھر کر دیکھ بھی نہیںسکتا— بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ-“

وردا نہ چاہتے ہوئے بھی شرما گئی-

”ارے آپ تو شرماتی بھی بہت اچھا ہیں-“ راجو نے اس کی آنکھوںمیں دیکھتے ہوئے کہا-

وردا نے راجو کو کوئی جواب نہیں دیا صرف اپنی نظریںجھکا لیں-

”یہی موقع ہے—- راجو آگے بڑھو اور ان گلابی دھکتے ہوئے ہونٹوں پر اپنی محبت کی مہر لگا دو- وردا اس وقت بہت اچھے موڈ میں لگ رہی ہے- ایسا موقع بار بار نہیں ملے گا-“ راجو یہ سوچتا ہوا وردا کے بالکل قریب آگیا-

اس سے پہلے کہ وردا کچھ سمجھ پاتی- راجو نے اس کے ہونٹوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کر دی-وردا اس کی اس اچانک حرکت پر حیران ہی رہ گئی- اور راجو بھی کیا کرتا- مراد نے اسے مشورہ دیا تھا کہ اپنی محبت کی مضبوطی کے لئے مہر لگانا ضروری ہوتا ہے-“

تھوڑی دیر بعد راجو اس سے دور ہٹ گیا-

”یہ کیا کیا تم نے-“

”اپنی محبت کی مہر لگا رہا تھا- کیسی لگی؟-“ راجو نے کہا-

وردا نے کچھ کہنے کی بجائے ایک تھپڑ اس کے گال پر رسید کر دیا- ”ایسی لگی یہ بیہودہ مہر— تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ زبردستی کرنے کی- کیا یہی ہے تمہاری محبت- یہ کسی ریپ سے کم نہیں ہے— یہ محبت نہیں ہوس ہے تمہاری- آج کے بعد میرے پاس مت آنا-“ وردا نے غصے سے کہا-

”کیامیری محبت آپ کو ریپ لگتی ہے— میں نے تو اپنی محبت مضبوط کرنے کے لئے مہر لگائی ہے- تو پھر آپ ہی بتائیں کہ میں اپنی محبت کا اظہار کیسے کروں-“

”دور ہوجاﺅ میری نظروں کے سامنے سے— ایک تو غلط حرکت کرتے ہواوپر سے اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش بھی کرتے ہو- ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے- یہ نہیں کہ زبردستی جو دل میںآئے کر گزرو-“ وردا کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا-

”سوری وردا جی- مجھے تو اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا- میں کسی کے بہکاوے میں آکر یہ سب کر گیا- آئی ایم سوری-“ راجو نے معذرت کرتے ہوئے کہا-

”کس نے بہکایا تم کو؟-“ وردا نے پوچھا-

”استاد نے کہا تھا کہ مہر لگانے سے محبت مضبوط ہوتی ہے- اس لئے جلد سے جلد مہر لگا دو اور میں نے لگا دی-“ راجو نے سادگی سے جواب دیا-

”وہ کہے گا کنویں میں کود جاﺅ- تو کیاکود جاﺅ گے-“

”سوری آئندہ کسی کی باتوںمیں نہیں آﺅں گا- مگر ایک بات اور کہوںگا-“

”وہ کیا؟-“

”اگر مجھے کوئی اور نہ بہکاتا تب بھی میں آپ کے گلابی ہونٹ دیکھ کر خود بہک گیا تھا- اگر کوئی مجھے نہ بھی بہکاتا تب بھی آج مجھ سے یہ گستاخی ہو ہی جاتی- آپ کا تھپڑ لگا تو احساس بھی ہوا کہ میں نے غلط کیا ہے- لیکن جس ملائمت اور شیرینی کا احساس میں نے مہر لگا کر کیا ہے وہ سب باتوں سے انمول ہے- اتنا انمول کہ اگر اب آپ میری گردن بھی کاٹ دیں گی تو میں اف تک نہیں کروں گا- کیونکہ یہ انمول احساس میری موت کو بھی آسان بنا دے گا- میں باہر جا رہا ہوں- ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا-“ راجو مڑ کر باہر جانے لگا-

”رکو-“

”جی کہئے؟-“

”کیا صرف مہر ہی لگانی تھی- کیا ہم باتیں نہیں کر سکتے-“ وردا کی یہ بات سن کر خوشی سے راجو کا دل پسلیوں سے باہر آنے کے لئے بیتاب ہوگیا-

”کک کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا- یقین نہیں ہو رہا- ایسا مت کریں- میں بہت بدمعاش ہوں- دوبارہ سے مہرلگانے کی کوشش کر سکتا ہوں-“ راجو نے بہکے ہوئے لہجے میں کہا-

”راجو میں تم سے محبت کرتی ہوں- تم اتنے بیتاب کیوں ہو رہے ہو- ہمیں پہلے ایک دوسرے کو سمجھنا چاہئے- محبت کے اس رشتے کی ایک بنیاد بنانی چاہئے- باقی یہ باتیں تو بہت بعد کی ہیں-“ وردا نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”کتنی اچھی بات کہی ہے آپ نے- جن پیارے ہونٹوں سے آپ نے یہ بات کہی ہے – ان ہونٹوں پر دوبارہ مہر لگانے کا دل کر رہا ہے- بتائیں میں کیا کروں-“

”ایک اور تھپڑ کھاﺅ گے مجھ سے-“

”مجھے مہر لگانے کے بدلے میں آپ کا ہر ظلم و ستم منظور ہے-“ راجو یہ کہتا ہوا وردا کی طرف بڑھا-

وردا نے واقعی ایک اور تھپڑ راجو کے چہرے پر جڑ دیا- مگر راجو نہیں رکا اور دوبارہ اپنی محبت کی مہر ثبت کر دی-

پھر وہ ہٹتے ہوئے بولا- ”ایسا لگتا ہے جیسے ان چند لمحوں میں میں نے ساری زندگی کا سکھ پا لیا ہے- گڈ نائٹ-“

”میں ا س حرکت کے لئے تم کو کبھی معاف نہیں کروں گی- آئی ہیٹ یو-“

راجو نے سنا اور مسکراتا ہوا باہر آگیا-

ِ”آپ کی نفرت جھوٹی ہے-“

وردا چور بنی راجو کو باہر جاتے دیکھ رہی تھی- راجو کے باہر نکلتے ہی اس نے دروازہ بند کرکے کنڈی لگا دی-

”بدتمیز کہیں کا- مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسی حرکت کرے گا- مجھے کیا پڑی تھی کہ میں اس سے محبت کر بیٹھی— اسے تو بھلے برے کی سمجھ بھی نہیں ہے- محبت میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی—- مگر غلطی تو میری ہی ہے کہ میں نے اسے گھر کے اندر آنے دیا- آئندہ اسے کبھی اندر نہیں آنے دوں گی-“ وردا دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی اور یہ سوچیں اس کے دماغ میں ابھر رہی تھیں-

پھر وہ وہاں سے ہٹ کر اپنے کمرے میں آگئی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر بغور اپنا جائزہ لینے لگی-اور لاشعوری طور پر اس کا دایاں ہاتھ خود بخود اس کے ہونٹوں تک پہنچ گیا- اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلیاں پھراتے ہوئے کہا-

”تم کیوں اس کا ساتھ دے رہے تھے-“

وردا کو اپنے اندر سے جو جواب ملا اس پر اسے خود بھی یقین نہیں ہو رہا تھا-

”محبت کی مہر ایسی ہوتی ہے- کبھی سوچا بھی نہیں تھا-“

ِِ”چھی- یہ سب میں کیا سوچ رہی ہوں- یہ راجو مجھے بھی اپنے جیسا بنانے پر تلا ہوا ہے—- مگر میں کیا کروں- محبت کر بیٹھی ہوں اس پاگل سے دور بھی نہیں رہ سکتی- صبح وہ بغیر بتائے چلا گیا تھا تو میں کتنی بے چین ہوگئی تھی- محبت میں ایسا کیوںہوتا ہے؟-“ مگر وردا کے پاس اپنے اس سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا- ”مجھے راجو کو تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھا- اسے کتنا برا لگا ہوگا- مگر میں بھی کیا کرتی- اس نے اچانک حرکت ہی ایسی کی تھی- مجھے سوچنے سمجھنے کا موقع بھی نہیں دیا- مجھے واقعی میں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا-“

وردا کھڑکی کے پاس آئی اور ہلکا سا پردہ ہٹا کر باہر دیکھا- راجو اپنی جیپ میں آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا-

”کہیں راجو مجھ سے ناراض تو نہیں ہوگیا-“ وہ بڑبڑائی-

راجو کے بدن میں حرکت ہوئی تو وردا فوراً وہاں سے ہٹ گئی-

اور سینے پر ہاتھ رکھ کر بولی- ”کہیں اس نے مجھے دیکھ تو نہیں لیا—- نہیں نہیں- وہ نیند میں ہے شاید- اب مجھے بھی سو جانا چاہئے-“

لیکن کھڑکی سے ہٹنے سے پہلے وردا نے ایک بار پھر پردہ ہٹا کر دیکھا- راجو ویسے ہی آنکھیں بند کئے بیٹھا ہوا تھا-

”شکر ہے اس نے نہیں دیکھا- نہیں تو صبح میرا مذاق اڑانے لگتا-“ وردا مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی-

وہ خراماںخراماں چلتی ہوئی بستر پر آکر لیٹ گئی اور آنکھیں بند کرکے دھیرے سے بولی- ”سوری راجو- مجھے تھپڑ نہیں مارنا چاہئے تھا- پلیز مجھ سے ناراض مت ہونا- اب میرا تمہارے سوا اور کوئی نہیں ہے-“

انہی خیالات میں ڈوبتے ابھرتے وردا نیند کی میٹھی آغوش میں پہنچ گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق جب شہلا کے کمرے کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک نرس کمرے سے باہر نکل رہی ہے- رفیق نے نرس کو روک لیا-

”میڈم جاگ رہی ہیں یا سو رہی ہیں-“

”ابھی ابھی انجیکشن دے کر آئی ہوں- وہ جاگ رہی ہیں-“

یہ سن کر رفیق کا چہرہ چمک اٹھا- وہ کمرے کے اندر آیا تو شہلا آنکھیں بند کئے لیٹی ہوئی تھی-

”میڈم سب ٹھیک ہے نا- کوئی تکلیف تو نہیں ہے-“ رفیق نے آہستہ سے پوچھا-

ِِ”رفیق تم- — تم یہاں کیا کر رہے ہو- میں نے تم سے کہا تھا نا کہ آرام کرو-“

”آرام ہی کر رہا تھا کہ اچانک-“ اور رفیق نے پوری بات شہلا کو بتا دی-“

”اوہ- مجھے تو خبر تک نہیں ہوئی-“

”میڈم کیا چوہان کو آپ نے کہیں بھیجا ہے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”نہیں- میں نے تو کہیں نہیں بھیجا-“

”اوہ- تو شاید کسی کام سے گئے ہوں گے“ رفیق نے کہا-اور واپس جانے لگا-

”رفیق-“ شہلا نے آواز دی-

”جی میڈم- بولیں-“

”کچھ نہیں- جاﺅ سوجاﺅ-“ شہلا گہری سانس لے کر بولی-

”کیا بات ہے- بولیئے نا؟-“

”نہیں- رہنے دو- کوئی بات نہیں-“

”کیا آپ ناراض ہیں مجھ سے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”نہیں تو-“

”تو پھر بولیں کیا بات ہے-“

”جس طرح تم نے جنگل میں مجھے ڈانٹا تھا – اس طرح آج تک کسی نے مجھے نہیں ڈانٹا-“

”سوری میڈم- وہ میری مجبوری تھی- آپ کو خاموش رکھنے کے لئے- ویسے جو سزا دینی ہے دے دیجئے- چاہیں تو سسپینڈ کروادیں- بالکل بھی برا نہیں مانوں گا-“ رفیق نے احترام سے کہا-

”نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا-“

”تو پھر اب آپ مجھے ڈانٹ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لیں-“

”نہیں- وہ بھی نہیں کرنا چاہتی-“ شہلا کنفیوز ہو رہی تھی-

”پھر کیا کرنا چاہتی ہیں آپ-“

”کچھ نہیں- تم جاکر سوجاﺅ- مجھے اب نیند آرہی ہے-“ شہلا نے اپنی آنکھیں بند کرلیں-

رفیق سر جھکا کر باہر آگیا- ” میڈم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں- پتہ نہیں کیا چکر ہے- کہیں وہی چکر تو نہیں جو میں سوچ رہا ہوں-“

٭٭٭٭٭٭

صبح دروازے کی بیل بجنے پر وردا کی آنکھ کھلی- اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا آٹھ بج رہے تھے-

ِ”یہ صبح صبح کون آگیا-“ وردا نے بڑبڑاتے ہوئے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا- راجو جیپ میںنہیں تھا-

”شاید راجو ہی ہے-“

وردا نے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر انگلیوں سے اپنے بال سنوارے اور آنکھیں ملتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی-

وردا نے دروازہ کھولا تو سامنے راجو ہی کھڑا تھا-

”یہ لیں گیس سیلنڈر-“ راجو سیلنڈر رکھ کر پلٹ گیا-

”ناراض ہو مجھ سے-“

”آپ خود سوچیں- میں نے تو صر ف اپنی محبت کی مہر ہی ثبت کی تھی- کوئی گناہ تو نہیں کیا تھا میں نے جو تھپڑ پہ تھپڑ جڑ دیئے آپ نے-بہت برا لگا مجھے- آپ محبت نہیں- مذاق کرتی ہیں مجھ سے-“

”ایسی بات نہیں ہے راجو- میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں- مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے-“ وردا نے معصومیت سے کہا-

راجو بیچارے کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گیا ہے- جہاں محبت ہی محبت ہے- پیار ہی پیار ہے- اور محبت کی اس زندگی کا راستہ وردا کی آنکھوں سے ہو کر گزر رہا تھا-

”آپ نے یہ سب اتنی معصومیت سے کہا ہے کہ اب تو آپ کا تھپڑ بھی مجھے گلاب کا پھول لگنے لگا ہے- اب تک کہاں چھپا کر رکھی تھی یہ محبت کی بہتی دھارا- آپ تو مجھ پر ستم در ستم ڈھاتی جا رہی ہیں-“ راجو نے بے خود ہوکر کہا-

راجو کی بات سن کر وردا پھر شرما گئی- وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی- ”تو تم نے مجھے معاف کر دیا ہے نا-“

”آپ سے ناراض ہوکر کہاں جاﺅں گا میں- آپ چاہے یقین کریں نہ کریں‘ جس طرح جادوگر کی جان کسی طوطے میں ہوتی ہے اسی طرح میری جان اب آپ ہیں- آپ ہی میری زندگی ہیں-“

”راجو سچ سچ بتانا اس محبت کے پیچھے تمہارا مقصد کیا تھا؟-“ لگتا ہے وردا ابھی بھی کسی وسوسے کا شکار تھی-

”مقصد تو ایک ہی ہے- آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں- اپنی ساری زندگی آپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں-“

”کیا تم کو یہ بھی پتہ ہے کہ میں عمر میں تم سے کوئی تین چار سال بڑی ہوں گی-“ وردا نے کہا-

”وردا جی عمر چھوٹی بڑی ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے-“

”یہ تم ہر بار میرے نام کے ساتھ جی کیوں لگاتے ہو- وردا جی— کیا مجھے صرف وردا نہیں کہہ سکتے-“ وردا محبت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی-

”ٹھیک ہے وردا جی- اوہ سوری وردا- آج اس جی کو کہیں دور پھینک دیتا ہوں- اب چلیں میں یہ سیلنڈر اندر رکھ دیتا ہوں-“ راجو نے ہنس کر کہا-

وردا سوچ میں پڑ گئی-

”یہ اتنی صبح صبح تم سیلنڈر کہاں سے مل گیا؟-“

”اپنے گھر سے لایا ہوں- ہماری آبادی میں بھی گیس نہیں پہنچی ہے ابھی تک- میں تو دن رات یہاں ہوتا ہوں- وہاں یہ بیچارہ بیکار پڑا تھا- اب آپ کے کام آئے گا تو شاید اسے بھی خوشی ہوگی-“

”تم رہنے دو- میں لے جاﺅں گی-“ شاید وردا کے دل میں رات والی واردات دوبارہ وقوع پذیر ہونے کا اندیشہ تھا-

”کیسی بات کر رہی ہیں آپ- میرے ہوتے ہوئے آپ کیوں اٹھائیں گی- ہٹیں ایک طرف-“

راجو سیلنڈر اٹھا کر کچن میں لایا اور اسے چولہے کے ساتھ فٹ کر دیا-

وردا کچن کے دروازے پر کھڑی سب دیکھتی رہی- جب راجو مڑا تو وہ بولی- ”کیا کھاﺅ گے تم-“

ِِ”اگر تھپڑ نہیں پڑیں گے تو ایک چیز کھانا چاہتا ہوں-“

”نہیں—- کیا ابھی بھی تمہارا دل نہیں بھرا- “ وردا چند قدم پیچھے ہٹ گئی-

”یہ کیسے ہو سکتا ہے— آپ نے راجو سے محبت کی ہے اور راجو کا دل آپ جیسی حسینہ سے کبھی نہیں بھر سکتا-“

”میں نے ابھی دانت بھی برش نہیں کئے ہیں-“ وردا نے ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”کوئی بات نہیں- میں نے ایک پرانی کتا ب میں پڑھا تھا کہ محبت کی مہر دانتوں کے بیکٹریا کو ختم کرتی ہے-“ راجو نے اپنی سائنسدانی جھاڑتے ہوئے کہا-

”جھوٹ بول رہے ہو نا؟-“

”نہیں- بالکل سچ کہہ رہا ہوں-“

وردا نے راجو سے بچنے کے لئے سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی-

”ارے رکئے کہاں بھاگی جا رہی ہیں- اب مجھ سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا-“ راجو بھی وردا کے پیچھے بھاگا-

وردا آدھی سیڑھیاں چڑھ چکی تھی مگر راجو نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا- وردا نے ہاتھ چھڑانے کے لئے راجو کو دھکا دیا اور پاﺅں پھسلنے کی وجہ سے سیڑھیوں سے لڑھکتا ہوا نیچے گرتا گیا-

”راجو-“ وردا بھاگ کر اس کے پاس آگئی- راجو کے ماتھے سے ہلکا خون بہہ رہا تھا-

”سس سوری راجو- زیادہ چوٹ تو نہیں لگی؟-“ وردا گھبرا گئی تھی-

جواب دینے کی بجائے راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑ لیا-

”راجو پلیز- چھوڑ میرا ہاتھ- تم تو پاگل ہوگئے ہو-“

راجو کھڑا ہوا اور ا س نے وردا کو دیوار سے ٹکا دیا- ”اب بھاگو— کہاں بھاگو گی—- آپ نے مجھے بہت ستایا ہے- میں نے آپ کی بہت سی ڈرامے بازیاں جھیلی ہیں- اب تو آپ سے گن گن کر بدلے لوں گا-“ راجو شرارت سے بولا-

”تو تم مجھ سے بدلہ لے رہے ہو-“

”ہاں ایسا بدلہ جس میں محبت ہی محبت ہے-“

’ ©’اف کہاں پھنس گئی میں اس پاگل کے ساتھ-“ وردا جھلا کر بولی-

راجو نے وردا کو جکڑ لیا اور اس کے دہکتے ہوئے انگاروں پر مہر ثبت کرنے لگا- وردا چاہتی تو خود کو چھڑا سکتی تھی مگر وہ بت بنی کھڑی رہی-اور دونوں کتنی ہی دیر تک سرور کے سمندر میں غوطہ زن رہے-

اور جب وردا نے محسوس کیا کہ اس کے اپنے جذبات اسے دھوکہ دینے پر تل گئے ہیں تو اس نے دھکا دے کر راجو کو خود سے دور کر دیا-

”کیا ہوا؟-“

”کچھ نہیں- اب تم جاﺅ- مجھے فریش بھی ہونا ہے-“

”اوہ ہاں- ویسے شکر ہے اس بار تھپڑ نہیں پڑا- ہی ہی ہی-“ راجو ہنستے ہوئے باہر چلا گیا-

”یہ میں کس دیوانے کی محبت میں پھنس گئی ہوں میں- اپنی طرح مجھے بھی دیوانہ بنا دے گا ایک دن-“ وردا بڑبڑائی-

راجو کے جانے کے بعد وردا نے دروازے پر کنڈی لگائی اور دوبارہ خود سے گویا ہوئی- ”اب دوبارہ اسے اندر نہیں آنے دوں گی- وہ تو اپنے ہوش میں ہی نہیں رہتا- کوئی ایسے بھی کرتا ہے کیا اپنی محبوبہ کے ساتھ-“

وردا نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو ابھی بھی زور زور سے دھڑک رہا تھا-

”وہ تو پاگل ہے – دیوانہ ہے- مگر مجھے کیا ہوجاتا ہے– – میں کیوں اس کا ساتھ دینے لگتی ہوں- کیا میں اس کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی ہوں؟—- میں خود کو کبھی کھلونا بننے نہیں دوں گی- ایسا کبھی نہیں ہوسکتا-“

وردا جتنا راجو سے محبت کرتی تھی اتنا ہی اپنے کردار کے بارے میں بھی بہت حساس تھی- یہ بہت ہی عجیب سی صورتحال تھی وردا کے سامنے-

راجو واپس اپنی جیپ میں آکر بیٹھ گیا تھا- اور ابھی تک مہر کے سرور میں کھویا ہوا تھا-

”کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ محبت بہت حسین ہوتی ہے-“ سوچتے ہوئے راجو اپنے آپ مسکرانے لگا- دور کھڑے سپاہی اس کی حالت دیکھ کر اشاروں میں ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ یہ آج سب انسپیکٹر صاحب کو کیا ہوگیا ہے-

٭٭٭٭٭٭٭

مراد صبح صبح ہی سحرش کے گھر سے نکل گیا تھا اور جاتے وقت کہہ گیا تھا کہ آج بہت کام ہے اس لئے وہ سارا دن بہت مصروف رہے گا- اس نے انویسٹی گیشن کی فیلڈ کو اپنا مستقبل بنا لیا تھا اور اب دل و جان سے اس کام میں لگ جانا چاہتا تھا-

”سب سے پہلے اس کرنل کی خبر لینی چاہئے- کیونکہ ابھی تک وہی سب سے زیادہ مشکوک شخص ہے-“ راستے میں جاتے ہوئے مراد نے سوچا اور مطلوبہ مقام پر پہنچ کرکرنل کے سامنے والے گھر کی بیل بجائی- اس گھر میں ایک ضعف العمر شخص اور اس کی بیوی اکیلے رہتے تھے- مراد نے اپنی تفتیش کا آغاز ان ہی سے کرنا مناسب سمجھا-

ان دنوں میاں بیوی نے مراد کو یہی بتایا کہ کرنل بہت اچھا اور بہت ہی اچھی فطرت کا انسان ہے- وہ سب سے نہایت محبت سے پیش آتا ہے- ملنساری ان کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی- لیکن ان باتوں میں سے ایک بات مراد کو کچھ عجیب سی لگی- اور وہ یہ تھی کہ اب کرنل اس گھر میں نہیں رہتا- ان کے کہنے کے مطابق کرنل نے یہ گھر شاید کسی کو کرائے پر دے دیا ہے-

”کس کو کرائے پر دیا ہے- کچھ بتا سکتے ہیں آپ؟-“ مراد نے پوچھا-

”پتہ نہیں وہ کون ہے- کبھی شکل تک نہیں دیکھی اس کی- اب تو میری بینائی بھی کمزور ہو چلی ہے- ٹھیک سے نظر بھی نہیں آتا- مگر اتنا ضرور پتہ ہے کہ اب کرنل صاحب کے بنگلے میں کوئی دوسرا رہ رہا ہے- یہ اور بات ہے کہ نئے کرائے دار سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی-“

”ایک ملازم بھی تو رہتا تھا- اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں آپ؟-“

”یہ ملازم بھی اب ہی نظر آرہا ہے- کرنل صاحب نے کوئی ملازم نہیں رکھا تھا- وہ اپنے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتے تھے-ویسے بیٹا تم نے بتایا نہیں کہ تم یہ سب کیوں پوچھ رہے ہو؟-“ بزرگ کو اتنی دیر بعد اس بات کا خیال آیا-

”آپ کو شاید معلوم ہی ہوگا کہ پولیس نے وہ گھر سیل کر دیا ہے- میں اس کیس کی تفتیش کر رہا ہوں- کیا کچھ مزید بتا سکتے ہیں آپ جس سے میری تفتیش میں مدد ملے-“

”ہاں میں نے ایک بات نوٹ کی ہے- جو کوئی بھی یہاں کرائے پر رہتا تھا اسے بھی کرنل صاحب ہی کی طرح پینٹنگ کا شوق تھا- کچھ دن پہلے غلطی سے ایک کوریئر والا پینٹنگ کی ڈلیوری دینے ہمارے گھر آگیا تھا- میں نے اسے کرنل صاحب کے بنگلے پر بھیج دیا تھا-

”اس کے علاوہ کچھ اور؟-“

”بس میں جتنا جانتا تھا وہ سب بتادیا – اس کے علاوہ مزید کچھ نہیں کہہ سکتا-“

”میرا نمبر رکھ لیں- بعد میں اگر کچھ یاد آجائے تو بتا دیجئے گا- آپ کے تعاون کا بہت بہت شکریہ-“

اس کے بعد مراد نے آس پڑوس کے کئی اور لوگوں سے بھی بات کی لیکن کسی سے بھی کوئی کام کی بات معلوم نہیں ہوسکی- باقی سب لوگ اب تک یہی سمجھتے تھے کہ اس بنگلے میں اب بھی کرنل صاحب ہی رہتے ہیں- کسی کرائے دار کے بارے میں تو کوئی جانتا تک نہیں تھا-

مراد غور کرتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ پوش علاقہ ہے- بڑی بڑی کوٹھیاں ہیں- یہاں تو سب لوگ اپنے اپنے بنگلوں میں مگن رہتے ہیں- انہیں کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ پڑوس میں کیا ہو رہا ہے- ان ضعیف حضرت کے پاس چونکہ وقت ہی وقت تھا اور ان کا بنگلہ بھی کرنل صاحب کے بنگلے کے بالکل سامنے تھا شاید اسی لئے انہوں نے یہ تمام باتیں نوٹ کر لی تھیں-لیکن یہ بات طے تھی کہ جو بھی اس بنگلے میں آیا تھا وہ کچھ عرصہ پہلے ہی یہاں شفٹ ہوا تھا-

مراد نے سوچا کہ اب یہاں اس سے زیادہ معلومات ملنے کی امید بیکار ہے اور اب تک جو بھی معلومات حاصل ہوئی ہیں انہیں رفیق تک پہنچا دینا چاہئے-یہ سوچ کر اس نے رفیق کا نمبر ملایا-

”ہیلو مراد – کیسے ہو تم؟-“

”سر کچھ اہم باتیں معلوم ہوئی ہیں-“ مراد نے کہا-

”ہاں بولو- کیا پتہ چلا ہے؟-“

”سر ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے کرنل کے سامنے رہنے والے ایک بزرگ سے بات کی ہے-“ اور مراد نے پوری تفصیل سے رفیق کو آگاہ کر دیا-

”اوہ- یہ معاملہ تو مزید الجھتا جا رہا ہے- اب یہ کیسے پتہ چلے گا کہ اس گھر میں کون رہ رہا تھا- کرنل صاحب کا تو کوئی اتا پتہ ہی نہیں چل رہا-“

”سر مجھے شبہ ہے کہ کہیں کرنل صاحب کو مار کر تو درندے نے اس گھر پر قبضہ نہیں جما لیا- یہ سوچ کر کہ اس سے اچھا ٹھکانہ اور کون سا ہوسکتا ہے- اور ویسے تو کرنل کی سب ہی تعریف کرتے ہیں لیکن تھا وہ بھی تنہائی پسند انسان تھا- اپنے سارے کام خود انجام دیتا تھا اس لئے کوئی ملازم بھی نہیں تھا اس کے گھر میں- یہ تو درندے کے لئے آئیڈیل سچوئیشن تھی سر-“

دوسری بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو بھی یہاں رہ رہا تھا وہ کرنل کو جانتا ہو اور کرنل نے یاری دوستی میں یہ بنگلہ اسے دے دیا ہو- اندھیرے میں تو کچھ بھی سوچا جا سکتا ہے سر-“

ِ”اب سب باتوں کا جواب تو صرف کرنل صاحب ہی دے سکتے ہیں- لاہور اور پنڈی میں ان کے کچھ رشتے دار تھے- میں نے وہاں کی پولیس کو انکوائری کے لئے آفیشلی کہہ دیا ہے- شاید کچھ پتہ چل جائے- ورنہ ہم آرمی کے تمام میس چھان چکے ہیں- اور ہر کوئی ان کے بارے میں لاعلم ہے-“

”اوکے جیسے ہی کچھ پتہ چلے مجھے بتا دینا- اب میں ذرا راجہ نواز کی خبر لینے جا رہا ہوں-“ مراد نے بتایا-

”اوکے آل دی بیسٹ- تم بہت اچھا کام کر رہے ہو- بلکہ جو کام ہمیں کرنا چاہئے تھا وہ تم کر رہے ہو- اور یہ بات بھی ہے کہ اس درندے نے ہمیں کچھ سوچنے سمجھنے کا وقت ہی نہیں دیا ہے اب تک- تم لگے رہو اپنے کام میں- جہاں ہماری مدد کی ضرورت محسوس کرو فوراً کال کر دینا-“ رفیق نے اس کی ہمت بڑھاتے ہوئے کہا-

رفیق اس وقت ایس پی صاحب کے کمرے کے باہر کھڑا تھا- فون بند کرکے وہ کمرے کے اندر داخل ہوا-

”اب کیسی طبیعت ہے سر؟-“

”میں ٹھیک ہوں- ڈی ایس پی صاحبہ کا کیا حال ہے؟-“ایس پی صاحب نے شہلا کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا-

”اب وہ کافی بہتر ہیں- ڈاکٹر کے مطابق اگلے دو دن میں انہیں ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا- سر کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کے ساتھ یہ سب کیسے ہوگیا؟-“رفیق کا انداز مودبانہ بھی تھا اور تفتیشی بھی‘ جسے محسوس کرکے ایس پی صاحب بھی مسکرا دیئے-

”ہوا یوں کہ میں باتھ روم سے نہا کر نکل رہا تھا کہ پیچھے سے کسی نے مجھے جکڑ کر ایک خوشبودار رومال میرے چہرے پر رکھ دیا- میں نے فوراً سانس روک لی اور اسے پیچھے کی طرف دھکیل دیا- لیکن اس کے پاس خنجر تھا اور میرے سنبھلنے اور کچھ سوچنے سمجھنے سے پہلے ہی اس نے میرے پیٹ پر کئی وار کر ڈالے- بس ایک بار مل جائے پھر دیکھنا اس کا کیا حشر کرتا ہوں میں-“ ظاہر ہے ایس پی پر حملہ کوئی معمولی بات تو نہیں تھی- یہ ان کے عہدے کی عزت کا سوال تھا-

”شکر ہے آ پ کی جان بچ گئی- شاید وہ آپ کو بے ہوش کرکے کہیں لے جانا چاہتا تھا- وہ ایسا ہی کرتا ہے- اپنے ٹھکانے پر لے کر فنکارانہ موت دینے کا دعویٰ کرتا ہے-“

”بس بس مجھے ہارر اسٹوری مت سناﺅ- مجھے ڈراﺅنی باتیں بالکل پسند نہیں ہیں-“ ایس پی صاحب نے جھرجھری لے کر کہا-

”سوری سر-“

”مجھے بھی شاید دو تین دن میں چھٹی مل جائے گی-“

ایس پی صاحب کی عیادت کے بعد رفیق سیدھا شہلا کے کمرے میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ چوہان پہلے سے وہاں موجود تھا-

”آﺅ رفیق-“ شہلا نے کہا-

”اب کیسی ہیں میڈم؟-“

”کافی بہتر ہے- مسٹر چوہان آپ جائیں اور اطمینان سے اپنی بہن کی منگنی کی تیاری کریں-“ شہلا نے چوہان سے کہا-

”تھینک یو میڈم-“ چوہان‘ رفیق کو گھورتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا-

”جب پیٹ سے یہ بینڈیج ہٹے گی تب ہی پتہ چلے گا کہ اصل صورتحال کیا ہے- ڈاکٹر کہہ رہے تھے کہ آج تفصیلی معائنہ کریں گے-“

”سب اچھا ہی ہوگا میڈم- آپ فکرمند نہ ہوں-“

”چوہان بتا رہا تھا کہ اسی ہفتے اس کی بہن کی منگنی اور شادی ہے- یہ اتنی جلدی کیوں مچا رہا ہے-“ شہلا نے پوچھا-

رفیق چپ کھڑا رہا- جھوٹ وہ بولنا نہیں چاہتا تھا اور سچ بولنے کی اس میں ہمت نہیں تھی-

”خیر تم سناﺅ- تم کیسے ہو؟-“

”میں تو تقریباً ٹھیک ہوچکا ہوں- درندے کے کیس میں ایک نئی بات سامنے آئی ہے-“

”کوئی نئی بات نہیں ہے- شروع سے یہی سنتی آرہی ہوں کہ نئی بات سامنے آئی ہے- اب کون سی بات بتانا چاہتے ہو-“

رفیق نے مراد سے ملنے والی تمام معلومات شہلا کے آگے رکھ دیں-

”ہوں— مطلب یہ کہ اب ہمیں کرنل کی بجائے اس انجان شخص کو ڈھونڈنا پڑے گا- یہ معاملہ تو کسی طرح سلجھنے کا نام ہی نہیں لے رہا-“ شہلا الجھے ہوئے لہجے میں بولی-

”جی میڈم – — اور اگر آپ کی اجازت ہو تو میں بھی فیلڈ میں نکلنا چاہتا ہوں-“

”تو تمہیں میری اجازت چاہئے؟-“

”جی ہاں-“

”تمہارے سارے زخم بھر گئے کیا-“

”بھر ہی جائیں گے- چل پھر تو رہا ہوں- کوئی دقت محسوس نہیں ہو رہی ہے- زیادہ دنوں تک بیکار نہیں بیٹھا جاتا مجھ سے- یہ کیس حل کرنا بہت ضروری ہے- پولیس کے تین بڑے آفیسرز کو ہسپتال کی سیر کرا دی ہے اس درندے نے- میڈیا والے الگ مذاق اڑا رہے ہیں- ہر طرف سے تھو تھو ہو رہی ہے- ہمیں جلد از جلد اس مسئلے کا کوئی حل ڈھونڈنا ہی ہوگا-“ رفیق نے پوری بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا-

”بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا- تم میڈیا کی ٹینشن مت لیا کرو- ان کا تو کام ہی یہی ہے-“

”میڈم میں آپ کی طبعیت میں بہت تبدیلی محسوس کر رہا ہوں-“

”اچھا- وہ کیا بھلا-“ شہلا نے ہنس کر کہا- ”مجھے بھی تو پتہ چلے کہ میں کتنا بدل گئی ہوں-“

”وہ دراصل آج کل آپ مجھے بہت کم ڈانٹ رہی ہیں-“

”اچھا— تو یوں کہو کہ تمہیں ڈانٹ کھانی ہے-“

”نہیں وہ تو نہیں کھانی-“

”پھر کیوں پریشان ہو رہے ہو-“

”کچھ نہیں ویسے ہی پوچھ رہا تھا-“ یہ کہہ کر رفیق مسکرانے لگا-

”لگتا ہے تمہیں میری ڈانٹ کھانے کی عادت سی پڑ گئی ہے-“ شہلا بھی مسکرانے لگی-

”شاید- ہاں-“

دروازہ کھلنے پر دونوں چونکے- ڈاکٹر اندر آرہا تھا-اسے دیکھ کر رفیق باہر نکل گیا-

”ہاﺅ آر یو؟-“ ڈاکٹر نے پوچھا-

”یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں-“ شہلا نے کہا-

”ہم ابھی یہ ڈریسنگ کھول کر چیک کر تے ہیں- ہمیں امید ہے کہ سب اچھا ہی ہوگا-“

ڈاکٹر کے جانے کے بعد رفیق دوبارہ اندر آگیا-

ِ” کیا کہا ڈاکٹر نے-“

”سب ٹھیک ہے- ٹانکے ٹھیک ہیں- دو دن میںچھٹی مل جائے گی-“ شہلا نے بتایا-

”یہ سن کر بہت خوشی ہوئی-“ اور اس خوشی کا اظہار اس کے چہرے سے بھی ہو رہا تھا-”ڈاکٹر نے بہت محنت سے کام کیا ہے-“

”اگر تم مجھے اس جنگل سے نہ لاتے تو کوئی کچھ نہیں کر سکتاتھا-“ شہلا نے رفیق کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا- اور دونوں پھر ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھو گئے-

دونوں کے درمیان ایک ان کہی محبت جنم لے رہی تھی- اور اس محبت کے بارے میں کچھ کہنے کی دونوں میں سے کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی-

٭٭٭٭٭٭٭

مراد اب راجہ نواز کی کھوج میں لگا ہوا تھا‘ اس نے راجہ نواز کے پڑوس سے اس کے بارے میں معلوم کیا مگر کوئی مثبت بات معلوم نہ ہوسکی- وہ بینک بھی گیا لیکن وہاں سے بھی راجہ نواز کے بارے میں کوئی سن گن نہیں ملی-

”آخر وہ گیا کہاں- اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا- اور سمرن کی بلیک اسکارپیو بھی ابھی تک اسی کے پاس تھی- اب مراد کے پاس یہی چارہ رہ گیا تھا کہ اس کی بیوی سے ڈائریکٹ پوچھ تاچھ کی جائے- کیونکہ بیوی ہونے کے ناطے وہ جانتی ہوگی کہ اس کا شوہر کہاں ہے-

یہی سوچ کر اس نے مینا سے ملاقات کی مگر مینا تو خود راجہ نواز کی گمشدگی کی وجہ سے بہت پریشان تھی- اسے بھی کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اس کا شوہر کہاں ہے اور کس حال میں ہے-

اسی پریشانی میں مراد نے رفیق کو فون کیا- ”سر آپ کہہ رہے تھے نا کہ آپ نے راجہ نواز اور کرنل کی نگرانی کے لئے سپاہی لگا رکھے ہیں- مگر مجھے تو ابھی تک کوئی نظر نہیں آیا-“

”وہ سادہ لباس میں ہوں گے- اس لئے تم دیکھنے میں مشکل پیش آئے گی- اور ان میں سے بھی کسی نے ابھی تک کوئی خاص خبر نہیں دی-“ رفیق نے بتایا-

”سر یہ راجہ نواز تو ابھی تک غائب ہے اور کسی کو اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے- اب جبکہ کرنل پر سے شک ہٹ رہا ہے تو پورا شک راجہ نواز پر ہی جا رہا ہے- آپ کا کیا خیال ہے؟-“

”یار سچ پوچھو تو اتنی بار کچھ لگ چکا ہے کہ اب کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ مجھے کیا لگتا ہے- مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس درندے نے ہمارے چاروں طرح مایا جال بنا رکھا ہے اور ہم لوگ اس میں پھنستے جا رہے ہیں- سچ پوچھو تو وہ ہمیں کسی کٹھ پتلی کی طرح نچا رہا ہے اور ہم ناچتے جا رہے ہیں‘ وہ بھی عین اس کی مرضی کے مطابق-“ رفیق بیزار کن لہجے میں بولا-

”ہاں لگتا تو مجھے بھی کچھ ایسا ہی ہے-“

”لیکن مجھے یقین ہے کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب بازی ہمارے ہاتھ میں ہوگی اور ہم اس درندے کے ساتھ اپنی مرضی کی گیم کھیلیں گے-“ رفیق نے تیقن سے کہا-

”میں اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں سر-“ مراد بولا-

٭٭٭٭٭٭٭

وردا نے سارا دن دروازے کے ساتھ ساتھ اپنا فون بھی بند رکھا- وہ راجو کو دیکھنے کے لئے کھڑکی تک میں نہیں آئی-

کئی بار اس کے دل میں آیا کہ وہ فون آن کرکے راجو سے بات کرے یا پھر کھڑکی سے جھانک کر اسے دیکھ لے‘ مگر ہر بار کچھ وہ رک جاتی-

”نہیں نہیں- اسے سکھانا ہوگا کہ میرے ساتھ کیسا برتاﺅ کرنا ہے- کیا میں کوئی کھلونا ہوں جس سے وہ جب چاہے کھیلے اور چلتا بنے-اسے بھی میرے جذبات کی قدر کرنی چاہئے- محبت کا مطلب یہ تو نہیں کہ کوئی بھی ناجائز فائدہ اٹھالو- آج تو بالکل بات نہیں کروں گی اس سے- چاہے کچھ بھی ہوجائے-“

راجو ڈور بیل بجا بجا کر تھک گیا مگر وردا نے دروازہ نہیں کھولا-

”یار یہ کیسی عجیب محبت ہے ان کی— لگتا ہے یہاں روز روز ان کا کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ جھیلنا پڑے گا-لگتا ہے یہ محبت مجھے برباد کرکے چھوڑے گی-“

تھک ہار کر راجو واپس اپنی جیپ میں آکر بیٹھ گیا- اس نے گھڑی دیکھی رات کے ساڑھے بارہ بج رہے تھے- وہ بہت اداس اور مایوس نظر آرہا تھا- محبت نے اس کے سارے کس بل نکال کر رکھ دیئے تھے-

”کیا میں آج حد سے کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا تھا- لیکن محبت میں کیا زیادہ کیا کم- اگر جذبہ سچا ہو تو کیا ان باتوں سے کوئی فرق پڑتا ہے-“

راجو سوچتا جا رہا تھا اور سوچتے سوچتے اسے نیند کی جھپکیاں آرہی تھیں-

رات کے ایک بجے کے قریب ایک سپاہی بھاگتا ہوا راجو کے پاس آیا-

”سر- سر-“

راجو کی آنکھ لگ گئی تھی وہ ہڑبڑا کر اٹھ گیا- ”ہاں- کیا ہوا؟-“

ِ”گھر کے پیچھے جو سپاہی اور گن مین ڈیوٹی پر تھے وہ مرے پڑے ہیں-“

ِ”کیا؟-“ راجو کے سر پر جیسے ایٹم بم پھوٹ گیا-

راجو نے اپنی پستول نکالی اور گھر کے آگے کھڑے گن مین اور سپاہیوں سے کہا- ”تم لوگ یہاں سے ہلنا مت- میں ابھی آتا ہوں-“

راجو اس سپاہی کے ساتھ گھر کے پیچھے کی طرف بھاگا- وہاں سچ میں گن مین اور سپاہیوں کی لاشیں پڑی تھیں-

”لگتا ہے انہیں سائیلنسر لگے پستول سے ہلاک کیا گیا ہے- کیونکہ ہم نے کسی فائر کی آواز نہیں سنی- اور جس نے بھی یہ حرکت کی ہے وہ بہت ماہر نشانے باز ہے- سب کے سر میں ہی گولی ماری ہے اس نے-“ راجو نے معائنہ کرتے ہوئے کہا-

راجو نے فون نکال کر رفیق کا نمبر ملایا – مگر اس کا نمبر نہیں مل رہا تھا- نیٹ ورک پرابلم آرہی تھی-

”اف یہ نیٹ ورک کو بھی ابھی گڑبڑ کرنی تھی-“ پھر اس نے سپاہی سے کہا- ”تم اپنے فون سے رفیق سر کا نمبر ٹرائی کرو-“

”سر میرے فون میں بھی سگنل نہیں آرہے-“

ِِ”میری جیپ میں وائرلیس رکھا ہے- اس سے ٹرائی کرتے ہیں-“ دونوں بھاگتے ہوئے آگے کی طرف آئے-

”تم وائرلیس ٹرائی کرکے ساری صورتحال بتا دو-“ راجو نے سپاہی کو ہدایت دی اور خود وردا کے گھر کی طرف بڑھا-

راجو نے بیل کے بٹن پر انگلی رکھی اور مسلسل دباتا ہی رہا-

وردا گہری نیند سے آنکھ ملتی ہوئی بستر پر بیٹھ گئی- ”آج تو یہ پاگل ہی ہوگیا ہے- رات کا ایک بج رہا ہے- بار بار بیل کیوں بجا رہا ہے- وردا کھڑکی میں آئی اور اس نے باہر جو دیکھا وہ اس کے ہوش اڑادینے کے لئے کافی تھا- اس کی روح تک کانپ رہی تھی- ایک نقاب پوش راجو کی جیپ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی- اور اسے جیپ میں ایک لاش بھی صاف دکھائی دے رہی تھی-

راجو کو اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ باقی بچے سپاہی بھی شوٹ کر دیئے گئے ہیں اور اس پر نشانہ لگایا جا رہا ہے- وردا بھاگتی ہوئی نیچے آئی- اور تیزی کی وجہ سے وہ کئی بار سیڑھیوں سے گرتے گرتے بھی بچی تھی- اس نے فوراً دروازہ کھولا اور راجو کو اندر کھینچ کر دروازہ بند کرلیا-

”وردا جی- درندہ یہیں آس پاس ہے-“ راجو نے اسے آگاہ کرتے ہوئے کہا-

”ہاں- میں نے اسے دیکھا ہے-“

”کہاں دیکھا؟-“ راجو چونک گیا-

”میں نے اسے کھڑکی سے دیکھا تھا وہ تمہاری جیپ کے پیچھے کھڑا تھا- اس نے سب کو مار دیا-“ وردا تھر تھر کانپ رہی تھی-

”مجھے لگتا ہے کہ اس نے آس پاس موبائل جیمر لگا دیا ہے- کسی موبائل میں نیٹ ورک نہیں آرہا- کیسی بھیانک سچوئیشن ہے کہ ہم کسی کو بلا بھی نہیں سکتے اور نہ ہی کچھ بتا سکتے ہیں-“ راجو کی آواز میں بھی خوف کی جھلک محسوس ہو رہی تھی-

”یا خدا- اب کیا ہوگا؟-“ وردا رونے جیسی ہوگئی تھی-

”آپ فکر کیوں کرتی ہیں- میں ہوں نا- میرے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ نہیں ہوگا-“ راجو نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا‘ یہ اور بات ہے کہ اس کا دل بھی بہت زوروں سے دھڑک رہا تھا-

وردا‘ راجو سے چمٹ گئی اور بولی- ”مجھے اپنی نہیں تمہاری فکر ہو رہی ہے- میری بات غور سے سنو—- چاہے کچھ بھی ہوجائے- میرے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں مت ڈالنا-“

”یہ آپ کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں- آپ کے لئے تو میںکچھ بھی کر سکتا ہوں- میرا یہ حق مجھ سے مت چھینیں-“ راجو نے کہا-

”راجو تم نہیں جانتے- میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں درندے نے تم کو گولی مار دی تھی-“ وردا گہرا سانس لیتے ہوئے بولی-

”یہ درندہ میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا- آج وہ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جائے گا-“ راجو نے وردا کا ڈر ختم کرنے کے لئے بڑھک مارتے ہوئے کہا-

اچانک لائٹ چلی گئی اور گھر میں گھپ اندھیرا پھیل گیا-

”اس لائٹ کو بھی ابھی جانا تھا-“ وردا تھرا کر بولی-

”بہت شاطر ہے وہ- پوری پلاننگ سے کام کر رہا ہے-“ راجو کانپتی آواز میں بولا-

”راجو-“ وردا نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا- ”وہ گھر کے آگے ہے- ہم پیچھے سے نکل کر بھاگ سکتے ہیں-“

”یہ تو آپ بھول جائیں کہ ہم کہیں بھاگ جائیں- آج اس درندے کا کھیل ختم کرنا ہے-“ خوف کی حالت میں بھی راجو کا جذبہ جوان تھا-

”تم پاگل ہو کیا- سارے سپاہی مارے گئے- تم ابھی اکیلے ہو- اور وہ خونخوار درندہ- کیا میری بات نہیں مانو گے- پلیز راجو- میرے لئے کیا تم اتنا بھی نہیں کر سکتے-“ وردا نے اس بار پیار کا تیر چلاتے ہوئے کہا-

”اگر آپ اس طرح کہیں گی تو مجھے ماننا ہی پڑے گا- چلیں دیکھتے ہیں- لیکن آپ کو کسی محفوظ جگہ پر چھوڑ کر میں واپس یہاںآﺅں گا-“

”پہلے یہاں سے تو چلو-“

راجو اور وردا گھر کے پیچھے باغ کی طرف بڑھے- مگر جب انہوں نے پچھلا دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو کانپ کر رہ گئے- درندے نے وہ دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا-

”یہ دروازہ باہر سے کس نے بند کیا؟-“ وردا نے حیرت سے پوچھا-

”درندے کے سوا اور کون کر سکتا ہے-“

”اوہ— یہ سب کیا ہو رہا ہے—“

راجو‘ وردا کے ساتھ خود کو چوہے دان میں پھنسا ہوا محسوس کر رہاتھا- دونوں کے دلوں میں کئی سوالات ایک ساتھ اٹھ رہے تھے- جن کی وجہ سے وہ اور کنفیوز ہو رہے تھے-

راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑا اور بولا- ”یہاں سے ہٹ جائیں- کسی بھی کھڑکی یا دروازے کے پاس کھڑے ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے-“

”تمہیں کیا لگتا ہے- کیا وہ اندر آسکتا ہے؟-“ وردا نے پوچھا-

”وہ جو کرنا چاہتا ہے کرنے دو- میرے پاس بھی پستول ہے-“ راجو ‘ وردا کو کچن کی طرف لے آیا- ”یہ جگہ ٹھیک ہے- کچن کے باہر رہ کر ہم ہر طرف نظر رکھ سکتے ہیں-“

”تمہیں تو ایسے لگتا ہے کہ میرے گھر کے چپے چپے کا پتہ ہے- اندھیرے میں بھی کچن ڈھونڈ لیا- “

”یہی تو وہ جگہ ہے جہاں میں نے اپنی محبت کی پہلی مہر لگائی تھی- وہ مہر اور یہ جگہ میں کبھی بھول نہیں سکوں گا-“

”مہر تم نے لگائی تھی- وہ بھی زبردستی-“ وردا نے اپنا ہاتھ راجو کے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے کہا- اسی وقت آہٹ ہوئی اور وردا نے دوبارہ راجو کا ہاتھ پکڑ لیا- ”یہ آواز کیسی تھی؟-“

”شاید وہ درندہ گھر میں گھسنے کی کوشش کر رہا ہے-“ راجو نے کہا-

”یا خدا— اب کیا ہوگا؟-“ وردا بری طرح لرز گئی-

”جو ہوگا دیکھا جائے گا- پہلے یہ بتائیں کہ یہ کون سا نیا ڈرامہ ہے- جب چاہا ہاتھ پکڑ لیا اور جب مرضی ہوئی چھوڑ دیا-“ ان حالات میں بھی راجو کو پتہ نہیں کیا سوجھ رہی تھی- یا شاید وہ ان باتوں کے ذریعے اپنا اور وردا کا ڈر کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا-

وردا نے فوراً ہاتھ چھوڑ دیا اور بولی- ”اب نہیں پکڑوں گی- خوش-“

”شش— یہ آواز کہاں سے آرہی ہے-“ راجو نے کہا-

”یہ تو اوپر چھت سے آرہی ہے-“

”اس کا مطلب ہے کہ وہ اوپر کے کسی کمرے سے اندر گھسنے کی کوشش کر رہا ہے-“

”ایسے تو مت کہو- مجھے ڈر لگ رہا ہے-“ وردا نے کہا-

”ڈرنے کی بجائے ہمیں کچھ کرنا ہوگا وردا جی-“

”بتاﺅ کیا کرنا ہے- میں تمہارے ساتھ ہوں-“ وردا نے بھی ہمت کا مظاہر ہ کیا-

”کیوں نہ ہم سیڑھیوں پر تیل وغیرہ گرا کر انہیں چکنا کر دیں- جس سے وہ پھسل کر نیچے لڑھک جائے- سیڑھیوں سے گر کر تو ویسے ہی عقل ٹھکانے آجائے گی- اس کے گرتے ہی ہم اسے چھاپ لیں گے-“ راجو نے اپنا منصوبہ بتاتے ہوئے کہا-

”یہ کام تو ہمیں فوراً سے پیشتر کرنا ہوگا-“

”ہاں چلو— تم اندھیرے میں تیل ڈھونڈ لو گی نا-“

”ہاں تم یہیں رکو- میں آئل کا ڈبہ لاتی ہوں-“

وردا نے تیل کا ڈبہ راجو کے ہاتھ میں تھما دیا-

”آپ یہیں رکیں- میں یہ تیل گرا کر آتا ہوں-“

”نہیں- میں تمہارے ساتھ رہوں گی- تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی-“ وردا نے کہا-

”جب مجھ سے اتنی محبت کرتی ہیں آپ تو صبح سے سب بند کیوں رکھا ہوا ہے آپ نے- دروازہ بند- فون بند- کھڑکی بند-“

”باتیں بعد میں بھی ہو سکتی ہیں- پہلے یہ کام تو کر لو-“ وردا اسے دھیان دلاتے ہوئے بولی-

”کیا کروں- میرا دھیان تو ہر وقت آپ پر ہی رہتا ہے- آپ کی محبت نے مجھے نکما کر دیا ہے وردا جی- ورنہ ہم بھی آدمی تھے بڑے کام کے-“

دونوں تقریباً سرگوشیوں میں باتیں کر رہے تھے- سیڑھیاں چڑھ کر راجو نے سب سے اوپر زینے سے تیل گرانا شروع کیا اور آدھی سیڑھیوں تک تیل گرا کر زینے چکنے کر دیئے-

”بس اس سے ہی کام چل جائے گا- وہ سیڑھیوں پر آیا تو ڈائریکٹ آخری زینے پر گرے گا- اور جیسے ہی وہ نیچے گرے گا میں اسے گولی مار دوں گا-“ یہ تھا راجو کا پلان-

دونوں واپس آکر کچن کے باہر بیٹھ گئے-

”لیکن راجو- اب کہیں سے کوئی آواز نہیں آرہی-“ وردا نے پھر راجو کا دھیان اس طرف دلایا-

”وہ ضرور گھر کے اندر داخل ہوچکا ہے- کیا آپ کے پاس کوئی ٹارچ ہے؟-“

ِِ”ٹارچ تو ہے – مگر وہ میرے بیڈ روم میں پڑی ہے-‘ ‘ وردا نے کہا-

”آپ کے بیڈ روم میں تو اب ہم جا ہی نہیں سکتے-“

”لیکن مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا ہے- کہیں سے کوئی ہلکی سی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی- بالکل سناٹا ہے- کہیں وہ چلا تو نہیں گیا-“

”بہت شاطر دماغ ہے وہ- ہر حرکت سوچ سمجھ کر کرتا ہے- وہ یہیں کہیں ہے-“ راجو نے کہا-

”راجو تمہیں کیا کہتے ہو- کیا ہم زندگی بھر ساتھ رہ پائیں گے؟-“

”بالکل ساتھ ساتھ رہیں گے اور بہت محبت سے رہیں گے- آپ ایسا کیوں پوچھ رہی ہیں؟-“ راجو بولا-

”مجھے اپنے خواب سے ڈر لگ رہا ہے- تمہیں پتہ ہے قدرت نے مجھے یہ تحفہ دیا ہے- بچپن سے لے کر آج تک میرے کئی خواب سچ ثابت ہوئے ہیں- پیش آنے والے حادثات کی پہلے سے خبر ہوجاتی ہے مجھے- جب سے خواب میں تمہیں درندے کی گولی سے مرتے دیکھا ہے تب سے بہت بے چین ہوں-“

”یعنی کہ آپ بہت پہلے سے میری محبت میں گرفتار ہیں- مگر اب تک دل میں ہی چھپا کر رکھا تھا- حسینوں کی یہی توادا ہے کہ پہلے عاشقوں کو تڑپا تڑپا کر مار ڈالتی ہے پھر کہیں جا کر یہ آئی لو یو کہتی ہیں-

”ایسی بات نہیں ہے راجو- تم سے محبت تو ہوگئی تھی- مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیسے کہوں- دل کی بات زبان پر آکر اٹک جاتی تھی-“ وردا نے اقرار کر ہی لیا-

”مگر آپ کی ان جھیل سی آنکھوں میں ‘ مجھے ہمیشہ اپنے لئے محبت ہی تیرتی نظر آتی تھی- مگر اس وقت تک میں بھی سمجھ نہیں سکا تھا کہ یہ کیا ہے- بس صرف اندازے ہی لگاتا تھا کہ ہو نہ ہو آپ کی آنکھوں میں میرے لئے محبت ہی محبت ہے-“

”ہاں – شاید جو بات زبان نہیں کہہ سکتی- وہ آنکھیں کہہ دیتی ہیں-لیکن یہ سب اپنے آپ ہی ہو رہا تھا- اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کبھی تم سے محبت نہ کرتی-“

”ایسا کیوںکہہ رہی ہیں آپ- کیا میں اتنا برا ہوں؟-“ راجو نے شکایت کرتے ہوئے کہا-

”مجھے تمہاری کچھ باتیں بالکل اچھی نہیں لگتیں- پھر بھی نہ جانے کیوں محبت ہوگئی تم سے-“

”تو کیا اب آپ پچھتا رہی ہیں؟-“ راجو نے حقیقت جاننے کے لئے کہا-

”نہیں پچھتا نہیں رہی ہوں- بس تمہاری حرکتوں سے پریشان ہوں- کیا تم تمیز سے پیش نہیں آسکتے تھے میرے ساتھ-“ اب وردا شکایت کر رہی تھی-

راجو نے وردا کو اپنی طرف کھینچ کر دوبارہ مہر لگانی شروع کر دی-

وردا نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی-

”ہٹو بھی- کیا کر رہے ہو- درندہ آس پاس گھوم رہا ہے اور تم کو شرارت سوجھ رہی ہے-“

”اسی لئے تو کر رہا ہوں ساری شرارتیں- کیا پتہ کل ہو نہ ہو- درندے کے ہوتے ہوئے زندگی کا کیا بھروسہ- کم از کم پچھتاوا تو نہیں رہے گا کہ میں تم کو اپنی محبت کا ثبوت نہیں دے سکا-“ راجو نے ڈھیٹ بنتے ہوئے کہا-

وردا جو اب تک خود کو چھڑانے کی جدوجہد کر رہی تھی- راجو کی یہ بات سن کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی- ”ایسا مت کہو- تمہیں کچھ نہیں ہوگا- میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ میں تمہاری اور صرف تمہاری ہوں- بس تھوڑا صبر کرو-“

”آپ کی یہی باتیں تو مجھے اچھی لگتی ہیں- مگر مجھے بھڑکاتی بھی ہیں اور میں خود کو آپ سے دور نہیں رکھ پاتا-“ راجو نے اپنی مجبوری بتائی-

”تم سچ میں پاگل ہو- چھوڑو مجھے-“

”ہاں- آپ کی محبت میں پاگل ہوچکا ہوں- ہی ہی ہی-“

اسی وقت دھم کی آواز ہوئی اور راجو نے فوراً وردا سے دور ہوکر اپنی پستول اٹھا لی- جبکہ وردا تھر تھر کانپنے لگی تھی-

”یہ کیسی آواز تھی- کیا وہ سیڑھیوں سے گر گیا-“ وردا نے پوچھا-

”نہیں وہ گرنے کی آواز نہیں لگتی- کیونکہ یہ آواز سیڑھیوں کی طرف سے نہیں آئی-

اب انہیں قدموں کی آوازیں سنائی دینے لگی تھیں-

”وہ اوپر ہے راجو- وہ گھر میںگھس چکا ہے-“

ِ”آنے دو اسے- سیڑھیوں سے گر کر اس کی عقل ٹھکانے آجائے گی-“ راجو نے سیڑھیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کہا-

اوپر سے رہ رہ کر کسی کے چلنے کی آوازیں آرہی تھیں- راجو اور وردا سہمے ہوئے ایک دوسرے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے- انہیں ایک ایک لمحہ صدیوں برابر لگ رہا تھا- وردا ہر آہٹ پر کانپ رہی تھی- درندے کا خوف دونوں پر اپنا بھرپور اثر چھوڑ رہا تھا-

”راجو کیا ہم کل کی صبح دیکھ پائیں گے؟-“ وردا نے آہستہ سے پوچھا-

”ہم کل کی صبح ضرور دیکھیں گے- کیونکہ صبح برش کرنے سے پہلے بھی مہر لگانی ہے-“

”یہ کوئی وقت ہے ایسا مذاق کرنے کا-“

”میں سیرئیس ہوں-“

”حد ہے تم سے تو-“ وردا نے چڑ کر کہا-

”وردا جی آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں-“

”میرے منع کرنے کے باوجود تم یہ بار بار میرے نام کے آگے جی کیوں لگا رہے ہو-“ وردا ٹوکتے ہوئے بولی-

”اوہ سوری- وردا- آئندہ خیال رکھوں گا-“

وردا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بے فکر رہیں- وہ درندہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا-“

”مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر اس درندے کو لوگوں کا خون بہا کر کیا حاصل ہوتا ہے-“ وردا نے پوچھا-

”مجھے کیا پتہ کہ کیا ملتا ہے- آج اسی سے پوچھ لیتے ہیں-“

”شش— سنو- یہ پولیس سائرن کی آواز ہے نا-“ وردا نے غور سے سنتے ہوئے کہا-

”ہاں آواز تو پولیس سائرن کی ہی ہے- شاید اس سپاہی نے مرنے سے پہلے وائر لیس پر پیغام بھیج دیا تھا-“ راجو بولا-

”اگر ایسا ہے تو آج وہ درندہ بچنا نہیں چاہئے- بہت ہوچکا اس کا تماشہ- خون خشک کرکے رکھ دیا ہے اس نے-“ وردا اس درندے سے بہت تپی ہوئی تھی- جس نے نہ صرف اس کا جینا دوبھر کر دیا تھا بلکہ اس کے ماں باپ بھی اس سے چھین لئے تھے-

”لیکن عجیب بات تو یہ ہے کہ – اتنی دیر سے وہ درندہ اوپر ہی گھوم رہا ہے- وہ اوپر کر کیا رہا ہے؟-“ راجو بولا-

”کہیں وہ سیڑھیوں کی بجائے کسی اور جگہ سے تو نہیں آرہا-“ وردا نے ڈرتے ہوئے کہا-

”اور کون سا راستہ ہے یہاں تک آنے کا؟-“ راجو نے پوچھا-

”نیچے کئی کھڑکیاں ہیں-“

”آﺅ کمروں کی کھڑکیاں اور دروازے چیک کرتے ہیں- ہم نے خواہ مخواہ اتنا وقت گنوا دیا-“ را جو اٹھتے ہوئے بولا-

”ہاں چلو- مگر نیچے تو کوئی آہٹ سنائی نہیں دے رہی-“وردا سن گن لیتے ہوئے بولی-

”پھر بھی ہمیں ہر کمرے کے دروازے کو لاک کر دینا چاہئے-“ راجو نے مشورہ دیتے ہوئے کہا-

ابھی راجو نے یہ مشورہ دیا ہی تھا کہ گھر کا صدر دروازہ زور زور سے بجنے لگا-

”شاید پولیس پہنچ گئی ہے-“وردا بولی-

”آپ یہیں رکیں- میںدیکھتا ہوں-“

”نہیں- میں تمہارے ساتھ ہی رہوں گی-“

راجو نے وردا کے ساتھ دروازے کے پاس آکر پوچھا- ”کون ہے؟-“

”ریاض میں ہوں رفیق- دروازہ کھولو-“ باہر سے رفیق کی آواز سنائی دی-

راجو نے سکون کا گہرا سانس لے کر دروازہ کھول دیا- ”سر آپ کو پیغام مل گیا تھا؟-“

”ہاں- مگر ہم ذرا لیٹ ہوگئے- وردا کہاں ہے- وہ ٹھیک تو ہے نا-“ رفیق نے پوچھا-

”ہاں رفیق میں بالکل ٹھیک ہوں-“ راجو کے پیچھے کھڑی وردا نے جواب دیا-

”ہم نے پورے گھر کو گھیرے میں لے لیا ہے- ابھی تھوڑی دیر میں لائٹ بھی آجائے گا-“

”سر لگتا ہے درندہ اوپر والے حصے میں ہے- ہم نے اوپر کسی کے چلنے کی آوازیں سنی ہیں-“

”دو سپاہی یہیں رکیں- باقی میرے ساتھ آﺅ-‘ ‘ رفیق نفری لے کر سیڑھیوں کی طرف لپکا-

”سر آپ سیڑھیوں سے اوپر نہیں جا سکتے-“ راجو نے روکتے ہوئے کہا-

”کیوں؟-“ اوپر جانے کے لئے کوئی دوسری سیٹنگ ہے کیا-“

”درندے کو گرانے کے لئے ہم نے سیڑھیوں پر تیل پھیلا دیا ہے- مگر وہ اوپر سے نیچے نہیں آیا- پتہ نہیں وہ اوپر کیا کر رہا ہے-“

”تو کوئی دوسرا بندوبست کرنا پڑے گا-“ رفیق نے یہ کہہ کر ایک دو سپاہیوں کو کہیں سے لکڑی کی سیڑھی لانے کا کہا-

سپاہیوں کو زیادہ وقت نہیں لگا اور پڑوس میں سے ایک لمبی سیڑھی مل گئی- وہ سیڑھی وردا کے کمرے کی کھڑکی سے لگا دی گئی- اتنی دیر میں بجلی کا سسٹم بھی ٹھیک کر دیا گیا تھا-

”ریاض تم وردا کے ساتھ ہی رہو اور نیچے ہر طرف نظر رکھو–“

”اوکے سر-“

رفیق اوپر پہنچا تو حیران رہ گیا- وردا کے کمرے میں اس کے بستر پر ایک پینٹنگ پڑی ہوئی تھی- مگر درندہ کہیں نظر نہیں آرہا تھا-

”ہر طرف تلاشی لو- وہ یہیں کہیں ہونا چاہئے-“ رفیق نے سپاہیوں سے کہا-

رفیق نے پینٹنگ کو غور سے دیکھا- اس پینٹنگ میں ایک لڑکی گھٹنوں پر سر ٹکائے بیٹھی تھی اور اس کی پیٹھ میں خنجر دھنسا ہوا تھا- لڑکی کا چہرہ وردا سے ملتا جلتا تھا- جبکہ اس کے چاروں طرف ہری ہری گھاس پھیلی ہوئی تھی-

”سر یہاں کوئی نہیں ہے-“ ایک سپاہی نے آکر رپورٹ دی-

”ایسا کیسے ہوسکتا ہے- دوبار ہ اچھی طرح سے تلاشی لو-“

رفیق نے خود بھی ان کے ساتھ بالائی منزل کی اچھی طرح تلاشی لی مگر درندہ کب کا وہاں سے جا چکا تھا-

”کیا ہمارے آتے ہی نکل گیا—اگر اتنا ہی ڈرتا ہے تو ایسا کام ہی کیوں کرتا ہے-“ رفیق نے سوچا-”راجو بتا رہا تھا کہ وہ بہت دیر سے اوپر تھا- وہ یہاں کیا کر رہا تھا؟—- تو کیا وہ یہاں وردا کے لئے نہیں آیا تھا؟—- کیا وہ صرف یہ پینٹنگ رکھنے یہاں آیا تھا؟— یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے سائرن کی آواز سن کر بھاگ گیا ہو- — یہ درندے کا مایا جال ہے- کچھ بھی ہوسکتا ہے-“

گھر کے ارد گرد چاروں طرف دور تک دیکھا گیا مگر درندے کا کوئی نشان نہیں ملا-

”وہ وردا کے کمرے کی کھڑکی سے اندر داخل ہوا تھا- کھڑکی کے پٹ ٹوٹے ہوئے ہیں-“ رفیق نے راجو اور وردا کو بتایا-

”سر وہ بہت دیر تک اوپر رہاتھا- وہ اوپر اتنی دیر تک کیا کرتا رہا؟-“ راجو نے پوچھا-

”اوپر ایک پینٹنگ پڑی ہوئی ہے- لیکن وہ یہاں آکر تو نہیں بنائی ہوگی اس نے- پتہ نہیں وہ اتنی دیر تک اوپر کیا کرتا رہا- شاید وردا کے دل میں اپنی دہشت کو مزید بڑھانا چاہتا ہوں- یا پھر وہ تھوڑی دیر بعد نیچے آتا مگر پولیس کو آتا دیکھ کر نکل گیا-“

” سر میرے ساتھ یہاں جتنے بھی سپاہی ڈیوٹی پر تھے وہ سب مارے جا چکے ہیں- لیکن فائر کی آواز تک نہیں آئی-“ راجو نے کہا-

”سائیلنسر استعمال کیا ہوگیا کمینے نے- بہت برا ہو رہا ہے- وہ پولیس والوں کو مارتا جا رہا ہے اور پولیس اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں پا رہی ہے-“

”سر اگر وہ سیڑھیوں سے نیچے اترنے کی کوشش کرتا تو آج بچتا نہیں- ہم نے سیڑھیاں اسی لئے چکنی کر دی تھیں- لیکن وہ ہمارے جال میں پھنسا نہیں-“

”میں دوسرے سپاہی چھوڑ دیتا ہوں تمہارا ساتھ دینے کے لئے- اب میں چلتا ہوں ایک راﺅنڈ لیتا ہوں- اور دیکھتا ہوں کہ اس نے نکلنے کے لئے کون سا راستہ استعمال کیا ہوگا-“

رفیق نے چار سپاہی اور دو گن مین راجو کے پاس چھوڑے اور خود اپنی جیپ میں بیٹھ کر وہاں سے چلا گیا- موبائل جیمر کا کچھ پتہ نہیں چلا- ویسے فون کے سگنل واپس آگئے تھے- شاید درندہ اپنا جیمر واپس لے گیا تھا-

رفیق کے جانے کے بعد راجو نے سپاہیوں اور گن مینوں کو ان کی ڈیوٹی پر تعینات کر دیا-اور سب کو ہوشیار رہنے کا حکم دے کر وہ واپس وردا کے پاس آگیا-

”اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کے ساتھ ہی رہنا چاہوں گا-“

”نہیں تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے- تمہارا کوئی بھروسہ نہیں ہے-“ وردا نے زور سے نا میں گردن ہلاتے ہوئے کہا-

”مگر اب میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا- پتہ نہیں وہ درندہ کیا گیم کھیل رہا ہے- مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے-“ راجونے اپنے اندیشے کا اظہار کیا-

”کیسی گڑبڑ؟-“

”دیکھئے – اس نے یہاں موجود ہر محافظ کو مار دیا تھا- صرف میں اور آپ بچے تھے- سب کچھ اس کے کنٹرول میں تھا- پھر بھی وہ بس ایک پینٹنگ رکھ کر چلا گیا- کچھ عجیب سا لگتا ہے- مجھے تو یہ اس کی کوئی بہت ہی خطرناک گیم لگتی ہے جو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے-“

ِ”مجھے ڈرانے کی کوشش مت کرو-“ وردا نے تھرتھری لے کہا-

”آپ کچھ بھی کہیں- لیکن اب میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا- ہر وقت آپ کے ساتھ ہی رہوں گا- یہیں گھر کے اندر-“ یہ راجو کا فیصلہ تھا-

”تم یہ سب جان بوجھ کر بول رہے ہو تاکہ تمہیں میرے ساتھ چھیڑخانی کرنے کے موقعے ملتے رہیں- ہیں نا؟-“

”آپ کی قسم کھا کر کہا ہوں- ایسے کسی خیال سے نہیں کہہ رہا- مجھے سچ میں گڑبڑلگ رہی ہے-“ راجو نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے پھر- میں امی ابو کے کمرے میں سو جاتی ہوں- تم اس والے کمرے میں سو جاﺅ-“ وردا نے اسے کمرہ دکھاتے ہوئے کہا-

”نہیں- یہ نہیں چلے گا-“

”تو کیا ہر وقت میرے ساتھ چپک کر رہو گے-“ وردا نے چڑ کر کہا-

راجو نے وردا کو اپنی بانہوں میں بھر لیا- ”تو آپ کے ساتھ چپک کر رہنے میں برائی ہی کیا ہے- ہم محبت کرتے ہیں ایک دوسرے سے-“

”ہاں- مگر ابھی تک ہماری شادی نہیں ہوئی ہے- او ر تم پر پاگل پن سوار ہے- مجھے تم سے ڈر لگنے لگا ہے-“

”کس بات کا ڈر؟-“

”چھوڑو – تم نہیں سمجھو گے-“

”ٹھیک ہے آپ اپنے والدین کے کمرے میں سوجائیں- میں دروازے کے باہر چادر بچھا کر لیٹ جاتا ہوں- یہ تو ٹھیک رہے گا نا- یا پھر اس میں بھی کوئی دقت ہے-“ راجو بھی چڑ گیا تھا-

”مگر تم زمین پر کیسے سو سکو گے؟-“

”آپ کی خاطر کہیں بھی سو جاﺅں گا- اور ویسے بھی مجھے جاگتے رہنا ہے- دماغ کی دہی کر دی ہے اس درندے نے- سب کو مار کر گھر میں گھسا اور بغیر کسی ہنگامے کے چپ چاپ واپس چلا گیا- اس پہیلی کو سلجھانا ہوگا- مجھے نیند نہیں آئے گی- آپ بے فکر ہو کر سوجائیں-“ راجو کا دماغ ابھی بھی درندے کی گیم میںاٹکا ہوا تھا-

”ٹھیک ہے – جیسی تمہاری مرضی- نیند تو شاید مجھے بھی نہیں آئے گی- پھر بھی سونے کی کوشش کرتی ہوں- سر بھی بہت بھاری ہو رہا ہے-“ وردا اپنی پیشانی مسلتی ہوئی بولی-

”اوکے گڈ نائٹ-“

وردا نے راجو کو ایک چادر اور تکیہ دے دیا اور اپنے بیڈ روم میں جاتے ہوئے بولی- ”اگر یہاں نیند نہ آئے تو اس دوسرے والے بیڈ روم میں جاکر سوجانا-“

”جی بہتر- اور اگر آپ کو نیند نہ آئے تو میرے پاس آجانا- لوری سنا کر سلادوں گا-“ راجو نے مسکراتے ہوئے کہا-

”میں سب جانتی ہوں تمہاری لوری-“ یہ کہہ کر وردا نے کمرے کا دروازہ بند کر لیا-

راجو بھی اس کمرے کے دروازے کے پاس چادر بچھا کر لیٹ گیا- وہ گہری سوچوں میںڈوبا ہوا تھا-

”وہ درندہ کیا چاہتا ہے— وہ ہر بار ایک نیا گیم ہی کھیلتا ہے— اس بار کیا گیم ہے اس کی— میں بھی پتہ لگا کر ہی رہوں گا- چاہے کچھ بھی ہوجائے-“

راجو کے دماغ ایسی کئی سوچیں مچل رہی تھیں اور نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی- جو بھی ہوا تھا سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا- اس لئے وہ کچھ زیادہ ہی الجھ رہا تھا-

”وہ یہاں صرف ایک پینٹنگ رکھنے نہیں آیا تھا— کیا وہ صرف اتنے سے کام کے لئے چھ چھ پولیس والوں کو مارنے کا خطرہ مول لے سکتا تھا— اور جب سب کچھ اس کے کنٹرول میں آگیا تو وہ بغیر کچھ کئے چلا گیا- بس یہی بات کچھ عجیب سی لگ رہی ہے-“ راجو نے سوچا-

اندر وردا بھی بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی- نیند اس کی آنکھوں سے بھی دور بھاگ چکی تھی- اس کے دل و دماغ درندے کا خوف چھایا ہوا تھا-

اچانک وہ چونک کر خود سے مخاطب ہوئی- ”مجھے اتنے آرام دہ بستر پر نیند نہیں آرہی تو راجو کو زمین پر کیسے نیند آسکتی ہے؟-“

کچھ سوچ کر وہ بیڈ روم سے باہر آئی- ”تم جاگ رہے ہو؟-“

”آپ کے بنا نیند کیسے آئے گی-“

”بکو مت— میں یہ کہنے آئی تھی کہ دوسرے بیڈ روم سے گدا لے آﺅ- فرش پر نیند کیسے آئے گی؟-“

راجو اٹھ کر وردا کے پاس آیا اور اس کے رخسار پر ہاتھ پھیرتا ہوا بولا- گدے کو ماریں گولی- او ر آپ یہاں آجائیں- سچ تو یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے بغیر نیند نہیں آئے گی-“

”مجھے تو اس درندے نے جگا رکھا ہے- پتہ نہیں وہ کیا چاہتا ہے؟-“

”وہ کچھ بھی چاہتا ہو- میں تو آپ کو چاہتا ہوں نا— کیا آپ مجھ سے دوری برداشت کر لیتی ہیں؟-“ راجو نے اس کی آنکھوں میں جھانکا-

”ہاں- بلکہ تم سے دوری تو دل کو سکون دیتی ہے-“ وردا نے ہنستے ہوئے کہا-

”اچھا- اگر میں ہمیشہ کے لئے آپ سے دور ہوجاﺅں- تب تو آپ کی زندگی سکون سے بھر جائے گی – ہے نا-“

وردا نے راجو کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا- ”چپ رہو- مذاق کر رہی تھی میں-“

راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑ کر کہا- ”آئیں نا ساتھ لیٹ کر پیاری پیاری باتیں کرتے ہیں- ویسے بھی ہمیں نیند تو آئے گی نہیں- تو کیوں نہ ساتھ رہ کہ یہ رات گزار لیں-“

”نہیں راجو- مجھے نیند آرہی ہے- مجھے جانے دو-“

”جھوٹ— محبت کرنے والے تو بہانہ ڈھونڈتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا- نیند آئے گی تو یہیں سوجانا-“ راجو نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

”راجو تم سمجھتے کیوں نہیں ہو- چھوڑو-“ وردا نے غصے سے کہا-

”آپ کو صرف ساتھ رہنے کا کہہ رہا ہوں کوئی سہاگ رات منانے کا تو نہیں کہہ رہا- جانا ہے تو جائیں- مجھے تو نیند نہیں آرہی-“ راجو نے وردا کا ہاتھ چھوڑ دیا-

راجو فرش پر بچھی ہوئی چادر پر آکر لیٹ گیا اور وردا اسے دیکھتی رہی- عجیب صورتحال سے دوچار ہوگئی تھی وہ- راجو کو ناراض بھی نہیں دیکھ سکتی تھی اور اس کے پاس بھی نہیں جا سکتی تھی-

”اس کے پاس جاکر کیسے لیٹ جاﺅں— اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے-“ وردا نے سوچا-

راجو آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹا ہوا تھا- ظاہر یہ کر رہا تھا کہ وہ وردا سے سخت ناراض ہے- وردا وہیں کھڑی کشمکش میں مبتلا رہی- کچھ سوچ کر وہ آگے بڑھی اور راجو کے پاس آکر بیٹھ گئی اور دھیرے سے بولی- ”ناراض ہوگئے کیا؟-“

راجو نے کوئی جواب نہیں دی اور خاموش لیٹا رہا-

”کیا مجھ سے بات بھی نہیں کرو گے-“ وردا نے بڑی معصومیت سے کہا-

”اوہ آپ— آپ کب آئیں- مجھے تو نیند آگئی تھی-“ راجو نے بناوٹی لہجے میں کہا-

”بتاﺅ- ناراض ہو کیا؟-“ وردا نے پھر پوچھا-

”آپ سے ناراض ہوکر کہاں جاﺅں گا- مجھے پتہ تھا کہ آپ ضرور آئیں گی-“

”تمہیں کیسے پتہ تھا؟-“ وردا نے حیرت سے پوچھا-

”میں محبت کرتا ہوں آپ سے- کوئی مذاق نہیں-“

”تم آخر چاہتے کیا ہو؟-“

”جب آپ نے مجھ سے محبت کا اظہار کر ہی دیا ہے تو خود کو ایک ان دیکھے خول میں کیوں بند کر رکھا ہے- مجھے الجھن ہونے لگی ہے آپ کے اس بناوٹی خول سے— اور خول ہٹنے پر بھی ایک مہر لگنی چاہئے-“

”راجو آئی ہیٹ یو-“

”مذاق کر رہی ہیں آپ- ہیں نا-“

”یہ مذاق نہیں ہے-اگر تم نے محبت اور ہوس میں تفریق نہیں رکھی تو میری محبت نفرت میں بدل جائے گی-“

”اوکے سوری— محبت میں دوری سہہ لوں گا مگر مجھے کسی بھی قیمت پر آپ کی نفرت قبول نہیں ہے-“

”شادی ہوجانے دو- پھر سب دوریاں مٹ جائیں گی- سمجھتے کیوں نہیں ہو-“

”مجھے تو شک ہے کہ شادی کے بعد بھی ہم نزدیک نہیں آسکیں گے-“ راجو یہ بول کر کروٹ بدل کے لیٹ گیا-

”کوئی ڈھنگ کی بات سمجھاﺅ تو ناراضگی دکھانے لگتے ہو- شرارت بھی خود کرتے ہو اور ناراض بھی خود ہوتے ہو- یہ توسراسر زیادتی ہے-“ وردا نزدیک آکر لیٹ گئی-

”مجھ سے دور ہی رہو— مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے- نہ اب نہ شادی کے بعد-“ راجو ابھی بھی روٹھا ہوا تھا-

”میں محبت کرتی ہوں تم سے- کوئی مذاق نہیں- کیوں دور ہٹوں- ہاں میں اتنا آگے نہیں بڑھ سکتی- جتنا تم چاہتے ہو- مگر میں بھی تم سے دور نہیں رہ سکتی-“

”ہا ہا ہا- ایسا جوک آج تک نہیںسنا میں نے- ایسا جوک دوبارہ مت سنانا- ہنستے ہنستے میرے پیٹ میں بل پڑ جائیں گے-“

”میں مذاق نہیں کر رہی ہوں- کاش تم مجھے سمجھ پاتے-“ وردا کا لہجہ جذباتی ہو رہا تھا-

راجو نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا- وہ سسک رہی تھی-

”ارے ان جھیل سی آنکھوں میں محبت کی بجائے آنسو کیوں بھر لئے- پیار محبت میں چھوٹی موٹی لڑائی تو چلتی رہتی ہے-“ راجو نے اسے پچکارتے ہوئے کہا-

”چلتی ہوگی- مگر اب مجھ سے تمہاری ناراضگی برداشت نہیں ہوتی-“ وردا کی باتوں میں ایسی معصومیت تھی جو راجو کے دل کے تاروں کو چھو گئی-

راجو نے جیپ سے رومال نکالا اور اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولا- بس چپ ہوجاﺅ- مگر میں بھی کیا کروں- اپنی فطرت سے مجبور ہوں- مجھ سے کنٹرول نہیں ہوتا- پلیز مجھے غلط مت سمجھنا- میری ہر بات محبت ہے- صرف اور صرف محبت- اور یہ محبت زندگی بھر نبھاﺅں گا-“ راجو بھی جذباتی ہو رہا تھا-

دونوں ایک دوسرے کی آنکھوںمیں کھو گئے- اور اس قدر ڈوب گئے ایک دوسرے میں کہ درندے کا خوف بھی ان کے دل سے نکل گیا- کب نیند نے دونوں کو اپنی آغوش میں لے لیا‘ انہیں پتہ ہی نہیں چلا-

صبح آٹھ بجے جب دودھ والے نے بیل بجائی تو وردا کی آنکھ کھلی- راجو اس کے برابر میں خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا-اور اس کا ایک ہاتھ وردا کے اوپر تھا- وردا نے دھیرے سے اس کا ہاتھ ہٹایا تو اس کی آنکھ کھل گئی-

”کیا ہوا؟-“

”صبح ہوگئی اور کیا ہوا-“

”ارے ہم دونوں ساتھ ہی سو گئے- مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے-اب اتنی صبح کون آیا ہے؟-“

”شاید دودھ والا ہے-“

”مجھے اتنی گہری اور پرسکون نیند زندگی میں کبھی نہیں آئی- اب تو مجھے اپنی آنے والی زندگی بہت حسین لگنے لگی ہے- میری زندگی میں آنے کا شکریہ-“ راجو نے وردا کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا-

وردا شرما گئی اور اٹھ کر دودھ لینے چلی گئی- جبکہ راجوآنکھیں بند کرکے دوبارہ حسین خیالوں میں کھو گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں.. مبشرہ انصاری .. قسط نمبر 3

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 3 ”یہ جو کچھ بھی تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے