سر ورق / کہانی / انتہا۔۔ مہتاب خان

انتہا۔۔ مہتاب خان

  انتہا

آخری قسط 

           رامین کو ملک امتیاز کی موت کا کسی طرح یقین نہیں آ رہا تھا- پولیس نے خیال ظاہر کیا تھا کہ اس کی موت کثرت شراب نوشی کے باعث ہوئی تھی- رامین کے ذہن میں داؤد پراچہ کے وہ الفاظ گونجنے لگے ” تم آستین کا سانپ ہو- تمہارا منہ میں خود کچلوں گا-” رامین نے اپنا موبائل اٹھایا اور ارسلان کا نمبر ڈائل کرنے لگی- دوسری طرف گھنٹی مسلسل بج رہی تھی کچھ دیر بعد ارسلان کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ابھری-

         ” ہیلو -"

         ” ارسلان ملک امتیاز مارا  گیا-” وہ تیزی سے بولی-

         ” کیا؟ کب ؟”

         ” کل رات …….. مجھے یقین ہے اسے قتل کیا گیا ہے- داؤد نے میرے سامنے اسے دھمکیاں دی تھیں-"

         ” مگر مچھوں کی لڑائی میں یہ تو ہونا تھا- بہرحال تم اس معاملے میں خاموش رہنا- کسی قسم کا کوئی بیان کسی کو نہیں دینا…….سمجھ گئیں نہ؟”

         ” ہوں-” اس نے فون بند کر دیا- رامین سے وابستہ افراد میں یہ دوسرا قتل تھا-

          را مین نے شاور بند کیا- اس کے بدن پر گرنے والی پھوار کا سلسلہ رک گیا تھا- پانی کی ننھی منی بوندیں اس کے سنہرے جسم پر روپہلے موتیوں کی طرح جھلملا رہی تھیں- پھر نہ جانے کیا ہوا کہ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی سی بہنے لگی اور رخساروں پر آبی لکیریں بناتی نیچے کو ڈھلکنے لگیں  یکلخت اس کے منہ سے ہچکی برآمد ہوئی-

          ” میں تھک گئی ہوں میرے معبود میرا حوصلہ ٹوٹ گیا ہے اور برداشت جواب دے چکی ہے-الہی میری عقل بے مصرف ہو گئی ہے-اور اب تیرے سوا میرا کوئی سہارا ہے نہ آسرا کوئی راستہ دکھا دے -میرے مالک – لب ساکت ہوئے تو دل متحرک ہو گیا- اس نے سر جھکا کر آنکھیں کھول دیں- اس کے ہاتھ واش بیسن کے کناروں پر ٹکے تھے اور ذہن ماضی کی کوتاہیوں کو کھنگال رہا تھا-

                                                                      …………………………………………………………………………………………………………………

           وجاہت، دولت اور طاقت کے طلسمات فواد بھاگوانی کی شخصیت میں یوں مرکوز تھے کہ اس کے آگے حسینوں مہ جبینوں کا میلہ سا لگا رہتا تھا- دفتر کا لیڈیز اسٹاف آنے بہانے اسے دیکھنے اور بات کرنے کو بے تاب رہتا تھا مگر وہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا- اس کی توجہ کا مرکز تو صرف وہ تھی-

           فواد جس نے دنیا دیکھی تھی مگر رامین جیسا حسن کہیں نہیں دیکھا تھا- جب سے اس نے رامین کو دیکھا تھا اس دوران کوئی ساعت ایسی نہیں تھی جب رامین کا خیال اس کے دل و دماغ سے محو ہوا ہو-

           ” میں یہاں صرف تمھاری وجہ سے آتا ہوں مجھے اس دنیا کی چکا چوند یا تمھاری شہرت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے- میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تمہیں اس بات پر قائل کرنے آیا ہوں کہ آؤ ہم دونوں مل کر اس زندگی کو گلزار بنا دیں اور اس سے کہیں بہتر بنا دیں جیسی کہ یہ ہے-” فواد نے کہا تو رامین بھنا گئی اور اس نے فواد کو سخت سست سنا دیں تھیں- اس واقع کی اطلاع جب داؤد پراچہ کو ملی تو اس نے رامین کو اپنے دفتر میں طلب کیا تھا-

          ” تمہیں خبر نہیں کہ فواد بھاگوانی کس بھوت کا نام ہے- میری تو عقل کام نہیں کر رہی ہے-” رامین حیرت سے باس کو دیکھ رہی تھی-

          ” کیا مطلب سر وہ بھی دوسرے کلائنٹس کی طرح ایک کلائنٹ ہے-” داؤد پراچہ کی موٹی موٹی آنکھوں میں تمسخر کا تاثر نمایاں ہو گیا- "کوئی اور موقع ہوتا تو میں تمھاری اس کامیڈی کو انجواۓ کرتا-” اس نے کہا پھر سگریٹ جلائی اور گہرا کش لیتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولا-

          ” بی بی فواد ہمارے جیسے درجنوں ادارے خرید کر بند کروا سکتا ہے اور اس کا باپ ہاروں بھاگوانی جو اس ملک کا سب سے بڑا بینکر ہے- وہ ایک دھیلا خرچ کے بغیر میری پوری پراپرٹی پر قابض ہو سکتا ہے-” رامین منہ کھولے اس کی صورت تک رہی تھی-

        ” ابھی ایسے اسٹیچو بن کر کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے میرے آگے-” داؤد اپنی مخمور آنکھیں اس کے وجود پر گاڑتے ہوئے بولا-

        ” سر  آئ کین سولو دس پرابلم-” رامین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا – داؤد پہلے چونکا پھر ٹٹولتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ کر معانی خیز لہجے میں بولا-

        ” ویسے کس بات پر تم نے اس سے بد تمیزی کی تھی؟ کوئی اور چکر تو نہیں ہے؟”

        ” جی نہیں-” وہ ڈھٹائی سے بولی-” صرف مس ہینڈ لنگ کا معاملہ ہے مجھے غصّہ نہیں کرنا چاہے تھا-میں فواد صاحب سے معافی مانگ لوں گی-"

        داؤد کا شک دور ہو گیا تھا- کچھ دیر بعد وہ نرمی سے بولا-

       ” دیکھو میں فواد کو خالی اس لیے امپورتنس نہیں دے رہا کہ وہ ایک طاقتور گھرانے کا آدمی ہے بلکہ اس واسطے بھی کہ اس نے صرف چند ماہ میں ہمیں کروڑوں کا بزنس دیا ہے یعنی بچھڑا دودھ دے رہا ہے سمجھ داری سے کام لو ہمیں اس کے نخرے برداشت کرنے پڑیں گے-"

      ” یس سر-” رامین کو پتا بھی نہ چلا کہ وہ کب باس کے کمرے سے نکلی تھی اور کس طور اپنے کمرے میں پہنچی تھی- اس کا ذہن منتشر تھا اور دل بوجھل- وہ اپنے کیریئر کے اس موڑ پر تھی جہاں وہ محبت یا شادی کے بندھن میں بندھنا نہیں چاہتی تھی مگر اب اس کے پاس فواد کی پر خلوص پیش کش پر شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی- اس کو واقعی یہ ضرورت نہیں تھی کہ یوں کسی کو اپنی محبت اور خلوص کا یقین دلاتا پھرے – یوں کہنے کو وہ باس سے کہ تو آئ تھی کہ آپ فکر نہ کریں میں سنبھال لوں گی مگر اب جو اس نے سوچنا شروع کیا تو اس کو منانے کے راستے میں اس کا اپنا مزاج حائل تھا- پہلے اس نے سوچا کہ فواد سے فون پر بات کرلے پھر اس نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا- کئی گھنٹوں کی سوچ بچار کے بعد اس نے فواد کے گھر جانے کا فیصلہ کیا-

        فواد کا شاندار بنگلہ اس شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع تھا- اسے اپنے سامنے دیکھ کر وہ حیرت زدہ رہ گیا اور کچھ کہے بغیر اس کے مقابل صوفے پر جا کر بیٹھ گیا- وہ بیٹھی ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جا رہی تھی-

         ” آپ مجھ سے ناراض ہیں؟” بلآخر رامین نے اسے مخاطب کیا-

         ” میں تو صرف تمہیں اپنی بے لوث محبت کا یقین دلانا چاہتا تھا- مگر تم نے میرا تماشا بنا کر مجھے بہت دکھ دیا ہے- تم انکار کر سکتی تھیں میں کبھی تمھارے راستے میں نہ آتا-” فواد نے دکھ بھرے لہجے میں کہا –

         ” میں اپنی بد سلوکی کی معذرت کرنے ہی یہاں آئ ہوں- اس ہنگامے کے بعد داؤد صاحب نے مجھے بلایا تھا- اس مقام تک پہنچنے کے لیے میں نے بڑی محنت کی ہے-” وہ بے ربط انداز میں بولی-

         فواد جواب دینے کے بجائے اسے متسفنہ انداز میں دیکھنے لگا- اس کے چہرے پر موجود سنجیدگی میں غصے کی سرخی بھی شامل ہو گئی تھی-

         ” آپ داؤد صاحب کے کہنے پر یہاں آئ ہیں؟” پھر اس جواب سنے بغیر اس نے ٹراؤزر کی جیب سے سیل فون نکالا اور کوئی نمبر پنچ کرنے لگا- کچھ توقف کے بعد اس کے بھنچے ہوئے لب متحرک ہوئے-

         ” ہیلو مسٹر داؤد میں فواد بات کر رہا ہوں- جی جی مس رامین کا فون آیا تھا میرے پاس ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے دراصل اس دن میں ہی کچھ اپ سیٹ تھا آپ کا کام ڈسٹرب نہیں ہو گا- نہیں میں بالکل ناراض نہیں ہوں-"

         وہ فون بند کر کے واپس مڑا تو اس کی آنکھیں بول رہی تھیں- وہ بولا تو اس لہجے میں بے نیازی تھی-

         ” میرا خیال ہے آپ کا کام ہو گیا-” وہ پتھر کے بت کی طرح جہاں کی تہاں کھڑی رہی- اسے اپنا یہاں آنا اور اپنی باتیں بڑی بچکانہ لگ رہی تھیں اور فواد کی پر خلوص محبت کو کھو دینے کے قابل ملامت احساس نے اس کے دل میں دیوانہ وار واویلا مچا دیا تھا- اس نے اپنی لمبی اور گھنی  پلکیں اٹھا کر دیکھا وہ لاتعلق سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا-

        ” میں نے آپ کے خلوص پر شک نہیں کیا تھا- دراصل میں آپ سے خوف زدہ تھی- بھاگ رہی تھی آپ سے- میں جانتی تھی کہ آپ کی شدید محبت کے سامنے میں ہار جاؤں گی- لیکن شاید مجھے دیر ہو گئی-"

        یہ کہتے ہی وہ مڑی اور شکستگی کے عالم میں سر جھکائے دروازے کی سمت بڑھنے لگی- فواد پشت پر ہاتھ باندھے اسے جاتا دیکھتا رہا لیکن اس سے قبل کہ وہ باہر نکل جاتی فواد نے جھٹ آگے بڑھ کر اسے شانوں سے تھام لیا- اس کا رخ نرمی سے اپنی جانب پھیرا اور بولا-

       ” تم نے معافی تو مانگی ہی نہیں اور نہ میں نے تم کو معاف کیا ہے-” وہ بانہیں پھیلائے اس کی طرف بڑھا- اس کی غلافی آنکھوں میں بھرپور شرارت تھی-

        بانہوں کے حلقے میں قید رامین بری طرح مچلی اور جب کوشش کے باوجود خود کو آزاد نہیں کر پائی تو دونوں ہاتھ فواد کے سینے پر رکھے اور پوری قوت سے اسے پیچھے دھکیلا-

        وہ اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا- عقب میں رکھی میز سے وہ الجھا اور دھڑام سے چاروں شانے چت گر گیا- میز پر رکھا شیشے کا نازک گلدان اس کے سر پر گر کر چکنا چور ہو گیا- اس کے یوں بری طرح گرنے سے رامین کے ہاتھ پاؤں پھول گئے- وہ بھاگتی ہوئی آئ  اور اس کے سر پر سے گلدان کی باقیات ہٹانے لگی- تشویش سے اس کا جائزہ لینے کے بعد وہ پریشانی سے بولی-

       ” آپ کے ماتھے سے تو خون نکل رہا ہے-"

       ” کوئی بات نہیں سات خوں معاف ہیں تم کو جانم -” وہ والہانہ انداز میں اس کا ہاتھ تھام کر بولا- ” کیا کروں تم سے محبت ہو گئی ہے- کرتا رہوں گا ہمیشہ مرتے دم تک-"

        رامین کا سارا لہو سمٹ کر چہرے پر آ گیا تھا- محبت کے خد و خال واضح ہو گئے تھے- زندگی میں جس شے سے وہ ہمیشہ کتراتی آئ تھی اب وہی اس کے لیے زندگی کا سب سے پر کیف طلسم بن گئی تھی- مسرت کا کوئی مست اور سرکش احساس تھا جو اس کے چہار سو پھیلا ہوا تھا- فواد بدستور آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا- وارفتگی اور سپردگی کا نہ جانے وہ کون سا لمحہ تھا کہ وہ جھکتی چلی گئی- اگلے لمحے فواد کا چہرہ اس کی زلفوں کی گھٹا وں میں چھپ چکا تھا-

        یہ شاید ان کی دوسری یا تیسری ملاقات تھی جب فواد نے اس سے کہا تھا-

       ” میں اپنے والدین کو تمہاری امی کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں بتاؤ کب بھیجوں؟”

       ” میرے چند خدشات ہیں انہیں دور کردو پھر ………” وہ جھجھکتے ہوئے بولی تھی-

       ” خدا کی پناہ تمہیں اب بھی میرے خلوص کا اعتبار نہیں-” فواد ششدر رہ گیا-

       ” بس اتنا یقین دلا دو کہ مجھے ہمیشہ اہمیت دو گے- میری ذات کی نفی نہیں کرو گےاور کبھی میری آزادی اور خودمختاری کو چیلنج نہیں کرو گے- اس مقام تک پہنچنے کے لیے میں نے بہت محنت کی ہے تم مجھے کبھی جاب سے منع نہیں کرو گے-” اس کے احساس عدم تحفظ پر فواد کا دل پگھل گیا اور وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر تحمل سے بولا-

       میں  اور تمہاری خواہشات کی راہ میں کبھی نہیں آؤں گا- بس مجھے تمہارا ساتھ تمہاری توجہ اور تمہاری محبت چاہئے- رامین ہتھیلی پر چہرہ ٹکائے بڑی آسودہ مسکراہٹ سے اسے تک رہی تھی-

       ” ٹھیک ہے تم اپنے والدین کو بھیج دو ویسے بھی تمہیں بڑی جلدی ہے-"

       ” اور تمہیں؟”

       ” میں -” رامین اترائی ” مجھے کوئی جلدی ہے نا خواہش-” وہ کندھے اچکا کر بولی-

       ” تم جانتی ہو میں کل کا کام بھی آج ہی کر ڈالتا ہوں-” وہ اس کی طرف بڑھا تو رامین نے اسے پیچھے دھکیلا اور اٹھ کھڑی ہوئی-

       ” میں چلتی ہوں بہت دیر ہو گئی-” وہ ہنستے ہوئے بولی-

                                                                                         …………………………………………………………………………

       میمونہ ہارون بیڈ پر لیٹی چھت پر بنے فرانسیسی گلاس ورک کو تک رہی تھیں- ماتھے پر پڑنے والے بل ان کی گہری سوچ کا پتہ دے رہے تھے اور ہموار سانس کبھی کبھار بے ترتیب ہو کر خواب گاہ کا گہرا سکوت توڑ رہیتھی-

        برابر میں نیم دراز ہارون بھاگوانی نے فائل ایک طرف رکھ کر بیوی کو بغور دیکھا اور فکر مندی سے بولے-

        ” کیا بات ہے ہنی کیا سوچ رہی ہو؟”

        ” فواد کے بارے میں سوچ رہی تھی-” میمونہ شوہر کی طرف کروٹ بدل کر بولیں- ” تمہیں پتا ہے وہ شادی کر رہا ہے-"

        ” ہاں وہ مجھے بتا چکا ہے کوئی ٹی وی اینکر ہے-” ہاروں چشمہ اتارتے ہوئے بولے- ” کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟”

        ” کیوں تمہیں اعتراض نہیں؟”

        ” میرا خیال ہے یہ اس کی لائف ہے جس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اسے ہونا چاہیئے -زندگی اسے گزارنی ہے-"

        ” مجھے اعتراض ہے تم اس لڑکی کو نہیں جانتے- بہت تیز و طرار لڑکی ہے اور پھر میڈیا سے تعلق سونے پر سہاگہ …………. اور اس کی کلاس بھی تو دیکھو- میرا خیال ہے فواد کو اپنی کلاس میں شادی کرنی چاہیے- وہ اپنے حلقے کی اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ آسانی سے ایڈجسٹ کر سکتا ہے- اس جیسی لڑکیاں گھر نہیں بساتیں- کچھ ہی عرصے میں وہ فواد کے لیے ناقابل برداشت ہو جائے گی-"

        ” تم ٹھیک کہ رہی ہو-” ہارون نے استفہامیہ انداز میں گردن ہلاتے ہوے کہا- مگر کیا کریں فواد ہمارا اکلوتا بیٹا ہے اور تمیں پتا ہے کہ وہ کس قدر ضدی ہے جو ٹھان لیتا ہے وو کر کے چھوڑتا ہے- اسے کسی بات پر قائل نہیں کیا جا سکتا –

          ” ہاں وہ کچھ زیادہ ہی ضدی ہو گیا ہے….. میں اسے سمجھانا چاہتی تھی مگر اس سے بات کی توالٹا یوں لگا جیسے میں اور تم والدین بننے کے اہل ہی نہیں تھے-"

          ہارون نے چونک کر پوچھا-

          "کیا مطلب؟”

          ” اس کی شکایات عجیب تھیں-” وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوے بولیں-

          ” اس وقت تو میں  ہنس کر ٹال گئی تھی لیکن اب سوچ رہی ہوں تو اسٹرینج فیل  ہو رہا ہے وہ کہہ رہا تھا اس کا گھر ہمارے گھر سے مختلف اور مثالی ہوگا جہاں اس کے بچے زندگی کے سچے جذبوں سے آشنا ہوں گے وہ انہیں بہترین شخصیت میں ڈھالے گا انہیں اپنا تمام تر وقت اور محبت دے گا- ان کے ساتھ کھیلےگا- ہوم ورک کروائے گا- ان کا دل کبھی ویران اور اداس نہیں ہونے دیگا ان کی روح کبھی محبت کی پیاسی نہیں ہوگی اور پتا نہیں کیا کیا کہہ رہا تھا- تم سن  رہے ہو نا؟ "ہارون دم بخود بیٹھے بیوی کا منہ تک رہے  تھے –

         ” ہم سے کہاں غلطی ہوئی ہے ہارون – ہم دونوں اپنی اپنی مصروفیات میں گم رہہے اور ملازمین کے رحم و کرم پر فواد کو چھوڑ کر ہم نے غلط کیا–”   وہ افسردہ لہجے میں کہ رہی تھیں-

          خیالی اور تصوراتی باتوں پر اس کا یوں متاثر ہونا ہارون کو احمقانہ سا لگا تھا- انہوں نے زور سے گردن جھٹکی اور بیوی کو خود سے قریب کرتے ہوئے محبت سے بولے-

        ” تمہیں شاید لمبے آرام کی ضرورت ہے کہیں گھوم آؤ -"

        ” یہ بات نہیں ہارون -” وہ افسردگی سے بولیں- ” فواد کے انداز میں کوئی بات ضرور تھی میں بلا وجہ تو ڈسٹرب نہیں ہوں تم سمجھ نہیں رہے  اس نے ہم پر الزام لگایا ہے اس کی باتیں بلا وجہ نہیں ہیں-"

         ” ہنی ہنی کیا ہو گیا ہے تم کو-” ہارون  استھزایہہ انداز میں بولے- ” تم خواہ مخواہ ٹچی ہو رہی ہو- ذرا سوچو وہ مادی عیاشیوں کا متحمل صرف اس لیے ہے کے ہماری اولاد ہے اگر کسی مڈل کلاس یا غریب گھر میں پیدا ہوتا تو یہ سب سوچنے کی بھی اسے مہلت نہیں ملتی روزی روٹی کے ہی چکر میں پڑا ہوتا- مادی آسانیوں نے اسے بے لگام کر دیا ہے-"

        ” تم نے اس لڑکی کو دیکھاہے؟”

        ” فواد نے اس کی تصویر دکھائی تھی- پیاری ہے-” وہ ستائشی لہجے میں بولے- ” اس میں فواد کی دلچسپی غیر معمولی ہے-وہ اتنی محبت سے اس کا تذکرہ کر رہا تھا کہ کیا بتاؤں-"

         میمونہ نے کڑی  نظروں سے انہیں گھورا – رینا سے زیادہ خوبصورت ہے؟ حاصل شاہ کی بیٹی رینا کو میں نے فواد کے لیے پسند کیا تھا- ہماری ٹکر کا گھرانہ تھا لیکن یہ فواد……….”

        ” نہیں رینا سے زیادہ خوبصورت تو نہیں ہے -” ہارون بھگوانی گڑبڑا کر بولے-

        دوسرے دن رات گئے ہارون اور میمونہ کسی پارٹی سے آئے تھے- سیاہ رنگ کی ساڑھی اور ہم رنگ سلو لیس بلاؤز میں میمونہ کی شخصیت کاحسن قابل دید تھا- چالمیں تمکنت سرخ و سفید چہرے پر بے نیازی کے تاثرات لیے وہ ملکاؤں جیسی شان سے لاؤنج کی طرف بڑھ رہی تھیں- لاؤنج میں منان اور فواد بیٹھے باتیں کر رہے تھے-

        ” اب آپ کو کیا بتلائیں صاحب کہ کس قیامت کا نام تھا زہرہ بائی -” منان دنیا و مافیا سے بے نیاز ماضی میں کھوئے ہوئے تھے- ” چمکتا ہوا مکھڑا اور کندن کی طرح دمکتا بدن نظر کو تاب نہ تھی اس کے سراپے پر ٹہرنے کی- جنے کتے وس کی زلفوں کے اسیر تھے- کتے گھر اجاڑے مال زادی نے اور خبر نہیں کتی تجوریاں سونی کر ڈالیں وس نے- قیا مت تھی قیا مت- کمر ایسی جیسے غریب محلے کی گلی- آپ نے تو دیکھی نہیں ہو گی سرکار اور خدا بھلا کرے آپ کا اداؤںمیں ایسی مستی کے طبلے پر ہاتھ رپٹ رپٹ جاوے تھا- ایک نظر میں سو ٹکڑے کرتی تھی دل کے-ایمان کی بات ہے میاں ناچتے وخت زمین پر پاؤں نہ دھرے تھی -یوں لگے تھا اوپر ہی اوپر تیر رئ ہے-……..اور……..”

        دروازے پر کڑے تیوروں کے ساتھ کھڑی میمونہ ہارون پر نظر پڑتے ہی منان کی گفتگو کو بریک لگ گیا-

         ” آپ کے انہیں جھوٹے سچے قصوں نے اس کا دماغ خراب کیا ہے-” میمونہ نے اندر آتے ہوئے منان سے کہا –

         منان بدحواس ہو کر کبھی میمونہ اور کبھی فواد کو دیکھ جا رہا تھا-

        ” ہاں تو آپ زہرہ بائی کے بارے میں کچھ بتا رہے تھے-” فواد انہیں نظر انداز کرتا ہوا منان سے مخاطب ہوا-

        ” منان آپ اندر جائیں مجھے فواد سے بات کرنی ہے-” میمونہ نے تحکمانہ لہجے میں کہا تو منان اٹھ کر اندر چلا گیا-

        ” آج آپ کو رامین کے گھر جانا تھا-” فواد نے شکایتی لہجے میں کہا – اسی دوران ہارون بھا گوانی لاؤنج میں داخل ہوئے  بیوی کے برابر میں نشست سنبھالی اور بیٹے سے مخاطب ہوئے-

         ” تو تم نے بلآخر شادی کا فیصلہ کر ہی لیا ہے-"

         ” آپ دونوں کی بھی تو یہی خواہش تھی کیوں ممی؟” فواد نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا –

         ” اچھی بات ہے ہم سے تو تمہیں بہت سی شکایتیں ہیں- دیکھتے ہیں کہ تم دونوں کیسے والدین ثابت ہوتے ہو-” میمونہ نے معنی خیز لہجے میں کہا – فواد نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا اس کے ذہن میں ان کے ساتھ کی گئی آخری گفتگو تازہ ہو گئی- فواد کو رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ اپنے ذاتی گھر کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس کے منہ سے یقینا کوئی ایسی بات نکل گئی تھی جو انہیں پسند نہیں آئ تھی- آخر اس سے رہا نہیں گیا- وہ ماں کو بغور دیکھتے ہوئے بولا-

        ” اس دن شاید میں کچھ زیادہ ہی بول گیا تھا- آپ نے مائنڈ تو نہیں کیا؟”

        ” اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے-” میمونہ نے کہا –

        ” ابھی کیوں نہیں بتائیں ورنہ مجھے الجھن ہوتی رہی گی-"

        وہ کچھ دیر بیٹے کو ٹٹولتی ہوئی نظروں سے دیکھتی رہیں پھر مسکراتے ہوئے بولیں-

        ” اس دن شاید تم یہ جتا نا چاہ رہے  تھے جیسے ہم والدین بننے کے اہل نہیں تھے اور ہم نے تمہیں حالت کے رحم و کرم پر یونہی چھوڑے رکھا- جب کے ایسا نہیں تھا- بچپن سے لے کر آج تک ہم نے تمہیں زمانے کے سرد و گرم کی ہوا تک نہیں لگنے دی- تمہاری ہر خواہش بن مانگے ہی پوری ہوتی رہی- اب تم عملی زندگی میں قدم رکھ  رہے ہو- تمہیں زندگی اور زندگی کے حقائق کا بخوبی علم ہو جائے گا-"

         ” ایسی کوئی بات نہیں ہے-” فواد نے گہری سنجیدگی سے کہا- ” میرا مطلب صرف اتنا تھا کہ وسائل کی کمی قابل تلافی ہو سکتی ہے مگر والدین کا قرب اور توجہ کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا- مجھے جب جب آپ اور پاپا کی ضرورت پڑی آپ دونوں مجھ سے دور تھے اپنی اپنی مصروفیات میں گم – یہ شکایت یا طنز نہیں بلکہ ایک ضرورت کا احساس ہے-"

        میمونہ ہنسی تھیں-” اگر میں تمہیں ہر وقت پہلو  سے لگائے رکھتی تو اس وقت تم کسی اور بات کا گلہ کر رہے  ہوتے- "

        "زندگی کے حقائق کچھ اور ہوتے ہیں اور انسان کی خواہشات کچھ اور- زندگی اتنی سادہ  نہیں جتنی تم اسے سمجھ بیٹھے ہو-” ہارون نے کہا

        ” میں زندگی کو کسی اور کی نظر سے دیکھنے کا قائل نہیں-” فواد نے مخصوص لہجہ میں کہا – ” میرے لیے حقیقت وہی ہے جس کی گواہی میرا دل دیتا ہے-"

        ” ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیوں ہارون ؟” انہوں نے شوہر کی طرف تائید طلب نظروں سے دیکھ کر کہا – "یہ زندگی تمہاری ہے اور تمہیں ہی گزارنی ہے- اگر تم اپنی زندگی کو خود فریبیوں میں ڈھال کر مطمئن ہو تو ہم کیا کر سکتے ہیں-"

        ” یہ زیادتی ہے آپ دونوں کو میری خوشی میں خوش ہونا چاہیے-"

        ” ہم خوش ہیں ہم نے آج تک تمہاری ہر ضد پوری کی ہے-” ہارون نے کہا –

        ” تم حد سے زیادہ خوش گمان اور سادہ ہو-” میمونہ سپاٹ لہجے میں بولیں- تمہیں بالکل اندازہ نہیں کہ دنیا اتنی سادہ نہیں اور وہ لڑکی…………. بہرحال کل ہم اس کی امی سے تمہارے رشتے کی بات کرنے جا رہے ہیں-” میمونہ نے کہا –

         دوسرے دن ہارون بھاگوانی نے فواد کو مبارک باد دی اور ایک فائل اور تین عدد کی چینز اس کی طرف بڑھائیں-

       ” یہ کیا ہے ڈیڈی ؟” فواد نے پوچھا-

       "تمہارے لیے گھر خریدا ہے میں نے-” ہارون مسکراتے ہوئے بولے- ” کاریں البتہ تمہاری مما کی پسند کی ہیں اچھی نہ لگیں تو بتا دینا-"

        ناممکن امکان میں اور امکان حقیقت میں ڈھلا تو حیرت اور مسرت نے ان دونوں کے دل میں ایک ناقابل بیان کیفیت پیدا کردی- شادی کے بعد رامین اور فواد مہینوں اسی کیفیت میں ڈوبے رہے – صبح کے بعد دن ڈھلتا پھر رات پھر اچانک ایک نئی صبح سامنے کھڑی مسکرا دیتی- وقت کچھ اور آگے سرکا تو زندگی کے اسرار سامنے کھڑے تھے- فواد نے جلد ہی اپنی معاشی زندگی کو مستحکم کر لیا تھا- آبائی زمینوں کی ذمہ داری اس کے پاس تھی تاہم اس نے اپنا بزنس بھی سیٹ کر لیا تھا- اس کی محنت رنگ لا رہی تھی اور کامیابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں-

       دوسری طرف رامین نے بھی خاصی ترقی کر لی تھی- داؤد پراچہ کے نجی چینل میں اس کی حثیت مستحکم ہو چکی تھی- اس کے پروگرام کی ریٹنگ سب سے زیادہ تھی-ملک کے طول و عرض میں اس کی شہرت کا ڈنکا بج رہا تھا- اسی حساب سے اس کی مصروفیات بھی بڑھتی جا رہی تھیں- یہی وہ نکتہ تھا جس نے دھیرے دھیرے اس گھر کی بنیادیں ہلانا شروع کر دیں-

       شادی کو دو برس گزر چکے تھے اور وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے- فواد کو یہ کمی اب گراں گزرنے لگی تھی وہ رامین سے بات کرتا تو وہ آسمان کی طرف انگلی اٹھا دیتی- پریشانی زیادہ بڑھی تو اس نے اپنا اور رامین کا بھی معائینہ بھی کروا  ڈالا مگر سب ٹھیک تھا-سو وہ تن بہ تقدیر ہو کر بیٹھ گیا-

       وہ چھٹی کا دن تھا-فواد ناشتے کی میز پر بیٹھا رامین کو تک رہا تھا جو دنیا و مافیا سے بے خبر اخبار کے میگزین پیج پر شایع  ہونے والا اپنا انٹرویو پڑھ رہی تھی-

       ” ناشتہ تو کر لو ٹھنڈا ہو رہا ہے-” بلآخر اس نے ٹوک دیا-

       ” کر لوں گی تم شروع  کرو-” پھیلے  ہوئے اخبار کے عقب سے رامین کی آواز آئ – فواد نے گہری سانس لی اور ناشتہ کرنے لگا-

        ” کیا سوچ رہا ہو؟” کافی دیر بعد رامین نے اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے پوچھا- فواد اس کے مخاطب کرنے پر چونک گیا- پھر محویت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا-

        ” سوچ رہا تھا کہ بچوں کے بغیر ہمارا گھر کس قدر سونا اور ادھورا ہے- پتا ہے میں نے سوچا تھا کہ ہمارے ڈھیر  سارے بچے ہونگے- میں اپنی والدین کی اکلوتی اولاد تھا اور ساری زندگی خود کو بہت تنہا محسوس کرتا رہا-"

        ” ہاں  یہ تو ہے-” رامین کے چہرے پر رنگ سا آ گیا پھر وہ سنبھل گئی اور نظریں چرا کر بولی- بچوں کی خواہش کسےنہیں ہوتی لیکن کبھی سوچتی ہوں بچوں کو سنبھالنا کس قدر مشکل کام ہے-اس کے لیے پورا وقت اور توانائی چاہے-"

         ” مگر مشکل کے بعد راحتیں بھی تو بے شمار ہیں-” فواد خوابناک لہجے میں بولا-

         ” میرا مشورہ مانو تو ابھی سے اپنی توانائیاں جمع  کرنا شروع کر دو- چھوڑو یہ ملازمت ویسے بھی تم بلا وجہ خود کو تھکا رہی ہو اور کام کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنا بزنس سنبھالو-"

         رامین چند لمحے اسے گھورتی رہی پھر بولی- ” یہ بات پہلے ہی طے ہو چکی ہے- تم اپنے وعدہ  سے پھر رہے  ہو- "

        ” تمہیں بھی تو اپنے وعدے  یاد نہیں رہےمیں اور گھر تمہاری توجہ سے محروم ہے-"

        ” میں جاننتی تھی ایک نہ ایک دن یہ ہو کر رہی گا-” رامین طنزیہ انداز میں بولی-

        ” کتنا وقت دیتی ہو تم مجھے اور اس گھر کو؟” فواد ہتھے سے اکھڑ  گیا- وہ تیزی سے اٹھا اور اندر جانے لگا- رامین تیر کی سی تیزی سے اس کے سامنے آئ  اور اس کی گردن میں بازو حمائل کر دیے-

        ” مجھے اپنی زیادتی کا احساس ہے- پلیز ناراض نہ ہو اچھا سوری میں خیال رکھوں گی کہ آیندہ تمہیں کوئی شکایت نہ ہو-” اس کا لہجہ التجیایہ تھا-

          فوا اسے گہری تولتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا- چہرے پر الجھن آمیز کوفت بتدریج زائل ہونے لگی بولا تو لہجہ محبت سے معمورتھا-

          ” میں تو صرف اتنا چاہتا ہوں کہ گھر آؤں تو تم بلکل تازہ دم،نکھرے اور شگفتہ چہرے کے ساتھ مسکراتی ہوئی ملو- کھانے کے بعد ہم آؤٹنگ  پر جائیں اور آخر میں نرم و گرم بستر ہو-” اس کا چہرہ جھکا تو رامین کسمسائی- اس کی لمبی خمیدہ پلکیں دیکھ کر وہ مسحورہو گیا- اوپری ہونٹ کا نمایاں تل  کچھ اور بھی دلآویز لگنے لگا- جذبات کے بادل چھٹے تو فواد نے بوجھل آواز میں سلسلہ کلام پھر سے جوڑا-

          ” میں گھر آتا ہوں تو تم اکثر نہیں ہوتیں اور ہوتی بھی ہو تو اتنی تھکی ماندی – کیا ضرورت ہے تمہیں جاب کرنے کی؟”

          ” میری خوشی اور اطمنان اسی میں ہے- کیا تم مجھے خوش دیکھنا نہیں چاہتے؟”

          فواد مسکراتے ہوئے نرمی سے بولا-” عورت کی اصل خوشی اس کے شوہر اور بچے ہوتے ہیں-"

           ” مجھے انکار تو نہیں- جب قدرت مہربان  ہوگی تو میں یہ بھی کروں گی-"

            اس دن ان کی شادی کی تیسری سالگرہ تھی- رامین نے کھا تھا کہ وہ جلدی گھر آ جائے گی اور پھر وہ باہر کسی ہوٹل میں سالگرہ سلیبرٹ کریں گے- وہ سر شام ہی دفتر سے گھر آ گیا تھا- شام چھ بجے رامین کا فون آ گیا کہ اس کے شو کی ریکارڈنگ ہے اسے دیر ہو جائے گی-

            رات کے دس بج چکے تھے- وہ بوجھل دل کے ساتھ اٹھ کر لان میں چلا آیا تھا- چہار سو پھیلی خاموشی نے اس کی اداسی کو کچھ اور گہرا کر دیا تھا- خنک ہوا کی سرسراہٹ اور پھولوں کی ملی جلی مہک نے کچھ دیر اس کا دھیان بٹائے رکھا- مگر جلد ہی اس کے دل میں پھر وہی تکلیف دھواں  سا بھر گیا– اسی وقت منان اس کے پاس آیا اور بولا-

           ” آپ اتی سردی میں کیوں بیٹھے ہیں؟”

           ” بس یوں ہی-” وہ اداسی سے بولا-

           ” کھانا تیار ہے کہیں تو لگوا دوں؟” فواد کچھ دیر انھیں خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا جیسے ان کی بات کا مفھوم سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو پھر منہ دوسری طرف کر کے نرمی سے بولا-

          ” نہیں ضرورت ہوئی تو کہ دوں  گا-"

         منان کے واپس جاتے ہی اس نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا- اس کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر پھیلی پژمزدگی کے سبب وہ برسوں کا بیمار لگ رہا تھا- اولاد اس وقت اس کی سب سے بڑی آرزو تھی- یہ دکھ اپنی جگہ مگر رامین بھی تو بہت بدل گئی تھی- جوں جوں وہ مقبول ہوتی جا رہی تھی ان کے درمیان سرد مہری حا ئل ہوتی جا رہی تھی- ہر روز ایک سوالیہ نشان بڑھ جاتا تھا-

        کرسی پر نیم دراز فواد کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ تکلیف دہ سوچوں کا یہ سسلہ روک جائے- مگر جب ایسا نہیں ہو سکا تو اس نے ذہن کو بھٹکنے کے لیے آزاد چھوڑ دیا- "کیا واقعی میرے خواب کبھی پورے نہیں ہوں گے- میرے سنہرے خواب سراب ثابت ہوں گے- میرے چاروں طرف یوں ہی تنہائیوں اور مایوسیوں کا راج رہے  گا-” اس نے سوچا-

       وہ کافی دیر یوں ہی بیٹھا رہا پھر گھبرا کر اٹھ بیٹھا اسے اپنی ذہنی توازن پر شک ہونے لگا- وہ جلدی سے اٹھ کر گھر کے اندر آ گیا اور آتے ہی منان کو آواز دی-

        ” کھانا لگوائیں بھوک لگ رہی ہے-” کھانے کے بعد اس نے کافی بنوائی اور بیڈ روم میں آ گیا- کافی پینے کے دوران وہ اپنی پسندیدہ موسیقی سننتا رہا- وائلن کی مسحور کن دھن نے اسے بالکل پر سکوں کر دیا اور اب اسے رامین کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی- جی میں آیا کہ اسے فون کر لے پھر اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور انتظار کرنے لگا-انتظار مشکل لگا تو وقت گزاری کے لیے اس نے شادی کے البمز دیکھنے کا فیصلہ کیا- البم اسے الماری کے اوپری خانے میں نہیں ملے- جب اس نے سیف کھولا تو تمام البمز ترتیب سے وہاں رکھے تھے- وہ الماری کے قریب ہی التی پالتی مارا بیٹھا تا دیر تصاویر دیکھتا رہا- آخری البم کی آخری تصویر دیکھتے ہوئے اس کے لبوں پر موجود مسکراہٹ میں محبت کا رنگ گہرا ہو گیا- دلہن کے روپ میں رامین کس قدر حسین لگ رہی تھی- تصویر دیکھتے ہوئے وہ قالین پر رکھے دوسرے البمز دھیرے دھیرے واپس سیف میں رکھتا جا رہا تھاکہ کچھ گرنے کی آواز آئ تو دیکھ بغیر اس نے قالین پر ادھر ادھر ہاتھ پھیرا وہ کوئی شیشی تھی- جسے اٹھا کراس نے  واپس سیف میں رکھ دیا-

         اسی وقت اس کی نظر سامنے رکھی شیشی پر پڑی جو اس نے بے دھیانی میں سامنے رکھ دی تھی- لیبل پر درج تفصیل پڑھتے ہی اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں- شک دور کرنے کے لیے اس نے ایک بار پھر لیبل کو غور سے پڑھا- اب شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی- وہ مانع حمل گولیوں کی شیشی تھی- وہ آدھی خالی تھی صورتحال واضح ہوتے ہی اسے یوں لگا جیسے کسی نے اسے آسمان سے زمین پر پٹخ دیا ہے- جوش غضب میں وہ کھڑا ہو گیا- اس کی سماعت میں رامین کی آوازیں گونجنیں لگن- بچے کسے اچھے نہیں لگتے فواد مگر یہ ہمارے بس میں تو نہیں………… آر یو میڈ ………بچے بھی بھلا خواہش سے ہوتے ہیں- پھر اس کی ماں کی کی آواز آئ – تم بہت سادہ ہو فواد دنیا اتنی سادہ نہیں اور وہ لڑکی تو…………. حقیقت اپنی تمام تر کڑواہٹوں کے ساتھ مجسم اور ناقابل تردید تھی- پھر تو جیسے اس پر دیوانگی سی طاری  ہو گئی- جسم میں موجود سارا لہو کھولتے ہوئے لاوے میں تبدیل ہو گیا-گرفت بڑھی تو مٹھی میں تھامی شیشی چٹ سے ٹوٹ گئی–اور گولیاں نیچے گر گئیں اور کانچ کے ٹکڑے اس کی ہتھیلی میں پوسٹ ہو گئے- مگر وہ تکلیف سے بے نیاز دور کہیں خلاؤں میں گھو رہا تھا-

         اس نے جھرجھری لے کر دروازے کی سمت دیکھا سامنے رامین کھڑی تھی- وہ اسی وقت پہنچی تھی- شوہر کے ہاتھ سے بہتا ہوا لہو دیکھ کر وہ بوکھلا گئی اور تیزی سے اس کے نزدیک آئ-

         ” کیا ہوا ہاتھ میں دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے- چلو اٹھو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں-” فواد اپنی جگہ گم صم بیٹھا رہا-

          ” کیسا ہوا یہ؟” رامین نے اس کی سختی سے بند ہتھیلی کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا –

          ” اس طرح کیوں بیٹھے ہو- ہوا کیا ہے آخر بتاؤ نا ؟” فواد نے یکلخت اسے پیچھے دھکیلا- وہ اکڑوں بیٹھی تھی ہزار کوشش کے باوجود سنبھلنے میں ناکام رہی اور پیچھے گر گئی-

          ” یہ کیا ہے؟” اس نے لہولہان ہتھیلی کھول دی- "یہ اور یہ-” وہ قالین پر بکھری ہوئی گولیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہذیانی انداز میں بولا-

           رامین اس چورکی مانند کھڑی تھی جسے رنگے ہاتھوں پکڑلیا گیا ہو- یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہیںتھی کہ اسے ان گولیوں کا پتا چل جائے گا- اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ موجودہ صورتحال سے کس طور نکلے وہ بت بنی کھڑی تھی- اور اس وقت چونکی جب فواد کھڑا  ہوا اور غیر متوقع طور پر ہموار قدموں سے چلتا ہوا باتھ روم میں گھس گیا- کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو اس کے چہرے پر وحشت کے بجائے عجیب سا ٹہراؤ تھا- وہ اس کے مقابل آ کر اطمینان سے کھڑا ہو گیا- اس کی سرد نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں پھر اچانک اس کی بھاری بھرکم آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی- تم نے عجب بیوقوف بنایا مجھے-ایک ایسے شخص کو دھوکہ دیا جس نے اپنے وجود کی پوری سچائیوں کے ساتھ تم کو اپنایا تھا- جس نے اپنے سارے خواب تمہیں سونپ دیئے تھے- اور اپنی زندگی کی ایک ایک چیز تم سے عبارت کر دی تھی- کیوں کیا تم نے ایسا جواب دو-” فواد نے اسے جھجھوڑ دیا-

          وہ بولی تو لہجہ پر سکوں تھا-

          ” اس لیے کے میں فی الحال  اولاد کا جھنجٹ افورڈ نہیں کر کر سکتی تھی مجھے بہت آگے جانا ہے میری کامیاب زندگی کی مصروفیات یہ اجازت نہیں دیتیں کہ………

         ” بند کرو یہ بکواس-” فواد پھنکارا ” تم کیا اور تمہاری مصروفیات کیا ہونہہ -"

         مارے غصے کے رامین کا چہرہ بگڑ گیا-

         ” میں کوئی عام عورت نہیں ہوں جسے تم اپنی کنیزبنا کر رکھ سکو- میری ترقی کھٹکتی ہے تمہاری نظروں میں تمہیں میری شہرت تم سے برداشت نہیں ہو رہی- جلتے ہو تم  مجھ سے-” فواد کو یوں لگا جیسے تعلق کی باقی ماندہ رگیں بھی کٹتی جا رہی ہیں-

         ” تم سے جلوں گا میں…….. تم سے-” اس کے لہجے میں بلا کا تمسخر تھا- غور سے دیکھو میری طرف اور پھر اپنے آپ کو ماضی، حال اور مستقبل کے حوالے سے دیکھو اور پھر مجھے بتاؤ کہ تم میں ایسی کیا بات تھی کے تمہیں مجھ جیسا شوہر ملتا- یہ حقیر چیزیں میری ترجیحات میں شامل ہی نہیں- میں نے تم سے محبت کی تھی اور یہ اعزاز بخشا تھا کہ میری بیوی کہلاؤ -"

         ” میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر اور تمھارے اس اعزاز پر-” رامین منہہ سے کف اڑاتے ہوئے بولی- "سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھ کو تم سے ہزار گنا بہتر رئیس  مرد میرے ایک اشارے کے منتظر تھے اور اب بھی……….” وہ بولتی گئی- مگر فواد تو جیسے بہرہ ہو گیا تھا- کوئی اندھا جوش اچانک ہی اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا- اس کا دایاں ہاتھ تیزی سے گھوما اور رامین کو جیسے پر لگ گئے- وہ اڑتی ہوئی دور جا گری- کچھ دیر گزری وہ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا- وہ بری طرح رو رہی تھی- فواد کے چہرے پر عجیب نوعیت کی نرمی سی پھیلی ہوئی تھی-

          ” آئ ایم سوری -” وہ اس کے قریب بیٹھا کہہ رہا تھا- مجھے مارنا نہیں چاہیئے تھا-” پھر کچھ دیر ٹہر کر وہ بولا-

          ” تم آج کے بعد اپنے ہر فعل میں آزاد ہو جو مرضی آئے کرو- میں اس انتہا کو دیکھنا چاہتا ہوں جہاں تک تم پہنچنا چاہتی ہو- مگر اب ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تمہیں یہاں سے جانا ہو گا- ابھی اور اسی وقت-” وہ فیصلہ کن لہجے میں بولا تھا-

         رامین کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا- "تم مجھے طلاق دے رہے ہو؟”

         ” نہیں میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا- میں تمہیں کسی اور کا ہوتے دیکھ ہی نہیں سکتا-"

          ” غصے میں کی گئی باتوں کو اتنا بڑا مسئلہ نہ بناؤ- پلیز مجھے ایک موقع دو-” رامین کی آنکھیں چھلک پڑیں-

        میرے صبر کا امتحان نہ لو- زندہ رہنا چاہتی ہو تو ایک لمحہ ضائع کے بغیر چلی جاؤ -"

        رامین کو اس کی آخری بات سے سخت ٹھیس پہنچی تھی- وہ ایک م کھڑی ہو گئی- قدم آگے بڑھایا تو دل بیٹھ گیا- دروازے کی سمت بڑھتے ہوئے ایک موہوم سی امید دل میں جاگی کہ وہ اسے جانے نہیں دے گا- پیچھے سے دبوچ لے گا- اور کہے گا چلو جانے دومعاف کیا رونا تو بند کرو- اسی خوش گمانی میں چلتے چلتے کاندھے پر کسی لمس کا احساس ہوا تو اس کا دل جھوم اٹھا- وہ تیزی سے پلٹی – مگر وہ دروازے پر جھولتا پردہ تھا- فواد بدستور پیٹھ موڑے کھڑا تھا- اس نے ہتھیلی سے آنسو صاف کے اور باہر نکل گئی-

         اس کی فواد سے جزوی علیحدگی کو چھ ماہ ہوئے تھے جب ایک اور دل خراش سانحہ ہوا  کہ اس کی والدہ بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئیں- والد پہلے ہی انتقال کر گئے تھے- یوں اب وہ بالکل تنہا رہ گئی تھی- اس عرصے میں فواد نے اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھا تھااور نہ ہی اسے طلاق دی تھی- فون کی بیل  مسلسل بج رہی تھی- وہ جھرجھری لے کر چونکی اور جھٹ پٹ کپڑے پہن  کر باتھ روم سے باہر آگئی -اس نے ریسیور اٹھایا-

          ” ہیلو-"

          "ہیلو رامین-” دوسری طرف فواد کی بھاری  آواز سنائی دی- اس کا دل تیزی سے دھڑکا-

          ” میں تمہیں واپسی کا ایک آخری موقع دینا چاہتا ہوں- یہ نہ سمجھنا کے میں تم سے کبھی لا تعلق رہا ہوں- تم میری بیوی ہو میری عزت ہو- آج تک تم ہمیشہ میرے بندوں کی نگرانی میں رہی ہو- چاہے وہ تمہارا گھر ہو یا دفتر- تمھاری ایک ایک ایکٹویٹی پر میری نظر تھی-

          ” کیا؟” وہ اچنبھے سے بولی-

          ” تمہیں اپنے دفتر کا ساتھ ارسلان تو یاد ہی ہوگا- وہ میرا خاص آدمی تھا- جس نے میرے کہنے پر وہاں جاب حاصل کی تھی اور ایک بات تم اچھی طرح جاننتی ہو کہ میں اپنی پسندیدہ شے سے کبھی دتسبردار نہیں ہوتا-اس لیے جس کسی نے تمہارے نزدیک آنے کی کوشش کی وہ کمال شیرازی اور ملک امتیاز کی طرح مارا جائے گا-” یہ آخری جملہ اس نے انتہائی سفاک لہجے میں کہا تھا- رامین نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا

           ” آ رہی ہوں-"

           رامین نے فون رکھا کار کی چابیاں اٹھائیں اور باہر نکل گئی- اس کی گاڑی کا رخ فواد اور اس کے  کے گھر کی جانب تھا- فواد کچھ دیر ساکت کھڑا ماوتھ پیس کوگھورتا رہا- پھر آہستگی سے فون بند کیا اور فاتحانہ مسکراہٹ سے خوابگاہ کی طرف بڑھ گیا-

                                                                                                                           …………………………………………………….

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے