سر ورق / قاری سے لکھاری / قاری سے لکھاری ۔۔ اعجاز احمد راحیل ۔۔ یاسین صدیق

قاری سے لکھاری ۔۔ اعجاز احمد راحیل ۔۔ یاسین صدیق

قاری سے لکھاری

اعجاز احمد راحیل

یاسین صدیق

حوصلہ رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے قاری سے لکھاری کے عنوان کے تحت ابھرتے ہوئے قلم کاروں کے انٹرویوز کے سلسلے میں قلم کار اعجاز احمد راحیل کا انٹرویوز پیش خدمت ہے۔یہ ان ابتدائی انٹرویوز میں سے ایک ہے جو ہم چندادب دوستوں( سرفراز قمر ،نعمان عظیمی ،یاسین نوناری ،صداقت حسین ،عدیل عادی ،عاصم چتالہ ،اقصی سحر، رومیصہ ملک ،زینب حسین،وغیرہ ) نے ایک گروپ بنا کر کرنے شروع کیے ۔ہمارا مقصد تھا کہ نئے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو پروموٹ کرنا ۔اب اس کو ایک باقاعدہ تنظیمی شکل دی جا چکی ہے ۔ ”حوصلہ رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن “اب بھی اس پلیٹ فارم سے ادبا ءجن میں سنیئر اور نئے ادباءبھی شامل ہیں کے انٹرویوز کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔اعجاز احمد راحیل ایک مخلص ادیب کا نام ہے جو اپنا نام ادباءکی فہرست میں لکھوا چکا ہے ۔انہوں نے اب تک صرف ایک ہی ماہنامے سرگزشت میں لکھ کر پہچان بنائی ہے ۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر ایک ادبی گروپ کووقت دیتے ہیں ۔پرائیویٹ جاب کرتے ہیں ۔ان کے بارے میں مزید جاننے کے لیے انٹرویوز کا مطالعہ فرمائیں ۔

سوال ۔اپنے بارے میںبتائیں ،مکمل نام،رہائش ،کام بارے کیا کرتے ہیں ۔

جواب ۔اپنے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ ایک ادھورا شاعر اور نامکمل قلمکار ہوں،میرا پیدائشی نام اعجاز احمد ہے۔ راحیل تخلص ہے-اب تادم۔ زیست لکھتا رہوں گا۔ضلع ساہیوال سے آٹھ کلومیٹر کی مسافت پہ دریا سکھ بیاس کے کنارے اپنا غریب خانہ ہے-پرائیویٹ جاب کرتا ہوں اورباقی وقت کہانیاں لکھتا ہوں،کہانیاں پڑھتا ہوں-

سوال ۔آپ کی تعلیم کیا ہے ؟

جواب ۔میری تعلیم میٹرک ہے-دو ہزار چار میں کی تھی-

سوال ۔آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے ۔اور ستارہ و برج کیا ہے ۔

جواب ۔پچیس جولائی انیس چوراسی – ستارہ شمس برج اسدہے۔

سوال ۔کس ملک کی شہریت کی خواہش ہے؟

جواب ۔میں پاکستانی کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ہاں دل کی حسرت ہے کہ میرا پیدائشی شہر مدینہ ہوتا، وہیں زندگی گزارتا

سوال ۔ایک حساس سوال ۔رائٹر حضرات اتنے حساس کیوں ھوتے ھیں؟

جواب ۔ہر انسان حساس دل ہوتا ہے۔تاہم قلمکار بہت حساس دل ہوتا ہے۔کیونکہ اسے ہمیشہ پریشان خیالی اور ڈھیر سارے مطالعے کا سامنا کرنا پڑتا ہے-وہ اپنی کہانیوں میں موجود کرداروں کا درد اور غم دل سے محسوس کرتا ہے-ان کی حالت پر اس کا دل کڑھتا ہے-اس وجہ سے وہ حساس دل ہو جاتا ہے۔بلکہ حساس دل ہونے کی وجہ سے ہی وہ لکھاری بنتا ہے ۔

سوال ۔صبح اٹھ کر سب سے قبل کیا کام کرتے ہیں؟

جواب۔ صبح اٹھ کر منہ ہاتھ دھوتا ہوں،وضو کرتا ہوں پھر نماز ادا کرتا ہوں-

.سوال ۔آپ کے ایمان کی کیا کیفیت ھے؟

جواب۔اللہ پاک شکر ہے کہ بے ایمان نہیں ہوں۔

سوال ۔آپ مزاجا کیسے ھیں؟

جواب۔میں جذباتی اور غصہ کا ذرا تیز ہوں۔

سوال ۔پہلی ملاقات میں کس چیز کا جائزہ لیتے ھیں؟

جواب۔میں جس سے ملتا ہوں اس کا اخلاق دیکھتا ہوں۔ورنہ وہ آخری ملاقات ہوتی ہے۔

.سوال ۔کونسی چیز کھانے کے لیے ھر وقت تیار رھتے ھیں؟

جواب۔جب بھوک لگی ہو جو بھی کھانے کی چیز ملے کھا لیتا ہوں۔

سوال ۔آج کل آپ کی کیا مصروفیت ہیں ۔

جواب۔کار_ زیست میں الجھا ہوا ہوں-باقی جو وقت نکلتا ہے اس میں اپنا ناول” لباس اجل“ لکھتا ہوں – اس لیے فیس بک پہ کم حاضری ہوتی ہے-

سوال ۔پہلی کہانی کس عمر میں پڑھی تھی ۔کون سی ؟

جواب۔پہلی کہانی انیس سو تیرانوے میں پڑھی تھی

سوال ۔کس سیاسی پارٹی سے تعلق ہے۔

جواب۔مذہبی اور سیاسی لیڈروں سے دور بھاگتا ہوں۔

سوال۔کون سا مذہبی لیڈر آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے ۔

جواب۔مذہبی اور سیاسی لیڈروں سے دور بھاگتا ہوں۔

سوال ۔کس کس لکھاری سے ملاقات ہو چکی ہے آپ کی اب تک؟

جواب۔ناصر ملک صاحب سے ان کے گھر جاکر ملاقات کر چکا ہوں۔علاوہ ازیں تفسیر عباس بابر ،یاسین صدیق سے مل چکا ہوں ۔

سوال ۔زندگی میں کبھی محبت کی ،صنف نازک سے محبت کا پوچھا ہے ؟

جواب۔ہاں مجھے محبت ہوئی تھی۔

سوال ۔محبوبہ رشتے دار تھی یا۔۔۔۔؟

جواب۔وہ رشتہ دار تھی۔ان کی ڈیتھ ہو گئی تھی۔

سوال ۔کیا یہ ضروری ہے جس سے محبت ہو اسی سے شادی ہو؟

جواب۔یہ ضروری نہیں جس سے محبت ہو شادی بھی اسی سے ہو۔شادی تو ان سے بھی ہوجاتی ہے،جن سے ہمیں محبت بھی نہیں ہوتی

سوال ۔پہلی کہانی کہاں پرنٹ ہوئی ؟

جواب۔پہلی کہانی جو کہ چھوٹی سی تھی۔ پندرہ سال کی عمر میں لکھی تھی۔جس کا نام” مسلمان“تھا۔ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی۔

سوال ۔کسی دوست سے دھوکہ کھایا ہو؟

جواب۔بہت دھوکے کھائے ہیں۔دھوکہ بھی وہی دیتے تھے جنہیں اپنا سمجھتا تھا-

سوال ۔ایک ایسا رائیٹر جو بہت پسند ہو؟

جواب۔بہت سے رائٹر ہیں۔طاہر جاوید مغل،ناصر ملک صاحب،پرویز بلگرامی صاحب، ڈاکٹر عبدالرب بھٹی،علیم الحق حقی،اقلیم علیم،کاشف زبیر، محی الدین نواب صاحب،امجد جاوید صاحب،فاروق انجم، رزاق شاہد کوہلر،محمود احمد مودی اور ایچ اقبال۔

سوال ۔کس رائٹر سے بہت زیادہ متاثر ہیں صرف ایک نام؟

جواب۔صرف ایک نام….بہت مشکل سوال ہے-محی الدین نواب صاحب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہوں-

سوال ۔اپنی پسند کا کوئی ایسا شعر سنائیں جو ہمیشہ سے پسند رہا ہے.

جواب۔اپنا ایک شعر جو مجھے اچھا لگتا ہے-

اگر میں رو ¶ں تو میرے،آنسو ¶ں کو پونچھ دے

وہ دشمن_ جاں ہی سہی،میرا چارہ گر بھی ہے

سوال ۔آپ کے خیال میں شاعری کا تعلق موسم سے ہے مطلب موسم سے متاثر ہوتا ہو شاعر ؟

جواب۔محبت، موسم اور شاعری کا بہت گہرا تعلق ہوتا ہے-بہر کیف جب شاعر کے من کا موسم خوشگوار یا اداس ہوتا ہے-اس وقت وہ لکھتا چلا جاتا ہے-مطلب اندر کے موسم سے تعلق ہے ۔

سوال ۔محبت کے علاوہ آپ کی شاعری کا موضوع کیا ہے ۔

جواب۔محبت اور عشق حقیقی پہ زیادہ لکھتا ہوں-

سوال ۔خوشی اور غم آتے جاتے رہتے ہیں ۔ان کا سامنا کیسے کرتے ہیں ۔؟

جواب۔جب خوش ہوتا ہوں تو اللہ سائیں کا شکر ادا کرتا ہوں-گھر والوں سے گپ شپ لگاتا ہوں-جب اداس ہوتا ہوں تو اپنے گھر سے کافی دور جاکر دریا سکھ بیاس کے کنارے ایستادہ ایک پتھر پر بیٹھ کر سوچتا رہتا ہوں۔

سوال ۔آپ کو غصہ کتنا آتا ہے کیا جلدی ختم ہو جاتا ہے یا ۔۔۔کس پر غصہ اتارتے ہیں؟

جواب۔میں بہت نرم دل اور جذباتی انسان بھی ہوں-اگر کوئی پیار سے کچھ بھی کہے تو برا نہیں لگتا-اگر کسی پر غصہ آجائے تو جلدی ختم نہیں ہوتا-جس پر غصہ آئے اگر اس پہ نہ اتاروں تو کسی اور پر اتارتا ہوں-

سوال ۔محبت بارے کیا کہتے ہیں ۔

جواب۔محبت تخلیق_ کائنات کی بنیاد ہے۔یہ ایک سچا جذبہ ہوتا ہے۔محبت ہمیشہ خوش نصیب لوگوں کو یا پھر خوشی قسمتی سے ملتی ہے۔یہ جہاں سے ملے بس قبول کرلیں-بہر کیف فی زمانہ محبتیں ناپید ہو چکی ہیں۔

سوال ۔کون سے نغمات سنتے ہیں ۔کس گلوکار کو پسند کرتے ہیں ؟

جواب۔میں عطائاللہ خان عیسی خیلوی کی اردو غزلیں شوق سے سنا کرتا تھا-دوہزار بارہ کے بعد میوزک اور فلموں سے کنارہ کر لیا ہے۔یا کم ہو گی ہیں اب ۔

 سوال ۔تعلیم کا انسان کے کردار سے کیا تعلق ہے؟

جواب۔تعلیم انسان کے لیے بہت ضروری ہے۔اس کا انسان کے کردار سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی اقراءتھی پڑھو-

قرآن پاک میں کئی جگہ اللہ پاک نے تعلیم یعنی علم کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے ایک جگہ ارشاد باری تعالی ہے:

ترجمہ: پڑھ اور جان کہ تیرا رب کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم کے ذریعے سکھلایا آدمی کو جو وہ نہ جانتا تھا۔سورة القلم آیت 4,5

ایک اور جگہ اللہ پاک فرما رہے ہیں کہ

ترجمہ:اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کردے گا جو ایمان لائے، اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔سورةالمجادلہ آیت 11

سوال ۔آج کے دور میں سچی محبت کون سے رشتوں سے متوقع ہے

جواب۔محبت انسان کو خدا کی طرف سے دان کی گئی ہے۔فی زمانہ اگر دیکھا جائے تو ہر کسی کو محبت ہو جاتی ہے۔بہرکیف یہ کہنا مشکل ہے کہ سچی محبت فلاں رشتے متوقع ہے۔ میں نے اپنے ارد گرد ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں۔ان کا آپس میں خونی رشتہ نہیں ہوتا۔پھر بھی وہ ایک دوسرے کی خاطر جان دے دیتے ہیں۔میں نے ایسے باپ بھی دیکھے ہیں جو ایک بیٹے کا حق دوسرے بیٹے کو دے دیتے ہیں۔بس ایک ماں ہی ہے جس سے سچی محبت متوقع ہے ۔

سوال ۔اردو ادب میں کون سی صنف کو عروج حاصل ہے ۔مثلا شاعری،ناول،کہانی،کالم نویسی وغیرہ۔

جواب۔اردو ادب میں تبصرہ نگاری, کہانی نویسی, اور کالم نگاری کو عروج حاصل ہے مضمون نویسی برائے نام ہی رہ گئی ہے ۔مضمون نویسی خالص اردو ادب ہے۔خالص شے ہر کوئی ہضم نہیں کرسکتا۔

 سوال ۔انداز بیاں۔منفرد ہو تو ایک لکھاری اپنا مقام بناتا ہے۔لیکن یہ انداز بیاں میں کسی کا رنگ تو جھلکتا ہو گا۔آپ کے انداز بیاں میں کس کا رنگ جھلکتا ہے…

سوال ۔آپ نے بالکل صحیح کہا ہے-قلمکار کا انداز بیاں اور کہانی پیش کرنے کا طریقہ ہی اس کی پہچان بن جاتا ہے-کوئی بھی لکھاری جب کسی بڑے مصنف کو پڑھتا ہے،اس سے متاثر ہو کر لکھتا ہے تو اس کا رنگ تحریر میں جھلکتا ہے-اس بات کا علم لکھاری کو بھی نہیں ہوتا-تاہم قارئین اس چیز کو فورا نوٹ کر لیتے ہیں-

سوال ۔مخلوق کے ڈر اور اللہ کے ڈر میں کیا فرق ہے؟

جواب۔ہر انسان کے دل میں اللہ کا ڈر ہونا ضروری ہے-جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ان کے لیے قرآن کریم میں بہشت کی بشارت ہے۔بہرحال اب لوگوں کے دل میں خوف خدا نہیں رہا۔اگر خوف ہوتا تو یوں لوٹ مار نہ کریں۔مال ذخیرہ نہ کریں۔سانحہ پشاور جیسے واقعات نہ ہوں۔مخلوق کا ڈر انتہائی وحشت ناک ہوتا ہے۔ایسے لوگوں سے ڈرنا ہی بہتر ہے جو اللہ سے نہیں ڈرتے۔

سوال ۔آپ نے کس موضوع پر سب سے زیادہ لکھا ہے۔

جواب۔محبت اور معاشرے کے لوگوں کی بے بسی،وڈیرا راج،انسان کی غلط فہمیوں سے جنم لینے والے واقعات پرزیادہ لکھا ہے ۔میں نے نواب صاحب کو کافی پڑھا ہے۔ان کی کہانیاں پڑھ کر کہانی کی بنت اور مکالمہ نویسی سیکھی ہے۔

سوال ۔کوئی ایسی پسندیدہ شخصیت جس کے نرم لہجے اور حسن اخلاق نے آپ کو ازحد متاثر کیا ہو؟

جواب۔اللہ کا شکر ہے کہ میرے سب دوست اچھے ہیں۔تاہم ناصر ملک صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ان کے حسن اخلاق اور دھیمے لہجے میں بات کرنے کے انداز نے از حد متاثر کیا۔

سوال ۔بچپن کا کوئی دلچسپ واقعہ

جواب۔مجھے بچپن میں ٹنڈ بہت اچھی لگتی تھی۔اگر کسی نے ٹنڈ کروائی ہوتی تھی‘ تو میرا دل چاہتا تھا کہ اس کے سر پر ہاتھ پھیروں۔ایک دفعہ میں اپنی گلی کے سات آٹھ بچوں کو گا ¶ں کے حجام کے پاس لے کر گیا اور ان سب کی ٹنڈ کروا دی۔ایک بچے کا بڑا بھائی وہاں آگیا تھا۔اس نے میری ٹنڈ کروا دی۔

سوال ۔زندگی نشیب وفراز اوراتار چڑھا ¶ سے عبارت ہے کبھی مشکل وقت آیا؟ آیاتو دوستوں کارویہ کیسا رہاکبھی کوئی کام آیا؟

جواب۔دو ہزار نو میرے لیے مصیبت کا سال تھا۔بارہ مارچ کے دن میرے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ان دنوں ہم ضلع پاکپتن شریف میں رہتے تھے۔دوستوں نے اس وقت بہت ساتھ دیا تھا۔

سوال ۔آپ کی کوئی ایسی کہانی جس پر سرقہ،چربہ، کاپی کا الزام لگا ہو؟

جواب۔اللہ کا شکر ہے ایسا کبھی نہیں ہوا۔فیس بک پر بھی تحریریں پوسٹ کرتا رہتا ہوں۔کبھی کسی نے سرقہ یا کاپی کا نہیں کہا۔

سوال ۔نئے افق پھلی بار کیسے پڑھا؟ اور پھلی بار پڑھ کر کیا تاثرات تھے؟

جواب۔نئے افق پہلی بار امجد جاوید صاحب نے گفٹ کیا تھا۔پڑھ کر اچھا لگا۔بہت اچھا ڈائجسٹ ہے۔نئے افق کے چند ایک شمارے پڑھے ہیں-اس میں لکھنے والے قلمکار ناصر ملک صاحب،امجد جاوید صاحب،زرین قمر صاحبہ کی تحاریر پسند ہیں۔یسین صدیق بھائی بھی اچھا لکھتے ہیں-محمد فاروق انجم بھائی اور رزاق شاہد کوہلر بھائی خوشگوار اضافہ ہیں۔نئے افق اب تیزی سے کامرانیوں کی جانب بڑھ رہا ہے- مالک و مدیران کو اتنا ہی کہوں گا کہ قلمکاروں کا ”خیال” رکھیں-انشائاللہ ڈائجسٹ دن دگنی رات چگنی ترقی کرے ۔

سوال ۔لکھاریوں کے رویہ کیسا پایا ہے آپ نے ۔؟

جواب۔بڑے لکھاری اپنے بڑے پن کی وجہ سے اپنے اپ کو بڑا نہیں سمجھتے۔اورچند ایک چھوٹے لکھاری اپنے چھوٹے پن کی وجہ سے اپنے اپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور زبر دستی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ” نہ منہ نہ ناساں۔میں وی کھاریاں جاساں.

سوال۔ادب کا موضوع سخن کیا ھے, انسانی نفسیات اور انسانی سوچ کو اس کی گہرائی میں جا کر سمجھنے اور پھر دوسروں کو سمجھنانے میں ایک ادیب کو کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی,؟

جواب۔اچھا سوال ہے۔ادب کا موضوع سخن انسان اور زندگی ہوتی ہے۔انسانی سوچ اور نفسیات کی گہرائی ماپنے کے لیے جب ادیب اپنے مشاہدے کو رقم کرتا ہے تو لوگ اسے اچھا نہیں سمجھتے۔جب وہ تخیل کے بل پر ماحولیاتی کینوس کو خوبصورت رنگ دیتا ہے تو لوگ اسے پسند کرنے لگتے ہیں۔ ادیب کی تمام زندگی اسی دھوپ چھا ¶ں میں گزرتی ہے۔ ادیب اس سود و زیاں کا شماریاتی تجزیہ کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا ہے اس لیے مشکلات کا باب تشنہ ئِ تحریر رہا ہے۔

سوال ۔تین ایسی شخصیات کے نام بتائیں جن سے ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں مگر ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی۔

جواب۔طاہر جاوید مغل صاحب،پرویز بلگرامی صاحب اور ڈاکٹر عبدالرب بھٹی صاحب سے ملاقات کی خواہش ہے-

سوال۔فیس بک کے درجنوں گروپس میں آپ ایڈ ہیں۔کتنے گروپس میں ایڈمن ہیں۔سب سے زیادہ کون سا سب سے زیادہ پسند ہے اور کیوں پسند ہے۔

جواب ۔صرف ایک گروپ کا ایڈمن ہوں جس کا نام۔جاسوسی ،سسپنس،اینڈ نئے افق لورز ہے ۔یہ تین چارسال قبل کرئیٹ کیا تھا-پسند اس لیے ہے یہاں تفسیر عباس بابر بھائی، لالہ قیصر اقبال اور میں نے کافی محنت کی اور کئی ادبی سلسلے شروع کیے تھے۔اپنا گروپ ہی سب سے زیادہ پسند ہے ۔

سوال۔کس موضوع پر کہانیاں آپ کو پسند ہیں۔کس موضوع پر آپ کے خیال میں زیادہ لکھا جا رہا ہے؟

جواب۔محبت اور ایکشن سے بھر پور کہانیاں مجھے پسند ہیں۔اسی موضوع پہ زیادہ لکھا جارہا ہے۔معاشرتی نا انصافیوں،جد و جہد آزادی، پہ قلمکاروں کو لکھنا چاہیے۔آپ دیکھیں نا دیوتا دنیا کی طویل ترین کہانی ہے اسے اردو ادب میں شمار نہیں کیا جاتا،جبکہ اداس نسلیں ایک چھوٹا سا ناول ہے۔وہ اردو ادب میں شامل ہے۔اداس نسلیں جیسا ادب ضروری ہے۔

مجھے سب سے زیادہ مشکل موضوع وادی کیلاش کے رسم و رواج پر لکھنا لگتا تھا-حال ہی میں”انوکھی جیت”لکھی ہے-دوسرا موضوع قبائلیوں اور سانحہ پشاور پر لکھنا-آج کل ناول ”لباس_اجل” اسی پس منظر میں لکھ رہا ہوں۔خاص طور پر انہیں درپیش مسائل پر قلم اٹھانا ضروری سمجھتا ہوں-کیونکہ وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔اردو ادب میں نثر کی طرف آئیں تو پرانی طرز کی داستان گوئی اور عمدہ ناول دم توڑتی اصناف ہیں۔ شاعری میں بے شمار اصناف ہیں مگر شاعر حضرات کو،محبت اور محبوب کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔یا پھر قصیدے اور مرثیے لکھتے ہیں۔حالانکہ معاشرے میں ان کے علاوہ بھی کئی موضوع اور مسائل ہیں،جن پر لکھا جا سکتا ہے۔

سوال ۔سوشل میڈیا۔پر آپ کب سے ایکٹیو ہیں۔فیس بک فرینڈ کتنے ہیں.ان میں سے ان کی تعداد کتنی ہے جو آپ کو پرسنل جانتے ہیں.

جواب۔چارسال قبل سوشل میڈیا سے جان پہچان ہوئی۔فرینڈز کی تعداد تین سو ہے۔ان میں سے ایک سو کے لگ بھگ کو ذاتی طور پر جانتا ہوں۔اپنے گروپ اور وال پر اپنی کہانیوں کے اقتباس لگاتا ہوں۔کچھ ادبی فورمز میں اپنے افسانے دے دیتا ہوں۔فیس بک پر بے مقصد وقت ہرگز نہیں گزارتا۔دو سے تین گروپس میں ایکٹیو رہنا چاہیے۔

سوال۔خود سے عشق کرنا چاہیے؟یاد رہے یہاں بات عشق کی ہو رہی ہے نہ کہ محبت اور پیار کی لائف میں خود سے عشق کیسے ضروری ہے؟؟

جواب۔جب تک انسان کو خود سے، اپنی ذات سے عشق نہ ہو۔وہ بھٹکتا رہتا ہے۔

سوال۔اردو فکشن کا کیا مستقبل نظر آ رہا ہے آپ کو جبکہ اردو فکشن کے بڑے بڑے نام نواب صاب کاشف زبیر اقبال کاظمی وغیرہ ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں؟

جواب۔بلاشبہ نواب صاحب،کاشف صاحب اور کاظمی صاحب اپنے وقت کے بڑے قلمکار تھے۔بہرکیف ان سے پہلے بھی بڑے قلمکار مٹی کی ردا اوڑھ کر سو چکے ہیں۔نئے تخلیق کار آتے رہیں گے۔اردو فکشن کا تابناک مستقبل ہم انشائاللہ ضرور دیکھیں گے۔

سوال۔اردو ادب میں سرقہ پرانی روایت ہے.لوگ پہلے غزل کی زمین چرا لیتے تھے خیال چرا لیتے تھے آج کل پوری کی پوری غزل اڑا لیتے ہیں.اسی طرح نثر میں بھی پہلے مرکزی خیال چرایا جاتا تھا آج کل بہت کچھ چرا لیا جاتا ہے.عموما ترجمہ کہانیوں کے حوالے سے یہ شکایات زیادہ ہیں.اس ادبی سرقہ کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب۔سرقہ ایک دھوکہ ہے۔جو مصنف خود کے ساتھ کرتا ہے۔اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

سوال۔شاعری کو باقاعدہ سیکھنا پڑتا ہے یا پھر آتے آتے ہی آتی ہے یا پھر یہ گاڈ گفٹڈ ہے..

جواب۔ہر عالم، ولی نہیں ہوتا۔مگر ولی،عالم ہوتے ہیں۔ہر عاشق،شاعر نہیں ہوتا۔مگر شاعر،عاشق ہوتے ہیں۔بھلے عشق حقیقی ہو یا مجازی۔شاعری خدا داد صلاحیت ہوتی ہے۔

سوال۔جے ڈی پی کے مختلف گروپس ایف بی پر موجود ہیں جبکہ پہلے ایک آدھ ہی ہوتا تھا.اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب۔اس کی وجہ نام نہاد انا پرستی ہے، فرعونیت ہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ گروپ ان کی جاگیر ہے۔ممبرز ان کی رعایا ہیں۔وہ جو کہیں وہ مانیں۔۔ورنہ کہیں اور جائیں۔یہی ممبر اپنا گروپ بنا لیتے ہیں۔

سوال۔کوئی ایسا لمحہ جو چاہتے ہیں واپس آ جائے؟

جواب۔بہتا پانی اور وقت ایک جیسے ہوتے ہیں۔گزرے لمحے واپس نہیں آتے۔تاہم دل چاہتا ہے وہ لمحہ واپس آجائے۔جب ”ان” سے پہلی بار ملا تھا۔

سوال۔کوئی ایسا لمحہ جب آپ نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا ہو؟

جواب۔جب میں مفرور تھا۔امی نے کال کی۔کہا تھا۔”رات ہماری بھینسیں چور لے گئے ہیں۔“اگر واپس آتا تو پولیس گرفتار کر لیتی۔اس وقت خود کو بے بس محسوس کیا تھا۔

سوال۔ آپ کی کتنی مزید کہانیاں شائع ہوئی ہیں۔۔ہو سکے تو لسٹ بنا دیں پہلی کا نام کب کہاں شائع ہوئی۔

جواب۔دو ہزار پانچ میں مذاق میں ایک کہانی” انسان اور شیطان “لکھی۔ جو کہ اخبار میں چھپی تھی۔ اس کے بعد شاعری ہی لکھتا رہا۔دو ہزار چودہ میں فیس بک جوائن کی تو نثر کی طرف متوجہ ہوا۔دو ہزار سولہ کے آغاز میں سرگزشت ڈائجسٹ میں لکھنا شروع کیا۔میں نے اب تک صرف سرگزشت ڈائجسٹ میں لکھا ہے۔میری پندرہ کہانیاں اب تک شائع ہو چکی ہیں۔روپ بہروپ، خلش، ڈھلتے سائے، انوکھی جیت، میں کھلونا نہیں،فریب نظر، کرب زیاں،ظلمت شب اور بنیاد وغیرہ

سوال۔آج کل نیا پراجیکٹ کیا ہے یعنی کس موضوع پر کون سی کہانی یا ناول لکھ رہے ہیں۔

جواب۔آج کل بہت مصروف ہوں۔کافی کام پینڈنگ میں پڑا ہوا ہے۔تاہم ناول” شکست خوردہ “لکھ رہا ہوں۔جس کا موضوع تیسری جنس ہے۔ان کے علاوہ تین ناول آدھے لکھ کر چھوڑ دئیے ہیں۔سنگ زادے، شعلے اور جلا وطن۔وجہ عدیم الفرصتی ہے۔

سوال۔حوصلہ رائیٹر ویلفئیر ایسوسی ایشن بارے آپ کیا جانتے ہیں۔اس کا مستقبل بارے کیا سچی رائے ہے۔اس کا حصہ ہوتے ہوئے بھی آپ نے کوئی خاص کردار ادا کیوں نا کیا۔

جواب۔حوصلہ کا قیام ایک احسن قدم ہے….اس سے ہر ادیب کو حوصلہ ملے گا….امید واثق ہے کہ بہت اچھی تنظیم ثابت ہو گی۔بہرکیف اس کے لیے ٹیم کا مضبوط اور مخلص ہونا ضروری ہے..وقت مصروفیت کی وجہ سے نہیں دے پا رہا۔

سوال ۔ماشائاللہ سر آپ ایک اردو ادب کی قد آور شخصیت ہیں آپ اردو ادب اور فیس بک فارمز کی سیاست کو کس نظر سے دیکھتے ہیں

جواب۔میں ابھی خود کو طفل مکتب سمجھتا ہوں۔آپ کا حسن نظر ہے کہ اس قابل سمجھ ہوا ہے۔فیس بک کے فارمز کی سیاست فہم و عقل سے ماورا ہے۔جب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔سب اچھا ہے۔جونہی اختلاف کیا جائے تو لوگ بھڑ کی طرح کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں۔

ہم جناب اعجاز احمد راحیل کے مشکور ہیں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت دیا ۔اور سوالات کے جوابات دیے ۔میں ان سب دوستوں کا بھی مشکور ہوںجنہوں نے سوالات کیے ۔خاص کر ان سے دلی ہمدردی ہے جن کے سوالات کے جوابات اعجاز احمد راحیل ایک سال میں بھی نہ دے پائے ۔خاص کر عقیل شیرازی صاحب جنہوں نے درجنوں سوالات کیے لیکن اعجاز احمد راحیل صاحب وقت نہ نکال پائے ۔ان شا اللہ جب بھی وقت ملا اعجاز احمد ان سوالات کے جوابات ضرور دیں گے ۔تب ہم اس اس انٹرویوز کو جب اس پلیٹ فارم سے کتاب لکھی گی تو مکمل انٹرویوز کو اس میں شائع کریں گے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

قاری سے لکھاری۔۔ الفت کا شہباز۔۔ یاسین صدیق

الفت کا شہباز ! محمد یاسین صدیق شاعر ، ادیب شہباز اکبر الفت بنیادی طور …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    واؤ… ماشاءاللہ کمال است. لطف آ گیا اعجاز بهائی کا انٹرویو پڑھ کر. بہت مزے کے جوابات. کیا کہنے.
    اور یاسین صدیق بهائی کا ممنون ہوں کہ آخرش میرا دکھ یاد رکها کہ میرے سوالات جو کہ انتہائی اہم تر تهے ان کے تو سرے سے جوابات ہی نہیں دئیے گئے. آہ…
    بہرحال اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ. خدا رزق سخن بڑها دے. آمین ثم آمین.
    بہت مزہ آیا انٹرویو پڑھ کر.
    بس کچھ الفاظ بریک ہوئے ہیں اندر تو انہیں پڑهنا مشکل امر ثابت ہوا.
    نیک خواہشات.
    عقیل شیرازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے