سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔قسط نمبر24۔سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔قسط نمبر24۔سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 24
ایک صاحب اجازت لے کر کمرے میں آئے اور بتایا کہ نیلی نے آنے سے انکار کردیا ہے ، وہ کہہ رہی ہیں کہ ان کے سر میں شدید درد ہے، آفاقی صاحب نے ان صاحب سے کہا کہ آپ جائیں ، میں خود نیلی سے بات کرتا ہوں۔
ہم نے پوچھا ’’یہ نیلی کون ہے؟‘‘
آفاقی صاحب نے چونک کر ہماری طرف دیکھا اور کہا ’’آپ نیلی کو نہیں جانتے، حالاں کہ ویسے بڑے فلم انڈسٹری سے اپنی جان کاری کے دعوے کرتے ہیں‘‘
ہم نے پوچھا ’’اداکارہ نیلی؟‘‘آفاقی صاحب نے اثبات میں گردن ہلائی تو ہم نے مزید سوال پوچھا ’’آپ کو کیا کام پڑگیا نیلی سے؟‘‘
انھوں نے بتایا کہ فیملی میگزین کے ٹائٹل کے لیے اسے بلایا تھا ، کئی روز سے بہانے کر رہی ہے، آج کا وعدہ پکا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ آج بھی نہیں آرہی ‘‘
پھر انھوں نے نیلی کو فون کیا اور اس سے پوچھا کہ سردرد کس نوعیت کا ہے؟ کب سے ہے اور کتنا شدید ہے؟وغیرہ وغیرہ، دوسری جانب سے وہ کیا جواب دیتی رہی ،ہمیں نہیں معلوم، تمام احوال سن کر انھوں نے کہا’’دیکھو نیلی، اگر تمھارا یہ درد ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے تو ہمیں کیا انعام دوگی؟‘‘ معلوم نہیں اس نے کیا جواب دیا، بہر حال آفاقی صاحب نے اس سے کہا کہ تم اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا سر اس طرح پکڑو کہ انگوٹھے اور انگلیوں کے درمیان میں آجائے اور اسے دباکے رکھو، میں ٹیلی فون پر ہی دم کروں گا اور ان شاء اللہ تمھارا سر درد ختم ہوجائے گا،یہ سن کر ہم ذرا چونکنّے ہوکر بیٹھ گئے ، ہمیں کیا معلوم تھا کہ آفاقی صاحب کسی بابا جی کا کردار بھی ادا کرنا جانتے ہیں۔
آفاقی صاحب نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنا شروع کردیا اور پھر ٹیلی فون کے ریسیور میں زور سے پھونک ماری اور نیلی سے پوچھا کہ اب درد کا کیا حال ہے؟ شاید اس نے کہا ہوگا کہ پہلے سے کم ہے، انھوں نے کہا دوبارہ سر پکڑو اور پھر انھوں نے دوبارہ پڑھائی شروع کی اور ریسیور میں پھونک ماری، پھر پوچھا تو شاید اس نے تسلی بخش جواب دیا، جواب سنتے ہی انھوں نے حکم دیا کہ پہلی فرصت میں اسٹوڈیو پہنچو، آج ہمارا کام ہوجانا چاہیے، اب میں کوئی بہانہ نہیں سنوں گا، پھر ریسیور رکھ دیا،آفاقی صاحب فلم انڈسٹری کے بہت سینئر لوگوں میں سے تھے اور ہم نے دیکھا کہ لوگ ان کا حقیقی معنوں میں احترام کرتے تھے، ایک بار ہم آفس میں بیٹھے تھے تو ہدایت کار سلیمان کا فون آگیا، آفاقی صاحب ان سے اس طرح گفتگو کر رہے تھے جیسے اپنے کسی چھوٹے سے کی جاتی ہے، وہ اسے ’’سلّو‘‘ کہہ کر پکارتے اور کسی موقع پر ان کا انداز کچھ تنبیہ کرنے والا ہوجاتا، الیاس رشیدی صاحب بھی فلمی صحافت کے سینئر ترین افراد میں تھے لیکن وہ بھی ان کا احترام کرتے تھے۔
ہم انھیں حیرت سے دیکھ رہے تھے پھر پوچھا’’یا حضرت! یہ کیا ماجرا ہے؟‘‘
آفاقی صاحب مسکرائے اور پھر فرمایا کہ یہ عمل انھیں کسی نے بخش دیا تھا، چناں چہ اگر کسی کے سر میں درد ہو تو وہ اس عمل سے کام لیتے ہیں، ہم نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بخشا تھا ؟ انھوں نے ایک فلمی شخصیت کا نام لیا جو اب ہمیں یاد نہیں رہا،گویا فلمی دنیا میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں جو عامل کامل تھے کیوں کہ اپنے عمل کی اجازت کوئی عامل ہی کسی دوسرے کو دے سکتا ہے، بھارتی فلم انڈسٹری میں بھی ایک ایسی ہی شخصیت کا ذکر موسیقار نوشاد نے اپنی یاد داشتوں میں کیا ہے ، وہ فلم انڈسٹری کے نامور کریکٹر ایکٹر مرزا مشرف صاحب تھے، ہم نے ان کی مشہور فلم ’’روٹی‘‘ دیکھی تھی جو ہدایت کار محبوب خان نے بنائی تھی اور اپنے وقت کی بڑی کامیاب فلم تھی،نوشاد صاحب نے بتایا کہ مشرف صاحب ولیِ کامل تھے،فلم انڈسٹری میں رہتے ہوئے اور چھوڑنے کے بعد بھی وہ لوگوں کی روحانی مدد کیا کرتے تھے،ان کے انتقال کے بعد ان کا مزار بھی مرجع خلائق ہے۔
اسی طرح ایک بار ہم نے آفاقی صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ ہومیو پیتھی کی طرف کیسے متوجہ ہوئے، انھوں نے بتایا تھا کہ مشہور موسیقار فیروز نظامی سے ان کی دوستی تھی اور وہ ہومیوپیتھی سے بھی شغف رکھتے تھے، انھوں نے ہی آفاقی صاحب کو بھی ہومیوپیتھی کی طرف راغب کیا۔
بہر حال آفاقی صاحب کا یہ چمتکار پہلی دفع ہمارے مشاہدے میں آیا، اس کا ذکر ہم نے معراج صاحب سے بھی کیا، وہ بھی خاصے حیران ہوئے، ہم پہلے بھی یہ بات بتاچکے ہیں کہ آفاقی صاحب فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی ، اس دنیا کے شرعی عیوب سے ہمیشہ دور رہے، مکمل اسلامی ذہن کے حامل تھے اور وہ پانچ وقت کی نماز کے بھی پابند تھے، چناں چہ کسی عمل کا عامل ہونا جو انھیں بخشا گیا تھا،قرین قیاس ہے۔
لاہور کا یہ پہلا سفر نہایت مصروف رہا اور اس سفر کی کامیابی کا تمام تر سہرا عزیزم طاہر جاوید مغل کے سر رہا، پانچویں دن انھوں نے ہمیں لاہور ائرپورٹ تک پہنچایا اور یقیناً سکون کا سانس لیا ہوگا۔
کنوارا کنواری نمبر
جمال احسانی اپنے میگزین رازدار کی تیاریوں میں مصروف تھے اور ادھر ہمارا ارادہ ایک نیا خاص نمبر لانے کا تھا جس کی منظوری معراج صاحب نے دے دی تھی،یہ ایسے لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل تھا جن کی شادی نہیں ہوئی اور کنوارے ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ظاہر ہے اس میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں، وہ بھی جنھوں نے زندگی بھر کنوارا رہنا پسند کیا اور جان بوجھ کر شادی نہیں کی اور وہ بھی جو کوشش کے باوجود بھی شادی نہ کرسکے،الغرض اس حوالے سے بڑے ہی مختلف رنگ سامنے آتے ہیں، شادی نہ کرنے یا کنوارا رہ جانے کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہے،اس اعتبار سے یہ ایک بڑا موضوع ہے جس میں مردوخواتین کی بھی کوئی قید نہیں ہے،اس نمبر کے لیے تیاریاں ہم نے لاہور سے واپسی کے بعد ہی شروع کردی تھیں اور کام پھیلتا ہی چلا جارہا تھا جس کے نتیجے میں پرچے کے صفحات میں بھی غیر معمولی اضافہ کرنا پڑا لیکن قیمت وہی رہی جو عام شمارے کی تھی۔
حسب معمول کنوارا رہ جانے والے مردوخواتین کی ایک طویل فہرست مرتب ہوئی اور پھر ایک انتخاب کرلیا گیا، اس فہرست میں تاریخ کے جھروکوں سے غلام قادر روہیلہ کی کہانی ڈاکٹر ساجد امجد نے لکھی، ساحر لدھیانوی کا فسانہ ء عشق علی سفیان آفاقی کے زور قلم کا نتیجہ تھا اور مشہور گلوکارہ اور اداکارہ ثریا کی داستان بھی علی سفیان آفاقی نے ہی بیان کی، اگرچہ اس پر آفاقی صاحب کا قلمی نام آشنا کے قلم سے دیا گیا تھا،بھارتی سپر اسٹار سنجیو کمار کی زندگی کا ماجرا انور فرہاد نے بیان کیا،مشہور شاعر ’’وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا‘‘ کے خالق اطہر نفیس کے ناکام عشق کا قصہ شمیم نوید نے تحریر کیا تھا، ہماری نظر میں ایک اور اہم نام بھی تھا جو اردو شاعری کا آج بھی بہت بڑا نام ہے،عزیز حامد مدنی، انھوں نے بھی تمام زندگی شادی نہیں کی، مسئلہ یہ تھا کہ ان پر کون لکھ سکتا ہے؟ مدنی صاحب کا حلقہ ء احباب بڑا محدود تھا اور وہ بہت خاموش طبع بھی تھے ، کسی پر کھلتے نہ تھے، ایک ہی شخصیت ہماری نظر میں ایسی تھی جو ان پر لکھ سکتی تھی اور ان کے بارے میں مکمل واقفیت بھی رکھتی تھی، وہ تھے ہمارے پروفیسر سحر انصاری لیکن سحر بھائی سے ایسا کوئی کام لینا خود ایک مسئلہ کشمیر تھا۔
جب تک ہم ناظم آباد میں رہے اور حنیف اسعدی صاحب کے ہاں ہماری بیٹھک رہی، سحر بھائی سے تقریباً روز ہی ملاقات ہوجایا کرتی تھی مگر اب ان سے ملاقات بھی کوئی آسان کام نہیں تھا، بہر حال یہ ان کی محبت اور خلوص تھا کہ انھوں نے ہماری لاج رکھی اور وقت پر عزیز حامد مدنی صاحب کے کنوارا رہنے کا حال قلم بند کیا، پروفیسر سحر انصاری کی یہ تحریر کنوارا کنواری نمبر میں ’’خواب زلیخا‘‘کے عنوان سے شائع ہوئی، دراصل مدنی صاحب کا ایک مشہور شعر اس کہانی کو پڑھ کر ہمارے ذہن میں آگیا تھا ؂
طلسم خواب زلیخا و دامِ بردہ فروش
ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں
ایک اہم ترین شعبہ سیاست بھی نظر میں تھا اور دو کنوارے سیاست دان بھی نظر میں تھے، اول شیخ رشید احمد اور دوسرے جناب الطاف حسین لیکن اس زمانے میں یہ ممکن نہیں تھا کہ ان ہستیوں کی زندگی کے حقیقی حالات صفحہ ء قرطاس پر لائے جائیں(آج بھی ممکن نہیں ہے) مگر اس کمی کا احساس بے چین کیے دے رہا تھا، اس حوالے سے غلام قادر سے مشورہ کیاگیا اور یہ طے پایا کہ بھارتی پس منظر میں ایک کنوارے سیاست داں کی کہانی لکھی جائے،غلام قادر کا اوڑھنا بچھونا ہی سیاست تھا، موصوف کراچی کے ایک صوبائی حلقے سے الیکشن میں بھی حصہ لے چکے تھے چناں چہ الیکشن میں ہونے والے ہر داؤ پیچ سے خوب واقف تھے۔
قادر نے کہانی لکھنا شروع کردی، شاید اگست کا مہینہ تھا اور کراچی میں شدید بارش ہوئی تھی، غلام قادر شادی کے بعد میٹروول کے علاقے میں روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے، انھوں نے کہانی کے کچھ صفحے لکھ کر ہمیں بھجوائے ، ہم جیسے جیسے کہانی پڑھ رہے تھے، حیران ہورہے تھے،پہلی مرتبہ ہمیں اندازہ ہوا کہ سیاست کے موضوع پر غلام قادر کی کتنی گہری نظر ہے اور زیر نظر کہانی تو ایک سلسلے وار طویل داستان بن سکتی ہے، دوسرے ہی دن رات کو بارش میں بھیگتے ہوئے ہم غلام قادر کی خفیہ پناہ گاہ تک پہنچ گئے کیوں کہ ان کے گھر پر ٹیلی فون بھی نہیں تھا اور وہ موبائل فون کا زمانہ بھی نہ تھا، خود قادر کا دفتر آنا خطرناک تھا۔
ہم نے قادر سے کہا کہ آپ اس کہانی کو ایک سلسلہ وار کہانی کے طور پر آگے بڑھائیں اور طوالت کی فکر نہ کریں، پہلی قسط اسی خاص نمبر میں شامل ہوگی اور پھر مسلسل ہر شمارے میں جاری رہے گی،اس طرح ’’کشتہ ء سیاست‘‘ جیسی ایک شاہکار کہانی وجود میں آئی جو اب کتابی شکل میں بھی دستیاب ہے۔
اسی یادگار شمارے سے جناب اختر حسین شیخ کے شہرہ آفاق سلسلے کا آغاز ہوا جو انھوں نے برصغیر کے نامور پہلوانوں پر لکھا تھا ، اس سلسلے کی پہلی کہانی ’’استاد زماں‘‘اسی کنوارا کنواری نمبر میں شامل تھی، برصغیر میں فن پہلوانی کا آغاز کرنے والے لاہور کے عظیم شہ زور نورالدین کا تعارف اور ناکام عشق کی داستان اس میں بیان کی گئی تھی، نورالدین کو ’’قطب پہلوانی‘‘کا خطاب دیا گیا تھا، فن پہلوانی کے اکثر داؤ پیچ ان کی ایجاد بتائے جاتے ہیں(جناب اختر حسین شیخ پر ایک تفصیلی مضمون ہم پہلے لکھ چکے ہیں جو اردو لکھاری ڈاٹ کام پر موجود ہے)
شاید رازدار کا شمارہ سرگزشت سے پہلے ہی بازار میں آگیا تھا، اس کے فوری بعد سرگزشت کا کنوارا کنواری نمبر ستمبر کا شمارہ بازار میں آیا اور اسے شاندار پذیرائی ملی، ہمارے لیے اعزاز کی بات یہ تھی کہ پرچا آنے کے بعد معراج صاحب نے ہمیں بلایا اور اس شمارے کی بہت زیادہ تعریف کی، واضح رہے کہ معراج صاحب کسی کی منہ پر تعریف کرنے کا مزاج ہی نہیں رکھتے تھے، مزید یہ کہ وہ اختر حسین شیخ کے سلسلے فن پہلوانی کی طرف سے زیادہ پرامید نہیں تھے مگر بقول ان کے انھوں نے سب سے پہلے یہی کہانی پڑھی اور اس خیال سے کہ دیکھیں ہمارا یہ فیصلہ درست ہے یا نہیں ؟کہانی معراج صاحب کو بہت پسند آئی اور اس کے بعد انھوں نے اجازت دی کہ شیخ صاحب سے پہلوانوں کی کہانیاں مزید لکھوائی جائیں، اس طرح بالآخر برصغیر میں فن پہلوانی کی مکمل تاریخ تحریر ہوسکی، بعد ازاں ’’داستانِ شہ زور‘‘ کے نام سے یہ مکمل تاریخ کتابی شکل میں لاہور سے بھی شائع ہوئی۔
کنوارا کنواری نمبر نے سرگزشت کی اشاعت میں مزید اضافہ کیا، یہ شمارہ پسندیدگی کے تمام ہدف عبور کرگیا۔
رازدار اور جمال احسانی
رازدار کی اشاعت شروع ہوگئی تھی اور بلاشبہ جمال احسانی نے ایک معیاری پرچے کا آغاز کیا تھا، اس حوالے سے انھیں جناب شکیل عادل زادہ کی سرپرستی اور مشورے بھی حاصل تھے، شکیل صاحب نے رازدار کے لیے اپنی سرگزشت بھی لکھنا شروع کردی تھی جو یقیناً نہایت دلچسپ اور معرکے کی چیز تھی، جب یہ سرگزشت شروع ہوئی تو جمال ہمارے پاس آئے اور ہم سے پرچے کے بارے میں تبادلہ ء خیال کیا، خاص طور پر شکیل صاحب کی سرگزشت کے حوالے سے ہماری رائے جاننا چاہی، ہم نے اس کی تعریف کی لیکن یہ اعتراض بھی کیا کہ اس پر جو نوٹ لکھا گیا ہے وہ شکیل صاحب کے شایان شان نہیں ہے،جمال نے فوراً ہی حکم جاری کردیا کہ اس کا نوٹ تم لکھو گے، ہم نے بہت جان چھڑانے کی کوشش کی مگر انکار نہ کرسکے اور بالآخر اس کے لیے ایک خصوصی نوٹ لکھا جو شائع ہوتا رہا۔
معراج صاحب نے وعدے کے مطابق رازدار کا اشتہار سسپنس ڈائجسٹ میں شائع کیا تاکہ اس نئے پرچے کو سپورٹ مل سکے لیکن پھر ایک واقعے نے صورت حال کو بگاڑ دیا اور شدید نوعیت کی بدمزگی پیدا ہوگئی، ہوا یہ کہ شکیل صاحب نے اپنی سرگزشت میں ایک ایسے واقعے کا تذکرہ کیا جو اقلیم علیم صاحب کے لیے ناگوار تھا، اقلیم علیم کی ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستگی نہایت قدیم تھی ، وہ معراج صاحب کے بھی انتہائی قریبی دوستوں میں شامل تھے، انھوں نے معراج صاحب کی توجہ اس واقعے کی طرف دلائی ، ہمیں نہیں معلوم کہ انھوں نے کیا کہا اور کیا نہیں کہا لیکن معراج صاحب کے ذریعے ہمیں صرف اتنا ہی معلوم ہوا کہ شکیل صاحب کے اس اظہاریے پر اقلیم صاحب سخت ناراض ہیں، اس کے بعد معراج صاحب نے اپنے پرچے میں رازدار کے اشتہارات بند کردیے اور دونوں کے درمیان مراسم میں بھی تھوڑے سے فاصلے پیدا ہوگئے۔
رازدار پابندی سے نکلتا رہا لیکن اس کی اشاعت اتنی نہ ہوسکی کہ اپنا بوجھ سنبھال سکتا، ہمیں نہیں معلوم کہ جمال احسانی اچانک کس طرح پراپرٹی سے متعلق بزنس کی طرف متوجہ ہوگئے پھر ایک روز دفتر آئے تو انھوں نے بتایا کہ وہ گلشن اقبال سے ڈیفنس منتقل ہوگئے ہیں ، ان کے حالات بھی بہت بہتر ہوچکے تھے ، شاید انھوں نے پراپرٹی کے کام میں اچھی خاصی کمائی کی تھی، رازدار کی طرف سے ان کی توجہ ہٹ گئی تھی، باقی ہم نے یہ کبھی معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کی کہ یہ پرچا کن وجوہات کی بنیاد پر بند ہوا، بہت سے لوگ بہت سی باتیں کرتے تھے مگر سنی سنائی باتوں میں شکوک و شبہات کا امکان رہتا ہے، ایک بار غلام قادر سے بھی جمال احسانی کا شدید جھگڑا ہوا، وجہ یہی تھی کہ قادر جو کہانی لکھ رہے تھے اس کا معاوضہ انھیں بروقت نہیں ملا تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارے کے مالی حالات اچھے نہیں رہے ہوں گے۔
تاوان
ہم طاہر جاوید مغل کو جس کام پر لگاآئے تھے اس کا نتیجہ جلد ہی سامنے آگیا، طاہر نے پہلی قسط لکھ کر بھیج دی، اسے پہلے ہم نے پڑھا اور پھر معراج صاحب نے، کہانی پڑھنے کے بعد معراج صاحب نے کہا ’’طاہر نے یقیناً کہانی بہت اچھی لکھی ہے اور اسے گمراہ کے نام سے شائع کرنا طاہر کے ساتھ زیادتی ہوگی لہٰذا بہتر یہی ہوگا کہ کہانی میں موجود گمراہ کے کرداروں کو تبدیل کرکے نئے نام رکھے جائیں، ضروری نہیں ہے کہ اسے گمراہ کی ایکسٹینشن کے طور پر شائع کیا جائے، یہ اپنے طور پر بھی ایک بھرپور کہانی ہے اور طاہر کی اپنی تخلیق ہے‘‘
ہم نے معراج صاحب کی بات سے اتفاق کیا اور پہلی قسط کو تصحیح کے لیے دوبارہ طاہر کو بھیج دیا، طاہر سے فون پر بات ہوئی اور انھیں بتادیا گیا کہ یہ کہانی اب گمراہ کے نام سے شائع نہیں ہوگی،کہانی کا نیا نام ’’تاوان‘‘ تجویز ہوا، ہمیں نہیں یاد کہ تاوان کی پہلی قسط کس سال اور کس مہینے سے شروع ہوئی، یقیناً بھائی ابراہیم جمالی اس سلسلے میں رہنمائی کریں گے بہ صورت دیگر ہمیں سرگزشت کا پرانا ریکارڈ کھنگالنے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑے گی۔
سرگزشت میں تاوان کا آغاز ہوا اور مجاہد کو ختم کردیا گیا، اس تبدیلی کو سرگزشت کے قارئین نے پسند کیا، تاوان اپنی پہلی ہی قسط سے پسند کی گئی اور رفتہ رفتہ اس نے ایک مقام بنالیا، تاوان بھی ان کہانیوں میں شامل ہے جنھوں نے سرگزشت کی اشاعت میں اضافہ کیا، طاہر جاوید مغل کو بھی یہ طویل کہانی لکھنے کے دوران میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بھرپور اظہار کا موقع ملا، طاہر نے تاوان کے بعد بھی دوسری سلسلے وار کہانیاں لکھی ہیں جو ہم نے نہیں پڑھیں اور آج کل بھی لکھ رہے ہیں، بعض لوگوں نے ہم سے یہ بھی کہا کہ طاہر تاوان کے اثر سے نہیں نکل سکے، ان کی دیگر سلسلے وار کہانیوں پر تاوان کی چھاپ نظر آتی ہے،ہم اس حوالے سے کوئی رائے نہیں دے سکتے لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک طویل اور بھرپور ناول لکھنے کے بعد ہر مصنف اس کے گہرے ٹرانس میں آجاتا ہے جس سے وہ ایک طویل عرصے تک نہیں نکل پاتا، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی طویل ناول کے بعد مصنف کو کوئی دوسرا ناول فوری طور پر شروع نہیں کرنا چاہیے، کم از کم سال دو سال دوسری چھوٹی کہانیاں لکھ کر پچھلے ناول کے ٹرانس سے نکلنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
خدا کی بستی شوکت صدیقی صاحب کا مشہور ناول بے حد مقبول ہوا اور ادبی حلقوں میں بھی سراہا گیا ، اس ناول کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی اور پاکستان ٹیلی ویژن کا مقبول ترین ڈراما قرار پایا، برسوں بعد اسے دوبارہ نئے کرداروں کے ساتھ پیش کیا گیا مگر اس کے بعد ایک طویل عرصے تک انھوں نے کوئی بڑا ناول نہیں لکھا، بہت بعد میں جانگلوس شروع کیا تو وہ خدا کی بستی سے یکسر مختلف موضوع اور ذائقہ محسوس ہوا، شکاری کے فوری بعد جب مداری شروع کی گئی تو اکثر قارئین نے کہا تھا کہ مداری میں شکاری کی جھلکیاں محسوس ہوتی ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر کمرشل رائٹرز کو گھر کا چولہا بھی پابندی سے جلانا ہوتا ہے، چناں چہ وہ یکے بعد دیگرے طویل کہانیاں لکھتے رہتے ہیں حالاں کہ اس حوالے سے طاہر جاوید مغل کا معاملہ ذرا مختلف ہے، طاہر ایک کھاتے پیتے مضبوط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے جب تحریر کی چوکھٹ پر قدم رکھا تو انھیں کوئی مالی پریشانی ہر گز نہیں تھی، ان کا اچھا کاروبار لاہور میں جاری تھا اور آئندہ بھی جاری رہا، اب بھی جاری ہے، ہمارے خیال میں طاہر جاویدمغل نے کبھی بھی صرف پیسا کمانے کے لیے نہیں لکھا، ہم نے کبھی یہ بھی نہیں دیکھا یا سنا کہ وہ اپنا معاوضہ بڑھانے کے لیے فرمائش کر رہے ہوں، لکھنے کے سلسلے میں انھوں نے ایک مقدار مقرر کر رکھی تھی کہ اپنے کاروباری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد کتنا وقت اپنی تحریری سرگرمیوں کو دینا ہو، ہم نے وہ جگہ بھی دیکھی جہاں بیٹھ کر وہ لکھا کرتے تھے،یہ لکڑی کا ایک کارخانہ تھا جس میں آرا مشین بھی لگی ہوئی تھی ، اسی کارخانے میں ایک علیحدہ کمرہ انھوں نے اپنے لکھنے پڑھنے کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔
طاہر جیسے بندے کو ہمارے خیال میں مسلسل طویل سلسلے وار کہانیاں نہیں لکھنا چاہیے کیوں کہ ہم جانتے ہیں طاہر میں تخلیقی ٹیلنٹ ایک خاص رنگ میں بڑا بھرپور ہے اور وہ اگر مکمل آزادی اور پابندی کے بغیر کوئی ناول لکھیں تو اردو کے سکہ بند ادب میں اپنا کوئی مقام بناسکتے ہیں،ان شاء اللہ بشرط زندگی آئندہ ملاقات پر ہم ان سے اس حوالے سے بات کریں گے، انسان کو کوئی کام اپنی پسند اور مرضی کے مطابق بھی کرنا چاہیے اور اس معاملے میں دوسروں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہیے،طاہر اب اس مقام اور منزل پر ہیں جب وہ ایسا کوئی کام کرسکتے ہیں۔
ایسا ہی ایک کام اب احمد اقبال کر رہے ہیں یعنی اپنی سرگزشت لکھ رہے ہیں، ان پر کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں، بلاشبہ وہ بھی ایسے تخلیق کار اور صاحب تحریر ہیں جو اردو ادب کو کوئی نیا تحفہ دے سکتے ہیں جو یاد گار ثابت ہو، ہم نے ان کی سرگزشت کے چند صفحے پڑھے ہیں جن میں ان کے تحریری کمالات عروج پر نظر آتے ہیں، اپنے ماضی کے مشاہدات پر بھی ان کی گہری نظر ہے (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 27۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے