سر ورق / افسانہ / ولن۔۔ علی زیرک

ولن۔۔ علی زیرک

اوئے۔۔۔۔

روہی میں آسمان کے کنگرے توڑتے  گنے کے  کھیت ہیں اورمیرے میں بھربھری مٹی سے چمٹی ہوئی چنے کی  بدشکل جھاڑیاں ۔ اور ان دونوں منطقوں کے بیچ ہے زمین کا آٹھواں ستون جس کے گرد ابا جی نے بان کی موٹی رسی باندھ رکھی ہے جس میں وہ اپنے نسلی حقے کی نے کو اُڑس لیتے ہیں اور ستون سے ٹیک لگا کر دھواں پیتے ہیں۔

میں زیادہ دیر تک  دھان کی فصل کا لہکنا نہیں دیکھ سکتا کیوں کہ مجھے فضا  میں تحلیل ہوجانے کی شدید خواہش کی انی چبھنے لگتی ہے۔زوال کے وقت بھبھل کے ٹلے سے گوڑھی آواز میں محمد بخش کے شعر سنتے ہوئے مجھے اکثر نیند آجاتی ہے اس لیے میں اپنی کھاٹ کو شیشم کی بجائے کیکر کے نیچے بچھاتا  ہوں ۔دھوپ جب کیکر کے چھوٹے چھوٹے پتوں کو پھسلا کر راستہ بنا تی ہے  تو میری پلکوں پر پکھیرو اُڑنے لگتےہیں۔
ہمارے پرکھوں کا کنواں مسلسل بہتا رہتا ہے اور اس کا پانی ماں کی لوری کی طرح میٹھا اورآنکھوں پربرسنے والے   بوسوں کی طرح ٹھنڈا ہے۔

ماں ہمیشہ میری آنکھوں کو چومتی تھی شاید اسے علم ہوچکا تھا کہ میری آنکھیں کنویں کے شفاف پانی سے دھو کر مشرق کی رکڑ زمین پر پھینک دی جائیں گی اور اگلی بارشوں تک ان سےشبدوں اور دلیلوں کے تیر پھوٹنے لگیں گےجو بہت گھاتک ثابت ہوں گے۔

کنویں کے اوپر شہتوت کا گھنا چھتنار سایہ کیے رہتا ہے اور اس کا پھل کنویں میں گرتا رہتا ہے۔ابا جی پورا دن مصروف رہتے ہیں اور میں دن بھر گُڑ کی بھیلیاں اور جامن کھاتا رہتا ہوں۔ میرے دانت ، زبان اور یہاں تک کہ بانچھیں تک جامنی ہوچکی ہیں ۔کبھی کبھی جامن کے درختوں کی کچی ٹہنیاں میرے پکے پیروں کا بوجھ سہارتے ہوئے چیخ اُٹھتی ہیں اور ابا جی کی دور سے گھنی اور سپاٹ آواز آتی ہے ۔۔۔۔۔اوئےےےے

وہ مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں اور یہ مجھ پر بہت بھلا بھی لگتا ہے کیوں کہ ماں نے نبیوں کے مبارک اور شانت سبھاوء والے ناموں سے میرا نام چنا تھا لیکن میں امن پسند ہرگز نہیں ہوں۔۔۔

چاندنی راتوں میں جب کنویں کا پانی ابرقی ڈلک مارتا ہے میں پتلی پگڈنڈیوں کے ساتھ خاموشی سے چلنے والے سائے کی سمت مقرر کرتا ہوں اور تلووں سے پانی کے چھپاکے اڑاتا ہوں۔ رات کے دوسرے پہر جب مجھ پر نیند حاوی ہونے لگتی ہے کنویں کی گھوں گھوں میں آسمانی سنگیت جاگ اُٹھتا ہے اور دور تک پھیلی ہوئی فصلوں پر سفید مقدس چادر بچھ جاتی ہے۔

ابا جی رات بھر کاندھے پر پھاوڑا اُٹھائے گھومتے رہتے ہیں کہ مبادا کہیں پانی اپنا راستہ نہ تبدیل کر لے یہ ایک طرح کی نگہبانی ہی ہے لیکن ابا جی بہت سیدھے سبھاوء کے ہیں انہیں پانی کی قوت کا اندازہ نہیں ہے لیکن میں جانتا ہوں کیوں کہ میں نے گزشتہ ساون میں دریا کا بندٹوٹنے پرپانی کے زور کا مکمل اندازہ لگا لیا تھا جب درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ کر پانی کی سطح پر تختوں کی طرح تیرنے لگے تھے۔

خیر ابھی تو چیت کی ستائیسویں ہے ابھی کس چیز کا خوف۔۔

لیکن کنواں جانتا ہے کہ اس کے پانی کوماگھ کے مہینے تک  کڑوا کردیا جائے گا اور زمین پر چاندنی نہیں اترا کرے گی اور اس کے پانی میں ابرقی ڈلک نہیں رہے گی۔ کنواں بالکل ماوءں کی طرح ہوتا ہے بس چلتا رہتا ہے اور گھوں گھوں کرتا رہتا ہے۔ لیکن سب کچھ جانتا ہے۔

اب جب میں پورے سات برس کا ہونے کو آیا ہوں تو مجھے کچے آموں کی دانت کچکچاتی مہک لبھا رہی ہے لیکن بور آنے میں ابھی بہت وقت باقی ہے دن تیزی سے سرک رہے ہیں اور راتیں لمبی گھاس میں دبک جاتی ہیں اور باہر نکلنے کا نام نہیں لیتیں ۔میں رات بھر پلکیں نہیں جھپک پاتا۔ لیکن جو بھی ہو مجھے کچھ مہینوں تک اپنی آنکھوں کی حفاظت کرنی ہے اور جی بھر کر سونا ہے کیوں کہ جلد ہی مشرق کی رکڑ زمین پر فساد اٹھے گا اور جلد ہی کنوئیں کا پانی کڑوا ہوجائے گا پھر میری انہی آنکھوں سے شبدوں کے تیر اُگیں گے جن کی زمین سے نہیں بلکہ آسمان سے جنگ ہوگی اور ایسی جنگ جو قیامت تک جاری رہے گی۔۔۔۔۔۔لیکن ڈرتا ہوں کہ اس دوران ابا جی کہیں مجھے آواز نہ دے دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اوئےےے

*******

ولن

ہوشیار باش۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہانی کوئی عام کہانی نہیں ہے جس میں فرصت کے پلوں میں ایک خوبرو تنومند جثے والا جوان ہیرو،ریشم سی ملائم اور اُجلی جلد والی  ہیروئین کو باغ کی سیر کروا رہا ہو۔اور نہ ہی اس میں  دفتری اوقات کو گھڑیال کی سوئیوں سے باندھ کر ہر اونگھ اور ہر انگڑائی کا حساب رکھا جارہا ہے۔اور نہ ہی اس کا مقصد آپ کو جذباتیت پر اُکسانا ہے بلکہ یہ کہانی صرف کہانی ہے اور اس کا کوئی بھی مخصوص یا طے شدہ معنی نہیں ہے۔ اس میں نہ تو کوئی ہیر و ہے اور نہ ہی کوئی ہیروئین البتہ ایک ولن ضرور ہے جو خوش شکل ہے لیکن اس کی بائیں آنکھ پر گہرے گھاوء کا ایک نشان ہے ، بھیڑ میں پاگلوں کی طرح ہنستا ہے اورتنہائی میں پیغمبروں کی طرح روتا ہے۔نہ تو وہ کسی ہیروئین پر فریفتہ ہوتا ہے اور نہ ہی اسے کسی ہیرو کی ہڈی پسلی کا برادہ بنانے کا شوق ہے وہ بس اپنی دنیا میں مست ہے سکاچ، سگریٹ اورسولہ بائی سولہ کا ایک تاریک اور سیلن سے پیدا ہونے والی بدبو میں رچا ہوا اس کا کمرہ ہے جس میں وہ اپنے پالتو کھٹملوں کے ساتھ رہتا ہے۔

اس کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ اسے بیسیوں بار لکھا جاچکا ہے اور ہر بار یہ بالکل تازہ اور نئی لگتی ہے اور اس کا ولن ہر بار قارئین کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن اس بار میں اسے رسوا کروں گا اوراس کے گرد نفرت کا ایسا دائرہ کھینچوں گا کہ وہ گھٹ گھٹ کر مر جائے گا خیراگر اس نے اپنے پالتو کھٹملوں کو اپنے خون پر پالنا بند نا کیا تو بھی یقینی طور پروہ  اپنے آپ مر جائے گا کیوں کہ کھٹمل بڑھتے جارہے ہیں دن بہ دن ہر پل ہر لمحے میں ہزاروں پیدا ہورہے ہیں کھٹملوں کے پائخانے سے پیدا ہو کر نئے کھٹمل پرانے کھٹملوں سے زیادہ قوی اور چُست نظر آرہے ہیں اور ولن دھیرے دھیرے سُست پڑتا جارہاہے اس کی بانچھوں میں اب وہ توانائی نہیں رہی جو کچھ برس پہلے ہوا کرتی تھی جب وہ کھل کر ہنستا تھا تو اس کی بانچھیں کانوں کی لووں تک پھیل جاتی تھیں اور اس کی آنکھیں بھی تو اب اند دھنس رہی ہیں ، سیاہ حلقے پڑ چکے ہیں اور کنپٹیوں پر ابرق کی باریک پرتیں جم رہی ہیں۔ آنکھیں جو کبھی روشن اور سُرخ ہوا کرتی تھیں اب مٹ میلی اور دُھندلی ہورہی ہیں ،ریڑھ کی ہڈی اور کندھوں میں مستقل درد کی وجہ سے وہ دیکھنے کے لیے صرف اپنی پتلیوں کو حرکت دیتا ہے جبکہ اس کا پورا جسم ساکت رہتا ہے۔لیکن وہ بہرحال اب بھی ایک خطرناک ولن ہے  اور اس کی آواز میں اب بھی پہلے کی سی گرج اور بھیڑیوں جیسی بھونکار ہے۔اور اس کہانی کو دلچسپ بنانے کے لیے یہ بہترین ہتھیار ہے۔

ہاں تو کہانی میں  کسی ان دیکھی طاقت کا ذکر بھی ہے جو ولن کو ایک اچھا اور معتبر کردار بننے سے ہمیشہ روکتی ہے شاید یہ اس کی اپنی آتما کی طاقت ہے یا شاید کائنات کی آتما کی لیکن جو بھی ہے ولن اپنے اندر اور باہر کے درمیان الجھے بغیر دھوئیں کے مرغولے اُڑاتا رہتا ہے اور اس کےسردی سے نیلگوں پڑتے ہوئے ہونٹ اب خود کلامی سے بھی باز آچکے ہیں ایک گہرا سناٹا اور تیسرے درجے کا ٹھنڈا سانس اس کو سیاہ صوفے میں ڈھیر کرنے کے لیے کافی ہے ۔

راز کی بات یہ ہے کہ وہ اس وقت آپ اور مجھ سے بالکل مختلف سمت اور مختلف انداز میں حرکت پزیر ہے ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ کوئی شئے ہے بلکہ اس کی حرکت پزیری کو اختیاری بھی قرار نہیں دے سکتا کیوں کہ وہ بادباں کو آگ لگانے والوں میں سے ہے اور وہ جانتا ہے کہ کشتی میں کتنے سوراخ ہوں تو مچھلیوں کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے۔کیوں کہ ایک کہانی میں وہ مچھیروں کی انگلیاں کاٹ کر مچھلیوں کے چارے کے لیے استعمال کرتا تھا۔۔وہ واقعی خطرناک ہے اور اس کی آنکھیں ان دنوں شارک کی طرح ٹھنڈی اور سفاک ہوا کرتی تھیں۔سنبھل کر رہیے اورمیرے ساتھ مل کر اس لمحےاس کی  پوزیشن کا درست اندازہ لگانے کی کوشش کیجیے۔۔۔۔جی

آپ اس وقت جس جگہ پر موجود ہیں اس کے اطراف پر نگاہ ڈالیے اور اندازہ لگائیے کہ آپ اس وقت کسی سے ملنے کے لیے اگر کوریڈور سے گزر کر بیرونی دروازے کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں  تو وہ ضرور چھت پر اکیلا بیٹھ کر شطرنج کھیل رہا ہوگا اور اگر آپ ٹیرس پرچھتری کے نیچے ہلکی بارش میں کافی سے لطف اندوز ہورہے ہیں تو وہ لازمی طور پر کاٹھ کباڑ جلا کر آگ تاپ رہا ہوگا ۔اور اگر آپ اس وقت اپنی محبوبہ کی گردن سہلا رہے ہیں تو پھر وہ اس وقت کہیں پر بھی موجود نہیں ۔۔۔۔۔۔بس یہی وہ لمحہ ہے جسے ہم نے اس کے خلاف نفرت کے لیے استعمال کرنا ہے اسے منجمد کر لیجیے اور امرہوتی ہوئی شام کو مٹھی میں بند کر لیجیے کیوں کہ ابھی کچھ دیر بعد وہ جگنو پکڑنے کے لیے دوبارہ چھت پر موجود ہوگا اور اس کی کھدر کی موٹی چادر اس کے کندھوں کو حرارت مہیا کر رہی ہوگی۔لیکن ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا کیوں کہ اس میں اب بھی اتنی ہمت موجود ہے کہ وہ دوبارہ کشتیوں کے بادبان جلا دے اور مچھیروں کی انگلیاں کاٹ کر مچھلیوں کے لیے چارہ بنا لے ۔۔

ہاں ایک بات تسلی بخش ہے کہ اب وہ انگلیاں کاٹنے کے لیے چاقو کا استعمال نہیں کرتا ۔اس سے خوب نفرت کیجیے اور اس کی کھدر کی موٹی چادر کو پیروں تلے روند دیجیے اور اس کو جگنو پکڑنے سے روک رکھیے لیکن اگر آپ اپنے بیڈروم کے نرم گرم  بستر چھوڑنے پر قادر ہوئے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولن بہرحال ایک خطرناک ولن ہے۔

*******

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

لبرل جڑیں ۔۔۔نورالعین ساحرہ

لبرل جڑیں نورالعین ساحرہ ” پچھلے ایک ہفتے میں ہر روز پہلے سے زیادہ حیران …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے