سر ورق / کہانی / ڈاکٹر ڈینگا۔۔۔نوشاد عادل

ڈاکٹر ڈینگا۔۔۔نوشاد عادل

                                                                        ڈاکٹر ڈینگا

نوشاد عادل

            پورے ملک کی طرح دڑبہ کالونی پر بھی ”ڈینگی وائرس“ کا خوف طاری تھا۔ ابھی یہ شکر تھا کہ وہاں ایک آدمی بھی ڈینگی مچھر کا شکار نہیں ہوا تھا، لیکن حفظ ماتقدم کی تحت شرفو کونسلر صاحب نے معززین کی لعن طعن سن کر موبائل پر کسی وزیر سے رابطہ کیا تھا اور دڑبہ کالونی میں ڈاکٹروں کی ٹیم بھیجنے کی درخواست کی تھی، تاکہ اگر کوئی شخص ڈینگی مچھر سے متاثر ہوتو فی الفور اس کا علاج کردیا جائے۔اب سرکاری وعدے کے مطابق ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کالونی پہنچنے والی تھی۔ شرفو صاحب نے اُن کے ٹھہرنے کا بندوبست کردیا تھا۔چودھری بشیر کا ایک گھرخالی پڑا تھا، جو وہ اصطبل کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ فی الوقت وہاں سے مویشی ہٹادیئے تھے، تاکہ وہاں ڈاکٹر ٹھہر سکیں۔اس گھر کے آگے ایک اسٹیج سا بنایا گیا تھا اور اس پر ایک بڑا سا بینر بندھا ہوا تھا، جس پر َ”ڈاکٹر ڈینگا زندہ باد“ لکھا ہوا تھا۔یہ بینر خالو خلیفہ نے لکھوایا تھا۔اسٹیج کے سامنے چند کرسیاں تھیں، جو معززین کے لئے مخصوص تھیں او رکرسیوں کے پیچھے ڈیکوریشن والی گندی میلی دری بچھی ہوئی تھی ،جس پر لازماً خوارین کو بیٹھنا تھا۔ اس وقت تک پنڈال بھرچکا تھا۔ معززین کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے اور خوارین دری پر…. کئی گھروں کی چھتوں پر بڑے بڑے لاﺅڈ اسپیکر نصب کر دیئے تھے، تاکہ جلسے کی کارروائی تمام لوگ سن سکیں۔ جب استاد دلارے معززین والی ایک کرسی پر بیٹھنے لگے تو پیچھے سے کسی نے کرسی کھینچ لی اوراستاددلارے اپنے ہی زور سے دری پر جا بیٹھے۔

            ”ابے بھوتنی کا…. آئے۔“ استاد چلائے۔”ابے کون ہے یہ بھوتنی کا؟“

            ”میں ہوں۔“ استاد نے دیکھا ،وہ چاچا چراندی تھے۔ ” اس کرسی پر تو کیوں بیٹھ رہا ہے۔اس پر تو معزز لوگ بیٹھتے ہیں۔“ اور چاچا خود بڑے اطمینا ن سے کرسی پر بےٹھ گئے۔

            استا دکی کیا مجال کہ چاچا سے منہ ماری کرتے۔ بس بڑبڑاتے ہوئے اینٹ پر ہی بیٹھے رہے۔ پیچھے کالونی کے چھچھوروں نے استاد کی بے عزتی کو پسند کی نگاہ سے دیکھا اورتالیاں بجا کر خاصا” ایپری شی ایٹ“ کیا۔ اسٹیج پر شرفو صاحب اکیلے شیر کی طرح ٹہل رہے تھے۔ انہوں نے اپنا موبائل کانوں سے لگایا ہواتھا۔ اُن کا رابطہ ڈاکٹر ڈینگا سے ہوکر ہی نہیں دے رہاتھا۔ پھر شرفو صاحب مائیک کے پاس آ کر زور سے بولے۔ ”موبائل پر ڈاکٹر سے بات کررہا ہوں…. اب نمبر ملار ہاہوں۔“

            اسی وقت ان کا رابطہ ہوگیا۔ وہ اپنا منہ مائیک پر گھسےڑتے ہوئے بولے۔”ابے ہاں….کون میں…. میں شرف الدین کونسلر بات کررہا ہوں اپنے نئے موبائل سے…. ابے ہاں …. ڈباپیک لیا ہے…. تو کون ہے؟ ڈاکٹر ہے نا…. چل جلدی پہنچ یہاں …. سب انتظار کر رہے ہیں…. کیا …. تم ڈاکٹر نہیں ہو …. تو پھر کون ہو…. چھٹن خان…. الفوخان کا بیٹا۔ ابے بتا بھی نہیں رہا ہے…. مفت میں میرا بیلنس پےے جارہا ہے…. چل بند کر اپنا فون اور منہ …. ورنہ کان پر دوں گا ابھی۔“

            شرفو صاحب نے جھنجلا کر رابطہ کاٹ دیا۔یہ ڈائیلاگ پوری کالونی نے بذریعہ لاﺅڈ اسپیکر سنے تھے۔

            ”کیا بات ہے اپنے شرفو صاحب کی…. بادشاہوں سے بادشاہ کی طرح بات کرتے ہیں اور بھنگیوں سے بھنگی کی طرح…. یہ بھی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے، جو ہر کسی میں نہیں ہوتی۔‘ ‘ دنبے نائی نے کھڑے ہوکر مکھن لگانا چاہا۔

            ”ابے یہ تو تعریف کررہا ہے یا ان کی بے عزتی کررہا ہے؟‘ ‘مجوقصائی نے دنبے کو گھورا۔

            ”اور بس اوئے بس….‘ ‘ اچانک کرسی پر بیٹھے ہوئے چودھری بشیر کھڑے ہوگئے۔ ”فالتو باتیں مت کرو…. چپ چاپ بےٹھو۔‘ ‘

            سخن بھی خوارین کی صف میں بیٹھا تھا۔وہ بھی اپنے ہاتھ پر تالی مار کر بہت زور سے ہنسا اور ہنستے ہنستے دنبے نائی پر جاگرا۔ دنبے نائی نے حقارت سے اسے چیونٹی کی طرح جھٹک دیا۔”یہ تم ہنس رہے ہو…. ایسے ہنستے ہیں کیا؟‘ ‘دنبے نائی نے غلاظت بھری نظروں سے سخن کو دیکھا ۔”ایسا لگ رہا ہے کہ کسی نے لنگور کے گدگدی کردی ہے۔“

            ”ابے میری مرضی…. میں کیسے بھی ہنسو…. میرا منہ ہے ….ہا ہا ہوہو۔‘ ‘ سخن نے برا منایا۔

            اُدھر صورتِ حال کو سنبھالنے کے لئے انگریز انکل اسٹیج پر جا چڑھے اور شرفو صاحب کو مائیک کے پاس سے ہٹاکر بولے ۔” ہیلو …. ہیلو ایوری باڈی۔‘ ‘ سارے خوارین اپنے مسلز دکھاتے ہوئے باڈی بلڈنگ کا مظاہرہ کرنے لگے۔

            ”ابے میری باڈی دیکھ…. اسے کہتے ہیں کٹس۔‘ ‘ سخن نے اپنا بازو پھلانے کی کوشش کی۔” انکل…. کیسی ہے میری باڈی ۔‘ ‘ وہ چلایا۔

            ”یہ باڈی ہے؟‘ ‘ مجو قصائی نے سخن کو دیکھا ۔” ابے یہ تیری باڈی نہیںہے…. یہ ڈیتھ باڈی ہے۔ تجھے تو ایک قبر کی اشد ضرورت ہے۔‘ ‘

            ”اور تو تو رہتا ہی قبر میں ہے…. قبر کے کیڑے۔“ سخن غرایا۔

            ”ابے یہ کیا کررہے ہو تم لوگ فالتو فنڈ میں؟‘ ‘ یک بیک چاچا ریفری کی طرح درمیان میں کھڑے ہوگئے۔” یہ تم لوگ اپنی سوکھی باڈیاں کیوں دکھارہے ہو۔انکل نے تم لوگوں کو باڈی دکھانے کے لئے نہیں کہا ہے ، بلکہ یہ بول رہے ہیں کہ ہم لوگ اُن کی باڈی دیکھیں۔‘ ‘

            ”میں کچھ نہیں کہہ رہا ہوں۔‘ ‘ انکل نے اپنے انگریزی جملے کا خوب صورت ردِعمل دیکھا تووہ مداخلت کی ڈنڈی اَڑانے پر مجبور ہوگئے۔” بلکہ میں تو کہہ رہا تھا کہ نا جانے ڈاکٹروں کی ٹیم کب تک آئے۔ اس وقت تک ہم وقت گزاری کے لئے ایک کوئز پروگرام کرلیتے ہیں…. میں آپ لوگوں سے سوشل اسٹیڈیز کے سوالات کروں گا۔‘ ‘

            اسی وقت خالو خلیفہ بھی اسٹیج پر جا پہنچے۔ انہوں نے مائیک ہاتھ میں لے کر آگے کہا۔” اور جو بھی صحیح جواب دے گا…. اسے انعام میں ملے گا ایک گفٹ پیمپر۔‘ ‘

            ”تالیاں۔‘ ‘ یامین اٹھ کر چلا یا اور تالیاں بجانے لگا۔ اس کے ساتھ اور لوگ بھی عجیب عجیب انداز میں تالیاں بجانے لگے تھے۔

            ”یہ گفٹ پیمپر کیا ہوتا ہے ؟‘ ‘جمال گھوٹے نے مجو قصائی کے کان میں کہا۔”کیا کھانے کی کوئی چیز ہوتی ہے؟‘ ‘

            ”ابے جاہل…. تو گدھا گاڑی والا ہی رہے گا…. تھوڑا پڑھ لکھ جاتا تو کم از کم یہ سوال نہ کرتا۔‘ ‘ مجو قصائی فلسفیانہ انداز میں بولا۔” اُف میں کہاں گنواروں کے بیچ پیدا ہوگیا ہوں۔ ابے یہ کھانے کی چیز نہیں ہوتی ،یہ منہ پونچھنے کی چیز ہوتی ہے۔ تونے دیکھا نہیں ٹی وی میں …. بڑے لوگ کھانا کھانے کے بعد پیمپر سے منہ پونچھتے ہیں …. جنگلی کے بچے۔‘ ‘

            ”تو مجھے کیا پتا…. میں تو معصوم ہوں۔‘ ‘ جمال گھوٹے نے معصوم شکل بنانے کے چکر میں بند ر جیسی شکل بنالی۔

            ”دس روپے اُدھار دے ذرا۔‘ ‘ مجونے سنجیدگی سے ہاتھ پھیلا یا

            ”اب اتنا معصوم بھی نہیں ہوں۔‘ ‘ جمال گھوٹے کے منہ پر شیطانیت اُبھر آئی۔

             اُدھر انگریز انکل مائیک میں بولے۔” میرا پہلا سوال ہے۔‘ ‘

            خوارین کے درمیان سے ایک فقیرانہ آواز آئی۔” اللہ کے نام پر بابا….‘ ‘

             ایک زبردست قہقہہ پڑا۔ انگریز انکل بوکھلا کر معززین کو دیکھنے لگے۔ ابھی وہ دوبارہ سوال کرنے کے لئے منہ تول ہی رہے تھے کہ نا جانے کیا ہوا…. پنڈال میں سے بیش تر خوارین اُٹھ کر پچھلی سمت میں لپکے۔ اُن میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔ سخن ‘ مجو‘ گلابی‘ دنبہ وغیرہ بھی ان میں شامل تھے۔ معززین حیران تھے کہ انہیں کیا ہوگیا ہے۔ وہ صورتِ حال معلوم کرنے کے لئے اُچک اُچک کر دیکھ رہے تھے۔

            ” چاچا، ذرا معلوم تو کرو ….کیا ہوگیا ہے وہاں؟‘ ‘ شرفو صاحب نے چاچا سے درخواست کی۔” اور اگر لنگر کی بریانی مل رہی ہوتو اُدھر سے ہی مجھے سیٹی ماردینا۔‘ ‘

            ” ابھی جاتا ہوں…. اِن سب کی تو ایسی کی تیسی۔‘ ‘ چاچا ان پر پہلوانوں کے انداز میں ہاتھ مار کر کھڑے ہوئے اور اپنی شلوار کے پائینچے چڑھا کراَرنے بیل کی طرح بھیڑ میں گھستے چلے گئے۔ تب چا چا نے دیکھا کہ بہت سے افراد ایک چنگ چی گاڑی کو گھیرے کھڑے ہیں۔ بچے چلارہے تھے۔

            ”پانچ روپے والی آئس کریم دے دو…. ‘ ‘

            ”پہلے مجھے دینا…. پہلے میں آیا تھا۔‘ ‘

            ”کون آئس کریم مجھے دے دو۔‘ ‘

            چنگ چی کا اسٹیرنگ ایک کالے اور گنجے آدمی نے تھاما ہوا تھا۔ وہ سخت بوکھلا گیا تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بڑی سی پیٹی اور پیٹی کے ساتھ ایک چمرخ سا آدمی بیٹھا تھا۔ چاچا نے اپنے راستے میں آنے والے ہر انسان کو نوچ نوچ کر ہٹایا او ران دونوں آدمیوں تک جا پہنچے۔

            ”کون ہو تم دونوں…. کہاں سے آئے ہو فالتو فنڈ میں؟‘ ‘

            ”ہم ٹماری کھالونی میں علاج کے واسطے آیا ہے اولڈ مین۔“ کالے گنجے نے منہ ٹیڑھا کرتے ہوئے کہا۔

            ”ابے تیرے کیا منہ میں گٹکا ہے گنجے ۔ ؟ ‘ ‘ چاچا اس سے ذرا بھی متاثر نہ ہوئے تھے۔”گاف سے گٹکا،گاف سے گنجا۔ کیا کھارہا ہے …. منہ کھول…. آکر…. آ۔‘ ‘

            ”ہم گوٹکا نئی کھاتا…. ہم ڈوکٹر ہائے۔ ‘ ‘ گنجے نے احتجاجی انداز میں کہا۔

            ”ابلے …. تم…. تم ڈاکٹر ہو؟ ‘ ‘ چاچا اُچھلے ۔پھر انہو ں نے دونوں ہاتھوں سے وہاں کھڑے خوارین کو دھکے دینے شروع کردیئے ۔” اوئے ہٹو…. ہٹو…. ابے ہٹ جا ڈھیٹ کے بچے …. یہ ڈاکٹر ہیں …. جن کا ہم انتظار کررہے ہیں…. آﺅڈاکٹر …. آﺅ…. تم بھی تو خوار کے بچے ہو…. کیا ضرورت تھی ،یہاں یہ ٹھیلا روکنے کی…. لے آتے اندر اپنے ٹھیلے کو…. فالتو فنڈ میں۔‘ ‘

            آخر یہ خبر ہر طرف پھیل گئی کہ آنے والے آئس کریم والے نہیں، بلکہ ڈاکٹر ہیں۔ چاچا‘ سخن اور دنبہ وغیرہ بڑی عزت سے انہیں دھکے دیتے ہوئے اسٹیج پر لے آئے۔ اس بھیڑ بھاڑ کا فائدہ اُٹھاکر سخن نے گنجے ڈاکٹر کی چند یا پردو تین کراری چپتیں جما دی تھیں، مگر اس کا کوئی قصور نہ تھا ڈاکٹر کی کھوپڑی ہی جادوئی گولے کی طرح لگ رہی تھی۔ شرفو صاحب اور دیگر معززین نے بڑھ کر ڈاکٹر سے ہاتھ ملائے۔

            ”کب سے ہم آپ لوگوں کا انتظار کررہے تھے…. اسٹیج بھی رکھے رکھے ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ ‘ ‘خالو خلیفہ نے ڈاکٹر کو گلے سے لگالیا تھا۔” آپ ڈاکٹر ڈینگا ہی ہونا ؟ ‘ ‘

            ”اونو مین…. نو ڈینگا…. امارا نیم تو….‘ ‘ ڈاکٹر نے وضاحت کرنی چاہی ۔

            تو چودھری بشیر ہاتھ اٹھاکر بولے۔”او جو بھی نیم ہو تیرا…. ہم نے تو تمہارے آنے سے پہلے ہی تمہارا نام ڈاکٹر ڈینگا رکھ دیا ہے ۔ اب تم ایسا کرو ،اپنا اصل نام ہی بدلوا لو،شناختی کارڈ میں سے…. اتنا پیارا نام ہے …. ڈینگ…. گا….‘ ‘

            انگریزانکل آگے آئے۔” ڈاکٹر …. اب آپ اپنا اور اپنے ساتھی کا تعارف کر آئیں، تاکہ سب لوگوں کو معلوم ہوجائے۔‘ ‘

            ڈاکٹر ڈینگا نے منہ کھولا ہی تھا کہ اپنا تعارف کرائےں ۔اسی لمحے عقب سے چاچا چراندی نے اس کی کھوپڑی پر ایک ہاتھ مارا اور اسے گدی سے پکڑ کر مائیک کے آگے کردیا۔” اِدھر مرنا…. اِدھر …. مائیک میں بول…. اِدھر کیا موت پڑی ہے تجھے ۔ مائیک کس لئے لگایا ہے یہ فالتو فنڈ میں۔‘ ‘

            ”ہے مین…. یہ کھون ہے …. یہ ہمارے ہیڈ پر مارنا ہے۔‘ ‘ ڈاکٹر چلایا۔

            ”یہ بڑی چراند ہےں….ہماری کالونی کی۔“ خالو نے جواب دیا۔” ابھی تو بڑی عزت سے پیش آئے ہیں یہ …. ‘ ‘

            ڈاکٹر کا سوکھا مریل سا ساتھی احمقوں کے انداز میں کھڑا تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اسٹیج پر ڈاکٹروں کے بےٹھنے کے لئے کوئی کرسی نہیں تھی۔

            ڈاکٹر ڈینگا مائیک میں بولا۔” ہم کو گورنمنٹ نے اِدر ڈینگی کے پیشنٹ کے علاج کی خاطر بھیجا ۔ہم افریقا سے آیا ہے اور ہمارے ساتھ ہمارا اسسٹنٹ چروٹا ہے۔ یہ ویری نائس مین ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک جگہ پرابلم ہے۔ یہ بہت کم سنتا ہے۔‘ ‘

            چاچا نے یہ سنتے ہی چرونے کا کان پکڑ کر کھینچا۔”ہیں بے …. تم کم سنتا ہے ؟ بڑوں کی بات نہیں مانتا…. نافرمان …. سیدھا کھڑا ہو…. ہل کیوں رہا ہے…. ابے تیرا نام تو ڈھیلے شاہ پٹواری ہونا چاہئے فالتو فنڈ میں۔‘ ‘

            ”اونو…. اولڈ مین….یہ نافرمان نئےں…. اس کا دونوں کان خراب ہے…. انھن جو پیدائشی بہرونئیں آہے۔ انھن جو حادثے مابہرو ہوندو۔ ‘ ‘پتا نہیں کیا ہوا کہ ڈاکٹر ڈینگا انگریزی لہجے میں ٹوٹی پھوٹی اردو بولتے بولتے سندھی بولنے لگا تھا۔ سب حیران پریشان رہ گئے۔

            ”ابے تو افریقا سے آیا ہے یا ٹھٹھہ سے آیا ہے؟‘ ‘ چاچا چراندی نے اُچک کرڈاکٹر کی کھوپڑی اپنی بغل میں دبالی اور سامنے کو نکلی ہوئی کالی کھوپڑی پر تین انگلیوں کی چپت مارنے لگے۔ ”بول…. سچ بول۔ جھوٹ بولے گا تو ہتھوڑی ماردوں گا تیرے کالے ناریل پر۔“

            ڈاکٹر اس عزت افزائی پر پاگل ہوگیا ۔ چاچا کی بغل سے چھوٹنے والی بدبو نے اس کا دماغ انڈے کی طرح اُبال دیا تھا۔ چودھری بشیر نے بڑھ کر ڈاکٹر کو چاچا کی بغل سے نجات دلائی۔”چاچا کیا کرتے ہو…. اس غریب گنجے کو مارہی دو گے کیا؟بے چارے نے تھوڑی سی سندھی ہی تو بولی ہے…. دل چاہ رہا ہوگا سندھی بولنے کا۔‘ ‘

            ڈاکٹر ڈینگا کئی منٹ تک اپنی سانسیں استوار کرتا رہا۔ پھر اس نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ۔”ہم کو گورنمنٹ بھیجا اور ٹھم لوگ ہمارا انسلٹ کرتا…. ہم اوپر ٹھم لوگوں کا کمپلین کرے گا…. ہم بہت اوپر تک جائے گا۔‘ ‘

            ”کیسے جائے گا ؟‘ ‘ چاچا پھر بگڑ گئے۔” تیرا باپ ہیلی کوفٹر لاکے دے گا تجھے فالتو فنڈ میں….بات کررہا ہے خاماخائی کی گنجا۔‘ ‘

            ”ہے مین….‘ ‘ڈاکٹر،شرفو صاحب کی طرف گھوما ،جو ایک ہاتھ اوپر کرکے دوسرے ہاتھ سے بغل کھجا رہے تھے۔” ٹھم نے ہمیں اور کس لئے بلایا…. یہ اولڈ مین کنٹی نیوز لی ہمارا انسلٹ کرتا اور تم اپنی بغل کھجاتا۔‘ ‘

            ”اچھا بھئی نہیں کھجا رہا۔‘ ‘ شرفو صاحب برا مان کر سیدھے ہوگئے۔” کھجلی ہوگی تو کھجاﺅں گا نا…. اب بغل کھجانے پر بھی اعتراض ہورہا ہے۔‘ ‘

            ”شرفو صاحب….آپ ہمارے کونسلر صاحب ہیں …. آپ اس ڈاکٹر کی بات نہ مانیں…. اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے…. ہم سب آپ کے ساتھ ہیں…. آپ کھجاﺅ بغل …. دیکھتے ہیں کون مائی کا گنجاروکتا ہے۔‘ ‘بابو باﺅلا لوگ کے بیچ میں سے ایک دم کھڑا ہوکر چلا یا تھا۔

            ”ہاں….ہاں کھجاﺅ…. بغل کھجاﺅ۔‘ ‘سارے لوگ چلائے۔

            ”خاموش….‘ ‘ اچانک خالو خلیفہ اسٹیج پر چڑھ کر چیخے۔ہر طرف ایک دم سناٹا چھاگیا۔”مہمانوں کے ساتھ یہ سلو ک کیا جاتا ہے۔ ایک تو وہ ہماری کالونی میں ہم سب لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور تم سب لوگ ان کی بے عزتی کررہے ہو…. کتنے شرم کی بات ہے ۔ ان ڈاکٹروں کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا واپس چلا جاتا، مگر یہ دونوں بے غیرت…. میرا مطلب ہے، ٹھنڈے مزاج کے انسان ہیں۔ خبردار …. اب کوئی ان کی بے عزتی نہیں کرے گا۔ پھر وہ ڈاکٹر سے مخاطب ہوئے۔”آپ برا مت ماننا….یہ لوگ تھوڑے ناسمجھ ہیں …. مگر قصور آپ کا بھی ہے….صرف سو روپے کی ملتی ہے ٹوپی…. سو روپے کی….کسی ٹھیلے سے خرید کرپہن آتے…. ایسے ہی گنجی کھوپڑی اُٹھا لائے…. اوپر سے کالی…. ایسا لگ رہا ہے کہ سر کے بجائے کوئی بڑا سا چیکو رکھا ہے۔‘ ‘

            ڈاکٹربے بس نظروں سے خالو کو دیکھتا رہا۔پھر گلا کھنکار کر مائیک میں بولا۔”ہم ٹھم لوگوں کی کھالونی میں چار دن کے لئے آیا…. اس کھے بھاد ہم واپس چلا جائے گا۔‘ ‘

            ”ڈاکٹر صاحب۔“ استاد دلارے نے ہاتھ اٹھایا۔

            ” ٹھم کچھ پوچھنا مانگتا مین؟‘ ‘

            ”ابے میں بھوتنی کا مانگتا وانگتا نہیں ہوں…. کوئی بھکاری سمجھا ہے مجھے…. ذا ت کا تیلی ہوں ہاں…. منہ سنبھال کر بات کر یو مجھ سے۔‘ ‘ استاد دلارے کے نتھنے چوڑے ہوگئے۔ وہ جان بوجھ کر نتھنے پھلا پچکا رہے تھے۔

            ” جو کچھ پوچھنا ہے پوچھو استاد۔‘ ‘ انگریز انکل نے کہا۔

            ”میں یہ پوچھ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب صرف ڈینگی وائرس کا علاج کریں گے یا پھر یہ بھوتنی کے کسی اور بیماری کا علاج بھی کرسکتے ہیں۔‘ ‘

            ”ہم سب بیماریوں کا علا ج کرتا ہائے…. دماغ کا علاج بھی کرتا ہائے۔‘ ‘

            ”میرے دادا بھی بہت بڑے حکیم تھے….‘ ‘ سخن سے بھی نہ رہا گیا۔”وہ تو بس ایک لوہے کی گرم گرم سلاخ سے ہر بیماری کا علاج کرتے تھے۔‘ ‘

            ”ابے کبابی ہوں گے تیرے دادا…. سیخ کبا ب کا ٹھیلا لگاتے ہوں گے۔‘ ‘ چاچا چراندی نے بروقت سخن کو آڑے ہاتھوں لیا۔

            نہیں چاچا…. میں آپ کے خاندان کی بات نہیں کررہا ہوں….اپنے دادا کی بارے میں بتارہا ہوں۔‘ ‘سخن نے اپنی بات بڑھائی ۔”میرے دادا سلاخ کو کوئلوں پر گرم کرتے اور جس طرح کا مرض ہوتا تھا،وہیں گرم گرم سلاخ لگادیتے تھے۔ اگر کسی کے سر میں درد ہوتا تھا تو گرم سلاخ اس کے سر میں لگادیتے تھے…. سر کا درد ختم ہوجاتا تھا۔‘ ‘

            ” اور مریض بھی ….‘ ‘ مجو قصائی نے ٹانکا لگایا۔

            ”نہیں….‘ ‘ سخن نے برا مانتے ہوئے مجو قصائی کوز بان چڑائی۔” اور اگر کسی مریض کی ٹانگ میں درد ہوتا تھا تو سلاخ ٹانگ پر لگادیتے تھے۔‘ ‘

            ”اگر کسی کو نزلہ ہوتا تو ….؟‘ ‘ یامین نے سوال کیا۔

            ”تو ناک پر لگاتے تھے۔‘ ‘

            ”اور اگر کسی کو اسہال کی بیماری ہو تو ؟“

            ”واہ بھئی ….بڑے کمال کے حکیم تھے تیرے دادا….“چاچا نے تعریف کی ۔”پھر تو لڑکپن میں تیرا علاج بھی جم کے کیا ہوگا۔تیری اماں سے سنا ہے کہ لڑکپن میں تجھے اسہال کی مسلسل بیماری تھی۔“

            اس انکشاف پر پنڈال میںایک ہول ناک قہقہہ لگا ،جب کہ سخن برامان کر بغیر دیکھے پلٹا اور راہ میں پتھر کی طرح پڑے ہوئے ایک غریب موٹے آدمی کی عظےم الشان توند پر چڑھ گیا اور دھنس گیا۔ وہ آدمی ایٹم کی تینوں حالتوں کا جیتا جاگتا نمونہ تھا، یعنی ٹھوس‘ مائع اور گیس۔ اس میں تیسری حالت زیادہ تھی۔ سخن اس کی غبارے جیسی توند پر چڑھا تو وہ درد سے بلبلا کر چیخا۔ اس کی چیخ سن کر کالونی کے تمام درختوں سے پرندے اُڑگئے۔ سخن کو توند پر چڑھ کر مزہ آیا اور وہ اب توند پر کھڑا ہوکر ہلکے ہلکے جمپنگ کرنے لگا۔”ٹیاﺅں ٹیاﺅں‘ ‘ کرکے سخن اُچھل رہا تھا اور موٹا آدمی ہر جمپ کے ساتھ چیخ رہا تھا ۔پھر اس نے سخن کو ٹانگ سے پکڑ کر کھینچا اورگرو کی طرح ہوگیا شروع۔

            ”ارے بھئی اسے روکو….‘ ‘ شرفو صاحب پنڈال میں گڑ بڑ دیکھ کر چلائے۔

             بڑی مشکلوں سے سخن کی جان اس آدمی خور موٹے سے چھڑوائی گئی، لیکن اتنی دیر میںوہ سخن اچھا خاصا ستیاناس کرچکا تھا۔ڈاکٹر ڈینگا اور اس کا ماتحت چروٹا آنکھیں پھاڑے منظر دیکھ رہے تھے۔ اس قسم کے لوگ انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، اس لئے ان کے چہروں پر خطرے کی لال بتی جل بجھ رہی تھی۔

            تقاریر کے نام پر فضول بکواسیات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔ تمام معززین نے ڈاکٹر ڈینگا اور ڈےنگی مچھر پر اپنی احمقانہ معلومات کی مدہم سی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر کا ماتحت چروٹا بھی تقریر کرنے کے لئے مچل رہا تھا۔ اصل میں اسے مائیک پر بولنے کا بچپن سے ہی شوق تھا، مگر اس کی عظےم بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے عین عقب میں چاچا چراندی کھڑے تھے۔ جوں ہی چروٹامائیک کی طرف جانے کے لئے قدم بڑھاتا، چاچا اس کی قمیص کا پچھلا دامن پکڑلیتے تھے اور وہ غریب ہوا میں ہاتھ مارتا رہ جاتا تھا۔

            آخر یہ جلسہ شرفو صاحب کے ان الفاظ کے ساتھ ختم ہوا۔ ”جب تک ڈاکٹر ڈینگا یہاں موجود ہیں…. کالونی کا کوئی بھی شخص ان سے اپنا علاج کرواسکتا ہے…. یہ چوبیس گھنٹے دستیاب ہوں گے۔‘ ‘

            ”ہم رات کو دو بجے بھی آسکتے ہیں؟‘ ‘یامین ہاتھ اٹھاکر بولا۔

            ”یہ کوئی وقت ہے دوا لینے کا….‘ ‘ خالو نے لعنت آمیر نظروں سے اسے گھور کر دیکھا۔” صبح نہیں ہوگی تیری …. رات کے دو بجے کیا تجھے بدہضمی ہوجاتی ہے؟‘ ‘

            ”اچھا فجر کے وقت ؟‘ ‘ دنبے نائی نے سوال کیا۔

            ”ابے یہ ڈاکٹر ہے ….کوئی دودھ والا نہیں ہے…. کیوں جگا رہا ہے اتنی صبح صبح ان کو۔‘ ‘ شرفو صاحب ناک سکیڑ کر بولے۔”ویسے ڈاکٹر چوبیس گھنٹے خدمت کے لئے تیار ہیں۔‘ ‘

            ”تو فجر کے بعد کا وقت کیا پچیسواں گھنٹہ ہوتا ہے ؟‘ ‘ مجوکھڑا ہوگیا۔۔

            ”مسٹر شرفو…. ان لوگھوں کو بتادو کہ ہم جانوروں کا علاج بھی کرسکتا ہے…. آئی مین…. آﺅں جانورن جو ڈاکٹر بھی آھیاں۔‘ ‘ ڈینگا پٹری سے اُتر گیا۔

            ”ابے سچ سچ بول…. تو ہے کون؟‘ ‘ چاچا نے ڈاکٹر ڈینگا کو مارنے کے لئے اپنی ایک چپل اُتارلی اور اسے لہرانے لگے۔ ”بول ….تیرا نام ڈینگا ہے یا دھڑیں بخش ہے ؟‘ ‘

            ڈاکٹر بھاگ کر شرفو صاحب کے پیچھے جا چھپا۔”ہے مسٹر شرفو۔ ہم کو اس مین سے بچاﺅ….ہی از اے ویری ڈینجر اولڈ مین…. یہ چپل مار کر ہمارا ہیڈ کا چپلی کباب بنادے گا۔‘ ‘

            ”بس چاچا بس…. شانت ہوجاﺅ…. بخش دو اسے۔‘ ‘ چودھری بشیر درمیان میں آکھڑے ہوئے۔

            ”بخش دوں گا، مگر پہلے یہ بتائے کہ یہ دھڑیں بخش ہے کہ نئیں ہے فالتو فنڈ میں۔ ‘ ‘چاچا دور سے اسے چپل دکھارہے تھے۔ڈاکٹر ڈینگا‘شرفو صاحب کے عقب سے چاچا کو زبان چڑا رہا تھا اور کبھی ٹھینگا دکھا رہا تھا۔

            چاچا کا بس نہ چلا تو چروٹے کو جاپکڑا۔” تو بتا…. یہ کون ہے؟ ‘ ‘

            چروٹا حیران حیران نظروں سے چاچا کو دیکھنے لگا مگر جواب نہ دیا۔

            ”ابے کچھ پوچھا ہے میں نے ؟‘ ‘ اس بار چاچا زور سے بولے ۔

            ”کیا …. پونچھا …. پونچھا لگانا ہے…. لگاﺅ۔‘ ‘چروٹے نے اپنے ایک کان پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

            ”یہ مجھے بہت شیطان لگتا ہے فالتو فنڈ میں….“چاچا ناچ کر رہ گئے۔

            ”ملتان….؟ ‘ ‘چروٹا سوچنے کے انداز میں بولا۔

            ” ارے لوگو…. مجھے روک لو۔‘ ‘ چاچا کا غصہ امرود کے درخت پر جا چڑھا تھا۔” کوئی ہے ….جومجھے روکے…. ورنہ یہ مرجائے گا میرے ہاتھوں۔‘ ‘

            ”گھر جائے گا…. نہیں نہیں …. میں ابھی گھر نہیں جاﺅں گا۔‘ ‘ چروٹے نے نفی میں سرہلایا۔

            چاچا کا بلڈ پریشر حد سے بڑھ گیا۔ شرفو صاحب کو یہ ہنگامی اجلاس فوری طور پر ختم کرنا پڑا ،ور نہ نقص امن کا خطرہ لاحق تھا۔

                                                                                    ٭٭٭

            اجلاس کے بعد دڑبہ کالونی کے بالکل ہی گئے گزرے لوگ تو گھروں کو لوٹ گئے۔ہر کسی کے منہ پر شرفو صاحب کے لئے گالیاں تھیں،کیوں کہ ان کے خاص ساتھیوں نے جن میں چاچا‘ گلابی‘ سخن‘ للو پنجو وغیرہ شامل تھے‘ کالونی کی مسجد سے یہ اعلان کیا تھا کہ اجلاس میں جو لوگ شرکت کریں گے ‘ انہیں نان پائے کھلائے جائیں گے، اس لئے پنڈال میں کسی مچھر کے آنے تک کی گنجائش نہ تھی، مگر اجلاس ختم ہونے کے بعد انہیں نان پائے تو کیا کسی چارپائی کے پائے بھی دکھائی نہیں دیئے تھے، لہٰذا گالیاں تویقینی تھیں۔

            ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹے کے ساتھ چند افراد رہ گئے تھے۔ سخن نے ڈاکٹر کی چنگ چی گاڑی کو حیرت سے گھوم پھر کر دیکھا اور پھر کان کھجاتے ہوئے پوچھا۔”کیا تم ڈاکٹری کے علاوہ آئس کریم اور قلفیاں بیچتے ہو؟ ‘ ‘

            ”میرا تو خیال ہے کسی چھوٹے اسٹاپ سے مسافروں کو بٹھاکر دوسرے اسٹاپ پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔‘ ‘ دنبے نائی نے قیاس کی پیاز کتری۔

            ”ابے یہ اس گاڑی میں رکھا کیا ہے اس بھوتنی کے ڈاکٹر نے ؟‘ ‘ استاد دلارے نے گاڑی کے عقبی حصے میں دیکھا۔ وہاں ایک بڑی سی ٹین کی پیٹی رکھی تھی۔ سب سے پہلے وہ لوگ گاڑی کو ڈاکٹرصاحب کے لئے مخصوص رہائش گاہ میں لے آئے۔ وہ مکان جو عرصے سے مویشیوں کے تصرف میں رہا تھا۔اب ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹے کے استعمال میں آنے والا تھا۔

            جب ٹین کی عظیم الشان پیٹی کو اٹھاکر اندر لے جایا جانے لگا تو چروٹے نے بلند آواز میں کہا ۔” اس کو آرام سے رکھنا…. اس میں میری بہت اہم چیز رکھی ہے۔‘ ‘

            ”تیرے باپ کا کلیجہ رکھا ہے ؟ دادا کی کھوپڑی رکھی ہے؟ انڈے رکھے ہیں ….کیارکھا ہے؟‘ ‘ چاچا کی زبان چل پڑی تھی۔

            چروٹے نے کچھ سنا ہی نہیں ،یوں اس کی بچت ہوگئی۔ اندر لے جاکر پیٹی کو چاچا نے جا ن بوجھ کر زور سے چھوڑ دیا۔ وہ زور دار آواز کے ساتھ فرش پر گری۔ سخن اور گلابی بھی لڑھک گئے تھے۔

            ”ہائے …. یہ کیا کردیا ؟‘ ‘ چروٹے نے چیں چیں شروع کردی۔ پھر اس نے جلدی سے پیٹی کا تالا کھولا۔ اس سلسلے میں اس نے ڈاکٹر ڈینگا کی جیب میں سے چابی نکالی تھی، جو گاﺅدیوں کی طرح کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔پیٹی کھول کر اس نے ایک پلاسٹک کی لال برنی نکالی اور اسے دیکھ کر اطمینان کا اظہار کیا۔

            ”اس میں مولی کی بھجیا ہے؟ ‘ ‘سخن ندیدوں کی طرح برنی کو دیکھنے لگا۔

            ”بھجیا کھائے گا…. ہیں …. ابے شکل دیکھ اپنی …. بھجیا کھاکھاکربھجیا جیسا ہوگیا ہے ‘ فالتو فنڈ میں ۔ ‘ ‘چاچا نے سخن کے منہ پر فل لعنت رکھتے ہوئے اسے لتاڑا۔

            ”اس میں اچار ہے…. کیری کا اچار….‘ ‘ چروٹے نے کسی بات نہیں سنی تھی۔ وہ اپنی کہے جارہا تھا۔”اماں نے چلتے چلتے تھمادیا تھا کہ سنبھال کر رکھنا مشکل وقت میں کام آئے گا۔‘ ‘

            ”ابے لگتا ہے اس کہ اماں کہانیوں والی بابا ہیں۔ کہانیوں والے بابا انگوٹھی ‘چھڑی یا تلوار دیتے تھے۔ اس کی اماں جان نے اچار دیا ہے ،مہم پر روزانہ ہونے سے پہلے۔‘ ‘ للو نے سرہلاتے ہوئے کہا۔

            ”مسٹر سوکن….‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا نے سخن کے نام کی مٹی پلیت کرتے ہوئے کہا۔

            ”ابلے….‘ ‘ چاچا ہنس پڑے۔” سوکن ….‘ ‘ وہ سخن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے۔

            ”مسٹر ڈنگر…. میرا نام سوکن نہیںہے، سخن ہے۔‘ ‘ سخن نے احتجاجی انداز میں پیر پٹخا۔

            ”جو بھی ہے …. ہم یہ پوچھنا…. اس ہوم میں الیکٹرک نائیں ہائے؟‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا نے سر کو زور سے ہلاکر پوچھا۔

            ”ابے یہ ہائے ہائے کیوں کرتا ہے تو…. کہیں وہ والا ہائے تو نہیںہے فالتو فنڈ میں۔‘ ‘ چاچا نے مخصوص انداز میں تالیاں بجاکر کہا۔

            ”مسٹر ہم الیکٹرک کا پوچھٹا۔‘ ‘

            ”ابے یہ الیکٹرک کیا ہوتی ہے؟ ‘ ‘سخن نے گلابی کا سر کھجایا۔ اس نے اپنے لمبے لمبے ناخن گلابی کی کھوپڑی میں گاڑ دیئے تھے ۔ گلابی بلبلا اٹھا تھا۔

            ”بتی…. بتی کا پوچھ رہا ہے یہ گنجا۔‘ ‘ چاچا نے کہا۔ ”ابے تیرا سر ہی پورے گھر کو روشن کردے گا۔ پھر کیا ضرورت ہے ‘ تجھے بتی کی ؟ رات کو یہاں کیا چوڑی کا کام کرے گا؟‘ ‘

            ” اچھا بتی….‘ ‘ سخن ہنس پڑا ۔”ہے …. کیوں نئیں ہے …. سب نظام کرکے رکھا تھا شرفو صاحب نے ….بڑے مہمان نواز ہیں وہ ….‘ ‘ پھر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اگربتیوں کا بنڈل نکال کر ڈاکٹر کے ہاتھ پر رکھا۔ ”یہ لو…. کیا یاد کروگے…. تم ایک بتی مانگ رہے تھے نا۔ میں نے پورا بنڈل ہی دے دیا ہے۔‘ ‘

            ” رات کو ہم یہاں کیا اچھا رپر فاتحہ دے گا مسٹر سوکن ؟‘ ‘ ڈاکٹر نے اگر بتیوں کا بنڈل دیکھتے ہوئے کہا۔

            ” گرمی ہورہی ہے ….پنکھا تو چلادو۔ ‘ ‘ چروٹے نے گریبان کا بٹن کھولا۔

            ” ابے ادھر نہ بتی ہے اور نہ پنکھا ۔‘ ‘ پنجو بھی بولا۔” سرکاری لوگ ہو…. سرکاری بتی اور پنکھا ساتھ لاتے نا۔‘ ‘

            ” مگر بھائی…. سرکاری پنکھا لاتے تو چلتا کیسے…. اگر بتی لگا بھی دیتے تو کچھ لےے دیئے بغیر کیسے چلتا۔ سرکاری چیز ہے آخر۔‘ ‘ للو نے معنی خیز انداز میں آنکھیں نچائیں۔

            ”مسٹر سوکن …. ابھی ہم لوگ آرام کرنا مانگتا…. اِدھر بیڈ کہاں رکھا ہے؟‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا کمرے میں گول گھوم کر بولا۔

            ”گنجے اپنی کھوپڑی گھما کر دیکھ لیا کر…. خوا مخواہ پورا گھوم رہا ہے فالتو فنڈ میں ؟‘ ‘ چاچا کو تو بس موقع چاہئے ہوتا ہے۔

            ”تھم ہم کو بار بار گنجا کیوں بولتا…. مسٹر چھا چھا چھراندھی؟‘ ‘

            سخن ‘لو اور پنجو ہنس پڑے۔گلابی منہ پر انگلی رکھے اچھے بچوں کی طرح کھڑا تھا۔ ایک تو وہ چاچا پر ہنسنا نہیں چاہتا تھا،اس طرح عاقبت تو خراب ہوتی ہی ہوتی…. چاچا دنیا بھی خراب کردیتے۔ دوسرے یہ کہ اس نے یہ سوچ لیا تھا کہ جب چروٹے جیسا بہرہ یہاں ہے تو اسے اپنی توتلی لینگویج میں بول کر بے عزتی نہیں کرانی ہے۔

            ”اچھا اب نہیں بولوں گا گنجا۔‘ ‘چاچا اور باز آجائیں۔

            ”غلط بات ہے چاچا،یہ ہمارے مہمان ہیں۔‘ ‘ سخن سنجیدگی سے بولتا ہوا ڈاکٹر کی طرف بڑھا”۔ مہمان کی عزت ہمارا فرض ہے۔‘ ‘ اس نے ڈاکٹر کی گردن میںایک ہاتھ ڈال دیا اور کھوپڑی پر ایسے ہاتھ پھیرنے لگا ،جیسے بکرے کے سر پر پیار سے پھیرتے ہیں۔”مہمان تو رحمت ہوتے ہیں …. مہمان اپنا رزق خود لے کر آتے ہیں…. تم لائے ہو نا ڈاکٹر صاحب؟‘ ‘

            ڈاکٹرڈینگا جھنجلاہٹ کے مارے سخن سے دور ہٹ گیا۔ ”ہم بیڈ کا پوچھتا…. اور تم ہمارا ہیڈ گھستا۔‘ ‘

            ”دغا دغا پشتہ…. گنجے کی ٹانٹ گھستا؟‘ ‘ چاچا تو ڈاکٹر کی جان پر عذاب بن گئے تھے۔

            اس موقع پر للو نے مداخلت کی بندوق چلائی ۔آپ کا بیڈ وہ رہا…. کونے میں ۔‘ ‘

             ڈاکٹر ڈینگا نے آنکھیں پھاڑ کر کمرے کے کونے میں دیکھا۔ وہاں اےک چارپائی رکھی تھی۔ وہ سب لوگ اس کے پاس جا پہنچے۔

            ” یہ کیا ہائے ؟ ‘ ‘ ڈاکٹر چاپائی کا طبی معائنہ کرنے لگا۔ اس نادر الوجود چارپائی کے پچھلے دونوں پائے سر ے سے نہیں تھے اور اگلے پائے ضرورت سے زیادہ لمبے تھے۔ اس پر لیٹنے والے کو لیٹا ہوا نہیں ،بلکہ ترچھی حالت میں کھڑا ہواضرور کہا جاسکتا تھا۔

            ”یہ کبھی چارپائی تھی…. اب دو پائی ہے…. اس پر فوری قبضہ کرلیں….پہلے آئیے پہلے پائیں۔ لیٹے اور انجوائے کیجئے۔ ‘ ‘ پنجو نے اشتہار پڑھنے کے انداز میں کہا۔

            ”ماگر ہم اس پر کھیسے لیٹے گا؟‘ ‘

            ”جیسے چودھری بشیر صاحب کے والد لیٹا کرتے تھے۔‘ ‘ للو نے اُن کی نالج میں اضافہ کیا۔” خیر سے اس دوپائی پر ان کا انتقال پر کمال ہوا تھا….لیٹے لےٹے ان کی کمر اَکڑ گئی تھی …. بیچ میں سے توڑ کر اُن کو دفنایا تھا۔‘ ‘

            ”یعنی کہ وہ کمالات کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرے تھے۔‘ ‘ سخن نے کہا۔

            ”اس پر لیٹ کر تو دکھاہمیں….بھئی ہم بھی تو دیکھیں ….تو کیسالگے گا فالتو فنڈ میں….چل شابش۔ ‘ ‘ چاچا نے فی الوقت اسے گنجا کہنے سے پرہیز کیا تھا۔ڈاکٹر ڈینگا بڑے شوق سے اپنی ٹنڈ ہلاتا ہوا بڑھا اور دوپائی پر لیٹ گیا، یعنی تقریباً ترچھا کھڑا ہوگیا۔

            ”واہ واہ…. بھئی ایسا لگ رہا ہے جیسے آخری دیدار کے لئے میت رکھی ہوئی ہے۔‘ ‘ سخن خوش ہوگیا ۔

            ”یہ میت ہے…. گنجی میت دیکھی ہے کبھی؟‘ ‘ چاچا سے رہا نہ گیا۔

            ڈاکٹر ڈینگا نے ان دونوں کے جملے سنے نہیں تھے۔ اتنے میں اس کے ماتحت جناب چروٹا بولا۔”بس ایک ہی کمرا ہے…. باتھ روم نہیں ہے یہاں؟‘ ‘

            ”ہے نا…. کیوں نہیں ہے …. باتھ روم نہیں ہوگاادھر …. کمال ہے یار۔ کیسی بچوں جیسی بات کرتے ہو۔‘ ‘ للو نے کہا۔

            ”ادھر آﺅ میرے ساتھ چراغ الدین ۔‘ ‘ سخن نے چروٹے کا ہاتھ پکڑ اسے کھینچا۔ ”یہ دیکھو…. یہ رہا تمہارا باتھ روم…. دیکھ کر سکون قلب حاصل کرو۔‘ ‘

            سخن نے اسے کمرے کی پچھلی دیوار کے ایک کونے میں چھوٹا سا درازہ دکھایا‘ وہ دروازہ تین بائے تین تھا۔ ڈاکٹر بھی آگے بڑھا۔سخن نے دروازہ کھول کر دکھایا۔ڈاکٹرا روچروٹے نے دیکھا کہ باہر تو کوئی باتھ روم نہیں تھا،بلکہ وہاں تو گندی گلی تھی۔جہاں کچرا اور غلاظت کے ڈھےر لگے تھے۔

            ”مسٹر چھا چھا…. ہم اِدر نائیں رہے گا۔‘ ‘ ڈاکٹر نے فوراً انکار میں سرہلایا۔

            ”ابے تو کوئی نواب کا بچہ ہے ۔ دو چار دن کے لئے آیا ہے اور اس پر اتنے نخرے ہیں تیرے…. تجھے پتا ہے ‘ بے چارے چودھری صاحب نے اس مکان میں اٹھارہ سال گزارے ہیں…. اٹھارہ سال….مگر کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پر نہیں لائے۔‘ ‘ چاچا فلمی ڈائیلاگ کے انداز میںبول رہے تھے۔” اٹھارہ سال بہت ہوتے ہیں ٹھاکر۔‘ ‘

            ”تو کیا …. چودھری اِدر …. اٹھارہ سال؟ ‘ ‘ ڈاکٹر کا اشارہ چھوٹے دروازے سے نظر آنے والی گندی گلی کی جانب تھا۔

            ”ہاں ڈاکٹر…. ہاں۔‘ ‘ سخن نے فلمی ہیرو کی طرح دروازے کی چوکھٹ پکڑی۔ سین میں جان ڈالنے کے لئے وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لے آیا تھا۔ پھر وہ اپنی آستین سے آنسو پونچھتا ہوا پلٹا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ ”میں بھی کتنا پگلا ہوں دوست….ذراسی خوشی برداشت نہ کرسکا …. یہ آنسو…. یہ تو…. یہ تو خوشی کے ہیں چاچا۔‘ ‘

            ”تو میں نے کب پوچھا ہے اُلو کے پٹھے۔‘ ‘ چاچا کے ایک جھانپڑ نے سارا فلمی ماحول ختم کردیا۔

            ”اچھا بھئی ….اب آپ دونوں آرام کرو۔‘ ‘ للو نے جمائی لینے کے لئے مگرمچھ کی طرح منہ کھولا۔” ہم جارہے ہیں اور ہاں …. ایک بات تو ہم بھول ہی گئے ۔شام کو آپ دونوں کی دعوت ہے ،شرفو صاحب کے گھر…. اچھے سے کپڑے پہن کر آنا۔‘ ‘

            ”اچھے سے کپڑے ؟ کیوں شرفو صاحب کے گھر فیشن شو ہے؟ ‘ ‘ سخن چونک کر پلٹا۔

            چاچا نے سخن کو باہر دھکیلا ۔”چل باہر مر…. بڑا شوق ہے تجھے چونچ لڑانے کا۔‘ ‘

            پھر چاچا ‘سخن ‘ گلابی اور للو ‘پنجو باہر نکل گئے۔

                                                                        ٭٭٭

            شام کو ڈاکٹر اور چروٹا کٹ شٹ میں آگئے تھے۔ چروٹا تو بہت زیادہ تیار ہوکر چھیل چھبیلا بن گیا تھا۔ ڈاکٹر ڈینگا بھی رانجھے بنے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے اپنی گنجی کھوپڑی کو ایک گول چھجے والے ہیٹ سے کیمو فلاج کیا ہواتھا۔ اب دونوں باہر نکلے۔ دڑبہ کالونی کے ننگ دھڑنگ اور کالے پیلے بچوں نے انہیں دیکھا تو پوری طرح ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئے۔اب ڈاکٹر اور چروٹا چلے جارہے تھے اور اُن کے پیچھے اور دائیں بائیں سیکڑوں بچے چل رہے تھے۔

            ڈاکٹر نے ایک بچے کو اشارے سے بلایا۔”ہائے ننگا بچہ…. ہم کو بتاﺅ کہ مسٹر شارفو کا گھار کدر ہائے؟‘ ‘

            بچہ بری حیرت سے ڈاکٹر کو دیکھنے لگا۔ اس کی سمجھ میں صرف ننگا بچہ ہی آیا تھا۔اسی وقت سخن وہاں خواری کرتا ہوا آنکلا۔ وہ اپنے مینڈھے کے لئے لوسن لینے نکلا تھا۔ اس کے ہاتھ میں لوسن ہی تھی۔ وہ ڈاکٹر کے پاس آکھڑا ہوا۔

            ”ہائے مسٹر سوکن…. ہم کو تمہارا نےڈ ہائے۔‘ ‘ ڈاکٹر نے بے بسی آمیز لہجے میں کہا۔

            ”لیڈ…. کون سی…. کیبل کی لیڈ….؟ کہاں لگانی ہے ؟“ سخن نے چروٹے کے پیچھے جھانک کر دیکھا۔”وہ تو نہیں ہے …. ہاں یہ لوسن ہے…. کھانا ہوتو کھالو۔ میں مینڈھے کے لئے اور لے آﺅں گا‘ ‘ ۔ سخن نے لوسن ڈاکٹر کے منہ پر لگاتے ہوئے کہا۔ بچے اب ڈانس کررہے تھے۔ڈاکٹر نے اپنا منہ بچانے کی کوشش میں جھٹکے سے منہ گھمایا اور ہیٹ گرگیا اور چاند دیکھتے ہی سب بچوں کی عید ہوگئی۔ پھر بچوں نے کورس کی صورت میں شور مچایا۔

            ”لے گنجے روٹی…. تیری ماں موٹی۔‘ ‘

            سخن چونک گیا۔” ابے تیری ماں موٹی ہے …. بتایا بھی نہیں ہمیں ….ہیں شیطان ؟ ‘ ‘

            ”ٹونٹی….؟ کس چیز کی ٹونٹی؟‘ ‘ چروٹا حیران کھڑا تھا۔

            ”تم بس ہم کو شارفوکے گھر لے چھلو۔‘ ‘ ڈاکٹر اردگرد ناچنے والے بچوں سے گھبرا گیا تھا۔

            ”اوئے چلو اوئے…. دفع ہوجاﺅ…. ورنہ ایک ایک کوماروں گا۔‘ ‘ سخن نے صرف دھمکی ہی نہیں دی، بلکہ بڑی پھرتی سے ایک حبشی ٹائپ کے بچے کو پکڑ کر دو تین تھپڑ جڑ دیئے۔وہ بچہ گندی گندی گالیاں دیتا ہوا بھاگ گیا ،مگر اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ باقی بچے بھی ڈر گئے۔ سخن‘ ڈاکٹر اور چروٹے کو لے کر شرفو صاحب کے گھر پہنچا تو دروازے پر تالا دیکھ کر خوش ہوگیا۔

            ”لو بھئی شرفو صاحب تو نہیں ہیں …. تالے سے ہی مل لو۔‘ ‘

            ”مسٹر شارفو نے ہم کو پارٹی کا میسج بھیجا اور خود دفعان ہوگھیا۔“ ڈاکٹر ڈینگا کے نتھنے ریچھ کے نتھنوں کی طرح پھڑک رہے تھے۔

            اتنے میں پڑوس کا دروازہ کھلا اور بربادی بیگم اپنا شٹل کا ک برقع پہنتی ہوئی باہر نکلیں۔ انہوں نے سخن کو دیکھا تو” ہونہہ “ کرکے ایک طرف تھوکا۔ پھر ان کی نظر ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹے پر پڑی۔”آئے یہ کون ہے مٹی ملا….پرائی بیٹیوں کو پٹر پٹر دیکھے جارہا ہے کم بخت ؟‘ ‘ وہ اپنا منہ چھپانے لگیں۔

            ”خالہ، یہاں کون سی کوئی پرائی بہو بیٹی ہے ،یہاں تو صرف آپ ہی ہو۔ اور آپ کی ایکس پائیرڈیٹ تو کب کی نکل چکی ہے۔“ سخن نے ہونہہ کا بدلہ لیا اور پھر تیزی سے آگے بولا۔ ”خالہ …. یہ بہت بڑے ڈاکٹر ہےں ….ڈاکٹر ڈینگا۔آج ہی آئے ہیں…. چڑ چڑے پن کا علاج بھی کرتے ہیں ۔ آنا ہوتو آجانا ۔‘ ‘

            ”آئے ہائے ….‘ ‘ بربادی بیگم نے اپنی ٹھوڑی پکڑی۔ انہوں نے سخن کی بات غور سے نہیں سنی تھی۔”یہ کیسا ڈانکٹر ہے…. کوئی اور نہیں ملا تمہیں …. ؟ اور یہ کون ہے اس کے ساتھ چھپکلی کی شکل کا ؟ تو بہ توبہ کیسی ڈراﺅنی صورت ہے …. اے بھیا…. اسے کچھ کھانے کو نہیں دیتے کیا؟‘ ‘ یہ کمنٹس چروٹے کے لئے تھے۔

            ”مسٹر سوکن…. یہ اولڈ وومن کھون ہائے ؟ ‘ ‘ڈاکٹر ڈینگا گھبرا گیا۔

            ”قہر خداوندی ہے…. اللہ کی بندی …. یہ شرفو صاحب کی دور پرے ہٹ کی رشتے دار ہیں…. بربادی….میرا مطلب ہے آبادی خالہ۔‘ ‘ سخن نے تعارف کرایا

            ” ان سے پوچھو….مسٹر شارفو کدھر گھیا ہائے؟“

            ”آئے اس بے چارے کے منہ میں تکلیف سے کیا ؟ فالج تو نہیں کرگئی ہے اس کے منہ پر…. میں جب سے دیکھ رہی ہوں ،منہ ٹیڑھا کرکے بولے جاریا ہے…. بولے چلے جاریاہے۔‘ ‘ خالہ نے غور سے ڈاکٹر کو بولتے دیکھ کر کہا تھا۔

            ”ارے خالہ لعنت بھیجو اس پر…. یہ بتاﺅ ،شرف صاحب کہاں گئے ہیں ؟ ‘ ‘سخن نے پوچھا۔

            ”ارے کہیں سے حلیم کی دعوت آئی تھی…. وہاں گئے ہیں …. سارے گھرانے کو لے گئے…. اچھا اب ہٹ راستے سے…. بیل کی طرح کھڑا ہوگیا ہے اپنی منحوس شکل لے کے ۔‘ ‘ بربادی بیگم یہ کہہ کر توپ سے نکلے ہوئے گولے کی طرح اُڑ گئیں۔ نا جانے کہاں پھٹنے جا رہی تھیں۔

            ”لو بھئی مبارک ہو ڈاکٹر صاحب ….‘ ‘ سخن نے زبردستی ان دونوں سے ہاتھ ملائے۔” آپ کو دعوت پر بلاکر وہ خود کہیں اور دعوت پھوڑنے چلے گئے۔‘ ‘

            ”ہم مسٹر شارفو سے بعد میں کمپلین کرے گا۔‘ ‘

            ”ہاں ہاں کردینا…. ویسے شرفو صاحب کمپلان نہیں پیتے۔‘ ‘ سخن نے اطلاعاً انہیں بتایا۔” اور میں تو آپ دونوں کو دعوت پہلے ہی دے چکا ہوں…. کھانا ہے تو بتادو ؟‘ ‘ اس نے لوسن لہرائی۔

            ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹا بغیر کوئی جواب دیئے وہاں سے چل پڑے۔

                                                                        ٭٭٭

            ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹا بھوکے پیاسے اندھیرے میں بےٹھے تھے۔ چروٹے نے سخن کا دیا ہوا اگربتیوں کا بنڈل اٹھالیا تھا۔ پھر اس نے پانچ چھ اگر بتیاں نکال کر سلگالیں۔ گھپ اندھیرے میں اگر بتیوں کی مدہم کی روشنی سے انہیں کم از کم اپنے ہیولے ہی دکھائی دینے لگے۔

            ”اگر مجھے پتا ہوتا کہ اس کا لونی کے لوگ اتنے جنگلی ہیں تو ایمان سے میں مرکر بھی ادھر نہ آتا۔‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا بول رہا تھا۔ حیرت انگیز یہ بات تھی کہ وہ صاف اور رواں اردو بول رہا تھا۔

            چروٹا خاموش بیٹھا اگر بتی سے کھیل رہا تھا۔ ڈاکٹر ڈینگا کو یاد آیا کہ چروٹا تو اونچا سنتا ہے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کرٹین کی پیٹی کھولی اور ایک پلاسٹک کا پانی والا پائپ نکالا۔ پائپ کا ایک سرا اس نے چروٹے کے کان میں لگایا اور دوسراسرا اپنے منہ پر لگاکر زور سے بولا ۔ ”ابے اب کیا کریں اُلو کی دم…. اور یہ اندھیرے میں آگ کو نہیں گھماتے، ورنہ پھر تو رات کو بار بار اُٹھے گا۔‘ ‘

            ”استاد کل ہمیں اپنا کام شروع کردینا چاہئے…. اگر ہم دوچار دن بھی یہاں رکے تو ہمارا کباڑا ہوجائے گا۔‘ ‘

            ”میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔‘ ‘ ڈاکٹر نے سوچتے ہوئے کہا۔

            پھر وہ دونوں فرش پر لیٹ کر سونے کی کوشش کرنے لگے ۔ ابھی لیٹے ہوئے دس منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازے پر زبردست قسم کی دستک ہوئی اور مسلسل ہوتی چلی گئی۔ ڈاکٹر اور چروٹا بوکھلا کر اُٹھ گئے۔ چروٹے نے جھپٹ کر دروازہ کھولا تو کوئی ہیولا اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں لالٹین لٹک رہی تھی۔ وہ جمال گھوٹا تھا۔ پھر اس نے کسی اور کو بھی اندر کھینچ لیا۔ پتا لگا ،وہ اپنی گدھے کولمبس کو لایاتھا۔

            ”اے مسٹر…. یہ تم ڈنکی کو اِدر کیوں لایا…. اسے باہر نکالو۔‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا نے کولمبس کی آمد کا سخت برا مانا تھا۔

            جمال گھوٹے نے ایک رقعہ اپنی آنٹی میں سے نکال کر ڈاکٹر کی طرف بڑھادیا اور سیٹی بجاتے ہوئے کمرے کا جائزہ لینے لگا۔

            ”وہاٹ از دس مسٹر؟‘ ‘

            ”یہ واٹ نہےں ہے پرچی ہے پرچی…. شرفو صاحب سے لکھوا کر لایا ہوں ۔ ایسے میں اپنا منہ اور گدھا اٹھاکر نہیں آگیا…. ہاں۔‘ ‘

            ”تم خود ہی سناﺅ…. کیا لکھا ہے شارفو نے ؟‘ ‘

            ”میں پڑھا لکھا ہوتا تو گدھا گاڑی چلاتا۔ اِدھر آبے۔ اُدھر کھڑا ہوکر میرے کولمبس کو نظر لگارہا ہے۔ پڑھ کر سنا اپنے استاد کو۔ “ جمال گھوٹے نے رقعہ چروٹے کو پکڑا دیا۔

            ”یہ کیا پرچون کی سودے کی فہرست ہے ؟‘ ‘ چروٹے نے ان کی باتیں نہیں سنی تھیں۔

            ڈاکٹر نے ا س کے کان میں پائپ لگاکر زور سے کہا۔” ابے یہ سنا پڑھ کے۔‘ ‘

            تب چروٹے کی سمجھ میں آیا اور اس نے رقعہ کھولا اور لالٹین کی روشنی میں پڑھنا شروع کیا۔” میں موسمبی شرف الدین ولد شریف الدین بوقت رات دو بجے عالم غنودگی میں جمال گھوٹا ولد کمال بوٹا کو یہ سفارش رفعہ لکھ کر دے رہا ہوں۔ ڈاکٹر ڈینگا کو چاہےے کہ وہ حاملِ رقعہ کی ہر بات مانے اور اس کے گدھے موسمبی کولمبس ولد مارکوپولو کو کمرے میں ایک رات بہ رضا ورغبت ٹھہرائے۔ بہ صورتِ دیگر ڈاکٹر کو اسی وقت اپنے ٹین ٹپڑ سمیت نکلنا ہوگا۔ حامل رقعہ سے چراند کرنے کی صورت میں ڈاکٹر ڈینگا سے چاچا چراندی باز پرس کا حق اپنی پیٹی میں محفوظ رکھتے ہیں۔‘ ‘

             ڈاکٹر ڈینگا نے جھنجلا کر کہا۔” یعنی کہ یہ ڈنکی ہمارے ساتھ رات کو اِدر ہی سوئے گا؟ اوہ نو…. نیور….‘ ‘

            ”نہیں ڈاکٹر صاحب …. یہ بیمار نہیں ہے …. آپ فکر نہ کرو۔‘ ‘ جمال گھوٹے نے لالٹین کی روشنی میں ڈاکٹر کی کھوپڑی غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ڈاکٹر اور چروٹا بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

            جمال گھوٹا جاتے جاتے رکا۔ ”یہ لالٹین ادھر ہی چھوڑے جارہا ہوں اور ہاں ایک بات اور…. یہ رات کو سوتے میں کبھی کبھی ڈر جاتا ہے…. اکیلا مت سلانا اسے …. پاس ہی لٹالینا۔‘ ‘

            ”ماگر…. تم اسے اِدر کیوں چھوڑ کے جارہے ہوں مسٹر؟‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا کی آواز رو دینے والی ہوگئی تھی۔

            ”وہ بات یہ ہے کہ ڈاکٹر جی کہ میرے گھر میں بہت سارے مہمان آگئے ہیں ‘ سسر ال والے ہیں…. گھر میں جگہ ہی نہیں بچی …. جس جگہ پر میرا گدھا بندھتاہے، وہاں میرے سسر نے اپنا بستر بچھالیا ہے۔ آپ فکر نہ کریں ‘ صبح میں لے جاﺅں گا اسے۔ بس ڈاکٹر جی دل میں گنجائش ہونی چاہےے…. اُمید ہے کہ آپ کے دل میں ایک گدھے کے لئے ضرور جگہ ہوگی…. تینوں بھائی سوجانا آرام سے۔‘ ‘

            یہ کہہ کر جمال گھوٹا تینوں بھائیوں کو چھوڑ گیا۔ اب وہ تینوں ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے۔ سب سے زیادہ خوش اور مطمئن کولمبس لگ رہا تھا۔ یہاں کا خواب ناک ماحول دیکھ کر اسے نیند آنے لگی تھی او روہ ٹیڑھی ٹیڑھی انگڑائیوں کے ساتھ باآواز بلند جماہیاں بھی لینے لگا تھا۔ اسے دیکھ دیکھ کر ڈاکٹر اور چروٹے کی نیند اُڑنے لگی تھی۔وہ دونوں کسی نہ کسی سونے کی کوشش کرنے لگے، لیکن ہر چند منٹ بعد کولمبس زور سے پھر ررر کردیتا اور دونوں کی آتی ہوئی نیند ڈر کردوبارہ بھاگ جاتی تھی۔ آج کولمبس بڑا ڈٹ کر سورہا تھا۔ ایسی نیند اسے پہلے کبھی نہیں آئی تھی۔ شاید کسی گنجے کے ساتھ سونے کا پہلی بار اتفاق ہوا تھا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ گدھا تو سوگیا اور یہ دونوں جاگتے رہے۔

            اچانک ایک بار پھر دروازے پر دستک ہوئی۔

            ”اب کھون آگھیا؟ ‘ ‘ڈاکٹر سانپ کی طرح بل کھاتا ہوا بولا۔

            چروٹے پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔اسے آواز سنائی ہی نہیں دی تھی ۔ ڈاکٹر نے غصے سے ایک لات ماری۔

             چروٹا بلبلا کر اٹھا اور بولا۔” یہ کس گدھے نے دولتی ماری ہے؟‘ ‘ وہ ڈاکٹر اور کولمبس کو باری باری دیکھ رہا تھا۔

            ”میں نے ماری ہے…. ابے دیکھ جا کے ….کون آیا ہے؟‘ ‘ ڈاکٹر نے پائپ کا استعمال کیا۔

             چروٹے نے جاکر دروازہ کھولا۔ سامنے نجمو سبزی فروش کھڑا تھا۔ وہ دروازہ کھلتے ہی بولا۔”ڈاکٹر صاحب…. مجھے کوئی دوا دے دیں؟ ‘ ‘

            ”کیا ہوگھیا تمہیں مسٹر؟ ‘ ‘ڈاکٹر ڈینگا سنجیدگی سے بولا۔

            ”مجھے نیند نہیں آرہی ہے۔‘ ‘ نجمو رو تی ہوئی صورت بناکر بولا۔

            ”اس کا مطلب ہے تمہارے پاس بھی کوئی گدھا سورہا ہائے۔‘ ‘ڈاکٹر بلبلا کر بولا۔

            نجمو نے لالٹین کی روشنی میں فرش پر گدھے کو سوتے دیکھا تو وہ انگشت بہ دنداں ر ہ گیا۔ اب اس کے پاس سوال جواب کے لےے گنجائش نہیں بچی تھی۔

                                                                                    ٭٭٭

            اگلے روز صبح ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹے نے اپنی قیام گاہ کے سامنے ایک دیگ چڑھا رکھی تھی۔ دیگ کے نیچے لکڑیاں جل رہی تھیں۔ ایک طرف چروٹا چارپائی پر بیٹھ کر ہاون دستے سے کچھ کوٹ رہا تھا۔ ڈاکٹر ڈینگا اپنا ڈاکٹروں والا کوٹ پہنے دیگ کے پاس کھڑا کڑچھا گھما رہا تھا اور گلے میں لٹکے ہوئے اسٹیتھو اسکوپ سے دیگ کی دھڑکنیں چیک کرتا جارہا تھا۔دیگ دیکھ کر کالونی کے بھوکے ،ننگے اور چمار لوگ قافلوں کی صورت میں لائن سے چلے آرہے تھے۔ ساتھ ہی وہ لوگ” پہلے آئےے،پہلے پائےے “کی بنیاد پر پلیٹےں اور چمچے بھی لیتے آئے تھے، تاکہ دیر نہ ہوجائے۔ معززین اور خوارین کا عظیم الشان جلوس بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔ بس ان کے ساتھ چاچا چراندی اور گلابی نہیں تھے۔

            شرفو صاحب نے دیگ دیکھتے ہوئے پوچھا ۔”ابے کیا یہاں کھڑے ہوکر کھڑے مسالے کا گوشت پکار ہا ہے؟‘ ‘

            ”اونو مسٹر شارفو…. ہم ڈینگی وائرس کی میڈیسن پکاتا۔‘ ‘ ڈاکٹر نے جواب دیا۔

            ”اچھا اچھا میڈیسن…. میں سمجھا دوا بنا رہے ہو …. ہی ہی ہی۔‘ ‘ شرفو صاحب نے افسرانہ انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

            ”اور میڈیسن پراٹھے کے ساتھ کھانی ہے نا بھئی…. ہیں نا ڈاکٹر ؟ ‘ ‘دنبے نائی نے انگلی اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر ڈینگا سے اپنی بات کی تصدیق چاہی۔

            ”ابے دنبے نائی…. تو جاہل کا جاہل ہی رہے گا۔‘ ‘ چودھری بشیر نے اسے سرزنش کرتے ہوئے کہا۔”جاہل انسان…. میڈیسن پراٹھے کے ساتھ کون کھاتا ہے۔ کسی اور سے بول بھی مت دینا۔ مذاق ڑائے گا۔ ابے یہ تو چپاتیوں کے ساتھ کھاتے ہیں، سرکہ ڈال کے ۔‘ ‘

            ”سرکہ؟؟ ‘ ‘استاد دلارے نے ڈاکٹر ڈینگا کے سر کا جائزہ لیا۔ پھر ایک دم ہنس کر سرجھٹکا۔” اچھا سرکہ…. میں بھوتنی کا سمجھا…. سر ….کا۔‘ ‘

            ”ڈینگی وائرس سے بچاﺅ کھے لئے پپیتے سے علاج کرنا مانگتا۔ ‘ ‘ڈاکٹر ڈینگا نے ان کی بکواس پر توجہ دیئے بغیر کہا۔

            ”یعنی تمہارا مطلب ہے کہ ڈینگی مچھر آئے تو اسے پپیتا کھلادیں؟ ‘ ‘سخن نے اخباری نمائندے کی طرح سوال کیا۔

            ”ہاں تو او رکیا…. تو کیا سمجھ رہا تھا کہ پپیتا کاٹ کر اس میں چینی ڈال کر ڈینگی مچھر کو کھلایا جاتا ہے؟ ‘ ‘مجو قصائی نے اپنی کہی۔

            ”ارے بھئی حلیم کب ملے گا؟ ‘ ‘وہاں بیٹھے ہوئے سیکڑوں بھوکوں میں سے ایک بھوکے نے اونچی آواز میں سوال کیا۔

            ”یہ حلیم نئیں ہے ، دوا پک رہی ہے۔ لائن بناکر بیٹھ جاﺅ ۔ سب کو ملے گی…. خبردار کوئی لائن توڑ کر آگے نہیں آئے گا ۔ ‘ ‘ شرفو صاحب نے اہلیان بھوکیان سے خطاب کیا۔

            سارے بھوکے لائن بناکر بےٹھ گئے۔ اتنے میں غلغلہ اُٹھا۔ معلوم ہوا چاچا چراندی تشریف لارہے ہیں۔ اتنے میں چاچا راستے میں بیٹھے ہوئے کسی بھوکے چرسی سے ٹکرا کر آگے بیٹھے ہوئے ہیروئنچی پر جاگرے۔ بس پھر کیا تھا …. ایک گھمسان کا رن پڑگیا۔ چاچا اور چرسی کی زبردست جنگ ہوئی۔ کسی نے درمیان میں پڑ کر اپنی بے عزتی کرانا مناسب نہیں سمجھا۔ چاچا اس لڑائی کے فاتح قرار پائے۔ سخن نے آگے بڑھ کر چاچا کا ہاتھ اُٹھادیا اور وہی اُٹھا ہوا ہاتھ چاچا نے اس کی کن پٹی پر رکھ کے دیا۔ سخن پنکھے کی طرح گول گول گھومتا ہوا اَدھ مرے چرسی پر جاگرا ۔وہ باجے کی طرح ”پیں “کرکے بج گیا۔

            چاچا اپنے کپڑوں کی شکنیں درست کرتے ہوئے معززین اور ڈاکٹر ڈینگا کے پاس جا پہنچے۔” ہاں بھئی افریقی شہزادے، کیا ہورہا ہے یہ …. یہ کسی کا چالیسواں منایا جارہا ہے فالتو فنڈ میں؟‘ ‘ چاچا نے جاتے ہی ڈاکٹر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

            ”اوئے چاچا جی…. یہ ڈینگی وائرس کے توڑ کے لئے …. وہ کیا کہتے ہیں اپنا میڈیسن…. دوا پکارہے ہیں۔‘ ‘چودھری صاحب نے جواب دیا۔

            ”اچھی سی پکائیو ذرا پیار سے…. ہاں…. ورنہ پھر دیکھ نے اس کا حشر۔‘ ‘ چاچا نے ڈاکٹر ڈینگا کی کھوپڑی اَدھ مرے چرسی کی طرف گھمادی۔چرسی کو دیکھ کر ڈاکٹر ڈینگا نے بڑی مشکل سے تھوک نگلا۔

            پندرہ منٹ بعد دوا پک کر تیا رہوگئی۔دوا تقسیم کرنے کی ذمے داری زبردستی چاچا نے اپنے سر لے لی۔ لائن بناکر ایک ایک شخص آگے آتا گیا اور چاچا ڈونگے سے دوا اس کی پلیٹ میں ڈالتے گئے۔ اس سلسلے میں بہت سے جلد باز قسم کے لوگوں کو چاچا نے ڈونگا بھی مارا تھا۔دو گھنٹے میں پوری کالونی کے لوگوں کو دوا کی ایک ایک خوارک مل چکی تھی۔ معززین بھی ایک چبوترے پر دائرہ بناکر بےٹھ گئے تھے۔ انہیں بھی دوا دے دی گئی۔دوا کھانے پینے کے دوران کافی ہنسی مذاق بھی ہوا ۔لطیفے شطیفے بھی سنائے گئے ۔وہ لوگ خوب انجوائے کرتے رہے ۔ یوں بھی آج چھٹی کا دن تھا۔ پھر سب لوگوں نے اپنے اپنے گھر کی راہ لی ۔ چاچا بھی اپنا حصہ لے کر چلے گئے۔ ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹا اندر آگئے ۔

            چروٹا بے تابانہ انداز میں بولا۔” استاد…. بس اب ہمیں تیار رہنا چاہئے اپنی کارروائی کے لئے…. کتنی دیر اور لگے گی؟‘ ‘

            ”آدھا گھنٹہ….‘ ‘ ڈاکٹر نے گھڑی پر نظر ڈالی۔” پھر ہم نکلےں گے۔‘ ‘

             آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر ڈینگا اور چروٹا باہر نکلے۔ دونوں کے کندھوں سے ایک ایک بیگ لٹک رہا تھا۔ سب سے پہلے وہ چودھری بشیر کے گھر میں گھس گئے ۔وہاں چودھری بشیر نے بے ہوش پڑے تھے ۔ وہ شاپر میں اپنے گھر والوں کے لئے بھی دوا لے آئے تھے ، اس لئے وہ بھی بے ہوش تھے۔ دونوں نے بڑے اطمینان سے وہاں ڈکیتی کی۔ صرف نقدی اور زیورات بیگوں میں ڈالے۔ اسی طرح وہ لوگ شرفو صاحب انگریز انکل ‘ خالو خلیفہ اور دیگر معززین کے گھروں کا صفایا کرتے گئے۔ انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔ اُن کی راہ روکنے والا کوئی نہ تھا۔ کئی گھنٹوں تک وہ مصروف رہے۔ شام ہوگئی۔ جب وہ اپنے ٹھکانے پر واپس پہنچے تو اُن کے بیگ بھرے ہوئے تھے۔ دونوں ہی بہت خوش اور پرجوش نظر آرہے تھے۔

            ”چلو اب اپنا سامان پیٹی میں ڈال کر گاڑی میں رکھو اور نکلو یہاں سے ۔‘ ‘ ڈاکٹر ڈینگا نے چروٹے سے کہا۔” اب تو ہمارے جانے کے بعد ہی ان لوگوں کو معلوم ہوگا کہ میں اصل ڈاکٹر ڈینگا نہیں ہوں…. اسے تو ہم نے راستے میں پکڑ کر لمبی بے ہوشی پر بھیج دیا تھا اور چلتی ہوئی مال گاڑی میں ڈال دیا تھا۔ جب تک وہ ہوش میں آئے گا تو دوسرے صوبے میں پہنچ چکا ہوگا۔‘ ‘

            چروٹا سرہلارہا تھا، حالاں کہ اسے کچھ سنائی نہیں دیا تھا، لیکن اس نے ڈاکٹر ڈینگا کے چہرے پر نمودار ہوجانے والی خباثت دیکھ کر اندازہ لگالیا تھا کہ وہ کیا بھونک رہا ہے۔ وہ بھی بولا ۔”جب ان لوگوں کو پتا چلے گا کہ تم اصلی ڈاکٹر نہیں، بلکہ مشہور ڈاکو خباثت خان کے بھائی منہ بولے بھائی گنجٹ خان ہو اور تمہارا ساتھی اپاچی ہوں تو کتنا مزہ آئے گا۔‘ ‘

            ڈاکٹر نے قہقہہ مارا۔ پھر وہ دونوں اپنا سامان پیٹی میں بھرنے لگے۔ اچانک ڈاکٹر نے اپنی گاڑی کی آواز سنی۔ وہ اُچھل پڑا۔                      چروٹے نے اسے اُچھلتے دیکھا تو حیرت سے پوچھا۔” کس نے کاٹا؟‘ ‘

            ڈاکٹر زور سے چلاکر بولا۔” ابے …. گاڑی….‘ ‘ اور باہر کی طرف لپکا۔

            ” داڑھی؟‘ ‘ چروٹا بڑبڑایا۔

            ڈاکٹر نے باہر آکر ایک منظر دیکھا۔ اس کی چنگ چی کو گلابی چلارہا تھا۔ گاڑی کے عقبی حصے میں وہی خطرناک اولڈ وومن ،یعنی بربادی بیگم بیٹھی نظر آرہی تھی۔ اُن کے ہاتھ میں تنکوں والی جھاڑو تھی، جسے انہوں نے تلوار کی طرح پکڑرکھا تھا۔

            گلابی گاڑی گول گول گھماتا ہوا بولا ۔” میں نے تمالی سب باتیں سن لی ایں۔ تم دونوں داتو ہو۔‘ ‘ (میں نے تمہاری سب باتیں سن لی ہیں تم دونوں ڈاکو ہو۔)

            اتنے میں چروٹا بھی باہر نکل آیا۔ وہ ایک ہی نظر میں صورتِ حال سمجھ گیا۔ اس نے لپک کر گاڑی میں چڑھنا چاہا تو بربادی بیگم کی جھاڑو حرکت میں آگئی۔ انہوں نے چروٹے کے بال پکڑ لےے اور جھاڑو سے مارلگائی شروع کردی۔

            ”تیرا ناس جائے کلمو ہے۔ تیرے جنازے میں فائرنگ ہو…. بال دیکھ اپنے…. کیسے چیکٹ ہورہے ہیں…. نہاتا نئیں ہے تو …. کم بخت کی اولاد….سخن کا بھائی بنا ہوا ہے۔‘ ‘محض دو منٹ تک چروٹے کی جان عذاب میں پڑی رہی۔ جب بربادی بیگم نے اُس کے بال چھوڑے تو وہ مرے ہوئے مچھر کی طرح زمین پر گرگیا۔ڈاکٹر ڈینگا نے خطرے کی بدبوسونگھ لی تھی، لہٰذا وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر بھاگا۔ گلابی ابھی تک گاڑی گول گول گھما رہا تھا۔

             بربادی بیگم نے جھاڑو گھما کر اس کے سر پر ماری۔”اور تیرا بھی ناس جائے…. تو کون سا عقل مند ہے…. ارے کم بخت اس ڈاکو کا پیچھا کر…. تجھے موت آجائے۔ اللہ مارے اپنے باپ کو گھمائے جارہا ہے۔‘ ‘

            گلابی نے گاڑی کا رخ ڈاکٹر کی طرف کرتے ہوئے کہا۔ ”مدے موت آدئی تو داڑی تون تلائے دا؟‘ ‘ (مجھے موت آگئی تو گاڑی کون چلائے گا؟)

            ڈاکٹر کسی ببون چکما کی طرح انہیں چکمے دے رہا تھا۔ ایک موقع پر جب گلابی نے ڈاکٹر کو گاڑی کی ٹکر مارنی چاہی تو ڈاکٹر عین موقع پر سامنے سے ہٹ گیا۔سامنے دیوار تھی۔ گلابی نے دیوار دیکھ کر زور سے بریک لگائے تو بربادی بیگم جھٹکے سے سنبھل نہ سکیں اور پورے زور سے گلابی سے آٹکرائیں۔ گلابی تو اُچھل کر آگے زمین پر جاگرا اور بربادی بیگم ڈرائیونگ سیٹ پر جابیٹھی تھی۔ گاڑی اسٹارٹ تو تھی ہی۔ بربادی بیگم نے جھاڑو پھینک کر لاشعوری طور پر ہینڈل پکڑلیا۔ گاڑی دوبارہ چل پڑی تھی ۔بس ڈرائیور تبدیل ہوگیا تھا۔

            ”اری رک جا کلموہی …. تیرا ستیاناس …. تجھے ڈھائی گھڑی کی موت آجائے…. رک جا کمبخت کی بچی ۔‘ ‘ وہ گاڑی کو کوس رہی تھیں۔ گاڑی کا رخ ڈاکٹر ڈینگا کی طرف مڑگیا تھا۔ پتا نہیں کیسے اُن سے ایکسی لیٹردب گیا اور گاڑی غرا کر ڈاکٹر پر جا چڑھی۔بربادی بیگم نے ڈاکٹرڈینگا کی آخری ہول ناک چیخ سنی تو اُن کا دل بھی ہول گیا۔ گاڑی رکی ہوئی تھی اور ڈاکٹر اس کے نیچے آیا ہوا تھا۔ بربادی بیگم نے کانپتے ہوئے ہکلائی ہوئی آواز میں پوچھا۔

            ”اے کم بخت بھیا…. تم مرتو نہیں گئے؟ ارے بھیا میں نے کچھ نئیں کیا…. یہ تو کم بخت گاڑی خود بہ خود مڑی تھی…. آئے میں دکھیاری بیوہ کیا جانوں کہ گاڑی کیسے چلے ہے۔‘ ‘ڈاکٹر ڈینگا کیا جواب دیتا…. وہ تو بے ہوش ہوچکا تھا۔

                                                                        ٭٭٭

            اس بار شرفو صاحب کے گھر میں معززین وخوارین جمع تھے۔ بربادی بیگم اس وقت مرکز ِ نگاہ بنی ہوئی تھیں۔

             سخن پرجوش انداز میں بول رہا تھا۔”اور اس طرح بربادی خالہ …. مم…. میر امطلب ہے آبادی خالہ نے ڈاکٹر کا روپ بدلے ہوئے ایک خطرناک ڈاکو کے فرار ہونے کا منصوبہ ناکام بنادیا۔ اس میں گلابی کا بھی حصہ ہے ۔اس کا رنامے کو انجام دے کر آبادی خالہ ہیروئن اور گلابی ہیرو بن گیاہے ۔‘ ‘پھر سخن چودھری بشیر کی طرف مڑ کر بولا۔’ ’ کیا خیال ہے چودھری صاحب …. ہیرو ہیروئن موجود ہیں ۔ فلم بن جائے اِن دونوں پر۔ اسٹوری میں لکھ دوں گا۔ فلم کا نام ہوگا تو تلا ہیرو، بڈھی ہیروئن، نال نال۔‘ ‘

            ”سوپر…. سوپر ہٹ جائے گی، ایمان سے۔‘ ‘ یامین چلا کر بولا۔

            اس وقت بربادی بیگم چپل کی طرح اپنی جگہ سے اُڑیں اور انہوں نے اپنی جوتی اُتار کر تڑاتڑ سخن کا سر بجادیا۔” بڈھی…. میں بڈھی ہوں…. ہیں…. بول…. چھوہارے کی شکل کے …. بول اب بولے گا بڈھی…. تیرا ناس جائے….تیرا بیڑہ غرق۔‘ ‘

            ”بس کرو خالہ بس کرو…. ورنہ یہ مرجائے گا تو ایسا دوسرا کہاں سے آئے گا۔ بڑی مشکل سے ہوتا ہے سخن سا کم بخت پیدا ۔‘ ‘ خالو نے سخن کو بچالیا۔

            اب چودھری بشیر بولے۔” اوئے…. اب اپنے جناب شرفو صاحب خالہ اور گلابی کو کارنامہ انجام دینے کے صلے میں گول مےڈل پہنائیں گے…. اوآﺅ جی شرفو صاحب۔‘ ‘

            شرفو صاحب دومیڈلز لے کر آگے آئے اور گلابی اور بربادی بیگم کو پہنادیئے۔ یہ محض گول میڈل تھے، جو انہوں نے کسی زمانے میں سائیکل ریس جیت کر حاصل کےے تھے۔ اسی وقت شرفو صاحب کا موبائل بجنے لگا۔

            سب چلانے لگے۔” واہ واہ…. موبائل پر فون آیا ہے …. کیا بات ہے اپنے شرفو صاحب کی۔‘ ‘

            شرفو صاحب نے کال ریسیو کی۔” ہاں میں شرفو کونسلر …. میرا مطلب ہے شرف الدین کونسلر بول رہا ہوں…. اچھا …. ہاں …. ہاں…. اچھا …. او نہیں …. واقعی…. اوہو…. اچھا ہے…. مرجائیں۔ کون…. میں…. میں مرجاﺅں؟ابے تو خود مرجا….جا تیری شکل پر لانت….تھو….یہ لے ….آاااااخ تھوووو۔‘ ‘شرفو صاحب نے بلغم بھر کر اپنے موبائل پر تھوک دیا اور صاف کےے بغیر جیب میں رکھ لیا۔”ہم سے منہ ماری کرے گا۔‘ ‘

            ”دیکھا…. کتنا رعب ہے اپنے کونسلر صاحب کا، بڑے بڑے لوگوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔‘ ‘ مجو قصائی نے تعریفی انداز میں کہا۔

            ”کون تھا شرفو صاحب ؟‘ ‘ انگریز انکل نے پوچھا۔

            ”وہ اصل ڈاکٹر ڈینگا کا چپراسی تھا۔‘ ‘ شرفو صاحب نے بے وقوفی کا اعلیٰ مظاہرہ کرتے ہوئے سچ بتایا۔ ”میرے منہ لگ رہا تھا۔ میں نے بھی تھوک دیا اس کے منہ پر…. بتارہاتھا کہ اصل ڈاکٹر صاحب واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں اور اُن کو ڈینگی مچھر نے کاٹ لیا ہے۔ ‘ ‘

            ”اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔‘ ‘ سخن نے ہاتھ اٹھائے۔

            ”تجھے بڑی جلدی پڑتی ہے ہر کسی کے مرنے کی فالتو فنڈ میں۔‘ ‘ چاچا نے سخن کے بال پکڑلےے۔ وہ غریب ابھی بربادی بیگم سے پٹ کر فارغ ہوا تھا اور اب چاچا اس کے درپے تھے۔

            اسی لمحے ایک گرج دار آواز گونجی ۔”کیا ہورہا ہے یہ کم بخت مارو…. تمہارا بیڑہ غرق….اچھا تو یہاں ڈینگیں ماری جا رہی ہیں۔‘ ‘

            اور پابی جی ہتھنی کی طرح نمودار ہوئیں۔ انہیں دیکھتے ہی شرفو صاحب کی حالت غیر ہوگئی۔ وہ گینگنم ڈانس کرنے کے انداز میں کانپ رہے تھے۔اُن کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں پر سے گول گول گھوم رہی تھیں۔پابی جی نے شرفو صاحب کو دبوچا اور چوزے کی طرح اُٹھا کر اندر لے گئےں۔ اب سب لوگ شرفو صاحب کے رونے چیخنے اور توبہ کرنے کی آوازیں سن رہے تھے۔

                                                                                                                                                            ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے