سر ورق / جہان اردو ادب / نشاط یاسمین خان۔ محمد زبیر مظہرپنوار

نشاط یاسمین خان۔ محمد زبیر مظہرپنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب۔۔ جی میرا اصل نام نشاط یاسمین خان ہے ابتدا میں نشاط خان کے  نام سے لکھتی رہی ہوں ۔

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔ انٹر ساینس کرنے کےبعد کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں آنرز کیا۔ خاندانی پس منظر میں سب پڑھے لکھےلوگ ہیں والد انجنیر تھے والدہ بھی تعلیم یافتہ تھیں دادی کے والد بہت بڑے مذہبی اسکلر تھے اور بھائ ترقی پسند شاعر ۔۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ یاد نہیں  کے پہلے ارٹیکل چھپا تھ یا کوئ کہانی مگر ابتدا 1997 میں ہوئی جنگ سے  پھر ایکسپرییس  میں کالم لکھتی رہی  دوشیزہ  پاکیزہ.   شعاع میں لکھی ری وجہ تو اج تک سمجھ نہیں ائ اب تو عادت سی ہوگی ہے  . .  کیا ہو گا اگر عشق میں ہو گیے ناکام. .  ہم کو تو کوئی   اور کام بھی نہیں اتا ۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔ کیوں کہ میرے حلقہ احباب ہمشہ سے صحافت اور ادب سے وابستہ شقسیحات شامل رہی ہیں اس لیے میرے دوستوں کے لیے کو ئ انہونی بات نہیں تھی  سب نے تعریف اور حوصلہ افزایئ کی۔۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔ میرئ کتاب اماں نامہ نے نہ صرف میرا ادبی حلقوں میں تعارف کروایا بلکہ بہت پزرائی ملی  اور ادبی ایوارڈ سے بھی نوازہ گیا ۔

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ میرے پاس ہمشہ سے بہت اچھے دوست رہے ہیں  نیے بھی اتنے محبت کرتے ہیں جتے پرانے کرتے ہیں

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ گنجاش تو نکالنی پڑتی ہے اپ اچھی چیز پیش کریں  گنجاش خوبخود نکل آئے گی ۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ ترقی پسند . ادب اک پورا عہد ہے  وہ ختم نہیں ہوا ہے اب بہاو میں وہ شدت نہیں رہی ٹھراو اگیا ہےکیونکہ مزاحمت کم ہو گی ہے  ہمارے عہد کا.  ہر لکھنے والا متاثر ہوا ہے چاہے کم  یا زیادہ ۔ اس ادبی تحریک بہت سے ایسے لکھنےسامنے اے ہیں جن کو بین اقوامی ادیب کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے  فیض احمد فیض  سبط حسن علی. سردار جعفری قراہ لین حیدر  عصمت چقتایئ  احمد ندیم قاسمی غلام عباس کرشن چندر  کتنے نام اس تحرک سے جڑ ے ہوے ہیں۔۔

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔ ضروری نہیں کہ مغر ب سے انے والا ہر ایک نظریہ ہمارے لیے قابل قبول ہو اور بھی ضروری نہیں اگر ہم اسے قبول کرلیں توہمارا ادب چھلانگ مار اگلی

 صف میں اکر کھڑا ہو جاے گا میں کسی نظریہ کے تہت لکھنے کی قایل نہہیں ہوں اچھا لکھا یا برا یا برا  یہ فیصلہ میرے قاری کا ہونا چاہے مگر ہیں افسانے میں کہانی کی موجودگی ضروری سمجھتی ہوں کیوں کہ ہمارا قاری ابھی اتتا بالغ نظر نہں ہوا ہے کہ وہ فسانے یا ناول میں فلسفے کی گتھیاں سلجھاے گا ابھی ہمارا قاری ادب سے بہت دور ہے ابھی تو اسے ادب کے قریب لانا ہے وہ ادب میں اپنا اپ تلاش کرتا ہے اور ادیب کاکام اس تلاش میں مدد کرنا ہے.  میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔ مسئلہ تو یہی ہے  ہمآرا ادیب خود کو قاری یا عام ادمی سے ماورا سمجھتا ہے حالانکہ اسے چاہے ک وہ خود کو عام ادمی کا حصہ بن کر لکھے ترقی پسند تحریک کی کامیابی کی وجہ بھی   یہی تھی کہ ادیبوں نے ادب کی

 درباری  قصیدا خوانوں سے نکال کر عام ادمی کی پہنچ میں کردیا تھا۔

۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ کرشن چندر  قراہ لعین  حیدر دونوں کا i q.  lavel بہت بلند ہے تحریر میں بہت پہلاوہ ہے خود ان کی سوچ کا کنویس بہت وسع ہے  اجکل تو ایک بھی نام.  دکھائی نہیں دے رہا ہے جس کو ہم ان کےمقابل لے آیئں  آلبتہ تارڑ صاحب کا بہاو  اسد محمد خان کے افسانے بہت اچھے لکھے گیے ہیں کچھ نئے لکھنے والے نام نظر ارہے ہیں جن سے امید کی جاسکتی ہے۔۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔ جواب 13 خلا موجود ہے اور اس کو پر کرنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے

 مگر تخلیق کار کے سامنے مسایل کی دیوار کھڑی ہے  وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرے یا کتاب چھپواے پبلشنگ کےبھی مسایل بہت زیادہ ہیں  ہر تخلیق کار کی پہنچ ادبی اداروں اور حلقوں تنظیموں تک نہیں ہے  ادبی گروہ بندیاں اس قدر زیادہ ہیں ایک تو تنقید نگار دوسرے نقط نگاہ کی  تحریر اٹھاتا ہی نہیں ہے اگر آٹھا بھی لے اس کا وہ حال کردیتا ہے کہ لکھنے ایندہ کے لیے توبہ کر لے پبلشر کے اپنے مخصوص ناقدین وہ ان فلپ لکھوا کر کام چلا رہے ہئں  قاری  پڑھنے سے کبھی نہیں اکتاتا  صرف موضوع ماشرے سے مطابقت رکھتا ہو بقول غالب  اک رنگ کا مضبون ہو تو سو رنگ سے باندھوں۔۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔ یور پ امریکہ کینڈا اوراب جاپان اور ہندوستان میں بہت میعاری تنقید ہو رہی ہے وہان کے تنقید کار باقدعدہ  سند یافتہ ہوتے ہیں ادبی انعامات اور ہتکہ نوبل انعامات کا فیصلہ بھی  تنقید نگاروں کی کمٹیاں کرتی ہیں ہمارے یہاں تو ادب کو قاری میسر نہیں ہے تو تنقید کی کیا ضرورت ہے  جو تنقید نگار ہیں وہ نیے لکھنے والوں کی تعریف کرنے میں بہت بخل سے کام لیتے ہیں جو ادبی انعامات دیے جاتے ہیں وہ ذاتی پسند نہ پسند پر دے جاتے ہیں جب تک یہ رویے قایم رہیں اس وقت تک تنقید کا وجود بے معنی رہے گا۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ charles dickens کو اس لیے پڑھا کہ کورس میں تھا گورکی اور چیخوف کو اس لیے پڑھا گھر میں کتابیں موجودتھیں  موجودہ ادیبوں میں سواے paullo coelho کی alchemist کے کویئ   کتاب نہیں پڑھی رولڈڈحل مجھے پسند ہے کیو نکہ وہ بہت سادگی سے.  کہانی کہنے کا فن جانتا ہے۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔ یہ تو دریا کو کوزے میں بند کرنے کا فن ہے  ناول کے بعد ناولٹ  افسانہ کہانی  مختصر۔کہانی افسانچہ ادب میں تغیر وترقی کی علامات ہیں  جمود تو موت ہے نئی   چیز اپنایں گے تو اگے بڑھیں گے  میں خود ایکسپریس اخبار میں سو لفظی کہانیا ں لکھتی ہوں گنجایش نکالتی ہے تو اخبار چھاپتا ہے۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے مگر میں مطمین ہوں اللہ پاک جو دیا ہے وہ میری خواہش سے بہت زیادہ ہے اگر اور ملے گا تو اسکا کرم ہو گا  مگر ایسی کسی چیز کی خواہش نہں جو کسی کا حق مار کر یا دل دکھا کر ملے۔۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب۔۔ محبت فاتح عالم محبت کے بغیر تو زندگی ادھوری ہے  مجھے تو ہر رشتہ سے محبت ملی اور میں نے بھی ہر رشتہ سے بہت  کی میں تو یہ سوچتی ہوں اگر کبھی کہیں سے نفرت ملی تو وہ میرا اخری دن ہوگا۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ زندگی واقعات کے مجموے کا نام ہےچھوٹے بڑے اچھے برے دکھوں بھرے خوشیوں سے لبریز ہر لمحہ رنگ بدلتی زندگی قوس وقزح جسی ہر انسان کی  اسی طرح گزتی ہے ہماری بھی اہسی بسر ہوگی۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔ میری زندگی کھلی کتاب کی سی ہے  عام بچوں جیسا بچپن کھیل کود پڑھایی لکھا یی عام خواتین کی سی زندگی شادی  سسرال بچے گھر کی ذمیداریاں بچوں کی  تربیت  پڑھایی لکھایی مگر اس دوران بھی خود کو کھونے نہ دیا جو وقت ملا جو وقت ملا پڑھایی لکھایی کرتے گزار دیا البتہ پڑوسن سے گپیں لگا نے t v دیکھنے فون پر لمبی گفتگو کرنے کاوقت نہ مل سکا اور وقت کو تقسیم کرنا بھی اگیا  اور زندگی کے وہ گوشے اشکار نہ ہو سکے جو عام طور پر   ہوجاتےکیونکہ شاعری نہں کرتی اس محفلوں مییں کم جاتی ہو.ں بہت عرصہ تک میرے گھر والوں کے علاوہ کسی کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ نشاط خان کے ارٹیکل کالم وکہانیاں شایع ہوتی ہیں وہ میں ہوں۔۔ اک بات اور سارا سفر  نشاط خان کے نام سے طے ہوا اک جگہ کچھ خضرات کے سوال نے مجھے حیران کر دیا  ارے اپ خاتون ہیں ہم تو مرد سمجھتے رہے بس اس دن کے بعد سے میں نے اپنے مکمل نام سے لکھنا شروع کر دیا کیونکہ مجھے اپنے عورت ہونے پر فخر ہے اور میں۔نہیں چاہتی مجھے مرد سمجھا جاے  یہ میری زندگی کا اک دلچسپ موڑ ہے۔۔

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔ میری ذاتی راے ہے  سب سے پہلے انسان اپنے گھر میں پہچان بناتا ہے پھر باہر والے اسےپہچانتے ہیں گھر والوں کا دیا ہوا اعتماد باہر کام اتا ہے  میں ایسے کتنےپاکستانی . . . .  .  .  انگریزی رایڑز کو جانتی ہون جن کوپا کستان میں کویی پہچانتا بھی نہیں ہے اصل میں قومیں اپنی زبان سے پہچانی جاتی ہیں وہ قومیں ختم ہو جاتی جن کی زبان ختم ہو جاتی ہے ۔ ہمارے ادبا کو چاہے کہ وہ علاقائی ادب کو اوردو میں ترجمہ کریں اوردو ادب کا علاقایی میں اردو زبان میں بہت وسعت ہے ترجمہ سے زبانوں کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ بھی ہوگا ربط بھی بڑھے گا ۔

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔ بہت اچھا سلسلہ ہے اپ کی محنت صاف نظر ارہی ہے  میں نے اپ کی web side کو Staudyکرنے کے بعد ہی انٹرویو دیا ہے اور اپ کی مزید کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔

 

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے