سر ورق / مکالمہ / ڈاکٹر عبد الرب بھٹی ۔۔۔ یاسین صدیق

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی ۔۔۔ یاسین صدیق

  

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی

 یاسین صدیق

٭٭٭

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ اس وقت ڈائجسٹ دنیا میں صف اول کے لکھاری ہیں۔اب تک غالبا 30 سے زائد کتابیں شائع ہوئی چکی ہیں۔اردو کے تمام قابل ذکر رسائل میں کہانیاں لکھ چکے ہیں ۔ 20 سے زائد سال ہوئے جب لکھنا شروع کیا تھا ۔انہوں نے ہمہ اقسام کا ادب لکھا ہے ۔اور ہر ایک میں خود کو منوایا ہے ۔ ان کے اس انٹرویو سے ہم سب کوان سے بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کو ملے گا ۔

کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔شائد اس لیے کہ ترس ترس کر ملتا ہے۔میرا اشارہ جناب محترم ڈاکٹر عبد الرب بھٹی کے اس انٹریوز کی طرف ہے ۔ایک صبر آزما انتظار کے بعد ہم ان کا یہ انٹرویو کرنے میں کامیاب ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا سوشل میڈیا پر کوئی اکاونٹ نہیں تھا (تھا تو اسے ڈی ایکٹیو کیا ہوا تھا) ۔سوچاکال کر کے ریکارڈنگ کر لوں جیسا محی الدین نواب (مرحوم) کا انٹرویو کیا تھا ۔انہیں فون پر یہ بات بتائی تو انہوں نے چند دن بعد اپنا فیس بک اکاونٹ ایکٹیو کرنے کا وعدہ کیا ۔یہ چند دن چند ماہ میں بدل گئے ۔ ہم بھی ہر پندرہ بیس دن بعد ان کو یاد دلاتے رہے ۔۔یہ خوبصورت ،معلوماتی،انٹرویو کرنے میں ہماراانٹرویو پینل (ظفر علی ،قاری ابو بکر،عاصم سعید،نعمان عظیمی،عدیل عادی،شہباز اکبر الفت،شبیر اعوان علوی،عطا المصطفے ،آصف بھٹی ،بندہ ناچیز)کے علاوہ محترم امجد جاوید صاحب،جناب رزاق شاہد کوہلر،سید بدر سعید ،جناب حمید اختر،ایم اکرم مپال،صداقت حسین،وقار حسین ،تفسیر عباس بابر،اعجاز راحیل،رضوان سلطان،یاسین نوناری، جیسے دیگر دوستوں نے ساتھ دیا ۔ان سب کا میں مشکور ہوں ۔

(س) اسلام علیکم محترم جناب عبد الرب بھٹی صاحب خوش آمدید ،جی آیاں نوں۔لیکن بڑی دیر کی مہربان آتے آتے ۔

(ج) معذرت خواہ ہو ں کہ آپ کو انتظار کی زحمت سے گزرناپڑا ، دراصل ہم ڈاکٹرروں کی لائف اپنے لیے کم اور دوسروں کے لیے زیادہ ہوتی ہے ،میں آپ سب کا خاص طور پر یاسین صدیق بھائی کا مشکور ہوں انہوں نے مجھے آپ احباب سے باتیں کرنے کا موقع دیاہے ۔

(س) یعنی قاری اور لکھاری کو آمنے سامنے کر دیا ہے ۔

(ج) جی ہاں

(س)آپ کا نام کس نے رکھا؟

(ج)میرا نام میری والدہ نے رکھا۔عبد الر ب۔ قو م بھٹی ہے اور ڈاکٹر پیشہ ۔

(س)آپ کی تاریخ پیدائش کیا ہے ۔جائے پیدائش کون سی ہے؟

(ج) میری تاریخ پیدائش اٹھارہ ، چھ، 69 19ہے ، اور جائے پیدائش جیکب آباد سندھ ہے ۔

(س)آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں؟ان میں آپ کا نمبر کون سا ہے ان کا مختصر تعارف ۔؟

(ج)ہم ماشااللہ نو بہن بھائی ہیں ،میں سب سے چھوٹا ہوں باقی سب بہن بھائی ، بھی اچھے عہدوں پر ہیں ،یعنی ڈاکٹر ،انجینئر ، اور پروفیسرز۔

(س)بچپن میں پٹائی ہوتی رہی ہے؟۔ کس وجہ سے؟

(ج)میں بچپن میں بہت شرارتی تھا، پڑھنے کا کو ی شوق نہ تھا ۔ آوارہ گردی کرتا تھا ۔ گھر والوں سمیت آلے دوالے سب کی ناک میں دم کرتا تھا ۔ امی ابو سے پٹتا بھی تھا ، لیکن پھر وہی شرارتیں اور اچھل کود۔

(س)آپ کی شادی کہاں ہوں خاندان میں یا خاندان کے باہر ۔۔کیاوالدین کی پسند کی تھی۔ کب ہوئی۔شادی سے پہلے بیگم کو دیکھا تھا ۔ان کی تعلیم کیا ہے؟ان کی ادب سے دلچسپی بارے بتائیں

(ج)شادی خاندان سے باہر ہوئی ۔والدین کی پسند تھی۔ 1998 میں ہوئی۔ شادی سے پہلے بیگم کو دیکھاتھا ۔ وہ گھریلو خاتون ہیں ۔ ٹھیک ٹھاک پڑھی لکھی ہیں ۔

 بیگم نے کبھی کتابوں کو سوکن نہیں سمجھا اس لیے کہ وہ خود بھی شوق سے پڑھتی ہیں ، مزے کی بات یہ ہے انہیں یہ سروکا ر نہیں ہوتا کہ کس ادیب نے لکھی ہے ، بس کہانی اچھی ہو نا چاہیے ۔ ۔ ایک بار میں کہانی لکھنے میں محو تھا ، بیگم ایک ڈائجسٹ پڑھنے میں ، کہانی پڑھنے ک بعد وہ اس کہانی کی تعریف میں بو لنے لگیں ، بولیں ، یہ بہت اچھی لگی مجھے ۔ کیا آپ نے پڑھی یہ کہا نی ؟ میں نے نام پڑھا وہ میری تھی، مگر مزے کی بات ، میں نے ان سے یہ نہیں کہا کہ یہ تو میری ہی لکھی ہوئی ہے ۔اللہ کا شکر ہے مجھے اچھی وائف ملی ہر طرح سے میرا ساتھ دیتی ہیں،۔ہم انجوائے کرنے کے لیے فیملی سمیت ہوٹلنگ کرتے ہیں اور گھومتے پھرتے ہیں بچوں کے ساتھ ،انہیں خوش دیکھ کر میں بھی خو ش ہوتا ہوں

(س)آپ کے بچے کتنے ہیں۔

 (ج)ماشااللہ تین بچے ہیں ،دو بیٹے اور ایک بیٹی ۔

٭٭٭

(س)آپ کی عمر کیا تھی جب آپ نے ادب کا مطالعہ شروع کیا؟

(ج)بارہ تیرہ سال سے مطالعہ شروع کیاتھا ۔

(س)وہ کون سی کہانی یا ناول تھا جو سب سے پہلے پڑھنے کا اتفاق ہوا؟

(ج)خدا کی بستی ۔ پریشر ککر ، ایمر جنسی اور بہت سے ناول تھے جو ابتدا میں ہی پڑھنے کا موقع ملا۔

(س)آپ کی تعلیم کیا ہے ؟کس کالج سے حاصل کی َ؟ ۔کالج دور کے کسی استاد کا تعارف کروائیں جنہوں نے آپ کو متاثر کیا ؟۔

(ج)ایم بی بی ایس کیا ہے ، میڈم رخسانہ نے مجھے بہت متاثر کیاتھا ، وہ اچھا پڑھاتی تھیں۔

(س) M.B.B.Sکہاں سے کیا تھا.؟

(ج)لاڑکانہ چانڈکا میڈیکل کالج سے بعد میں کراچی سے ۔

(س)لا کالج لائف میں آپ کے بہترین دوست اب وہ کہاں ہیں ؟

(ج)بہت سے دوست تھے ، اب بھی کبھی کبھی مل جاتے ہیں۔

(س)آپ کے خاندان میں اور کوئی ادیب ہے ۔اگر ہے تو ان کا تعارف چند سطروں میں؟۔

(ج)کوئی نہیں

میرے سوائ

(س)سر آپ پہلے ڈاکٹر بنے یا مصنف ۔ڈاکٹر بننا آپ کی خواہش تھی یا آپ کے والدین کی ۔

(ج)میں پہلے رائیٹر بنا پھر ڈاکٹر ، یہ خواہش میرے والدین کی تھی ، رایئٹر بننے کی میری خواہش تھی۔

(س)مطالعہ کا شوق کیسے پڑا؟ سکول لائف, بچپن کی کچھ یادیں شیئر کریں۔

(ج)بڑے بھائیوں کا شوق تھایہ ، وہی ناول کہانیاں لاتے تھے ،جنہیں بعد میں میں بھی شوق سے پڑھنے لگا۔ بچپن کی بہت سی یادیں ہیں ، کیا کیا شیئر کروں ؟ جیسا کہ مذکور ہو چکاکہ میرا بچپن حتی کہ لڑکپن تک بڑ ا شرارتوں سے گزرا ہے ، ایک نمبر کا نکما کام چور اور پڑھائی چور۔

(س)دب اور فکشن میں کس کس رائٹر کو پڑھا؟ آپ کا پسندیدہ ترین افسانہ اور ناول کون سا ہے ؟ پسندیدہ رائٹر جس سے متاثر ہو کر کہانیاں لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔؟

(ج)تقریبا سب کو ہی پڑھا ہے ، پسندیدہ افسانہ احمد ندیم قاسمی کا تھا ،شاید رنگ حنا نام تھا، پسندیدہ رایئٹر ز میں کرشن چندرسعادت حسین ، منٹو ، قاسمی اور شوکت صدیقی شامل ہیں۔

منٹو ، چندر اور شوکت صدیقی کی کہانیوں نے مجھے متاثر کیا ہے ، ان کی کہانیاں بولتی تھیں ۔ میں بھی ایسا لکھنا چاہتا ہوں ۔

(س )آپ کی سب سے پہلے کہانی کون سی تھی اور وہ کہاں چھپی؟۔

(ج)میری پہلی کہانی نونہال اور افسانہ کہانی اخبار جہاں کے ایک چھوٹے سے سیکشن میں چھپی تھی۔

(س)ڈاکٹر صاحب آپ نے پہلی کہانی کب لکھی تھی؟

(ج)شاید 1985میں چھپی تھی ، بے حد خوشی ہوئی تھی ۔ لکھنے کا اعتماد ابھرا تھا،خود اعتمادی میں اضافہ ہوا تھا۔

(س)سر جس کہانی کا سب سے پہلے اعزازیہ ملاکس رسالہ میں شائع ہوئی کس سال؟

(ج)سچی کہانیاں ، غالباً 1998

(س)پہلی بار کب اور کتنا اعزازیہ ملاجسے آپ محنت کا صلہ سمجھے؟

(ج)اخبار جہاں سے ایک کہانی پر تین ہزار ،یہ غالباً1998کی بات ہے۔

(س)سر سب سے زیادہ معاوضہ اب تک آپ کو کس کہانی کا ملا؟۔

(ج)سودائے جنوں ، کفن بدوش، آوارہ گرددغیرہ

(س)آپ کی سب سے زیادہ کون سی کہانی پسند کی گئی ؟۔

(ج)برگَ خزاں ، خار زار ، شکستہ گھروندے ، سودائے جنوں ، صحرا گرد، آوارہ گرد ،کفن بدوش وغیرہ ایسی کہانیاں ہیں جن کو بہت پسند کیا گیا ۔

(س)اب تک آپ کی سب سے طویل کہانی کون سی ہے ؟

(ج)بہت سی ہیں ، کمین گاہ ، کالاز،آوارہ گرد وغیرہ

(س)آپ نے بچوں کے لیے بھی لکھا ہے سنا ہے کہ ایک وقت تھا، جب انوکھی کہانیاں سے آپ کی کہانی ریجیکٹ ہوئی تھی اب جب آپ اس بلند ترین مقام پر کھڑے ہیں، تو پیچھے مڑ کر دیکھنے پر وہ وقت اب کیسا لگتا ہے ۔

(ج)ہاں ! نونہال ، ٹوٹ بٹوٹ میں لکھا، انوکھی کہانیاں میں ایک ہی کہانی بھیجی تھی ،پہلاحصہ تھا ،اسی لیے ریجیکٹ ہو گئی تھی ۔ باقی پیچھے مڑ کر میں کم ہی دیکھتاہوں ۔

(س)کوئی ایسا موضوع جس پر لکھنا آپ کو بہت پسند ہو۔

(ج)جذبہ حب الوطنی اور اسلام کی تبلیغ نیز مسلمانوں کے خلاف عالمی سازشوں کے تحت جس طرح اس کا تشخص بگاڑا گیاہے ،اسے بے نقاب کرنے کی میری بھرپور خواہش ہے

(س)کوئی ایسا موضوع جس پر آپ نے لکھنا چاہا ہو اور لکھ نہ سکے ہوں؟

(ج)میرے تو خیال میں ایسا کوئی موضوع میں نے نہیں چھوڑا ،کوئی رہ گیاتو ہو ، سوچ لیتاہوں ۔ یوں بھی مجھے ایک ہی موضو ع پر لکھنے سے اکتاہٹ ہو تی ہے ، میں موضو ع بدلتا رہتا ہوں۔

(س)کوئی ایسا شعر سنائیں جو ہر دور میں آپ کو پسند رہا ہو ۔سدا بہار آپ کا پسندیدہ شعر۔

(ج)اچھا خاصا بیٹھے بیٹھے گم ہو جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ اب میں اکثر میں نہیں تم ہو جاتا ہوں

(س)علامہ اقبال .غالب کے علاوہ بتائیں آپ کو کون سا شاعر پسند ہے ۔

(ج)شاعر بہت سے پسند ہیں

(س)کیا آپ نے شاعری کی ۔اگر کی ہے تو اپنا ایک شعر۔

(ج)حسیں اک خواب کیے بیٹھا ہو ں

  خود کو عذاب دیئے بیٹھا ہوں

(س)آپ کے نزدیک جمہوریت اسلام کے مماثل ہے یا متصادم؟

(ج)جمہوریت اگر اپنے تمام تر مثبت لوازمات کے ساتھ ہو تو یہ میرا خیال ہے کہ یہ اسلام کے متصادم نہیں ہو سکتی۔

(س)کیا ایک ادیب کا یہ حق نہیں بنتا کہ وہ اسلام کی تبلیغ کرے اور قلم کے ذریعے سے جہاد کرے ؟

(ج)بالکل حق پہنچتاہے ، ایک ادیب کا بلکہ ایک مسلم ادیب کا تو فرض ہے کہ وہ اپنی تحریوں میں اسلام کی بھی تبلیغ کرے اور ایسا کرتے بھی ہیں دیگر ادیب ، میری کہانی سودائے جنوں ، کفن بدوش اس کی مثال ہیں۔

(س)آپ کیا کہتے ہیں کہ اس مسئلے کے بارے میںکہ انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے جب کہ صرف اسلام ہی مکمل ضابطہ حیات ہے ۔

(ج)انسا نیت کو تو مذہب نہیں کہہ سکتے یہ ایک جذبہ ہے ،جبکہ اسلام تو انسا نیت کی قدر کا درس دیتاہے ۔

(س)آپ کی کوئی ایسی تحریر جسے آپ سمجھتے ہوں کہ ہوسکتا ہے یہ میری بخشش کا ذریعہ بن جائے ؟

(ج)”نیند “نامی میرا ایک ناول اخبار جہاں میں چھپا تھا ، اس میں ایک گناہ گار شخص بسترِ مرگ میں پڑا گڑگڑ ا کر اللہ سے زندگی کی بھیک مانگتا ہے کہ اس بار اسے صحت یاب کردے اور نئی زندگی دے وہ دوبارہ برے کام نہیں کرے گا ، تب ااس کی آنکھ کھل جاتی ہے ، وہ خواب دیکھ رہا ہو تا ہے۔

(س) کوئی ایسی یاد جو دکھی کر دیتی ہو؟

(ج)کسی کو مظلوم کو ناحق مار کھاتے ہو ئے نہیں برداشت کرسکتا تھا، میرا ایک دوست تھا ،ہم بچپن کے دوست تھے ، وہ جاگیر دار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، میری اس سے دوستی ہمیشہ کے لیے اسی لیے ختم ہو گئی تھی جب میں نے اسے ایک غریب ہاری کے بچے پر تشدد کرتے دیکھا ۔

(س)ملک کے پرخطرحالات احساسِ عدم تحفظ.لاقانونیت ،دہشت گردی ،منافقین کے گروہ،سیاسی بازیگریاں،عوام کاجذباتی استحصال، سیاستدانوں کی بے حس خاموشی،آپ اس ضمن میں کیاکہیں گے ؟

(ج)عوامی اتحاد اجتماعی سوچ ، ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف وطن کی خدمت کے جذبے کو پروان چڑھنا چاہیے ،تب ہی حالات میں بہتری آسکتی ہے ۔

(س)جتنابھی بڑاسانحہ ہو.میڈیاکاواویلادودن بعدجھاگ کی طرح بیٹھ جاتاہے ،میڈیاکی اس پالیسی کوآپ کیاکہیں گے ؟

(ج)یقینا ، یہ سب ریٹنگ کا چکر ہے ۔ زرد صحافت ہی کہوں گا میں اسے ، خبر کو صرف خبر نہیں بلکہ ان کا کام ہے کہ وہ اسے عملی اور منتقی انجام تک بھی پہنچائیں ۔

(س)زندگی کے کٹھن شب روز کا احوال سنائیں کچھ؟

(ج)ایک وقت تھا ، میں کسی کلینک پر ڈسپنسر کی حیثیت سے کام کرتا تھا ، آج میری کلینک میں 7 ڈسپنسر کام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

(س)کسی کو آٹوگراف دیتے ھوئے سب سے زیادھ کونسا جملہ شعر یا قول لکھتے ھیں؟

(ج)خوش رہو خوش رہنے دو

(س)آپکی سب سے بڑی خواہش کیا ہے ؟

(ج)ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خو اہش پہ دم نکلے ۔

(س)محبت آپ کی نظر میں کیا ہے ؟

ا(ج)مر جذبہ ۔

(س)قریبی لوگوں کے بدلتے ہوئے رویوں پر کیا احساسات ہوتے ہیں؟

(ج)ٹھنڈی سانس بھر کے رہ جاتا ہوں۔

(س)آپ میرے پسندیدہ قلمکار ہیں-آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے -سیکھ رہا ہوں-آپ کی سلسلے وار کہانی خار زار سے آپ سے شناسائی ہوئی تھی-خار زار بہترین کہانی تھی-اس میں ایک چیز جو میں نے نوٹ کی وہ حقیقت کے بہت قریب تھی-خاص کر وڈیروں کا غریب ہاریوں پر ظلم، ناانصافی اور ان کی بہو، بیٹیوں، بہنوں کی عزت پامال کرنا وغیرہ وغیرہ- کیا آپ اندرون سندھ کی گوٹھوں میں گئے ہیں ؟ یا پھر سنے سنا? واقعات رقم کیے تھے ؟

(ج)ارے بھائی ! میں تو پیدا ہی ان کے درمیان ہوا ہواں ۔ ۔

(س)آپ کی زندگی میں ایساکوئی ناخوشگوار واقعہ جس نے آپ کو پہلی مرتبہ اپنی سوچ تبدیل کرنے کا موقع دیاہو؟

(ج)سندھ میں مظلوم ہاریوں کے ساتھ ہو نے والی زیادتیوں اور خود ساختہ رسموں پر لکھا،ان پر ہونے والا ظلم آنکھوں دیکھا ہے اسی طرح کارو کاری کے ایک ناخوشگوار آنکھوں دیکھے واقعے نے مجھے لکھنے پر اکسایا۔

(س)حال ہی میں آپ کا ایک سلسلہ فلسطین کے بارے میں شائع ہوا (سودائے جنوں)چند اقساط میں ایک نا آموز ادیب ہونے کے باوجود میرا خیال ہے کہ آپ کو وہ کسی وجہ سے سمیٹنا پڑا حالاں کہ اس کا کینوس بہت وسیع تھا آخر وہ وجہ کیا تھی؟

(ج)جی ہاں ”سودائے جنوں “بہت پسند کیاجارہاتھا، میں اسے آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتاتھا، مگر ۔ ؟

(س)اسی ”مگر “کے لیے تو یہ سوال پوچھا ہے؟۔

(ج)مگر ایسا نہ ہو سکاکیونکہ ۔۔

(س)فلسطین اورکشمیرکے موضوعات کے بعداب کس پرلکھناچاہیں گے ؟مثلاً برماکے مظالم ،شام میں ظلم وبربریت؟

(ج)ہاں ! میری بڑی خواہش ہے کہ میں برما کے مسلمانوں پر ہو نے والے مظالم پر لکھوں ، لیکن ، ایسی تحریریں مخصوص پلیٹ فارم اور ہوم ورک کے بعد ہی لکھی جاتی ہیں ،تاکہ اس کی حقیقت کہانی میں کہانی نہ بن جائے ،ممکن ہے آ

پ آوارہ گرد میں اس کی جھلک عنقریب ملاحظہ فرمائیں

(س)آپکی ایک کہانی پربہت زیادہ تنقیدبرائے تنقیدہوئی ؟

(ج)میں فقط اتناہی کہوں گا کہ بسا اوقات تنقید کے پیچھے دوسرے عواملکارفرما ہو تے ہیں ، کمال تو یہ ہے کہ اس ” قسم ” کی تنقید کا مجھے ہی نہیں پڑھنے والوں کو بھی پتہ لگ جاتاہے کہ اس کا مقصد کیا ہیں پھر وقت نے ثابت کردیا کہ مذکورہ کہانی کیسی ہے ۔

(س)آوارہ گرد پر کچھہ لوگ تنقید کر رہے ہیں کہ بہت تیز رفتار ہے وغیرہ وغیرہ

(ج)یہ اس کہانی کا تقاضا ہے ، ورنہ انہی لوگوں کو سلو اور جمود کی شکایت ہوتی ۔یہ کہانی اس قبیل کی نہیں ہے کہ اس میں ٹھہرا لایا جائے ۔ اگرچہ میں کوشش بھی کرتا ہوں اس کی مگر نہیں ہوپاتی ۔یہ شاید اس کی ڈیمانڈ ہے ۔

(س)کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آوارہ گرد کا ہیرو شہزی اطفال گھر سے نکلا-نہ کوئی تربیت لی ، نہ فائٹ کے داو پیچ سیکھے – اچانک شوٹر بن گیا- جبکہ میرے خیال میں وقت اور حالات انسان کو بہت کچھ سکھا دیتے ہیں- آپ کیا کہتے ہیں ؟ ؟ ؟

(ج)جو چند لوگ ایسا سمجھتے ہیں ، ان پر مجھے حیرت ہی ہوتی ہے کہ وپ پھر اب تک کیا پڑھتے آئے ہیں ؟ کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ حالات انسان کا سب سے بہترین استاد ہیں ،آپ کو کو ئی گھو نسہ مارے تو کیا آپ بچا کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائیں گے ؟ شہزی اول خیر جیسے لوگوںکے ساتھ رہا ، پاور کے ہیڈکوارٹر میں تربیت لی ۔ اطفال گھر ایک جدید یتم خانے کی شکل ہے ، وہاں بھی اس نے بہت کچھ دیکھا اور سیکھا ۔ اس کے دوست اشرف وغیر ہاور استاد گگل کے ساتھ چپقلشیں ، یہ اس کی زندگی کا حصہ رہا ۔ مگر جو زیادہ فطرتا” حساس ہوتا ہے وہ خود سے بھی بہت کچھ سیکھ لیتا ہے ۔

(س)آوارہ گرد آپکی سب سے اچھی اسٹوری ہے آپکو خود اپنی کونسی کہانی اچھی لگتی ہے۔

(ج)جو آپ لوگوں کو اچھی لگے وہی اچھی لگتی ہے۔ میں ہر کہانی کو اچھا سمجھ کر ہی اس میں ڈوب کر لکھتا ہوں۔

(س)کسی شعر کے ایک فقرے کا ..فلم کے کسی ڈائیلاگ کا ضرب المثل .محاورہ .یا عام افراد کے بول چال کا حصہ بن جانا ادیب کے لیے بہت خوش قسمتی کی بات ہوتی ہے آپ کی کہانی آوارہ گرد کا ”اوخیر کاکا “ یہ مقام حاصل کر رہا ہے

(ج)اللہ کا شکر ہے جی ہاں ! آپ کی بات درست ہے ۔

(س)ایک کامیاب رائٹر کو کامیاب کونسی چیز بناتی ہے ؟

(ج)مخصوص حدود میں ان تینوں عوامل کا دخل ہے ۔ مگر تجربہ اور مطالعہ بھی اپنی جگہ ہے

(س)ادب میں کونسی چیزیں انسان کو اخلاقی بلندیوں پرلے جاتی ہے

(ج)قلم کی حرمت

(س)ادب پڑھنے کے لیے قاری کا ادبی ہونا ضروری ہے یابے ادب بندہ بھی ادب کا مطالعہ کر سکتا ہے؟

(ج)کوئی ضروری نہیں ۔

(س)ایک گروپ میں ایک قاری و لکھاری نے پوسٹ لگائی جسکا مفہوم یہ ہے کچھ شرپسند عناصر نے لکھاریوں کے دماغ پرقبضہ جما کے لکھاریوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے

(ج)بھئی میرے دماغ میں تو سبھی شرپسندوں نے قبضہ جما رکھا ہے اور یر غمال بھی ۔ ۔ شاید اسی لیے آج میں اس مقام پر کھڑا ہوں ۔ ایک ڈاکٹر ۔ ایک رائیٹر ۔ ایک خو شحال گھرانے کا سربراہ ۔ بنا نے میں اگر ان ” شرپسندوں ” کا کا م ہے تو مجھے یہ ” شرپسند ” قبول ہیں ۔ دل و جان کے ساتھ ۔

 ایک رائٹر کے لیے ویسے تو اس کے سب قارئین قابل احترام ہوتے ہیں مگر رائٹر بھی چونکہ انسان ہونے کے ناتے احساسات وجذبات کا مجموعہ ہوتا ہے اس لیے کسی قاری کا والہانہ لگاو دیکھ کر وہ اسے خصوصی عزت تو دے سکتا ہے لیکن کوئی قاری اسے یرغمال بناکر اپنی من مانی نہیں کرا سکتا۔ جو ایسا سوچتا ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہے ۔

(س)کیا آپ نے فلم یا ڈرامے لکھے یا نہیں اگر لکھے ہیں تو نام بتائیں اگر نہیں لکھے تو کیوں نہیں لکھے ؟

(ج)ڈرامے لکھنے کا ارادہ ہے ،مگر اس میں بک ہونا پڑتاہے ۔

(س) کوئی ایسا پلیٹ فارم ہوناوقت کی ضرورت ہے جہاں قاری و لکھاری مل بیٹھیں؟

(ج) لکھاری اور قاری کی ملاقاتیں ہو نی چاہیئں ، شرکت کرنے کی کو شش کروں گا ۔

(س)کیا آپ نے دیگر بہت سے رائیٹرز کی طرح کسی اور نام سے بھی لکھا ہے؟

(ج)صرف اے آر بھٹی اور اے آر راجپوت کے نام سے لکھا ، مگر بہت کم کم۔

(س) آپ کہانی کس پر لکھتے ہیں ۔؟

(ج)میں کمپیوٹریالیپ ٹاپ جس میں موقع ملے لکھتا ہوں اور کہانی ادارو ں کو ای میل کردیتاہوں۔

(س)جب آپ ایک کہانی لکھتے ہیں تو کیا مکمل کہانی آپ کے ذہن میں ہوتی ہے ؟یا آپ لکھتے جاتے ہیں اور کہانی بنتی جاتی ہے یعنی کہانی خود کو خود لکھواتی ہے ۔کیا آپ پہلے پلاٹ لکھتے ہیں ؟

(ج)میں پہلے کہانی کا ایک خاکہ بناتا ہوں ، پھر اس کے ابواب بناتا ہوں ،اور لکھتا چلا جاتا ہوں۔

(س)کہانی کو لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ کس کی پسند کو سامنے رکھنا چائیے ایڈیٹر ،قاری یا اپنی پسند پر لکھنا چائیے؟

(ج)بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے ، سب کی پسند بھی دیکھی جاتی ہے اور ایڈیٹر کی "پسند” بھی ۔

(س)اگر ہمارے پاس ایک اچھا پلاٹ ہو , کردار وغیرہ سب کچھ , ہم لکھنا چاہیں پھر بھی نا لکھ پائیں تو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے ۔

(ج)کوشش ترک نہ کریں ، ایک دن آپ لکھ لیں گے ۔

(س)کس موضوع پر کہانیاں آپ کو پسند ہیں ۔کیسا ادب وقت کی ضرورت ہے ۔

(ج)مجھے تو ہر موضوع اچھا لگتاہے ، مگر آج کے حالات کے مطا بق مجھے ایسے موضو ¿ ع اچھے لگتے ہیں جو عالمی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوں ، بہت سے قارئین نے آوارہ گرد میں یہ بات محسوس کی تھی کہ جن کی نشاندہی کی گئی تھی کہانی میں ، بعد میں وہی کچھ حققیت میں بھی نظرآیا۔

(س)ناول لکھتے ہوئے کن باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ؟؟؟

(ج)ناول کے سلسلے میں بنیادی بات اس کا فارمیٹ ہے ۔ آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں ؟ ناول کی روح کیا ہے ۔ آ ±پ کا مقصد صرف تفریح پہنچانا ہے یا کو ئی پیغام بھی ہے ، لیکن اگر آپ آگاہی کا پہلو ناول میں شامل رکھیں گے تو آپ کا ناول کبھی ناکام نہیں ہو گا ۔

(س)آپ اپنی بہترین دس کہانیوں یا ناولز بارے بالترتیب بتائیں جو سب سے زیادہ پاپولر ہوئے ۔

(ج)کتابیں علی میاں اور القریش پبلشرز لاہور سے مل سکتی ہیں، میں نے سبھی ناول اچھے ہی لکھنے کی کو شش کی ہے اور کرتا ہوں۔

(س)پ نے کوئی کتاب .کہانی دوبارہ پڑھی ہو جیسے میں نے بازیگر ،دیوتا ،گمراہ ،داستان ایمان فروشوں کی دو بار پڑھی ہیں۔

(ج)خدا کی بستی جانگلوس ، the great train robbery

(س)آپ کی کوئی ایسی کہانی جس پر سرقہ.چربہ کاپی کا الزام لگا ہو

(ج)کبھی نہیں لگا

(س)انداز بیاںسے لادیب اپنی پہچان بناتا ہے ۔آپ کے انداز بیاں میں کسی کا رنگ تو جھلکتا ہو گا ..

(ج)میرے لکھنے کا اپنا انداز ہے ، ہاں ! آج کے ادیب میر ا انداز بیاں اپناتے ہوئے نظر آئیں گے آپ کو ۔

(س)آپ کا بہت سے رسائل کے مالک ومدیران سے واسطہ رہا مدیرین بارے بتائیں آپ نے انہیں کیسا پایا ؟۔

(ج)بھئی مدیر سب ہی اچھے ملے ، انہیں اچھا کام پسند ہے اور بس ۔

(س)کیا لکھنے ،لکھا نے سے ایک درمیانہ درجے کا ادیب مالی آسودگی حاصل کر سکتا ہے ۔۔

(ج)کرسکتا ہے ، محنت اور لگن سے مالی مسائل بھی حل ہو جاتے ہیں۔

(س)کبھی آپ نے ہارر ٹاپک ٹرائی کیا ہے – ؟

(ج)ہارر بھی بہت لکھا ہے ،کھنڈر ،آخری رات ، بدروح ،ویرانہ وغیرہ میرے ناول کہانیاں ہیں۔

(س)اگر کوئی ایک دو اچھی تحریریں لکھ لے تو کیا اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس میں لکھنے کی صلاحیت موجود ہے ..

(ج)جب آپ نے کہانی لکھنے کا ارادہ باندھ لیا تو سمجھو آپ میں لکھنے کی صلاحیت ہے ،آگے آپ کی محنت ، مستقل مزاجی اور لگن پر منحصر ہے

(س)آپ کی کہانیاں کن رسائل میں مستقل شائع ہو رہی ہیں

(ج)جاسوسی ، سسپنس ،سرگزشت ، اخبار جہاں ۔نئے افق ،مسٹری میگزین، ایڈونچر ڈائجسٹ ،عمران ڈائجسٹ میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

(س)دس کتابوں کے نام بتائیں جو آپ کو ترتیب سے پسند ہوں ۔

(ج)خدا کی بستی، جانگلوس ، پریشر ککر ، ایمرجنسی ، ا ±داس نسلیں ، آوازِ دوست۔ کچرا گھر ، ایمان کا سفر ۔ لاڈ لی ۔

(س)آپکی تحریر اموشنل تاثر بہت دیتی ہے کوئی جذباتی سین آ جائے تو آپکی کہانی کا کردار حالات کو اسطرح برداشت کرتا ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔یہ میرا خیال ہے ۔میرے خیال اکثر غلط ہوتے ہیں۔

(ج)یہ حقیقت ہے کہ جب انسا ن کا جوش اور جذبہ فزوں تر ہو نے لگے تو وہ پھر اس آتش ِ جوش کے سامنے بڑی سے بڑی تکلیف برداشت کرلیتا ہے ۔

(س)بطور رایٹر آپ ہم عام لوگوں سے بہت بلند ہیں آپ ک نزدیک کونسا جذبہ زیادہ طاقتور ہے محبت یا نفرت؟۔

(ج)اپنے اپنے طور پر دونوں جذبے طاقت رکھتے ہیں ۔ فرق صرف مثبت اور منفی ،اچھے اور برے کا ہوتاہے ، لیکن محبت جاجذبہ زیادہ اثر انداز ہو تا ہے ،

(س) ہمارے ہاں محبت پر لکھنے والے محبت کو پاکیزگی سے مشروط کر دیتے ہیں۔جسم کی ہوس سے پاک محبت ہی سچی محبت ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ.انسانی فطرت میں جنس بھی شامل ہے اور محبت ہوتی بھی خوب سے خوب تر کے ساتھ ہے

(ج)جذبات کی حقیقت تخیلاتی عمل ہے ،جبکہ فطرت ایک اٹل حقیقت ہے ۔ فطرت سے منہ موڑ کر محض جذبات کے سہارے محبت میں چاشنی پیدا نہیں ہو سکتی ۔

(س)عشق کرنا چاہیے ؟یاد رہے یہاں بات عشق کی ہو رہی ہے نہ کہ محبت اور پیار کی.لائف میں خود سے عشق کیسے ضروری ہے ؟؟

(ج)خود سے عشق میں خود غرضی پروان چڑھنے کا اندیشہ ہے

(س)پزیرائی کا سب سے خوب صورت لمحہ؟

(ج)قارئین تو تنقید و تعریف کرتے ہی رہتے ہیں ، لیکن جب ایک بڑے اور کثیر الاشاعت رسالے کے ایڈیٹر نے میری ایک کہانی بہت تعریف کی، حالنکہ وہ کسی کو خاطر میں لانے والے ایڈیٹر نہیں تھے ، مگر میری پہلی ہی ایک کہانی سے وہ بہت متاثر ہوئے اور کہا کہ تم اگے چل کر بہت لکھو گے اور اچھا لکھو گے ۔یہ میری زندگی کا بہت خوبصورت لمحہ تھا

(س)ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں یا وعدے وعید کر کے ٹرخا دیتے ہیں؟

(ج)اپنی حیثیت کے مطابق کردیتاہوں

(س)آج اس مادہ پرستی کے دور میں کسی سے سچی محبت ھو سکتی ھے ۔میں جنس مخالف سے محبت کی بات کر رہا ہوں ۔؟

(ج)سچی محبت اور سچا جذبہ اور ہر دور میں سچا ہی رہتا ہے ، اور نہیں تو سمجھو وہ کبھی سچا تھا ہی نہیں ۔

(س)اپنی اچھی اور بری ایک ایک عادت بتائیں۔غصہ کس بات پر آتا ہے ۔

(ج)دوسرے کی بات پر جلدی بھروسہ کر لیتا ہوں ، غصہ جلدی آجاتا ہے ۔ جذباتی سا ہوں ، غصہ انسان کے بدل جانے پر آتا ہے ، بالخصوص مطلبی مفاد پرست لوگوں پر

(س)جھوٹ کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں اس کی تفصیل سے وضاحت کریں کہ جھوٹ ہوتا کیا ہے

(ج)جھوٹ اپنا جرم چھپانے یا کسی غلطی کو ڈھانپنے کی ایک قبیح کوشش ہے اور ناکام بھی ۔

(س)آپ کو غصہ کس بات پر آتا ہے غصے کا اظہار کیسے کرتے ہیں

(ج)غصہ انسان کے روئیوں کے بے وجہ بدلنے پر آتا ہے ، جب آتا ہے تو میں گہرے گہرے سانس لیتا ہوں

(س)آج کل ہر فرد معدے کے امراض کا شکار نظر آتا ھے ۔ اس کی وجھ کیا ھے ؟ کس طرح اپنے معدے کو تندرست رکھا جاسکتا ھے ؟

(ج)اس لیے کہ ہم دماغ کی بجائے معدے سے سوچنے کے قائل ہیں۔معدے کی تدنرستی کے لیے دہی کھانا مفید ہے

(س)میڈیکل میں کیا کوئی ایسی میڈیسن موجود ھے جس سے چار یا پانچ نمبر تک بینائی کی کمزوری کا مکمل علاج ممکن ھو؟

(ج)وٹامن اے کے کیپسول ، تھیرا گران ایم یا الٹرا ، بادام اور سونف ملا کر کھانے سے بھی نمبر کم ہوتا ہے۔

(س)جدید تحقیقات کی رو سے عورت کو مرد اور مرد کو عورت میں چینج کیا جاسکتا ھے . کیا ایسا ممکن ھے ؟ اگر ھاں تو کیسے ؟

(ج)کسی حد تک ممکن ہے مگر بعد میں پیچیدیگیاں پیدا ہو جاتی ہیں ، مریض جانبر نہیں رہتا۔

(س)اسپتال میں ہونے والا کوئی عجیب واقعہ جو آج بھی حیرت کا باعث ہو۔

(ج)پولیس سرجن کی حیثیت سے پہلی بار ایک لاش کا پوسٹ مارٹم کیاتھا۔ اور اس کے اندرونی اعضا نکالے تھے باہر ،پیٹ چیر کریہ ناقانل فراموش واقعہ ہے ۔

(س)انٹرویو دیتے ہوئے کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

(ج)اچھا محسوس کررہا ہوں ، تنگ کیوں ہوں گا بھلا، ؟ ہاں بس آپ کو کوفت ہورہی ہوگی کہ میں جواب دیر دیر سے دے رہا ہوں ۔ وجہ آپ کو معلوم ہی ہو گی ۔

(س)زندگی کیا ہے ؟

(ج)ایک مقصد ہے ،عظیم مقصد ، بے مقصد زندگی ، زندہ موت ہے ۔

(س)انسان کی کامیابی و ناکامی میں قسمت یا تقدیر کا کتنا عمل دخل ہے ۔کیا انسان جبریہ زندگی گزارنے پر مجبور ہے جیسی لکھ دی گئی ہے ۔یا قدریہ یعنی اس میں اپنی کوشش سے تبدیلی کر سکتا ہے ۔لفظ تقدیر کی مختصر تعریف

(ج)میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کا جواب وہی انسان بہتر طور ہر دے سکتاہے جو ، زندگی کے ایک طویل تلخ و شیریں تجربات سے گزرا ہوا ۔ چلیں میں اپنی مثال پیشے کیے دیتا ہوں ، میرے مطابق تقدیر تدبیر کے تابع ہے ، آپ اچھی تدبیر کریں گے آپ کو اس کا اچھا صلہ ملے گا ، اب آپ کے ذہن میں یہ سوال ابھرے گا کہ ایسے لوگوں کو بھی تو ہم نے دیکھا ہے کہ ہو بھی پوری دیانت داری اور لگن کے ساتھ محنت کرتے ہیں ،یعنی تدبیر کرتے ہیں ۔ وہ کیوں ناکام رہتے ہیں ، ممکن ہے آپ اسے قسمت کا نام دیں ، لیکن میرے نزدیک یہ اس ناکام انسا ن کی یہ دیانت دارانہ محنت ، بد قسمتی نہیں کہلائے گی ، بلکہ یہ اس کے اچھے اعمال نامے میں اضافے کا باعث بنے گی ۔ جس کا صلہ اسے آخرت میں ملے گا اور اس سے بھی یادہ ملے گا ، جس کی وہ دنیا میں توقع کی ہوء تھا ۔اس لیے تقدیر کو کوسنا جائز ہی نہیں ۔

(س) ادب میں ہیروبہادر ،نڈر،سبھی مردانہ خوبیوں کا مالک ہوتا ہے کیوں ؟

(ج)کیا اصل زندگی میں ایسا نہیں ؟ بالکل ہیں ، لیکن میر ی کئی کہا نیوں میں ڈرپوک ،سادہ فطرت اور عام انسان بھی ہیرو کے طور پر آئے ہیں ۔

(س)حقیقی زندگی میں ولن .ہی ہیرو ہوتا ہے ۔وہ جو ظلم و ستم کرتا ہے .اس کا بدلہ نہیں ملتا .ہیرو یا جس کے ساتھ ظلم ہوا ہو وہ ایسے ہی دنیا سے سدھار جاتا ہے ۔

(ج)ہاں ، میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ صرف ہیرو ہی اچھا ہو ۔ ولن میں بھی بہت سی باتیں اچھی ہو تی ہیں ،اس کا پس منظر بیان کرکے ، ہم ولن کے کردار کو بھی سبق آموز بناسکتے ہیں اور میں نے اپنی کہانیوں میں ایسا کیا بھی ہے ، جنھیں ہیرو سے زیداہ ولن کو پسند کیاگیا ، گبیل دادا اس کی مثال ہے ۔

(س)اردو فکشن کا کیا مستقبل نظر آ رہا ہے آپ کو جبکہ اردو فکشن کے بڑے بڑے نام نواب صاب کاشف زبیر، اقبال کاظمی وغیرہ ہمیں چھوڑ کر جا چکے ہیں؟۔

عا رضی طور پر خلا ضرور آتا ہے ، لیکن میں یہی کہوں گا کہ اردو فکشن کا مستقبل ہے

(س)کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک ادیب کو گروپنگ میں نہیں پڑنا چاہیے؟

(ج)سو فیصد متفق ہوں ، ایک ادیب سب کے لیے ہوتا ہے ، پھر بھلا وہ کیوں گروپنگ میں پڑھے ،لیکن یہاں یہ دیکھنے میں آیا ہے ،کہ کوئی اگر کسی وجہ سے کسی سے ناراض ہے تو وہ ادیب سے بھی ناراض ہو جاتاہے ، حالاںکہ اس میں اس بے چارے ادیب کا کیا قصور ؟ مخالفت کرنے والوں کو اپنے اختلافات اپنے تک محدود رکھنے چاہیے ،ادیبوں کو کسی صورت میں نہیں گھسیٹنا چاہیے ۔

(س) اردو ادب میں تنقید ایک اصطلاح ہے .جس میں کسی بھی تحریر کے محاسن و نقائص پر بحث کی جاتی ہے ۔بہت کم رائٹر دیکھے ہیں جو کھلے دل سے تنقید برداشت کرتے ہیں.اس کی کیا وجہ ہے ؟

(ج)اس لیے کہ انہوں نے کہا نی خود لکھی ہو تی ہے ، اور وہ لکھنا جانتے ہیں ، اور ان کے اس لکھنے کے پیچھے برسوں کی محنت اور تجربہ شامل ہوتا ہے جبکہ تنقید نگار کوئی محنت نہیں کرتا ، ناہی ایک ادیب یا شاعر کی طرح کسی تجربے سے گزرتا ہے ، ہا ں ! اصلاحی پہلو سے کی گئی تنقید بہتر ہو تی ہے ۔

(س)آگر آپ پر کوی تنقید کرے تو آپ کس طرح React کرتے ہیں؟۔

(ج)تحمل کے ساتھ جواب دینے کی کو شش کرتاہوں

(س)کوئی ایسا لمحہ جو چاہتے ہیں واپس آ جائے ..؟

جب ایک بڑے رسالے میں میری پہلی ہی کہا نی نہ صرف چھپی تھی بلکہ بہت پسند بھی کی گئی تھی اور اس سے مجھے بے حد خو شی ہوئی تھی ۔

(س)کوئی ایسا لمحہ جب آپ نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا ہو؟

(ج)اپنا محا سبہ کرتے ہوئے میں نے خود کو بہت کمزور محسوس کیا

(س)کبھی خود سے باتیں کی اگر کی تو خود سے باتیں کرنا کیسا لگتا ہے ؟

(ج)کرتا ہوں ، کبھی اپنی کہا نی کا ایک کردار بنتے ہوئے اور کبھی اپنا اآپ

(س)یہ ہمارا خیال ہے کہ طاہر مغل صاحب گاوں کے ماحول میں رزاق شاہد کوہلر صاحب پختون ماحول میں اور آپ تھر یا سندھی ماحول میں کہانیاں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔

(ج)میں ہر قسم کی کہانی لکھنے میں ایزی فیل کرتاہوں ، یہی وجہ ہے کہ میں نے ہر مزاج و ماحول کی کہانیاں لکھیں جو پسند کی گئیں ۔ بسا اوقا ت کوئی ادیب ایک موضو ع پر شہرت حاصل کرلے تو پھر وہ ا ±سی کو ہی گھسیٹتا رہتا ہے ،تب ایک وقت آتا ہے قار ی ا س سے بور ہو نے لگتے ہیں ،ہر قسم کے موضوع کو ٹچ کرنے والا ادیب کبھی قاری کی نظروں میں یکسا نیت زدہ نہیں کہلاتا، سدا بہار کہلاتا ہے ۔

(س)جب آپ کوئی کہانی شروع کرتے ہیں تو کیا مکمل کہانی آپ کے ذہن میں ہوتی ہے یا لکھتے لکھتے کہانی آگے بڑھتی جاتی ہے

(ج)کافی سے زیادہ حد تک کہانی ذہن میں ہو تی ہے ، باقی سوچ کر آئیڈاز بنا کر لکھتا جاتاہوں

(س)جب بھی کوئی رائیٹرکوئی کہانی لکھتاہے .نام نہادتنقیدنگاروں کاجم غفیرجمع ہوجاتاہے کہ نیاموضوع لکھناچاہیے .نئے موضوع سے کیامرادہے؟ جبکہ ازلی کشاکش وہی ہے ،ہابیل قابیل سے لے کرآجتک وہی قتل وغارت محبت نفرت انتقام، وہی ہیروولن ، نیاکیالکھناچاہیے ؟

(ج)عمو ما کہانی لکھنے کی رغبت لوگوں میں دیکھا دیکھی اور شوق ہوتاہے ، میرا معاملہ کچھ مختلف رہا ، میں نے ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہہاں ناانصافی ،جبر اور خودساختہ رسوم و رواج تھے ، بس !میں نے ان کے خلاف لکھنا شروع کردیا،گویا مجھے اپنے ہی ما حو ¿ل نے لکھنے پر اکسایا۔ میر ی ابتدائی کہانیاں اسی پس منظر میں تھیں ۔آپ شاید بھول رہے ہیں، میں نے تو ہمیشہ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں لکھنے پر اکسایا بھی ہے ، آج سرگزشت اور نئے افق میں نئے چھپتے ہوئے رائیٹرز اس کی مثال ہیں ۔

(س)نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جبکہ نئے لکھنے والوں پرتنقیدکی فائرنگ کردی جاتی ہے .سینئررائٹرزنئے مصنف کی تحاریرپڑھناگوارانہیں کرتے۔؟

 آپ کیاکہتے ہیں؟کچھ بڑے بڑے صرف نام کے بڑے کیوں ہوتے ہیں؟

(ج)میری سوچ یہی ہے کہ کہ نئے لکھنے والے آگے آئیں ۔ ان کا راستہ روکنا ادبی خیا نت ہے ۔ نئے لکھاریوں کو ہمت نہیں ہارنی چائیے ۔ اس معاملے میں ہمارا دور زیادہ سخت گزرا ہے ،کوئی راہنمائی نہیں کرتاتھا ہماری ۔

(س)سب رنگ ڈائجسٹ کی مقبولیت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں.سب رنگ کے بعد اس جیسا کوئی اور ڈائجسٹ منظر عام پر کیوں نہیں آ سکا؟اور سب رنگ بند کیوں ہوا؟۔

(ج)مجھے اس کا واقعی کچھ خاص علم نہیں، البتہ اس سلسلے میں یہ شنید ضرور رہی ہے کہ جو ٹیم شکیل زادہ صاحب کے ساتھ رہی تھی وہ رفتہ رفتہ ساتھ چھوڑنے لگے تھے ۔

(س) یہ انٹریوزماہنامہ نئے افق کے لیے کیا جا رہا ہے آپ کی کہانیاں بھی نئے افق میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ نئے افق اردو ادب کے افق پر چمک جائے اس کے لیے مالکان کو کون سی تجویزات دیں گے آپ؟۔

(ج)منجھے ہوئے ادیبوں سے لکھوانے کے علاوہ ، کچھ تبدیلیاں لائیں، مثلاً کچھ سیکشن مخصوص کہانیوں کے لیے مختص کریں ۔؟

(س)نئے افق میں آپ نے کتنی کہانیاں لکھیں ۔

(ج)نئے افق میں بھی میں نے بہت سی کہانیاں لکھیں ہیں ، ایک سلسلے وار ناول صحرا گرد لکھا ،جو بہت مقبول ہوا ۔ ۔ ۔

(س)ایک ادیب کیسے اس معاشرے کی اصلاح کر سکتا ہے ۔۔

(ج)اپنی تحریروں کے مثبت نفس مضمون کے ذریعے

(س)کیا کبھی یہ احساس ہوا کہ آپ کے لکھنے سے معاشرے اور لوگوں میں کچھ تبدیلی پیدا ہورہی ہے ؟

(ج)تبدیلی کے عمل کو لانا ایک اجتماعی معاملہ ہے ۔ جو وقت کے ساتھ ساتھ ہی یہ احساس دلاتاہے کہ ان کے اجتماعی عمل سے مثبت تبدیلی آئی ہے یا نہیں ،ہاں ایک لکھنے والا اسی ا ±مید اور عزم سے لکھتا ضرور ہے ،جس کے مطمع نگاہ یہ امر ہو کہ اس کی تحریرسے کسی کو اچھا سبق ملے اور وہ اس کا نہ صرف اچھا تاثر لے بلکہ عملی زندگی میں بھی وہ اس کا نمونہ پیش کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک اکائی کی صورت تبدیلی کی طرف ایک قدم بڑھا چکاہے ، اس لیے اچھی اور نیک ا ±مید پر تائیدِ غیبی بھی مدد کرتی ہے ۔

(س)ادب کیا ہے ؟ موجودہ دور میں ادیب کا کیا مقام ہے ؟ اس معاشرے میں ادیب کو کن کن مشکلات کا سامنا ہے ؟

درحقیقت علم ادب سے مقصود اس کا ثمرہ ہے ، اور علم ادب کاثمر اردو اسلوب کے مطابق فن نثرونظم میں مہارت کانام ہے ،ادب کے معنی اصل میں بلانے اور دعوت دینے کے ہیں (عربی طرزوانداز واسلوب کے مطابق)ادب کو بھی ادب اسلئے کہتے ہیں کہ وہ لوگوں کو بہتراوصاف و اخلاق کی دعوت دیتا ہے ،لیکن اب اس میں اخلاق اور کمرشل ازم دونوں شامل ہو چکے ہیں ۔ادب ایک شعور اور آگاہی کا نام ہے ، ہمارے معاشرے میں ادیب کا مقام محدود ہے ، مشکلات کے بارے میں سچ کہوں گا کہ مجھے نہیں پتہ ۔

(س)عموما دیکھا گیا ہے انسانی المیوں پر لکھا جانے والا ادب ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ادب کسی المیہ کا محتاج ہے ؟

(ج)المیہ کسی بھی نوعیت کا ہو وہ انسانی جذبات و احساسات پر اثر پذٰیر ہوتا ہی ہے ، مگر یہ کہناکہ کہ ادب کو مقبول ہونے کے لیے کسی المیے کی محتاجی ہے ،غلط ہے ، طربیہ بھی ادب نے بھی شہرت حاصل کی ہے ۔

(س)عربی ادب پوری دنیامیں جانا ماناجاتاہے ،اور تعلیمی نصاب میں بھی شامل ہے _اسکی وجہ کلام منظوم ومنثورمیں انکی مہارت کے ساتھہ ساتھہ یہ بھی ہے کہ وہ ادب میں زیادہ تر اپنی تاریخ کا ذکر کرتے ہیں اردو میں ایسا کیوں نہیں؟۔ہمارے ہاں تاریخ کو خشک مضبون سمجھا جاتا ہے۔

 (ج)اردو ادب میں تاریخ کو خشک موضوع سمجھاجاتاہے _اورلوگ تاریخ پڑھنے سے کنی کتراتے ہیں_

اسکی وجہ اردو میں تاریخ کو مخصوص اور محدود کرکے پیش کیاگیا ہے ، آسان لفظوں میں سمجھ لیں کہ تاریخ کو صرف تاریخ کے ” طالب علموں ” کے لیے پیش کیاگیا ہے عام قاری کو جان کاری پہنچانے کا مقصد کم ہی ملحوظ رکھاگیاہے ، یہی سبب ہے کہ تاریخ کو اردو میں صرف "مخصوص ” افراد کا حلقہ ہی شوق سے پڑھتا ہے ، باقی لوگوں کے لیے یہ خشک موضوع ہو گیاہے۔

 (س)اردو ادب کے ٹھیکداروں نے اردو فکشن کو وہ مقام نہیں دیا جو اردو فکشن کا حق بنتا ہے .آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہے ..کیا فکشن کا معیار ہی اس پائے کا نہیں تھا کہ کسی نوٹس میں آتا یا پھر کوئی اور وجہ ہے ؟

 (ج)اردو فکشن کو سب رنگ نے عروج دیا اور خو ب دیا، جہاں اردو ادب کے جغادر ادیبوں کی کہانیوں کا انتخاب ہی نہیں بلکہ ان کے طویل ناول بھی چھپتے رہے ہیں ، شوکت صدیقی کا جانگلوس اس کی مثال ہے ، اس کے بعد جاسوسی سسپنس ، نیارخ ،نئے افق اور مسٹری ایڈونچر اور بہت سے ڈائجسٹوں کی بھرمار نے ان "ٹھیکیداروں کو پریشان کردیا۔ ۔ ۔۔ کیون کہ خو د ان کا اپنا یہ حال تھا کہ ان کے ادبی جریدے ادب کے طالب علموں تک محدود تھے اور کو ئی نہیں انہیں خریدتاتھا۔ یا پھران کی سرکیولیشن اعزازی کاپیوں تک محدود رہتی تھی۔ جبکہ فکشن کو ادب کا قاری بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھا کرتاتھا۔ ۔ ۔ یہ ایک ” ادبی منا فقت ” تھی ۔ ان ٹھیکداروں کا تو یہ حال تھا کہ یہ لوگ آپس میں چندہ کرکے ادبی نشستوں کا انعقاد کیاکرتے تھے ، جو زیادہ چندہ دیتا ، نشست میں اس کی کہانی یا غزل کی زیادہ تعریف کردی ۔ باقی اردو فکشن میں اعلی ادب پیش ہوتارہا ہے ۔ ۔ ۔شکیل عاد ل زادہ ، جبار تو قیر ،نواب صاحب ، اظہر کلیم ، ایم اے راحت ، پرویز بلگرامی ،انوار صدیقی ، شکیل انجم ، محمود احمد مودی اقلیم علیم، احمد اقبال ، اقبال کاظمی ،ابو ضیا اقبال ،ناہید سلطا نہ اختر ، اقبال پاریکھ ،اثر نعمانی ۔ ۔ ۔ ۔مشتاق احمد قریشی، علیم الحق حقی ،غلام قادر ،طاہر جاوید مغل ،کاشف زبیر ، ان سب نے نہ صرف اعلی ٰپائے کا ادب پیش کیا،بلکہ اردو کے قاریئن کو ” بھاگنے ” نہیں دیا ۔ وہ ان کی تحیریروں کے سحر میں جکڑے رہے ، یہی ان کی کامیابی کی سند ہے تو بھلا پھر انہیں ان ” ٹھیکیداروں ” سے سند لینے کی کیا ضرورت تھی ؟؟انہوں نے تو ابن صفی جیسے عظیم ناول نگار کو بھی تسلیم نہیں کیا ، جن کی تحر یروں نے چاردانگ تہلکہ مچا رکھاتھا۔

(س)ڈائجسٹس کا آج کل وہ معیار نہیں رہا جو آج سے پانچ سات سال پہلے ہوتا تھا.آپ کی نگاہ میں ڈائجسٹ مالکان کو اپنے اس رویہ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کہ نہیں؟

(ج).بہت سارے ڈائجسٹس نے تو منجھے ہوئے رائٹرز کو معاوضہ دے کر لکھوانے کی بجائے نو آموز لکھاریوں سے سچ بیانیاں ٹائپ کہانیاں لکھوانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے .مانا کی نو آموز رائٹرز کی حوصلہ افزائی ہو مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ڈائجسٹس کے معیار کا ہی خیال نہ رکھا جائے ڈائجسٹوں میں آج بھی معیاری لکھاجارہا ہے ، فرق ہماری سوچ کا ہو گیا ہے ، پہلے قاری جنو نیوں کی طرح ڈائجسٹ لے کر بیٹھ جاتے تھے ، اور رات سے صبح تک مسلسل پڑھتے رہتے تھے ، لیکن اب و ہ جلد بازی کرتے ہیں ، اس لیے کہ اب انہوں نے انٹر نیٹ پر بھی بیٹھنا ہو تا ہے ، اسمارٹ فون پر واٹس اپ چیٹینگ بھی کرنا ہو تا ہے ،یوں وہ سرسری انداز میں مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں کیامزہ اآئے گا تاہم اس میں فکشن رائیٹروں کا قحط الرجال کا بھی دخل ہے ۔ کچھ تو ویسے ہی نہیں رہے ، کچھ کو بھاری معاوضہ دینا پڑرہاتھا ، ا ±نہیں گھر بیٹھا دیا گیا ۔ (ان میں ،میں بھی شامل ہوں ، جاسوسی سسپنس میں لکھنے سے پہلے میں دیگر ڈئجسٹوں میں لکھتا تھا ،اور تب تک لکھتا رہا جب تک وہ میرا معاوضہ "برداشت” کرتے رہے ۔ ۔ پھر انہوں نے نوآموز اور قارئین قسم کے رائیٹروں سے لکھوانا شروع کردیا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ڈائجسٹ ہی بند ہو نے لگے ، ڈائیجسٹوں پر کاروباری پوائنٹ آف ویو غالب آنے لگا ،اگر چہ ڈائجسٹ کمرشل چیز ہے ، سرمایہ اس کی مجبوری ہے ، مگر ، اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ پرانے اور منجھے ہوئے لکھاریوں کو محض اس لیے نظر اندا کردیں کہ انہیں بھاری معاضہ دینا پڑتا ہے ، (جاسوسی سسپنس اور سرگزشت میں اس امر کاخیال رکھا جاتا ہے اور یہی سبب ہے کہ وہ آج بھی میعاری اور اچھا فکشن پیش کررہا ہے ) بے شک نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی ہونا چہایے ، کیوں کہ ہم بھی تو کبھی نوآموز تھے ، لیکن اس کے لیے یہی روایت ہوتی تھی کہ ان کا سیکشن الگ ہوا کرتا تھا اور پرانے منجھے ہوئے رائیٹروں کا سیکشن الگ ۔ جیسا کہ آج کل سرگزشت میں ہوتا ہے ۔اس کے بعد انوا ر علیگی (اخبار جہاں) سید انور فراز ، اقلیم علیم اور پرویز بلگرامی کی مہربانیوں سے میں پھر ابھرا ) معاوضے کی بات کرنا ممکن ہے کسی کو بری لگی ہو ، مگر میں حقیقت کو نہیں چھپاتا ، چاہے میرے ہی متعلق کیوں نہ ہو ، بھاری معاوضے کا مقصد لالچ نہیں اپنی اہمیت بھی ہوتا تھا ، لیکن بیشتر ادیب ایسے تھے ، جن کی روزی روٹی ہی لکھنا لکھانا رہی ہے ۔

(س آپ کی اب تک کی شائع ہونے والی کتابوں کے نام اور ان کی سن اشاعت ۔کہانیوں کے مجموعے ۔ان کے نام ۔اور یہ کہ سب کتابیں کہاں سے مل سکتی ہیں

(ج)کہانیوں کے مجموعے گردش ، (سماجی کہانیاں )اپریل 2002میں المجاہد پبلشر نے گوجرانوالہ سے چھاپاتھا۔ پراسرار کہانیوں کے مجموعے ” وریرانہ اور آخری رات القریش پبلیشر لاہور 2005میں چھپے ، خارزار 2007،بدروح 2007بے پتوار 2005علی میاں پبلشرلاہور میں چھپے ، کھنڈر پراسرار ناول 2005 جاں فروش 2006قیدی 2008،زنجیر 2007کرب 2006 آخری بساط 2005،برگ خزاں 2006،زرد چاند 2006ایندھن 2005،القریش پبلیشر لاہور ۔ چاہ تمنا اور کٹھ پتلیاں 2015،باغِگل 2001،کمین گاہ ،کالازار 2003،حصار، 200،کراچی اردو بازار پبلشرز ، صحراگرد جیلانی پبلشر اوردو بازار کراچی،خوبصورت چڑیل ،سکھر پبلشر ، گورکھ ہل کی حویلی ، حیدراآباد پبلشر

(س)آپ اپنے ایک دن کی روٹین بتائیں صبح بیدار ہوئے سب سے پہلے کون سا کام کرتے ہیں۔کیا نماز پنچ گانہ ادا کرتے ہیں .

(ج)روٹین کا کیا بتاں بھائی ! جو صبح سے میری ” د ڑکی ” لگتی ہے ، وہ نو بجے سے رات تین بجے ختم ہوتی ہے ۔ صبح ایک سرکاری ہاسپٹل میں جاب ، پھر دوپہر کو دو گھنٹے کا قیلو لہ ، اس کے بعد پرائیوٹ کلینک ، رات کو واپسی ،پھر کمپوٹر پر سٹوری رائیٹنگ ۔نماز پڑھتا ہوں ، جتنی پڑھ پاتا ہوں ،

(س)میری کافی عرصہ سے خواہش تھی کہ آپ کاانٹریو کرنے کی ۔اللہ کا شکر ہے پوری ہوئی۔میں آپ کا بے حد مشکور ہوں جو آپ نے اتنا قیمتی وقت نکالا ۔کڑوے کسیلے سوالات سنے اور ان کے جواب دئیے ۔آپ کی قدر ہمارے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے ۔اللہ آپ کو خوش رکھے اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے ۔آپ یوں ادب کی خدمت کرتے رہیں ۔

(ج)آپ کا بھی شکریہ ۔اچھا دوستو! میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا، میں عارضی طور پر (فیس بک پر )آن ہوا تھا ، انتہائی معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ میر ی کچھ مجبوریاں ہیں ، اسی لیے میں یہاں سوشل میڈیا میں نہیں رہ سکتا ۔اسی لیے میں نے اب تک کوئی پوسٹ ہی نہیں لگائی ، امید ہے آپ اس بات کو دل پر نہیں لیں گے،آپ کی محبتوں کامشکور رہوں گا ۔ ، اللہ آپ سب کو خوش رکھے (آمین) ہاں جن کے پاس میرا فون نمبر ہے وہ مجھ سے بلاجھجھک کسی بھی وقت بات کرسکتے ہیں ۔

 ٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو ادب کانواب! …محمد یاسین صدیق

(70 )کی دہائی سے 2016تک ۔ادب کے فلک پرچمکنے والا۔سورج۔بالاخرموت کے افق میں غروب ہوگیا۔زمیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے