سر ورق / کہانی / خوبصورت مہرہ۔۔ سید بدر سعید

خوبصورت مہرہ۔۔ سید بدر سعید

خوبصورت مہرہ

میں نے اپنی صحافت کا آغاز ڈائجسٹ اور پھر مقامی اخبارات کی رپورٹنگ سے کیا ہے۔ ایک عرصہ تک میں چھوٹے اخبارات کے موٹے سیٹھوں سے الجھتا رہا۔ ایک کے بعد دوسرے اخبار میں ملازمت کرنے کے اس سفر میں مجھے مقامی صحافیوں کے مسائل کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔اسی طرح دو دو صفحات کے ڈمی اخبارات نکالنے والوں کے کاروباری دھندوں کے بارے میں بھی اتنا کچھ جان گیا کہ اس پر الگ سے کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ چھوٹے اخبارات کے صحافیوں کی مجبوریوں اور مالکان کےلئے بلیک میلنگ کرنے کا یہ منظر نامہ کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ ایک عرصہ تک انہی اخبارات میں دھکے کھانے کے بعد میرے صحافتی کیرئر کا دوسرا مرحلہ شروع ہو گیا۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک نسبتاً بڑے اور قومی اخبار میں مجھے ملازمت مل گئی۔ اس اخبار کو صفحہ اول کے اخبار میں تو شمار نہیں کیاجا سکتا لیکن بہرحال بی کیٹگری کے اخبارات میں شامل تھا۔ میں نے چند ماہ کام کیا اور پھر وہاں سے بھی جواب مل گیا۔ میں نے غلطی سے ایک ایسی کمپنی کے خلاف خبر فائل کر دی تھی جس میں اخبار کے مالک کی شراکت داری تھی۔ بدقسمتی سے یہ خبر نیوز روم میں بھی نہ پکڑی جا سکی اور جوں کی توں شائع ہو گئی۔ اگلے روز میں حسب معمول سیٹی بجاتا ہوا دفتر آیا تو ہماری شوخ ریسپشنسٹ نے مسکراتے ہوئے مجھے ٹرمینیشن لیٹر تھما دیا۔ اس کے پاس میرے بارے میں واضح احکامات تھے کہ اب مجھے پلازے کی سیڑھیاں چڑھ کر دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے اصل وجہ تو اگلے روز ایک صحافی سے معلوم ہوئی کیونکہ لیٹر میں چند روایتی جملوں کے ساتھ میری ناقص کارکردگی اور اخبار کی پالیسی کو نقصان پہنچانے کو وجہ بنایا گیا تھا ۔

اس روز اخبار کے دفتر سے باہر آ کر میں نے سڑک پار کی اور بالکل سامنے ایک اور عمارت کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اس عمارت میں تیسرے درجے کے ایک ڈمی اخبار کا دفتر تھا۔ اس اخبار کا مالک اعجاز ماضی میں میرے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔ وہ بھی کرائم رپورٹر تھا لیکن شروع سے ہی اوپر کی آمدنی پر ہاتھ صاف کرنے کا ماہر تھا۔ کچھ عرصہ رپورٹنگ کے بعد اس نے ایک سیٹھ کے پیسوں سے ڈمی اخبار شروع کر لیا جس کی پیشانی پر درج تھا کہ یہ پاکستان اور لندن سے بیک وقت شائع ہوتا ہے۔ اعجاز کا یہ اخبار صرف پولیس اور مجرموں سے متعلق تھا۔ وہ اس میں یا تو مشہور ٹاپ ٹین بدمعاشوں پر فیچر شائع کرتا اور ان کی رنگین تصاویر لگاتا یا پھر پولیس افسروں کے انٹرویو چھاپتا تھا۔ اسی طرح اس اخبار کی سبھی خبریں یا تو کرائم سے متعلقہ ہوتیں اور ان میں زیر زمین جرائم پیشہ افراد کے لڑائی جھگڑوں اور وارداتوں کا ذکر ہوتا یا پھر محکمہ پولیس کے حوالے سے خبر ہوتی تھی۔ اس اخبار کی مدد سے وہ معمولی کرائم رپورٹر سے کرائم رپورٹنگ کا بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔ شہر میں ہونے والی ہر بڑی واردات کا اسے پیشگی علم ہو چکا ہوتا۔ کون کس کی سپاری لے چکا ہے ،کس قتل میں کونسا گروہ ملوث ہے، کس پولیس افسر کا تبادلہ یا ترقی ہو گی؟ اور ایسی ہی لاتعداد خبروں کا وہ رازدان سمجھا جاتا تھا۔ بڑے مجرم اور پولیس افسر آپس کے اختلافات میں اسے ضامن بنانے لگے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ ایک خطرناک زندگی جی رہا تھا۔ اس کے متعدد تنازعات کھڑے ہو چکے تھے اور کئی ایک اس کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے تھے۔کچھ این کا ¶نٹرز کے پیچھے اس کی ذاتی لڑائی کی کہانیاں چل رہی تھیں تو کچھ پولیس افسروں کی معطلی کی وجہ بھی اسے ہی قرار دیا جاتا تھا۔

اعجاز اور میں بُرے وقتوں کے ساتھی تھے۔ اس لئے ملازمت سے جواب ملتے ہیں میں سیدھا اس کے دفتر چلا گیا۔ وہ کمپیوٹر پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا۔ کی بورڈ کے پاس ہی اس کا جرمن ساختہ پسٹل پڑا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے شرارت سے کہا : میں نے اندر کی خبریں مہیا کرنے کی فیس مقرر کر دی ہے۔ فیس جمع کرا ¶ اور دھماکے دار خبر لے جا ¶۔ میں نے سنجیدگی سے کہا: اعجاز آج خبر میرے پاس ہے۔ میرے لہجہ سے وہ چونک سا گیا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ کونسی خبر؟ اب کی بار میں ہلکا مسکرایا اور کہا مجھے حسب معمول ایک بار پھر ملازمت سے نکال دیا گیا ہے۔ میری بات سن کر اعجاز کے چہرے کا تنا ¶ ختم ہو گیا اور وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔ یار مجھے تو ڈرا ہی دیا تھا۔

میری ملازمت ختم ہوئی تو میں نے کرایہ کا فلیٹ بھی خالی کر دیا۔ میرے پاس تھوڑی سی جمع پونجی تھی جس سے میں چند ماہ ہی کرایہ دے سکتا تھا۔ اعجاز کو صورتحال کا اندازہ تھا ماضی میں ہم روم میٹ رہے تھے ۔اس کے کہنے پر میں اپنا سامان اٹھائے اس کے دفتر چلا آیا اور اس نے ایک کمرہ خالی کروا دیا۔ میں نے نئی ملازمت کےلئے دو چار جگہ سی وی بھیج دی تھی لیکن ظاہر ہے کوئی میرے لئے ملازمت ہتھیلی پر لئے تو نہیں پھر رہا تھا۔ اس میں چند ہفتے یا چند ماہ لگ ہی جانے تھے۔ اس عرصہ کے دوران میں نے وہ ساری کتب پڑھ لینے کا فیصلہ کیا جو میں خرید تو لایا تھا مگر مصروفیات کی وجہ سے اب تک پڑھ نہیں سکا تھا۔ ایک دن ممبئی انڈر ورلڈ کے ڈان دا ¶د ابراہیم کی سوانح عمری پڑھتے پڑھتے میں چونک گیا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ انڈر ورلڈ کا ڈان دنیا بھر میں جائیداد کی خریدو فروخت بھارتی فلم انڈسٹری کی مشہور ہیروئنز اور ہیروز کے ذریعے کرتا ہے۔ وہ انہیں رقم مہیا کرتا اور یہ نمبر ون اداکار اس کی پسندیدہ جگہ پر اپنے نام سے فارم ہا ¶س خرید لیتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ حکم دیتا ہے تو یہ جائیداد فروخت کر کے رقم اور منافع اس کے کارندے کو دے دیا جاتا ہے ۔ اتفاق سے اعجاز اس وقت اپنے دفتر میں ہی تھا۔ میں نے اسے کہا: یار کیا پاکستان میں بھی فلمی دنیا سے منسلک لوگ مجرموں کی بلیک منی کو ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اعجاز نے سر ہلاتے ہوئے کہا: بالکل، یہاں بھی رئیل اسٹیٹ کے بزنس سے لے کر رقم کی ترسیل تک کا کام مشہور اور خوبصورت شخصیات سے لیا جاتا ہے۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ مجھے بھی کسی ایسے فرد سے ملوائے گا جو اس دھندے میں ملوث ہو۔ اس وقت میرا مقصد کسی ایسے ”سورس“ کی تلاش تھی جو اگلی ملازمت میں مجھے خاص خبریں فراہم کر سکے۔

کچھ دن بعد اعجاز مجھے لاہور سے کچھ باہر نہر کنارے ایک وسیع فارم ہا ¶س میں لے گیا۔ ایسے فارم ہا ¶س امیرزادوں نے اپنی نجی محفلیں سجانے کے لئے بنا رکھے ہیں۔ اس شام بھی وہاں کسی تقریب کے انتظامات کئے گئے تھے۔ درختوں کے نیچے دو دو، چار چار کرسیاں رکھی گئی تھیں ایک طرف صوفے سجائے گئے تھے۔ باوردی ویٹر مشروب کے گلاس اٹھائے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔ یہ ایک بڑے سیاست دان کے بیٹے کی سالگرہ تھی جس میں اسی جیسے بگڑے ہوئے رئیس زادے نظر آ رہے تھے۔ چند ایک اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ اسی پارٹی میں اعجاز نے مجھے ایک ماڈل سے ملوایا۔ وہ ماڈل گرل تقریب میں توپراعتماد نظر آ رہی تھی لیکن مجھے محسوس ہوا کہ وہ جیسے کسی وجہ سے اعجاز سے خوفزدہ بھی ہے۔ اعجاز نے میرا ہاتھ تھاما اور ایک طرف الگ تھلگ پڑے صوفے کی طرف چل پڑا۔ ہمارے پیچھے پیچھے ماڈل بھی چلی آئی۔ وہیں لگی لپٹی رکھے بنا اعجاز نے کہا: شاہ! یہ بھی شوبز کی انہی تتلیوں میں شامل ہے جو اہم شخصیات کی رقم ادھر سے ادھر کرتی ہیں۔ اعجاز کی بات سن کر ماڈل گرل اپنے ہونٹ چبانے لگی۔ وہ کسی حد تک خوف کا شکار نظر آ رہی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ اس سے متعلق کوئی اہم خبر اعجاز کے ہاتھ لگ چکی ہے۔ ماڈل کی حالت دیکھ کر اعجاز لطف لینے لگا اور پھر چند لمحوں بعد بولا :زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ بھی صحافی ہی ہیں اور میرے رازداں بھی۔ بس تمہیں یہی باور کرانا تھا کہ تمہارا راز صرف مجھ اکیلے تک محدود نہیں ہے۔ ہماری پوری چین ہے جس میں سے کسی ایک کو بھی نقصان پہنچا تو خبر سارے میڈیا پر پھیل جائیگی۔ میری ضمانت صرف تب تک ہے جب تک میں ہوں۔

یہ نازلی سے میری پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد بھی ہمارے درمیان رابطہ رہا۔ ابتدا میںوہ بھی سمجھتی رہی کہ اعجاز نے اس کے خلاف ثبوت کی ایک کاپی مجھے بھی دی ہوئی ہے البتہ بعد میں اسے حقیقت کا علم ہو گیا۔ میں نے خود ہی اسے بتا دیا تھا کہ میرے پاس ایسا کوئی مواد نہیں ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اعجاز سے مانگا ہے۔ میں اسے اپنا مستقل سورس بنانا چاہتا تھا جس کے لئے مجھے اعتماد کی فضا قائم کرنی تھی۔ صحافت کے دوران میں نے یہی سیکھا ہے کہ سورس کو بلیک میل کر کے خبر لی جا سکتی ہے لیکن ایسی خبر کبھی بھی غلط ثابت ہو سکتی ہے اور آپ کی نیک نامی پر حرف آ جاتا ہے۔ پکی خبر ہمیشہ سورس اور صحافی کے درمیان مکمل اعتماد کا رشتہ قائم ہونے کے بعد ہی مل پاتی ہے۔ نازلی کو سچ بتانے کے بعد میں نے اس کے سامنے دونوں راستے رکھ دیئے۔ اس موقع پر اگر وہ رابطہ ختم کرنا چاہتی تو میں کبھی اسے منع نہ کرتا۔ شوبز میری فیلڈ نہیں تھی اس لئے اگر اعتماد قائم نہ ہوتا تو وہ محض ایک پٹے ہوئے مہرے سے زیادہ اہم نہ تھی۔ نازلی نے دوسرے راستے کا انتخاب کر لیا۔ وہ مجھے اہم خبروں تک رسائی دینے پر آمادہ ہو گئی۔ اس فیصلے کی وجہ نہ اس نے بتائی اور نہ ہی کبھی میں نے پوچھی۔

نازلی کی مدد سے میں نے اہم سیاسی اور کاروباری شخصیات کے چھپے ہوئے اثاثوں کا ریکارڈ جمع کرنا شروع کر دیا۔ یہ ریکارڈ بعد میں میرے بہت کام آیا۔ سیاسی سطح پر ہونے والے معاہدوں اور ملاقاتوں کے پس منظر میں انہی اثاثوں کو لنک اپ کر کے مجھے اندازہ ہو جاتا تھا کہ پس پردہ اصل گیم کیا ہے اور مجھے نیوز سٹوری کے کس اینگل پر تحقیقات کرنی چاہئے۔ بہرحال نازلی مہینے میں ایک سے دو بار بیرون ملک کا دورہ کرتی تھی۔ اس دوران بڑے مگرمچھوں کی بھاری رقم پاکستان سے باہر منتقل ہوتی رہی۔ وہ واضح طور پر منی لانڈرنگ میں ملوث تھی۔ ہمارے کرپٹ سیاستدان، بیوروکریٹس، بڑے صحافی اور بزنس مین اپنا سرمایہ غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیج رہے تھے۔ اس سارے دھندے میں حکمران جماعت کے اہم افراد بھی شامل تھے۔

حکومت بدلی تو صورتحال بھی بدلنے لگی۔ چند افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کےلئے ثبوت جمع کئے جانے لگے۔ اس کھیل میں نازلی کا الٹا چکر بھی شروع ہو گیا۔ ایک روز مخبری پر اسے ائر پورٹ سے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ اس کے پاس سے بھاری رقم برآمد کر کے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ خوبصورت ماڈل کے جیل پہنچتے ہی اوپر سے نیچے تک کھلبلی مچ گئی۔ اہم شخصیات نے فوراً جیل کے دورے شروع کر دیئے۔ ان دوروں کا اصل مقصد ماڈل گرل کا منہ بند رکھنا تھا۔ جیل میں اس کی فرمائشیں بھی پوری کی گئیں جن کا اصل مقصد اسے یہ تاثر دینا تھا کہ منہ بند رکھنے کی صورت میں اسے بچا لیا جائیگا۔ ماڈل گرل کے پاس موجود رقم کا جواز پیدا کرنے کےلئے ایک اہم سیاسی شخصیت نے ایک مہنگے پلاٹ کی فائل اس کے نام منتقل کر دی اور پھر دوبارہ ماڈل گرل کی جانب سے ایک اور شخص کے نام منتقل کروا دی گئی۔ یہ سارا کھیل راتوں رات انجام پا گیا ۔ نازلی نے پڑھائے گئے سبق کے مطابق بیان دیدیا کہ اس نے پلاٹ کی فائل بیچ کر رقم حاصل کی تھی اور قوانین سے لاعلمی کی وجہ سے رقم اس طرح باہر لیجا رہی تھی۔ ایک طرف اسے باور کرایا جا رہا تھا کہ سارا الزام اپنے سر لینے کی صورت میں گھاٹے کا سودا نہیں کرے گی بلکہ اس کے بدلے اسے نہ صرف بچا لیا جائیگا بلکہ بھاری معاوضہ بھی دیا جائیگا۔ دوسری جانب اس کے خاندان کو بھی حراساں کیا جا رہا تھا تاکہ وہ اپنے پیاروں کی زندگی کےلئے تعاون کرتی رہے۔ اس کے والد پر بھی ”نامعلوم افراد “ کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

میرے خیال میں نازلی کا باب بند ہو چکا تھا۔ گرفتاری کے بعد اس کا کیریئر بھی متاثر ہو چکا تھا۔ اعجاز کا خیال تھا کہ وہ جتنے طاقتور گروہ کے لئے کام کرتی تھی اب اس کو ہمیشہ کےلئے چپ کرا دیا جائیگا۔ بھلا کون پسند کرے گا کہ معاشرے کے عزت دار لوگ بھرے بازار میں ننگے ہوں۔ اپنی نیک نامی اور ساکھ بچانے کےلئے نازلی کو مروا دینا اس مافیا کےلئے مشکل کام نہ تھا۔ بہرحال میڈیا میں آجانے کے بعد یہ سب اتنا آسان بھی نہ رہا تھا۔ میری نازلی سے آخری ملاقات ایک پیشی کے موقع پر عدالت کے احاطے کے باہر ہوئی۔وہ وہاں بھی ملزمہ سے زیادہ ماڈل گرل ہی لگ رہی تھی ۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ عدالت کی بجائے ماڈلنگ کے لئے جا رہی ہے۔ میں نے کہا: نازلی! شارٹ کٹ کے چکر میں تم جس راستے پر چل رہی تھی بدقسمتی سے اس کا اختتام اسی منزل پر ہوتا ہے۔ ایک زخمی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آکر دم توڑ گئی۔ چند لمحوں بعد اس نے کہا: میں نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ اول تو یہ معاملہ کچھ عرصہ لٹکا رہے گا تا کہ میڈیا کی توجہ ادھر سے ہٹ جائے۔ اس کے بعد مجھے رہا کروا لیا جائیگا۔ دوسرا مجھے سزا بھی ہو گئی تو میں چند سال میں رہا ہو جا ¶ں گی۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا لیکن تب تک تمہارا کیرئر ختم ہو چکا ہو گا۔ نازلی نے اختلاف کیا اور بولی: تب ہی تو میرا اصل کیرئر شروع ہو گا۔ جس طرح اعجاز نے مجھے یقین دلا دیا تھا کہ میرے خلاف ثبوت وہ اپنے کئی خاموش ساتھیوں تک پہنچا چکا ہے اسی طرح میں بھی مافیا کو یقین دلا چکی ہوں کہ میں نے سارے ثبوت اپنے خاموش مگر اہم چاہنے والوں تک پہنچا دیئے ہیں۔ جس طرح اعجاز کو زندہ رکھنا میری مجبوری تھی اسی طرح اب مجھے بچانا مافیا کی مجبوری ہے۔ میں ان کے گلے کی وہ ہڈی بن چکی ہوں جسے نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ اب ماڈلنگ کر کے کیا کرونگی؟ اب تو ہر ماہ معقول رقم خود میرے گھر پہنچ جایا کرے گی۔ پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ پراعتماد نظر آ رہی تھی۔ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی میں رپورٹر نہ سہی لیکن میڈیا سے تعلق تو ہے نا، اعجاز جیسے صحافیوں نے صرف مجھے بلیک میل ہی نہیں کیا بلکہ دوسروں کو بلیک میل کر کے رقم حاصل کرنے کا ہنر بھی سکھا دیا ہے۔

 پولیس وین واپس جیل کی طرف چل پڑی میں اسے دور جاتا دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ خوبصورت لڑکی خطرناک ہوتی ہے لیکن جیل کی ہوا لگنے کے بعد شاید مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں بااثر یہی ماڈل گرل ہیں۔ ہماری بااثر شخصیات انہیں محض ایک مہرہ سمجھتی ہیں اور دوسری طرف خود بھی انہی کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ نازلی اس ساری کہانی میں شطرنج کے ایک مہرہ سے زیادہ کچھ نہیں تھی لیکن اس کی رہائی کے بعد ایک نئی کہانی شروع ہونے والی ہے۔ محض پیادہ کی حیثیت رکھنے والا یہ مہرہ اپنا سفر طے کر کے وزیر بن رہا تھا اور ایسے پیادے اکثر بازی الٹ بھی دیتے ہیں۔

کار لفٹر

صحافتی دنیا سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ چند بڑے صحافیوں کے علاوہ اکثریت بہت کم معاوضہ پر کام کر رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے اخبارات میں تو کئی کئی ماہ تنخواہ ہی نہیں دی جاتی۔ صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بہت سے لوگ بغیر تنخواہ کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ان کا مقصد پریس کارڈ حاصل کرنا، دوسروں پر رعب ڈالنا اور ”اوپر کی کمائی“ ہوتا ہے۔ یہی لوگ پروفیشنل صحافیوں کے لئے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ جس ملازمت کے لئے مفت کام کرنے والے یا تنخواہ کی بجائے الٹا مالکان کو رقم دینے والے لوگ لائن میں کھڑے ہوں وہاں بھلا کون بہتر تنخواہ پر ملازم رکھنا پسند کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحال صحافیوں کی اکثریت یا تو غیر قانونی ذرائع سے دولت کما رہی ہوتی ہے یا پھر ان کی معاشی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کےلئے آبائی زمینیں یا کاروبار ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اصل دولت کاروبار یا زمینوں سے حاصل کرتے ہیں اور شہرت یا طاقت صحافت سے حاصل کرتے ہیں۔ اکثر صحافی غیر ملکی خبررساں اداروں کو بھی خبریں بھیج کر ”پارٹ ٹائم“ ملازمت کر رہے ہوتے ہیں۔

یہ کہانی بھی ایک ایسے ہی صحافی سے شروع ہوئی تھی۔ جاوید میرے ساتھ رپورٹنگ سیکشن میں کام کرتا تھا اوربلاشبہ اس کی رپورٹنگ بھرپور ہوتی تھی۔ اپنے کام پر پوری توجہ دینے اور اندر کی خبر نکال لانے کے حوالے سے وہ تیزی سے اپنی پہچان بناتا جا رہا تھا۔ دوسری جانب ایماندار رپورٹر ہونے کی وجہ سے اوپر کی کمائی پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں ایک طرف اسے نڈر رپورٹر کے طور پر جانا جاتا تھا وہیں دوسری طرف اسے مالی تنگی کا بھی سامنا تھا۔ ہم دونوں اکثر پریس کلب میں بیٹھے مستقبل کے منصوبے بنایا کرتے تھے۔ ہمارا ارادہ تھا کہ کچھ پیسے جمع کر کے کسی ایسے کاروبار میں لگا دیئے جائیں جہاں سے ہر ماہ معقول منافع ملتا رہے۔ ہم نے ان دنوں مختلف کمپنیز کے شیئرز خریدنے سے لے کر مختلف کاروباری منصوبے بنائے اور پھر رد کر دیئے۔ ایک دن ہم معمول کے مطابق بیٹھے اوٹ پٹانگ منصوبے بنا رہے تھے کہ جاوید نے فیصلہ کن لہجہ میں بتایا کہ وہ سوچ چکا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ میرے پوچھنے پر اس نے تفصیل سے بتانا شروع کیا کہ وہ سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے اپنی جمع پونجی میں اضافہ کرے گا۔ اس مقصد کےلئے اس نے اپنے علاقے کے ایک موٹر مکینک سے بھی بات کر لی تھی۔ یہ تو طے تھا کہ گاڑیوں کے معاملات کا ہم دونوں کو ہی علم نہ تھا۔ یہ کام کسی ماہر کاریگر کی مدد کے بنا کرتے تو یقیناً نقصان اٹھاتے۔

جاوید چاہتا تھا کہ ہم دونوں مل کر یہ کام کریں۔ اس طرح جو منافع ملے وہ اپنے اپنے حصہ کے حساب سے بانٹ لیں۔ میں نے بھی رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ ہمارے شہر میں اتوار کے روز گاڑیوں کا اتوار بازار لگتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں صرف اتوار کا دن ہی اس کاروبار کےلئے مختص کرنا تھا۔ اس کاروبار میں ہم تین پارٹنر تھے۔ میرے اور جاوید کے ساتھ ساتھ موٹر مکینک بھی حصہ دار تھا۔ ایک اتوار ہم تینوں گاڑیوں کی مارکیٹ چلے گئے۔ سارا دن گھومتے پھرتے رہے اور سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی قیمتیں معلوم کرتے رہے ۔جتنی دیر میں ہم گاڑی کے مالک سے قیمت پوچھتے اور کچھ کم کرنے کی بات کرتے اتنی دیر میں ہمارا تیسرا پارٹنر گاڑی کا بونٹ اٹھا کر انجن کی حالت چیک کر چکا ہوتا تھا۔ اول تو وہ بونٹ نیچے کرتے ہی اپنے مخصوص انداز میں کہتا ”استاد آگے سے ہو آئیں“۔ اس کے اس جملے کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ یہ گاڑی نہیں خریدنی۔ اگر کہیں اسے انجن پسند آ جاتا تو وہ اس طرح گاڑی پر ہاتھ پھیرتا جیسے قصائی بکرے پر پھیرتا ہے۔ ہم سمجھتے کہ استاد مطمئن ہو گیا ہے لیکن وہ اچانک چلاتا استاد یہاں ڈنٹ پڑا تھا یا اس پر اصل پینٹ نہیں ہے۔

 قصہ مختصر شام تک ہم نے ایک مشترکہ گاڑی خرید لی۔ یہ اچھی حالت میں سیکنڈ ہینڈ گاڑی تھی اس کے کاغذات و ملکیت استاد کے نام پر بنوائے۔ سچی بات یہ ہے ہم صرف پیسوں میں حصہ دار تھے۔ باقی سبھی معاملات استاد کے ہاتھ میں تھے۔ یہ گاڑی لگ بھگ ایک ماہ استاد کی ورکشاپ پر کھڑی رہی اور وہ اسے استعمال کرتا رہا۔ ایک ماہ بعد گاڑی فروخت ہو گئی اور اتنا منافع بھی مل گیا جو ہم دونوں رپورٹرز کے جیب خرچ کےلئے کافی تھا۔ استاد کو بھی چسکا لگ گیا تھا۔ ایک تو اسے اضافی رقم ملنے لگی تھی دوسرا گاڑی اسی کے پاس رہتی تھی لہٰذا مارکیٹ میں اس کی ”شو“ بھی بننے لگی تھی کہ استاد نے گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔

اس کاروبار میں ہمیں مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد ایک معقول رقم مل جاتی تھی۔ آہستہ آہستہ ہماری دلچسپی اس حد تک رہ گئی کہ ہم کسی روز استاد کی ورکشاپ پر چکر لگا کر دیکھ آتے کہ اب کی بار کونسی گاڑی خریدنی ہے۔ گاڑی کی خرید و فروخت سمیت دیگر معاملات استاد کے ہی ذمہ تھے۔ ہمارے درمیان بے تکلفانہ دوستی بھی تھی۔ شاید باہمی اعتماد کے تحت ہونے والے کاروبار ایسے ہی ہوتے ہیں۔ استاد ہر بار ہمیں بتاتا کہ اس اتوار گاڑی خریدنے جانا ہے۔ گاڑی کی خرید و فروخت کے بارے میں بھی وہی بتاتا کہ اتنی قیمت مل رہی ہے جس پر اتنا منافع نکل رہا ہے۔ آخر ہم نے اسے کہہ دیا ہمیں اتنی باریکیوں کا علم نہیں ہے۔ یہ سارے فیصلے وہ خود ہی کر لیا کرے اور آخر میں ہمیں بتا دیا کرے۔ ہم نے جتنی رقم ملا کر ایک گاڑی خریدی تھی اب ایک سال بعد ہم اصل رقم سے زیادہ پیسے اسی لین دین میں کما چکے تھے۔ دوسری جانب ہم نے ادارہ بھی تبدیل کر لیا تھا۔ نئے میڈیا گروپ میں محنت بھی زیادہ کرنی پڑتی تھی لہذا اب ہماری زیادہ توجہ اسی جانب ہوتی تھی۔ ہم نے استاد سے بھی کہا کہ ہم اپنی کل رقم سے زیادہ کما چکے ہیں لہٰذا یہ سمجھ لیا جائے کہ اب یہ کام صرف استاد کا ہی ہے۔ دراصل ہمیں احساس ہونے لگا تھا کہ قسطوں میں ہی سہی لیکن اصل رقم واپس آجانے کے بعد ہمارا اس کاروبار میں حصہ نہیں بنتا ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم اس جانب نہ تو توجہ دے پا رہے تھے اور نہ ہی کسی مول تول میں بیٹھ رہے تھے۔ استاد نے ہماری اس بات کو رد کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ شروع میں ہی یہ طے ہو گیا تھا کہ لین دین استاد کرے گا اس لئے ہمارے نہ آنے سے کاروبار میں ہمارا حصہ ختم نہیں ہوتا۔ قصہ مختصر ہم نے بڑی مشکل سے استاد کو راضی کر لیا کہ وہ اب خود ہی خرید وفروخت کرے اور فی الحال ہمیں شراکت دار نہ سمجھے۔

میں اور جاوید دوبارہ فل ٹائم رپورٹر بن گئے تھے۔ استاد سے گاہے گاہے ملاقات ہو جاتی تھی۔ ایک روز معلوم ہوا کہ استاد کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔ جیسے ہی استاد کو تھانے لیجایا گیا اس کا شاگرد ہمارے پاس بھاگا چلا آیا۔ یہ خبر ہم دونوں کے لئے بھی کسی جھٹکے سے کم نہ تھی۔ استاد کی ایمانداری اور خدا خوفی کے ہم عینی شاہد تھے۔ ہم نے اس کے ساتھ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کام کیا اور اسے مکمل ایماندار پایا تھا۔ جاوید اور میں بھاگم بھاگ تھانے پہنچے تو معلوم ہوا استاد سی آئی اے والوں کے قبضے میں ہے۔ اس پر کار لفٹر یعنی گاڑی چوری کرنے والے ایک گروہ کا ساتھی ہونے کا الزام تھا۔ اتفاق سے سی آئی اے میں اس وقت تعینات ڈی ایس پی کے ساتھ ہماری اچھی دعا سلام تھی۔ ہم اس کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا استاد کی چھترول شروع ہو چکی ہے۔ بہرحال ہمارے کہنے پر عارضی طور پر چھترول روک دی گئی۔ ڈی ایس پی صاحب نے اچھے موڈ میں ملاقات کی اور چائے منگوا لی۔ ایک کیس میں میری وجہ سے ان کی مشکل آسان ہو گئی تھی۔ اسی طرح ایک بار میری سفارش پر اعلیٰ افسران نے ان کو انکوائری کیس میں بحال کر دیا تھا۔ میں تب جانتا تھا کہ انہیں پھنسایا جا رہا ہے اس لئے نہ صرف ان کی سفارش کی بلکہ افسران کو حقائق سے بھی آگاہ کیا تھا۔ تب سے ڈی ایس پی صاحب میرے حلقہ احباب میں شامل تھے۔ میرے دریافت کرنے پر انہوں نے انکشاف کیا کہ استاد چوری کی گاڑیوں کی فروخت میں ملوث ہے ۔میں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو ڈی ایس پی صاحب نے کہا استاد کا تعلق جس گینگ سے ہے اس کے ارکان نہ صرف جرم قبول کر چکے ہیں بلکہ استاد کو شناخت بھی کر چکے ہیں۔ میں نے ڈی ایس پی کو شروع سے اب تک کی ساری کہانی دُہرانے کا کہا تو ایک نئی کہانی سامنے آ گئی۔

شہر میں کچھ عرصہ سے گاڑیوں کی چوریاں عروج پر تھیں۔ اس گینگ کو گرفتار کرنے اور گاڑیوں کی چوریوں کو ختم کرنے کےلئے سی آئی اے بھی خاص متحرک تھی۔ انہی دنوں شہر سے باہر جانے والے راستے پر ایک ناکے پر پولیس اہلکاروں نے شک پڑنے پر ایک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا جو ڈرائیور نے نظرانداز کر دیا۔ ڈرائیور کے نہ رکنے پر اہلکاروں کو شک ہوا اور انہوں نے اس گاڑی کا تعاقب شروع کر دیا ۔جیسے ہی ڈرائیور اور اس کے ساتھی کو اپنے تعاقب کا علم ہوا، انہوں نے پولیس پر بے دریغ گولیاں برسانی شروع کر دیں۔ اس حملے میں پولیس موبائل کے ڈرائیور سمیت دو اہلکار بھی شہید ہو گئے۔ اس واردات کے بعد تو جیسے پورے صوبے کی پولیس کار لفٹرز کے اس گروہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگ گئی۔ سی آئی اے نے اس سلسلے میں اپنا جال بچھانا شروع کر دیا اور چارے کے طور پر کچھ لاوارث گاڑیاں بھی مختلف علاقوں میں کھڑی کر دیں۔ اس طرح ایک شخص رنگے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اس کارلفٹر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ گاڑی کے تالے کھول کر اسے سٹارٹ کرچکا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں ہی اس نے اپنی پچھلی واردات کا بھی اعتراف کر لیا اور یہ بھی بتا دیا کہ اس سے چوری شدہ گاڑیاں استاد منگواتا ہے۔ آگے یہ گاڑیاں کہاں پہنچائی جاتی ہیں اور ان کے بدلے کتنی رقم وصول کی جاتی ہے اس کا اسے علم نہیں۔ چور کے بقول استاد اسے صرف گاڑی چوری کر کے ورکشاپ تک پہنچانے کا معاوضہ دیتا ہے۔ اس سے آگے کی گیم کا چور کو علم نہ تھا۔

دوسری جانب استاد یہ تسلیم کر چکا تھا کہ اس چور سے اس نے گاڑیاں خریدی ہیں ۔پولیس نے ایک چوری شدہ گاڑی استاد کی ورکشاپ سے بھی برآمد کر لی تھی۔ اس کے علاوہ استاد نے جن افراد کو گاڑیاں فروخت کی تھیں ان میں سے دو افراد بھی پولیس کے ہاتھ لگ چکے تھے۔ انہوں نے تسلیم کر لیا تھا یہ گاڑیاں انہوں نے استاد سے ہی لی تھیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ گاڑیاں چوری کر کے فروخت کی جا رہی ہیں۔ ان گاڑیوں کے کاغذات بھی بنوائے گئے تھے لہٰذا گاڑی خریدنے والے بھی دھوکہ میں آگئے تھے۔ ان خریداروں نے بھی استاد کو شناخت کر لیا تھا اور ان کی گاڑیاں بھی چوری کی نکلی تھیں۔ چور سے لے کر خریداروں تک سبھی کے ”کھرے“ استاد کی جانب نکل رہے تھے۔ وہ ہر جانب سے گھیرے میں آچکا تھا۔ میں نے ڈی ایس پی سے اجازت لی اور اکیلے میں استاد سے ملا۔ میں نے ملاقات میں استاد کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور اسے بتایا کہ وہ اب بری طرح پھنس چکا ہے ۔اگر وہ اس سارے معاملے میں شریک جرم ہے تو بھی مجھے بتا دے میں کوشش کروں گاکہ اس کی ضمانت ہو جائے یا پھر مدعی کو جرمانہ ادا کر کے صلح کروالی جائے۔ استاد نے قسمیں کھا کر روتے ہوئے کہا کہ وہ بے گناہ ہے۔

کرائم رپورٹنگ کے دوران مجھے ہر طرح کے مجرموں سے ملنے کا موقع ملا ہے ۔یہ تجربہ مجھے اتنا بتا دیتا ہے کہ میرے سامنے رونے والے کے آنسو اصل ہیں یا وہ دھوکہ دے رہا ہے۔ اس روز استاد کی بھیگی ہوئی آنکھیں دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ اس جرم میں براہ راست ملوث نہیں ہے بلکہ اسے پھنسایا گیا ہے۔ میں نے ڈی ایس پی کو وہ وقت یاد دلایا جب اسے پھنسا کر ملازمت سے برطرف کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت بھی بظاہر سارے ثبوت اس کے خلاف جا رہے تھے۔ میں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ بے قصور تھے اسی طرح استاد بھی بے قصور ہے۔ اصل مجرم کو تلاش کریں اور ممکن ہو تو میری ضمانت پر استاد کو رہا کر دیں۔ ڈی ایس پی رضامند ہو گیا۔ ابھی استاد کیخلاف پرچہ درج نہیں ہوا تھا لہٰذا اسے رہا کر دیا گیا۔ اب میں اس کیس میں براہ راست دلچسپی لے رہا تھا۔ استاد کو گھر بھیجنے کے بعد ڈی ایس پی نے چور کو بلوایا اور اس پر تھرڈ ڈگری استعمال کرنے کا حکم دیا۔ ہم دوسرے کمرے میں تھے جبکہ ساتھ والے کمرے سے چور کے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ قصہ مختصر تھرڈ ڈگری کے ساتھ ساتھ اس چور پر نفسیاتی حملے بھی کئے گئے۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ اس نے جس طرح غیر متعلقہ بندے کو پھنسانے کی کوشش کی تھی ،وہ بے نقاب ہو گئی ہے۔ چور کو یہ بھی احساس تھا کہ وہ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ڈی ایس پی نے رعب ڈالنے کے لئے اس کے سامنے ہی ایک اہلکار سے کہا کہ یہ گینگ ہمارے جوانوں کو بھی قتل کر چکا ہے لہٰذا اوپر سے آرڈر آیا ہے کہ اگر آج ملزم نے زبان نہ کھولی تو اس کا این کا ¶نٹر کر دیا جائے۔ ملزم پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ اس نے پولیس سے مکمل تعاون کرنے کی حامی بھرتے ہوئے تحفظ کی ضمانت طلب کر لی۔ ڈی ایس پی اسے وعدہ معاف گواہ بنانے پر رضامند ہو گیا۔

گرفتار ہونے والے اس کار چور کا نام ”ٹریکر“ تھا۔ یہ اس کا لقب یا گینگ کا الاٹ شدہ نام تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ گاڑیوں کے تالے کھولنے میں مہارت کے ساتھ ساتھ خفیہ ٹریکر تلاش کر کے بند کرنے کا بھی ماہر تھا۔ میں نے ٹریکر سے پوچھا کہ اس نے اس معاملے میں ورکشاپ والے استاد کو کیوں ملوث کیا؟ مجھے حیرت اس بات پر ہوئی کہ استاد بے گناہ ہونے کے باوجود ہر معاملے میں شامل نظر آ رہا تھا۔ ٹریکر چونکہ اب کھل چکا تھا لہٰذا اس نے اپنا ایک راز ہمیں بتا دیا۔ اس کے مطابق استاد کو اسی مقصد کےلئے رکھا گیا تھا۔ ان کی زبان میں استاد محض ”مرغا“ تھا۔ انہوں نے اس پھیرے میں دس گاڑیاں چوری کی تھیں ان میں سے تین چھوٹی گاڑیوں کے جعلی کاغذ بنا کر انہوں نے یہ گاڑیاں استاد کے ہاتھ فروخت کر دیں۔ اس کا مقصد صرف یہی تھا جو اس نے گرفتار ہونے پر کیا تھا۔ گرفتاری کی صورت میں اس گینگ کے رکن اپنے گینگ کی بجائے مرغے کو پکڑوا دیتے تھے۔ وہ پولیس کو یہی بتاتے تھے کہ گاڑی چوری کےلئے ان کی خدمات اس مرغے نے لی تھیں۔ اس طرح ظاہر کیا جاتا تھا کہ اصل گینگ کا علم بھی مرغے کو ہی ہو گا اور پکڑے جانے والا تو محض دیہاڑی دار چور ہے۔

                 اب حالیہ کہانی میں ”مرغا“ استاد تھا۔ دوسری جانب اصل گروہ گرفتار ہونے والے مجرم کو رہا کروانے میں مصروف ہو جاتا تھا۔ پولیس کی توجہ بھی مرغے پر اور اس کے باقی ساتھیوں کو تلاش کرنے پر مذکور ہو چکی ہوتی تھی۔ وہ مرغے کی ضمانت کےلئے آنے والوں میں ہی اس کے ساتھیوں کو تلاش کرتے رہتے یا مضبوط کیس بنا کر سزا دلوا دیتے تھے جبکہ اصل گینگ پھر اپنی وارداتوں میں مصروف ہو جاتا تھا۔ ٹریکر نے متعدد انکشافات کئے لیکن اس گینگ کے دیگر افراد گرفتار نہ ہو سکے۔ ان کا نیٹ ورک اس طرح بنا ہوا تھا کہ ہر فرد کو صرف اپنے متعلقہ رکن کا ہی علم تھا۔ گینگ کا ماسٹر مائنڈ دور رہ کر ان کی ڈوریاں ہلاتا تھا۔ یہ بات بھی کسی طرح لیک آ ¶ٹ ہو گئی کہ ٹریکر پولیس سے مل گیا ہے۔ یقیناً ایسا کسی کالی بھیڑ کی وجہ سے ہوا تھا۔ اسی لئے اس کی ضمانت کروانے کوئی نہ آیا۔ تھوڑی سی ہیر پھیر کے بعد ٹریکر پر محض معمولی چوری کا کیس بنایا گیا اور معمولی سزا کے بعد اسے رہائی مل گئی۔ ایسا بھی ایک خاص منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔ اسے گرفتار کرنے والوں کا خیال تھا کہ اس کی رہائی کے بعد اس پر نظر رکھی جائے اور اس طرح گینگ کے باقی لوگوں تک پہنچا جائے۔

ٹریکر اس منصوبے سے لاعلم تھا۔ اسے صرف یہ بتایا گیا تھا کہ قانون سے تعاون کرنے کی وجہ سے اس کو رعایت دیتے ہوئے کار چوری کو محض چوری کے کیس میں بدلا گیا ہے۔ ٹریکر کی رہائی کے بعد بھی کوئی اس سے ملنے نہ آیا۔ چند اہلکار اس کی نگرانی پر معمور تھے لیکن تین دن بعد ہی بھرے بازار میں ایک اندھی گولی نے اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا کہ وہ اندھی گولی کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ اسے سنائپر گن کی مدد سے ٹارگٹ کیا گیا تھا۔ شاید گینگ میں اس کا کردار کسی اور کو مل گیا تھا یا پھر گینگ کے ماسٹر مائنڈ نے باقی ارکان کو سبق دیا تھا کہ پولیس سے تعاون کا انجام کیا ہوگا۔ اس واقعہ کے بعد ورکشاپ والے استاد نے گاڑیوں کی خرید وفروخت سے مکمل توبہ کر لی۔ ٹریکر کے قاتل کبھی نہ پکڑے گئے اور شہر میں آج بھی گاڑیاں چوری ہو رہی ہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خود کش بمبار۔۔۔ سید بدر سعید

خودکش بمبار                                 2008 پاکستان کے لئے خوفناک سال تھا ۔ اس سال ملک میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے