سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 25 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 25 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 25
سرگزشت کے کنوارا کنواری نمبر کا تذکرہ ہوا تو بہت سے ایسے واقعات بھی ذہن میں تازہ ہوگئے جو فراموش نہیں کیے جاسکتے، ایسا ہی ایک واقعہ پہلے صفحے کی سرگزشت سے متعلق ہے،اگرچہ اس صفحے کے لیے کنواروں کی کوئی کمی نہیں تھی ، کسی بھی مشہور شخصیت پر لکھا جاسکتا تھا لیکن ہم چاہتے تھے کہ پہلے صفحے کی سرگزشت بہت ہی دلچسپ اور کچھ تاریخی اہمیت کی حامل ہو، اس حوالے سے ہمارے ذہن میں ایک نام تھا مگر یہ ایسا نام تھا جو ہمارے لیے بھی کسی چیستاں سے کم نہیں تھا، بلاشبہ وہ ملک کی اور صحافت و ادب کی اہم شخصیت تھی مگر کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو ان کے بارے میں جانتے ہوں گے کہ وہ درحقیقت کون ہیں ، ان کا ماضی کیا ہے؟ انھوں نے ساری زندگی شادی کیوں نہیں کی؟البتہ ان کے حال سے سارا پاکستان واقف تھا، جیسے جیسے ہم نے ان کے بارے میں کھوج لگانا شروع کی ویسے ویسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، ہم نے معراج صاحب سے ذکر کیا تو وہ بھی حیران ہوئے ورنہ ایسے مشہور لوگوں کو جو ان کے ہم اثر بھی ہوں ، ان کے دفتر سے چند قدم کے فاصلے پر برسوں سے مصروف عمل ہوں،ان سے ایسی بے خبری! معراج صاحب بھی نہیں جانتے تھے کہ ان کا ماضی کیا ہے اور انھوں نے شادی کیوں نہیں کی جب کہ اس وقت تک ان کی عمر 65 سال ہوچکی تھی۔
ہمارے بہت ہی عزیز دوست جو بھائیوں کی طرح ہیں ، انور سن رائے ان دنوں ہفت روزہ اخبار جہاں سے وابستہ تھے اور ہمارے مطلوبہ صاحب بھی اسی ادارے میں فرائض انجام دے رہے تھے چناں چہ ہم نے انور سے بات کی اور ان سے پوچھا ’’یار! اس بندے کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟کبھی اس نے آپ کو اپنے ماضی کے بارے میں کچھ بتایا؟‘‘
انور نے نفی میں سر ہلایا اور کہا ’’خیریت تو ہے، تمھیں اس سے کیا کام پڑگیا ہے؟‘‘
ہم نے انور کو بتایا کہ ہم کنوارا کنواری نمبر نکال رہے ہیں اور یہ بندہ ایک ایسا یونیک قسم کا کنوارا ہے جس کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کا ماضی کیا ہے اور اس نے شادی کیوں نہیں کی؟ہم نے انور کی آنکھوں میں بھی دلچسپی کی چمک دیکھی اور موصوف نے اپنی عادت کے مطابق جلدی جلدی سر ہلانا شروع کردیا، اس کا مطلب تھا کہ انور کے اندر دلچسپی کا عنصر پیدا ہورہا ہے ورنہ موصوف کوئی الٹا سیدھا جواب دے کر ہمیں چپ کرادیتے۔
انور نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ اس کام کے لیے ضرور کوشش کریں گے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ دعا کرو کوئی ایسا موقع دستیاب ہوجائے جب یہ صاحب اپنے بارے میں کچھ بتانے پر آمادہ ہوجائیں کیوں کہ عام طور پر وہ کسی کو اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے تھے، ان کی گالیاں بھی بہت مشہور تھیں، خاصے بددماغ مشہور تھے،عام لوگ ان سے دور ہی رہتے تھے ، بہت ہی خاص خاص لوگوں سے ان کا ملنا جلنا تھا ۔
ایک روز انور دفتر آئے اور ہمارے سامنے دو صفحات رکھ دیے، ہم نے ایک نظر ڈالی اور اُچھل پڑے ، دل چاہا کہ انور کے ہاتھ چوم لیے جائیں لیکن پھر خیال آیا کہ حدود میں رہنا چاہیے، اس شخص کا کچھ پتا نہیں، کس بات سے خوش ہو اور کس بات پر دماغ خراب ہوجائے۔
سرگزشت کے آغاز کے بعد ہماری ذمے داریاں بھی بڑھ گئی تھیں اور مصروفیات بھی، مصروفیات میں سب سے اہم مسئلہ ہی یہ تھا کہ کس سے کیا لکھوایا جاسکتا ہے اور کہاں سے کون سی نادرونایاب چیز حاصل ہوسکتی ہیں، چناں چہ ہم نے اپنے حلقہ احباب میں سے بھی بہت سے نئے لوگ تلاش کیے تھے جو ڈائجسٹ سے کوئی رابطہ یا دلچسپی نہیں رکھتے تھے،انور سن رائے بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔
اس زمانے میں انور سن رائے بے روزگاری کے دن گزار رہے تھے، روزنامہ نوائے وقت سے انھوں نے جاب چھوڑ دی تھی کیوں کہ قومی اخبار کے الیاس شاکر انھیں بہت سے وعدے وعید کرکے قومی اخبار نکالنے کے لیے اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگئے تھے حالاں کہ ان کی بیگم عذرا عباس ان کے اس فیصلے سے مطمئن نہیں تھیں ، عذرا عباس بھی ایک ’’ملنگ خاتون ‘‘ہیں اور ہماری برسوں کی شناسائی کا مشاہدہ یہ ہے کہ نثری نظم کی اس شاعرہ کی وجدانی قوت غیر معمولی ہے ، وہ جس کے بارے میں اچھی رائے رکھتی ہوں ، وہ یقیناً اچھا ہوتا ہے اور جس کے بارے میں بری رائے رکھتی ہوں وہ برا ہوتا ہے، الیاس شاکر کے بارے میں عذرا کی رائے اچھی نہیں تھی اور بعد میں انور کا نوائے وقت چھوڑنے کا فیصلہ اچھا ثابت نہیں ہوا، قومی اخبار کا آغاز انور کے ہاتھوں ہوا مگر بعد میں بہت جلد ہی وہ علیحدہ ہوگئے، ان دنوں بے کا ربیٹھے تھے ، قومی اخبار کا دفتر ہماری بلڈنگ میں ہی تھا اور دفتر کے اوپر ہی دوسری منزل پر ہمارا کمرا تھا، اس لیے انور کا آنا جانا ہمارے پاس رہتا تھا، ہم نے اس موقع پر انور سے سرگزشت کے لیے کام لینے کا ارادہ کرلیا اور انھیں مختلف سیاسی شخصیات کے سوانحی انٹرویوز کرنے کا مشورہ دیا، انور نے یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا،سب سے پہلے انھوں نے بزرگ سیاست داں خواجہ خیرالدین کا طویل سوانحی انٹرویو کیا جو سرگزشت میں شائع ہوا، دوسرا ٹارگٹ انھیں پرانے بیوروکریٹ ہاشم رضا صاحب کا دیا گیا تھا، ہاشم رضا پاکستان میں ایک تاریخی کردار کی حامل شخصیت رہے ہیں، ان کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے تحریک پاکستان کو قریب سے دیکھا اور بالکل ابتدا میں وہ اور ان کے بڑے بھائی پاکستانی بیوروکریسی کے اہم ترین افراد میں شامل رہے،یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ ہاشم رضا صاحب پاکستان بننے سے پہلے شاید سانگھڑ میں یا حیدرآباد میں کمشنر تھے اور پیر صاحب پگارا کے والد پیر صبغت اللہ کی سزائے موت پر عمل درآمد ان کی موجودگی میں ہوا تھا اور وہ جانتے تھے کہ پیر صاحب شہید کو کہاں دفن کیا گیا تھا، واضح رہے کہ یہ انگریز دور کا واقعہ ہے۔
ہاشم رضا کے انٹرویو نے بڑا طول کھنچا، کئی کیسٹ ریکارڈ ہوچکے تھے لیکن یہ سوانحی انٹرویو مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، اسی دوران میں انور نے جام ساقی صاحب کا انٹرویو بھی کیا پھر اچانک انھیں روزنامہ جنگ سے بلاوا آگیا اور وہ ان کاموں کو ادھورا چھوڑ کر وہاں چلے گئے تھے ۔
ہم نے انور سے پوچھا ’’یہ کارنامہ کیسے انجام دیا؟‘‘
انور خاصے کم گو اور خاموش طبع انسان ہیں، گفتگو میں بھی اختصار پسند ہیں، انھوں نے صرف اتنا کہا ’’بس ایک روز حضرت ترنگ میں ہاتھ آگئے ، میں نے ٹیپ ریکارڈر ٹیبل پر رکھ کر غیر محسوس طور پر آن کردیا اور حضرت کو چھیڑ دیا، اس طرح تمام ضروری معلومات جو تم چاہتے تھے ، حاصل ہوگئیں۔
ہم نے کہا ’’گویا حضرت کو بعد میں بھی معلوم نہیں ہوگا کہ یہ واردات کب اور کیسے ہوئی‘‘
ہماری بات پر انور صرف مسکراکے رہ گئے۔
قارئین! آپ اب تک خاصی ذہنی کوفت برداشت کرچکے ہوں گے کیوں کہ اس اہم اور مشہور شخصیت کا نام اب تک ہماری زبان پر نہیں آیا، تھوڑا سا مزید

 

صبر کرلیں ، ہم چاہتے ہیں کہ یہ مختصر سرگزشت جو کئی اعتبار سے نہایت غیر معمولی ہے یہاں پیش کریں ، انور سن رائے نے اسے جس خوب صورت پیرائے میں لکھا ہے اس کی داد الگ ہے۔
کنوارا کلب
’’خاندانی تنازعے اور دشمنیاں، آج ہی نہیں کئی صدیوں سے پنجاب کی شناخت ہیں، اس چکر میں ایک دو یا دس بیس نہیں لاکھوں انسان اور ہزاروں خاندان تباہ ہوچکے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں لیکن جو سزا اس دشمن داری میں اس بے گناہ لڑکے کو ملی وہ بہت کم لوگوں کو ملی ہوگی، وہ دس یا بارہ سال کا ہوگا جب اسے اغوا کرلیا گیا، یہ بھی ایک خیال ہے کہ اس کی عمر اس وقت دس یا بارہ سال ہوگی کیوں کہ اسے اپنی اصل عمر یاد تو کیا معلوم ہی نہیں اور معلوم بھی کیسے ہوسکتی ہے، اس زمانے میں لوگ پڑھے لکھے کہاں ہوتے تھے اور وہ تو یوں بھی ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوا تھا، کسی ہندو گھرانے میں پیدا ہوتا تو شاید جنم پتری ہی بن جاتی اور کوئی حساب رہ جاتا، اب تو وہ ہر چیز کا حساب رکھتا ہے لیکن اب یہ تو اس کے اختیار میں نہیں تھا کہ ایک مسلمان گھرانے کے بجائے کسی ہندو گھر میں پیدا ہوجاتا کیوں کہ اس کی پیدائش سے بہت پہلے اس کے دادا، اپنے باپ دادا کا مذہب چھوڑ کر سکھ سے مسلمان ہوگئے تھے۔
اس نے ایک بار اپنے باپ سے پوچھا تھا’’ابا! میں کدوں جمیا ساں؟‘‘ اس کا باپ کیا جواب دیتا، اس نے ایک گہرا سانس لیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر یاد کرنے لگا، شاید وہ سوچ رہا ہوگا کہ اس لڑکے کے سوال کا کیا جواب دے جو شاید اس کے خاندان میں پہلی بار کسی نے کیا تھا، وہ چاہتا تو سوال کرنے والے کو ڈانٹ کر بھی چپ کراسکتا تھا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، اس نے اپنے ذہن پر پورا زور ڈالا اور آخر اس سوال کا جواب ڈھونڈ نکالا۔
’’جب سیلاب آیا تھا اور تمھارے چاچے کی بھوری بھینس کو بچہ جنے دو ماہ ہوئے تھے تو تم پیدا ہوئے تھے، یہیں چھینیہ میں‘‘۔
’’چھینہ‘‘ لاہو چھاؤنی میں ایک گاؤں تھا، بعد میں وہاں انگریزوں نے والٹن کے نام سے ہوائی اڈا تعمیر کیا اور جب ہندوستان تقسیم ہوا تو وہاں کیمپ لگائے گئے، ہندوستان سے لٹ پٹ کر آنے والے مہاجرین کے لیے عارضی رہائش کا کیمپ، اس نے اس کیمپ میں جو کام کیے اور جن تجربات سے گزرا وہ ایک الگ کہانی ہے۔
اس کو اپنے والد سے سوال کا درست جواب نہیں ملا لیکن وہ چپ ہوگیا ، وہ چپ ہوگیا لیکن مطمئن نہیں ہوا، آج بھی بچپن کا ذکر آتے ہی اسے اپنے اغوا کا واقعہ ضرور یاد آجاتا ہے۔
’’انھوں نے مجھے اغوا کیا اور ایک بیگار کیمپ میں لے گئے، صبح سے لے کر رات تک کھدائی ہوتی اور میں مٹی کی ٹوکریاں اٹھاتا، کام میں ذرا سستی ہو تو پٹائی الگ اور روٹی بھی بند، سورج چھپنے کے بعد گدھوں کو اور ہمیں ایک ساتھ ہانک کر لایا جاتا اور جانوروں کے باڑے میں ایک ساتھ باندھ دیا جاتا، ہم رات ساتھ ہی گزارتے، میں اپنے آپ میں اور ان جانوروں میں کوئی فرق محسوس نہ کرتا تھا اور کرتا بھی کیوں؟ ہم کام بھی ایک سا کرتے تھے، کھاتے بھی ایک ساتھ تھے اور بندھتے بھی ایک جگہ تھے، اسی میں ایک زمانہ گزر گیا، جب مٹی میں اور میرے جسم کے رنگ میں ہر فرق مٹ گیا تو ایک دن پولیس آئی اور ہم سب کو ہانک کر لے گئے، مجھے بھی گدھوں کو بھی اور ان کو بھی جو ہمیں ہانکتے تھے، پوچھ گچھ ہوئی اور مجھے میرے گھر پہنچادیا گیا، جب میں گھر پہنچا تو دو سال گزر چکے تھے، دو سال بعد میرے گھر والے ایک بار پھر مجھے زندہ دیکھ کر خوش ہوئے اور مجھے بھی یوں لگتا ہے جیسے میں اس روز ہی پیدا ہوا تھا لیکن اب اس بات کو بھی پچاس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔
جب میں پہلی بار امتحان میں شریک ہونے کے لیے گیا تو وہاں ایک فارم دیا گیا، اس میں اور باتوں کے علاوہ تاریخ پیدائش کا خانہ بھی تھا لیکن مجھے تو تاریخ پیدائش کا کچھ پتا ہی نہیں تھا، میں نے ساتھ والے لڑکے سے پوچھا’’تمھاری تاریخ پیدائش کیا ہے؟ اس نے حیران ہوکر میری طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا 20 جنوری 1930 ، میں نے بھی اپنے فارم پر تاریخ پیدائش کے خانے میں لکھ دیا، 20 جنوری 1930 ء ، یوں میری تاریخ پیدائش وہی ہے جو اس لڑکے کی تھی‘‘
’’لیکن آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟ آپ نے تو بڑی بھرپور زندگی گزاری اور اس زندگی کا بڑا حصہ کراچی میں گزارا پھر آپ کے سارے شوق ایسے رہے ہیں جن میں چاروں طرف عورتیں ہی عورتیں تھیں؟ لڑکیاں ہی لڑکیاں تھیں اور خاصی آزاد خیال بھی تھیں؟‘‘ کرسی پر اکڑوں بیٹھے ہوئے شاعر، ادیب، نقاد اور صحافی سے یوں ہی سرسری انداز میں پوچھا گیا۔
’’بس یار، بہت سی باتیں ہوتی ہیں، ہمارے ہاں سچ بولنے اور اعتراف کرنے کی نہ تو روایت ہے اور نہ گنجائش، اب تمھیں کیا بتاؤں، کبھی لکھوں گا اگر وقت اور حوصلے نے اجازت دی تو، ان گنت لڑکیوں اور عورتوں سے ملا ہوں، ان سے مراسم بھی رہے ہیں، ان میں کچھ تو اب بھی زندہ ہیں، پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں والی ہوگئی ہیں، کچھ بعد میں ہمارے دوستوں کی بیویاں بن گئیں، تو اب ان کے بارے میں کیا لکھوں؟ ایک سے تو ابھی حال ہی میں ملاقات ہوئی، وہ عورت بھی کمال کی ہے، جب بھی مجھ پر کوئی افتاد پڑتی ہے اس کو پتا چل جاتا ہے سو وہ آجاتی ہے، اس بار جب میں بیمار پڑا تھا تو وہ اپنی اولاد کی اولادوں کے ساتھ آگئی، کہنے لگی، میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ تم پریشان ہو، اس لیے میں آگئی ہوں، خاصی دیر تک رہی، جاتے ہوئے کہنے لگی، تم میرے گھر آؤ پھر باتیں کریں گے، یہی نہیں ہمارے پاس بہت سی تصویریں تھیں، ان تمام عورتوں کی جن سے ہم نے عشق کیے تھے اور مراسم رکھے تھے ، خود میرے نام کے سیکڑوں خط تھے، ایک دن میں اور یوسف صدیقی مرحوم عالم مستی میں تھے، میں نے یوسف صدیقی سے کہا’’یار یوسف صدیقی ان تصویروں اور خطوط کا کیا کریں؟‘‘
اس نے کہا ’’پڑے رہنے دو، تم سے کیا لیتے ہیں، یہی ہے نا کبھی ان کو دیکھ کر ماضی کے کچھ دن یاد آجاتے ہیں‘‘
میں نے کہا ’’نہیں یار‘‘ اگر ہم اچانک مر مراگئے تو ان بے چاریوں کی بڑی بدنامی ہوگی اور انھوں نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے وہ مجروح نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
’’تو پھر میں کیا کروں؟‘‘ یوسف صدیقی نے غصے سے کہا، شاید وہ اس گفتگو سے بدمزہ ہورہا تھا۔
’’یار ان کو جلادیتے ہیں؟‘‘ میں نے مشورے کے انداز میں پوچھا۔
اس نے کہا ’’ہاں، یہ ٹھیک ہے‘‘ پھر ہم ایک ایک تصویر کو دیکھتے اور جلاتے رہے، پھر ہم نے خط پڑھے، ہم ایک ایک خط کو پڑھتے اور ہنستے اور خط کو آگ میں پھینک دیتے، جب ہم آخری خط آگ میں پھینک رہے تھے تو ہم ہنس نہیں رہے تھے، دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے، ہمیں پتا ہی نہیں چلا کہ ہمارے قہقہے سسکیوں میں اور سسکیاں آہوں اور آنسوؤں میں تبدیل ہوگئیں، ہم نے ان سب لڑکیوں کو، ان نیک دل اور مہربان عورتوں کو بھلانے کے لیے آگ میں جھونک دیا لیکن ان کی یادیں آج بھی ہمارے دلوں میں سرسراتی ہیں، ان میں کچھ تو اب ہمارے لیے بہت قابل احترام ہیں کیوں کہ اب ہمارے دوستوں نے انھیں اپنی بیویاں بنالیا ہے‘‘
’’1950 میں آپ نے کنواروں کا ایک کلب قائم کیا تھا، وہ کیا چکر تھا؟‘‘ڈرتے ڈرتے پوچھا گیا کیوں کہ کسی بھی لمحے گفتگو منقطع ہوسکتی تھی۔
’’جب یہاں آئے تھے تو اس شہر کی حالت ہی کچھ اور تھی، ثقافتی نیرنگیاں اور کشادگی، اس زمانے میں ہم جتنی لڑکیوں سے ملے اور جتنی عورتوں سے باتیں کیں سب کے ساتھ مسائل تھے، دشواریاں تھیں اور اکثر کی شادیاں اس لیے نہیں ہوئی تھیں کہ ان کے والدین کے پاس اپنی بیٹیوں کو دینے کے لیے جہیز نہیں تھے تو ہم نے سوچا کہ اگر ان لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہوتیں تو ہم کیوں شادیاں کریں، اس لیے ہم نے کنواروں کا ایک کلب بنایا، یہ کلب کراچی میں بنایا گیا تھا، اس میں نجمی کارٹونسٹ (بی اے نجمی)، طفیل احمد جمالی اور دوسرے کئی لوگ شامل تھے بعد میں اس کی خبریں وغیرہ چھپیں تو ملک کے کئی دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کے کلب قائم کیے گئے، جب ہم نے یہ صورت حال دیکھی تو اس کلب کو باقاعدہ شکل دینے کا فیصلہ کیا اور کراچی میں اس کی ایڈہاک کمیٹیاں بنائیں، اس ایڈہاک کمیٹی میں طفیل احمد جمالی، بی اے نجمی، وصی مرزا، ابن نجم، محبوب اور میں شامل تھے جب کہ جمشید نوشیروان جی کو ملکی سطح پر صدارت کے لیے آمادہ کیا گیا، نوشیروان جی مشہور لیڈر اور کروڑ پتی تھے اور خود بھی غیر شادی شدہ تھے، یہ کلب 1950 ء میں نہیں 1951 ء میں بنا تھا، اس کی خبریں وغیرہ 1952 ء میں شائع ہوئیں‘‘
یہ ہیں شفیع عقیل، اس وقت اخبار جہاں کے ایڈیٹر، پنجابی کے نامور شاعر، ادیب اور دانش ور اور بہت سی کتابوں کے مصنف، ان کی عمر اب ساٹھ پینسٹھ سال سے اوپر ہے لیکن وہ چاق و چوبند ہیں اور اپنے غیر شادی شدہ رہنے کے عزم پر قائم بھی‘‘۔
شفیع عقیل صاحب کی روزنامہ جنگ اور اخبار جہاں سے طویل وابستگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،ان کا پسندیدہ ایک موضوع آرٹ بھی تھا، چناں چہ اکثر آرٹس کونسل وغیرہ میں کسی مصور کی تصویروں پر غور کرتے نظر آجاتے تھے لیکن ہماری ان سے کبھی سلام دعا بھی نہیں رہی، ہمارا خیال تھا کہ اس سرگزشت کے شائع ہونے کی انھیں شاید خبر بھی نہ ہوگی لیکن ایک روز معلوم ہوا کہ ان کی کوئی پرانی شناسا ماہنامہ سرگزشت کی مستقل قاری ہیں، اس نے یہ سرگزشت پڑھی اور پرچا لے کر شفیع عقیل صاحب کے پاس پہنچ گئیں، ان سے سوال کیا کہ آپ نے یہ سب بکواس کیوں کی ہے؟وہ بے چارے پڑھ کر بری طرح سٹ پٹائے اور قسمیں کھانے لگے کہ مجھے تو یاد ہی نہیں کہ میں نے کب اور کس سے یہ باتیں کی ہیں لیکن کی ضرور ہیں کیوں کہ کوئی بات غلط نہیں ہے’’اوئے! یہ انور فراز کون ہے؟‘‘ اچانک وہ چلّائے ، دفتر میں شاید کسی نے انھیں بتایا اور پھر گالیوں کا فوّارہ پھوٹ پڑا۔
بہر حال وہ خاتون تو ناراض ہوکر واپس چلی گئیں اور اس کے بعد شفیع صاحب کا پارہ آسمان پر پہنچ گیا اور انھوں نے اپنے دفتر میں چاروں طرف نظریں دوڑانا شروع کردیں کہ آخر ان کے ساتھ یہ واردات کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟اچھی بات یہ تھی کہ یہ کام ایسے وقت میں ہوا تھا جب دفتر میں وہ اور انور تنہا تھے، باقی تمام افراد چھٹی کرکے جاچکے تھے لہٰذا ایک طویل عرصے تک وہ بے خبر ہی رہے،البتہ وہ انور کی طرف سے مشکوک ضرور ہوگئے تھے، اس کے بعد انور نے اخبار جہاں چھوڑ دیا اور روزنامہ پبلک کراچی نکالا جو اس زمانے میں ایک کامیاب پرچا ثابت ہوا۔
مبشر علی زیدی
کنوارا کنواری نمبر میں ’’شہر خیال ‘‘پر نظر پڑی تو سو لفظوں کی کہانی سے شہرت پانے والے مبشر علی زیدی کا تبصرہ پہلے نمبر پر نظر آیا ، 1992 ء میں وہ زیر تعلیم تھے، یہ تبصرہ بھی ہم یہاں نقل کر رہے ہیں تاکہ یہ محاورہ درست ثابت ہوجائے ’’پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں‘‘
کنوارے مبشر علی زیدی کا کراچی سے تبصرہ ’’امید ہے بہ خیریت و عافیت ہوں گے، کئی ماہ کی غیر حاضری کے بعد ایک بار پھر ’’شہر خیال‘‘ کے اسمبلی ہاؤس میں شرف باریابی کی اجازت چاہتے ہیں، ماہ اگست کے حوالے سے ہمیں تو یہ امید تھی کہ اس بار یقیناً کسی قومی رہنما کے حالات زندگی پیش کیے جائیں گے لیکن اس کے بجائے افسانہ نگاروں کے امام سعادت حسن منٹو کو پاکر بھی ہم اتنے ہی خوش ہوئے، یہی وجہ ہے کہ باری صاحب کا احوال ’’گنجے فرشتے‘‘ میں پڑھ چکنے کے باوجود ہمیں دوبارہ پڑھنے میں بے حد لطف آیا لیکن ساجد امجد صاحب کی تحریر ’’گنجا فرشتہ‘‘ کی بھی اگر تعریف نہ کی جائے تو بہت زیادتی ہوگی، آفاقی صاحب کے اگلے سفر نامے کا بڑی شدت سے انتظار رہے گا، کینیڈا کے سفر نامے کی آخری قسط میں زیادہ لطف نہیں آیا اور یہ کچھ مختصر بھی رہی، البتہ قلو پطرہ ثانی اور شیطان کی نانی کے آٹھوں شوہروں کے بارے میں پڑھ کر آنکھیں کھل گئیں، کیا یہ خیرت انگیز نہیں کہ اس نا معقول درزن (ٹیلر کا یہی ترجمہ ہوگا) کے شوہر تو آٹھ تھے لیکن بچے فقط تین ہیں، عموماً دیسی اداکاراؤں کی داستان حیات پڑھ کر ہمیں کچھ خاص لطف حاصل نہیں ہوتا لہٰذا ہم نے ’’قلقل مینا‘‘ کو پڑھنے میں کوئی خاص جلدی نہیں کی (اب ہر ماہ ولایتی آپ کے لیے کہاں سے لائی جائے) سچ بیانیاں یوں تو سب ہی اچھی تھیں لیکن آپ کی آسانی کے لیے ہم کہے دیتے ہیں کہ نجات دہندہ، ایک دن کی دلہن اور تکون نسبتاً زیادہ اچھی ہیں، کنواروں کے نمبر کا پڑھ کر خوشی ہوئی، یقیناً اس میں جون آف آرک کا، عمران خان کا اور ہمارا تذکرہ ہوگا‘‘ (آپ کا تذکرہ نہ سہی، تبصرہ موجود ہے)
مبشر کرکٹ کے شوقین رہے ہیں اور اس حوالے سے انھوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی ، یقیناً عمران خان ان کے پسندیدہ کرکٹرز میں سے ایک تھے مگر عمرانی سیاست کے وہ سخت ناقد ہیں، جاسوسی ڈائجسٹ میں غالباً نومبر 1998 ء میں ان کے تبصرے کو پہلا انعام دیا گیا تو وہ خود دفتر آئے، ہم نے ان کی تحریر اور ٹیلنٹ کی تعریف کی، انھیں مشورہ دیا کہ وہ کہانیاں لکھیں، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ جاب کے لیے ہمارے پاس آئے، یہ واقعہ ایک بار وہ فیس بک پر بیان بھی کرچکے ہیں، ہمیں یاد نہیں کہ انھوں نے ہمارے ساتھ کتنا وقت گزارا ہے اور کب اور کیوں ادارہ چھوڑ دیا، ایک روز آئے تو بتایا کہ شادی ہوگئی ہے، ہمیں بڑی حیرت ہوئی اور پوچھا ’’ابھی سے، یہ کیا سوجھی؟‘‘
مبشر علی زیدی فطری طور پر بڑے شرمیلے ہیں ، ہمارے سوال پر شرماکے کیا جواب دیا، یہ ہمیں یاد نہیں رہا، پھر برسوں ملاقات نہ ہوسکی، خبریں ملتی رہتی تھیں کہ اب فلاں ادارے میں ہیں ، بالآخر روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے اور خاصا طویل عرصہ گزارنے کے بعد آخر کار امریکا سدھارے، ہم دعاگو ہیں ، جہاں رہیں خوش رہیں،فیس بک پر ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔
عقیل کی زنبیل
کنوارا کنواری نمبر کے حوالے سے اگر عزیزی عقیل عباس جعفری کی کوششوں اور کاوشوں کا ذکر نہ کیا جائے تو بڑی زیادتی ہوگی، اس خاص نمبر میں چار چاند لگانے کے لیے ان کے اقتباسات نے غیر معمولی کردار ادا کیا ، انھوں نے اپنی زنبیل سے ایسے ایسے کنوارے ڈھونڈ کر نکالے جن کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے ،اس شمارے کے لیے انھوں نے عظیم جرمن موسیقار بیتھون کے حالات زندگی بھی نہایت تفصیل سے تحریر کیے، دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ عظیم موسیقار نہ صرف یہ کہ ساری زندگی کنوارا رہا بلکہ بہرا بھی تھا چناں چہ اس کی سرگزشت کا عنوان بھی ’’بہرا موسیقار‘‘ رکھا گیا۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 23 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. واہ سر، اب وہ زمانہ ماضی ہوا جب آپ جیسے لوگ ڈائجسٹ میں جان مارتے تھے اسی لیئے آج تک یاد بھی ہیں ۔اب تو یہ عالم ہے، ایڈیٹروں کی اپنی ش ق درست نہی ۔۔ہم سسپنس جاسوسی اور سرگزشت کے پہلے شمارے سے بندھے ہیں اور آج تک یہ نشہ جاری ہے ۔..
    اس نئے سلسلے میں یقینا کئ یادیں دلکش ہونگی، انشاءالله پہلی قسط سے کل ہی ابتداء کرتے ہیں، اتفاقا یہ نظر سے گزرگئ
    خوش رہیں سر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے