سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید  قسط نمبر 2

بے رنگ پیا امجد جاوید  قسط نمبر 2

بے رنگ پیا

امجد جاوید 

قسط نمبر 2

 ساجد بہاول پور شہر سے مقامی تھا ۔ اس کے باپ کا شمار شہر کے بہترین وکیلوں میںہوتا تھا۔اچھی خاصی فیملی ہونے کے باعث سیاست میں بھی ایک نام رکھتے تھے۔ لیکن یہ سیاست گلی محلے کی سیاست تک محدود تھی ، یا پھر ایک بار اس کا والد بار کونسل کا صدر منتخب ہوا تھا ۔ وہ اپنے دو بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ جبکہ منیب ہاسٹل میں رہتا تھا۔ اس کا باپ ایک بڑے اخبار میں صحافی تھا۔بڑے شہر میں داخلہ نہیں ملا تو یہیں پر آ گیا ۔ درمیانے درجے کے خاندان سے تعلق تھا، مگر باپ کے صحافی ہونے کے باعث مقتدر حلقوں میں رسائی اچھی خاصی تھی ۔طاہرباجوہ اپنے زمیندار باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کا باپ بھی اکلوتا تھا، سو جائیداد تقسیم نہیں ہوئی تھی ۔ بلکہ اس کے باپ نے زمین بڑھائی تھی، جس کی آمدنی بے شمار تھی۔ چند برس پہلے اس کے باپ نے شہر کے پوش علاقے میں ایک بنگلہ نماکوٹھی بنائی ہوئی تھی ۔ جسے وہ ”ڈیرہ“ کہتا تھا۔ا ور یہی نام اس کے کلاس فیلو اور دوستوں میں مشہور تھا۔ کبھی کبھی جب اس کا باباسکندرحیات باجوہ شہر آتاتو یہیں رکتا۔ ورنہ وہ ہوتا اور اس کے ملازم ، ان میں دو میاں بیوی اور تیسرا چوکیدار تھا۔

 اُن کا یہ ساتھ پچھلے چار برس سے تھا۔ممکن تھا کہ منیب دو سال بعد ہی واپس چلا جاتا۔ لیکن ان میں جودوستی بن چکی تھی، اس باعث وہ ایم فل کرنے پھر آن پہنچا۔ طاہر باجوہ کوکیمپس کی ضرورت اس لئے تھی کہ اس نے اپنی سیاست کی شروعات کی ہوئی تھی ۔ کیمپس کے ان چار برسوں میں ان کی مثالی دوستی تو تھی۔ وہ تینوںکیمپس میں اکھٹے ہوتے ۔ ساجد اور منیب دونوں اس کے ہاں ”ڈیرے“ پر ہی پائے جاتے تھے۔ کلاس کے ابتدائی دنوں ہی سے ان میں ہونے والی دوستی ہو گئی تھی، جو اب تکلفات سے بھی آگے نکل گئی تھی۔ ان کے درمیان کوئی راز بھی راز نہیں رہا تھا۔

 لیکن اُس دن دونوں کے راز دارانہ روےے کے باعث طاہر کو بہت عجیب الجھن ہوئی تھی۔ یہ تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات تھی ضرور، ورنہ وہ ایسی گھٹیا سی حرکت کر نہیںسکتے تھے۔ طاہر کے خیال میں انہیں خود سمجھ نہیں آئی ہوگی کہ وہ اس کے ساتھ بات کریں کیسے؟یہ ایک حقیقت تھی کہ طاہر ان سے زیادہ دولت مند اور طاقت ور خاندان سے تعلق رکھتا تھا، ان سے زیادہ اس کی شخصیت تھی، وہ وجیہ تھا اور دولت خرچ کرنے میں شاہ خرچ تھا ۔ اسی باعث منیب اور ساجد ہمیشہ اس سے دَب کر رہے تھے ۔ دوست ہونے کے باوجود ان میں طبقاتی فرق بہر حا ل تھا۔جوکہ ہمارے معاشرے کے لاشعور تک میں راسخ ہو چکا ہے ۔

طاہرواپس ڈیرے پر آکر اپنے کمرے میں بیڈ پرلیٹ گیا۔غصہ ختم ہوجانے کے بعدوہ یہی سوچے چلا جارہا تھا کہ اپنی عزت خواہ مخواہ داﺅ پر لگا دی ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے ۔ وہاں معاملہ ہی دوسرا تھا ۔ اس نے سمجھا کہ اگر آیت کی کوئی مجبوری نہ ہوتی تو شاید حالات کچھ اور ہی طرح کے ہو جاتے ۔ یاوہ ایسی کسی لڑکی کی طرف اشارہ کر دیتا جو اس کے گلے ہی پڑ جاتی ۔ سو طرح کے حالات بن سکتے تھے ۔ ایک بار تو وہ کانپ ہی گیا۔ اسے اپنی عزت زیادہ پیاری تھی۔اس کے ہاتھوںبندہ قتل ہو جانے سے شاید اس کے بابا کو دُکھ نہ ہوتا۔ مگر ایک لڑکی کے ہاتھوں بے عزت ہوجانے پر وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو کبھی معاف نہ کرتا۔ وہ جس قدر اِن حالات کی نزاکت کو محسوس کر رہا تھا۔ اسی قدر اُسے اپنے آپ پر اور اپنے دوستوں پر غصہ آ رہاتھا۔

ایک طرف تو وہ یہ سوچے چلا جا رہا تھا ، تو دوسری طرف خود آیت کی ذات اسے سوچنے پر مجبور کر رہی تھی ۔ وہ اُسے عام لڑکیوں سے بالکل ہٹ کر لگی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اس کے حسن سے متاثر ہو گیا تھا۔ کیونکہ نہ تووہ کوئی قلو پطرہ تھی کہ جس کے لئے کسی انتھونی یا جولیس سیریز کے درمیان جنگ چھڑ جاتی۔ وہ رضیہ سلطانہ بھی نہیں تھی جو خود میدان جنگ میں نکل پڑی ہو اور اس نے طاہر کو فتح کر لیا ہو ۔ نہ ہی وہ میرا بائی تھی جسے دیکھ کر شاعری کرنے کو دل چاہئے اور کوئی سُر چھیڑنے کو من مچل جائے۔ وہ نورجہاں بھی نہیںتھی جو بیک وقت جہانگیر کے دل کو چھو لے اور حکومت کرنے والوں کے دلوں پر راج کرے۔ وہ ارجمند بانو کے جیسی بھی نہیںتھی کہ جس کی یاد میں تاج محل کھڑا کر دیا جائے۔ آیت النساءتو ایک عام سی لڑکی تھی۔ جس کے رویے نے اُسے خاص بنا دیا تھا۔

 یہ بات تو طے تھی کہ آیت النساءمیں بلا کا اعتماد تھا۔ وہ دیکھنے میںایسے لگتی تھی جیسے کسی ایلیٹ کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی ہو۔ توپھر اسے اپنی کلائی کا کنگن فروخت کرنے کی کیا سوجھی ؟ وہ اپنے گھر سے پیسے منگوا سکتی تھی۔ضرور کوئی ایسا کام ہوگا جسے وہ اپنے گھر والوں سے چھپانا چاہتی ہوگی؟ ممکن ہے وہ کوئی نشہ وغیرہ کرتی ہو۔ نشے باز اپنی فوری ضرورت کو پوراکرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ وہ کیسا نشہ کرتی ہوگی ، شراب ، چرس ، کوکین یا کوئی دوسرا مہنگانشہ، یا پھر سرے سے ایساکچھ نہ ہو ۔ ایسے ہی سوال اس کے دماغ میں گونجتے رہے اور وہ بیٹھا الجھتا رہا۔

جب وہ آیت بارے سوچ کر بھی تھک گیا تو ساجد اور منیب کا پر اسرار رویہ اس کا دماغ گھما نے لگا۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ ان کے بارے بد گمانی کرنے کو اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا مگر اس کا دل مطمئن بھی نہیں ہو رہا تھا۔ اسے سکون اسی وقت آنا تھا جب وہ اپنی اس اوٹ پٹانگ حرکت کی وجہ بتاتے۔ وہ بات کیا تھی؟ اسے چین نہیں آ رہا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے اس کی آ نکھ لگ گئی ۔

ز….ژ….ز

آیت النساءکا رکشہ بہاول پور شہر کے سب سے بڑے مہنگے اور جدید ہسپتال کے سامنے جا رُکا تھا ۔ اس نے اُتر کر کرایہ ادا کیا، رکشے میں پڑے بھرے ہوئے شاپنگ بیگ اٹھائے اور کسی طرف دیکھے بغیر ہسپتال میںداخل ہو گئی۔ وہ لابی سے ہوتے ہوئے سیدھے کاریڈرو کی جانب بڑھ گئی۔ آگے وارڈ تھا۔ وہ ایک کمرے کے سامنے جا رُکی، پھر ہلکے سے دستک دے کر اندر داخل ہوگئی۔

سامنے بیڈ پر تین چار برس کا بچہ یوں لیٹا ہوا تھا جیسے گہری نیند میں ہو۔ اس کی آ نکھیں بند تھیں اور چہرے پر پیلاہٹ پھیلی ہوئی تھی ۔ اس کے قریب ہی ایک نڈھال سی نوجوان عورت بیٹھی ہوئی تھی۔اگرچہ وہ بہت خوبصورت تھی لیکن اس کے چہرے پر پھیلا ہوا موت کا ڈر اور آ نکھوں میںخوف اُترا ہوا تھا۔ آیت النساءکے آنے پر اس کی آنکھوں میں جیسے اُمید روشن ہو گئی۔ وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ تبھی اُس نے شاپنگ بیگ ایک طرف رکھتے ہوئے پوچھا

” رابعہ کیسی طبیعت ہے سرمد کی؟“

” ویسے ہی ہے۔“ رابعہ بولی تو اس کا لہجہ تکسسکتا ہوا تھا۔ آیت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے حوصلہ افزا لہجے میںکہا

” تم اِس کی ماں ہو ، میں تمہارا دُکھ سمجھتی ہوں مگر دُکھی ہوجانے سے کچھ نہیںہوتا۔ حوصلہ کرنا پڑتا ہے ۔ فکر نہ کرو، اگر اللہ نے اس بچے کی زندگی لکھی ہے نا تو یہ تمہاری گود میں کھیلے گا ۔ پوری طرح صحت مند ہوجائے گا ۔ میں ہوں نا یہاں۔“

یہ کہتے ہوئے وہ اسی بیڈ پر بیٹھ گئی ، جس پر سرمد لیٹا ہوا تھا۔ وہ ہولے ہولے اس کا سر سہلانے لگی۔ اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پُوروں سے یوں چھونے لگی جیسے اپنی ساری محبت اس میں جذب کر دینا چاہتی ہو۔ وہ ہولے ہولے اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتی رہی ۔

” ڈاکٹر آیا تھاراﺅنڈ پر، کہہ رہا تھا ، ممکن ہے آپریشن ہو اور ….“ وہ کہتے ہوئے ایک دم سے رو دی ۔ آیت نے اپنی توجہ سرمد سے ہٹا کر رابعہ کی طرف دیکھا ۔پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر پر اُمید لہجے میںبولی

” تو پھر کیا ہے ، اگر آ پریشن ضروری ہے تو وہ کرلیں ، اس سے سر مد ٹھیک ہو جائے گا۔“

” اس کے لئے تو رقم کی….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت نے مسکراتے ہوئے بڑے تحمل سے کہا

” میںنے کہا نا کہ فکر نہ کرو، یہ ذہن میںبٹھا لو کہ سرمد کے لئے دولت کی کمی نہیں ہے۔“ یہ کہہ کر اس نے پرس میں ہاتھ ڈالا اور اس میں سارے نوٹ نکال کر اس کے سامنے کر دئیے۔ پھر بولی،” یہ معمولی سی رقم کچھ بھی نہیں ہے۔ میں سرمد کے لئے دولت کے انبار لگا دوں۔“

” آیت۔! تم میرے لئے فرشتہ ثابت ہوئی ہو۔“رابعہ نے احسان مندی سے کہا، اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کا لہجہ بھیگا ہوا تھا ۔ آیت نے اس کی طرف دیکھا اور عجیب سے لہجے میں حسرت سے بولی

” میں کہاں اور فرشتہ ہونا کہاں۔ میں انسان ہی رہوں تو اچھا ہے ، خیر۔! ان باتوں کو چھوڑو۔ میں ڈاکٹر سے ملتی ہوں، بات کرتی ہوں ان سے آپریشن کے بارے میں ۔“

” ٹھیک ہے۔“ رابعہ نے آہستہ سے کہا اور بیڈ کے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی۔آیت نے وہ سارے نوٹ واپس بیگ میں رکھے اور باہر کی طرف چل دی۔ اس کا رخ ڈاکٹر کے کمرے کی طرف تھا۔

ڈاکٹر سے ملنے کے لئے اسے وقت لگا۔تاہم کچھ دیر بعد اس کی ملاقات ہو گئی۔ سرمد کے بارے میں بتا کر اس نے کہا

” ڈاکٹر۔! آپ سرمد کے آپریشن کے بارے میںکیا کہتے ہیں، کیا وہ بہت ضروری ہے؟“

” جی ، میرا مشورہ بھی یہی ہے اور ہمارے ماہر ترین ڈاکٹرز کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ ٹیومر ابھی بالکل ابتدائی سطح پر ہے۔ اس کا وقتی حل تو یہی ہے ادویات دے دی جائیں، یہ ٹھیک تو ہو جائے گا ۔لیکن اگر اس کا آپریشن ہو جائے تو پھر اس کا امکان بالکل ختم ہو جائے گا۔“

” لیکن میرا خیال کچھ دوسرا ہے ۔“ آیت نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تو ڈاکٹر نے اس کی طرف غور سے دیکھا، پھر نہ سمجھ آنے والے انداز میں پوچھا

” میں سمجھا نہیں، آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔“

” مجھے یقین ہے کہ اسے کوئی ٹیومر وغیرہ نہیں ہوسکتا اور نہ ہے، اس لئے آپ ماہر ترین ڈاکٹر کی خدمات ایک بار پھر سے لے لیں اور دوبارہ تشخیص کرلیں۔“ اس نے پورے اعتماد سے کہا توڈاکٹر نے اس کی بات کا برا منائے بغیر پوچھا

”دوسرے لفظوں میں آپ کو ہماری تشخیص پر بھروسہ نہیں ؟ ‘ ‘

” میںنے یہ نہیں کہا کہ آپ کی تشخیص غلط ہے۔بلکہ میںیہ کہہ رہی ہوں کہ ماہرترین ڈاکٹرز اگردوبارہ دیکھ لیں تو کیا حرج ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسے ٹیومر وغیرہ نہیں ہو سکتا۔“ آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔لیکن اس کے لئے بہت زیادہ اخراجات ہوں گے ۔ میں تو کنسلٹ کر لوں گا۔“ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا

” آپ فکر نہ کریں،میں ابتدائی رقم جمع کروا دیتی ہوں، اخراجات جو بھی ہوں، اس کی آپ فکر مت کریں لیکن یہ کب تک ممکن ہو گا؟“ اس نے پوچھا توڈاکٹر نے کہا

”کل شام تک ہی ہو سکے گا۔“

” کل شام تک مطلب؟“ اس نے پوچھا

” دراصل بات یہ ہے کہ کل دوپہر سے پہلے ہی ہمارے سینئر ترین ڈاکٹر عثمان لندن سے آ رہے ہیں، چونکہ یہ نازک آپریشن ہے، اس لئے ہم پہلے ہی ان کا مشورہ ضرور لینا چاہتے ہیں اور یہ آپریشن بھی وہی کریں گے ۔ لیکن اب آپ نے کہا کہ تشخیص ہی دوبارہ ہو نی چاہئے تو وہ آ جائیں، تب تک دوسرے ماہر ڈاکٹر سے بھی کنسلٹ کر لیتے ہیں۔ “ ڈاکٹر نے بتایا تو وہ خود کلامی کے سے انداز میں بولی

”ہاں ، یہ تشخیص ہو جانی چاہئے کیونکہ مجھے یقین ہے آپریشن کی نوبت ہی نہیںآ ئے گی ۔“

”چلیں وہ تو سب ٹھیک ہے ، ہم اور ڈاکٹر عثمان مل کر دیکھ لیں گے لیکن آپ ایک بات بتائیں۔“ ڈاکٹر نے دلچسپی سے پوچھا تو آیت نے سنجیدگی سے کہا

” جی ڈاکٹر پوچھیں۔“

”آپ کے اس یقین کی وجہ کیا ہے؟“ اس نے پوچھا

” میں جانتی ہوں لیکن…. میں یہ بات بالکل اسی طرح آپ کو نہیں سمجھا پاﺅں گی ، جس طرح میں آپ کی بات میڈکل ٹرمز میں نہیں سمجھ سکتی ہوں۔یوں ہم ایک دوسرے کی بات نہیںسمجھ پائیں گے۔ “ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

” عجیب بات ہے، کچھ نہ کچھ تو بنیاد ہوگی ؟“ڈاکٹر نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا تو آیت چند لمحے خاموش رہی، جسے تذبذب میں ہو کہ بتائے یانہیں بتائے ، پھر دھیمے لہجے میں سنجیدگی سے کہا

” عشق ، اورمقامِ عشق۔“

 ”اوکے۔“ ڈاکٹر نے یوں کہا جیسے اسے جواب پسند نہ آیا ہو ۔ پھر فوراً ہی بولا،“ڈونٹ وری مس، ہم کرتے ہیں، کل شام تک مکمل رپورٹ مل جائے گی، آپریشن یا پھر جو بھی صورت حال ہو گی ۔“ ڈاکٹر نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا

” ٹھیک ہے ،شکریہ ڈاکٹر۔“ آیت نے کہا اور وہاں سے نکل کر سیدھے کاﺅنٹر پر جا کر سرمد کے حوالے سے رقم جمع کروا کے رسید لے لی۔

وہ پلٹ کر رابعہ کے کمرے میں آگئی ۔ سر مد ویسے ہی آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا۔ آیت النساءنے رابعہ کی طرف دیکھا اور رسید اس کی طرف بڑھا کر بولی

” یہ لو رسید، میں نے کچھ پیسے جمع کروا دئیے ہیں۔“ یہ کہہ کر اس نے دوبارہ تشخیص کے بارے میں بتادیا۔یہ سنتے ہی رابعہ کے چہرے پر زندگی دوڑ گئی ۔ اس نے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں آنسو لئے،کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ رسید پکڑ لی۔

” تمہارا بہت شکریہ، میں….“ اس نے کہنا چاہا توآیت کسی انجان جذبے کے تحت بڑے جذب سے بولی

” خدا کے لئے رابعہ ، ایسا مت کہو،یہ میرا فرض ہے اور اس بارے مجھے کسی فارمیلٹی کی ضرورت نہیں، تمہاری بھی نہیں۔ “

اس کے یوں کہنے پر رابعہ خاموش رہی ۔پھر دھیمے سے لہجے میں بولی

” ٹھیک ہے ۔“

 ” اگر تم چاہو تو کچھ دیر کے لئے گھر جا کر واپس آ سکتی ہو؟“ آیت النساءنے اسے کہا

” نہیں، میں نے کہاں جانا ہے۔“ رابعہ نے تیزی سے انتہائی زہریلے لہجے میںانکار کر دیا۔

” اوکے۔! تو پھر تم ایسا کرو، کچھ دیر آرام کر لو، پھر ساری رات تمہیں جاگنا ہوگا۔“

” ٹھیک ہے میں سو جاتی ہوں۔“ رابعہ نے مطمئن لہجے میں کہا اور کمرے میںپڑے دوسرے بیڈ پر لیٹ گئی۔

آیت النسائ، سرمد کے سرہانے پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس نے سرمد کے چہرے پر دیکھا اور پھر اس کی نگاہیں وہیں جم گئیں ۔بالکل وقارحسین کے جیسا چہرہ تھا۔ اپنے باپ پر گیا تھا سرمد۔ وہی آ نکھیں، ویسا ہی تیکھا ناک ، وہی لب، چہرہ اور بال، سب اسی کے جیسا تھا۔ بچپن میں وقار حسین بھی ایسا ہی لگتا ہوگا؟ یہی سوچ کر اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان پھیل گئی۔ اسے لگا جیسے وقار حسین کی مہک اس کے چاروں طرف پھیل گئی ہے ۔ اس نے وقار حسین کی موجودگی کو محسوس کرنے کے لئے آ نکھیں بند کر لیں ۔ اسے لگا وہ اس کے آس پاس کہیں بول رہا ہے ۔ اسے محسوس کر رہا ہے ۔ وہ خود میں سمٹ رہی تھی ۔وہ ایک نئی دنیا میں تھی ۔ شاید یہ لمحات کچھ طویل ہوتے۔ دروازے پر دستک ہوئی اور اِس کے ساتھ ہی نرس اندر آ گئی۔ وہ اندر آ کر ایک کارڈ اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی

” مس ،یہ سرمد کا بلڈ گروپ کارڈ ہے ، کل آپریشن کے وقت بلڈ کی بھی ضرورت ہوگی۔ آ پ پلیز اس کا بندو بست کرلیں۔“

” اوکے ، ہو جائے گا۔“ آیت نے کارڈ پکڑلیا۔ نرس سرمد کو دیکھنے لگی۔ آہٹ سے رابعہ کی بھی آنکھ کھل گئی تھی۔ نرس کے جانے کے بعد اس نے کہا

” اب یہ خون کا بندوبست….“

” ہو جائے گا، تم پریشان نہ ہو۔ مجھے صرف یہ بتاﺅ، کیا رات کے وقت تمہارا بھائی آ جائے گا؟“ آیت نے پوچھا تو اس نے بے چارگی سے کہا

” ہاں ، کہہ تو رہا تھا کہ آ جائے گا۔“

” اوکے! پھر ٹھیک ہے ۔ اگر نہ آئے تو مجھے فون کر کے بتادینا، ورنہ میں کل صبح ہی آسکوںگی۔مجھے خون کا انتظام بھی کرنا ہے۔“آیت نے کہا اور اٹھ گئی۔ اس نے اپنے بیگ میںہاتھ ڈالا، تھوڑے سے نوٹ تھے ۔اس نے دو چار نوٹ رکھ کر باقی سب اس نے رابعہ کی طرف بڑھا دئیے۔

” میں نے کیا کرنے ہیں، تم خرچ کر رہی ہو نا۔“ رابعہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا

” اسے رکھو، ضرورت پڑ سکتی۔ یہ بھی تھوڑے ہیں، ابھی تو صرف ابتدائی رقم دی ہے، پیسوں کی ضرورت تو اب شروع ہوئی ہے۔ لیکن تم اس کی فکر نہ کرنا، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“آیت نے پوری سنجیدگی سے کہا پھر رُکے بغیر تیزی سے باہر نکلتی چلی گئی۔

وہ فرید گیٹ پر یونیورسٹی کے بس سٹاپ پر پہنچی توبس جانے کو تیار تھی۔ وہ اس میںبیٹھ گئی۔ سورج ڈھل چکا تھا ، جب وہ گرلز ہاسٹل کے گیٹ کے سامنے اُتری۔وہ تیزی سے چلتی ہوئی دوسری منزل کے اس کمرے تک جا پہنچی جہاں وہ کل دوپہر سے آکر ٹھہری ہوئی تھی۔ دروازہ کھول کر جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی سامنے امبرین کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔ دونوںگلے ملیں تو آیت نے پوچھا

 ” کب پہنچیں؟“

” ابھی کچھ دیر پہلے۔“ امبرین نے ایک طرف بیڈ پر بیٹھتے ہو ئے کہا

” پیسے لائی ہو؟“ اس نے دوسرے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے تیزی سے پوچھا توامبرین نے نفی میںسر ہلاتے ہوئے جواب دیا

” نہیں، مجھے انہوں نے دئیے ہی نہیں۔“

” مطلب ؟“ آیت نے نہ سمجھنے والے انداز میں یوں پوچھا، جیسے اسے بہت دُکھ ہوا ہو ۔

”میں گئی تھی تمہارے دادا جی کے آ فس میں۔ وہ تو تمہیں پتہ ہے کہ لاہور میں نہیں ہیں۔ مینیجر سے جا کر میں نے بات کی تو اس نے سوری کہہ دیا کہ آج تو نہیں دے سکتے۔ اکاﺅنٹ نمبر دے دو، اس میں کل ٹرانسفر ہو جائیں گے۔ میں پھر آ گئی۔“ امبرین نے تفصیل بتا دی۔

” مجھے معلوم ہے، کل بھی پیسے نہیں آ ئیں گے ۔ “ آیت نے یوں کہا جیسے وہ امبرین کو بتانے کی بجائے خود کو سنا رہی ہو۔

” دیکھو! اگر تمہیں یہاں پیسوں کی ضرورت ہے تو میں تمہیں دے دیتی ہوں ۔ میںگھر سے لائی ہوں“ امبرین نے تیزی سے کہا

” تو پھر تم کیا کرو گی۔ اور وہ تمہارا خرچ تو اتنا سا ہے کہ اس میں کچھ نہیں ہوگا۔“ وہ افسوس زدہ لہجے میںبولی پھر چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد بولی،” خیر تم میرا ایک کام کرو۔ مجھے بلڈ کی ضر و ر ت ہوگی، یہ بلڈ گروپ ہے ۔ “ اس نے کارڈ بڑ ھا تے ہوئے کہا تو امبرین نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا، پھر اسی حیرانگی میں پوچھا

” آیت ۔! تم لاہور سے اتنی افراتفری میںیہاں کس مقصد کے لئے آئی ہو؟ خون کی کسے ضرورت ہے؟ اور اتنا پیسہ…. یہ سب کیا ہے آیت، میں سمجھی نہیں؟“

یہ سن کر آیت چند لمحے اس کے چہرے پر دیکھتی رہی، پھر ایک طویل سانس یوں لی جیسے خود پر قابو پا رہی ہو ۔ امبرین اس کے چہرے پر بدلتے ہوئے رنگ دیکھ رہی تھی۔ کتنے ہی لمحے یوں خاموشی میں گذر گئے ۔ تب آیت دھیمے سے لہجے میں بولی

” وقار حسین کا بیٹا سرمد بیمار ہے۔ ڈاکٹر اُسے برین ٹیومر بتا رہے ہیں۔ ڈاکٹر زکا خیال ہے کہ….“

” وقار حسین۔! وہ تو….اُس کا بیٹا…. تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ ….کیا تمہارا اس کی بیوی سے رابطہ ہوا ہے؟ وہ تو …. “ امبرین کی حیرت آخری حدوں کو چھونے لگی تھی ۔ وہ ایک دم ہی سے گڑ بڑا گئی تھی ۔اسے لگا جیسے آیت اسے کسی دوسری دنیا کی باتیں بتا رہی ہے۔ ایسی انہونی باتیں جن پر یقین ہی نہیںکیا جاسکتا تھا ۔وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے آیت کو دیکھ رہی تھی۔

” ہاں امبرین۔! میرا وقار حسین کی بیوی رابعہ سے رابطہ ہے۔ کل صبح مجھے پتہ چلا کہ سرمد کو سرکاری ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ تب مجھ سے رہا نہیں گیا۔میں نے فوراً بس پکڑی اور یہاں آ گئی۔ میں سیدھی سرکاری ہسپتال میں گئی ۔ رابعہ سے حالات سنے تو مجھے لگا کہ یہاں سرمد کا علاج نہیںہوسکتا۔ میںنے اسے یہاں کے سب سے مہنگے نجی ہسپتال میں داخل کروا دیا۔“

” تم نے تومیرے ساتھ کل شام رابطہ کیا تھا نا؟ تب تم یہاں تھیں، مطلب یہاںبہاول پورمیں ہی ؟ “ امبرین نے وضاحت چاہی۔

” ہاں۔! میں یہیں تھی ۔میں وہاں رابعہ کے ساتھ ہسپتال میں نہیں ٹھہر سکتی تھی۔ مجھے رات بھی تو گذارنا تھی ۔میرے ذہن میں تھا کہ تم یہاں ہو ، اس لئے تم سے رابطہ کیا ،لیکن تم لاہور میں تھی۔“ آیت نے یوں کہا جیسے یہ کوئی پرابلم نہ ہو ۔

” یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوا؟“ امبرین نے ایک طویل سانس لے کر پوچھا

” نہیں، تمہاری روم میٹ بہت اچھی ہے ۔ کہاں ہے وہ؟“ آیت نے بتاتے ہوئے پوچھا

” وہ دوسرے کمرے میں چلی گئی ہے ۔خیر تم بتا رہی تھی کہ….“ وہ کہتے ہوئے رُک گئی

” میں یہاں آتے ہوئے اپنے ساتھ کچھ رقم لے آئی تھی ۔یہاں آ کر احساس ہوا کہ وہ رقم تو بہت تھوڑی ہے اسی لئے تمہیں زحمت دی کہ آتے ہوئے لے آنا۔ میں نے فون کیا تھا۔ مگر تمہیں پتہ ہے منیجر کا…. لیکن مجھے احساس ہو گیا تھا کہ دادو نہیں ہیں نا تو وہ اتنی زیادہ رقم نہیں دے گا ، خیر …. ‘ ‘ آیت نے تلخی سے کہا

”اب کیا صورت حال ہے؟“ اس نے پوچھا

” ڈاکٹر کہہ رہی ہیں کہ کل سرمد کا آپریشن ہوگا۔ اس لئے تم یہ بلڈ ….“

” وہ ہو جائے گا۔ میرا یہی بلڈ گروپ ہے میں دے دوں گی۔ایک دو کو مزید تیار کر لیتی ہوں۔ فکر نہ کرو۔ تم فریش ہو جاﺅ، پھر کھانا کھاتے ہیں۔“ امبرین نے اسے حوصلہ دیا تو وہ پر سکون ہو گئی۔پھر فریش ہونے کے لئے اٹھ گئی ۔

امبرین لاہور سے یہاں پڑھنے کے لئے آ ئی ہوئی تھی ۔ وہاں اسے داخلہ نہیںملا، یہاںمل گیا تھا۔ وہ آیت کی کلاس فیلو نورین کی چھوٹی بہن تھی ۔ نورین کی شادی ہوگئی تھی اور وہ بیاہ کر برطانیہ چلی گئی تھی ۔نورین ہی اس کی واحد سہیلی تھی،جس سے وہ اپنے سارے راز و نیاز کہتی تھی۔امبرین بھی چونکہ ان کے بڑے کلوز تھی ۔ اس لئے وہ بھی ان کے بارے میںسب جانتی تھی۔ ان دونوں کے گھر والے بھی ان کی دوستی کی وجہ سے ایک دوسرے کو جانتے تھے ۔ یوں امبرین نے جب یہ سنا کہ آیت یہاں پر کیوں ہے اور کس وجہ سے ہے ،یہ سن کر اسے شاک لگا تھا۔وہ حیران تھی کہ وہ وقار کے بیٹے کے لئے یہاں ہے ۔ ایسا اس نے کیوں کیا؟ یہ سوال اس کے دماغ میں مچلنے لگا، اس سوال کا جواب اسے تبھی ملتا، جب اسے سرمد کی طرف سے سکون ملتا۔ ابھی آیت خودبے سکون تھی ۔

ز….ژ….ز

دن کا پہلا پہر گذر چکا تھا۔ طاہر کینٹین پر تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ساجد اور منیب دونوں ہی ”ڈیرے “ پر نہیں آئے تھے ۔ جس سے طاہر کو یقین ہو گیا تھا کہ ان کے پاس کہنے کے لئے کوئی بات نہیںتھی ۔ ورنہ وہ ضرور آتے ۔ اسے ان دونوں پر بے تحاشا غصہ آ رہا تھا۔ وہ اس دن یونیورسٹی آیا ہی اس لئے تھا کہ ان پر اپنا غصہ نکال سکے ۔لیکن وہ اب بھی اسے کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔

 وہیں کینٹین پر بیٹھے اس کی ذہنی رُو بھٹکتی رہی ۔ ایسے میں سوچ کی لہرآیت کی یاد کو شعور کے ساحل پر بہا کر لے لائی ۔ وہ اُس کے بارے میںبھی یونہی بلا ارادہ سو چتا چلا گیا۔وہ بھی کیا تھی ؟ اسے اتنی بڑی بے عزتی سے بچا لیا ۔ اگر کوئی بھی لڑکی اسے جھاڑ دیتی تو اب تک منیب اور ساجداسے نجانے کتنا ذلیل کر چکے ہوتے ۔ وہ بات تو نہ جانے کہاں رہ جاتی ، جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔ اسے لگا ، جیسے اس نے کنگن کی قیمت نہیں دی بلکہ اگر وہ اس سے کہیں زیادہ دولت مانگ لیتی تو اس عزت افزائی کے عوض دے دیتا۔ یہ رقم اسے انتہائی معمولی لگی تھی ۔ اسے یہ پوری طرح احساس تھا کہ وہ اس وقت انتہائی جذباتی ہو کر سوچ رہا ہے لیکن جس وقت وہ اپنے باپ کی جاہ و حشمت کو سوچتا ،تب مزیدیہ احساس ابھرتا،اگرپورے علاقے میں یہ بات پھیل جاتی۔ سردار سکندر حیات باجوہ کا بیٹا کسی لڑکی کو چھیڑتے ہوئے بے عزت ہو گیا، وہ کانپ کر رہ جاتا۔وہ اسی کشمکش بھری گہری سوچ میںتھا کہ ایک بھر ابھرا کانچ کے جیسی انگلیوں والا ہاتھ اس کی آ نکھوں کے سامنے لہرایا۔ وہ ہڑبڑا گیا۔ اس نے دیکھا، سامنے آیت کھڑی مسکرا رہی تھی ۔

” آپ روزانہ اتنے بجے ہی یہاں آ کر بیٹھ جاتے ہیں؟ پڑھتے وڑھتے نہیں، کلاس نہیں لیتے ؟ “ اس نے خوش دلی سے پوچھاتو طاہر مسکراتے ہوئے بولا

” پلیز ، بیٹھیں۔“وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی تووہ بولا،” اتنے سوالوں کے جواب تو اطمینان سے بیٹھ کر ہی دئیے جا سکتے ہیںنا۔“

” کیا ہیں جواب ؟“ اس نے مسکاتے ہوئے اس کے چہرے پر دیکھ کر پوچھا

”میں روزانہ اتنے ہی بجے یہاں نہیںآتا، پڑھنے میں دل نہیں لگتا، جو پڑھنا تھا ،سو پڑھ لیا ۔ کلاس اب نہیںہوتی ، تھیسس چل رہا ہے، جو میں نے پیسے دے کر کسی سے لکھوا لیاہے ، اس لئے اب سکون ہے ۔“ اس نے یوں کہا جیسے کوئی بڑا کارنامہ کر لیا ہو ۔ آیت نے اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیںکیا، ایک دو لمحے سوچ کر بولی

” آ ج ناشتہ نہیں کرواﺅ گے ؟“

” کیا پسند کریں گی آپ ؟“ اس نے پوچھا

” وہی، جو یہاں کا بیسٹ ہے؟“ اس نے بھنویں اُچکاتے ہوئے عام سے لہجے میںکہا

” اوکے ۔“ طاہر نے سر ہلاتے ہوئے یوںکہا جیسے وہ ایسی ہی کوئی توقع کر رہا ہو ۔ وہ اٹھا اور آرڈر دینے خود کاﺅنٹر تک چلا گیا۔

دونوں ناشتہ کر چکے تو آیت نے چائے کاخالی کپ میز پر رکھتے ہوئے کہا

” طاہر ۔! اگرمیں یہ کہوں کہ کل کی طرح آج بھی مجھے کسی جیولر کے پاس لے چلو تو کیا تم مجھے لے جاﺅگے، میں تمہاری بہت ممنون ہوں گی ، لیکن اس پہلے والے جیولرکے پاس نہیں، کسی دوسرے کے پاس جانا ہوگا۔“

” کیا بیچنا ہے ؟“ اس نے آیت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا تو آیت نے اپنا بھرا بھرا کانچ کی انگلیوں کے جیسا دایاںہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا

” یہ انگوٹھی بیچنی ہے ۔ہیرے کی ہے ، ذرا مہنگی ہے ۔اس لئے کسی بڑے جیولر….“

” کتنے کی ہوگی ؟“ طاہر نے پوچھا تو آیت اس کی طرف چند لمحوں تک دیکھتی رہی پھر دھیمے سے لہجے میں بولی

” یہ تو جیولر ہی بتا پائے گا نا۔“

” اندازہ ؟“ اس نے اصرارکرتے ہوئے کہا

” مجھے نہیں پتہ ۔“ اس نے حتمی لہجے میںکہا

” اوکے ، چلیں پھر ۔“ طاہر نے کہا تو آیت کاندھے اُچکاتے ہوئے اس کے ساتھ چل دی ۔ وہ دونوں چلتے ہوئے پارک تک گئے اور کار میں بیٹھ کر چل دئیے ۔

اس بار وہ ایک نئے اور بڑے جیولر کے پاس گئے تھے ۔ کاونٹر کے پار بیٹھے جواں سال جیولر نے انگوٹھی دیکھ کر آیت کی طرف دیکھا، پھر کافی دیر تک اسے پرکھتا رہا۔ شاید اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا

” مجھے اس کی قیمت کا اندازہ نہیں ہو پارہا ہے، ابھی بڑے حاجی صاحب آ جاتے ہیں تو وہی کوئی فیصلہ کر کے بتا پائیں گے ۔ آپ کو تھوڑی دیر انتظار کرنا ہوگا۔“

” ٹھیک ہے ہم انتظار کر لیں گے ۔“ آیت نے اطمینان سے کہا۔

 تقریباً ایک گھنٹے بعد ایک ادھیڑ عمر شخص دوکان پر آیا تو جیولر نے وہ ہیرا اس کے حوالے کر دیا ۔ اس نے کچھ دیر پرکھنے کے بعد جو رقم لگائی ، اسے سن کر آیت مسکرا دی ۔ طاہر اس کے چہرے پر دیکھ رہا تھا۔ اس نے چند لمحے سوچا،پھر سر ہلاتے ہوئے بولی

” بہت کم قیمت لگائی آپ نے؟ “

” میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہیرا بہت قیمتی ہے لیکن جس طرح آپ اسے بیچنے آئی ہیں ، اور خاص طور پر یہاں اس شہر میں تو اس کی قیمت یہی ہے۔“ جیولر نے کاروباری مسکراہٹ سے بات سمجھائی دوسرے لفظوں میں وہ حاجی صاحب یہی کہہ رہے تھے کہ ہم تمہاری مجبوری سمجھ گئے ہیں۔ لہذا اتنی ہی رقم ملے گی لینی ہے تو لے لو ۔

” مطلب جگہ بدلنے سے قیمت بھی کم ہو جاتی ہے ۔ “ آیت یوں مسکراتے ہوئے بولی کہ اس کی آنکھوں سے بھی مسکراہٹ چھلک پڑی۔

” کیا کہہ سکتا ہوں۔“ جیولر اس کی بات سمجھتے ہوئے ہولے سے بولا

” ٹھیک ہے ، دے دیں آپ۔“ اس نے کہا تو لہجہ دُکھ سے بھرا ہو ا تھا ۔

” جی ابھی دیتا ہوں ۔“ جیولر نے کہا اور تجوری کی چابیاں نکالنے لگا۔

انہی لمحوں میں طاہر نے یوں ہاتھ بڑھایا جیسے ہیرا مانگ رہا ہو، پھر دھیرے سے بولا۔

” جناب، ذرا ایک منٹ، ہم مشورہ کرلیں۔“

جیولرکے بڑھتے ہوئے ہاتھ رُک گئے ۔ پھر سر ہلاتے ہوئے ہیرا واپس کرتے ہوئے کہا

” جیسے آپ کی مرضی۔“

تبھی طاہر نے آیت کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ۔طاہر کو لگا جیسے اس نے کسی برف کی سل پر ہاتھ رکھ دیا ہو ۔ اس نے ہاتھ چھوڑا نہیں، بلکہ اُسے اٹھا کر باہر لے گیا۔دوکان سے باہر آ کر اس نے آیت کا ہاتھ چھوڑ ا، پسنجر سیٹ والا دروازہ کھول کر خود ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔ وہ اس کی طرف دیکھتی رہی ، پھر خاموشی سے پسنجر سیٹ پر جا بیٹھی ۔اس نے کار سٹارٹ کرنے سے پہلے سڑک پر دیکھتے ہوئے کہا

” مجھے نہیں معلوم یہ سب تم کیوں کر رہی ہو ۔ لیکن یہ ڈیش بورڈ کھولو اور جتنی رقم چاہئے لے لو ۔“

” کیا ہیرا تم رکھو گے ۔“ اس نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا

”میں رکھ لوں گا۔ تم رقم لے لو۔“ وہ حتمی لہجے میں بولا، آیت چند لمحے یونہی بیٹھی رہی ، پھر اس نے ڈیش بورڈ کھولا، اس میں سے بغیر گنے کافی سارے بڑے نوٹ نکالے اور انہیں احتیاط سے اپنے میں پرس میں رکھ کر اُترنے لگی ،تبھی طاہر نے تیزی سے آفر دی ۔

” میںچھوڑ دیتاہوں، جہاں جانا ہے۔“

” نہیں، تم نہیں۔اور ہاں،میرے پیچھے بھی نہیں آﺅ گے ۔کل ملتے ہیں۔“ اس نے کہا اور تیزی سے اُتر کر چل دی ۔ طاہر اُسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ اچانک اسے اپنی مٹھی میں چبھن کا احساس ہوا ۔ وہ ہیرے والی انگوٹھی ابھی تک اس کے ہاتھ میںدبی ہوئی تھی ۔ اس نے ایک نگاہ اسے دیکھا اور اسے ڈیش بورڈ میں وہیں پھینک دیا، جہاں نوٹ پڑے ہوئے تھی ۔آیت سڑک پار کر کے ایک رکشے میںبیٹھ رہی تھی ۔ ایک لمحے کو تجسس نے سر ابھارا کہ اس کے پیچھے جائے ۔ لیکن وہ سر جھٹکتے ہوئے رکشے کے مخالف سمت میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔

ز….ژ….ز

اس وقت دوپہر ہو چکی تھی جب آیت ہسپتال پہنچی ۔ جیسے ہی وہ برآمدے میں آئی تو اس کی نگاہ امبرین پر پڑی ، جس کے ساتھ اس کی دونوں روم میٹ بھی تھیں۔اس نے قریب جا کر امبرین سے پوچھا

” ملی ہو سرمد سے ، دیکھا اُسے؟“

” نہیں ہم ابھی پہنچی ہی ہیں۔میں نے سوچا تمہارا انتظار کر لوں، رابعہ کون سا مجھے جانتی ہے ۔“

” چلو آ ﺅ ، پہلے سرمد کو دیکھ لیں۔“ آیت نے کہا اور بے تابانہ کاریڈور کی جانب چل دی ۔ وہ کمرے میں گئیں تو سرمد جاگ رہا تھا۔ وہ یوں اس کی جانب بڑھا، جیسے ان دونوں میں کوئی بہت ہی گہرا تعلق ہے ۔ رابعہ اس کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھی ۔ انہیں دیکھتے ہی اٹھ گئی ۔آیت نے سرمد کو پکڑ کر گود میں بٹھالیا۔پھر رابعہ کی طرف دیکھے بنا بولی

” کوئی آیا ، مطلب ڈاکٹر یا…. “ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تو رابعہ اس کی بات سمجھ کر بولی

” نہیں نر سیں آتی رہی ہیں۔اور تو کوئی نہیں۔“

” اوکے میں پتہ کرتی ہوں۔“ آیت نے کہا اور سرمد کو واپس بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کھڑی ہو گئی ۔ ان تینوں کا تیزی سے تعار ف کروا کر سب بیٹھنے کا کہا اور خود باہر نکل گئی ۔

 وہ سیدھی ڈاکٹر کے کمرے میںگئی ۔ وہاں ایک ادھیڑ عمر ڈاکٹر کے گرد پانچ ڈاکٹر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو خواتین تھیں۔کل والے ڈاکٹر کی نگاہ اس پر پڑی تو اس نے آیت کو دیکھتے ہی کہا

” آ جائیں مس ، یہ ہیںڈاکٹر عثمان، اور ہم سب آپ ہی کے مریض بارے بات کر رہے ہیں۔“

وہ ان کے پاس ایک کرسی پر بیٹھ گئی تو اسی ادھیڑ عمر ڈاکٹر عثمان نے خوشگوار لہجے میں کہا

” دیکھیں۔! یہاں کے ڈاکٹر نے مجھ سے مشورہ کیا تھا ۔ لیکن میں چونکہ یہاں نہیںتھا ، اس لئے کوئی حتمی رائے نہیںدے پایا۔میں صبح آگیا تھا ، تب سے میںاور میرے یہ ساتھی اسے دوبارہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ ممکن ہے آپریشن کی نوبت نہ آئے ۔ لیکن پہلے ہم پورا اطمینان کرلیں ۔“

”آپ بہتر سمجھتے ہیں، ویسے میںنے ایک بڑی رقم کاﺅنٹر پر جمع کروا دی ہے ۔“آیت نے کسی جذبے کے بغیر کل والے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے سکون سے کہا

”آپ فکر نہ کریں۔ میں ابھی اس کے ٹیسٹ دوبارہ لیتا ہوں ، رپورٹس آنے پر ہی فیصلہ کرتے ہیں ۔“ ڈاکٹر عثمان نے حوصلہ افزا انداز میںکہاتو وہ سمجھ گئی کہ ابھی کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے میں مزید ایک دن لگ جائے گا ۔ سو وہ سر ہلاتے ہوئے اُٹھ گئی۔

وہ دوبارہ سرمد کے کمرے میں آگئی ۔ اس نے سب کو بتا دیا کہ اب ڈاکٹر کیا کہتا ہے ۔

” تم سو جاﺅ رابعہ ، میںہوں اب یہاں۔“ آ یت نے تھکی تھکی رابعہ کی طرف دیکھ کر کہا، پھر امبرین کی جانب دیکھ کر بولی ،”ابھی فوری طور پر تو خون کی ضرورت نہیںہوگی ۔ اگر تم جانا چاہو تو …. ‘ ‘ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی ۔

” شام تک ہیں ہم یہاں ، اتنی دیر میں ہم بلڈ ٹیسٹ بھی لے لیتی ہیں، پھر جب ضرورت پڑی تو فوری طور پر دے دیں گے۔“امبرین نے کہا

دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔“ اس نے ایک طویل سانس لے کر کہا تو امبرین نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلے لیا۔

وہ سبھی شام تک وہیں رہیں۔ سرمد کے مختلف ٹیسٹ ہوتے رہے ۔وہ کبھی سرمد کو لے کر جا تی رہیں اور کبھی لا تی ر ہیں ۔ ڈاکٹر نے فائنل رپورٹ کے بارے کل تک انتظار کرنے کو کہا۔ تب وہ سبھی پلٹ کر ہاسٹل چل پڑیں ۔ ان کے ساتھ آیت بھی تیار ہو گئی ۔ وہ جیسے ہیں باہر نکلیں، آیت نے نوٹوں کی ایک گڈی رابعہ کودیتے ہوئے کہا

” یہیں کہیں رکھ لو ۔اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔“

” جی ٹھیک ہے ۔“ رابعہ نے وہ نوٹ پکڑے اور سنبھال لئے تو یہ بھی سرمد کو پیار کر کے باہر نکل گئی۔

اگلی صبح آیت اطمینان سے تیار ہوئی ۔امبرین اور اس کی روم میٹس بھی اس کے ساتھ جانے کو تیار ہونے لگیں تو آیت نے انہیں روک دیا۔

” میں جاتی ہوںوہاں ، اگر تم لوگوں کی ضرورت ہوئی تو میںکال کر دوں گی ۔ یا جو بھی صورت حال ہوئی بتا دوں گی ۔“

” اوکے ، ہم یہیں ہیں۔ فوراً پہنچ جائیں گے، تم ناشتہ تو کر لو ، یہ دیکھو آ گیا ہے ۔“ امبرین نے کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہی جیسے کہیںکھو گئی ہو ، پھر سر ہلا دیا۔

وہ جس وقت ہاسٹل سے نکلی تو دن کا پہلا پہر گذر چکا تھا۔ اس کا رُخ بس سٹاپ کی طرف تھا۔ وہ وہاں جا کر رُکی ہی تھی کہ فطری طور پر اس کی نگاہیںکینٹین کی جانب اٹھ گئیں۔ اسے یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ طاہر ایک میز کے گرد کرسی پر اکیلا بیٹھا ہواہے ۔ اس کا دل گواہی دے رہاتھا کہ طاہر اسے کینٹین ملے گا اور وہ وہیں پر بیٹھا تھا۔ وہ یہ فیصلہ پہلے ہی کر چکی تھی کہ اگر وہ اسے وہاں بیٹھا ہوا ملا تو وہ ضرور اسے ملے گی ۔وہ بس پر سوار ہو نے کی بجائے ، اس کی طرف چل دی۔ وہ تھوڑی دیر بعد اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہو ئے خوشگوار لہجے میں بولی

”آج تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ یہیں بیٹھنے کو آتے ہیں یونیورسٹی ، کلاسز نہیںلیتے ۔“

” اورمجھے پورا یقین تھا کہ آج آپ پھر مجھے یہیں ملیں گی ۔“ اس نے پھیکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا

” ایسا یقین کیوں تھا؟“ اس نے حیرت ملے لہجے میں پو چھا تو وہ طنزیہ انداز میںبولا

” یہ چھوڑیں ، آپ مجھے یہ بتائیں کہ آج کیا بیچنا ہے ؟“

یہ سن کر آیت کے چہرے پر موجود چمکتی ہوئی ساری خوشگواریت اچانک مدہم پڑ گئی ۔اس کی آنکھوںمیں حیرانگی اتر آئی ، جیسے اسے یقین نہ ہو کہ طاہر بھی ایسی بات کر سکتا ہے ۔

” میں سمجھی نہیں؟“آیت نے مدہم لہجے میں تذبذب میں پوچھا، جیسے طاہر کو وقت دے رہی ہو کہ وہ بات بدل لے ۔

 ” اس میں نہ سمجھنے والی کوئی بات نہیں، ابھی ہم چائے پیئیں گے، پھر آپ مجھے کسی جیولر کے پاس لے جائیںگی اور کوئی نہ کوئی شے بیچیں گی ۔آپ ایسا کریں ، جو چیز آ ج بیچنی ہے ، اسے اپنے پاس ہی رکھیں اور ڈیش بورڈ سے رقم لے لیں، لیکن صرف اتنا بتا دیں ۔“

”کیا بتا دوں؟“ اس نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے پوچھا

” اتنی رقم کا کیا کرتی ہیںآپ ؟“طاہر نے یوں پوچھا ، جیسے اس کے لہجے میںغصہ، حیرت اور ناراضگی کی ملی جلی کیفیت ہو ۔آیت النساءچند لمحے اس کے چہرے پر دیکھتی رہی ، پھر بڑے گھمبیر لہجے میں بولی

”یہ جو میرے کانوں میں بُندے دیکھ رہے ہونا، یہ سُچّے موتیوں کے ہیں، یہ بیچنے ہیں،کیا تم خریدو گے ؟ یا پھر جیولر کے پاس لے چلو گے ؟“

” یہ میرے سوال کا جواب نہیں لیکن پھر بھی یہ تم مجھ پر طنز کر رہی ہو ؟ یا میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہی ہو؟“وہ کرسی کی ٹیک چھوڑتے ہوئے اکھڑ لہجے میں بولا

” ایسا بالکل نہیں ہے ، میںتمہاری بات کا جواب دے رہی ہوں۔“آیت نے انتہائی نرم لہجے میںکہا

” دیکھو ، تم نہیں جانتی ہو ، تم نے مجھے کتنی بڑی بے عرتی سے بچا لیا۔وہ میرا احمق پن تھا، بے وقوفی تھی میری۔ اتنی رقم تو اس کے مقابلے میں ….“اس نے کہنا چاہا لیکن آیت نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا

”اس کا مطلب ہے کہ تم یہ رقم دے کر اپنے احسان کا بدلہ اُتار رہے ہو؟“

” میں نہیں جانتا، میں تمہارے کام آ کر خوشی محسوس کرتا ہوں، لیکن پتہ نہیں یہ رقم تم کہاں خرچ کر رہی ہو ،اتنا زیوربیچنے کے بعدتم ….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت نے پھر اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ رقم دے کر تم نے مجھ پر کوئی احسان نہیںکیا،وہ میں نے بیچنے تھے ، بیچ دئیے ۔“

” میں ایک ایسے خاندان ….“ اس نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولی ہی تھے کہ آیت نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے ہوئے کہا

” تم ایک اچھے خاندان سے ہوگے تبھی میری مدد کی ، اتنی رقم خرچ کر دی ۔ مجھے تمہارے خاندان کے بارے میں نہیں جاننا، تم بتاﺅ ، بُندے اگر لینے ہیں تو لے لو، میںنے تو جیولر کے ہاں جا کر بیچ دینے ہیں۔“

” کتنے کے ہیں؟“ وہ ایک دم غصے میں بولا

” جتنے تم دے سکو۔“ اس نے دکھ بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو وہ چند منٹ سوچتا رہا ، پھر بولا

”میرے ساتھ کار تک آﺅ ، جو ڈیش بورڈ میں پڑے ہیں وہ سب لے لو ، منظور ہے ؟“

” منظور ہے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” ممکن ہے یہ رسک ہو ؟“ وہ سنجیدگی سے بولا

” کوئی بات نہیں۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو طاہر اُٹھ گیا۔ آیت بھی اس کے ساتھ ہی اٹھ گئی ۔وہ دونوں چلتے ہوئے پارکنگ کی جانب بڑھ گئے ۔ ان کے درمیان خاموش رہی ۔طاہرنے پسنجر سیٹ والا دروازہ کھولا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود ڈرائیونگ سیٹ کی جانب بڑھ گیا۔ آیت نے اپنے کانوں سے بندے اُتارے ، ڈیش بورڈ کھولا اور انہیں اس میں رکھ دئیے۔ وہاں نوٹوں کی چند گڈیاں پڑی ہوئیں تھیں۔آیت نے ایک نگاہ ان پر ڈالی اور ایک گڈی اٹھاکر پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو گئی ۔

” تم بیٹھ کیوں نہیں رہی ؟“ طاہر نے حیرت سے پوچھا

” بس طاہر، ہمارا ساتھ شاید اتنا ہی تھا۔مجھے جہاں جانا ہے ، میں چلی جاﺅں گی ۔“ یہ کہہ کر اس نے آرام سے دروازہ بند کر دیااور پلٹ گئی ۔

اس نے ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔وہ چلتے ہوئے بس سٹاپ تک جا پہنچی ۔ وہاں دوسری بہت ساری لڑکیاں تھیں ۔ جو بس ہی کے انتظار میں تھیں۔ آیت نے اس طرف نگاہ بھی نہ کی جس طرف طاہر تھا۔ چند منٹ بعد بس آ گئی ۔ وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ بس میں سوار ہو گئی ۔

وہ جیسے ہی ہسپتال پہنچ کر سرمد کے کمرے میںگئی۔رابعہ نے اسے دیکھتے ہی کہا

” ڈاکٹر صاحب کا دو دفعہ پیغام آ چکا ہے ، وہ بلا رہے ہیں، تمہیں پتہ ہے میں تو….“ یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی ۔

” فکر نہیں کرو، میں مل لیتی ہوں۔“ آیت نے اسے تسلی دیتے ہوئے سرمد کے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے سیاہ بال ذرا سے پیچھے کردئیے ۔ سرمد اس کی طرف دیکھ کر دھیمے سے مسکرا دیا۔وہ بیٹھے بنا باہر کی جانب چل دی ۔

 ڈاکٹر عثمان اپنے آفس میں اکیلے بیٹھے کوئی رپورٹ پڑھ رہے تھے۔آیت پر نگاہ پڑتے ہی رپورٹ فائل چھوڑ کر مسکراتے ہوئے بولے۔

” آئیں ، تشریف رکھیں۔ میں یہ سرمد ہی کی رپورٹ دیکھ رہا تھا۔“

” تو پھر کیا فیصلہ کیا آپ ڈاکٹرز نے ؟“ آیت نے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ پوچھا

” میرا خیال ہے ۔ابھی ہم اس کا آپریشن نہیںکرتے، ہم تھوڑا سا عرصہ میڈیسن دے کر دیکھتے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ مسئلہ میڈیسن سے حل ہو جائے گا۔ “ ڈاکٹر عثمان نے بہت اعتماد سے کہا

” مطلب ، ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا؟“آیت نے پوچھا

” ہونا تو چاہئے ہمیشہ کے لئے ۔دیکھیں یہ آپریشن آخری حل ہے ۔جدید ٹیکنالوجی سے بہت ساری سہولت آ گئی ہے ۔ سرمد کی پوری طرح کئیر کریں۔ٹھیک ہو جائے گا ۔“ ڈاکٹر عثمان نے حتمی انداز میں کہا

” تو کیا یہ یہاں ایڈمٹ ….؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، نہیں آپ اسے گھر لے جا سکتے ہیں۔ ابھی سب کلیئر ہو جاتا ہے ۔آپ آج ہی سرمد کو گھر لے جا سکیں گے ۔“ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اٹھتے ہوئے بولی

” تھینک یو ڈاکٹر۔“

وہ انتہائی تیزی سے سرمد کے کمرے میںجا پہنچی ۔ اس نے جاتے ہی اس کا ماتھا چوما اور رابعہ کو سب بتانے لگی ۔ وہ سب سنتے ہوئے یوں ہو گئی جیسے اسے نئی زندگی مل گئی ہو ۔

” اللہ کا بہت احسان ہے ۔میں کیسے اس کا شکر ادا کروں ۔“ رابعہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا

” اب میری بات غور سے سنو۔! تمہیں یہاں سے جتنی بھی رقم ملے، وہ اور ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا،” اوریہ ، ان سب پیسوں کو تم نے اپنے گھر والوں سے چھپا کر رکھنا ہے ۔ کسی کو ہوا تک نہیں لگنے دینی ۔یہ صرف اور صرف سرمد کے لئے ہیں ۔ میڈیسن اور اچھی خوراک تمہاری ذمہ داری ہے ۔“

” میں تمہارا احسان کیسے دے پاﺅں گی ۔“ اس نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا تو آیت چند لمحے رابعہ کے چہرے پر دیکھتی رہی پھر بڑے گھمبیر لہجے میںکہا

 ” صرف اور صرف سرمد کی خدمت کر کے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی ، پھر خود کو سنبھالتے ہوئے نرم لہجے میں بولی ،” اور سنو۔! ابھی یہ رقم کچھ بھی نہیں ہے ، میں واپس جاکر تم سے رابطہ کروں گی ، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔“

” جیسے آپ کہو۔“ رابعہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تو آیت نے اس کے گالوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

” اب رونا نہیں، اس کا اثر سرمد پر پڑے گا ۔“

” نہیں روتی ۔“ رابعہ نے اپنے آنسو صاف کئے تو وہ بولی

” اب میں واپس لاہور جا رہی ہوں ، شام تک پہنچ ہی جاﺅں گی۔ تم فکر نہ کرنا۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنا سیل فون نکالا، اور نمبر پش کرکے امبرین کو ساری صورت حال سے آ گاہ کر دیا۔ اس دوران وہ سرمد کے پاس بیٹھی اسے پیار سے سہلاتی رہی ۔ وہ کافی دیر یونہی بیٹھی رہی ۔ پھر کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔ اسے لاہور جانا تھا۔

ز….ژ….ز

اس وقت طاہر ” ڈیرے“ پر ہی تھا۔باہر شام اُتری ہوئی تھی۔ وہ اپنے بیڈ روم میںیوں افسردہ پڑ ا تھا جیسے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو ۔اس کے ذہن میں آیت النساءہی تھی ۔وہ اسی کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔شاید اس کی طنزیہ باتوں ہی کے جواب میں اس نے اپنے بُندے اسے دے دئیے یا پھر واقعتاً اس نے بیچنے تھے؟ وہ کیا تھی ؟ اس کی سمجھ اُسے بالکل نہیں آرہی تھی ، لیکن یہ طے تھا کہ وہ دیکھنے میںمنفرد تھی ۔سب سے الگ اس کا رویہ بھی تھا۔شاید اُس نے ایسی باتیں کرکے آیت کا دل دکھا دیا تھا۔ بلاشبہ آیت کے ردعمل نے کوئی خوشگوار تاثر نہیں دیا تھا ۔ شاید وہ لاشعوری طور پر آیت کو ذہنی اذیت دینے کی وجہ سے اب خود پریشان تھا۔ اب آیت کا وہ پہلے والا رویہ تو نہیں رہے گا ۔ جو اسے محسن مان رہا تھا۔اب وہ احسان کہاں گیا تھا؟کیا کسی کے احسان کا بدلہ یوں چکاتے ہیں؟ اپنے محسن کو دکھ دے کر ، تکلیف دے کر ؟ وہ جہاں چاہے رقم خرچ کرے، وہ کون ہوتا ہے پوچھنے والا؟ کیاآیت کے معاملے میں بھی اس کے دماغ میں جاگیر دارانہ خمار تھا؟سوالوں کا ایک سلسلہ تھا جو دراز ہوتا چلا جا رہا تھا، سوچیں تھیں کہ پھیلتی چلی جا رہی تھیں ۔ وہ انہی سوچوں میں اُلجھا ہوا تھا کہ اس کے ملازم نے ہلکی سی دستک دے کر باہر ہی سے کہا

” وہ جی ساجد اور منیب آئے ہیں، لاﺅنج میں بیٹھے ہیں۔“

” اچھا۔!“ اس نے حیران ہوتے ہوئے کہا پھر لمحہ بھر سوچ کر بولا،” چلو ، میں آ رہاہوں۔“

اگرچہ ان کا نام سنتے ہی اسے غصہ آ گیا تھا لیکن اس نے خود پر قابو رکھا ۔ وہ انہیں جتانا چاہتا تھا کہ وہ غلط تھے۔ وہ اٹھا اور لاﺅنج میںچلا گیا۔ وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ سامنے کے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا

” کیوں آئے ہو ؟“

” ہمیں پتہ ہے ، تم ہم سے ناراض ہو ۔تمہارا ناراض ہونا بنتا بھی ہے۔ ہمیں چاہئے تھا ، اصل بات اسی وقت بتا دیتے لیکن صورت حال ہی کچھ ایسی بن گئی کہ ….“ منیب نے کہنا چاہا مگر طاہر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے اکتاہٹ سے کہا

” کوئی نیاپلان بنا کر آ ئے ہو، مجھے ذلیل کرنے کے لئے ،تم لوگ دوست نہیں دشمن ہو ۔“

” ٹھیک ہے ، چاہے آئندہ تم کوئی تعلق بھی نہ رکھو ہم سے ، لیکن ایک بار ہماری بات سن لو ، اس کے بعد جو کہو ۔“ ساجد نے کافی حد تک پر جوش لہجے میںکہا

” اچھا، پھر ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دو ۔“ اس نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا

 ” مجھے کسی لڑکی نے کہا تھا، تمہاری پسند پوچھنے کے لئے ، مجھ سے غلطی یہ ہوئی ، سیدھی بات نہیں بتائی ، ایسا اس لئے پوچھ لیا کہ اگر تمہاری پسند وہ ہوئی تو پھر تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔“ساجد نے شرمندہ سے لہجے میں بتایا

” سیدھی بات تم اب بھی نہیںکر رہے ہو ، کون لڑکی ہے، تمہاری بہن ہے یا کوئی کزن ؟“ طاہر نے انتہائی غصے میں پوچھا تو ایک بار ساجد کا چہرہ سرخ ہو گیاپھر سر جھٹکتے ہوئے غصے میں بولا

” وہی جس سے تمہاری آج کل بڑی انڈر سٹیندنگ ہے ،جسے تم لے کر ریستورانوں میں جاتے ہو، جویریہ انعام الحق….“

” اُس نے یہ کہا؟“ طاہر نے شدتِ حیرت سے پوچھا

”جی ۔!تاکہ وہ پورے اعتماد سے اپنے والدین کے ساتھ بات کر سکے ، وہ تمہارے ساتھ شادی کرنے میں سیریس ہے ۔“ منیب نے غصے میں کہا

” فضول بکواس کر رہے ہو تم دونوں، جویریہ کے دماغ میں کوئی بات ہوتی نا تووہ مجھ سے خود پوچھ لیتی، اتنی بولڈ ہے وہ ۔“ طاہر نے یوں کہا جیسے ان کی بات محض ایک بہانہ ہے ۔

” یہ بات تم خود اس سے ….“ ساجد نے کہنا چاہا تو وہ بولا

” بچوں جیسی بات مت کرو،اُس دن بھی تم نے ایسا ہی کیا تھا، میں بے وقوف تمہاری بات مان گیا۔ شکر ہے کہ آیت نے میری عزت رکھ ورنہ سوچو ، پورے علاقے میں میری ….“ وہ پر جوش انداز میں کہہ رہا تھا کہ درمیان ہی میں منیب بولا

” خیر ۔! ہم اس کے بارے میں بھی غلط سوچتے رہے ،وہ تو بہت خدا ترس لڑکی تھی یار۔“

” کیا مطلب؟“ طاہر نے چونکتے ہوئے پوچھا

” دوسرے دن جب وہ تمہیں اپنے ساتھ لے کر گئی تھی تو ہم بھی تم لوگوں کے پیچھے گئے تھے۔ ہمیں شک تھا کہ وہ تمہیں لوٹ رہی ہے اور وہ کوئی نوسر باز لڑکی ہے۔کیونکہ ہم نے پہلے کبھی اُسے یہاں نہیں دیکھا تھا ۔ ہمارا یہ شک مزید پختہ ہو گیا ، جب تم دونوں جیولر کے ہاں جا پہنچے ۔تب ہم نے فیصلہ کیا کہ اس لڑکی کے بارے میں جانیں گے، اور وہ ہم نے جان لیا۔“ منیب نے تفصیل بتائی

”کیا پتہ چلا؟“ وہ اضطراری لہجے میںبولا

” ہم اس کے پیچھے گئے تو وہ ایک ہسپتال میں جا پہنچی ۔وہ سیدھی ایک کمرے میں گئی۔ ہم نے وہاں موجود وارڈ بوائے کو لمبا نوٹ دے کر پوچھا۔اس نے سب کچھ بتا دیا۔ وہاں ایک بچہ بیمار تھا۔وہ اپنا یہ زیور اسی کے لئے بیچ رہی تھی ۔ وہ جن لڑکیوں کے پاس یہاں رہ رہی تھی ، پتہ کرنے پر معلوم ہوا وہ لڑکی لاہور سے یہاں آ ئی تھی ۔اب اس بچے اور لڑ کی کا کیا تعلق ہے ، یہ پتہ نہیں چل سکا۔“

” مطلب اس نے وہ سارا زیور اس بچے کے علاج پر خرچ کر دیا تھا۔ وہ بچہ اب کیسا ہے ؟ اسی ہسپتال میں ہے؟ آیت کہاں ہے ؟ ہمیں ان کی مدد کر نی چاہئے ۔“ طاہر بے تابانہ خود کلامی کرتا ہوا اٹھ گیا ۔ اسے یہ یاد ہی نہیںرہا کہ وہ ساجد اور منیب سے ناراض ہے ، ان سے بات کرنے کا روادار نہیںہے ۔ وہ سب بھول گیا۔

” کہاں جائیںگے؟“ ساجد نے تیزی سے پوچھا

” اُسی ہسپتال ، اسی ہاسٹل ، جہاں بھی ۔آﺅ ۔‘ ‘ طاہر نے کہا اور اپنے ملازم سے کار کی چابی لانے کا کہتے ہوئے باہر نکل گیا۔اسے لگا جیسے اس کی بے چینی کا حل آیت النساءہی کے پاس ہے۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جلد شائع کیا جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے