سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔ نوید ظفر کیانی

اصلی ہو یا نقلی سائیں

ڈگری تو ہے ڈگری سائیں

مجھ سے پنگا مت لینا تو

ورنہ قسمت بگڑی سائیں

کھو جا قوم کے لفڑ ے میں تو

کچھ تو پگھلے چربی سائیں

کتے کو یوں دیکھ کے بھاگا

جیسے ہو کوئی گولی سائیں

اک بھی بال نہیں ہے سر پر

اور ہے جیب میں کنگھی سائیں

ظرف میں نیویں نیویں دیکھے

کلغی جن کی اونچی سائیں

تم کو لوٹا کہہ بیٹھی ہوں

آئی ایم ویری سوری سائیں

نہ پکڑو تو بزنس میرا

پکڑو تو پھر چوری سائیں

اس پہ کیا پھر ٹیں ٹیں کرنا

جس کی کھانا چوری سائیں

کھولی کیا این جی او بینا

ہوگئی ان کی چاندی سائیں

روبینہ شاہین بینا

شادی غیر ضروری بھی ہو سکتی ہے

عاشق کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے

بند ٹفن تھی جس کو تم نے دیکھا تھا

اس کے اندر چُوری بھی ہو سکتی ہے

کبھی کبھی کا ہجر بھی چنگا نئیں جاناں!

پرماننٹ یہ دوری بھی ہو سکتی ہے

اُس کے ہاتھ میں ڈنڈا بھی ہو سکتا ہے

موت کی خواہش پوری بھی ہو سکتی ہے

لازم نہیں کہ مارے اور وہ ٹُٹ جائے

جُتی کوئی پسروری بھی ہو سکتی ہے

ہاں وہ لڑکی ہو سکتی ہے سوہنی بھی

یا اُس کی مشہوری بھی ہو سکتی ہے

لفٹ کا مطلب چاہت بھی ہو سکتا ہے

یا میری مزدوری بھی ہو سکتی ہے

لازم ہے وہ ہنس دے میری غزل کے بعد

اُس کے ماتھے گھوری بھی ہو سکتی ہے

شہباز چوہان

وہ کالے انجن سے ہے پرانی بقول شخصے

جو بنتی پھرتی ہے بنو رانی بقول شخصے

وہ مونہہ بولے جو اتنے رشتے بنا چکا ہے

یہ سب ڈرامہ ہے منہ زبانی بقول شخصے

تمیز شوہر کو جو سکھاتی ہے جوتیوں سے

یہاں پہ بیٹھی ہے وہ زنانی بقول شخصے

بیاض ہر وقت اپنے ہمراہ اٹھائے پھرنا

یہ بدتمیزی کی ہے نشانی بقول شخصے

ملول رانج?وں کو فون پر وہ رلا چکی ہے

سنا کے فرضی دکھی کہانی بقول شخصے

ہمارے دل پھینک شہر کی ہر گلی میں فیصل

فلاں کے چکر میں ہے فلانی بقول شخصے

ڈاکٹر عزیز فیصل

ماجے لگے ہوئے کہیں گامے لگے ہوئے

چاچے ادھر ہیں اور اُدھر مامے لگے ہوئے

یوں آج کل ہمارے ہیں کھابے لگے ہوئے

 چھٹتے نہیں ہیں منہ سے پراٹھے لگے ہوئے

خوشبو سی ہے فضا میں تو منظر دھواں دھواں

سیخوں پہ کتنی شان سے دنبے لگے ہوئے

تندور میں جو نان تھے لگتے تھے مزے دار

اچھے لگے تھے آگ میں چوچے لگے ہوئے

باتیں عجیب ہوتی ہیں شیمپو کی ایڈ میں

بالوں کے نیچے دیکھ لو گنجے لگے ہوئے

مالی نے باغ کا یہ عجب حال کر دیا

ہیں سیب کے درخت پہ ٹینڈے لگے ہوئے

اوپر گِدھوں کا راج ہے، دیمک تنے میںہے

نیچے جڑوں کو کاٹنے چوہے لگے ہوئے

محمد عاطف مرزا

جواں ہوگا مرا گلزار پرسوں

فدا ہوگی تری گلنار پرسوں

بہت مصروف ہے کیوں آج کل وہ

کرے گا اس پہ کچھ گفتار پرسوں

کمیٹی ڈھونڈ لے گی چاند کو جب

کروں گا خوب پھر دیدار پرسوں

الیکشن کا نتیجہ بھی پتا ہے

ذرا سننا مری للکار پرسوں

بیوٹی پارلر والے کہے ہیں

دلھن ہوگی میاں تیّار پرسوں

ضرورت آج ہیں رشوت کے پیسے

کروں گا ان سے میں ، انکار پرسوں

وہ دو دن تک مرا مہمان ہو گا

لکھوں گا پھر نئے اشعار پرسوں

وہ تھپڑ مسکرا کر کھا لیا آج

مگر سہلاو ¿ں گا رخسار پرسوں

بہت اچھا ہوا بادل تو برسے

مگر گائی گئی ملہار پرسوں

یہاں کل بھی نہیں دیکھی کسی نے

تمھارا وعدہ ہے ہر بار پرسوں

کہاں ابلیس تنہا قید میں ہے

کھلے گا ساتھ ہی دیں دار پرسوں

محمد ظہیر قندیل

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

      مفلسی کے دور میں کھایا جو اک گھر کا نمک عمر اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے