سر ورق / جہان اردو ادب / ماہ جبین آصف ۔۔محمدزبیرمظہرپنوار

ماہ جبین آصف ۔۔محمدزبیرمظہرپنوار

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام)
میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار” ( حاصلپور ” پاکستان )
مہمان ۔۔ ماہ جبین آصف ۔۔ کراچی ” پاکستان

سوال ..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب ۔۔ اصلی و قلمی دونوں نام ایک ہی ہیں ..یعنی ماہ جبیں ..

سوال ..تعلیمی اور خاندانی پس منظر ۔۔

جواب ۔۔تعلیم ایم اے .ایم ایڈ …
خاندانی پس منظر …لکھنؤ سے نسبت خاص ہونے کی وجہ سے تقریبا ذوق تو نکھرا دھلا ملا .سو ذوق کی پرورش میں تہذیب معنی رکھتی ہے ۔۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ادب  سے رغبت ہمیشہ سے ہی رہی .شاید ہمارے دور میں ہم خود  سے مربوط ہوا کرتے تھے لہذا کتابوں سے عشق نمو پاتا گیا …از خود ادب  وجود کا حصہ بنتا گیا یہ کوئ شعوری کوشش نہیں ہوتی ۔۔

سوال۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ پہلی کہانی زمانہ طالب علمی میں ہی لکھی . صفحہ طالبات میں شائع ہوئ …..جنگ کے صفحہ طلباء میں شائو ہونا بہت اچھا احساس تھا ..مختلف اخبارات میں یہ سلسلہ چلتا رہا۔۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب ۔۔ الحمد للہ ..میرے ساتھ ایسے کوئ معاملات نہی ہوئے .مجھے ہمیشہ  پذیرائ ملی .سب نے ہی بہت محبت سے میری تخلیقات کو سراہا نتیجتا خود  اعتمادی ذات کا حصہ بنتی گئ .یہ چیز مہمیز بنتی گئ …

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

جواب ۔۔ میرا ایک افسانہ .کھڑکیاں کھول دو …ایک ادبی مجلہ .نئ نسلیں ..میں شائع ہوا پھر کالج میگزین میں افسانے شائع ہوتے رہے …وہ بھی بہت ادبی فعال معروف ادباء کا گروپ تھا جس میں میرے اساتذہ کرام شامل تھے,انکا ساتھ و صحبت مجھے ملی تو فخر انبساط کی کیفیت مشترک ہوتی تھی ..  جس نے بہت حوصلہ دیا .

 

سوال ..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ فیس بک سے متعلقہ تقریبا تمام ہی علم پرور دوستوں نے حوصلہ افزائ کی جس میں .عالمی افسانہ فورم کے .وحید قمر .نے ہر طرح تعاون کیا .یوں سمھیں گھر بیٹھی اپنی ذات کے خول میں محصور  ایک رائٹر کو متعارف کرایا …..اسکے بعد تمام ہی لوگ پر خلوص ملتے گئے کارواں بنتا گیا ….سب کی انتہائ ممنون ہوں..

سوال ۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔8,, ادب  کی تو معاشرے کو جتنی ضرورت آج ہے کبھی نہ تھی .اب معاشرہ جس طرح اخلاقی تنزل کا شکار ہے ….بے حسی اخلاقی گراوٹ .مادیت پرستی .نے معاشرے کی جڑوں کو کھو کھلا کردیا ہے ..ادب اور اس سے جڑی سابقہ روایات .گم گشتہ ماضی کو ادب کی  پر سکون گود کی ہی ضرورت ہے .آج کا قاری ادیب سے حقیقت پسندانہ ادب کا متقاضی ہے ..تخیلاتی یا مافوق الفطرت  کرداروں کے بجائے قاری اپنے جیسے زندہ .مسائل کا شکار کردار اور اسکا حل چاہتا ہے . …

سوال ۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب ۔۔ ویسے  اگر آپ دیکھیں تو انجمن ترقی پسند ,مصنفین کا قیام 1935 میں ہوا  تها لیکن اگر آپ اس دور میں لکھے جانے والے ادب پہ ایک نظر ڈالیں  تو  ترقی پسند ادب کے اثرات آپ کو واضح نظر آئیں گے .. جب تصوراتی ادب سے اصلاحی ادب لکھا جانے لگا تو  ترقی پسند  ادب کی بنیاد,پڑ چکی تھی ..  اصلاحی ادب میں خاص طور پہ  لڑکیوں کی تعلیم   کی طرف توجہ دی گئ  عورت کے مقام کی نشاندہی  کی گئی .   یہیں سے ترقی پسند ادب کے اشارے ملنے شروع یو گے تھے  . مگر اصلاحی ادب میں لڑکی کو تعلیم ایک اچھی ماں  بننے کے لیے دی جا رہی تھی  تاکہ وہ باورچی خانے سنبھالنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی بھی  اچھی تربیت  کر سکے  اس میں عورت کی آزادی کی کوئی بات نہیں تھی اسے مرد کے برابر  انسان  نہیں دکھایا گیا  ہاں  سجاد حیدر یلدرم  کے ہاں آپ کو عورت ازاد,ہوتی نظر آتی پے
پھر انجمن ترقی پسند,مصنفین کا قیام ہوا  جو  ادب کو اصلاحی ادب سے حقیقت نگاری کی طرف لے کے آیا.  جس نے سماج میں مختلف معاشی طبقوں کی منظر کشی  کی  اور مظلوم طبقوں کا استحصال کرنے والے طبقے کی نشاندہی کی .  اور ادب کو ادب برائے ادب  کی بجائے ادب برائے زندگی بنایا
جہاں تک اس بات کا تعلق  ہے کہ  ترقی پسند ادب  کا اردو ادب کو کیا فائدہ پوا  ..
یہاں میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں کم ہم انڈیا پاکستانی  جب بھی ادب کی بات  کرتے ہیں . کیا اس خطے میں صرف اردو میں ہی ادب لکھا گیا ہے   کیا دوسری زبانوں میں ادب نہیں لکھا گیا . لہذا ترقی پسند ادب نے  نہ  صرف اردو ادب پہ  بلکہ اس  خطے میں جتنی بھی زبانوں میں ادب لکھا جا رہا پے  اس کو متاثر کیا پے اور ان پہ  اپنے تاثرات چھوڑے ہیں
ترقی پسند ادب نے جو نظریہ دیا پے  اس خطے میں لکھا جانے والا ادب آج تک اس سے باہر نہیں  نکل سکا  حتی اکہ ادب برائے ادب  پہ  بھی اس کے اثرات پیں — اس تنظیم کے نظریے کے تحت ایسا ادب لکھا گیا جیسے آپ عالمی ادب کی فہرست میں رکھ سکتے ہیں  گو اب  طبقاتی اور حقیقت نگاری  کے علاوہ اور بھی بہت  سے,موضوع پہ  لکھا جا ریا  اس کی فارم میں بھی تبدیلی آ چکی پے شاعری  خاص  طور پہ نظم  اور افسانہ اور ناول کے لکھنے کی تکنیک  میں بے تبدیلی آ گئی پے مگر اس کی بنیاد 1935 میں قائم ہونے والی انجمن ترقی پسند مصنفین ہی  بنی ……

سوال ۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں

کھڑا نظر آتا ہے ۔

جواب … جدیدیت یا مابعد جدیدیت یہ سب تھیسس کیلیے ..تنقید کیلیے  محض ایک اصطلاح ہوسکتی ہیں .رائٹر کبھی اس  دائرہ کار کے تحت نہی لکھتا .یہ سب مغربی اصطلاحات ہیں …اگر ایسا ہوتا تو دور دراز دیہاتوں میں بسنے والا ادب میں حیران کردینے کی صلاحیت نہ ہوتی ..رائٹر کا کام نیک نیتی سے لکھنا ہے تخلیق خود ایک بہت بڑا کام ہے …اسکو کسی بندش کے تحت قید نہی کیا جاسکتا ..

سوال ۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

جواب ۔۔…دراصل عام قاری اور ادب کے پسند کرنے والے قارئین میں بہت فرق ہوتا ہے جو بات .اشارے علامات .اصطلاحات ادب کے قاری کیلیے بے پناہ سر خوشی دیتے ہیں وہی چیزیں یا اختراعات عام آدمی کے سر سے گزر جاتی ہیں ..ان دونوں کے پسند کرنے والوں میں بہت  فرق ہے

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

جواب ۔۔ ادب کے معیار کا تعلق قبولیت سے ہوتا ہے جب تک آپ خود کو تکریم نہی دیں گے کوئ باہر سے آکر آپکو پروموٹ نہی کرے گا …پھر ماضی کا ادبی کام واقعی قابل ذکر رہا لیکن ہمیں مغرب سے تقابل کی ضرورت کیا ہے ہمارا اپنا ایک مضبوط تاریخی ورثہ ہے …ہم اپنے ورثہ تمدن کلچر کے لحاظ سے ایک طاقتور سرمایہ رکھتے ہیں ….ہاں اب فرق آیا تو لوگوں کی محنت شوق لگن میں ..ڈیجیٹل دور کی رنگا رنگی نے ہمارے ہاتھ سے کتاب اور انگلیوں سے قلم چھین لیا ہے جب تک ہم کتاب سے مربوط نہی ہوں گے   ّ تب تک اپنی نشاۃ ثانیہ نہی پا سکتے .  .

سوال ۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔

جواب ۔۔ ہمارا ماضی واقعی جینیوئن لکھنے والوں سے بھرا پڑا تھا ..جنہوں نے نئے اسلوب سے روشناس کرایا ایسے رائٹر جنہوں نے نیا اسلوب دیا ان میں نیر مسعود نے داستان کو افسانہ بنادیا  طلسماتی کشش کو کوزے میں سمودیا ..قرۃ العین بھی میری پسندیدہ رائٹر ہیں انکا کینوس بہت وسیع ہے  بہت کم لوگ انکے وژن تک پہنچے ہیں ..شاید انہوں نے عام طبقہ کیلیے لکھا بھی نہی .ایک مخصوص ایلیٹ طبقہ کی نمائندگی انہوں نے بہت عمدہ پینٹ کی …امرتا پریتم وہ رائٹر ہیں جو آج تک دل کی زمین پر دھرنا مار کر جو بیٹھی ہیں تو اٹھنے کا نام نہی لیتیں …
موجودہ دور میں مستنصر حسین تارڑ صاحب کا طرز بیان بہت کشش رکھتا ہے لوگ انکے بیانیہ کی طرف کھنچ رہے ہیں …
موجودہ دور میں زاہدہ حنا صاحبہ بہت اعلی تخیلاتی اپچ رکھنے والی رائٹر ہیں جنہوں نے قدیم و جدید کو یم آہنگ کرتے ہوئے اپنا مخصوص انداز فکر سے روشناس کرایا …

سوال ۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب ۔۔ جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ ہمارا ثقافتی ورثہ بہت طاقتور و ہمہ گیریت. کا حامل ہے ہمارے پاس  خزانہ ہے جس سے قدیم دور کے ادباء نے اکتساب کیا موضوعات کی کمی نہی ہے ہمارے کلچر میں لیکن کبھی ایسا ہوا کہ اردو ادب بھیڑ چال کا شکار ہوا مثلا تقسیم کے دور میں ادب یکسانیت میں الجھ گیا ..منٹو نے بہت لکھا ..دیگر ادباء نے بھی حصہ ڈالا لیکن اسکے بعد موضوعات کو ذہانت کیساتھ چناؤ کرکے ادیب کو اپنی زمہ داری نبھانی تھی لیکن کہیں درمیان میں یہ کڑی کمزور ہوئ ہے اسکی وجہ شاید محنت سے عار ….مطالعہ پر فوکس نہ ہونا ..ظاہر ہے ان حالات میں نقاد کی قینچی چلنا شروع ہوئ …اس دور میں تنقید پر بہت کام ہوا لیکن ادب جمود کا شکار ہوا …….

سوال ۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔تنقید و تنخیص کا ادب کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے ادب تنقید کی زد سے محفوظ رہ ہی نہی سکتا .تنقید کا تعلق ہر انسان کے اندر کی گہرائ پھر مطالعہ خلوص نیت …یہ تمام چیزیں شامل ہیں تنقید برائے تنقید نے غلط روایات کو جنم دیا ہے .ادیب بد دل ہوتا چلا گیا اس کڑی تنقید یا معروضیت سے ….لہذا ہمارے ہاں تنقید کے دامن میں وسعت نظری یا معروضیت پیدآ نہی ہوسکی …شمس الرحمن فاروقی صاحب کا تنقید پر بہت کام ہے ….

سوال ۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ موپساں فرانس کا ادیب
ناول  "” بل ایمی””
موپساں  کی وجی شپرت ان کی کہانیاں ہیں ۔ ان کی کہانیوں نے موپساں  کے  تین ناولوں کو یوں ڈھانپ  جیسے برف پہاڑوں کا ڈھانپ لیتی ہے  ۔۔
موپساں کو مختصر افسانہ لکھنے میں کمال دسترس حاصل تھا  یا پھر روسی ادیب چیخوف مختصر افسانہ لکھنے کے بادشاہ تھے  ۔۔ اردو ادب میں اگر کسی نے ان دونوں کو  دیکھنا ہو تو سعادت حسن منٹو میں دیکھ سکتا ہے

موپساں کا ناول ” بل ایمی ”  ایک بڑے ناولوں میں ایک ناول ہے  ۔۔

موپساں چلتی پھرتی زندگی کے عام لوگوں سے کسی کردار کو چنتا ہے اور اپنی تحریر سے اس کو بڑا کردار بنا دہتا  ۔۔ اسی طرح وہ زمانے کے پاوں تلے روندے یوئے واقعات سے کوئی واقعہ  کو اپنی کہانی بناتا ہے
موپساں نے اپنے ناول ” بل ایمی ” کے مرکزی کردار  موسیو  کو ناول میں اس طرح پیش کئا جیسے  انگو ٹھی میزن  نگینہ ۔پوری دنیا  ایک بہت  بڑے ادب سے محروم ہو  جاتی اگر کافکا  کا دوست  کافکا  کے مرنے بعد  اس سے غداری کر کے  اس کی کہانیاں اور ناول نہ  چهاپ  دیتا,کافکا  ساری عمر تنہا ریا ہے .گو اس نے شادی بھی کی تھی اور میرا خیال پے اس کے بچے بھی تھے  مگر اس کے    اندر ایک ایسی تنہائ  تھی جو محفل ہجوم میں بھی بندے کو تنہا رکھتی پے .. کافکا کی اپنے والد سے کبھی نہیں  بنی  بچپن سے پی نہییں  بنی اور یہ  تنہائ  بچپن سے ہی  اس کے ساتھ لگ گی  بس پھر ساری عمر دو چیزیں پی اس کے ساتھ رہیں   تنہائی اور الفاظ . اس کی زندگی میں بہت کم اس کے افسانے یا کہانیاں شائع ہوئی ہیں  جو چھپی بھی  وہ  بھی  کسی نے بہت  مجبور کیا تو اس نے چھپنے کے لیے دیں .. جب اسے  مجسوس پو گیا کہ اب  قصہ ختم  .. تو ایک دن اس نے اپنی تمام تحریریں  اپنے دوست کو اس وعدہ پر  دے دیں کہ  وہ اسے کبھی شائع نہیں کرے گا . مگر  کچھ عرصہ بعد دوست نے کافکا سے غداری کر کے  وہ  سب  شائع کرا دیں  . یہ دنیا میں پہلی غداری ہے    جس پہ  اسے تخمی امتیاز ملنا چاہیے
کافکا کے دو ناول بیت اہم ہیں ایک  قلعی اور دوسرا پرسیس   اس میں پرسیس  بیت پی مشہور  ہوا  اور بہت  سی زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا  پے کیونکہ  پر ملک  کا پڑھنے  والا سمجھتا پے  کہ  یہ  اسی  کے ملک کی کہا نی  ہے …
کافکا  اس ناول میں دنیا میں ایک نظام کی نشاندہی کی ہے  کہ  جس میں  کسی,بھی شخص کر کسی بھی وقت  گرفتار کر لیا جاتا پے  اور ملزم  ساری زندگی پوچھتا  ریتا ہے  مجھے کس جرم میں پکڑا گیا پے  مگر اسے زندگی کی آخری سانس تک نہیں پتا چلتا  کہ  اسے کس جرم میں پکڑا گیا پے  حالنکہ  عدالت بھی لگتی پے  ملزم کو سرکاری وکیل بھی دیا جاتا پے  مگر نوکر شاہی  اور عدالتی   طریقہ کار میں اتنی گنجھلیں  ہیں  کہ ملزم کو کبھی پتا نہیں چلتا کہ اس کا جرم کیا  پے حتی کہ  .اس کا اپنا وکیل بھی اس کو نہیں بتا پاتا  — اسی طرح اس کے فسانوں میں میرا پسندیدہ افسانہ بیجو  پے
یہ پے تو ایک بیجو کی کہانی,مگر اصل یہ آج کے انسان کی کہانی  پے
ایک بیجو خود کو محفوظ کرنے کے لیے زمین کھود کر ایک سرنگ بناتا پے  اور جب بہت  تگ و دو کے بعد جب سرنگ بن جاتی پے تو وہ  ایک سکھ کا سانس لیتا ہے  کہ میں اب محفوظ ہوں اور اب میں کبھی ختم نہیں یو سکتا  اچانک اس کے اندر ایک خوف جنم لیا پے کی اگر کوئی مجھ سے طاقت ور  اندر آ گیا تو  تو میرے پاس تو بھاگ کر باہر  نکلنے کے لیے  کوئی راستی ہی  نہیں لہذا وہ  باہر  نکلنے کے لیے وہیں دوسری سرنگ بنانا شروع کر دیتا پے  اور جب  باہر  نکلنے والی سرنگ مکمل یو جاتی  اور اسے پکی سی باہر  کی روشنی نظر آتی پے تو وہ  سکھ کا سانس لیتا پے کی  یہاں سے باہر  نکل کر خود کو محفوظ کر سکتا ہوں   اچانک اس کے اندر پھر ایک خوف جنم لیتا کی اگر مجھے سے طاقت ور اگر باہر  بیٹھا پوا  وی تو مجھے بار نکلتے پر  دبوچ لے گا  لہذا, وہییں  تیسری سرنگ  بنانے لگ جاتا   اور اس طرح وی کبھی بھی خوف سے نجات نہیں پاتا
آج کا انسان  بھی خود کو تا حیات  محفوظ  کرنے کے لیے  سرنگیں  بناتا جاتا پے   وہ  ایک خوف زدہ زندگی گزار رہا ہے  وی موجود لمحہ کو انجوائے نہیں کرتا  اس سے مطمئن نہیں وہ  آنے والے خوف میں جی ریا پے اگر وہ  کوئی اچھا نیک کام بھی کرتا پے  تو اس خوف سے کہ  میں دوزخ کے عذاب سے بچ جاوں
یہ افسانہ  آج کے خوف زدہ انسان کی عکاسی کرتا پے……اس لیے بھی پسند ہے ….

سوال ۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب ۔۔اردو ادب کا دامن بہت وسیع ہے زبان اردو کی طرح ادب میں بھی بہت گنجائش اور اپنے اندر  سمونے اور قبولیت کی گنجائش بدرجہ اتم موجود ہے .مائکرو فکش مغرب سے مستعار لی گئ صنف ادب ہے .اسکی گنجائش ادب میں ہے …کیونکہ ضروری نہی ہر بات تفصیل سے بیان کی جائے کبھی چند جملوں سے انسان  وہ کام لے لیتا ہے جو پعرے ضخیم ناول بیان نہی کرسکتے ..کم ا وقت میں بھرپور بات کہنے کے فن کو ادب کا حصہ بننے کا حق ہونا چاہیے . .اختصار گوئ یا فلیش فکشن اک عمدہ اظہاریہ ہے اس صنف کو رائج کرنا چاہیے ….

سوال ۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب ۔۔ زندگی ہزاروں خواہشات کا مجموعہ ہے ہر پرانی خواہش کی کوکھ سے نئ  آرزو جنم لیتی ہے ..یہی سلسلہ ہے جو دنیا سے ربط جوڑے ہوئے ہیں .بظاہر تو کوئ ایسی خواہش نہی جو پوری نہی ہوئ ہو ….لیکن اپنی کتاب پڑھنے والوں کیلیے لانا ایک فطری خواہش ہے لیکن ہماری اپنی تساہل پسندی .اس کی راہ میں دخیل ہے .یا وہ وقت ابھی نہی آیا ہر چیز کا ایک حساب ہے رکھا قدرت نے .ہر چیز جڑے .ہر چاک سلے,ہر بات بنے …..لیکن انسان شاید بے صبرا ہے اسے صرف خواہشیں پالنی ہوتی ہیں لیکن دائم فیصلہ سازی اللہ تعالی کی قدرت میں ہے .انشاء اللہ …..منتظرم ….

سوال ۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ محبت اس کائنات کا سب سے حسین و انمول نعمت ہے جو قدرت کی طرف سے ودیعت کیا جاتا ہے یہ انسان کی دسترس سے باہر کی چیز ہے ..انسانوں کے درمیان جذبہ محبت روز الست سے  ہی نمو پاجاتا ہے وہی دو افراد  روحوں کے ملاپ ازل کے بعد جب دنیا میں ملتے تو کشش باہمی ضرور ہوتی ہے اس جذبہ کو آپ محبت کا نام دے سکتے ہیں ..لیکن اسکی تفہیم سطحی انداز سے نہی ہوسکتی یہ کوئ فلمی یا ڈرامائ نوعیت کی چیز نہی ..ہاں واقعات یا تسلسل ضرور ظاہری لبادے میں وقوع پذیر ہوسکتے ہیں …پہلی محبت میری اکلوتی اولاد بیٹی رہی جو اولین ترجیح رہی ہمیشہ …..

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب ۔۔ نجی زندگی میں بیٹی کی شادی .پھر اسکے بچے کی آمد ایک ایسا خوشگوار تجربہ تھا جس کی سرشاری کبھی نہی بھولتی …بچے دنیا کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں شاید دنیا سے معصومیت اسی لیے رخصت نہی ہوئ کہ اس دنیا میں بچے اور پھول اپنی بھرپور تر و تازگی کے ساتھ  ہمارے درمیان مہک اور چہک رہے,ہیں ……

سوال ۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب ۔۔ کوئ پیغام ….ادباء کو صرف یہ دینا چاہوں گی کہ نئے لکھنے والوں کیلیے روشنی کا منارہ بنیں انکی صلاحیتوں کو اجالیں .نکھاریں .اپنے تجربہ فکر قلم علم سے انکو سنواریں …پہلے مرحلے پر ہی حوصلہ افزائ ہمیں پھر سے. اپنی نشاط ثانیہ جیسا ہنر واپس دلاسکتی ہے .زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
لکھنے والے آجکل شارٹ کٹ کی طرف راغب ہورہے ہہیں  یہ غلط رجحان ہے ..معیاری کتب کا مطالعہ وہ کنجی ہے جو ہر بند سم سم کے دروازے وا کر سکتی ہے …مطالعہ کے بغیر لکھنا میرا خیال ہے …خام ہوگا …..

اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

ماہ جبین آصف ۔

زبیر پنوار ادب کی ترویج کیلیے خلوص نیت سے کام کر رہے ہیں .راہ میں باد صموم  بھی آئہں لیکن انہوں نے ہمت نہی ہاری  ہر نامساعد حالات کو شکست دیتے ہوئے اپنا کام کرتے رہے یہ انکی ادب پروری اور جنون کا ثبوت ہے جو ہر پل انہیں کچھ اچھا مثبت کرنے کی طرف راغب کرتا رہتا ہے …لیکن ایک مشورہ بطور بہن دوست کے دینا چاہوں گی …کہ جذباتی رویہ سے جب تک زبیر خود کو محفوظ نہی رکھیں گے مشکلات افزوں ہوں گی یہ منفی رویے راہ کی رکاوٹ بن جاتے ہیں ان پر قابو پاکر جہاں گیری کریں ….اللہ تعالی آپکی ان کوششوں میں برکت پیدا کرے آمین …

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

محسن علی ۔ مدیحہ ریاض

ڈرامہ نگار محسن علی سے گفتگو۔۔۔  مدیحہ ریاض اسلام و علیکم محسن علی صاحب و …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے