سر ورق / کہانی / پیاری سارا۔۔ مہتاب خان

پیاری سارا۔۔ مہتاب خان

پیاری سارا 

 مہتاب خان 

قسط نمبر 1

اس کا گھر بھوت بنگلے کے نام سے جانا جاتا تھا آخر وہ اس حال کو کیونکر پہنچی یا اسے یہاں تک کون لایا یہ اسرار کے پردے میں چھپا راز تھا پھر اس کی زندگی بدلی تو وہ دنیا میں واپس آ گئی اسے واپس لانے والا کون تھا یہ بھی ایک راز تھا جس سے وہ خود بھی ناواقف تھی-

ہزاروں گز قطع اراضی پر بنا وہ بنگلہ اس علاقے میں بھوت بنگلے کے نام سے مشہور تھا- مدتوں سے رنگ و روغن نہ ہونے کی وجہ سے در و دیوار نے سیاہی مائل رنگت اختیار کر لی تھی- باہر لگا بڑا سا فولادی گیٹ اور اس پر لگا لیٹر بکس زنگ آلودہ ہو چکا تھا- لان کی گھاس کو ایک عرصے سے تراشا نہیں گیا تھا اور اس میں خود رو جھاڑ جھنکار اگ آئے تھے- لان کے ایک جانب قد آدم پنجرے نصب تھے جن میں انواع و اقسسام کے پرندے موجود تھے-

یہ بنگلہ ایک لڑکی کی ملکیت تھا جس کا نام سارا ہاشوانی تھا- تیس بتیس سالہ سارا عجیب و غریب وضع قطع رکھنے والی لڑکی تھی- پڑوس میں وہ کسی سے ملتی جلتی نہیں تھی- کافی عرصے سے کسی نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی اور کسی کو اس کے بنگلے میں جانے کی اجازت نہیں تھی- آ س پاس کے لوگوں کا خیال تھا کہ سارا کوئی بہت بدصورت عورت ہے یا کوئی مریضہ ہے جو اپنے عیوب چھپانے کے لئے بنگلے میں روپوش رہتی ہے- صرف ایک کل وقتی ملازمہ زینب تھی جو اس کے ساتھ رہتی تھی- تقریباً پچاس سالہ زینب ایک خرانٹ عورت تھی جو کسی کو بنگلے کے اس پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتی تھی- وہ ہی اس کی خدمت گزاری اور گھریلو کام کاج انجام دیتی تھی-

کبھی یہ گھرانہ بے حد متمول اور خوش و خرم ہوا کرتا تھا- روشن ہاشوانی کا شمار بے حد دولتمند اور کاروباری فرد کے طور پر ہوا کرتا تھا- سارا جب چھ سال کی تھی تو ہاشوانی صاحب مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے تھے- ان کی وفات کے بعد ان کا بھائی شمس ہاشوانی جو کافی عرصے سے بیرون ملک مقیم تھا- ان کے کاروبار وغیرہ کی دیکھ بھال کے لیے وہاں آ گیا تھا- اس کے وہاں آتے ہی سب کچھ گڑ بڑ ہو گیا تھا- اس چالاک اور عیار شخص نے بنگلے اور کاروبار پر اپنا قبضہ جما لیا تھا- اور ان دونوں ماں بیٹی کو بنگلے کے ایک حصے میں محصور کر دیا تھا- شمس نے پڑوسیوں سے بھی ہر طرح کا تعلق ختم کر دیا تھا-

سارا کے والد نے یہ بنگلہ اور تمام کاروبار اپنی زندگی میں ہی سارا کے نام کر دیا تھا- جو اسے اٹھارہ سال کی عمرمیں ملنے والی تھیں- ان کے ایک ایڈوکیٹ دوست مبین ملک اس تمام معاملے کے نگران تھے- یوں شمس کی ایک نہیں چلی تھی- اب اسے اس وقت کا انتظار کرنا تھا جب تک تمام جائیداد سارا کو مل نہ  جائے-

ابھی اس کے والد کے انتقال کو ایک سال ہی ہوا تھا کہ اس کی ماں بھی اسے چھوڑ کر کہیں چلی گئی تھی پھر سنا گیا کہ اس نے کسی سے شادی کر لی تھی- دو تین سال بعد وہ اپنی بیٹی سے ملنے آئ تھی مگر شمس نے اسے سارا سے ملنے نہیں دیا تھا اور وہ روتی  دھوتی واپس چلی گئی تھی پھر کسی نے اسے نہیں دیکھا تھا-

چچا نے اس واقعے کا پورا فائدہ اٹھایا تھا اور اسے خوب ڈرایا دھمکایا تھا اور اسے بار بار یہ احساس دلایا تھا کے وہ اتنی بری ہے کہ ماں جیسی ہستی بھی اسے چھوڑ کر چلی گئی- سوچا جا سکتا ہے کہ اس حادثے کا سارا پر کیا اثر ہوا ہوگا- بچے ایسے میں خود کو قصور وار سمجھتے ہیں اور ایسے موقع پر اس کے قریب سہارا دینے کے لیے اس کا کوئی ہمدرد بھی موجود نہیں تھا- شاید اس نے یہی سوچا ہوگا کہ وہ کسی کی محبت کے لائق نہیں تھی ورنہ اس کی ماں اسے چھوڑ کر کیوں جاتی- بہرحال وجہ کچھ بھی ہو وہ اندر ہی اندر گھٹتی چلی گئی تھی-

وقت تیزی سے گزر رہا تھا- ان دنوں اس نے انٹر میڈیٹ کا امتحان دیا تھا- چچا کی کڑی نگرانی میں اس نے تعلیم کے یہ مدارج طے کیے تھے- جوانی اس پر ٹوٹ کر آئ تھی- درمیانے قد بھرے بھرے جسم گوری رنگت، خوبصورت پیشانی اور بڑی بڑی روشن آنکھوں کا نام سارا تھا- جو بھی اسے دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا تھا-

اس دن وہ اپنے چچا کے ساتھ کہیں جا رہی تھی جب اسی محلے میں کارنر کے بنگلے میں رہنے والے ڈاکٹر رضا نے سارا کو پہلی بار دیکھا تھا- ڈاکٹر رضا ان دنوں اپنی میڈیکل کی تعلیم مکمل کر کے ہاؤس جاب کر رہا تھا- سرخ لباس نے گوری رنگت میں گھل کر سارا کے حسن کو شعلے کی طرح دھکا دیا تھا- وہ اس پر سے نظریں ہٹا نہیں سکا تھا اور دل تھام کر رہ گیا تھا-سارا اسے بہت پیاری لگی تھی-

ان دنوں سارا کے بہت رشتے آ رہے تھے جنہیں اس کا چچا کسی نہ کسی بہانے ٹال دیتا تھا- رضا نے بھی اپنی امی کو سارا کے رشتے کے لیے بھیجا تھا- سارا انہیں بھی بہت پسند تھی اور رضا ان کا اکلوتا بیٹا تھا-رضا کے والد وفات پا چکے تھے- جب وہ رشتہ لے کر گئیں تو شروع میں تو شمس نے ٹال مٹول سے کام لیا تھا پھر کچھ دن بعد یہ کہ کر صاف انکار کر دیا تھا کہ رضا سارا کو پسند نہیں ہے-

یہ سن کر رضا کا دل بری طرح ٹوٹ تھا پھر کچھ عرصے بعد والدہ کے اصرار پر اور ان کی پسند کے مطابق رضا نے شادی کر لی تھی اور ملک سے باہر چلا گیا تھا- نہ اس کی کوئی دوست تھی اور نہ ہی پڑوسیوں سے کوئی مل جول تھا- کسی نے اسے اس بھنور سے نکلنے کی کوشش نہیں کی اور کس کے پاس اتنا ٹائم تھا کہ وہ توجہ دیتا-سارا کا چچا بہت بد مزاج اور خرانٹ تھا محلے میں سب اس سے ڈرتے تھے-اسی لیے ان لوگوں سے دور رہتے تھے- سارا کے تمام کاروبار اور آمدنی پر چچا کا قبضہ تھا اور اب اس کی نظر سارا کی جائیداد پر تھی جو جلد ہی سارا کو ملنے والی تھی اور رہی سارا تو وہ اس کی اجازت کے بغیر سانس بھی نہیں لیتی تھی-

قدرت کے کھل نرالے ہوتے ہیں- انسان سوچتا کچھ ہے ہوتا کچھ اور ہے- اس کے چچا کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا- ایک رات ہارٹ اٹیک سے اس کی اچانک موت واقع ہو گئی اور اس کے سارے منصوبے دھرے رہ گئے-

چچا کے مرنے کے بعد ایک بار پھر پڑوسیوں نے سارا کو سمجھا نے کی کوشش کی تھی مگر اب اسے کسی کا اعتبار نہیں رہا تھا اور لوگوں کے پاس اتنی فرصت نہیں تھی جو اس کے لیے کچھ سوچتے آخر سب نے اسے اکیلا چھوڑ دیا اور وہ اپنے اندر سمٹتی چلی گئی-

سارا کے بنگلے کے بالکل سامنے جنید عرف جو جو کا  مکان تھا- جوجو سولہ سترہ سال کا ایک توانا اور شوخ و شریر لڑکا تھا- اس کا کمرہ مکان کی اوپری منزل پر واقع تھا- جہاں ایک کھڑکی سے سارا کا بنگلہ صاف نظر آتا تھا- کھڑکی میں کھڑے ہو کر بنگلے کا نظارہ کرنا جوجو کا دلچسپ مشغلہ تھا-

جب رات کی تاریکی گہری ہو جاتی تو اس وقت بنگلے کی کھڑکیوں اور دروازوں پر پڑے پردوں سے چھن کر روشنی باہر آتی تھی اور یہ احساس دلاتی تھی کہ ان کے پیچھے کوئی وجود موجود ہے- سارا بہت کم باہر نکلتی تھی- وہ باہر جاتی بھی تو کبھی سر اٹھا کر کسی کی جانب نہیں دیکھتی تھی- بد رنگ، بد ہییت لباس بکھرے بالوں اور اجڑے حلیے نے اس کے خوبصورت نقوش کو بھی دھندلا دیا تھا- نہ جانے وہ قیدیوں کی سی زندگی کیوں گزر رہی تھی- کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ آدم بیزار ہے اور کچھ کا خیال تھا کہ تنہا رہنے کے باعث وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی ہے- بہرحال وجہہ کچھ بھی ہو اپنے بنگلے کی طرح وہ بھی ایک پر اسرار شخصیت تھی-

ہر پر اسرار شے دلچسپ ہوتی ہے-جوجو بھی اسرار کے یہ پردے اٹھانا چاہتا تھا- اس وقت بھی وہ کھڑکی میں کھڑا سارا کے بنگلے کی سمت دیکھ رہا تھا-وہ کافی دیر سے وہاں کھڑا تھا- اس نے سر اٹھا کر اس کھڑکی کی جانب دیکھا اس امید پر کہ شاید وہ سارا کی جھلک دیکھ لے لیکن وہاں کھڑکیاں اور دروازے ہمیشہ کی طرح بند تھے اور ان پر دبیز پردے پڑے ہوئے تھے- ان اندھے شیشوں کے آر پار کچھ دکھائی نہ دیتا تھا- اس نے اکثر دیکھا تھا دن کے وقت تو بنگلے کی اوپری منزل جہاں سارا کا کمرہ اور جس کی کھڑکیاں اور بالکونی کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا البتہ رات کو کبھی کبھی کھڑکیوں کے ایک دو پٹ کھل جاتے اور گرمیوں میں اکثر بالکونی کا دروازہ بھی کھل جایا کرتا تھا-مگر پھر بھی تاریکی سیاہ پردے کی طرح پڑی رہتی تھی-

کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ بالکونی کے ساتھ والے کمرے میں روشنی کھڑکی کے شیشوں سے ٹکرا کر باہر آنے کی کوشش کرتی اور پھر کمرے کی محدود فضاؤں میں ہی اپنی مالکہ کی طرح قید ہو کر رہ جاتی- سارا نے خود کو خاموشی اور اسرار کے دبیز پردوں میں چھپا رکھا تھا- مگر یہ خاموشی چیخ رہی تھی اور یہ چیخ جوجو سن رہا تھا-وہ دیکھ رہا تھا کھڑکیوں کے اندھے شیشوں پر روشنی کے زاویے بدل رہے تھے اور وہ ادھر سے ادھر کسی بے چین روح کی طرح بھٹک رہی تھی-

"جوجو……… جوجو” اسی وقت جوجو کی امی کی آواز آئ اور کچھ دیر بعد وہ کمرے میں آ گئیں –

” جوجو میں کب سے تمہیں آوازیں دے رہی ہوں اور تم یہاں کھڑے ہو……… کیا دیکھ رہے ہو؟” وہ اس کے نزدیک چلی آئ تھیں-

"وہ دیکھیں امی کتنی ویرانی ہے وہاں” اس نے سارا کے گھر کی جانب اشارہ کیا- ” وہ ایسی کیوں ہے؟ اس تنہائ سے اس کا دل نہیں گھبراتا- اس کے گھر میں نہ فون ہے نہ ٹی وی بیرونی دنیا سے اس کے رابطہ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے- وہ کیسے رہتی ہو گی امی-؟”

” میں جب یہاں آئ تھی انہیں دنوں اس کے ڈیڈی کی ڈیتھ ہوئی تھی- ان کے انتقال کے بعد اس کا چچا یہاں آ گیا تھا اور اس نے آتے ہی سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا- وہ بڑا ظلم کرتا تھا ان ماں بیٹی پر یہ سب منظر ہمارے گھر سے نظر آتا تھا مگر ہم بے بس تھے ان مظلوموں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تھے-"

” سارا نے شادی کیوں نہیں کی؟” جوجو نے کہا –

وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی بیٹا- وہ بہت خوبصورت تھی- شروع میں تو اس کے بہت رشتے آتے تھے بلکہ کئی تو محلے والوں کی طرف سے بھی گئے تھے-"

” پھر-"

” مجھے تو لگتا ہے اس کی دولت اور جائداد پر قبضہ کرنے کے لیے ہی اس کے چچا نے سب کو بھگا دیا ہو گا- چچا کی نظر اس کی دولت پر تھی وہ دولت جو خود چچا کے کام نہ آ سکی-"

” امی چچا کے مرنے کے مرنے کے بعد وہ شادی کر سکتی تھی-"

"اسے شاید کسی پر اعتبار نہیں رہا ہو گا- وہ یہ سمجھتی ہوگی کہ کوئی بھی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے- بہرحال چھوڑو اس قصے کو تم چلو کھانا کھاؤ -” اس کی امی نے کہا اور دروازے کی سمت بڑھیں –

” میرا دل چاہتا ہے کہ اسے اس قید تنہائ سے کھینچ کر باہر کی دنیا میں لے آؤں اور اسے بتاؤں کہ زندگی کیا ہوتی ہے-” جوجو نے کہا اور اپنی امی کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا-

                                                                                                               ***************************

قد آور مظبوط بازوؤں اور چوڑے سینے والا خوبرو ڈاکٹر رضا پندرہ سال کا طویل عرصہ ملک سے باہر گزار کر حال ہی میں پاکستان واپس آیا تھا- وہ اپنی والدہ کی اچانک موت کی وجہ سے آیا تھا اور اب اس نے یہیں رہنے بسنے کا فیصلہ کر لیا تھا- رضا بھی سارا کے امیدواروں میں سے ایک امیدوار تھا مگر بقول اس کے چچا کے سارا کے انکار سے دلبرداشتہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنی والدہ کی پسند کے مطابق شادی کر لی تھی مگر قسمت کی ستم ظریفی تھی کہ یہ شادی زیادہ عرصے نہیں چل سکی تھی اور آج کل وہ تنہا زندگی گزار رہا تھا- دن میں وہ ایک مشہور و معروف اسپتال میں جاب کرتا تھا اور اکثر شام کو وہ گھر کے نزدیک واقع پارک میں دیکھا جاتا تھا- جہاں محلے کے دیگر افراد بھی باقائدگی سے جایا کرتے تھے-

وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ سارا نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی اور وہ عجیب و غریب زندگی گزا ر رہی تھی-اسے سارا کے بارے میں بڑا تجسس تھا مگر کہیں سے اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں تھیں- وہ جب سے آیا تھا سارا کو کہیں آتے جاتے بھی نہیں دیکھا تھا-

رضا جب بھی اس بنگلے کے قریب سے گزرتا تو سر اٹھا کر زنگ آلودہ گیٹ کی جانب ضرور دیکھتا- اس امید پر کہ شاید کسی دن اس کی جھلک دیکھ لے- لیکن گیٹ ہمیشہ بند رہتا تھا- نہ جانے اب وہ کیسی ہوگی؟ کیا آج بھی وہ اتنی ہی خوبصورت ہوگی جیسے پہلے تھی- وہ اکثر سوچا کرتا تھا مگر اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ اسے نظر نہیں آتا تھا- وہ اسی سوچ میں سرگرداں رہتا تھا-

روشن ہاشوانی کی اکلوتی بیٹی ان کی تمام دولت اور جائیداد کی تنہا وارث حسن و جمال کا پیکر سارا سب سے الگ تھلگ تھی-جتنے منہ تھے اتنی باتیں تھیں – لیکن ان باتوں سے رضا کی تشفی نہیں ہوتی تھی- وہ خود اس سے ملنا چاہتا تھا- اس سے بات کرنا چاہتا تھا- وہ اس سے آج بھی اتنی ہی محبت کرتا تھا اور یہ محبت برسوں پر محیط تھی -وقت اور فاصلے بھی اس کی محبت کی شدتوں کو کم نہیں کر سکے تھے-

                                                                                                                        **********************************

اس دن عجیب واقعہ ہوا تھا -جوجو اور بلال اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ باہر کرکٹ کھل رہی تھے- جب بلال کے ایک تیز شاٹ مارنے کے نتیجے میں بال سارا کے بنگلے کی دیوار کراس کرتی ہوئی اس کے لان میں کہیں جا گری تھی- لڑکوں میں سے کوئی اس بھوت بنگلے میں جانے کو تیار نہیں تھا- کھیل جاری رکھنے کے لیے بال ضروری تھی-ایسے میں جوجو آگے بڑھا تھا اور بال لانے کے لیے دیگر لڑکوں کی مدد سے وہ بنگلے کی دیوار پھلانگ کر اندر کود گیا تھا- کافی دیر وہ لان میں بال تلاش کرتا رہا مگر وہ نہیں ملی- بری طرح اگی ہوئی جھاڑ جھنکار اور جھاڑیوں کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اسے برسوں سے تراشا نہیں گیا ہے-لان کی حالت بہت ابتر تھی- تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ لان عبور کر کے لکڑی سے بنے سال خوردہ منقش دروازے کے قریب آیا- بال کی تلاش وہ فراموش کر چکا تھا- اس نے دروازے کو دھکا دیا تو وہ ایک تیز چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ کھلتا چلا گیا-وہ اندر آ گیا- یہ ایک بہت بڑا ہال نما کمرہ تھا-برسوں سے دروزے کھڑکیاں بند ہونے کی وجہ سے ایک مخصوص سی مہک وہاں بسی ہوئی تھی-

ابھی اسے وہاں آئے کچھ ہی لمحے ہوئے تھے کہ ہال کی ایک جانب بنی سیڑھیوں سے اسے ایک خرانٹ آواز سنی دی-

” اے کون ہو تم؟ اور اندر کیسے آئے؟”

جوجو نے چونک کر سیڑھیوں کی جانب دیکھا-وہاں زینب کھڑی تھی-

” وہ…….. …….ہماری بال یہاں آ گئی تھی-” وہ جھجکتا ہوا بولا-

"بھا گو یہاں سے ……… کوئی بال وال نہیں ہے یہاں-” زینب سیڑھیاں اترتے ہوئے اس کے قریب پہنچی-

” کیا ہوا زینب کون ہے وہاں؟” اسی وقت سارا اندر کسی کمرے سے ہال میں آئ – بد ہئیت اور اجاڑ حلیے میں وہ خوفناک لگ رہی تھی-

” میں جنید ہوں – آپ کے سامنے والے گھر میں رہتا ہوں- ہماری بال آپ کے بنگلے میں آگئی تھی- وہ تلاش کرنے آیا تھا- باہر میرے دوست انتظزار کر رہے ہیں-” وہ سٹپٹا کر بولا-

   ” تم گیٹ پھلانگ کر آئے ہو؟” اس نے انتہائی غصے سے آنکھیں نکالیں- "نکلو یہاں سے اور اپنے دوستوں سے بھی کہ دینا اگر کوئی بنگلے کے اس پاس نظر آیا تو اچھا نہیں ہو گا-” وہ خونخوار لہجے میں چیخی – وہ تیزی سے پلٹا اور باہر کی سمت دوڑ لگا دی-

 سنو-” سارا نے اسے آواز دی- وہ ٹھٹک کر رک گیا اور مڑ کر اس کی طرف دیکھا-

” تم صفیہ آپا کے بیٹے ہو؟” اس بار اس نے قدرے نرم لہجے میں کہا – جوجو نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ بولی”آئندہ یہاں نہیں آنا-"

وہ تیز قدموں سے باہر نکل گیا- جیسے ہی وہ بیرونی گیٹ سے باہر نکلا اس کے سارے دوستوں نے اسے گھیر لیا- اس نے تمام روداد انہیں کہہ  سنائی-

” بال ملی؟” ایک دوست نے جلدی سے پوچھا-

"نہیں یار وہ شاید کسی پنجرے کے نیچے گم ہو گئی مجھے نظر نہیں آئ -"

” لیکن تو اندر کیوں گیا تھا؟” بلال نے کہا-

” بس ایسے ہی میں اسے دیکھنا چاہتا تھا- جوجو نے کہا-

” چڑیل کہیں کی اسے تو سبق سکھانا چاہیے -” بلال نے کہا-

ویسے غلطی تو ہماری ہے میں بغیر اجازت اس کے گھر میں گھسا تھا-” جوجو نے کہا

” ہماری نیت تو بری نہیں تھی-” ایک نے کہا-

"سبق تو سکھانا پڑے گا- اس نے دھمکی کیوں دی؟” بلال نے کہا –

” ایک آئڈیا ہے میرے پاس-” جوجو نے مسکراتے ہوئے کہا-

"وہ کیا؟” بلال نے اس کی طرف دیکھا-

"بعد میں بتاؤں گا-” جوجو نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا تھا-

” تم لوگ ابھی تک یہاں کھڑے ہو- بھگو یہاں سے-” زینب جو گیٹ بند کرنے نہ جانے کب وہاں پہنچی تھی غرّا کر بولی تو وہ سب اپنے اپنے گھر کی سمت چلے گئے-

                                                                                                **************************

بنگلے میں رات آھستہ آھستہ گزرتی جا رہی تھی- وہ بیڈ پر لیٹی تھی- نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی- اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے اس کے دلی جذبات کا اظہار ہو رہا تھا-

وہ کیسے جیتے جی مر گئی تھی- سب اسے چھوڑ گئے تھے یہاں تک کے اس کی پیاری ماں بھی اسے چھوڑ گئی تھی- وہ منحوس تھی چچا نے اسے یہی بتایا تھا- الفاظ کے تیروں نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا-کوئی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا- اسی لیے اس نے خود کو ان سب کی نظروں سے چھپا لیا تھا-پندرہ سال سے وہ اس چار دیواری میں قید تھی اور یہ خود ساختہ قید تھی وہ خود کو سزا دے رہی تھی-

” یہ گوشہ نشینی مجھے مار ڈالے گی- میں نے کوئی گناہ نہیں کیا مگر ایک گناہ گار کی طرح منہ چھپائے بیٹھی ہوں-” وہ بڑبڑائی-

وہ بدصورت نہیں تھی- اس میں کوئی عیب بھی نہیں تھا- پھر بھی وہ دوسروں کے سامنے آنے سے کتراتی تھی- پندرہ سال پہلے اس کے حسن میں غضب کا نکھار آیا تھا- کیا اب بھی وہ حسن باقی ہے؟ اس نے سوچا- وہ اٹھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سسا منے جا کھڑی ہوئی -دھندلے آئنے میں اس کا عکس مزید دھندلا گیا تھا- اس کے سامنے الجھے بالوں ویران آنکھوں والی ایک اول جلول سے حلیے والی عورت کھڑی تھی- یہ وہ سارا تو نہیں تھی- اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ سارا کہاں گم ہو گئی تھی- وہ وہاں سے پلٹ کر آھستہ آہستہ چلتی ہوئی کھڑکی کی جانب آ گئی- جیسے ہی اس نے کھڑکی کھولی سامنے اس کی نظر جوجو کے گھر کی طرف گئی جہاں جوجو کھڑکی میں کھڑا اسی کی جانب دیکھ رہا تھا- وہ شاید اسے دیکھ کر مسکرایا تھا- سارا نے کھڑکی بند کر دی اور کمرے میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی-

                                                                                                  **************************

” وہ اپنے آپ کو کیوں چھپا رہی ہے- اسے کیا ڈر ہے؟ میں اس کے بارے میں کیوں سوچے جا رہا ہوں؟” وہ بیڈ پر لیٹا تھا- اس نے آنکھیں بند کر لیں- سوچتے سوچتے اس کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں – سارا مجسم اس کے خیالوں میں آ گئی تھی- پندرہ سال پہلے اس نے سارا کو دیکھا تھا- اس وقت وہ ایک خوب صورت دوشیزہ تھی-

” مجھے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور اس سے رابطے کا کوئی ذریعہ تلاش کرنا چاہئے پھر اس تک پہنچنے کا راستہ بن جائے گا-” اس نے سوچا پھر وہ اٹھا اور آھستہ آھستہ چلتا ہوا کھڑکی کے قریب آیا اور دوربین اٹھائی اور سارا کے بنگلے کی سمت دیکھنے لگا- آخر شب کی ہواؤں میں خنکی آ گئی تھی- باہر تاریکی تھی صرف اوپری منزل کی کھڑکیاں روشن تھیں- ان کے پیچھے وہ پر اسرار ہستی شاید جاگ رہی تھی- ادھر اس کی آنکھوں سے بھی نیند اڑ گئی تھی اور ادھر روشن شیشے رت  جگا  منا  رہے تھے-

یہ دوسرے دن کا واقعہ تھا- صبح رضا حسب معمول اسپتال جا رہا تھاجب سارا کے بنگلے کے قریب سامنے سے اچانک آنے والی ایک تیز رفتار کار سے بچنے کے لیے رضا نے اسٹیئرنگ گھمایا تو اس کی کار بے قابو ہو گئی اور بنگلے کے زنگ خوردہ فولادی گیٹ سے جا ٹکرائی – وہ گیٹ شاید اسی ٹکر کا منتظر تھا-اس کا ایک پٹ ٹوٹ کر زمین بوس ہو گیااور اس پر لگے ہوئے لیٹر بکس کا دروازہ کھل گیااور مختلف بلز اور کاغذات وغیرہ آ س پاس بکھر گئے- گیٹ ٹوٹنے اور گرنے کی آواز خاصی زوردار تھی- رضا نے گاڑی روکی اور نیچے اتر آیا- اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے- اسی وقت سارا کی ملازمہ زینب نہ جانے کہاں سے نکل کر گیٹ پر آ گئی اور لگی شور مچانے-

” یہ آپ نے کیا کیا؟ سارا بی بی کو پتا چلا تو خیر نہیں؟”

” خدا کے لیے چپ ہو جاؤ ………. میں اسے ٹھیک کروا دوں گا-” رضا نے جلدی سے کہا-

” کیسے ٹھیک کروائیں گے؟ کب ٹھیک کروائیں گے اور جب تک ہم کیا کریں گے؟ سمجھ میں نہیں آتا کے محلے والوں کو کیا ہو گیا ہے- کل وہ شریر لڑکے گھر میں کود آئے اور آج آپ نے گیٹ توڑ دیا- میں سارا بی بی کو اٹھاتی ہوں- وہ سو رہی ہیں- وہ خود ہی نمٹیںگی-” زینب نے تیز لہجے میں کہا

” میں نے کہا نا میں ٹھیک کروا دوں گا- ابھی اسپتال جا کر ملازم کو بھیجتا ہوں- وہ ٹھیک کر دے گا-انہیں اٹھانے  ضرورت نہیں ہے-” رضا نے نرم لہجے میں رسانیت سے سمجھایا- زینب بڑبڑاتے ہوئے لیٹر بکس کے قریب بکھرے ہوئے کاغذات سمیٹ کر لے گئی-

وہ سارا کے کمرے میں آئ دیکھا وہ کھڑکی کے قریب کھڑی تھی- اس نے کاغذات ٹیبل پر رکھے اور کہا-

"آپ نے دیکھا وہ نکڑ پر والے ڈاکٹر نے ہمارا  گیٹ توڑ دیا-"

"ہاں میں دیکھ رہی تھی ………. سنو وہ ملازم کو بھیج دے تو اپنی نگرانی میں گیٹ ٹھیک کروا دینا-"

” ٹھیک ہے………..ناشتہ تیار ہے-آپ ابھی کریں گی یا کچھ  دیر بعد؟” زینب نے کہا-

” لے آؤ-” اس نے کہا اور ٹیبل کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئی- زینب چلی گئی- وہ کاغذات دیکھنے لگی-کاغذات الٹ پلٹ کرتے ہوئے اس کی نظر ایک لفافے پر پڑی- اسے دیکھ کر وہ چونکی اس پر کوئی مہر وغیرہ نہیں تھی-لفافے پر صرف اس کا نام لکھا تھا -یعنی یہ خط کہیں سے پوسٹ نہیں  گیا تھا بلکہ کسی نے جان بوجھ کر اس کے لیٹر بکس میں ڈالا تھا- اس نے لفافہ چاک کیا یہ خط تھا-سارا کے چہرے پر شدید حیرت تھی اسے خط لکھنے والا کون تھا-اس نے پڑھنا شروع کیا-

” پیاری سارا

 یہ خط پڑھ کر تم یقیناً حیران ہو رہی ہو گی-  تمھاری حیرانی بجا ہے- اس لیے کہ تمہیں پتا ہی نہیں کہ میں کون ہوں؟ تو سنو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں تمہیں خط لکھ رہا  ہوں- میں تم سے محبت کرتا ہوں-آج سے نہیں برسوں  سے-جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو اس دن تم بہت خوبصورت لگ رہی تھیں- تمہارا بے مثال حسن دھک رہا- اسی لمحے میں تمھاری محبت میں گرفتار ہو گیا تھا-تمہارا وہ حسین چہرہ آج بھی میرے خیالوں میں موجود ہے اور وہ پیاری سی مسکان جو اس چہرے پرکھلی ہوئی تھی آج بھی ہے یا نہیں……..

صرف تمہارا………

خط لکھنے  والے نے اپنا نام نہیں لکھا تھا-اس نے الٹ پلٹ کر خط دیکھا-

"کس نے کیا ہے یہ بیہودہ مذاق-” اس نے سوچا- خط پھاڑنے کے ارادے سے اس نے کاغز بلند کیا پھر رکی اور خط دوبارہ پڑھنے لگی- ایک بار دو بار پھر متعدد بار پڑھ ڈالا-اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب لکھنے والا کون ہے- وہ اٹھی تھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا تو خط کے الفاظ اس کے ذہن میں ابھرے-وہ پیاری سی مسکان جو اس چہرے پر کھلی ہوئی تھی آج بھی ہے یا نہیں-مسکرانے کی کوشش میں اس کے لب بھینچ کر رہ گئے اور آنکھوں کی ویرانی کچھ اور بڑھ گئی-شاید اس کے ہونٹ مسکرانا بھول چکے تھے-اسی وقت زینب ناشتے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں آئ تو سارا نے جلدی سے خط مٹھی میں دبا لیا-

” ناشتہ ٹیبل پر رکھ  دو اور تم جاؤ-” سارا نے کہا

زینب کے جانے کے بعد وہ کرسی پر آ بیٹھی اور دوبارہ خط پڑھنے لگی-پھر ایک لمبی سانس لے کر اس نے کاغزٹیبل پر ایک طرف ڈالا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا- اس کا ذہن بری طرح الجھا ہوا تھا-

                                                                                                         ********************************

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے