سر ورق / جہان اردو ادب / شاہین کاظمی … محمد زبیرمظہرپنوار

شاہین کاظمی … محمد زبیرمظہرپنوار

ہمان ۔۔ شاہین کاظمی ” سویٹزر لینڈ
میزبان ۔ محمد زبیرمظہرپنوار

سوال ۔۔ آپکا اصل اور قلمی نام ۔

جواب۔ میرا اصل نام شاہین کاظمی ہے  اور یہی میرا قلمی نام ہے۔

سوال ۔۔ آپکی تعلیم اور خاندانی پس منظر ۔۔

جواب ۔۔تعلیم۔ ماسٹرز  تاریخ اور اسلامک اسٹڈیز
ایک عرصے سے سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہوں۔ یہاں کے انٹرنیشنل سکول میں کنڈرگاٹن میں پڑھاتی ہوں  اس کے ساتھ ریڈ کراس کے تحت ذہنی اور جسمانی معذروں کے ایک کلینک میں بھی کام کرتی ہوں۔
علمی ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ ابا میاں نورمحمد رتوچھوی پنجابی کے شاعر تھے۔  میری یاداشت میں  جو لمحے بھی آقید  ہیں انہیں لکھتے پڑھتے ہی دیکھا۔ اوائل عمر میں ہی کتابوں کا نشہ  سا تھا جو آج تک برقرار ہے۔

سوال . ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے

جواب۔ جیسا کہ میں نے کہاکہ علمی ادبی گھرانے سے تعلق ہے۔ اس لئے کتابوں سے پرانا عشق ہے۔  بہت چھوٹی عمر سے ابا کی کتابیں  پڑھنا شروع کیں۔  اور پھر ایک دم لکھنا شروع کردیا۔ شاید پہلا شعر دس سال کی  عمر میں کہا تھا۔ شعر تو یاد نہیں ۔ لیکن اس کے بعد  شاعری کی طرف  دھیان نہیں رہا۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔ پہلی کہانی ایک افسانہ تھا ۔” دوشیزہ” میں  شائع ھوا تھا۔  یہ سکول کا دور تھا۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب ۔  میں اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہوں مجھے میری فیملی یا دوستوں کی طرف سے کبھی بھی کسی مشکل کا سامنا نہیں  کرنا پڑا۔  چند ابتدائی کہانیوں کے بعد شادی کی وجہ سے لکھنے کا سلسلہ ایک لمبے عرصے کے لئے منقطع ہوگیا۔ درمیان میں گاہے گاہے شاعری کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن بوجوہ اسے کہیں بھی  شائع نہیں کروایا۔ پھر حالات نے ایک نیا رُخ اختیار کیا اور پاؤں میں بندھے سفر نے سوئٹزرلینڈ کے سرد زاروں میں لا پٹخا۔ یہاں بھی ایک طویل  عرصے تک سانسیں برقرار رکھنے کی  کوشش میں لکھنے کی طرف دھیان نہ دے سکی۔  چند  افسانے لکھے بھی لیکن  میری اپنی زندگی کی طرح ادھورے ہی رہے۔2007 میں  قدرت  مہربان ہوئی۔ اور لکھنے لکھانے کا باقاعدہ آغاز کیا۔

سوال ۔۔سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا۔۔

جواب۔۔ پہچان سے مراد اگر شناخت ہے تو میرا افسانہ” میاں جی”  تھا جس نے باقاعدہ مجھے خود سے متعارف کروایا۔ میرے نزدیک علمی و ادبی حلقوں میں تعارف سے قبل آپ کا اپنا آپ کو جاننا ضروری ہے۔ اپنی ذات کا ادراک ہونا ایک لکھاری کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا سانس لینا۔ باقی مراحل اس کے بعد آتے ہیں۔  افسانہ سنیدھ،   کنسنٹریشن کیمپ، تریاق، سلمی اورکرونس ، ایک بوسے کا گناہ یہ سب وہ افسانے ہیں جنہوں نے مجھے خود اپنے آپ پر آشکا ر کیا۔

سوال ۔۔ آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ میں دوستوں کے معاملےمیں بہت خوش قسمت ہوں۔ پاک و ہند سے اکثر دوست  جنہوں نے اس سفر میں بہت ساتھ دیا۔ ان کی محبتیں میرا سرمایہ ہیں۔  باصر کاظمی صاحب، سلمان باسط صاحب ، سعود عثمانی صاحب اور  گلناز کوثر کے علاوہ  کئی
اور دوست بھی ہیں جن کی  محبتوں نے میرے قلم کو مہمیز کیا۔

سوال ۔۔آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب ۔  اصل میں ادب جذبی کیفیت  کا نام ہے۔ ایک روحانی   حالت ، جس میں ادیب کا اپنے ساتھ کھرا ہونا  از حد ضروری ہے۔کیونکہ ادب شخصیت کے بغیر ادھورا ہے۔ جب تک آپ خود کو پہچانتے نہیں اپنے اندر کی آواز نہیں سُن سکتے۔   ادب شعبدہ بازی کانام  نہ ہی  لفظوں کا تکراری عمل ہے۔   ادب اُس وقت تک ادب نہیں کہلاتا  جب تک ادیب اپنے اصل کی  پہچان نہیں کرتا۔  یہ اتھلی سیاست، گروہ بندیوں اور عامیانہ  داد وتحسین سے ماوراءایک  ایسا حسین خطہ ہے   جو نمو پذیری کے لئے کھرے اور سُچے گوہر کی تلاش میں مصروف ہوتا ہے  اور اُسے پاکر اثر پذیری میں ایسا رنگ دکھاتا ہے جسے وقت  چاھے بھی تو مٹا نہیں سکتا۔
آج کا ادیب   اپنےعہد کے سلگتے مسائل کا بخوبی ادراک رکھتا ہے وہ نباض بھی ہے اور دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ کر بیماری کی تشخیص کے فن سے کما حقہ واقف بھی۔ شرط وہی   اپنی ذات کا ادراک اور لفظ کی حرمت سے آگاہی۔
قاری کیا چاہتا ہے؟  قاری کی پسند اُس کے طبعی میلان اور رحجان  کے تابع ہے۔  کسی بھی نظریے پر ایمان رکھنا قاری کا اولین حق ہے۔ لیکن اس نظریے سے گریز اصل میں ادب کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ سو قاری کی  تشفی بھی ادیب ہی کے ہا تھ میں ہے۔ وہ لمحاتی چکاچوند سے قاری کا دل برماتا ہے یا ادب کی  ابدیت پر اُسے قائل کرتا ہے۔

سوال ۔۔کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب ۔ میں پھر کہوں گی نظریہ کوئی بھی اس پر ایمان لانا آپ کا بنیادی حق ہے۔ بلاشبہ اس تحریک نے ادب کو ایک نیا ڈھنگ عطا کیا۔   روایت سے بغاوت عصری تقاضا ہوتا ہے۔ جب تک  قدیم بنیادوں کو کھودا نہیں جائے گا نئی تعمیر ممکن نہ ہوگی۔ ادیب و شعراء کسی کے بنائے ہوئے راستوں پر چلنے سے گریز کرتے ہوئے نئے شعری و ادبی جہانوں کی کھوج میں رہتے ہیں۔ افکار کا یہ تغیر ادب میں جمالیاتی اور متنی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ ایک وسیع اور طاقتور اظہارئیے کو بھی متعارف کرواتا ہے ۔ اصل  میں جب داخلی سرحدوں میں تشنگی بڑھ جائے تو اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا عمل واقعے کو کسی ایسے نظریے کی طرف موڑتا ھے جو وسعت کے ساتھ ساتھ تکمیلیت میں بھی درجہ کمال کا حامل ہو۔

سوال ۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔

جواب ۔۔ جدیدیت اور ما بعد جدیدیت میں نہیں سمجھتی کہ قاری کو ایسے گنجلک  نظریوں میں کوئی دلچسپی ہوگی۔ اس بحث میں  پڑ کرادب اپنا نقصان یوں کرتا ہے کہ اس پر طاری جمود قاری کو اس سے بدل کر دیتاہے۔جیسا کہ میں نے پہلےکہا نئے جہان کھوجنا ادب میں تازہ کاری کے ساتھ ساتھ توانا نمو پذیری  کو رواج دیتا ہے لیکن محض نظریے میں الجھ کر اصل سرا کھو دینا دانشمندی نہیں کہلاتی۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

جواب۔۔ ادب کی پیدائش اور متواتر پیدائش گواہ ہے کہ قاری ادب سے بقدرِ میلان و رحجان حظ اٹھاتا ہے۔ گو وقت کی  تیز رفتاری میں قاری کے لیے دلچسپی برقرار رکھنا  قدرے مشکل امر ہے لیکن اس کے باوجود وہ  ادب سے اپنی گہری وابستگی ظا ہر کرتا نظر آتا ہے۔۔

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

جواب۔۔ یہ کہنا غلط ہو گا کہ اردو ادب میں معیاری کام نہیں ہوا۔ کام ہوا ہے اور ہو بھی  رہا ہے۔ لیکن ہمارے زمان و مکاں سے جڑے حقائق ایسے رہے ہیں کہ اس ادب کو عالمی سطح پر اُس طرح متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ جیسے کروایا جانا چاہیے تھا۔ پھر ادب تازہ کاری بھی مانگتاہے۔یہ درست کہ ادب اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے۔ لیکن اس عہد کی حد بندی کیا ہے اصل میں یہ بات ادب کی  حیثت طے کرتی ہے۔ ہمارے داخلی مسائل سے ایک عالمی قاری کو کیا دلچسپی ہوگی؟ تا وقتیکہ ادب تمام تر سرحدیں توڑ کر آفاقیت کا جامہ زیب تن کرلے۔

سوال ۔۔آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔

جواب ۔   یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ فلاں افسانہ نگار مجھے اس وجہ سے پسند ہے اور فلاں ناول نگار اس وجہ سے۔ سو معذرت قبول کیجئیے۔

سوال ۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔   آپ سے اتفاق کروں گی۔ یہ ساری  وجوہات کسی نہ کسی رنگ میں  اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کیونکہ جز مل کر کل  بناتے ہیں اور کل بہت طاقتور ہوتا ہے۔ادب میں ادیب، قاری اور ناقد یہ وہ اجزائے ترکیبی ہیں جو ادبی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔ کیا ادیب محض خالی لٖفظوں کو معیار کا پیمانہ مانتا ہے؟ وہ عصر حاضر کے تقاضے کس حد تک سمجھتا ہے؟ کیا اُسے روایت کو توڑ کر نئے جہان آباد کرنے میں دلچسپی ہے یا وہ ابھی تک انہی قدیم راستوں کا راہی ہے جن کی دھول قاری کا سانس اکھاڑ رہی ہے؟  جیسے ادیب کا اپنے  ساتھ سچا ہونا لازم ہے بالکل اسی طرح ناقد کا اپنے ساتھ سچا ہونا لازم ہے۔تنقید جب تنقیص  میں بدل جائے اورذاتی عناد ناقد سے سچائی چھین لے تو ادب میں جمود  کا در آنا بہت فطری ہے۔

سوال ۔۔آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔  تنقید نہ تو تنقیص کا نام ہے نہ ہی  ذاتی عناد اور دشمنی کی آڑ میں بغض نکالنے کا ۔ ناقد کا کام بھاری بھرکم  اصطلاحات کے پیچھے چھپ پر فلسفہ بھگارنا اور اپنے آپ کو عقلِ کل ثابت کرنا بھی نہیں۔   ادیب کی طرح ناقد کا بھی اپنے ساتھ سچا ہونا ادب کی سالمیت کے لئے بہت ضروری ہے۔

سوال ۔۔مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب.  یوں تو بہت سوں نے بہت متاثر کیا لیکن  سوئس ناول نگار میکس فریش کا نام سرِ فہرست ہے۔  پسندیدہ ہونے کی ایک وجہ اس کا سوئس ہونا بھی ہے۔  اس کے ناولHomo faber کو نوبل پرائز بھی ملا۔ اور دوسرا ون اینڈ اونلی فرانز کافکا ۔۔

سوال ۔۔اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب ۔ گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے۔ اور آج کل کی تیز رفتارزندگی میں ضرورت بھی۔ لیکن مختصر نویسی ہمیشہ مؤثر یا متاثر کن نہیں ہوتی۔

سوال ۔۔زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب ۔۔ انسان ہمیشہ مزید کا طالب رہا ہے۔ جتنا بھی مل جائے ناکافی لگتا ہے۔ اور یوں یہ ہوس ایک دن  خود اُسی کو نگل لیتی ہے۔میں قناعت پسندوں میں سے ہوں۔ ہاں مگر  اُس رب سے پختہ اور متواتر تعلق کی خواہش ہمیشہ ادھوری رہ جاتی ہے۔

سوال ۔۔محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ محبت اس کائنات کا وہ جزو ہے جس کے بغیر یہ کائنات نامکمل ہے۔ جب بھی محبت کا نام لیا جائے تو اُسے ایک ہی پیمانے میں تول کر مسخ کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ تو ایک بیش بہا انعام ہے اُس مالک کل کی جانب سے۔ ایک آسمانی تحفہ جو زمیں زادوں کو عطا کیا گیا۔ ذرا تصور کریں اگر ہماری زندگیوں سے محبت نکال دی جائے تو کیا بچےگا؟محبت کا جوہر غرض  کی ملونی سے پاک ہو تو ہی خالص ہے ۔مجھے تو روز محبت ہو جاتی ہے۔ آسمان پر چمکتے ستاروں سے، نرم روئی کی طرح گرتے برف کے گالوں سے، باغیچے میں کھلے تازہ گلابوں سے، انہی گلابوں کی سوندھی مہک لیے پروائی سے، ٹپ ٹپ گرتی بارش کی بوندوں سے، آتش دان میں  چٹختی لکڑیوں سے، ننھے ہونٹوں پر کھلی مسکان سے، گہری دھند میں کوکوتی ریل کی سیٹی سے،ساحل پر سر پٹختی موجوں سے ۔ نیم شب کی  خاموشی میں مانگی گئی  دعائیں میرے اندر محبت کا وہ سر پھونکتی ہیں  جو  اس دنیا کا نہیں ہوتا، کتابوں سے، پرانے گیتوں سے ، رات کی خامشی سے،  جھیل کے ٹھہرے پانی سے۔فہرست بہت طویل ہے۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب ۔۔ واقعات تو ہزاروں ہیں۔ لیکن ایک واقعہ جس  نے میرے دل میں ایسا خوف بٹھایا کہ آج تک نہیں گیا۔
کافی پرانی بات ہے۔   میں کراچی کے اسکول میں پڑھاتی تھی۔ ایک دن سب ٹیچرز نے مل کر پکنک کا پروگرام بنایا۔ قرعہ فال گڈانی بیچ کے نام نکلا۔  ایک بڑی وین کرایے پر لی گئی۔ کھانے کا مناسب انتظام تھا۔ ہم تین چار ٹیچرز  اپنے بچوں کے ساتھ ایک چٹان پر بیٹھے سمندر کا نظارہ کر رہے تھے۔  گڈانی میں  ساحل کے ساتھ ساتھ یہ چٹانی سلسلہ کافی دور تک  پھیلا ہوا ہے۔ جس چٹان پر ہم بیٹھے تھے وہ کافی بلند اور تنگ تھی۔ نوکیلے سیپی نما کٹاؤ چاقو کی دھار کی  طرح تیز تھے۔ عین ہمارے  نیچے تقریباََ دو میٹر کی گہرائی میں سمندر تھا۔ لہروں کے باوجود پانی کے اندر بڑی بڑی چٹانیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ وہاں پانی بہت گہرا تھا۔ ہلکی ہلکی لہریں آتی رہیں۔ سب کی خواہش تھی کہ اونچی سی  لہر آئے ۔ یکدم ایک بہت اونچی اور زوردار لہر نے ہم سب کو چٹان کے ساتھ لا پٹخا۔ لہر اتنی اچانک تھی کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ نمکین پانی سے آںکھوں میں شدید جلن تھی۔ مجھے یاد ہے میں پاگلوں کی طرح آنکھیں بند کئے بچوں کو ڈھونڈ رہی تھی۔ میری تین سالہ بیٹی چٹان کے سیپی نما تیز دھارکٹاؤ سے بری طرح زخمی ہو گئی۔ اُس کی دونوں ٹانگیں اور پاؤں  بہت بری طرح کٹ گئے۔ یہ شکر ہوا کہ ہمارے پیچھے کھڑے لڑکے صورتحال دیکھ کر تیزی سے نیچے آئے اور ادھر ادھر لڑھکتے بچوں کو اٹھا کر اوپر لے گئے۔ پکنک تو خیر کیا کرنی تھی فوراََ بیٹی کو لے کر اسپتال کا رخ کیا۔ وہ دن اور آج کا دن پانی سے اتنا خوف آتا ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ آج بھی سوچ کر دل دہل جاتا ہے کہ اگر لہر  کےساتھ کوئی بچہ سمندر میں جا گرتا تو کیا ہوتا۔لیکن اُس مولا کا خاص کرم رہا ہم سب پر کہ کسی بڑی آزمائش میں نہیں ڈالا گیا۔

سوال ۔۔آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب ۔۔۔ مجھے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔  میں اپنی ذات پر بہت کم بات کرتی ہوں۔ اس لئے بہت کچھ ہو گا جو بہت سارے  دوست نہیں جانتے ہونگے۔

سوال ۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔

جواب ۔  صاف گو ہوں اس لئےجھوٹ برداشت نہیں ہوتا، غصہ آتا ہے لیکن  چھیڑ چھاڑ اور ہنسی مذاق  بھی  بہت ہوتا ہے۔ تیز رفتاری پر قابو نہیں پا سکتی۔  اس لئے اکثر جرمانہ ہوتا رہتا ہے۔ بہت تیز چلنے اور ایک ساتھ بہت سارے کام کرنے کی عادت ہے۔

اردو لکھاری ڈاٹ کوم اور میرے لیے کوئی پیغام ۔۔

شاہین کاظمی ۔

اپنے آپ سے سچ بولنے کی عادت ڈالیں بہت سے مسائل سے جان چھوٹ جائے گی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

ایک تبصرہ

  1. طاہرہ مسعود

    بہترین تعارف ۔ بہت عمدہ۔ شاہین صاحبہ کو فیس بک کے توسط سے جانتی ہوں۔ بہت سلجھی ہوئی خاتون ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے