سر ورق / ناول / من کے دریچے ۔۔ عابدہ سبین۔۔ قسط نمبر 3

من کے دریچے ۔۔ عابدہ سبین۔۔ قسط نمبر 3

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 3

وائٹ کالج کے یونی فارم میں جو دوشیزہ اسے سامنے دکھائی دی تھی وہ اس کی نظریں ساکت کر گئی تھی۔ حالانکہ اس کا چہرہ بالکل سادہ تھا۔ وائٹ دوپٹے کے ہالے میں سنہری گندمی چہرے میں جو کشش تھی وہ آج سے پہلے ہزاروں چاند چہرے دیکھ کر بھی اسے محسوس نہیں ہوئی تھی۔ اس کی کٹورہ سی بڑی بڑی آنکھوں میں ناگواری تھی اس کے لیے جو ہونقوں کی طرح اسے گھور رہا تھا اور جب تک وہ ان کے گیٹ سے اگلے گیٹ کو کراس کر کے اندر نہیں گئی درید عباس کی نگاہیں اس پر ہی جمی رہیں۔

کتنی حیرت انگیز بات تھی، اس کے پڑوس میں دنیا کی سب سے پیاری لڑکی رہتی تھی اور وہ بے خبر تھا۔ اب اسے دھوپ میں بھی کشش محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ تب ہی وہ کرسی اور اسٹول اٹھا کر اندر آ گیا اور امی کے پاس صحن میں ہی چارپائی پر پھیل گیا۔ مگر اس کے ذہن سے لمحہ بھر کو بھی وہ چہرہ محو نہیں ہوا تھا۔ بڑی عجیب سی بات تھی کہ ایک سادہ سا چہرہ اس کے حواسوں پر چھا گیا تھا حالانکہ اس سے کہیں زیادہ خوبصورت وہ ریڈ ڈریس والی لڑکی تھی جس کے حوالے سے وہ یاسر کو چھیڑ رہا تھا۔ پھر بھی وہ محض چند منٹ بعد ہی ذہن سے نکل گئی تھی۔ یہ تو ذہن سے چپک کر ہی رہ گئی تھی۔

”ہمارے محلے میں نئے لوگ آئے ہیں امی۔“

رات کے کھانے پر وہ امی سے پوچھ رہا تھا۔ امی کے ساتھ ساتھ یاسر اور ابو نے بھی بہت حیران ہو کر اسے دیکھاتھا۔

”بچے، جو تمہارے حالات ہیں کچھ دنوں میں تمہیں اپنے گھر میں رہنے والے لوگ بھی نئے لگیں گے۔“

امی ہمیشہ ہی اس کی عادت سے نالاں رہتی تھیں کہ وہ صرف اپنی ذات میں مگن ہو کر جیتا تھا۔ گھر میں، پڑوس میں، محلے میں کیا ہو رہا ہے، اسے کچھ خبر نہ تھی۔

”ہمارے محلے میں تو دو سال سے نئے لوگ نہیں آئے، تم پڑوس کی بات کر رہے ہو۔“

”یہ جو ہمارے ساتھ والا گھر ہے براﺅن گیٹ والا….“

”اعجاز بھائی کا ہے۔ چھ سال ہو گئے ہیں انہیں یہاں آئے۔ ایڈووکیٹ ہیں۔ بہت اچھی فیملی ہے۔“

”مجھے نہیں پتا تھا۔“

”اپنی ذات سے نکلو گے تو پتا چلے گا ناں! عمر بھر یہ تعلقات، یہ رشتہ داریاں ہم نے ہی نہیں نبھانی۔ آج ہیں، کل کا کیا پتا۔ آنکھیں بند کرکے جس طرح تم زندگی گزار رہے ہو، یہ غلط ہے۔ دو بھائی ہو تم، جو ہماری کل کائنات ہو۔ یاسر سے ہمیں کوئی گلہ نہیں ہے مگر تم نے کبھی گھر کو وقت دیا۔“

”تمہیں تو یہ تک علم نہیں ہوتا کہ تمہاری امی کی طبیعت کس قدر خراب رہی ہے۔“

امی کے ساتھ ساتھ ابو نے بھی آج اس کی خبر لی تھی۔

”مجھ سے سارا وقت گھر میں ٹک کر نہیں بیٹھا جاتا۔ یہ میرے مزاج کا حصہ نہیں ہے۔“

”سچ کہا۔ آج قسمت سے گھر میں تھے تو گلی میں ڈیرے ڈالے بیٹھے رہے ہو۔ میں کہتی ہوں کب جائے گی تمہاری لاپرواہی۔ شادی کی عمر ہو چکی ہے تمہاری…. اور اگر یہ ہی حالات رہے تو میں ہرگز کسی معصوم لڑکی کو لا کر عمر بھر بددعائیں نہیں سمیٹ سکتی۔ تم نے تو اس کی خبر نہیں لینی۔“

”چار دن ہوئے ہیں میری نوکری کو، آپ کو شادی کی پڑ گئی ہے۔ یہ جو دو سال سے جاب کر رہا ہے اس کی کر دیں۔“

وہ چڑ گیا تھا۔ اس لیے کچھ لاڈلا تھا اور بقول یاسر کے بدتمیز بھی۔

”ہاں تو کر رہی ہوں ناں! تمہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ تمہارے بھائی کی بات طے ہو گئی ہے۔“

”اس گھنے نے مجھے بتایا کب ہے۔“ اس نے کھسیا کر کہا۔

”شاباش! تم گھر میں رہتے ہو اور یہ تمہیں بتائے گا۔“

ابو نے اسے شرمندہ کیا…. اسے قدرے افسوس بھی ہوا کہ وہ ضرورت سے زیادہ ہی لاپرواہ ہے۔ مگر وہ کیا کرتا، اس کی نیچر ہی ایسی تھی۔ خیر یاسر کی منگنی طے ہو گئی تھی اور دن اسے یاد تھا۔

اس منگنی سے اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی میرب اعجاز سے جان پہچان ہو گئی۔ بے تکلفی تو خیر نہیں، مگر بات چیت ضرور ہوئی تھی۔ وہ فورتھ ایئر کی اسٹوڈنٹ تھی۔ پُرخلوص، ملنسار اور سادہ مزاج۔ درید عباس تو اس کے سادہ مگر پُرکشش چہرے کا ہی دیوانہ ہو چکا تھا۔ اس کے لیے یہ ہی بہت اچھا تھا کہ میرب اعجاز ایڈووکیٹ اعجاز عارف کی بیٹی تھی۔ ان کے پڑوس میں رہتی تھی اور بس۔ اس سے زیادہ جاننے کی اس نے سعی کی نہ اسے ضرورت تھی۔

”آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا۔“

پہلی بار جب اس نے یاسر سے اس کا فون نمبر لے کر فون کیا تھا تو وہ حیران رہ گئی۔

”یاسر سے، کیا تمہیں بُرا لگا۔“

”نہیں تو، بس….!!“

یہ اس کی پہلی کال تھی۔ پھر وہ اکثر آفس سے آ کر شام میں اسے کال کر لیتا تھا۔ بات ہمیشہ وہ مختصر سی کرتی تھی۔ کال صرف وہ کرتا تھا۔ میرب نے کبھی اسے کال نہیں کی تھی مگر اتنا جانتا تھا کہ ان میں اچھی انڈرسٹینڈنگ ہو گئی تھی۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ میرب کے لیے وہ کیا ہے۔ مگر وہ میرب اعجاز کو دل کی تمام شدتوں سے چاہنے لگا تھا۔

اسکی سحر کا آغاز اور دن کا اختتام میرب اعجاز سے ہونے لگا تھا۔

”آج کالج نہیں گئیں۔“

”اوں ہوں۔“

اس کی آواز میں تازگی نہیں تھی۔

”تم ٹھیک تو ہو میرب!“

”ہاں! میں بزی تھی۔ گھر میں کچھ گیسٹ آئے ہوئے ہیں۔“

اس نے ٹالا، حالانکہ درید انداز ہ لگا گیا تھا کہ وہ کچھ چھپا رہی تھی۔

”تم ٹینس ہو!‘

”کچھ پرسنل پرابلم ہیں بس۔“

اس کا مطلب ہے کہ تم مجھے اس قابل بھی نہیں سمجھتیں کہ اپنے پرابلمز شیئر کر سکو۔“ اس نے افسوس سے شکوہ کیا۔

”شاید ابھی آپ سے شیئر نہ کرنا میری مجبوری ہو۔“

اس کے لہجے میں مان تھا۔

”اوکے، ایز یُو وِش۔“

اس نے بنا خفا ہوئے سہولت سے فون بند کر دیا تھا۔

دو تین دن وہ بھی مصروف رہا جو اس نے میرب کو کونٹیکٹ نہیں کیا۔ مگر اس دن دوپہر میں وہ جلدی گھر آ گیا تب ہی راستے میں میرب بھی کالج سے آتے ہوئے اسے ملی تھی۔

درید نے قطعاً راستے میں اسے مخاطب نہیں کیا مگر گھر آ کے پہلا کام اسے کال کی تھی۔

”میں نے ابھی ابھی تمہیں دیکھا ہے، تم بہت ڈسٹرب لگی ہو۔“

”ہاں!“ اس نے اعتراف کیا تھا۔

”کیا وجہ ہے….؟“

اس نے پوچھا اور وہ بتاتی بھی، مگر تب ہی اسے میرب کے پیچھے بہت تیز آوازیں سنائی دی تھیں۔

”درید میں خود آپ کو کال کرتی ہوں، ابھی پلیز کچھ۔“

”نیور مائنڈ۔“ اسے خود تشویش ہوئی تھی کہ پرابلم کیا ہے۔

”خفا تو نہیں ہوئے۔“

”کم آن میرب! جنہیں چاہا جاتا ہے ان کے دکھوں اور پریشانیوں کو سمجھنا بھی انسان پر فرض ہے۔“

”تھینکس….“

میرب نے فون بند کر دیا مگر وہ الجھ گیا۔ اس کے پیچھے جو چیخنے کی آوازیں تھیں اور اس الجھن کو امی سلجھا سکتی تھیں۔

”امی! اعجاز انکل کے گھر میںکوئی ٹینشن ہے۔“

بات تو بے ہوش ہونے والی تھی۔ ان کا بیٹا اپنی ذات سے نکل رہا تھا۔ ماں خوش تھی۔

”ہاں بس! لڑکیوں کے ماں باپ بھی عمر بھر فکرمند رہتے ہیں۔ اللہ پاک تمام بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔“

امی تو اسے مزید الجھن میں ڈال گئیں۔

”کیا ہوا، مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اعجاز بھائی کا۔“ ابو بھی شریک گفتگو ہو گئے۔

”آئے ہوئے ہیں بچی کے سسرال والے۔ عمران بھی آیا ہے۔ اللہ پاک لڑکے کو ہدایت دے۔“

امی اس کی ساری حسیں بیدار کر گئی تھیں۔ بچی کے سسرال والے کہہ کے۔

”پھول سی بچی مرجھا کے رہ گئی۔“ امی تاسف سے سر ہلانے لگیں۔

”آپ بھی خبر لے لیا کریں۔ اعجاز بھائی پوچھ رہے تھے آپ کا۔“

امی ابو سے مخاطب ہو گئیں اور درید عباس پر سانسیں بھاری ہونے لگیں۔ اسے جانے کیوں انہونی کا وہم ستانے لگا۔ وہ امی سے تو کچھ نہیں پوچھ سکا، ہاں رات میں یاسر سے ایویں سرسری سا ذکر چھیڑا تو اس پر تمام راز کھل گیا۔

”اعجاز انکل کی بیٹی نے لو میرج کی تھی اپنے کزن سے…. مگر چھ ماہ بعد ہی گھر میں جھگڑے شروع ہو گئے اور تقریباً سال بھر سے وہ یہیں ہے۔ اب سنا ہے کہ اس کا شوہر اور سسرال والے آئے ہیں اسے لینے۔“

”وہ تو پڑھ رہی تھیں ناں!“ درید نے اٹکتے ہوئے پوچھا۔

”اس کی تعلیم ادھوری رہ گئی تھی، پھر اس نے وقت بھی تو گزارنا تھا۔ بہت پریشان رہی ہے وہ۔“

مزید کچھ پوچھنا بے کار تھا۔ اس کی آنکھوں میں مرچیں سی لگنے لگیں۔

”اوکے یار! میں تو سونے جا رہا ہوں، نیند آ رہی ہے۔“

وہ یاسر کو ٹال کرکمرے میں آ گیا۔

”میں انجان تھا۔ کم از میرب مجھے بتا کر میرے بڑھتے قدم روک دیتی۔ عورت کتنی ہی سادہ مزاج ہو، خود پر اٹھنے والی نگاہ کا مفہوم جان لیتی ہے۔ میرب میرے احساسات سے انجان نہیں تھی۔

غلطی میری ہے۔ میں نے کبھی میرب کے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اس سے کبھی اس کی ذات کے حوالے سے اس کی فیملی کے حوالے سے کچھ نہیں پوچھا۔

شاید میں نے اپنی غلطی سے یہ ٹھیس کھائی ہے۔

بس محبت کا یہ روگ ایسا لگا کہ اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا۔ وہ تو بھرے گھر میں رہ کر ہمیشہ صرف اپنی ذات میں مگن رہا، مگر اب تو جانے اس پر عجیب سی کیفیت طاری تھی۔

اس نے حقیقت جاننے کے بعد دوبارہ میرب سے رابطہ کرنے کی کوشش نہ کی۔ البتہ پہلی بار میرب نے اسے خود کال کی تھی جو اس نے بنا اٹینڈ کیے کاٹ دی تھی۔

ایک محبت ان تمام محبتوں پر ایسی حاوی ہوئی کہ اس نے اپنا گھر، ماں باپ، بھائی شہر تک چھوڑ دیا اور پچھلے دو سال سے وہ یہاں تھا۔

فون پر رابطہ بھی گھر والے خود کرتے تھے اور جس دن بات ہوتی تھی ان سے درید عباس کے من میں پہلی نظر کی محبت پھر بین کرنے لگتی۔ اس کے دل میں میرب اعجاز آج بھی اسی مقام و مرتبے پر تھی۔ نہ محبت کم ہوئی تھی نہ عزت۔ بس ایک پہیلی تھی جو وہ سلجھا نہ سکا۔ ایک بات تھی جو دو سال سے اسے الجھا رہی تھی کہ جب میرب نے لو میرج کی وہ اپنے گھر واپس چلی بھی گئی تو وہ کیوں اسے کال کرتی تھی۔ میرب نے ان دو سالوں میں کئی بار اسے کال کی تھی، جو اس نے اٹینڈ نہیں کی اور اس کا ایس ایم ایس تو آج بھی اس کے اِن باکس میں Saved تھا۔

وہ کیوں اس سے بات کرنا چاہتی تھی۔ وہ کیا کہنا چاہتی تھی!“

مگر سونے سے پہلے وہ ایک بار اس کا میسج ضرور ریڈ کرتاتھا۔

”Where are you?“۔ آپ کی ضرورت شدت سے محسو س ہو رہی ہے۔ پلیز کال می۔“

اس کے الفاظ درید عباس کی سب سے بڑی الجھن ہے۔“

ض……..ض……..ض

وقت نے دھیرے دھیرے انہیں قریب کر دیا۔ وہ ایک دوسرے کے دکھ سے واقف تھے، سمجھتے تھے بلکہ اسفند ضیاءکو تو لگتا تھا کہ وہ چاروں ہی اس کے لیے اہم بنتے جا رہے ہیں۔

”یک نہ شد دو شد، بگ بی! آپ بھی نہال کو فیور کرتے ہیں۔ مجھ سے بھی پیار کر کے دیکھیں، میں بھی برا نہیں۔“

”تجھے پیار کرنے والیاں بہت ہیں، ہمارے پیار کی تجھے ضرورت نہیں۔“ درید نے فوراً کہا تھا۔

”کل کس کو لیے بائیک پر گھوم رہا تھا۔“

”اتنا بڑا الزام میری شرافت پر۔“ احتجاج کروں گا،دھرنا دوں گا۔“ طلال نے چلا کر کہا۔

”چھتر بھی کھائے گا۔“ بلال نے لتاڑا۔

”ایویں ہمارے ہاں دھرنے کا رواج عام ہے۔ ہمیشہ دھرنے دینے والوں کی مانی جاتی ہے۔“

”تجربہ کر کے دیکھ لے پھر۔“ درید نے اکسایا۔

”نہ بابا…. اکثریت میری مخالف ہے، اقلیت کو ہمیشہ مار پڑتی ہے۔“ وہ ڈر گیا۔

”کاکا سمجھدار ہو گیا۔“

”اس ملک کا بچہ بچہ سیاست میں ہی سمجھدار ہے کیونکہ اسے ایک ہی سبق پڑھنے کو ملتا ہے، سیاست، سیاست، سیاست۔“

”اس ملک کے بچے ہی تو ناسمجھ ہیں، انقلاب ہمیشہ نوجوانوں نے برپا کیا ہے مگر آج کا نوجوان کیا سوچتاہے؟“

”یہ ہی کہ اس کی گرل فرینڈز کی تعداد اس کے دوست سے کم کیوں ہے۔ اس نے کونٹیکٹ میں لڑکیوں کے نمبر کی گنتی کم ہے۔ ہمارے ملک میں ہر چیز کا استعمال غلط ہوتا ہے چاہے وہ موبائلز ہوں یا انٹرنیٹ۔“

”مجھ پر ڈائریکٹ اٹیک نہ کریں، یہ سارے معاشرے کا المیہ ہے۔“ طلال نے کہا۔

”ہم سارے معاشرے کی ہی بات کر رہے ہیں۔“

”معاشرہ سدھارنا حکمرانوں کا کام ہے، ہمارا نہیں۔“

”یہ ہی خامی ہے ہمارے اندر طلال، تبدیلی اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔“

اسفندنے رسان سے سمجھایا۔

”لگتا ہے آپ کو اس ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے جس ملک میں ساٹھ سال سے چہرے تبدیل نہیں ہوئے جہاں حکومت وراثت سمجھ کر کی جاتی ہے۔ جہاں تعلیم و شعور کا فقدان ہے۔“

”اور یہ شعور کون آ کر بیدار کرے گا ہم میں۔ اب اقبال نہیں آئے گا جوانوں کو جگانے۔ یہ شعور ہمیں خود بیدار کرنا ہو گا اپنے اندر تبدیلی ہمیشہ اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔“

”او گاڈ! کس بحث میں پڑ گئے یار، چینج دی ٹاپک۔“ طلال نے کہا۔

”کب سدھرے گا طلال تو….“ اسفند نے اسے گھورا۔

”خدا کی قسم اگر آپ ساتھ رہے تو وہ دن ضرور آئے گا۔“

طلال واقعی اسے آئیڈیالائز کرتا تھا۔ اس کی مقناطیسی شخصیت سے بہت انسپائر تھا وہ۔

”کوئی مرد اتنا وجیہہ ہو کہ لڑکیاں اس پر مرتی ہوں اور اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کا راستہ بہت اچھا ہے۔ اللہ مجھے بھی ہدایت دے۔“

”چنگا مکھن لگا دیا۔“

نہال کی زبان پر کھجلی ہوئی۔اسفند مسکرا دیا اور طلال چڑ کے نہال کو مارنے لگا تھا۔

ض……..ض……..ض

اتنا گہرا ملال درید عباس کے چہرے پر پہلی مرتبہ تھا۔ اسے وقتی دورہ تو پڑتا رہتا تھا مگر دو دن گزرنے کے بعد بھی اس کے چہرے پر وہی کیفیت تھی۔

”سیریس میٹر ہے کوئی، تو کبھی اتنا اداس نہیں ہوتا۔“

”اسفند…. ابو کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔“

”واٹ؟ اور تو اب تک یہیں بیٹھا ہے۔“

اسفند نے تاسف سے اسے دیکھا جس کے چہرے پر کرب جھلک رہا تھا۔

”وہاں جانے کا حوصلہ نہیں پڑتا یار۔“

”ایک لڑکی کی محبت اتنی حاوی ہے تم پر…. کہ تم نے جنم دینے والے ماں باپ، اپنا گھر ہر رشتہ چھوڑ دیا۔ خوش نصیب ہو درید عباس کہ یہ نعمت میسر ہے۔ سر پر دعائیں دینے والی ماں کا سایہ، باپ کی پُرشفقت نگاہیں اور تمہارے لیے تڑپنے والا بھائی ہے۔ شکر ادا کرو اس رب کاجس نے اتنا نوازا ہے تمہیں اور صبر کرو اس پر جو تمہارا نصیب نہیں تھی۔“

اسفندنے قدرے سختی سے اسے ڈانٹا تھا۔

”کیسی اولاد ہو تم، تمہارے ابو تکلیف میں ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہو۔“

”مجھے خبر ہے نا کیسے خود پر جبر کرکے بیٹھا ہوں۔“

”وائے کس نے کہا ہے…. جبر کرنے کو…. اٹھو تیاری پکڑو۔“

اسفندنے اسے جیسے جھنجھوڑا تھا۔ درید عباس اگلے لمحے بیگ تیار کر رہا تھا۔ اسفند اسے خود اسٹیشن چھوڑنے گیاتھا۔

”سفر میں زیادہ ٹینشن نہ لینا۔ گھر پہنچ کر اپنی اور انکل کی خیریت ضرور بتانا مجھے۔“

”اپنا خیال رکھنا، اوکے۔“

”اوکے مائی ہاف وائف۔“

”بڑا کمینہ ہے تو۔“

اسفندنے مسکرا کے اسے گلے لگایا تھا۔ جانے کیوں اسے درید عباس میں سعد رسول نظر آتا تھا۔ تب ہی تو وہ اتنا قریب آ گیا تھا اس کے۔“

شام میں گھر سونا لگا تو اس نے لائبریری کا رُخ کر لیا۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ اس کی عادت بن گئی تھی۔ وہ اکثر ہی یہاں آ جاتا تھا۔

”آپ یہیں بیٹھ کر مطالعہ کریں ہم یہ کتاب آپ کوایشو نہیں کر سکتے۔“

وہ پچھلے پانچ منٹ سے اس لڑکی کے ساتھ لائبریری انچارج کی بحث سن رہا تھا۔

”میں یہاں نہیں بیٹھ سکتی، پلیز!“

”ایم سوری بی بی! ہماری بھی مجبوری ہے۔“

اس نے صاف انکار کر دیا۔ لاچار وہ لڑکی خاموشی سے کتاب لیے وہیں بیٹھ گئی مگر اس کے چہرے پر ملال سا تھا۔ اسفند نے کئی بار اس لڑکی کو لائبریری میں دیکھا تھا۔ وہ یہیں بیٹھ کر اپنے نوٹس بناتی تھی۔ آج اس کی کوئی مجبوری ہو گی جو وہ کتاب لے کر جانا چاہتی تھی۔ انسانی ہمدردی کے تحت اس لڑکی پر ترس سا آیا تھا۔ اس کی نظر لمحہ بھر کو اٹھی، پھر وہ اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہو گیا۔

”ایکسیوز می….“

ابھی چند منٹ گزرے تھے کہ وہ آواز پر چونکا۔ وہ ہی لڑکی اس کے سامنے تھی۔

”ایم سوری! ہے تو غیر اخلاقی حرکت، مگر مجھے یہ کتاب چاہیے تھی۔ مجھے اسائنمنٹ مکمل کرنا ہے۔“

”شیور، وائے ناٹ۔“ اسفند نے کتاب بند کر کے اسے تھما دی مگر اسے یہ پتا چل گیا وہ تاریخ اسلام پر اسائنمنٹ بنا رہی ہے۔

”تاریخ اسلام کی سٹوڈنٹ ہیں آپ!“

ایک عرصے بعد وہ کسی صنف نازک سے مخاطب تھا۔

”جی!“ مختصر سا جواب دے کر وہ اس سے دو کرسیاں چھوڑکر بیٹھ کر لکھنے لگی تھی۔

”میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں….؟“

’آ….!!“

لڑکی نے بے حد حیرت سے اسے دیکھا۔

”جی! کیونکہ مجھے اسلامی ہسٹری بہت پسند ہے۔“

”رئیلی!“ ایک اشتیاق تھا جو اس کے معصوم چہرے پر اترا تھا۔

اس نے پیڈاس کے سامنے رکھ دیا تھا۔

”مجھے آج جلدی گھر جانا ہے،میری مما کی طبیعت خراب ہے۔“ وہ خود ہی بتانے لگی۔

”آپ کو ٹرسٹ ہو تو آپ چھوڑ جائیں، میں مکمل کر دوں گا۔“

”تھینکس! میری مما اکیلی ہیں ہاسپٹل میں، مجھے ان کے پاس جانا ہے۔“

”اللہ آپ کی مما کو صحت کاملہ عطا کرے۔ آپ فکر نہ کریں جائیں۔“ اس نے ہمدردانہ لہجے میں کہا تھا۔

ض……..ض……..ض

دو سال کے بعد اپنے گھر میں قدم رکھا تھا مگر یہاں آ کر ایسا لگا کہ دو سال کہیں درمیان آئے ہی نہیں تھے۔ گلی سے لے کر گھر تک کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ آج بھی براﺅن گیٹ کے باہر اعجاز عارف ایڈووکیٹ کے نام کی پلیٹ نمایاں تھی۔ وہ لب کچلتا اندر آ گیا۔ صحن میں ہر چیز یوں ہی رکھی تھی جیسے وہ چھوڑ کے گیا تھا۔ گملوں کی تعداد اور ترتیب تک نہ بدلی تھی۔

بوگن ویلیا کی بیل آج بھی ساری دیوار پر پھیلی ہوئی تھی۔ انار کے پیڑ کے پتے اب بھی سبز تھے۔ چارپائیاں وہی تھیں۔ برآمدے تک آیا تو وہاں بھی ہر چیز ویسی تھی، حتیٰ کہ امی نے اس کی مخصوص چیئر جس پر بیٹھ کر وہ پڑھتا تھا، ہلائی تک نہ تھی۔

”درید….“

یاسر کی پہلی نظر پڑی تھی اس پر۔

”امی، ابو درید آ گیا….“

وہ زور سے چیختا اسکے گلے لگ گیا تھا۔ امی بھی باہر آ گئیں۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ درید نے انہیں بانہوں میں سمیٹ لیا۔

”جیتے جی ہی مار بیٹھا ہمیں۔ پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔“

ان کی بات پر وہ شرمندہ تھا۔ امی بہت کمزور ہو گئی تھیں۔

”ایم سوری…. اچھا ابو کہاں ہیں….؟“

”اپنے کمرے میں ہیں۔“

یاسر کے بتانے پر وہ خاموشی سے ان کے کمرے میں آیا تھا۔ ابو سو رہے تھے یا شاید دواﺅں کے زیراثر تھے۔ وہ ہولے سے چلتا ان کے پاس آ بیٹھا تھا۔ کتنے ویک ہو گئے تھے۔ چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ اسے شدت سے افسوس ہونے لگا کہ وہ کیوں دور رہا اتنے عرصے…. اپنے گھر، اپنے ہر رشتے سے شاید اس کے وجود کا احساس تھا کہ ابو نے آنکھیں کھولی تھیں۔

”درید….“ ان کے لب ہولے سے ہلے تھے۔ درید نے آگے بڑھ کر ان کاہاتھ تھام لیا۔

”تو آ گیا….“

”جی! کیسے ہیں آپ….!“

”تجھے دیکھ لیا ناں، اب ٹھیک ہوں۔“

نقاہت بھری آواز اسے شرمندگی کی اتھا گہرائیوں میںڈبو گئی۔ وہ چھوٹا تھا اسی لیے ابو کا لاڈلا تھا۔ اپنی تمام تر لاپرواہی کے ساتھ بھی انہیں عزیز تھا۔

”ابو آپ آرام کریں۔“

اس نے ابو کا ہاتھ لبوں سے لگایا۔ وہ ان کے پاس بیٹھا رہا، جب تک ابو سوئے نہیں۔ پھر باہر آ گیا۔

”حد ہو گئی، دو سال ہو گئے منگنی کو آپ نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ شادی کر دیں اس کی ریٹائرمنٹ لے لیں گھر کے کاموںسے۔“

امی کو کام میں مصروف دیکھ کر وہ بولا تھا۔

”تو آ گیا ہے ناں، اب دونوں کی ساتھ کروں گی۔“

”میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔“

”کتنی دیر لگتی ہے ارادہ بنتے۔ یوں بھی مشرقی لڑکا ہے۔ ارادہ تو امی نے بنا لیا ہے، تو نے صرف سہرا باندھ کے جانا ہے۔“ یاسر نے چھیڑا۔

”ہاں! کاٹھ کا الو ہوں نا میں۔“

اس نے گردن جھٹکی۔ ہمیشہ ہی صرف اپنی مانتا تھا وہ۔

”یہ لاپرواہی چھوڑ دے درید۔ چھبیس سال کا ہو چکا ہے۔ میچور ہے، سمجھدار ہے اور پھر شادی کی ایک عمر ہوتی ہے۔“

”وہ لڑکیوں کی ہوتی ہے۔“ فوراً جواب دیا۔

”خدا کے لیے بدل لو خود کو، ابو کی طرف دیکھو! بے موسم کے پھل اچھے لگتے ہیں نہ پھول خوشبو دیتے ہیں،امی ٹھیک کہہ رہی تھیں۔“

شادی کی بھی تو عمر ہوتی ہے۔

”ہاں تو، تُو کر لے دوسال بڑا ہے مجھ سے۔“

وہ کب ہاتھ آنے والا تھا۔

”امی سے کام نہیں ہوتا۔ ساری زندگی ملازم رکھنے کے خلاف رہیں اور اب دیکھو یہ گھر ملازموں کے سپرد ہے۔ صرف کچن کا کام امی کرتی ہیں۔ یاسر نے بتایا۔

”شرم کر، یہ نہیں ہوا کہ بیوی لا کر ماں باپ کی خدمت کرواتے۔“ وہ درید عباس تھا، مجال ہے کہ ذرا بھی اثرلے۔

”اچھا چل اندر چلتے ہیں۔“

”نہیں، یہاں مزہ آرہا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے۔“

وہ چارپائی پر پھیل کر لیٹ گیا۔

دروازہ کھول کر وہ آئی تھی جو پہلی بار کی طرح آج بھی اس کی ساری توجہ کھینچ گئی اور وہ ان کے پاس سے گزر کے یاسر سے ہیلو ہائے کرتی اندر چلی گئی۔ درید کی نظروں نے کچن تک اس کا پیچھا کیا تھا۔

”ہوش میں آ جاﺅ میاں۔“

”یہ کون ہے یاسر۔“

اس نے یہ جان بوجھ کر انجان بننے کی ایکٹنگ کی، حالانکہ دل کی دھڑکن اس کانام پکار رہی تھی۔ میں نے دنیا تیاگ دی، وہ مجھے یوں بھول گا۔

”کوئی فائدہ نہیں، وہ میرڈ ہے۔“

یاسر ے چھیڑا، اس نے گھورا۔

”ہے کون….؟“

”اعجاز انکل کی بیٹی ریحاب۔“

یاسر نے بتایا تو وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا۔

”کیا! کیا نام بتایا تو نے۔“

”ریحاب! یہ رہنے آئی ہوئی ہے۔ امی کی طبیعت کی وجہ سے اکثر ان کی ہیلپ کرنے آ جاتی ہے۔“

”اعجاز انکل کی بیٹی کانام تو میرب نہیں تھا۔“

”ہاں! وہ مگر دوسری ہے۔ یہ دونوں ٹوئنز ہیں ناں…. ریحاب کی شادی جلدی ہو گئی تھی۔ میرب ماسٹرز کر رہی ہے۔“

”واٹ….!!“

اس کے پیروں تلے گویا زمین کھینچ لی تھی کسی نے۔

”ان کی دو بیٹیاں ہیں؟“

”ہاں! تجھے نہیں پتا….؟“

یاسر نے اچنبھے سے دیکھا اور وہ کہہ تک نہ سکا کہ اگر پتہ ہوتا تو دو سال وہ یہاں سے دور جا کر کیوں گزارتا۔

زندگی میں پہلی بار درید عباس کو اپنی نیچر کی لاپرواہی بہت بُری لگی تھی۔ دو سال گنوا دیے…. دو پل بھی کر یہ ہی بات پہلے امی یا یاسر سے پوچھ لیتا تو آج یوں نہ بیٹھا ہوتا۔

”تیرے چہرے پر یہ ہوائیاں کیوں اُڑ رہی ہیں۔“

یاسر نے اب اس کے چہرے پر غور کیا تھا۔

”بس یار، افسوس ہو رہا ہے کہ میں دو سال اپنے گھر سے دور رہا، کاش میں خود کو بدل لیتا تو یہ لمحے نہ گنواتا۔“

”دیر آید، درست آید….“

یاسر نے مسکر کر کہا۔ پھر سنجیدہ ہوا۔

”ایک بات اور پوچھوں۔“

”ہاں! میرب کی کال کیوں اٹینڈنہیں کی تو نے۔“

”تجھے پتا ہے کہ اس نے مجھے کال کی تھی۔“

”ہاں‘ تو نے نمبر بدل لیا تو اس نے مجھ سے تیرا نیا نمبر لیا تھا۔“

یاسر نے بغور اس کا چہرہ دیکھا۔

”تیرے اور میرب کے بیچ کچھ ہے درید….“

”اگر کچھ تھا بھی تو میری اپنی غلطی کی وجہ سے ختم ہو گیا۔“ وہ گہری سانس لیتا اٹھ گیا۔

ض……..ض……..ض

"Where are you Asfand Zia? Please call me back.”

وہ عشاءپڑھ کر گھر آیا تو اس نے سیل چیک کیا۔ چھ مِس کالز اور تین SMS درید عباس کے آئے ہوئے تھے۔ اس نے فوراً ہی کال کی تھی۔

”کہاں مر گیا تھا…. کال کر کر جان آدھی رہ گئی میری۔“ بنا سلام دیا کیے اسٹارٹ ہوا تھا وہ۔

”ایم سوری یار! موبائل Silent Mode پر تھا، مجھے پتا نہ چلا۔“

”تجھے پتہ نہیں چلے گا کسی دن میں بھی Silent Mode پر چلا جاﺅں گا۔“

”اچھا بک نہیں،یہ بتا انکل ٹھیک ہیں۔“

”ہوں، ہی از فائن ناﺅ۔“

”تھینکس گاڈ…. پھر کب آرہا ہے؟“

”ایک دو دن میں….“ آجا یار میرا تو دماغ خراب ہو یا ہے ان کے واویلے سن کر…. یو نو، طلال صرف تیری زبان سمجھتا ہے۔“

”سچ اسفند، دال میں ضرور کالا ہے۔ پہلے بلال مہینوں گاﺅں نہیں جاتا تھا اور اب ہفتے کے پانچ دن بعد بھاگ جاتا ہے۔ کوئی چکر تو ضرور ہے۔“

”جوبھی چکر ہے، آ کے دریافت کر لینا۔ اس وقت صرف اپنی اور میری بات کر۔“

”کیا بتاﺅں یار، مجھ سے بڑا بھی کوئی گھامڑ نہیں ہے۔“

”کیوں، کیا ہوا….؟“

”آ کے بتاﺅں گا….“

”ابھی بتادے یار، رات بھر نیند نہیں آئے گی ورنہ….“

”مجھے الزام نہ دے،تجھے پہلے کون سا نیند آتی ہے۔“

”جس دن سے تو گیا ہے بالکل بھی نہیں آتی۔“

”ہائے میں مر جاواں، خیر ہے جان من۔“

”تیرے خراٹوں کی ایسی عادت پڑی کہ اب سناٹے سے خوف آتا ہے۔“

درید عباس کو اس سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی، تب ہی گلا پھاڑ کے ہنسا تھا۔

”پہلے بتاتا میں بلال کو کہہ دیتا تیرے پاس سو جاتا۔ صرف خراٹے ہی نہیں پیار کی سرگوشیاں بھی سننے کو ملتیں۔“ (بلال کو نیند میںبولنے کی عادت تھی)

”یا پھر طلال کو سلا دیتا…. ایسے لپٹ کر سوتا کہ….!!“

”اوکے،اسٹاپ اٹ پلیز!“

”بھول گیاکہ درید عباس سے بات کر رہا ہے۔“

”چل سو جا اچھا…. پھر رات بھر مجھے کوسے گا۔ حالانکہ رات بھر تو نے مچھروں سے ہی مذاکرات کرنے ہیں۔“

”ملتان میں مچھر نہیں ہوتے۔“

”بس میرے باپ اللہ حافظ!“

”درید زور سے ہنسا تھا اس کی بے بسی پر۔“

”کاش درید عباس تو میرے پاس ہوتا۔“

”کیوں، میری جدائی میں کچھ کچھ ہو رہا ہے۔“

”گڈ نائٹ!“

اسفند کی برداشت ختم ہو گئی تو اس نے کال کاٹ دی۔ یہ اور بات ہے کہ فون بند کر کے وہ خود بھی ہنس پڑا۔

ض……..ض……..ض

اگلے دن عصر کے بعد وہ پھر امی کے پاس بیٹھی تھی۔ درید کو ذرہ برابر بھی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس میں اور میرب میں تمام وہ ہی نقش تھے۔

”امی چائے پینی ہے۔“

حالانکہ دو سال سے یہ سارے کام وہ اپنے ہاتھوں سے کرتا تھا مگر ماں سے لاڈ اٹھوانے کا مزہ ہی اور تھا۔ ریحاب نے ناگواری سے اسے دیکھا۔

”بیٹھیں آنٹی، میں چائے بنا لاتی ہوں۔“

وہ سبزی بناتی اٹھ کر چلی گئی۔ امی بھی سبزی اٹھا کر اس کے پیچھے چلی آئیں۔

”میرب کیسی ہے….؟“

غیرمتوقع سوال پر ریحاب چونکی تھی۔

”بڑی جلدی خیال آگیا ہے تمہیں اس کا۔ دو سال تک خبر بھی نہ لی کہ زندہ بھی ہے یا مر گئی۔ تمہاری بے رُخی سہہ کر۔“

”اس تمام غلط فہمی کی وجہ تم ہو۔“

اس نے صاف گوئی سے ساری الزام اس پر ڈالا تھا۔ ریحاب نے اسے دیکھا۔

”مجھے نہیں پتا تھا کہ تم دو بہنیں ہو۔ مجھے لگا کہ میرب کی شادی ہو چکی ہے۔ سو میں یہاں سے چلا گیا۔“

”کتنی بار اس نے تمہاری یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے کال کرنے کی کوشش کی مگر تم نے کال نہیں سنی۔“ امی کی ڈیتھ کے بعد وہ بالکل تنہا پڑ گئی۔ اس وقت میں اسے تمہاری کمی شدت سے محسوس ہوئی…. مگر تم تو ایسے گئے کہ پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔“

”آنٹی کی ڈیتھ…. کب ہوئی….؟“

”ڈیڑھ سال ہو گیا ہے۔“

”یعنی اس کے جانے کے چھ ماہ بعد ہی وہ۔“

”ایم سوری ریحاب….! بخدا میں ہر چیز سے لاعلم ہوں۔میں تم سے بھی معافی مانگتا ہوں، اس سے بھی شرمندہ ہوں۔“

”مانا کہ غلط فہمیاں ہو جاتی ہیں مگر درید تمہیں ایک بار اپنے اس شک کو یقین میں بدلنے کے لیے سہی میرب سے پوچھنا چاہیے تھا۔“

”ضرور پوچھنا چاہیے تھا۔ مگر مجھے لگا کہ پہلے ہی اس کی میرڈ لائف ڈسٹرب ہے، کہیں میرا فون مزید مشکلات پیدا نہ کر دے۔“

”میرڈ لائف۔“ ریحاب بڑبڑائی۔

”اب قصور تو سارا تمہارا ہے ناں! تم میرے اور میرب کے بیچ فاصلے کی وجہ بنی ہو۔“

”صحیح، کمزوریاں اپنی، الزام میرے سر۔“ تمہاری عادت کا علم ہے مجھے۔ انکل آنٹی کتنے نالاں ہیں تمہاری عادتوں سے۔“

محبت کرتے تھے مگر کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ میرب اعجازکون ہے۔ ان کی فیملی کیسی ہے۔“

”میں نے سوچا تھا عمر پڑی ہے جان لوں گا۔“ اس نے خجل ہو کر سر کھجایا۔“

”اچھاپھر عمر پڑی ہے، مناتے رہنا میرب اعجاز کو۔ جواب تمہاری شکل دیکھنے کو بھی تیارنہیں ہے۔“

”یوں تو مت کہو، کوئی تو ہیلپ کردو میری۔ دو سال پہلے ہی اپنے ہاتھوں سے گنوا چکا ہوں۔“ اس نے معصوم بننے کی ایکٹنگ کی۔

”میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی۔میرے میاں مجھے لینے آ گئے ہیں، میں سویرے ملتان جا رہی ہوں۔“

”رئیلی! تم ملتان میں رہتی ہو۔“

”ہاں! میرا سسرال ہے وہاں۔“

”بس پھر میں تمہارے گھر کے سامنے دھرنا دوں گا کہ اس لڑکی کی وجہ سے میری زندگی برباد ہو گئی۔ میری محبت مجھ سے روٹھ گئی۔“

”جوتے بھی کھاﺅ گے، تمہیں شاید علم نہیں کہ میرے میاں ایس پی ہیں۔“

اس کے بتانے پر وہ منہ بنانے لگا۔

”اس کا سیل نمبر دے دو، خود منا لوں گا۔“

”خود ہی لے لینا۔“ وہ اسے چڑاتی وہاں سے ہٹ گئی۔

ض……..ض……..ض

”تھینک یو۔“

وہ توجہ سے اسٹڈی کر رہاتھا جب شناسا سی آواز پر چونکا۔ نگاہیں اٹھائیں تو سیاہ اسکارٹ کے ہالے میں وہ ہی چہرہ پُروقار مسکراہٹ لیے کھڑا تھا۔

”اس دن آپ میری ہیلپ نہ کرتے تو میرا اسائنمنٹ مکمل نہ ہوتا۔“

”اٹس مائی پلیژر!“ وہ مسکرا کر بولا۔

”آپ کی مما کیسی ہیں….؟“

”بہتر ہیں،مگر ابھی چھٹی نہیں ملی۔“

”تو آپ کے فادر۔“

”میرے پاپا کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔ میں اور مما اکیلے ہیں اس دنیا میں۔“ وہ یکدم سنجیدہ ہو گئی۔

”او، ایم سوری! آپ کی مما کو کیا ہوا ہے؟“

”ہارٹ پیشنٹ ہیں۔ اکثر ہی بیمار رہتی ہیں، جب سے پاپا گئے ہیں۔“ اس نے کہا۔

”ویری سیڈ!“ اس نے دکھ بھرے انداز میں کہا تھا۔ ان دونوں کا ایک ہی شوق تھا مطالعہ اور پھر وہ تو ماسٹرز کر رہی تھی اسلامک ہسٹری میں۔

اب روز ہی تقریباً ا نکی ملاقات ہوتی تھی۔ مگر دونوں بہت محتاط اور اخلاق کے دائر میں ضرورت کی بات کرتے تھے۔ اسفند اس کی مما کی صحت کے متعلق ضرور پوچھ لیتا تھا اور اسے اپنے ٹاپک کے لیے اگر اس کی ہیلپ درکار ہوتی تو وہ لازماً پوچھتی تھی۔ وہ احتراماً اسے سر کہتی تھی۔ اس نے اپنا نام حریم فاطمہ بتایا تھا۔

وہ آج بھی کافی دیر تک اس کے ساتھ نوٹس بنواتا رہااور جب گھر پہنچا تو سب کی مشکوک نظریں خود پر پائیں۔

حالانکہ عام دنوں کی نسبت لاﺅنج کا ماحول کافی پُرسکون تھا۔ نہال اور طلال بھی اچھے موڈمیں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔

چونکہ گرمیاں عروج پر تھیں اس لیے بلال نے سب کے لیے چائے کے بجائے مینگو شیک بنا رکھا تھا۔

”بگ بی! بڑی مشکوک ٹائمنگ ہے آج کل آپ کی۔“

طلال اسے صوفے پر لیٹتا دیکھ کر بولا تھا۔

”کیوں….؟“

”شام میں کہاں ہوتے ہیں روز۔ بدنام مجھے کیا ہوا ہے۔ اللہ گواہ ہے کہ میں شام گھر پر گزارتا ہوں۔“

اس نے ایکٹنگ کی تو وہ ہنس دیا۔

”سچ بتا، تیری نئی ہیئر کٹنگ کے بعد کوئی لفٹ شفٹ۔“

نہال ہاتھ آیا موقع کیسے جانے دیتا۔ طلال کے دل پر چھریاں چل گئیں۔

”سب بلال بھائی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہر ہفتے گاﺅں جاﺅ۔“

”گاﺅں جانے سے بال کٹوانے کا کیا تعلق۔“ اسفنداس کا واویلا انجوائے کر رہا تھا۔

”ابا جی نے ڈانٹ ڈانٹ کر کٹوا دیے۔“

”مجھے تو تم اچھے لگ رہے ہو اس نئے لُک میں۔“

”ہاں! آپ کو تو اچھا لگوں گا۔ میرے خوبصورت بالوں سے تو آپ کی ویلیو کم ہونے لگتی ہے۔“ اسفند ہنس دیا۔

”درید نہیں آیا…. دل نہیں لگ رہا اس کے بنا۔“

”بڑی عجیب لو اسٹوری ہے دریدبھیا کی بھی۔“

”ہوں….“ ٹاپک پیار محبت کا ہو وہ جانے کیوں کتراتا تھا۔ اب کے بھی یہ ہوا مگر اس بار طلال نے اسے پکڑلیا۔

”وائے بگ بی! ذکر محبت کا ہو، آپ نگاہ کیوں چرا لیتے ہیں۔“

وہ سمجھا تھا اس کی خاموشی موضوع بدل دے گی، بٹ آج تو طلال نے حد کر دی، ڈائریکٹ پوچھ ڈالا۔

”اس لیے کہ میرے نزدیک یہ وقت کا زیاں ہے۔“

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے