سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 3

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 3

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 3

”جانتی ہو صالح انکل اور آنٹی عائشہ اس بار پاکستان کیوں آئے ہیں؟“

وہ آج کل اپنے امتحانات میں کافی مصروف تھی یہ ہی وجہ تھی کہ پچھلے پورے ایک ہفتہ کے دوران اس کی ملاقات انکل صالح سے صرف دو چار بار ہی ہوئی تھی اور ویسے بھی وہ دونوں میاں بیوی جب سے پاکستان آئے تھے اپنی بیرونی سرگرمیوں میں ہی مصروف تھے اور عام طور پر گھر بھی کم ہی نظر آتے تھے اور اب جو اچانک شفا نے ان کے حوالے سے اسے مخاطب کیا تو اس کی بورڈ پر چلتی ہوئی انگلیاں یکدم ساکت ہو گئیں اور اس نے پلٹ کر شفا کی جانب دیکھا جو اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

”وہ تمہارے لئے اپنے کسی بھانجے کا رشتہ لائے ہیں۔“ شفا جلدی جلدی اپنی بات ختم کرکے واپسی کےلئے مڑ گئی یہ جانے بغیر کہ اس خبر نے نبیرہ پر کیا اثر ڈالا ہے۔

”یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟“ نبیرہ اپنی کرسی کو دھکیلتے ہوئے تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی اور آن کی آن میں شفا کو جا لیا جو ابھی دروازے پر ہی تھی۔

”وہ ہی جو مجھے مما نے بتایا۔“ اس کا اطمینان قابل دید تھا۔

”شفا تم سب کچھ جاتنی ہو پھر بھی۔“

”پھر بھی کیا؟“

”پلیز شفا میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو میں سنان کے بغیر مر جاﺅں گی۔“ وہ سسک پڑی۔

”تم مما سے کہو کہ وہ صالح انکل کو صاف صاف منع کر دیں۔“

”مجھے لگتا ہے نبیرہ تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے تم اس سے قبل بھی جانے کتنے اچھے رشتوں کو اپنی بے وقوفی کے سبب گنوا چکی ہو میری مانو اس بار ایسی حماقت مت کرو کیونکہ گزرتا ہوا وقت تمہیں تنہا کرتا جائے گا اور بار بار اچھے رشتے تمہارے دروازے پر دستک دینے نہیں آئےں گے اس حقیقت کو تسلیم کر لو سنان تمہارا نصیب نہیں ہے پھر بھی اگر تمہیں یقین ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی شبنم آنٹی تمہارے رشتہ کےلئے آئیں گی تو میرا تمہیں بہترین مشورہ یہ ہی ہے کہ تم ان سے کہو کہ وہ فوراً آجائیں اور پاپا سے تمہارے لئے بات کر لیں ورنہ جو ہو رہا ہے اسے خاموشی سے ہونے دو۔“

شفا نے بہت ہی پیارے اور دھیمے لہجے میں اپنے سامنے کھڑی اپنی معصوم بہن کو سمجھانے کی کوشش کی جو آج بھی اس امید پر تھی کہ حالات جلد ہی بہتر ہو کر اس کے اور سنان کے حق میں ہو جائیں گے جبکہ رحاب پچھلے دو ماہ سے اپنی امی کے گھر تھی۔ بقول سنان، جنید اس سے ملنے ایک دفعہ بھی نہ گیا تھا جانے اس نے سنان سے کیوں دشمنی پال رکھی تھی یہ بات کسی کی بھی سمجھ سے بالاتر تھی، پھر بھی وہ دونوں اسی امید پر جی رہے تھے کہ رحاب کی متوقع ڈلیوری کے ساتھ ہی جنید کا دل بھی صاف ہو جائے گا اور وہ اپنے بچے کی خاطر سب کچھ بھول کر رحاب کو گھر واپس لے آئے گا اور اب جب صرف درمیان میں ایک ماہ باقی رہ گیا تھا۔ شفا کی دی ہوئی اس نئی خبر نے اسے مزید حواس باختہ کر دیا۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ شفا کی بات کا کیا جواب دے۔

”لیکن شفا تم اچھی طرح جانتی ہو جب تک جنید بھائی، رحاب کو گھر واپس نہیں لائیں گے۔ آنٹی کس طرح میرے رشتہ کیلئے آسکتی ہیں۔“

”تو پھر بھابی کےلئے قربانی دے دو، کیونکہ جنید بھائی اس وقت تک رحاب بھابی کو گھر نہیں لائیں گے جب تک تمہارا کہیں رشتہ پکا نہ ہو جائے۔“ شفا یہ کہہ کر رکی نہیں، بلکہ تیزی سے آگے بڑھ گئی اور اس کے جاتے ہی نبیرہ نے فوری طور پر سنان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ جس کا آج صبح سے کوئی مسیج بھی نہ آیا تھا اور اگلے ہی پل کمپیوٹر کی مخصوص آواز نے بتایا کہ آپ کا مطلوہبہ نمبر فی الحال بند ہے اور پھر بار بار اس کا نمبر ملانے کے بعد نبیرہ مایوس ہوئی، لیکن جانے کیوں ہر تھوڑی دیر بعد وہ پھر نئی امید کے ساتھ اس کا نمبر ملاتی اور جلد ہی نا امیدی سے بند کر دیتی۔ اس کیلئے ان حالات میں سنان سے رابطہ کرنا ناگزیر تھا اور اس رابطہ کی کوشش میں وہ ساری رات ہی مصروف رہی۔

QQQQ

صالح بن محمد کا تعلق ملائیشیا کے ایک دین دار گھرانے سے تھا۔ ان کے والد نہ صرف کئی پاکستانی مدارس کی مالی معاونت کرتے تھے بلکہ ان ہی کی کوششوں کے سبب کئی ملائی طالب علم بھی یہاں سے عالم دین کا کورس مکمل کورکے واپس جا چکے تھے۔ اسی سلسلے میں وہ اکثر و بیشتر پاکستان آیا کرتے جہاں ان کی ملاقات احتشام صاحب کے والد ملک اکرم سے ہو گئی اور پھر یہ ملاقات جلد ہی بہترین دوستی میں ڈھل گئی اور یہ دوستی اس قدر بڑھی کہ اگلی نسل تک منتقل ہو گئی۔ احتشام صاحب اور صلاح محمد کی دوستی اتنی پرانی تھی کہ نبیرہ نے ہوش سنبھالتے ہی ان دونوں میاں، بیوی کو اکثر اپنے گھر آتے جاتے دیکھا تھا۔ یہ جوڑا بے اولاد تھا۔ اسی سبب بچوں سے ان کی محبت فطری تقاضے کے تحت تھی۔ ویسے تو وہ ان چاروں بہن، بھائیوں سے ہی بے حد محبت کرتے تھے لیکن عائشہ شروع سے ہی نبیرہ کے ساتھ زیادہ دلی لگاﺅ رکھتی تھیں۔ وہ جب بھی پاکستان آتیں ہمیشہ نبیرہ کےلئے تحائف کی تعداد دوسرے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی۔ شاید دوسرے لوگوں کی طرح انہیں بھی نبیرہ کی خوبصورتی نے متاثر کر رکھا تھا۔ جو بھی تھا وہ دونوں میاں، بیوی نبیرہ کو بھی بے حد پسند تھے۔ وہ تو آج تک ملائیشیا نہ گئی تھی۔لیکن اس کے مما اور پاپا دو بار وہاں سے ہو کر آچکے تھے اور نہ صرف صالح انکل بلکہ ان کی تمام فیملی کے حسن اخلاق اور مہمان نوازی سے خاصے متاثر ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اب جو صالح محمد نے نبیرہ کا رشتہ اپنے بھانجے سکندر نظام کیلئے مانگا تو کسی کو بھی اس میں کوئی قباحت نظر نہ آئی۔ ماسوائے نبیرہ کے جو اس رشتے پر کسی بھی طور تیار نہ تھی اور اپنا یہ انکار اس نے خود ردا تک پہنچا دیا۔ ردا نے احتشام صاحب سے مشورہ کرکے جواب کےلئے تقریباً دو ماہ کا وقت لے لیا۔

جس کا سبب یہ بتایا گیا کہ چونکہ رحاب گھر پر موجود نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی واپسی کے بعد اس سے مشورہ کرکے جو بھی فیصلہ ہو گا اس سے آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔ ردا نے عائشہ کو بتایا کہ رحاب اپنے بچہ کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ تک اپنے گھر واپس آجائے گی۔ پھر ہی ہم کوئی بات کر سکیں گے۔ چونکہ وہ گھر کی بڑی بہو ہے۔ لہٰذا اس سے مشورہ کرنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح گھر کے دیگر افراد سے اور ان کی یہ بات نہ صرف عائشہ کی سمجھ میں آگئی، بلکہ انہیں خوشی ہوئی کہ گھر میں بہو کو اس قدر اہمیت دی جاتی ہے اور پھر جلد ہی وہ اس وعدہ کے ساتھ ملائیشیا واپس گئیں کہ انہیں جو بھی جواب دیا جائے گا وہ مثبت ہی ہو گا جبکہ ردا کو خود معلوم نہ تھا کہ اس سلسلے میں ان کا جواب کیا ہو گا؟ انہوں نے بھی فی الحال اس معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیا اور اس وقت تک خاموش ہو گئیں جب تک رحاب کے سلسلے میں کوئی فیصلہ نہ ہو، وہ اور احتشام صاحب اس سلسلے میں جنید پر کافی دباﺅ ڈال چکے تھے۔ لیکن وہ انتہائی درجہ کی ڈھٹائی کے ساتھ کان لپیٹے ہوئے تھا اور اب تو اس سلسلے میں سنان بھی کافی دلبرداشتہ ہو چکا تھا جس کا اندازہ اکثر ہی نبیرہ اس سے ہونے والی گفتگو سے لگا چکی تھی۔ اس کا یہ خیال بھی اب تقریباً غلط ثابت ہو گیا تھا کہ جنید اس سلسلے میں کوئی ڈرامہ بازی کر رہا تھا۔

رحاب نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا تھا۔ اس خبر نے سارے ہی گھر کو سرشار کر دیا۔ پہلی بار پھوپھی بننے کا احساس اسے اور شفا کو بھی نہال کر گیا۔ احتشام صاحب سمیت سارا گھر شبنم کی طرف گیا ہوا تھا۔ صرف ایک وہ ہی نہ گئی تھی۔ حالانکہ وہ بھی بھتیجا دیکھنے جانا چاہتی تھی۔ لیکن ردا اسے لے کر ہی نہ گئیں۔ اس کی ایک وجہ تو غالباً سنان ہی تھا اور دوسری شاید جنید، جوبھی تھا اس نے خود بھی ساتھ جانے کی ضد نہ کی اور خاموشی سے اپنا کمرا بند کرکے گانے سننے کے ساتھ ساتھ اپنا اسائنمنٹ مکمل کرتی رہی اور جب شام میں یہ لوگ واپس آئے تو شفا خاصی چپ چپ تھی۔

”کیا بات ہے شفا، کیوں اتنی خاموش ہو؟“ کچھ دیر تو نبیرہ اسے نوٹ کرتی رہی اور جب برداشت نہ ہوا تو پوچھ ہی بیٹھی۔

”کچھ نہیں یار، بس ایسے ہی جنید بھائی کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔“

”کیا ہوا جنید بھائی کو؟“ نبیرہ کا اسائنمنٹ مکمل ہو گیا تھا۔ اس نے اپنا پن بند کرکے سائیڈ پر رکھا اور پوری توجہ شفا کی جانب مبذول کر دی۔ شفا کی خاموشی نبیرہ کے دل کو ہولائے جا رہی تھی اور کچھ انہونی کے احساس نے اسے یکدم ہی بے چین کر دیا۔

”انہیں کیا ہونا ہے، میں تو صرف ان کی ضد اور ہٹیلا پن کی بات کر رہی ہوں، جانتی ہو دو دن سے بھابی ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ ان کی حالت کچھ زیادہ اچھی نہ تھی۔ ایسے میں شبنم آنٹی نے جانے کتنے فون جنید بھائی کو کئے۔“ شفا نے بات روک کر نبیرہ کی جانب دیکھا۔

”تو کیا جنید بھائی ہسپتال نہیں گئے؟“ نبیرہ حیرت زدہ تھی۔

”نہیں ایک بار گئے تھے، صرف تھوڑی سی دیر کیلئے اور اس کے بعد سے اب تک نہیں گئے۔ آج بھی پاپا نے فون کیا تو کہا میں آفس سے سیدھا وہیں آجاﺅں گا، لیکن پھر جانے کیا سوچا، نہ صرف یہ کہ آئے ہی نہیں، بلکہ اپنا فون آف کر دیا، یقین مانو ان کو فیملی کے کافی لوگ آئے ہوئے تھے۔ نئے مہمان کو دیکھنے ان سب کے سامنے پاپا کی بے حد سبکی ہوئی۔ وہ تو شبنم آنٹی نے یہ کہہ کر بات سنبھال لی کہ جنید شہر سے باہر ہے۔ مجھے تو سمجھ میں نہیں آرہا نبیرہ کہ آخر یہ جنید بھائی کیا چاہتے ہیں۔“ اپنی بات کو تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اس نے نبیرہ سے رائے طلب کی، جو ابھی تک یہی سوچ کر حیران تھی کہ اگر جنید بھائی اپنا بیٹا دیکھنے بھی نہیں گئے تو پھر کیسے ممکن ہو گا کہ وہ رحاب بھابی کو آسانی سے گھر لے آئیں گے۔ یقینا نبیرہ کے اور اندازوں کی طرح یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہو گیا۔ وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کہ بچہ کی پیدائش کے ساتھ ہی جنید بھائی کا غصہ ختم ہو جائے گا اور وہ بھاگے بھاگے رحاب بھابی کے قدموں میں جا بیٹھیں گے غلط سمجھ رہی تھی، جانے جنید بھائی سنان سے کیوں اتنی ضد لگا رہے ہیں کہ صرف اس کی ضد میں اپنے گھر کو بھی آگ میں جھونکنے جا رہے ہیں۔ یہ سب اس نے سوچا ضرور، مگر زبان سے کچھ کہا نہ گیا، کیونکہ یہ سب باتیں شفا کے ساتھ کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ شفا نے بھی اس کی خاموشی کو محسوس کرکے مزید آگے کچھ کہنے کا ارادہ ترک کر دیا اور خاموشی سے کپڑے تبدیل کرنے باتھ روم چلی گئی۔

”جنید بھائی یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟ اور وہ کیا چاہتے ہیں۔“ رات ہی آنے والے سنان کے فون نے ہر بات کو اس پر واضح کر دیا۔

”تمہیں پتا ہے یار تمہارے بھائی نے میرے لئے کیا پیغام بھیجا ہے؟“ سنان کا لہجہ آج کافی تبدیل تھا۔ وہ کچھ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا۔ نبیرہ نے یہ سب شروع میں ہی نوٹ کر لیا تھا۔ لیکن پوچھا صرف اس لئے نہیں کہ وہ چاہتی تھی کہ سنان خود ہی اپنا حال دل اسے سنائے اور صرف حال چال پوچھنے کے بعد ہی وہ اسے اصل مدعا پر آگیا۔

”تمہیں پیغام بھیجا ہے؟“ نبیرہ کا دل دھڑک اٹھا۔

”الٰہی خیر کرنا، جانے جنید بھائی کیا چاہے ہیں۔“

”کیا پیغام بھیجا ہے سنان انہوںنے؟“ سنان کا لہجہ بہت کچھ غلط ہونے کی نوید سنا رہا تھا۔

”وہ کہتے ہیں کہ جب تک میں ان سے معافی نہ مانگوں گا وہ رحاب اور اپنا بچہ دیکھنے گھر نہ آئیں گے۔ سوچو نبیرہ جب وہ میری بہن کی اس حالت میں خیریت دریافت کرنے میں اپنی انا کا سر بلند رکھے ہوئے ہیں تو وہ میری بہن کو واپس اپنے گھر کس طرح لے کر جائیں گے۔ اسی سوچ نے میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے۔“ اتنے عرصہ میں پہلی بار سنان کے لہجہ میں اپنی بہن کا دکھ بول رہا تھا یا شاید اس کی بھی یہ امید آج ٹوٹ گئی تھی کہ بچے کی پیدائش جنید کو سب کچھ بھلانے پر مجبور کر دے گی۔

”لیکن سنان تم نے ایسی کیا خطا کی ہے جس کی شرط جنید بھائی نے معافی رکھی ہے۔“ بظاہر تو اس معافی کی وجہ ہی نبیرہ کی سمجھ میں نہ آرہی تھی۔

”پتا نہیں یار ان کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ ان سے بہت بدتمیزی کی ہے۔ جس کے سبب وہ میرے گھر آنے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا جب تک میں معافی نہ مانگوں وہ اپنا بچہ دیکھنے بھی نہ آئیں گے۔“

”پھر تم نے کیا سوچا؟“

”کیا سوچنا ہے، میں نے امی سے کہا ہے کہ وہ بات کر لیں، پھر جس طرح جنید کہے گا میں کرنے کو تیار ہوں۔ ظاہر ہے نبیرہ مجھ میں اور تمہارے بھائی میں بہت فرق ہے، میں صرف اپنی ضد اور انا کی خاطر اپنی بہن کا گھر نہیں اجاڑ سکتا جبکہ تمہارا بھائی اپنی ضد اور انا کےلئے اپنی بہن کا گھر بسنے ہی نہیں دینا چاہتا، بہرحال اب جو بھی ہو میرے لئے پہلی فوقیت میری بہن کا گھر ہے، اس کے بعد میں کچھ اور سوچوں گا۔“

”سو سنان تم بھی آج تھک ہی گئے اور منزل پر پہنچنے سے قبل ہی ہمت ہار دی۔“ نبیرہ نے یہ سب سوچا ضرور، لیکن سنان سے نہ کہا، کیونکہ اب یہ سب کہنے کا کوئی فائدہ اسے نظر بھی نہ آرہا تھا۔ ظاہر ہے رحاب کا گھر اجاڑ کر بھی سنان کا گھر نہ بس سکتا تھا۔ اس بات کا یقین نبیرہ کو وقت نے دلا دیا۔ لیکن آج سنان کے رویہ نے اسے کافی دلبرداشتہ کر دیا اور اب اسے محسوس ہوا کہ انسان کسی بھی حالت میں اپنے نصیب سے نہیں لڑ سکتا۔

”سنان تمہارا نصیب نہیں ہے۔“ شفا کے کچھ ہی عرصہ قبل کہے گئے الفاظ اپنی مکمل جزئیات سمیت نبیرہ کو یاد آگئے اور پھر اس نے خود کو وقت کے دھارے کے سپرد کر دیا۔ اسے آج بہت شدت سے یہ احساس ہوا کہ وہ ہار چکی ہے اور یقینا اس کے بھائی کی بے جا ضد نے اس ہار کو اس کا مقدر بنایا ہے اور اب اس کیلئے بہتر یہ ہی تھا کہ وہ ہر معاملے میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کر لے اور پھر اس نے ایسا ہی کیا اور جو کچھ اس کے نصیب میں درج تھا وہ خود بخود ہوتا چلا گیا۔ بنا کسی کوشش کے وہ نبیرہ ملک سے نبیرہ سکندر بنا دی گئی۔ اس تمام عمل نے اسے بے حس کر دیا اور اس کے تمام احساسات بالکل مردہ ہو گئے اور وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ سنان سے دوری اس کی موت کا سبب ہو گی۔ سب خام خیالی ثابت ہوا یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ کوئی کسی کیلئے نہیں مرتا، اگر مرتا ہے تو صرف دل اور دل کی موت ایسی موت ہے جو کسی کو نظر ہی نہیں آتی اور پھر مردہ دل کے ساتھ زندگی کا دشوار ترین سفر طے کرنا اس قدر کٹھن ہوتا ہے اس کا اندازہ بھی نبیرہ کو ہو چکا تھا۔

اس نے چاہا میں شیشے کو پتھر کر لوں

بن کے پتھر بھی دل نادان ٹوٹ گیا

شناسا لہجہ جب منکر ہوا وفاﺅں سے

زمین چھن گئی اور آسمان ٹوٹ گیا

QQQQ

جہاز کے لینڈ کرتے ہی اس کا دل چاہا وہ اڑ کر لاﺅنج سے باہر نکل کر اپنے پیاروں کے پاس پہنچ جائے لیکن بہت کوشش کے باوجود سامان کی کلیئرنس میں ہی تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا اور پھر نہایت بے قراری کے عالم میں باہر نکلتے ہی سامنے کھڑے امان کو دیکھ کر وہ خود پر قابو کھو بیٹھی امان بھی اسے دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا اور گلے لگا لیا جانے کتنی دیر وہ اسی طرح امان کے گلے لگی رہی جب اسے شفا نے بازو سے پکڑ کر ہٹایا اور ہنستی ہوئی بولی۔

”ہم بھی آئے ہیں تمہیں لینے بہنا ہم پر بھی نظر کرم کرو۔“ نبیرہ نے بنا کوئی جواب دیئے شفا کو گلے لگا لیا اور ساتھ ہی اپنی آنکھوں میں آئے آنسوﺅں کو ٹشو پیپر سے صاف کیا۔

”حماد نہیں آیا۔“ اسے اپنے قریب سے ہی حمزہ کی آواز سنائی دی۔

”نہیں۔“ مختصر جواب دے کر وہ حمزہ سے ملی اور پھر شفا سے باتیں کرتی ہوئی باہر نکلی حمزہ اور امان ٹرالی کے ساتھ کافی آگے نکل چکے تھے جبکہ وہ سب کی خیرخیریت دریافت کرتی آہستہ آہستہ شفا کے ساتھ باہر جا رہی تھی جب اچانک شفا کو بھی حماد یاد آگیا۔

”تم حماد کو کیوں نہیں لے کر آئیں؟“ جواباً وہ خاموش رہی۔ یہ تو سب جانتے تھے کہ سکندر نہیں آرہا لیکن وہ حماد کو بھی چھوڑ کر آئے گی اس کا علم کسی کو نہ تھا اسی لئے یہ خبر سب کیلئے ہی حیریت کا سبب بننے والی تھی کہ تقریباً سوا سالہ بچہ چھوڑ کر کوئی ماں دوسرے دیس آجائے کوئی اس ماں کے دل کا حال نہ جانتا تھا جس نے اپنا صرف ایک ماہ کا بچہ خود سے دور کر رکھا تھا یہ تو صرف وہ ہی جانتی تھی کہ وہ حماد کے بغیر کس طرح زندگی گزار رہی ہے اپنے سسرال میں تو اسے کبھی کسی کے سوالوں کا جواب نہ دینا پڑا لیکن یہاں میکے میں جگہ جگہ اس سے جواب طلبی ہو گی اس کا اندازہ اسے ایئر پورٹ پر ہی ہو گیا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ گھر سے ایئر پورٹ تک کے تمام راستے وہ خود کو لوگوں کے سوالنامہ کےلئے تیار کرتی رہی اور پھر اس کی توقع کے عین مطابق گھر جاتے ہی اسے حماد کے حوالے سے ہر ایک کو فیس کرنا پڑا۔ ویسے بھی امان کی شادی کے سلسلے میں گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔

”نبیرہ تمہارا بیٹا نہیں آیا۔“ جیسے ہی وہ سامان رکھ کر فارغ ہوئی چھوٹی چچی حیرت کا اظہار کرتی اس کے سامنے آکھڑی ہوئی۔

”نہیں چچی۔ اصل میں وہ چھوٹا بہت ہے یہاں کی گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔“ وہ آہستہ سے جواب دے کر ردا کے پاس جا بیٹھی جو غالباً مہمانوں کی فہرست بنا رہی تھیں اسے اتنے عرصہ بعد یوں اپنوں کے درمیان بیٹھنا بہت اچھا لگ رہا تھا وہ تو اب تک یقین ہی نہ کر پا رہی تھی کہ وہ اپنی سرزمین پر اپنے گھر میں موجود ہے شفا چائے کے ساتھ بہت سارے لوازمات لے آئی تھی اس کا دل کچھ بھی کھانے کو نہ چاہا اس نے چائے کا کپ اٹھا کر آہستہ آہستہ پینی شروع کی ساتھ ہی ساتھ وہ ہال میں ہونے والے تمام عمل کو بھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی جب اچانک اسے کسی نے پکارا۔

”ارے نبیرہ تم آگئیں۔“ اس نے نظر اٹھا کر مخاطب کی جانب دیکھا وہ یقینا رحاب تھی پہلے سے ذرا موٹی اور رنگت بھی خوب کھلی کھلی، خوب سجی سنوری رحاب پہچانی ہی نہ جارہی تھی رحاب پر نظر پڑتے ہی یکدم اس کے سامنے گزرا ہوا کل اپنی پوری تلخی سمیت آن کھڑا ہوا اسے بالکل اپنے قریب سے ہی سنان کی درد میں ڈوبی آواز سنائی دی وہ آواز جو آج بھی اس کے خوابوں میں آکر اس سے نیند چھین لیا کرتی تھی۔

”میرا مشورہ مانو نبیرہ تم سکندر سے شادی کر لو کیونکہ یہ ہی ہم دونوں کیلئے بہتر ہو گا۔“ یہ آواز سنان کی ضرور تھی لیکن الفاظ اس کے نہ تھے اس کے اندر کوئی اور بول رہا تھا اسے تو مجبور کیا گیا تھا ان الفاظ کی ادائیگی کیلئے جن کے ادا ہوتے ہی اس کا سنان سے ہر رشتہ ختم ہو گیا وہ جو یہ سمجھتی تھی کہ اس کے اور سنان کے درمیان موجود دل کا رشتہ بہت ہی مضبوط اور اٹوٹ ہے اس دن پہلی بار اسے اندازہ ہوا کہ دل کے رشتے مضبوط ضرور ہوتے ہیں لیکن اتنے ہی نازک بھی جو ذرا سی ٹھیس لگنے سے پارہ پارہ ہو جاتے ہیں ایسا ہی کچھ نبیرہ کے ساتھ بھی ہوا سنان کے منہ سے نکلے ہوئے صرف ایک جملے نے اس کے حساس دل کو چھلنی چھلنی کر دیا خاموشی سے فون رکھنے تک وہ دل ہی دل میں فیصلہ کر چکی تھی کہ آج کے بعد یہ آواز دوبارہ نہیں سننی فون بند کرتے ہی وہ سنان کیلئے آخری بار تڑپ تڑپ کر روئی اس قدر کہ شفا سے سنبھالنی مشکل ہو گئی پھر اس کے ہاں کرتے ہی اگلے ہفتہ اس کا نکاح سکندر سے کر دیا گیا رخصتی دو ماہ تک متوقع تھی تاکہ پیپرز وغیرہ تیار ہو سکیں یہ دو ماہ کا عرصہ نبیرہ نے ایک پتھر کی مانند گزارہ سنان نے اس دوران اس سے رابطہ کرنے کی کافی کوشش کی لیکن وہ خود تک آنے والے ہر راستے کو بند کر چکی تھی اس نے اپنا موبائل آف کر دیا اور وہ اس سلسلے میں شفا سے بھی کچھ سننے کو تیار نہ تھی۔

حیرت کی بات تو یہ تھی کہ اس نے ان دو ماہ میں ایک بار بھی سنان کو یاد نہ کیا حالانکہ وہ جانتی تھی کہ وہ صرف ماں اور بہن کی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوا ہے لیکن اس کی اس مجبوری نے نبیرہ کے دل میں ایک گرہ سی باندھ دی جو رخصتی تک دور نہ ہوئی وہ جب جب سوچتی اسے بے حد دکھ ہو تاکہ ہر شخص نے اپنے مفاد کیلئے اس کی خوشیوں کو داﺅ پر لگا دیا اور ان تمام لوگوں میں سنان بھی شامل تھا یہ ہی وجہ تھی کہ رحاب کے ساتھ منسلک سنان کے رشتہ نے اس کے دل سے رحاب کو بھی دور کر دیا جبکہ جنید تو اس کے دل سے اس دن ہی اتر گیا تھا جس دن اس نے اپنی جھوٹی اناکی سربلندی کیلئے اسے ناجائز طور پر استعمال کیا تھا یہ ہی سبب تھا کہ دو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ آج تک کچھ نہ بھولی تھی اب جو رحاب نے اسے مخاطب کیا تو نبیرہ کا دل ہی نہ چاہا کہ جواب دے وہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی اٹھ کھڑی ہوئی اور قریبی سوٹ کیس سے کپڑے نکالنے لگی تاکہ فریش ہو سکے۔

”نبیرہ تم نے شاید رحاب بھابی کو پہچانا نہیں۔“ یہ اس کی کوئی کزن تھی جو شاید اسے یہ احساس دلانا چاہ رہی تھی کہ اس کی حرکت بدتمیزی میں شمار ہوتی ہے اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی اسے رحاب کی طرف پلٹنا پڑا رسمی سا گلے بھی ملی۔

”مجھے آئے ہوئے تقریباً گھنٹہ ہو گیا ہے آپ شاید بازارگئی ہوئی تھیں۔“ رحاب اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے خاصی متاثر نظر آرہی تھی۔ جس کا اندازہ نبیرہ کو فوراً ہی ہو گیا وہ جانتی تھی کہ رحاب ظاہری شان و شوکت پر جان دینے والی عورت ہے اس خیال کے ذہن میں آتے ہی نبیرہ نے سوٹ کیس کھول کر اپنا جیولری باکس نکالا اور ردا کے حوالے کر دیا۔

”پلیز ذرا میری یہ جیولری سنبھال لیں ایک تو یہاں لوڈشیڈنگ بہت ہوتی ہے جب آئی تھی تب بھی لائٹ نہ تھی اب پھر چلی گئی مسلسل جنریٹر کی آواز نے میرا دماغ شل کر دیا ہے اور پھر آپ نے اے سی بھی جنریٹر پر نہیں لگایا آپ کو پتا ہے میں اتنی گرمی بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتی ہمارے ہاں تو کبھی لائٹ گئی ہی نہیں ہے اور میں ہر ٹائم اے سی میں رہنے کی اتنی عادی ہو چکی ہوں کہ سمجھ میں نہیں آرہا یہاں کس طرح رہ پاﺅں گی شکر ہوا میں حماد کو نہیں لائی ورنہ بہت مشکل ہوتی۔“ اس کی گفتگو پر سکندر کا رنگ کب چڑھا اسے اندازہ ہی نہ ہوا اور اب اپنے الفاظ کی ادائیگی پر وہ خود بھی حیران رہ گئی۔ وہ اس قدر تبدیل ہو چکی تھی اسے خود بھی اندازہ نہ تھا اور اس دن پہلی رات ہی آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے اسے سکندر کی یاد دلا دی۔

”تمہارا اوپن ٹکٹ ویسے تو تین ماہ کا ہے مگر مجھے امید ہے کہ تم دو ماہ سے بھی پہلے واپس آجاﺅ گی کیونکہ یہاں کی سہولیات دیس میں ٹکنے نہیں دیتیں۔“ سکندر کا فخریہ لہجہ اسے سخت برا لگا۔

”وہ دیس میرا اپنا ہے سکندر اور مجھے یقین ہے کہ یہاں کی کوئی لگژری سہولت میرے لئے میرے وطن اور اپنے پیاروں سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی۔“ لیکن ایک ہی رات میں اسے اپنا دعویٰ بودا محسوس ہوا جو بھی تھا ملائیشیا میں قیام کے دو سال میں اسے لوڈشیڈنگ جیسا عذاب نہ بھگتنا پڑا تھا اور پھر یہاں کئی بار بھی شہر کے خراب حالات کے باعث اسے گھر میں محصور ہونا پڑا اسے اپنے گھر کے بوائل پانی میں بھی بو محسوس ہوتی وہ جب سے آئی تھی مسلسل منرل واٹر استعمال کر رہی تھی وہاں کی کرنسی یہاں کئی گنا بڑھ گئی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ جب بازار جاتی بے دریغ خرچ کرتی اس کی شاہ خرچی نے سب کو دنگ کر رکھا تھا اور ہر دفعہ کی قیمتی شاپنگ سے رحاب کے چہرے پر آتے تاثرات اسے خوب مزا دیتے وہ جو وہاں سے سوچ کر آئی تھی کہ گھر جاتے ہی اپنے ماں باپ سے سکندر کے رویہ کا ذکر ضرور کرے گی انہیں بتائے گی کہ آپ کے ایک غلط فیصلہ نے میری زندگی کو اجیرن کرکے رکھ دیا ہے اس نے تو یہا ںتک سوچ لیا تھا کہ اب واپس سکندر کے پاس نہیں جانا لیکن عجیب بات تھی کہ پاکستان آتے ہی اس کا وجود دو حصوں میں منقسم ہو گیا تھا اس کے وجود کا ایک حصہ یہاں تھا جبکہ دوسرا وہ ملائیشیا ہی چھوڑ آئی تھی ہر گزرتا دن اس کی بے چینی میں اضافہ کا سبب بن رہا تھا وہ جو آج تک یہ سمجھتی رہی کہ اس کی زندگی حماد کے بغیر بھی گزر سکتی ہے اس کی یہ سوچ خام خیال ثابت ہوئی نہ صرف حماد بلکہ یہاں آکر تو اسے اپنا وہ گھر بھی شدت سے یاد آیا جہاں پورے استحقاق کے ساتھ ایدھا براجمان تھی جو دنیا کی نظر میں کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی سکندر کیلئے سب کچھ تھی اور ایک وہ خود جو سکندر کی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی شاید کچھ نہ تھی جو بھی تھا یہاں رہائش کے دوران لوگوں کی دی ہوئی عزت و احترام نے اسے یہ باور کروا دیا کہ عورت جو کچھ ہے اپنے گھر سے ہے لوگوں کی رشک بھری نظروں اور تعریفی کلمات نے اسے یہ احساس دلایا کہ اس کا سبب سکندر کی ذات ہے سچ ہے گھر کے بغیر عورت کی ذاتی حیثیت بالکل زیرو ہے اس خیال نے نبیرہ کو باز رکھا کہ وہ سکندر کے حوالے سے کسی سے کوئی گفتگو نہ کرے بلکہ جس طرح دنیا سمجھ رہی ہے سمجھتی رہی کیونکہ اسی میں اس کی بھلائی تھی کہ اپنی عزت خود بنائی جائے ورنہ دوسری صورت میں کوئی بھی آپ کو عزت کے لائق نہیں سمجھے گا۔

QQQQ

”یہ لو نبیرہ سے بات کر لو۔“ یہ ٹیرس پر بیٹھی نیچے آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے میں منہمک تھی جب اسے بالکل اپنے قریب جنید کی آواز سنائی دی اس نے پلٹ کر ایک نظر جنید پر ڈالی جو فون اس کی طرف بڑھائے منظر کھڑا تھا کہ وہ کب اس کے ہاتھ سے لے۔

”کون ہے؟“ نبیرہ نے سیل لیتے ہوئے آہستہ سے سوال کیا۔

”سکندر ہے تمہارا سیل شاید آف ہے اس لئے تمہاری خیریت دریافت کرنے کیلئے میرے نمبر پر فون کر لیا۔“ جنید کی وضاحت اس کیلئے حیرت انگیز تھی اسے سکندر سے کم از کم یہ توقع نہ تھی کہ اس کے سیل آف ہونے کی صورت میں وہ جنید سے رابطہ کرے گا اسی حیرت کی کیفیت میں اس نے خاموشی سے سیل اپنے کان سے لگا لیا جبکہ جنید اندر کمرے میں جا چکا تھا۔

”ہیلو۔“

”کیسی ہو؟“

”ٹھیک ہوں حماد کیسا ہے؟“

”بالکل فٹ اور تمہیں بہت یاد کر رہا ہے۔“

”حماد مجھے یاد کر رہا ہے؟“ وہ حیرت بھری سرگوشی میں بولی۔

”کیوں کیا تم اس کی ماں نہیں ہو؟“ سکندر کا انداز گفتگو اس کیلئے بالکل نیا تھا وہ تو اس لہجہ کی عادی ہی نہ تھی دل تو چاہا پلٹ کر پوچھے آپ نے مجھے کب حماد کی ماں بننے دیا لیکن یہ وقت اور یہ جگہ اس بحث کیلئے قطعی نامناسب تھے بہتر یہ ہی تھا کہ خاموش رہا جائے اور وہ خاموش ہی رہی۔

”بہرحال میں نے تمہاری خیریت دریافت کرنے کیلئے فون کیا تھا کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ دیس کے لوگوں کو دوسروں کے ٹوہ لینے کی بہت عادت ہے ایسے میں اگر میں تم سے رابطہ نہ کروں، تمہاری خیریت دریافت کرنے کیلئے تو تمہارے اپنے تمہارا جینا حرام کر دیں گے خاص طور پر تمہاری بھابی۔“ وہ بلا تکان اپنا تجزیہ پیش کر رہا تھا نبیرہ کو سمجھ نہ آیا کہ یہ اظہار ہمدردی تھا یا طنز بہرحال جو بھی تھا وہ سکندر کے اندازے کی اس قدر درستگی پر دنگ رہ گئی ساتھ ہی ساتھ اسے طمانیت کا احساس بھی ہوا کہ کسی بھی حوالے سے سہی سکندر نے اس کا خیال تو رکھا۔

QQQQ

وہ شفا کے ساتھ پارلر آئی ہوئی تھی جہاں شفا اور رحاب کو اپنا ہیئرکٹ لینا تھا جبکہ نبیرہ وہیں قریب رکھی کرسی بیٹھی پارلر میں کام کرنے والی لڑکیوں کو دیکھنے میں منہمک تھی جو بڑی مشتاقی سے اپنا ہر کام سرانجام دے رہی تھیں اسی دوران اس کا سیل بج اٹھا سکندر کا نمبر دیکھتے ہی اس نے یس کا بٹن دبا کر فون کان سے لگا لیا۔

”ہیلو۔“

”تم واپس کب آرہی ہو؟“ بغیر تمہید کے سکندر نے سوال کیا۔

”ابھی تو کچھ پتا نہیں ہے۔“ وہ اس سوال کےلئے قطعی تیار نہ تھی اس لئے یکدم گڑبڑا سی گئی۔

”دراصل شادی کی دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے اور سب ہی چاہتے ہیں کہ میں ان میں شریک ہو کر واپس جاﺅں۔“

”ویل تمہیں تقریباً ایک ماہ سے کچھ زیادہ وقت ہو گیا ہے اسی لئے پوچھا اور ویسے بھی تمہیں حماد بہت یاد کر رہا ہے۔“

”جی میں آپ کو دو تین دن تک کنفرم بتا دوں گی۔“ حماد کا نام سنتے ہی اس کا دل بھر آیا اور لہجہ نم ہو گیا۔

”اوکے اللہ حافظ۔“ فون بند کرکے اس نے ہینڈ بیگ میں رکھتے رکھتے ایک نظر سامنے مرر سے نظر آتے رحاب کے عکس پر ڈالی جس کی مکمل توجہ کا مرکز اس وقت اسی کی ذات تھی۔

”لگتا ہے سکندر بھائی تمہارے بغیر اداس ہو گئے ہیں۔“ قد آدم آئینہ میں تفصیل سے اپنا جائزہ لیتی ہوئی رحاب کا انداز بالکل سرسری سا تھا۔

”آں…. ہاں۔“ وہ چونک اٹھی۔

”تو پھر کب واپس جا رہی ہو؟“

”دیکھو شاید اگلے ہفتہ تک۔“ واپس تو جانا ہی تھا جب یہ طے تھا تو کیوں نہ اس عزت کے ساتھ واپس جایا جائے کہ آپ کا شوہر آپ کیلئے بے قرار ہے نبیرہ کا جواب اس سوچ کے عین مطابق تھا جو اس نے رحاب کو دیا اور گھر آتے ہی رحاب تقریباً ایک ایک فرد کو بتا چکی تھی کہ سکندر اور حماد نبیرہ کے فراق میں بے تاب ہیں اور وہ چاہتے ہوئے بھی کسی بات کی تردید نہ کر سکی اگلے پندرہ دن میں اس کی سیٹ کنفرم ہو گئی اور اس نے واپسی کی راہ لی اس امید کے ساتھ کہ شاید کوئی نئی بہار اس کی زندگی میں داخل ہونے کی منتظر ہو۔

QQQQ

فاطمہ اور رفیدا سندھا کن گئی ہوئی تھیں جہاں سکینہ کے دیور کی شادی تھی جانا تو نبیرہ نے بھی تھا لیکن جانے کیوں صبح اٹھتے ہی اس کی طبیعت خراب ہو گئی سر میں ہلکا ہلکا سا درد تو رات سے ہی تھا لیکن صبح ناشتہ کرنے کے ساتھ ہی اسے یکدم ہی الٹیاں شروع ہو گئیں۔ الٹیوں کے ساتھ آنے والے چکر نے اسے اس قدر نڈھال کر دیا کہ اس کیلئے اٹھ کر کھڑا ہونا محال ہو گیا مجبوراً فاطمہ اسے گھر ہی چھوڑ گئیں جبکہ سکندر اپنے فارم پر گیا ہوا تھا فاطمہ اسے سوپ بھی بنا کر دے گئی تھیں جو جوں کا توں فریج میں رکھا تھا اس نے صرف معمولی سا چکھا ہی تھا کہ متلی سی محسوس ہونے لگی اور پھر ڈر کے مارے اس نے ہاتھ ہی نہ لگایا فاطمہ نے ایدھا کو جاتے جاتے خصوصی ہدایت کی تھی کہ نبیرہ کا خیال رکھے اور اس ہدایت ہی کے تحت ایدھا نے اسے دوپہر میں فرائیڈ رائس اور شاشلک بھی بنا دیا تھا لیکن طبیعت کی خرابی کے سبب نبیرہ سے کچھ بھی نہ کھایا گیا اور وہ سارا دن اسی طرح کمرے میں نڈھال پڑی رہی جیسے ہی شام کے سائے گہرے ہوئے اور اندھیرا اس کے کمرے کی کھڑکی سے جھانکنے لگا وہ ایک دم ہی بے زار سی ہو گئی دل چاہا کہ فوراً ہی کمرے سے باہر نکل جائے لہٰذا جیسے تیسے وہ اٹھ کھڑی ہوئی پاﺅں میں سیلپر پہنے بالوں میں برش کرکے انہیںسمیٹ کر کیچر لگا لیا۔

”مجھے کچھ دیر باہر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا چاہئے۔“ گھر میں پھیلے سناٹے سے گھبرا کر اس نے سوچا۔

”کیوں نہ میں ایدھا کے ساتھ باہر واک کر آﺅں۔“ حالانکہ اس کی ایدھا کے ساتھ اتنی دوستی نہ تھی پھر بھی اس خیال کے ذہن میں آتے ہی وہ ایدھا کے کمرے کی طرف بڑھ گئی جسب معمول اس کے کمرے کا درواز بند تھا ویسے بھی حماد اپنی پھوپھو اور دادی کے ساتھ گیا ہوا تھا تو ظاہر ہے کہ ایدھا بھی اس کی طرح اکیلی اپنے کمرے میں ہی تھی اسی سوچ کے تحت اس نے ایدھا کے کمرے کے دروازے کا ناب گھمایا اور تیزی سے دروازہ کھولتے ہی سامنے نظر آنے والے منظر نے اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا رہنا دشوار کر دیا ایدھا اپنے کمرے میں اکیلی نہ تھی اس کے ساتھ سکندر بھی تھا ایدھا کے ساتھ ساتھ سکندر کو بھی یہ امید تھی کہ نبیرہ اس طرح ایدھا کے کمرے میں آجائے گی کیونکہ ایدھا کوئی ڈیڑھ سال سے اس گھر میں تھی بلکہ شاید اس سے بھی کچھ زیادہ ٹائم ہو گیا تھا لیکن کبھی بھی آج سے پہلے نبیرہ اس کے کمرے میں نہ آئی تھی دونوں کا اگر آمنا سامنا ہوتا تھا تو صرف کچن میں یا لاﺅنج میں یہ ہی وجہ تھی کہ اسے اس طرح کمرے میں عین اپنے سامنے دیکھ کر سکندر اور ایدھا دونوں کے ہی حواس گم ہو گئے۔

”آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟“ وہ اپنے قدم گھسیٹتی سکندر کے سامنے جا کھڑی ہوئی اس کے حلق سے نکلنے والی آواز بھی خلاف توقع خاصی تیز تھی جس کی سکندر کو بالکل بھی امید نہ تھی وہ تو شاید یہ تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ نبیرہ اس طرح اس کے سامنے کھڑی ہو کر اس سے کسی بھی سلسلے میں جواب طلبی کر سکتی ہے۔

”ایسا تو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا پھر آج کیسے اس میں اتنی جرا ¿ت آگئی کہ وہ مجھ سے میرے معمولات کے بارے میں دریافت کرے شاید میرا ہی قصور تھا جو میں نے پچھلے کچھ دنوں میں اسے کچھ زیادہ ہی منہ لگا لیا تھا۔“ اس سوچ کے دماغ میں آتے ہی سکندر کے ماتھے پر پڑی تیوریوں میں کئی گنا اضافہ ہو گیگا۔

”واٹ ڈویو مین؟“ اس نے اپنی بھنویں اچکاتے ہوئے سخت لہجہ میں سوال کیا۔

”تم اچھی طرح جانتی ہو میں اس طرح کے سوال و جواب کا عادی نہیں ہوں۔“ تھوڑی دیر قبل نبیرہ کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر سکندر کے اندر جو گلٹی سی پیدا ہوئی تھی وہ فوراً ہی اڑن چھو ہو گئی اس نے خود کو ایسے سنبھال لیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جبکہ ایدھا اس تمام گفتگو کے دوران باتھ روم جا چکی تھی بالکل اس طرح جیسے اس کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہ ہو حالانکہ سکندر کے اس جواب نے نبیرہ کو دو کوڑی کا کر دیا تھا پھر بھی اس نے ہمت نہ ہاری اور بدستور سکندر کے سامنے ڈٹی کھڑی رہی۔

”بےشک آپ اس طرح کے سوال و جواب کے عادی نہ ہوں گے لیکن آج آپ کو میرے اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ آپ اس آوارہ لڑکی کے ساتھ کس طرح گلچھڑے اڑا رہے ہیں؟ آپ میں ذرا سی بھی شرم ہو تو آپ کو پتا چلے کہ یہ کتنی گھٹیا حرکت ہے جو ابھی آپ نے کی ہے۔“ سکندر جیسا بھی تھا اس کا قانونی شوہر تھا اس کے بیٹے کا باپ تھا پھر وہ کس طرح برداشت کرتی کہ وہ گھر میں بدحال پڑی ہو اور اس کا شوہر اس کے بچے کی میڈ کے ساتھ عیاشی کر رہا ہو۔

”ہٹو میرے سامنے سے تم جاہل قوم کی جاہل عورت، تم لوگوں کو سوائے دوسروں کی کردار کشی کے کوئی اور کام بھی کرنا آتا ہے یا نہیں؟“ وہ حلق کے بل چلایا اس کی تیز آواز سنتے ہی نبیرہ لرز گئی وہ گھر پر بالکل تنہا تھی ایسے میں اگر سکندر غصہ کی حالت میں اس سے کوئی زیادتی کرتا تو وہ اپنا بچاﺅ بھی نہ کر سکتی تھی اس خیال کے تحت ہو سکتا ہے کہ وہ خاموشی سے کمرے سے باہر نکل جاتی اگر باتھ روم سے ٹاول لپیٹ کر ایدھا باہر نہ نکل آتی اس کے شرمناک حلیئے نے نبیرہ کو سلگا کر رکھ دیا لیکن اس سے بھی زیادہ گھٹیا اس کی وہ حرکت تھی جو اس نے نبیرہ کو تپانے کیلئے کی وہ اسے بالکل نظر انداز کرتی ہوئی سکندر کی جانب بڑھی اور اسے بازو سے تھام لیا۔

”کول ڈاﺅن مائی ڈیئر۔“ سکندر کے کندھے پر پیار سے اپناز بازو رکھتے ہوئے اس نے پچکارا اور پھر اسے ساتھ لئے نبیرہ کے پاس سے گزرتی باہر نکل گئی اس کی اس حرکت نے نبیرہ کی برداشت کو بالکل ختم کر دیا اور وہ خود پر سے اختیار کھو بیٹھی تیزی سے ان کے پیچھے باہر لپکی اور حلق کے بل چلائی۔

”چھوڑو اسے خرافہ عورت۔“ وہ اچھی جانتی تھی کہ ایدھا اردو نہیں جانتی لیکن اپنے غصہ کا اظہار اپنی زبان میں زیادہ اچھی طرح کیا جا سکتا ہے۔ اس کے منہ سے نکلنے والے ان الفاظ کی دیر تھی کہ سکندر نے پلٹ کر ایک زور دار طمانچہ اس کے منہ پر دے مارا۔

”منع کیا تھا زیادہ بکواس مت کر لیکن تم بچ تمہاری سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی الو کی پٹھی اب بول کے دکھاو ¿۔“ نبیرہ کے سر کے بالوں کو اس نے اپنی مٹھی میں جکڑ کر زور دار جھٹکادیتے ہوئے نفرت سے کہا خوف کے سبب نبیرہ کی سانس بند ہونے لگی۔

”چھوڑو مجھے پلیز مجھے چھوڑ دو۔“ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے وہ رو پڑی لیکن اس کے رونے کا بھی سکندر جیسے پتھر دل انسان پر کوئی اثر نہ ہوا۔

”اب بولو اگر اپنے باپ کی اولاد ہو تو اب بکو، جو تم پچھلے پندرہ منٹ سے بک رہی ہو گھٹیا عورت۔“ اسے سر کے بالوں سے پکڑ کر سکندر نے دیوار پر دے مارا اس کے ہونٹوں سے رستے خون کا ذائقہ اس کے حلق کے اندر تک اتر گیا دیوار سے ٹکرانے کے بعد وہ ننگے فرش پر آگری تکلیف کی شدت کے سبب اس کے حلق سے تیز چیخ برآمد ہوئی ساتھ ہی اس کے پیٹ میں اینٹھن سی ہوئی جس کے سبب اس کیلئے فرش سے اٹھنا محال ہو گیا اسے اب اندازہ ہوا کہ وہ صبح سے بھوکی ہے وہ اپنا پیٹ پکڑ کر بلک بلک رونے لگی اس کی یہ آواز سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ایدھا اور سکندر وہاں سے جا چکے تھے یہ جانے بغیر کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اور وہ ساری رات اس نے ایک شدید اذیت کے عالم میں گزاری خود کو بمشکل گھسیٹتی وہ اپنے کمرے تک آئی اور بستر پر گرتے ہی بلک بلک کر رونے لگی اس کا یہ رونا، تکلیف اور تڑپ دیکھنے والا وہاں کوئی نہ تھا سوائے اللہ کی ذات کے جو بندوں سے ان کے کئے گئے ہر ظلم کا حساب ضرور لیتا ہے لیکن بندہ اس بات کو نہیں سمجھتا یہ ہی وجہ ہے وہ ظلم کرتے وقت اللہ کو بھول جاتا ہے لیکن اللہ بدلہ لیتے ہوئے ظالم کو یاد ضرور رکھتا ہے اور اسے ہی شاید مکافات عمل کہتے ہیں۔۔

QQQQ

نبیرہ نے کمرے سے باہر نکلنا بالکل ترک کر دیا تھا صبح میں ایک کپ چائے کے ساتھ کو کیز لے لیتی یا پھر دل کرتا نوڈلز بنا لیتی ورنہ سارا دن کمرے میں پڑی رہتی اپنی تکلیف سے بڑھ کر احساس ذلت تھا جو اسے کمرے سے باہر نکلنے بھی نہ دیتا اس کی بھوک و پیاس بالکل ختم ہو چکی تھی وہ خود میں ایدھا کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پاتی تھی ایدھا اس دن سے مسلسل اس کیلئے دوپہر میں کھانا رکھ جاتی تھی لیکن نبیرہ کا دل ہی نہ چاہتا تھا کہ وہ اس کھانے کو ہاتھ لگائے یہ ہی وجہ تھی کہ ایک دن کا کھانا اگلے دن دوپہر تک جوں کا توں پڑا رہتا جو ایدھا واپس لے جاتی اور پھر سے تازہ کھانا رکھ جاتی اس واقعہ کے تقریباً چار دن بعد رفیدا اور فاطمہ بھی واپس آگئیں فاطمہ جس دن سندھا کن گئی تھی نبیرہ کی طبیعت اس دن بھی خراب تھی یہ ہی وجہ تھی کہ سامان رکھ کر ہاتھ منہ دھوتے ہی وہ نبیرہ کے کمرے میں آگئیں جو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

”کیا ہوا تم نے لائٹ کیوں نہیں جلائی۔“ فاطمہ نے ٹٹول کر سوئچ بورڈ سے ٹیوب لائٹ کا بٹن آن کیا اور ایک سیکنڈ میں ہی کمرا دودھیا روشنی میں نہا گیا سامنے ہی بیڈ پر آڑی ترچھی نبیرہ پڑی تھی جس کی دھونکنی کی مانند تیز چلتی سانسوں کی آواز اتنی دور سے بھی واضح سنائی دے رہی تھی۔ فاطمہ تیزی سے آگے بڑھیں اور نبیرہ کے چہرے پر بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹا اور اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو بخار کی شدت سے سلک رہا تھا وہ گھبرا اٹھیں اور اسے چھوڑ کر تیزی سے باہر کی جانب لپکیں۔

”ایدھا…. ایدھا….“ سکندر گھر واپس آچکا تھا اور برآمدے میں رفیدا کے قریب ہی بیٹھا شادی کا احوال سن رہا تھا ایک دم جو گھبراہٹ کے عالم میں کمرے سے باہر آتی فاطمہ کو دیکھا تو خود بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

”کیا ہوا اماں خیریت تو ہے؟“

”خیریت کہاں؟ جانتے ہو نبیرہ سخت بخار میں پھینک رہی ہے اور تمہیں اتنا بھی ہوش نہیں کہ اسے ڈاکٹر کے پاس ہی لے جاتے۔“ فاطمہ غصہ سے چلائیں۔

”ہفتہ والے دن بھائی صالح اس سے ملنے آرہے ہیں اور اس کی حالت دیکھو تو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی مردہ ہو، لوگ کیا سمجھیں ہم نے اسے بھوکا مار رکھا ہے۔“ فاطمہ کی پریشانی ان کے لہجہ سے ہویدا تھی۔

”ہاں تو آنے دو ماموں صالح کو وہ خود دیکھ لیں ایک بیمار مریضہ جو انہوں نے پاکستان سے لاکر ہمارے پلے باندھ دی ویسے بھی اماں برا نہ منانا وہ تو جس دن سے شادی ہو کر یہاں آئی ہے ایسی ہی گم صم ہے لگتا ہے اسے ہم پسند ہی نہ آئے تھے بلکہ میرا تو خیال ہے وہ یہاں شادی پر راضی ہی نہ تھی۔“ رفیدا نے اپنے بھائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا۔

”اصل میں ماموں صالح نے کوئی فکروگر تو دیکھا نہیں بس نری گوری چمڑی لاکر میرے متھے منڈھ دی اور اب جو میں ان کا لایا ہوا تحفہ بھگت رہا ہوں تو میرے خیال میں اس سلسلے میں انہیں ہمارا شکر گزار ہونا چاہئے۔“ سکندر کی ڈھٹائی پورے عروج پر تھی۔

”پھر بھی سکندر جو بھی ہے وہ تمہاری بیوی ہے ذمہ داری ہے وہ تمہاری۔“ جانے کیوں آج فاطمہ کے اندر نبیرہ کی ہمدردی جاگ رہی تھی۔

”اماں تم کو پتا تھا مجھے بھرے بھرے جسم کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں یہ سوکھی چمڑی تو مجھے کبھی بھی پسند نہ آتی پھر بھی تم نے ماموں صالح کے کہنے پر مجھے یہاں پھنسایا۔“ اور سکندر کے ان الفاظ نے اندر پڑی نبیرہ کو سلگا کر رکھ دیا بے عزتی اور ہتک کے شدید احساس نے اس کے اعصاب کو سن کر دیا وہ جو بچپن سے اس خیال میں زندہ تھی کہ حسن اس کی پہچان ہے آج یہ خیال ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گیا۔

”حسن دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔“ بہت پہلے کہیں پڑھا ہوا یہ جملہ آج شدت سے اسے یاد آیا اور وہ سسک پڑی۔

”جس سے محبت کی جائے وہ دنیا کا حسین ترین انسان ہوتا ہے۔ ہماری محبت دیکھنے والے کو حسن بخشتی ہے۔“ ایسا محسوس ہوا جیسے سنان اس کے کان کے قریب گنگنایا ہو وہ چونک اٹھی بمشکل آنکھیں کھولیں اور تکیہ سے سر اٹھایا سارا کمرا بھائیں بھائیں کر رہا تھا جبکہ باہر سے سکندر اور رفیدا کی مسلسل آوازیں سنائی دے رہی تھیں جانے سکندر کیا کہہ رہا تھا کیونکہ اب وہ ملائی میں بات کر رہا تھا جو نبیرہ کو سمجھ تو آتی تھی لیکن اس کے تیز تیز بولتے جملے اس کیفیت میں وہ سمجھ نہ پا رہی تھی البتہ ہر جملے کے ساتھ رفیدا کی بے اختیار ہنسی اسے اپنی ذات کی تذلیل محسوس ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے رفیدا اس پر ہی ہنس رہی ہو اور پھر یہ آوازیں یکدم بند ہو گئیں اور باہر خاموشی طاری ہو گئی اور اگلے ہی سیکنڈ میں فاطمہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئیں وہ خاموشی سے آنکھیں موندے لیٹی تھی آنسو ایک لکیر کی مشکل میں اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے۔

”سکندر گاڑی نکال رہا ہے تم کپڑے تبدیل کرکے باہر آجاﺅ میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جاﺅں۔“ فاطمہ نے آہستہ سے اسے کندھے تھام کر ہلایا وہ بنا کچھ بولے خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی بمشکل اپنے وجود کو گھسیٹتی الماری سے کپڑے نکال کر باتھ روم میں گھس گئی سنک کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے بے اختیار اس کی نظر سامنے لگے آئینہ میں نظر آتے اپنے عکس پر پڑی زرد چہرہ اندر دھنسی آنکھیں جن کے گرد کالے حلقے نمایاں تھے یہ تو وہ نبیرہ ہرگز نہ تھی جسے وہ جانتی تھی جانے وہ ہنستا مسکراتا خوبصورت چہرہ کہاں گم ہو گیا اس وقت تو سامنے نظر آنے والا چہرہ کسی مردے کے چہرے سے بھی بدتر تھا۔

”سکندر صحیح کہتا ہے کیاہے مجھ میں جو کوئی شخص مجھ سے محبت کرے میں ایسی تو نہ تھی پھر مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے۔“ اپنی حالت پر تاسف زدہ وہ کمرے سے باہر نکلی گھر کے عین سامنے سکندر گاڑی لئے کھڑا تھا فاطمہ بھی اس کے ساتھ تھی وہ خاموشی سے پچھلا دروازہ کھول کر ڈھے سی گئی سکندر اور فاطمہ جانے آپس میں کیا بات کر رہے تھے اس نے سننے کی کوشش ہی نہ کی اور بددلی سے گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں اور تقریباً پندرہ منٹ کے اندر ہی وہ ایک مشہور سرکاری ہسپتال میں موجود تھی جہاں آتے ہی اکثر اسے اپنے ملک کے سرکاری ہسپتال یاد آجاتے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا جبکہ یہاں کی گورنمنٹ اپنے عوام کو تمام تعلیمی اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار تھی جس کا واضح ثبوت وہاں کے سرکاری ہسپتال اور سکول تھے ہسپتال کی ایمرجنسی میں آئے اسے بمشکل پندرہ سے بیس منٹ ہی ہوئے تھے جب اس کے تمام ٹیسٹ لے لئے گئے اور پھر جلد ہی اس کی تمام میڈیکل رپورٹس بھی آگئیں اس تمام عرصہ میں سکندر سخت بے زار کن صورت بنائے اس کے قریب ہی کرسی پر براجمان تھا جبکہ فاطمہ باہر تھی۔

”مبارک ہو مسٹر سکندر آپ کی بیوی امید سے ہے۔“ ٹیبل کے سامنے بیٹھی لیڈی ڈاکٹر نے تمام رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد سکندر کو مقامی زبان میں مخاطب کیا۔

”پریگننٹ۔“ اسے یک دم شاک سا لگا وہ تو جب سے پاکستان سے آئی تھی مسلسل منصوبہ بندی کی گولیاں استعمال کر رہی تھی پھر یہ سب کیسے ہو گیا وہ پریشان ہو اٹھی اور اس کی یہ پریشانی فاطمہ اور سکندر سے چھپی نہ رہ سکی۔

”کیا تم یہ بچہ نہیں چاہتیں؟“ گاڑی میں بیٹھتے ہی سکندر نے قدرے چبھتے ہوئے انداز سے نبیرہ سے سوال کیا اور یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب چاہتے ہوئے بھی نبیرہ ہاں میںنہ دے سکی۔

”میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے اب تو جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔“ تلخی سے جواب دے کر اس نے اپنی نظر کھڑکی سے باہر دوڑتے بھاگتے نظاروں پر لگا دی ہلکی ہلکی برستی بارش باہر کے مناظر کو بہت خوبصورتی بخش رہی تھی لیکن آج نبیرہ کو کچھ بھی اچھا نہ لگ رہا تھا اس کے دل کا موسم خزاں زدہ تھا اور سچ تو یہ ہے کہ باہر کا موسم بھی صرف اس وقت ہی اچھا لگتا ہے جب آپ کے اندر کا موسم اچھا ہو اور پھر گھر پہنچتے ہی اس نے پہلی فرصت میں ربیعہ کو کال ملا کر ساری بات بتائی۔

”اوہ مبارک ہو۔“ ربیعہ نے خلوص دل سے اسے مبارک دی جسے نبیرہ نے بالکل نظر انداز کر دیا ربیعہ کو ساری بات بتانے کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا جو وہ سمجھی تھی نبیرہ کے پاس سوائے ربیعہ کے کوئی ایسا ساتھی نہ تھا جس سے وہ اپنا اتنااہم مسئلہ ڈسکس کر سکتی۔

”مجھے یہ بچہ نہیں چاہئے۔ وہ فیصلہ کن انداز میں بولی۔

”مجھے ابارشن کروانا ہے۔ میں نے اس سلسلے میں مشورہ کرنے کیلئے تمہیں فون کیا ہے۔“

”پاگل ہو گئی ہو تم، بھلا تم خود سوچو تم دونوں میاں، بیوی کے کسی بھی پرابلم سے اس معصوم جان کا کیا تعلق ہے جو ابھی دنیا میں آئی بھی نہیں ہے۔“ ربیعہ نے اسے سمجھاتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔

”تم نہیں جانتیں ربیعہ، میں نے حماد کی پیدائش سے لے کر آج تک کا وقت کتنی اذیت سے گزرا ہے۔ ابھی تو میں اس اذیت ہی کی عادی نہیں ہو سکی ہوں تو بتاﺅ بھلا مزید تکلیف کیسے بھگت سکوں گی، میرا یقین کرو ربیعہ پورے نو ماہ کی تکلیف برداشت کرکے اپنابچہ کسی دوسرے کے حوالے کرنا کس قدر اذیت ناک عمل ہے تم کبھی نہ جان سکو گی، کیونکہ تم اس تکلیف سے نہیں گزریں۔“ وہ سسک رہی تھی، اس کے لہجہ میں بولتا دکھ ربیعہ کا دل چیر رہا تھا۔ اس کے پاس کوئی ایسا جملہ نہ تھا جس سے وہ اس ہجر کی ماری ماں کو تسلی دے۔ لیکن جو بھی تھا نبیرہ کے دکھ اور تکلیف نے اسے بھی رلا دیا۔ بے شک وہ بھی یہاں پردیس میں اپنے گھر والوں سے دور تن تنہا تھی، لیکن اس کے ساتھ عبدالوہاب اور اس کے دو پیارے پیارے بچے تھے جبکہ نبیرہ تو بالکل ہی تہی دامن تھی۔

”اگر تم میری اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکتیں تو میں سامنے والی شوبھا سے بات کر لیتی ہوں۔“ اس کی مسلسل خاموشی سے اپنا مطلوبہ نتیجہ حاصل کرتی ہوئی نبیرہ بولی۔

”دیکھو نبیرہ جو تم چاہ رہی ہو وہ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔“

”تو پھر تم بتاﺅ حل کیا ہے۔“ جواباً وہ تھکے تھکے انداز میں بولی۔

”میری مانو تم اس سلسلے میں انکل صالح سے بات کرو، انہیں اپنا تمام مسئلہ بتاﺅ، انہیں ہر وہ بات بتا دو جو تمہارے دل کے اندر ہے اپنے ساتھ سکندر کا رویہ، ایدھا اور سکندر کے تعلقات اور حماد کی خود سے دوری جہاں تک میں سمجھتی ہوں وہ یقینا اس سلسلے میں تمہاری مدد کریں گے، کیونکہ یہاں سارے خاندان میں ان کی کافی سنی جاتی ہے۔“ ربیعہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔

”یاد رکھو نبیرہ ظلم کرنے سے زیادہ گناہ گار وہ ہے جو ظلم سہتا ہے۔ اپنی خاموشی کو ختم کرو، کب تک اس احساس کے ساتھ اپنی ہربے عزتی برداشت کرو گی کہ کہیں تمہارے حالات لوگوں کو تم پر نہ ہنسائیں بی بریو نبیرہ، اپنے اندر ہمت پیدا کرو، حالات کا مقابلہ کرنے کی اور یہ عہد کرو کہ کچھ بھی ہو جائے تم نے اپنا یہ بچہ سکندر کے حوالے نہیں کرنا اور اس کیلئے ابھی سے کوشش کرو۔“ ربیعہ نے اسے ایک نیا راستہ دکھایا۔ یہ سب تو اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اب جو ربیعہ نے سمجھایا تو اسے سب کچھ سمجھ میں آگیا۔

”ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔“ ربیعہ کی حوصلہ افزائی نے اس کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔

”مجھے انکل صالح سے ضرور بات کرنی چاہئے۔“

”ہاں ضرور کرو اور اگر پھر بھی تمہارے مسئلے کا حل نہ نکلے تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ فون رکھتے رکھتے اس نے نبیرہ کو ہر ممکن تسلی دی۔

QQQQ

تمہارے یوں بچھڑنے کا مداوا ہو بھی سکتا تھا

ذرا جو تم ٹھہر جاتے کوئی تدبیر کر لیتے

سنان اپنی آنکھوں پر بازو رکھے پچھلے ایک گھنٹہ سے اسی پوزیشن میں لیٹا ہوا تھا۔ بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سو چکا ہو۔ لیکن اس کے مسلسل ہلتے پاﺅں اس امر کی نشاندہی کر رہے تھے کہ وہ جاگ رہا ہے۔ شبنم دوبارہ اسے اسی حالت میں لیٹا دیکھ کر دروازے سے واپس پلٹ گئی تھیں۔ لیکن اب جو تیسری بار انہوں نے اندر جھانکا تو اسی سابقہ پوزیشن میں اسے لیٹا دیکھ کر وہ واپس نہ پلٹ سکیں اور اندر داخل ہو کر اس کے بالکل سرکے قریب جا پہنچیں۔

”سنان….“ انہوں نے ہولے سے پکارا۔ کچھ دیر جواب کا انتظار کیا۔ کوئی رسپانس نہ پاکر وہ بے اختیار اس کا بازو ہلا بیٹھیں۔

”سنان….“

”جی….“ اس نے اس پوزیشن میں لیٹے لیٹے جواب دیا۔

”کھانا کھا لو بیٹا دوپہر کے تین بج گئے ہیں۔“

”مجھے بھوک نہیں ہے۔“ اس کی سابقہ پوزیشن برقرار تھی۔ اس کے انکار کے بعد مزید بحث کرنا بے کار تھا۔ شبنم جانتی تھی کہ اگر اس نے انکار کر دیا تو اس سے ہاں کروانا مشکل ہے۔ کیونکہ پچھلے کچھ سالوں سے وہ پہلے والا سنان نہ رہا تھا جو اپنی ماں کی ہر بات پر ہاں کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا اور یقینا اس سب کی ذمہ دار وہ خود ہی تھیں۔ کچھ دیر تو وہ اس کے انکار کے بعد بھی کھڑی رہیں۔ لیکن جب کوئی رد عمل سنان کی طرف سے نہ ملا تو تھکے تھکے قدموں سے واپسی کیلئے پلٹ گئیں۔ ابھی دروازے تک نہ پہنچی تھیں کہ اپنے پیچھے انہیں سنان کی آواز سنائی دی۔

”ایک منٹ امی رکئے گا۔“ وہ فوراً رک گئیں اور پلٹ کر دیکھا سنان بیڈ سے پاﺅں لٹکا کر بیٹھا ہوا تھا۔ شبنم اس کے پاس جا کھڑی ہوئیں۔

”کیا ہوا بیٹا بولو۔“ بے قراری ان کے لہجہ میں جھلک رہی تھی۔ انہیں پکارنے والا بالکل ساکت ہو چکا تھا، جیسے کوئی پتھر کا مجسمہ۔

”سنان تم کچھ کہہ رہے تھے۔“ شبنم نے بے اختیار اس کے کندھے کو پکڑ کر ہلایا۔

”آں…. ہاں۔“ وہ چونک اٹھا۔ نظر اٹھا کر ماں کی جانب تکا۔ اس کی لال سرخ آنکھوں میں پانی سا تیر رہا تھا۔ کسی خیال کے تخت شبنم شرمندہ سی ہو گئیں۔

”کیا بات ہے بیٹا بولو۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی نمی ان کے لہجہ گھل گئی۔

”امان کی شادی میں نبیرہ آپ سے ملی تھی؟“ یہ کیسا سوال تھا شبنم کو امید نہ تھی کہ سنان ان سے نبیرہ کے بارے میں کوئی بات کرنے والا ہے۔ وہ گڑبڑا سی گئیں۔ سمجھ ہی نہ آیا کیا جواب دیں۔

”ہاں ملی تو تھی، کیوں کیا ہوا؟“

”نہیں بس ایسے ہی پوچھ لیا، پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے وہ اپنے گھر میں خوش نہیں ہے۔“ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

محسوس تو شبنم کو بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ لیکن جب انہوں نے رجاب سے یہ ذکر کیا تو اس نے فوراً سے بیشتر ان کے اس خیال کو رد کر دیا۔

”یہ صرف آپ کی فضول سوچ ہے۔ وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔ ہر دوسرے دن سکندر بھائی کا اسے فون آتا ہے اور پھر ایسا شوہر کہاں ملے گا جو بیوی کے پیچھے اس کا بچہ سنبھال رہا ہو اور بیوی مزے سے گھوم پھر رہی ہو اور ہاں پلیز اب آپ یہ الٹی سیدھی باتیں سنان کے سامنے مت کیجئے گا۔“

اتنے سال گزرنے کے باوجود رجاب کے لہجہ میں آج بھی نبیرہ کےلئے موجود حسد جھلک رہا تھا۔ اس دن کے بعد انہوں نے دوبارہ اس نہج پر سوچا بھی نہ تھا تو پھر یہ بات سنان تک کیسے پہنچی جہاں تک انہیں یاد پڑتا تھا سنان تو نبیرہ سے ملا بھی نہ تھا اور وہ بھی ان کے گھر ہونے والی دعوت میں بھی شریک نہ ہوئی تھی۔ پھر سنان نے اتنی گہرائی تک کیسے سوچا۔

”تم ملے تھے نبیرہ سے؟“ اپنے اندر کی خلش ان کی نوک زبان پر بھی آگئی۔

”آپ کو امید ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد وہ مجھ سے ملے گی۔“ الٹا وہ ان سے سوال کر بیٹھا، جس کا جواب شبنم کے پاس نہ تھا۔

”آپ اسے نہیں جانتیں امی وہ بہت ضدی لڑکی ہے، ایک بار جو چھوڑ دیا سو چھوڑ دیا۔ وہ سست ضرور ہے، لیکن اگر کسی مقصد کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھ لے تو ہار نہیں مانتی اور پھر میرے پاس تو خود اتنی ہمت نہ تھی کہ میں اسے فیس کر سکتا۔ آپ تو اچھی طرح جانتی ہیں نا کہ میں نے آپ سب کے کہنے پر کس طرح اس کا دل توڑا تھا اور مجھے یقین تھا کہ جو کچھ میں اس سے کہہ رہا ہوں اس سب کے بعد میں کبھی بھی دوبارہ اس سے بات نہ کر سکوں گا پھر بھی میں نے وہ سب کیا جسے کرنے پر میرا دل اور ضمیر دونوں آمادہ نہ تھے۔“ وہ تھکے تھکے لہجہ میں بولا، شبنم چور سی بن گئیں۔

”میں نے اسے ایک، دو بار باہر دیکھا تھا۔ اس کے چہرے کی شادابی نچڑ گئی ہے۔ آنکھوں کی چمک مانند پڑ گئی ہے۔ وہ بہت نڈھال تھی۔ ہنسی اس کے لبوں تک آنا بھول گئی ہے۔ بہت کمزور ہو گئی ہے امی وہ۔“ وہ ایک جذب کے عالم میں بول رہا تھا۔ اس کے الفاظ قطرہ قطرہ بن کر شبنم کے دل میں اتر رہے تھے۔ کاش جنید اور رجاب اپنی ضد میں میرے بچے کی خوشیاں داﺅ پر نہ لگاتے۔ کیا ملا ان دونوں کو میرے معصوم بچے کا دل اجاڑ کر، لیکن شاید نبیرہ اس کا نصیب ہی نہ تھی۔ ورنہ یہ سب کچھ اتنا مشکل نہ ہوتا جتنا ہوتا گیا۔ اس کو کہتے اللہ کی رضا اور نصیب کا لکھا جس کے آگے انسان بالکل بے بس ہو جاتا ہے اور اس سوچ نے ان کے دل کو ڈھارس دینے میں مدد دی۔

”تمہارے ماموں کا فون آیا تھا۔“ ضروری تھا کہ سنان کا دھیان کسی اور طرف لگایا جائے۔

”وہ رخصتی کے بابت دریافت کر رہے تھے کہ کب تک ارادہ ہے۔“ انہیں یہ ہدایت بھی رجاب نے ہی دی تھی کہ سنان کو جلد از جلد مرینہ کے پاس بھیج دیں۔ تاکہ اس کا دل بہل سکے۔ کیونکہ سنان کی یہ کھوئی کھوئی سی کیفیت کسی سے بھی پوشیدہ نہ تھی۔ اس کے قریبی سب لوگ ہی جانتے تھے کہ وہ نبیرہ کے فراق میں دنیا داری بھول چکا ہے۔ آج بھی اس کے دل سے نبیرہ کی یاد نہیں گئی۔ وہ ابھی بھی اس کے حصار محبت میں گرفتار ہے اور اس کا آسان حل یہی نظر آرہا تھا کہ جلد از جلد اس کی شادی کر دی جائے۔ تاکہ وہ گھر داری میں الجھ کر اپنے ماضی سے پیچھا چھڑا سکے۔ حالانکہ ماضی میں ایسی چیز ہے جو انسان کا پیچھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتی۔ مگر یہ بات سب کی سمجھ میں نہیں آتی۔

”آپ کا جب دل چاہے یہ کار خیر انجام دے دیں۔ کیونکہ مجھے اس تمام سلسلے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔“ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ پاﺅں میں سلیپر پہنے اور بڑے بڑے ڈگ بھرتا دروازہ کھول کر کمرے سے اور پھر گھرسے ہی باہر نکل گیا۔ اسے جاتا دیکھ کر شبنم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور بے اختیار ان کے دل سے دعا نکلی۔

”اے خدا میرے بیٹے کے نصیب میں بھی سچی خوشیاں لکھ دے۔ وہ خوشیاں جو اس سے روٹھ گئی ہیں، اس کے نصیب کی روٹھی خوشیوں کی ذمہ دار بھی میں ہی ہوں، میری بدنصیبی کہ بیٹی کا گھر بسانے کیلئے بیٹے کا دل اجاڑ دیا۔ میرے مالک مجھے معاف کرنا۔“ دعا کے ساتھ ساتھ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے