سر ورق / کہانی / ننھا ہزارے۔۔۔ نوشاد عادل

ننھا ہزارے۔۔۔ نوشاد عادل

                                                            ننھا ہزارے

نوشاد عادل

 ”تاتے لے او تم…. پادل ہودئے او تا؟“(کیا کہہ رہے ہو تم پاگل ہوگئے ہو کیا؟) گلابی ایک دم گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے کالے چہرے پر دہشت کے پھوڑے نکل آئے تھے۔وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے سامنے کھڑے ہوئے سخن اکبر آبادی کو دیکھ رہا تھا۔

            سخن نے مایوسانہ ڈکار ماری اور افسردگی سے گلابی کو دیکھتے ہوئے بولا” ہاں….میں ٹھیک کہہ رہا ہوں…. اور تو تو بیٹھ جا….تو کس لیے کھڑا ہوگیا ہے توتلے کی اولاد …. تیری اماں آواز دے رہی ہے کیا؟ بیٹھ اِدھر۔“

            ”مم….مدے ڈل لد را اے۔“ (مجھے ڈر لگ رہا ہے؟) گلابی کی منہ سے سہمی سہمی آواز نکلی۔

            ”ابے ایک تو تجھے ہر تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ لگتا رہتا ہے۔ بیٹھ جا آرام کے ساتھ….اور بتا، میں کیا کروں ؟ میں تیری کالی صورت دیکھنے نہیں آیا میرے عزیز ہم وطن…. مشورہ لینے آیا ہوں….مجھے مشورہ دے کر میں کس طرح مروں؟“

            ”مدل مدل….“(مگرمگر) گلابی ہکلا کر رہ گیا۔

            سخن نے ہاتھ اٹھایا”ابے مگر مچھ کے بّچے…. مشورہ دے رہاہے یا دوں تیری کالی کلوٹی گدی پر۔“

            گلابی رونے جیسا ہوگیا”مدے تا پتا کیتھے ملتے ایں ….مے نے تبی مل تے نئیں دیتھا“(مجھے کیا پتا کیسے مرتے ہیں میں نے کبھی مر کے نہیں دیکھا۔“

            ”تو میں کون سا اس سے پہلے مرچکا ہوں….اس لیے تیرے سے مشورہ لینے آگیا ہوں کہ کوئی ذرا اچھا اور باعزت طریقے سے مرنے کا ٹوٹکا بتادے۔“ سخن نے گلابی کے سر میں سے ایک جوں نکال کر اپنے انگوٹھے کے ناخن پر ماری اور گلابی کی شلوار سے ہاتھ صاف کرلیا۔

            ”توتکا….میں توئی دوبیدہ آپا اوں؟تم مرنا توں چالے او؟“ (ٹوٹکا ….میں کوئی زبیدہ آپا ہوں؟ تم مرنا کیوں چاہ رہے ہو)گلابی کے پیٹ میں تجسس کے مارے کھجلی ہورہی تھی۔

            سخن نے کونسلر صاحب کے دفتر کی چھت پر نظر یں ڈالیں اور گہری سانس چھوڑی”بس یار…. مت پوچھو …. اصل میں اس دنیا نے کبھی میری قدر نہیں کی….میرا دل اس دنیا سے کھٹا میٹھا ہوگیا ہے ،اس لیے اب میں نے اپنی زندگی ختم کرنے کا پکا ارادہ کرلیا ہے۔“

            ”تو پھل ملنے تے بادتا ترودے؟“ (تو پھر مرنے کے بعد کیا کرو گے؟) گلابی نے اپنی عقل و فراست کے مطابق اہم سوال کیا۔

            ”پھرمیں گوشت کی دکان کھولوں گا۔“ سخن نے جھنجلاکر کہا اورگلابی کی گردن پر زور کی شاباش دی،وہ بھی پٹاخ والی آواز کی ساتھ۔ ”دل کررہا ہے تیرے اس خوب صورت سوال پر تجھے پڈی پر بٹھا کر باغ کی سیر کراﺅں اور کھٹ پٹ والا جھولا بھی جھلاﺅں۔تونے کس غار میں پرورش پائی ہے…. کس مورچے میں تعلیم حاصل کی ہے؟“

            ”مال توں لے او؟“(مار کیوں رہے ہو؟) گلابی اپنی سنسناتی ہوئی گدی سہلا رہا تھا”اتھا اب آتھری تھوال“(اچھا اب آخری سوال۔)

            گلابی کے سوال کرنے سے پہلے سخن نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بھنا کر بولا”ابے تو کون ہے…. طارق عزیز ہے….سوال پہ سوال کیے جارہا ہے…. میں کوئز پروگرام میں آیا ہوں کیا؟ صرف مشورہ لینے آیا ہوں کہ مرنے کی کوئی اچھی سی ترکیب بتادے۔“

            ”ملنے تا بہت شوت اے تو تاتا تے پاس داﺅ…. وہ تم تو تتے تی موت مال دےں دے۔“ (مرنے کا بہت شوق ہے تو چا چا کے پاس جاﺅ ۔ وہ تم کو کتے کی موت ماردیں گے)گلابی نے پہلا مشورہ دیا۔

            ”چاچا کے پاس جانے سے بہتر ہے آدمی گٹر میں جمپ لگاکر جان دے دے۔“ سخن نے منہ بنایا۔

            اس سے پہلے کہ گلابی مزید تتلاتا، باہر غضب کا شور سنائی دیا۔ اس وقت وہ دونوں شرفو صاحب کی دفتر میں موجود تھے۔

            ”ابے یہ کیسا شور ہے؟ کوئی مر مرا تو نہیں گیا؟“ سخن نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے کہا۔

            دونوں دفتر سے باہر نکلے تو دیکھا ۔ایک جانب سے دس پندرہ افراد نعرے لگاتے چلے آرہے تھے۔ ان میں زیادہ تر جانی پہچانی صورتیں تھیں۔ چپٹا اور بابو باﺅلا آگے آگے پر جوش انداز میں نعرے لگارہے تھے۔ سب سے حیران کن منظر یہ تھا کہ ان افراد کے درمیان میں چار آدمیوں نے ایک ڈولا اٹھا رکھا تھا اور ڈولے پر مردہ بیٹھا ہوا تھا۔

            سخن آگے بڑھا اور بابو باﺅلے سے بولا”ابے یہ کیسامردہ ہے…. مرنے سے پہلے ہی ایڈوانس میں دفنانے لے جارہے ہو؟“

            ”دفنانے نہیں لے جارہے ہیں۔“ بابو باﺅلے نے لعنت آمیز نظروں سے سخن کو دیکھتے ہوئے کہا۔

            ”تو آئس کریم کھلانے لے جارہے ہو ڈولے پر؟“

            ”تم نے پہچانا ….یہ کون ہیں؟“ بابو نے ڈولے میں بیٹھے مردے کی طرف اشارہ کیا ،جو بہت خوش نظر آرہا تھا۔

            ”شکل کی منحوسیت سے جانا پہچانا بندہ لگتا ہے۔“ سخن نے غور سے دیکھا۔ ”مگر اس کے گلے میں اتنے ہار ہیں کہ آدھی شکل چھپ گئی ہے۔“

            ”یہ استاد دلارے ہیں۔“ بابو نے انکشاف کیا۔

            ”استاد دلارے “ سخن حیران رہ گیا”مگر…. ان کو ڈولے میں کیوں بٹھایا ہوا ہے….اور یہ پھولوں کے ہار کس خوشی میں گلے میں ڈالے ہوئے ہیں….انھوں نے گھوڑوں کی ریس جیتی ہے کیا؟“

            جلوس رکا ہوا تھا اور گلی والے باہر نکل کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے ۔ جلوس کے شرکاءمیں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ محلے کے چھوٹی چھوٹی توند والے کالے کالے ،ننگ دھڑنگ بچے بلوں سے نکل آئے تھے اور جلوس میں شامل ہوکربجلی ڈانس پیش کررہے تھے،جو بہت فاسٹ ہوتا ہے۔

            ”استاد دلارے کیا گھوڑے ہیں، جو ریس جیتیں گے؟“

            ”ایک بات تو بتاﺅ؟“ اچانک سخن کو کوئی خیال آیا” تمھیں تو استاد نے اپنی شاگردی سے لات مارکر نکال دیا تھا …. تم ان کے جنازے میں کیوں آئے ہو؟“

            ” استاد کے جذبے نے ہمارے سارے اختلافات ختم کردیے ہیں۔“ بابو نے فخریہ انداز میں بتایا۔

            ”بے غیرتی کی موت مرنے کے جذبے نے؟“ سخن نے سوال کیا ۔

            ”یہ بات نہیں ہے۔ “ بابو برا مان گیا۔

            ”ابے لعنت بھیج بات پر ….کوئی بھی بات ہو، مجھے وہ سن کر کون سا انڈے والا برگر مل جائے گا۔ یہ بتاﺅ کہ استاد کو ڈولے کی موجی کیوں کھلارہے ہو؟ انھوں نے فٹ بال میچ میں ٹرافی حاصل کی ہے کیا؟“

            ”یہ کم از کم پندرہ فٹ لمبی بات ہے….آرام سے بتاﺅں گا۔“بابو نے مڑکر جلوس کی جانب دیکھا، جو اب رک چکا تھا اور استاد دلارے ڈولے سے اُتر کر کھڑے تھے اور لوگوں کی جانب دیکھ کر ہاتھ ہلارہے تھے۔ ساتھ ہی بچوں کے رقصِ شرر کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھولے سے پانچ ٹھمکے بھی لگادیئے، جنھیں ہر آنکھ نے پسندیدگی سے دیکھا۔

            ”آرام سے کیا…. گاﺅ تکیے سے ٹیک لگاکر بتائے گا؟“ سخن نے بابو کو کھدیڑتے ہوئے کہا، مگر بابو استاد دلارے کی طرف چلاگیا۔

            ادھر جلوس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ اب تک کالونی کے خوارین جمع تھے‘ لیکن اب نامی گرامی معززین بھی آنا شروع ہوگئے تھے۔انگریز انکل‘ چودھری بشیر‘ خالو خلیفہ‘ شرفو کونسلرصاحب بھی آپہنچے تھے۔ خوارین میں دنبہ نائی‘ مجو قصائی‘ جمال گھوٹا مع اپنا کھوتا، یعنی کولمبس‘ للو‘ پنجو‘ مائیکل بھنگی‘ نجمو سبزی والا وغیرہ بھی جلوہ گر ہوچکے تھے۔گلی میں غضب کا شور ہورہا تھا۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ گلابی دفتر کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ اچانک وہاں ایک دبنگ قسم کی آواز گونجی۔

            ”او بس اوئے بس…. ختم کرو بندر کا تماشا…. سب سائیلنسر ہوجاﺅ۔“ یہ چودھری صاحب تھے۔

            لوگوں کو کتا سونگھ گیا۔ تب شرفو صاحب آگے آئے اور استاد دلارے سے پوچھا۔”یہ سب کیا ہے استاد…. یہ کیا ہورہا ہے…. یہ ڈولالے کر کہاں جارہے ہو اور یہ ڈولا کس مسجد سے منگوایا ہے ؟“

            ”یہ مسجد کا ڈولا نہیں ہے“ استاد نے جواب دیا ”یہ بھوتنی کا میرا ذاتی ہے۔“

            ”ذاتی ڈولا؟“ انگریز انکل چونکے ” کیا یہ آرڈر پر بنوایا تھا آپ نے۔“

            ” میں بتاتا ہوں۔“ چپٹا استاد دلارے کا فنٹر بن کر آگے آیا ”آپ کو یاد ہوگا کہ تین سال پہلے استاد دلارے کے والد استادپیارے کا انتقال ہوا تھا تو مسجد سے ڈولا منگوایا گیا تھا۔“

            ”ہاں یاد ہے۔“ انگریز انکل نے سر ہلایا”بہت اچھی طرح یاد ہے …. کفن دفن کے بعد استاد دلارے اور میرا پتنگ بازی کا دنگل بھی ہوا تھا …. کیا زبردست دنگل ہوا تھا۔اُف۔ استاد نے اپنے ابا کا غم غلط کرنے کے لیے کمال کی پتنگ بازی کی تھی۔“

            ”بس تو پھر وہ ڈولا استاد نے مسجد میں واپس نہیں کیا اور اپنا بستر بنالیا۔ اب یہ ہر رات اسی میں گدا اور تکیہ رکھ کر سوتے ہیں۔“

            خالو خلیفہ نے براہ راست استاد دلارے سے پوچھا ”استاد …. آخر یہ ماجرا کیا ہے؟“

            ”بتاﺅں گا….سب بھوتنی والوں کو بتاﺅں گا…. مگر یہاں نہیں بتاﺅں گا۔“ استاد دلارے نے معززین سے مخاطب ہوکر کہا۔

            ”تو کیا کھمبے پر چڑھ کر بتاﺅگے؟“ شرفو صاحب نے جھنجلا کر کہا۔

  ”نہیں…. میں دفتر میں بتاﺅں گا۔“

            ”ادھر ہی بتادو استاد۔“ چپٹے نے مداخلت کی”اچھا ہے سب لوگ سن لیں گے۔“

            ”ہاں….یہ بات تو ہے۔“ استاد نے سر ہلایا”اچھا تو پھر سب لوگ تمیز سے کھڑے ہوجائیں۔“

            ”ابھی کیا ہم ایک دوسرے کی پڈی پر چڑھے ہوئے ہیں؟“ خالو نے ناک سکوڑتے ہوئے کہا” تم بتاﺅ کیا بات ہے“۔

            ”ابے او….یہ کیا ہورہا ہے فالتو فنڈمیں….“ اچانک لوگوں کے درمیان میں سے چاچا چراندی نمودار ہوئے اور چیتے کی سی تیزی سے معززین کے نزدیک آگئے۔” کیوں رش لگایا ہوا ہے…. پھر انھوں نے استاد دلارے کو بہ غور دیکھا۔“ یہ تمھیں کیا ہوگیا….جنگ پر جارہے ہو یا پھر…. مسلمان ہوئے ہو؟“

            ”چاچا کا مطلب ہے کہ آپ نے قبول اسلام کیا ہے؟“ چپٹے نے جلدی سے وضاحت کی۔

            ”چمچہ گیری…. چمچہ گیری کرتا ہے۔“ چاچا نے لگے ہاتھوں چپٹے کے ہاتھ لگایا” اس کے منہ میں زبان کی جگہ پان ہے؟ یہ خود جواب کیوں نہیں دے رہا ہے فالتو فنڈمیں۔“

            ”وہی بتانے جارہا ہوں چاچا….ذرا صبر کی چسنی منہ میں لگالو۔“ استاد دلارے نے ہاتھ اٹھا کر کہا اور ایک قریبی چبوترے پر چڑھ گئے۔ پھر انھوں نے تمام معززین و خوارین پر ایک حقارت و لعنت آمیز نظر ڈالی۔ ان کے جاں باز سپاہی ڈولا گلی میں رکھے اس کے قریب کھڑے تھے۔ چاچا چراندی کو کھڑے ہو کر استاد دلارے کی تقریر سننا گوارہ نہ تھا ،لہٰذا وہ آگے آئے اور ڈولے میں ایسے لیٹ کر استاد دلارے کی جانب دیکھنے لگے، جیسے ٹی وی پر کوئی سیاسی مباحثہ دیکھ رہے ہوں۔ ساتھ ساتھ ان کی دونوں ٹانگیں مزے میں ہل رہی تھیں۔

             سخن نزدیک ہی کھڑا تھا کہنے لگا۔”چاچا…. ڈولے میں خوب انجوائے کررہے ہو …. پریکٹس کرلو۔ویسے ہی ٹائم آنے والا ہے تمھارا۔“

            ”ابے میں انجوائے کررہا ہوں؟“ چاچا غرائے۔

            جمال گھوٹے نے بیچ بچاﺅ کراتے ہوئے کہا، جو ان دونوں کے جملے سن چکا تھا۔” چھوڑو چاچا…. دفع کرو اسے….بھلا کون کتی کی نسل ڈولے میں انجوائے کرے گا …. تم تو ٹانگیں ہلا ہلا کر نیستی پھیلارہے ہو ڈولے میں۔“

            چاچا نے لیٹے لیٹے جمال گھوٹے کی شلوار پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا اور ہاتھ مزید آگے اور تھوڑا گھما کر نوچ لیا۔ جمال گھوٹا مگر مچھ کی طرح منہ پھاڑ کر چلایا”آ آ آ….“

            استاد دلارے نے اسے دیکھتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر کہا ” میں نئیں آرہا بھوتنی کے…. پہلے بات تو کرلوں۔“پھر انھوں نے چبوترے پر ڈنڈ لگانے شروع کردیے۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں اُبھرنے لگیں۔

            شرفو صاحب نے تیز آواز میں پوچھا”ابے یہ کیا شروع کردیا؟ ہم تمھارا ڈانس دیکھنے کے لیے خوار ہورہے ہیں کیا؟“

            ”اور کیا….“ خالو نے سرہلایا”ا س سے اچھا تو کسی مداری کے بندر کا ڈانس دیکھ لیں۔“

            چاچا چراندی نے ڈولے میں لیٹے لیٹے سخن کو اشارہ کیا” ابے او …. ادھر آ …. چل تھوڑا ناچ کر خالو کی خواہش پوری کردے…. ان کا دل چاہ رہا ہے کسی بندر کا ڈانس دیکھنے کے لیے…. ابے شر ما کا ہے کو ریا ہے …. لگادے …. دو ڈھائی ٹھمکے ہلکے ہلکے۔“

            سخن نے منہ ہی منہ میں گالیاں بکیں اور چاچا کی طرف پھونک ماردی۔ گالیوں والی پھونک سے چاچا کا چہرہ باغ و بہار گل و گلزار ہوگیا۔

            ”گلابی بچے….“استاد دلارے نے دور کھڑے گلابی کو تاک کر آواز دی” ادھرآ۔“

            گلابی گدھے کے بچے کی طرح دوڑتاہوا چبوترے پر چڑھ گیا۔”دی استاد…. توئی تام؟“( جی استاد…. کوئی کام؟)

            استاد نیچے بیٹھے اور بولے” میری پڈی پر چڑھ جا۔“گلابی نے وجہ بھی نہیں پوچھی اور جھٹ ان کی پڈی پر سوار ہوگیا۔

            شرفو صاحب نے حیرانی سے پوچھا” استاد…. دماغ تو ٹھکانے پر ہے نا….؟یہ گلابی کو پڈی پر کیوں چڑھایا ہے؟“

            ”اس لیے کہ میری بات میں اب وزن ہوگا“ استاد کی منطق ہی نرالی تھی۔

            ”وزن تو ہوگا ،مگر کالا اور توتلا وزن ہوگا۔“ انگریز انکل نے بھی لقمہ دے دیا۔

            ”ہاں تو میرے تمام بھوتنی کے بھائیو!“ استاد دلارے نے تقریر کا آغاز کیا”اپنے اپنے کانوں میں سے میل نکال کر میری بات سن لو۔ ابھی کچھ عرصے پہلے ہی سب لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا ہوگا کہ پڑوسی ملک میں ایک آدمی نے بھوک ہڑتال کی تھی۔ وہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں ….۔“ استاد یاد کرنے لگے اوپر سے گلابی یاد دلانے کے لیے اُن کے سر پر زور دینے لگا۔

            ”کس چیز کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی؟“ نجمو نے دونوں ہاتھ فضامیں بلند کرتے ہوئے پوچھا۔

            استاد جھنجلا کر بولے” وہ یار…. انگریزی میں بڑا اچھا سا نام ہے….ہاں یاد آگیا۔“ استاد دلارے نے چٹکی بجائی” کرپشن کے خلاف …. ہاںکرپشن کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی…. اور اس آدمی کا نام تھا اَنا ہزارے۔“

            ”تو اب تمھارے کیا ارادے ہیں مسٹر دلارے؟“ خالو خلیفہ نے ناک کھجاتے ہوئے پوچھا۔

            ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بھی انا ہزارے کی طرح بھوک ہڑتال کروں گا اور جب تک دڑبہ کالونی سے کرپشن‘ ملاوٹ‘ گندگی اور دوسری ساری برائیاں ختم نہیں ہوجاتیں…. میری ہڑتال جاری رہے گی۔“ استاد دلارے نے آخر کار اعلان کر ہی دیا۔

            اس لمحے چپٹا آگے آیا اور زور دار نعرہ مارا۔” ننھا ہزارے۔“بابو باﺅلا چلایا”استاد دلارے۔“

            ”ابے او سخن۔“ چاچا نے بڑے پیار سے سخن کو پکارا”اب تو تجھے کالونی سے جانا پڑے گا….ایمان سے بڑا یاد آئے گا فالتو فنڈ میں۔“

            ”میں کس لےے جا ¶ں گا کالونی سے باہر؟مجھے کوڑھ ہوگئی ہے کیا؟“ سخن نے منہ بنا کر کہا۔

            ”کیا سنا نہیں تو نے؟“ چاچا نے ڈولے میں کروٹ بدلی ”استاد دلارے نے کیا کہا ہے ابھی …. کالونی سے گندگی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔“

            ”پھر تو چاچا….اپن دونوں ساتھ ہی چلیں گے۔“ سخن نے فوری بدلہ لیا۔

             ”کون کون میری حمایت کا اعلان کرے گا؟“ ادھر استاد دلارے لوگوں سے پوچھ رہے تھے۔

            ”او جی دلارے جی۔“ چودھری بشیر بہت دیر بعد بولے” یہ تو تم سیدھا سیدھا خود کشی کرنے جارہے ہو …. مرنا ہی ہے تو چاچا سے کبڈی کھیل لو۔“

            ” استاد…. میں تمھاری حمایت کا اعلان کرتا ہوں“سخن نے ہاتھ بلند کرکے زور سے کہا۔

            ”آج سے استاد دلارے ہماری کالونی کے ننھا ہزارے ہیں۔“ چپٹے نے باضابطہ اعلان کیااور اب آج سے، بلکہ ابھی سے ہمارے ننھا ہزارے ماموں چوک پر بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے،اس وقت تک …. جب تک کالونی سے تمام برائیوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا ،تالیاں۔“

            لوگوں نے تالیاں اور سیٹیاں بجانا شروع کردی تھیں۔ استاد دلارے نے چبوترے سے اترنے سے پہلے گلابی کو پڈی سے نیچے پھینکا۔ چاچا کو ڈولے میں اونگھ آگئی تھی۔ انھیں جگایا گیا اور استاد بڑے کروفر کی ساتھ ڈولے میں سوار ہوگئے۔

                                                                                    ٭٭٭

            ”خالو۔“ سخن نے کاﺅنٹر کے پاس آکر جھٹکے سے کہا۔

            خالو اس وقت اپنے طوفان ہوٹل میں کاﺅنٹر کے عقب میں لمبی سی کرسی پر بیٹھے ریز گاری گن رہے تھے۔ ساتھ ساتھ وہ بریانی بھی کھاتے جارہے تھے۔ سخن کی آواز سن کر اُن کا دل اچھل کر حلق میں آپھنسا۔”کون ….کک….کون….ڈاکو….“ خالو نے بوکھلاہٹ کے مارے بریانی کی پلیٹ میں سے بڑی والی ہڈی منہ میں ڈال لی۔

            ”آداب خالو جان…. میں ہوں سخن‘۔‘ سخن نے بڑے ادب سے کہا۔

            ”لعنت تیری شکل پر۔“ خالو نے اسے دیکھا تو طیش میں آگئے اور ہڈی منہ سے نکال کر دراز میں رکھ دی، جب کہ ریز گاری بریانی کی پلیٹ میں ڈال دی۔

            ”خالو یہ عام سی بات ہے….بچپن سے کھانے میں سب سے زیادہ لعنت ہی کھائی ہے ….اور ہر ذائقے کی۔“ سخن نے اداس لہجے میں کہا پھر پلیٹ کی طرف دیکھ کر ہونٹوں پر زبان پھیرتا ہوا بولا۔”ایک چکھ لے لوں…. بس ایک نوالہ۔“

            ”نیولے کی شکل کے….ہٹ دور….اور خبردار جو بریانی کو دیکھا بھی…. پہلے بھی ایک بار تیری گندی اور ندیدی نظر کی وجہ سے میرے پیٹ میں درد ہوگیا تھا۔“ خالو نے بریانی کی پلیٹ پرے کرلی۔

            ”تو خالو …. جب بھی پیٹ میں درد یا اپھارہ ہو…. چورن کھا لیا کرو….منٹوں میں یا تو مرض نہیں یا مریض نہیں۔“ سخن نے مشورہ دیا۔

            ”اچھا چل جلدی سے بول…. کس لیے آیا ہے …. جلدی بتا…. کام کا ٹیم ہے….رش ہورہا ہے۔“خالو نے بیزاری سے پوچھا۔

            ”خالو جلدی کس بات کی ہے….آرام سے بات سن لو۔“

            ”آرام سے کیا مطلب…. گاﺅ تکیہ لگاکر بات سنوں؟“ خالو آخر خالو تھے۔

            ”خالو میں خوش خطی کرنا چاہتا ہوں۔“ سخن مغموم آواز میں بولا۔

            ”کیا ؟“ خالو کی سمجھ میں نہیں آیا۔

            ”خوش خطی۔“ سخن نے تیز آواز میں بتایا۔

            ”یہ کیا ہوتا ہے؟“

            ”خالو….اخبار میں کبھی نہیں پڑھا کہ ایک آدمی نے زہر پی کر خوش خطی کرلی۔“

            ”اچھا اچھا….“ اب خالو سمجھ گئے ”ذرا قریب آ۔“

            سخن نے منہ آگے بڑھایا اور بولا” بوٹی والا نوالہ دینا۔“

            خالو نے پانچوں انگلیوں کی بھرپور لعنت سخن کے منہ پر رکھی اور بولے“ تھووو ڑے ،تیری زندگی پر۔“ پھر ڈپٹ کر بولے۔”ابے وہ خوش خطی نہیں ہوتی….وہ…. وہ ہوتی ہے ….اللہ میرا بھلا کرے….خود….خود خوشی۔“

            ”خود خوشی؟“ سخن سر کھجانے لگا۔” خود بہ خود خوشی؟ یعنی کہ کوئی آدمی زہر پی لے تو خود خوش ہوجائے گا؟“

            ”خوش کیوں ہوگا؟“ خالو نے منہ بنایا” ابے وہ سید ھا سیدھا قبرستان پہنچ جائے گا۔“

            ”مگر میں تو سیدھا سیدھا قبرستان نہیں پہنچ سکتا۔“ سخن نے مایوسی سے سر ہلایا۔

            ”کیوں؟ تو ٹیڑھا ہو کر جائے گا؟“

            ”نہیں….اصل میں میرے گھر سے قبرستان تک جانے والے راستے میں کئی موڑ آتے ہیں۔“سخن نے تنک آمیز لہجے میں بتایا۔

            ”ابے….ابے…. میں اپنا سر کہاں پھوڑوں؟“ خالو ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

            ”اس دیوار میں۔“ سخن نے سائیڈ والی دیوار کی طرف اشارہ کیا۔

            ”ایمان سے….چلا جا…. ورنہ میرے ہاتھوں بے موت مارا جائے گا“ خالو کی برداشت کا بلبلہ پھٹ گیا۔

            ”پھر میرے ایک دوست کی بات پوری ہوجائے گی ۔“ سخن نے چٹکی بجا کر کہا۔

            ”کون سی بات؟“ خالو نے چونک کر اسے گھورا۔

            ”اس نے کہا تھا کہ اگر تیری حرکتیں جاری رہیں تو تو یقینا کسی کتے کے ہاتھوں مارا جائے گا۔“

            ”ہا ہا ہا ….“ خالو نے غصے سے بھرا قہقہہ لگایا”ادھر آ بھنگی چمار …. بتاﺅں تجھے میں….“ خالو کاﺅنٹر کے پیچھے سے نکلنے لگے۔

            سخن نے ان کے خوف ناک ارادے بھانپ کر بریانی کا ایک نوالہ لیا اور راہ فرار اختیار کی۔

                                                                                    ٭٭٭

            رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا۔ کالونی والے خوابوں میں مختلف ممالک گئے ہوئے تھے۔ ماموں چوک پر غضب کا اندھیرا اور سناٹا تھا۔ ہر جانب ہو کا عالم تھا۔ ایسے میں چوراہے کے عین درمیان میں استاد دلارے مختصر سے چبوترے پر بیٹھے ہوئے تھے ۔انھوں نے زبردستی چپٹے کو روک لیا تھا، جو مختلف بہانے کرکے گھر جانا چاہ رہاتھا۔

            ”استاد….ایمان سے ….اب تو جانے دو۔“ چپٹے نے زبردستی کی جمائی لیتے ہوئے کہا۔” آخر کب تک یہاں کتا خواری کرتے رہیں گے۔ سارے لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔میری مانو استاد تو اپن بھی نکل لیتے ہیں…. صبح دوبارہ آکر بیٹھ جائیں گے…. کسی کو خبر بھی نہ ہوگی۔“

            ”مگر بھوک ہڑتال میں اپنی جگہ سے اُٹھ کر کہیں نہیں جاسکتے۔“ استاد دلارے خود بھی جھوم رہے تھے، لیکن زبردستی جاگ رہے تھے۔

            ”اس سے اچھا تو میں گھر سے چھوٹا کیرم بورڈ لے آتا۔دونوں رات بھر بازی لگاتے اور ٹائم بھی پاس ہوجاتا۔“

            ”خبر دار کہیں جانے کا سوچا بھی تو نے بھوتنی کے۔“ استاد نے اسے ڈانٹ دیا”ادھر ہی ماموں چوک پر اُلٹا لٹکادوں گا۔“ پھر کچھ سوچ کر بولے۔”ابے یہ بھوتنی والے نہیں آئے اب تک؟“

            ”کون…. آپ کے والد محترم؟“ چپٹے نے چونک کر انھیں دیکھا۔

             ”ابے میں میڈیا والوں کی بات کررہاہوں۔“۔ استاد نے منہ بنایا۔

            ”وہ آجائیں گے۔ “ چپٹے نے ہنس کر کہا۔” میں نے انھیں خط لکھ دیا ہے۔“

            اتنے میں کالونی کے کتوں کا گروپ مٹر گشت کرتا ہوا ماموں چوک پر آگیا ۔کتوں نے استاد دلارے اور چپٹے کو دیکھا تو بھونکنے لگے۔استاد دلارے کا تو خون خشک ہوگیا۔ وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولے۔”ابے….یہ….یہ….بھونک کیوں رہے ہیں بھوتنی کے؟“

            ”خخ….خیریت پوچھ رہے ہیں؟“ چپٹے کا خود برا حال تھا۔

            ”تت….تجھے کیسے پتا؟“

            ”تمھارے ساتھ اتنا ٹائم گزار ا ہے استاد….کتوں کی بولی سمجھ میں آئے گی نا۔“ چپٹے نے معصومیت سے بتایا اور اگلے ہی لمحے استاد نے اس کی گردن دبوچ لی۔چپٹے کے حلق سے خوف ناک خر خراہٹ نکلی۔ اسے سنتے ہی کتوں میں بے چینی پھیل گئی اور وہ ایک دوسرے کے پیچھے اطراف میں فرار ہوگئے۔

            ”کیا بکواس کررہا تھا بھوتنی کے بندر؟“استاد گردن دبوچ کر جھٹکے دے رہے تھے ۔چپٹے کی آنکھیں اُبل آئی تھیں۔

            اچانک ایک تیز آواز ابھری۔”خبردار….ہاتھو اوپر کرلو …. ورنہ گولی مار دوں گا۔“

            استاد نے گھبرا کر چپٹے کی کالی گردن چھوڑی اور دیکھا کہ ایک جانب اندھیرے میں سے دو پولیس والے چلے آرہے تھے۔

            ”سلامالیکم….“ استاد نے گھبرا کر سلام کیا۔

            ”کون ہو اوئے تم لوگ؟“ آگے والے موٹے پولیس والے نے دونوں کو گھورا۔ ”اور تم نے اس غریب کی گردن کیوں دبائی ہوئی تھی۔“

            ”وہ….وہ اس بے چارے کے گلے میں درد ہورہا تھا۔میں نے سوچا کہ بھوتنی والے کی گردن دبا دوں۔“استاد نے عذر پیش کیا۔

            ”تو بتا اوئے….“ پولیس والے نے چپٹے سے پوچھا۔”تجھے قتل کررہا تھا نا؟“

            ”نہیں….“چپٹے نے نفی میں گردن ہلائی” قتل نہیں کررہے تھے…. یہ تو جان سے ماررہے تھے۔“

            ”ابے ابے بھوتنی کے…. کیا بک رہا ہے؟“ استاد بوکھلا گئے۔

            ”کیا غلط بول دیا؟“ چپٹا سر کھجانے لگا۔

            ”اور کیا….پھانسی پر لٹکوائے کا کیا؟“

            ”تو اچھا ہے نا….لٹک کر تھوڑا جھولا جھول لینا۔ویسے استاد…. تم بھوک سے دو چار دن میں جہنم رسید ہو ہی جاﺅگے۔اچھا ہے ،عزت سے پھانسی لگ جائے۔“

            ”سر جی۔“ دوسرے پولیس والے نے اپنے ساتھی سے کہا”یہ دونوں مجھے مشکوک لگ رہے ہیں۔“

            ”کیوں…. ہم ایک دوسرے کے ہیروئن کے ٹیکے لگا رہے ہیں؟“ استاد دلارے نے کہا۔

            ”ارے….یہ بہت مشہور آدمی بننے والے ہیں ….آپ نے انا ہزارے کا نام تو سنا ہی ہوگا۔“ چپٹے نے کہا۔

            ”ہاں….ٹی وی پر دیکھا ہے۔“ پولیس والے نے سر ہلایا۔

            ”بس یہ ہمارے ملک کے ننھا ہزارے ہیں….ننھا ہزارے…. استاد دلارے۔“

            ”اوئے….کان کھول کر سن لو…. کوئی چالاکی نہیں چلے گی۔“ موٹا پولیس والا غرایا۔

            ”کان کھول کے؟“ استاد اپنے کان ٹٹولنے لگے۔” کیا میرے کانوں پر ڈھکن لگے ہوئے ہیں؟“

            ”اپنی تلاشی دو۔“ موٹے نے انھیں گھر کی دی۔

            ”کچھ بھی نہیں ہے ہمارے پاس…. بس شلوار میں ازار بند ڈالے ہوئے ہیں۔“ چپٹے نے کانپتے ہوئے بتایا۔

            دوسرے پولیس والے نے دونوں کی تلاشی لی۔ استاد نے پوچھا۔”پولیس والے بھائی….تم مالش تو بڑی اچھی کرلیتے ہو۔“

            ”بکواس بند کرو….“ پھر وہ پلٹ کر بولا” سر جی…. کچھ نہیں نکلا۔“

            ”ہوں….اچھا بھئی….سنو….ہمیں بے وقوف ذرائع سے خبر ملی ہے کہ اس کالونی میں ایک خود کش حملہ آور آکر روپوش ہوگیا ہے…. ہم اسے ڈھونڈ رہے ہیں…. اگر کہیں ملے تو ہمیں بتادینا۔“

            ”بے فکر رہیں بھوتنی کے صاحب….اگر وہ خود کش حملہ آور ملا تو میں اسے کان سے پکڑ کر آپ کے گھر لے آﺅں گا۔“ استاد نے پر جوش انداز میں کہا۔” تاکہ بم وم پھوڑنا ہو تو آپ کے گھر میںپھوڑے اور رنگے ہاتھوں گرفتار ہوجائے۔“

            ”استاد مذاق کررہے ہیں….آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مجھے وہ بندہ ملا تو میں چپکے سے اُس کا بم پھس کردوں گا ۔ میںبہت چالاک ہوں بچو۔“ چپٹے نے مکروہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔

            ”سر جی….یہ دونوں تو مجھے کھسکے ہوئے لگتے ہیں ،لہٰذا اب ہمیں بھی ادھر سے کھسک لینا چاہیے۔“ دوسرا پولیس والا ارد گرد دیکھتے ہوئے بولا پھر دونوں پولیس والے وہاں سے چلے گئے۔

                                                                                    ِ٭٭٭

            دنبہ نائی اپنی دکان کے دروازے پر ڈنڈا لے کر کھڑا تھا۔ وہ ماہر انہ انداز میں ڈنڈا گھماتے ہوئے شکار تلاش کررہا تھا۔

            ایسا روز ہوتا تھا۔ دنبہ نائی دکان کھولتا ، صفائی سے فارغ ہوکر تیز آواز میں مکروہ اور سماع خراش گانے لگادیتا اور آخر میں موٹا سا شیشم کا ڈنڈا لے کر دکان کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا تھا کہ اگر کوئی فقیر وہاں آنے کی جسارت کرتے ہوئے تشریف لائے تو تشریف پر نشان عبرت لے کر جائے ،جو ڈاکٹر یا حکیم کے علاوہ کسی کو نہ دکھائے۔پرانے تمام فقیر نشان زدہ ہوچکے تھے۔ اُن پر دنبہ نائی اپنی مہر ثبت کرچکا تھا۔ اگر کوئی نیا فقیر بھول بھٹک کر چلا آئے تو دیگر بات تھی۔ اور تقدیر آج ایک نیاشکار گھیر کر لے آئی۔

            آنے والا کالونی میں نیا تھا۔ وہ عجیب مضحکہ خیز انداز میں دونوں پیر چوڑے کرکے قدم بڑھاتا چلا آرہا تھا، جیسے کوئی کیچڑ سے بچ کر ادھر ادھر پیر رکھتا ہوا چل رہا ہو۔اسے آتے دیکھ کر دنبہ نائی کے ہونٹوں پر سفاکانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔

            فقیر نے آتے ہی پیشہ ورانہ مہارت کا مثالی مظاہرہ کیا”اے سخی ….اے سیٹھ…. اللہ کے نام پے….“ وہ مزید کچھ اور کہنا چاہتا تھا ،مگر دنبہ نائی نے موقع نہیں دیا۔

            ”حاضر….حاضر….“دنبہ نائی نے ڈنڈا پیچھے چھپاتے ہوئے اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا اور ہاتھ پکڑکر اندر کھینچ لیا۔”ادھر آ……..بطخ کے بچے۔“ اور اس نے ایک ڈنڈا اس کے رسیدکیا۔اس نئے فقیر پر بھی مہر ثبت ہوگئی۔ فقیر کے منہ سے بھیانک چیخ نکلی۔ جو کالونی کے طول و عرض میں سنی گئی۔ فوراً ہی شمال کی طرف سے کسی گدھے نے جوابی سگنل دیا۔ شاید وہ سمجھا کہ اس کے کسی ہم نسل کی جان خطرے میں ہے۔اس ایک ڈنڈے نے فقیر کی کایا ہی پلٹ دی۔ وہ دکان کے گندے فرش پر بچھو کی طرح گول گول گھوم رہا تھا۔ لگتا تھا کہ ضرب کا اثر ”تشریف“سے ہوکر اس کے دماغ پر پڑا تھا۔

            ”ابے کیا ہوگیا ہے؟“ دنبے نائی نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ ” کیا لٹو کھا کے آیا ہے ناشتے میں؟“ دنبے نائی نے ڈنڈا ہلا کر کہا”خود رکے گا یا ڈنڈے سے روکوں؟“

            فقیر کو ایک دم بریک لگ گئے۔”اللہ کے نام پے بابا …. “رکتے کے ساتھ ہی اس نے کہا۔

            دنبہ نائی نے غصے میں ڈنڈا کونے میں پھینکا اور فقیر کی میلی چیکٹ گدی دبوچ لی۔” مجھے سب سے زیادہ اس بات سے چڑ ہے….ابھی بتاتا ہوں تجھے میں…. چل ادھر مر۔‘ ‘ اس نے فقیر کو زبردستی کرسی پر بٹھادیا …. ” اگر ذرا بھی ہلا تو دس ڈنڈے بالکل فری…. یہ پیش کش تھوڑی دیر تک کے لیے ہے۔“

            فقیر نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ دنبہ نائی آنکھیں نکال کر غرایا۔” خبر دار منہ سے ایک لفظ نہ نکلنے پائے ….ورنہ تیری ٹانگ کاٹ دوں گا۔“فقیر بری طرح سہم گیا۔

            اب دنبے نائی نے استرا اٹھا کر اسے گنجا کرنا شروع کردیا۔ اس کے لمبے لمبے بال کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ فقیر خاموشی سے آئینے میں بالوں کے نیچے سے طلوع ہوتا ہوا اُبلا انڈا دیکھ رہا تھا۔ پندرہ منٹ بعد فقیر ایک مکمل گنجے کے روپ میں آچکا تھا۔

            ”چل اب اٹھ…. اور نکل لے پتلی گلی سے ۔“ دنبے نائی نے استرا رکھتے ہوئے کہا۔”امید ہے ،آئندہ میری دکان کے آگے سے بھی نہیں گزرے گا۔“اچانک دنبے نائی نے فقیر کی شکل آئینے میں دیکھی ۔وہ مسکرا رہا تھا اور ساتھ ہی اپنی نئی نکور گنجی کھوپڑی پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔

            ”ابے یہ کس بات پر خوش ہورہا تو…. تیری کھوپڑی سونے کی نکلی ہے کیا؟“

            ”نہیں….“ فقیر نے کرسی سے اترتے ہوئے کہا۔” بابا میں تو تمھارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“

            ”ڈنڈا کھانے کی خوشی میں؟“ دنبہ نائی نے پوچھا۔

            ”نہیں بابا…. اصل میں میں تو تمھارے پاس گنجا ہونے ہی آیا تھا اللہ واسطے۔“ فقیر نے انکشاف کیا ۔”تھینک یو بابا….“ یہ کہہ کر وہ دنبے نائی سکتے کی کیفیت میں چھوڑ کر تیزی سے باہر نکل گیا۔

 جب دنبہ نائی سکتے کی کیفیت سے باہر آیا تو فقیر کالونی سے بھی نکل چکا تھا۔ دنبے نائی کو خود پر بڑا غصہ آیا ۔پہلا گاہک آیا اور وہ بھی مفت میں ٹنڈ کراکے چل دیا۔ دنبے نائی نے خود کو آئینے میں دیکھا اور ایک منٹ کی طویل لعنت دیتا رہا۔اچانک دنبے کو باہر شور سنائی دیا۔ وہ تیزی سے دکان سے باہر نکلا تو دیکھا کہ قریب ہی جمال گھوٹا اپنی گدھا گاڑی سمیت وہاں موجود ہے۔ اس کے نزدیک چاچا چراندی ہنٹر لے کر کھڑے تھے، جس سے وہ اپنے گدھے”کولمبس“ کو ہانکتا تھا۔ اب چاچا جمال گھوٹے کو اس ہنٹر سے ہانک رہے تھے اور بہت سے افراد یہ تماشا دیکھ رہے تھے، لیکن چاچا کے تیور دیکھ کر کوئی ان کے پاس آنے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا۔ جمال گھوٹے کی گدھا گاڑی پر پانی کے تین بڑے بڑے کین رکھے ہوئے تھے۔

            ”ظلم کرتا ہے….بہت….ابے جانور پر ظلم کرتا ہے تو فالتو فنڈ میں۔“ چاچا چلا رہے تھے۔”ابھی تیرے اوپر رکھوں یہ اتنے بھاری بھاری پانی کے کین….بول….یہ کرشپن نہیں ہے تو اور فیشن ہے؟“جمال گھوٹا ہنٹر سے بچنے کے لیے گدھا گاڑی سے کودا اور تیزی سے دیوانہ وار دوڑتا ہوا دنبے نائی کی دکان میں گھس گیا۔ دنبہ نائی بھی اس کے پیچھے اپنی دکان میں آگیا۔ جمال گھوٹا کرسی کے نیچے چھپنے کی کوشش کررہا تھا۔

            ”بچالے دنبے بھائی…. مجھے بچالے۔“وہ دنبے کو دیکھ کر فریادکرنے لگا۔” مجھے اس ہڑپہ کی بلا سے بچالے، ورنہ وہ مجھے گدھے کی طرح مار مار کر ختم کردے گا۔“اتنے میں چاچا چراندی ہنٹر لہراتے ہوئے دکان میں گھستے چلے آئے۔

            ”کہاں ہے وہ گدھا گاڑی والا…. کدھر گیا؟“ ابے او….کہاں جاکے دبک گیا ہے…. نکل باہر….آج تو میں تیری کھال اُتار کر اس سے طبلہ بناﺅں گا۔“ یہ کہہ کر چاچا نے منہ سے طبلے کی آواز نکالی۔

            ”کیا ہوا چاچا…. کس کو ڈھونڈ رہے ہو؟“ دنبہ نائی کرسی کے سامنے کھڑا ہوگیا تھا، جس کی پیچھے جمال گھوٹا چھپا تھر تھر کانپ رہا تھا۔” ایمان سے چاچا….غصے میں اور بھی حسین لگ رہے ہو۔“

            ”کیوں…. میرے منہ پر مادھوری کا ماسک لگ گیا ہے کیا فالتو فنڈ میں؟“ چاچا نے ناک کو سکیڑتے ہوئے پوچھا۔

            ”ایک تومیں تمھاری تعریف کررہا ہوں اور اوپر سے تم کاٹنے کو دوڑرہے ہو۔“ دنبے نائی نے منہ بنایا۔” نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے۔“

            ”ابے کاہے کی نیکی….تو نے اندھے کو سڑک پار کروادی ہے کیا …. گٹر میں گرا ہوا کتا باہر نکال دیا ہے ….فقیر کو روٹی کھلادی ہے پیٹ بھر کے….کون سا نیکی کام کیا ہے تونے….بات کرریا ہے فالتو فنڈمیں۔“ چاچا کے منہ کی مشین گن چل پڑی تھی۔” ہٹ جا میرے سامنے سے …. دیکھنے دے مجھے اس خبیث ظالم انسان کو…. ہٹ جا، ورنہ ہنٹر مارکرتیری شلوار اُدھیڑدوںگا۔“

            ”کوئی بات نہیں چاچا…. میں ترپائی کروالوں گا ۔“دنبے نائی نے کہا۔

             اس وقت چاچا نے سجدے جیسی حالت میں دبکے ہوئے جمال گھوٹے کو تاڑ لیا۔”اچھا…. تو یہاں چھپا بیٹھا ہے ظالم انسان …. آجا خود ہی شرافت کی ساتھ…. میں تین تک گنوں گا ۔“ چاچا نے ہنٹر کو سانپ کی طرح دکان کے فرش پر لہرایا اورپھر چند سیکنڈ کے وقفے کے بعدجھٹکے سے بولے۔” ہک …. دو …. تھری۔“

            ”ابے یہ کون سی گنتی تھی؟ “ دنبہ نائی حیران رہ گیا۔

            ” سندھی اردو اور انگریزی کا مکسچر…. کوئی نہ کوئی تو اس کی سمجھ میں آئے گی۔“ پھر چاچا نے ہنٹر گھما کر جمال گھوٹے کی کمر پر مارا۔

            اوئے ہوئے…. پھر جو جمال گھوٹے نے بجلی جیسا رقص پیش کیا ہے۔ لگتا تھا اس نے مٹھی بھر کر پسی لال مرچ کھالی ہے۔ دکان کے باہر کئی افراد کھڑے یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے ‘ لیکن کوئی بھی رقص کرنا نہیں چاہتا تھا ،اس لیے کوئی اندر نہیں آرہا تھا۔چاچا نے دوبارہ ہنٹر گھماکر جمال گھوٹے کو مارنا جاہا تو ایک دم دنبے نائی نے آگے بڑھ کر چاچا کا ہاتھ تھام لیا۔

            ”بس کرو چاچا بس کرو…. رک جاﺅ…. کیوں اس بے چارے کو اتنے خوف ناک ہنٹر سے مار رہے ہو…. یہ تو اس غریب کی ساتھ ظلم اور سراسر نا انصافی ہے…. اگر مارنا ہی ہے تو….“ یہ کہہ کر دنبے نائی نے ڈنڈا اٹھاکر چاچا کے دوسرے ہاتھ میں تھمادیا۔” اس ڈنڈے سے مارو۔ توڑ ڈالو اس کی ریڑھ کی ہڈی۔“

            ”نائیں۔“ جمال گھوٹا اٹھ کر چاچا کے میل زدہ قدموں میں گر کر بلکنے لگا۔” نئیں چاچا…. مجھے معافی دے دو…. اب غصہ نہیں کروں گا گدھے پر۔“

            ”تو اس میں ٹافی مانگنے والی کون سی بات ہے؟“ دنبے نائی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

            ”ابے یہ ٹافی نہیں، معافی مانگ رہا ہے فالتو فنڈ میں۔“ پھر چاچا نے جمال گھوٹے کو ڈانٹ کر کہا” چل اٹھ جا …. اور اگر آئندہ تونے کرشپن کی تو مجھ سے اچھاکوئی نہ ہوگا۔“

 ”کرشپن….یہ کیا ہوتی ہے چاچا؟“ دنبے نائی نے پوچھا ۔

            ”ابے وہ جو تیرا ماموں دلارے بیٹھا ہے …. کرشپن کے خلاف بھوک ہڑتال پے….“

            ’او….اچھا اچھا….مگر چاچا وہ کرشپن نہیں کرپشن ہوتی ہے۔“

            ”ابے میرا منہ ہے…. میں کچھ بھی بولوں۔“ چاچا نے خفت مٹانے کے لیے دنبے نائی کے ایک ہلکا سا ڈنڈا جڑ دیا۔” تو کیا میرا ٹیچر لگا ہوا ہے پھٹیچر کے بچے۔“

            جمال گھوٹا کھڑا ہوتے ہوئے بولا”چاچا…. مم میں جاﺅں؟“

            ”ہاں ہاں جا…. دفع ہو….اور سن رکھیو۔“ چاچا نے جاتے ہوئے جمال گھوٹے کو وارننگ دی۔” اگر اب میں نے دیکھا کہ تو نے اس غریب گدھے پر اتنا وزن ڈالا ہوا ہے….تو پھر سمجھ لیجیو…. بل کہ اپنی قبر کا آرڈر بھی خود دے آئیو۔“

            ”سمجھ گیا چاچا۔“ جمال گھوٹے نے کراہتے ہوئے کہا” میں اب گدھے کو سگے بھائی کی طرح سمجھوں گا…. اور اس کی اتنی ہی عزت کروں گا، جتنی تمھاری کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر جمال گھوٹا چمپت ہوگیا۔

                                                                                    ٭٭٭

            اگلی صبح ماموں چوک پر لوگوں کا جم غفیر جمع تھا اورلوگ مختلف قیاس آرائیاں کررہے تھے۔ لوگوں نے اپنی دکانیں کھولنے سے پہلے ہی ماموں چوک پر ٹیڑھے میڑھے پڑے ہوئے استاد دلارے اور چپٹے کو دیکھ لیا تھا۔ وہ دونوں رات بھر وہاں سردی میں پڑے رہے تھے اور صبح تک اکڑ گئے تھے۔لوگ ان کے بارے میں مختلف باتیں کررہے تھے۔

            ”لگتا ہے، استادجہنم رسید ہوگئے …. بے چارے …. بڑے اچھے انسان تھے۔“ نجمو سبزی والا اافسوس میں سر ہلارہا تھا۔

            ”کتنی ٹھنڈ تھی رات کو …. ہائے ہائے۔“ انگریز انکل اپنے افسوس کا کف قریب کھڑے گلابی کے کپڑوں پر مل رہے تھے۔ ”کیسے تڑپے ہوں گے دونوں ۔“

            ”مدے تاپتا ….تیسے تلپے ہوں دے۔“( مجھے کیا پتا کیسے تڑپے ہوں گے۔)“ گلابی نے منہ بنایا۔

            ”اب تو جہنم میں استاد اور چپٹے کو لوہے کے گرز پڑ رہے ہوں گے۔“ خالو خلیفہ نے گھڑی دیکھتے ہوئے یقین سے کہا۔

            ”ویسے انکل….استاد اور چپٹا شہید کہلائیں گے نا ؟ “ مجو قصائی نے انگریز انکل سے سوال کیا۔

            ”کیوں؟ شہید کیوں کہلائیں گے؟“ انگریز انکل نے اسے گھورا۔” یہ دونوں یہودیوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں کیا؟ابے یہ اپنے کرتوتوں اور بے وقوفیوں کی وجہ سے ڈائریکٹریٹ جہنم کے نچلے طبقے میں رہائش پذیر ہوئے ہوں گے…. ان میں کوئی ایک اچھائی تھی تو بتاﺅ؟“

            ”وہ تو نہیں تھی۔“ مجو نے سر کھجایا۔

            ”تو بس پھر تھوتنی بند کرو۔“

            ”ان کی لاشیں تو اکڑ کہ تختہ ہوگئی ہیں۔“ پنجو نے چیک کرکے بتایا۔

            ”اویار یہ مجھے دے دو۔“ چوہدری بشیر نے پر اشتیاق لہجے میں کہا۔

            ”آپ کیا کریں گے ان کا؟“ شرفو کونسلر صاحب نے انھیں دیکھا۔” ان تختہ نما لاشوں سے ٹیبل بنائیں گے کیا؟“

            ”کیا ہوگیا ہے شرفو جی…. پاگل واگل تو نہیں ہوگئے کہیں؟“ چوہدری صاحب نے انھیں فوراً لتاڑا ” میں بھلا لاشوں کی بے حرمتی کیوں کرنے لگا۔“

            ”تو پھر کیا کروگے…. کتابیں رکھنے کے لیے شیلف بنواﺅ گے؟“ انگریز انکل نے پوچھا۔

            ”نہیں بھئی….“ چوہدری صاحب نے منہ بنایا ۔”آج کل سردی زیادہ ہے نا ،لکڑیاں بھی کافی مہنگی ہیں …. انھیں جلانے کے کام میں لاﺅں گا۔ کم از کم مرنے کے بعد تو یہ کسی کے کام آئیں۔“

            ”بھئی یہ فالتو باتیں تو ہوتی رہیں گی…. اب ان لاشوں کا کیا کیا جائے؟“ شرفو صاحب نے لوگوں سے رائے طلب کی۔

            ”شمشان گھاٹ لے جاکر جلا دیا جائے….قصہ پاک کیا جائے ان کا ۔“ خالو نے تجویز سے آگاہ کیا۔

            اتنے میں استاد دلارے کی لاش میں حرکت پیدا ہوئی۔ گلابی نے ایک توتلی چیخ ماری اور شرفو صاحب کی پڈی پر چڑھ گیا۔ خوف زدہ تو دوسرے بھی افراد ہوگئے تھے۔ استاد دلارے نے آنکھیں کھولیں اور اپنے گردو پیش میں اتنے لوگوں کو کھڑے دیکھ کر حیران رہ گئے۔

            ”ابے کیا ہوگیا تم سب بھوتنی والوں کو…. ایسے کیا دیکھے جارہے ہو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے…. کبھی مجھے دیکھا نہیں ہے پہلے؟“

            ”استاد….استاد…. تت…. تم زندہ ہو؟“ مجو نے ہکلا کر پوچھا۔

            ”تو کیا میں مرنے کے بعد بول رہا ہوں بھوتنی کے ؟“ استاد دلارے کے نتھنے پھول گئے۔

            ”مگر….مگر تم تو اکڑ کر مرگئے تھے۔“ نجمو نے بے یقینی کے عالم میں کہا۔

            ”مرا نہیں تھا…. سورہا تھا۔“ اتنے میں استاد نے چپٹے کو دیکھا، جو اب تک مرنے کے انداز میں سویا ہوا تھا۔ ” اچھا ….تو یہ عیاشیاں ہورہی ہیں نواب کی۔“ استاد نے دانت کچکچا کر چپٹے کے پہلو میں لات ماری۔

            چپٹا اس وقت خواب میں رنگین اشرفیوں والی گلتی کھارہا تھا، اتنے میں اس کے نزدیک ایک گدھا آیا اور اس نے پلٹ کر زور کی دولتی ماری کہ گلتی ہی گرگئی۔ وہ ہڑ بڑا کر اٹھ گیا اور رونے لگا۔

            ”گورنر کی اولاد…. کب تک سویا رہے گا؟کیا ہم یہاں موج کرنے بیٹھے ہیں؟“ استاد نے لگے ہاتھوں اس کا ایک کان لال کردیا۔

            ”استاد…. میں اچھا خاصا گلتی کھارہا تھا کہ ایک گدھے نے دولتی مار دی۔“ چپٹا منہ بسور کر بولا۔یہ سن کر سب لوگ ہنس دیئے۔

            ”ابے وہ گدھا نہیں تھا…. استاد تھے…. انھوں نے لات ماری تھی۔“ شرفو کونسلر صاحب ہنستے ہوئے بولے۔ گلابی اب تک ان کی پڈی پر چڑھا جوئیں نکال رہا تھا۔

            دفعتاً استاد دلارے تو کچھ یاد آیا۔”اوئے….بھوتنی کے….میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا۔“

            ”کیا بتانا؟ کہ آپ گدھے ہیں؟“ جمال گھوٹے نے لب کشائی کی۔

            ”تمھیں گدھوںکے علاوہ اور کچھ دکھائی دیتا ہے؟“ شرفو صاحب نے جمال گھوٹے کو گھورا اور پھر گلابی کو اپنی پڈی پر سے اُتار کر نیچے پھینکا۔” تو تو مر نیچے …. اب کیا ساری کی ساری جوئیں ہی نکال دے گا؟کچھ رہنے بھی دے۔“گلابی سیدھا چپٹے کے اوپر جاگرا۔ چپٹے کی ناک مزید پلین ہوگئی۔

            ”کل رات دو پولیس والے آئے تھے۔“ استاد نے ڈرامائی انداز میں بتانا شروع کیا۔” بڑا خوف ناک ماحول ہورہا تھا۔ ہر طرف اندھیرا اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ بڑی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بھوتنی کی۔“

            ”استاد…. کل رات کو کیا ناول پڑھا تھا کوئی خوف ناک ؟“انگریز انکل نے تنک کر پوچھا۔” سیدھی سیدھی بات بتاﺅ…. پولیس والے آئے تھے تو کیا ہوا تھا؟“

            ”وہی بتانے جارہا ہوں بھوتنی کے انکل ….پتا ہے ان پولیس والوں نے کیا بتایا؟“ استاد دلارے سنسنی پھیلا رہے تھے۔

            ”ہم کوئی نجومی تھوڑی ہیں…. بلا وجہ کی سنسنی مت پھیلاﺅ …. ہمیں سستی ہورہی ہے۔“ خالو نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

            استاد دلارے نے انھیں گھورکر دیکھا اور پھر بولے ۔” پولیس والے بتارہے تھے کہ کا لونی میں ایک خود کش حملہ آور داخل ہوگیا ہے۔“

            ”خود خوش؟“ خالو نے سوچتے ہوئے خود کلامی کی اور پھر پر جوش لہجے میں بولے ۔”اوہ اچھا….میں سمجھ گیا …. وہ …. وہ سخن کو تلاش کررہے ہیں۔“

            ”سخن کو؟“ بہت سے افراد حیرت سے خالو کو دیکھنے لگے۔

            ”ہاں….وہ پاگل کا بچہ کل آیا تھا میرے پاس …. ہوٹل میں …. بول رہا تھا کہ وہ خود خوشی کرنا چاہتا ہے۔“

            ”اس کا مطلب ہے کہ پولیس سخن کو تلاش کررہی ہے…. ویری گڈ۔“ انگریز انکل نے چٹکی بجائی۔

                                                                                    ٭٭٭

            اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ٹرین کے کھلے ہوئے دروازے سے چھلانگ لگانے والا تھا کہ ایک کڑک دار آواز نے اس کے قدم روک لیے۔

            ”اڑے بابا…. کھبر دار ہوجاﺅ نی….اپنے ہاتھوں کو اوپر کرلو…. جلدی کرونی…. وری اپنے پاس ٹیم نئیں اے۔“

            سخن نے جلدی سے آنکھیں کھول کر دروازے کا آہنی ڈنڈا پکڑ لیا۔پھر اس نے غصے میں پلٹ کر دیکھا۔دو آدمی پستولیں تانے کھڑے تھے اور ٹرین کے ڈبے کے مسافر ان سے خوف زدہ نظر آرہے تھے۔

            ”منہ کیا دیکھتا ہے بابا…. اپنے کو بڑی تکڑلگی ہوئی ہے …. ٹیم نئیں اے۔“مینڈک جیسے نظر آنے والے ڈاکو نے مسافروں سے کہا۔ اس کا جسم ٹھٹھرا ہوا نظر آرہا تھا اور لگتا تھا کہ اس کی گردن پیدائشی طور پر ہی نہیں تھی۔ کندھوں کے بعد اس کی کھوپڑی شروع ہوگئی تھی، جب کہ دوسرا ڈاکو اس کے برعکس تھا۔ وہ اتنا ہی لمبا تھا اور اس کی گردن بھی اونٹ جیسی لگ رہی تھی۔ سخن چلتی ٹرین سے کود کر خود کشی کرنا چاہتا تھا، لیکن ڈاکوﺅں کی مداخلت نے اسے اپنے ارادے سے باز رکھا تھا۔سخن تو ویسے ہی مرنے کا ارادہ کرچکا تھا وہ بے جگری سے ڈاکوﺅں کی طرف بڑھا۔

            ”اڑے او پاگل خانے…. رک جااِدھر ہی …. ورنہ گولی ماردوں گا۔“مینڈک نما ڈاکو نے چیخ کر سخن سے کہا۔

            ”ہاں مار دے…. ویسے ہی میں نے سر پر کفن باندھا ہوا ہے“ سخن نے بے خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قہقہہ لگایا۔

            ”یہ کفن تو نہیں ہے۔“ لمبے ڈاکو نے سخن کو دیکھا۔” یہ تو تم نے سر پر کس کا ناک سنکا ہوا رومال باندھا ہواہے۔“

            ”یہ رومال بھی نہیں ہے…. یہ کسی بچے کی چڈی ہے۔“ سخن نے وضاحت کی۔

            ”چلو…. ادھر آکے لائن میں بیٹھ جاﺅ۔“ لمبے نے غرا کر کہا۔

            ” لائن میں کیوں؟“ کیا یہاں لنگر کا حلیم ملے گا؟“ سخن نے پوچھا۔

            ”بکواس بند کر بابا۔“ مینڈک چلایا۔

            ”کہاں بند کروں؟ باتھ روم میں؟“ سخن اسے عاجز کرنے پر تلا ہوا تھا۔

            ”لگتا ہے سائیں مٹھو…. اسے سبق دینا پڑے گا۔“ لمبو نے مینڈک سے کہا۔

            ”سبق؟ کیسا سبق؟“ سخن نے چونک کر پوچھا” کیا یہ ٹرین مدرسے جارہی ہے؟“

            ”آ آ آ آ ….“ مینڈک نے غصے میں آواز نکالی۔

            ”کیا ہوگیا…. پیٹ میں گڑ گڑ ہورہی ہے۔ اوجڑی پوٹے کھائے تھے کیا؟“ تمام مسافر سخن کی بہادری پر حیران نظر آرہے تھے۔

            ایک انتہائی بوڑھے آدمی نے سخن کو دیکھ کر کہا۔” پتر یہ…. ڈاکو ہیں ڈاکو۔“

            سخن نے بوڑھے آدمی کو دیکھا اور کہا۔” آپ قبرستان جارہے ہیں کیا بابا جی؟“

            ”ناپتر…. میں تو اپنے پڑپوتے کی برتھ ڈے میں جارہا ہوں۔“ بوڑھے کے اس انکشاف پر سخن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

            ” برتھ ڈے پر…. وہ بھی پڑپوتے کی؟“ سخن کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں ۔وہ بڑے میاں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس نے وقتی طور پر ڈاکوﺅں کو نظر انداز کردیا۔ ”وہاں آپ پہنچ بھی جاﺅگے؟ یقین ہے آپ کو بابا جی؟“

            ”کیوں پتر…. وہاں راستے میں کیا دلدل آتی ہے؟“ بڑے میاں بھی کم نہیں تھے۔

            ”اڑے بابا…. ہم دونوں کیا پاگل کا بچہ ہے ،جو ادھر خجل خوار ہورہا ہے؟“ مینڈک نما ڈاکو نے تنگ آکر کہا۔ ”ہماری پستول میں گولیاں پڑی پڑی ٹھنڈی ہورہی ہیں۔“

            ”ٹھنڈی ہورہی ہیں تو کھالے پراٹھے کے ساتھ …. شور کیوں کررہا ہے…. بغیر گردن کے ڈاکو۔“ سخن نے اسے لتاڑ ڈالا۔

            ”تم ہمارے سردار کا مذاق اڑا رہے ہو؟“ لمبو کو طیش آگیا۔

            ”اپنے ایمان سے بتا…. یہ عزت کے لائق نظر آتا ہے یا بے عزتی کے…. یہ اس کی گردن کیسے غائب ہوئی …. اس کی سر پر ہاتھی نے پیر رکھ دیا تھا یا لوہے کی پیٹی گرگئی تھی؟“ سخن نے لمبو سے سوال کیا۔

            ”بکواس نہیں کرو۔“ مینڈک نما آدمی نے پوری قوت سے چلا کر کہا اور پھر باقی مسافروں سے مخاطب ہوا ” چلو سب، جلدی کرونی …. جلدی سے اپنا سب سامان ہمارے حوالے کردو۔“

            ”اے پھڑ پتر…. میرا بسترا….“ بڑے میاں نے اپنا رول ہوا لحاف گدا مینڈک نما انسان کی طرف اچھال دیا ،جو اس کے سر پر گرا۔ مینڈک لحاف گدے کے نیچے دب گیا۔لمبو بوکھلا کر اسے اٹھانے جھکا تو سخن نے کمال مہارت اور پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جھکے ہوئے لمبو کے زور سے لات ماری۔ لمبو اچھل کر کھلے ہوئے باتھ روم میں جاگرا۔ وہاں بیٹھے ہوئے ایک مسافر نے باتھ روم کا دروازہ باہر سے بند کردیا اور باقی مسافروں نے مینڈک نما انسان کو چھاپ لیا اور اس کی درگت بنانا شروع کردی ۔ تھوڑی دیر بعد وہاں کا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ مینڈک نما ڈاکو کو بابا جی کے ایک مسترد تہمد سے باندھ دیا گیا تھا۔باتھ روم سے اس کے ساتھی لمبو کو نکال کر اس کے برابر میں بٹھادیا گیا تھا۔ اصل میں سخن ٹرین پر اس لیے سوار ہورہا تھا کہ وہ چلتی ٹرین سے کود کر جان دے دے گا ،مگر یہ ڈاکو درمیان میں ٹپک پڑے اور اس کا مشن دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اب بڑے میاں اس کا دماغ چوس رہے تھے۔ سخن نے کچھ سوچ کر دونوں ڈاکوﺅں کی تلاشی لی اور ان کی جیبوں سے پیسے وغیرہ نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیے۔ ساتھ ہی مینڈک نما انسان کا پستول بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔

            ”اب اگلے اسٹیشن پر ان ڈاکوﺅں کو پولیس کے حوالے کردیں گے۔“ سخن نے وہاں موجود تمام مسافروں سے کہا ” میں جاکر پولیس کو بلا کر لے آﺅں گا ۔آپ لوگ ان کا خیال رکھنا۔“سب نے احمقانہ انداز میں سر ہلادیئے۔

            اگلا اسٹیشن آتے ہی سخن اتر گیا اور پولیس کو بلانے کے بجائے اسٹیشن کی عمارت سے ہی نکل گیا۔ اب اس کے پاس کچھ رقم اور ایک پستول آگیا تھا۔

                                                                                    ٭٭٭

            ”یہ ہے اس خود خوش حملہ آور کا گھر۔“ استاد دلارے نے سخن کے گھر کے سامنے آکر پولیس والوں کو بتایا۔ یہ وہی دونوں پولیس والے تھے جو انھیں رات کو ملے تھے۔

            ”آپ کو یقین ہے کہ یہ خود کش حملہ آور کا گھر ہے ؟“ پولیس والے کو یقین نہیں آرہا تھا۔

            ”ہاں ہاں…. اور کیا ناچ کے بتاﺅں بھوتنی کے ؟“ استاد دلارے سے رہا نہ گیا۔

            ” کیا مطلب؟“ دوسرا پولیس والا غصے سے بولا” تم میرے سر کو بھوتنی کا بول رہے ہو؟“

            ”وہ تو میری عادت ہے…. میں نے جان بوجھ کے نہیں کہا۔“ استاد نے وضاحت کی۔

            ”کیا ہوریا ہے بھئی یہاں…. کیا ہوریا ہے؟ ہیں؟ “ اتنے میں چاچا چراندی وہاں آن پہنچے۔” یہ کیا ہوریا ہے ….استاد…. کیا چرس پیتے ہوئے پکڑے گئے ہو؟“

            ”چاچا کبھی تو کوئی ڈھنگ کی بات منہ سے نکال لیا کرو۔“ چپٹا استاد کی حمایت میں کود پڑا۔” ہمیشہ بے تکی بات ہی کرنا۔“

            چاچانے بڑھ کر چپٹے کی گردن بغل میں دبالی۔”ابے میں پوچھ استاد سے رہا ہوںاور جواب تو دے ریا ہے ۔زیادہ نمک کھا لیا تھا تو نے نمکین انسان؟“

            چپٹے کی تو جان ہی مصیبت میں پھنس گئی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا، جیسے اسے گٹر میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا گیا ہے۔بمشکل پولیس والوں نے آگے بڑھ کر چپٹے کی جان بچائی، ورنہ آج وہ چاچا کی بغل میں دم گھٹنے کی وجہ سے بغلول کی موت مارا جاتا۔

            استاد دلارے نے پولیس والوں کی توجہ سخن کی طرف دلائی ۔”ارے بھوتنیوں کے ….اس کی فکر کرو…. خود خوش حملہ آور کی…. ایسا نہ ہوکہ وہ تم دونوں کے چھچھورے پن کی وجہ سے نکل جائے۔“

            پولیس والوں نے ان کی بات سے اتفاق کیا۔ ایک نے آگے بڑھ کر سخن گھر کے دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہ ملا تو اس بار اس نے خاصی تیز دستک دی۔

            تب اندر سے سخن کی اماں کی چنگھاڑ اُبھری۔” اے آر ئی ہوں ….آرئی ہوں…. تیرا ناس جائے…. کون مرگیا اس وقت…. کس کی موت آرہی ہے۔ صبر نہیں ہے تھوڑا …. بجاتے ہی دروازہ کھول دو ان کے لیے…. حرام خوروں۔“

            ” لگتا ہے سخن کی اماں نے پولیس والوں کو دیکھ لیا ہے۔“ چپٹے نے یقین سے کہا۔

            اتنے میں دروازہ کھلا اور سخن کی اماں کا آگ برساتا چہرہ دکھائی دیا۔ انھوں نے پولیس والوں کو دیکھتے ہی ڈپٹ کر کہا۔ ”کیا ہے…. کیا موت آرہی ہے…. تمھارے باپ نے دروازہ لگوایا ہے، جو اتنے زور زور سے بجارہے ہو؟“

            ”دروازہ نہیں بجائیں گے تو اندر والا دروازہ کیسے کھولے گا؟“

            ”کیسے کھولے گا….کم بخت اتنا بھی نہیں پتا…. کنڈی سے کھولے گا۔“ اماں جی نے پولیس والے کو گھورا۔

            ”سلام خالہ جان۔“ چپٹے نے ماتھے پر ہتھیلی رکھی۔

            ”چل….“ اماں جی نے ہاتھ جھلایا۔” میں تیرے جیسے چپٹے کی خالہ نہیں ہوں۔“

            ”وہ اصل میں ہمیں سخن سے ملنا ہے ….کہاں ہے وہ بھوتنی کا؟“ استاد دلارے نے بڑے ادب سے پوچھا۔

            ”بھوتنی کا؟“ سخن کی اماں ایسے اچھلیں، جیسے ان کے پیروں میں پٹاخہ پھٹا ہو۔” یعنی میں بھوتنی ہوں ؟ ہیں…. مجھے بھوتنی کہا تم نے؟“

            ”مم ….میں….میں آپ کو بھوتنی نہیں کہہ رہا۔“ استاد نے بوکھلاکر وضاحت کی۔” میں تو اس سخن کو بول رہا تھا بھوتنی کا۔“

            ”ہاں تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی تو ہے کہ سخن بھوتنی کا بچہ ہے۔“ چاچا چراندی نے تشریح کرتے ہوئے کہا اور آگ لگانے کا کام انجام دیا۔

            ”تیرا ناس جائے اور واپس نہ آئے۔“ اماں مٹک کر بولیں۔” تو خود بھوتنی کا…. تیرے ہوتے سوتے بھوتنی کے …. مجھ دکھیاری کو بھوتنی کہنے والے….تجھے کتا کھالے ۔“

            ”جاﺅ۔“ چاچا نے ایک پولیس والے سے کہا ۔”استاد کو کھالو۔“

 اماں کے کوسنے بدستور جاری تھے اور وہ گانے کے انداز میں کوس رہی تھیں۔”کم بخت کے بچے …. تیرہ جنازہ نکلے سردی میں…. تجھے دوزخ میں بھی چین نہ ملے…. بیوہ کی ہائے لینے والے…. کم بخت مارے۔“

            ”کم بخت مارے نہیں…. استاد دلارے۔“ چپٹے نے تصحیح کی۔

            ”ابے تو کرشپن کیا ختم کرے گا….یہ دکھیاری بیوہ کوس کوس کر تجھے ہی ختم کردے گی فالتو فنڈ میں۔“ چاچا نے استاد سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

            ” ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے….ہمیں سخن سے ملنا ہے ۔ اسے بلادیں۔ “ پولیس والے نے محتاط انداز اختیار کیا۔

            ”دو دن سے کہیں جاکر دفن ہوگیا ہے۔“ اماں نے خبر دی۔”کچھ پتا نہیں، کہاں جاکر اس کا جنازہ نکلا ہے ۔“

            ”کیا مطلب….سخن کا نہیں پتا؟“ چپٹے نے چونک کر انھیں دیکھا۔

            ”میں کیا مراٹھی زبان میں بتارہی ہوں….بول جو دیا کہ وہ دو دن سے نہیں ہے…. مل جائے تو لے جاکے اُسے پھانسی پر لٹکا دینا۔“ یہ کہہ کر اماں جی نے دھڑسے دروازہ بند کرلیا۔وہ لوگ ایک دوسری کی بد حواس شکلیں دیکھتے رہ گئے۔

                                                                                    ٭٭٭

            پستول دیکھتے ہی فقیر کا منہ پھٹے ہوئے امرود کی طرح کھل گیا۔ وہ چیخ مارنے ہی والا تھا کہ سخن نے اس کے منہ میں شکر قندی کا بڑا سا ٹکڑا ٹھونس دیا۔ فقیر خوف زدہ انداز میں شکر قندی کھانے لگا۔

            ”اگر منہ سے آواز یا شکر قندی نکالی تو پیٹ میں گولی مار کرسارا کھایا پیا نکال دوں گا۔“ سخن نے پستول فقیر کے پیٹ سے لگاکر دھمکایا۔

            فقیر نے بمشکل شکر قندی نگلی اور بولا” آواز تونکال دوں گا بابا….مگر شکر قندی تو کسی صورت میں نہیں نکالوں گا۔“ پھر ایک دم لجا جت آمیز لہجے میں کہنے لگا۔” بابا …. میں تو فقیر ہوں….میرے پاس سے کیا ملے گا …. مجھے جانے دو بابا…. بہت ضروری کام ہے۔“

            ”بھیک مانگنے کے علاوہ اور کیا ضروری کام ہوسکتا ہے ؟“سخن نے اسے ڈانٹا۔” تو نے کون سا مردے کو نہلانے جانا ہے پلیدانسان ۔“

            ”بابا میں بہت غریب ہوں ….مجھے لوٹ کر کیا ملے گا تمھیں؟“ فقیر بدستور منت سماجت میں لگا ہوا تھا۔

            ”سکون قلب و جگر۔“ سخن نے اس کی چیکٹ جیکٹ پکڑ کر کہا۔” چل یہ اُتار شر افت کے ساتھ ….ٹھنڈ لگ رہی ہی مجھے۔“

            ”نائیں….نائیں۔“ فقیر چلا اُٹھا۔

            سخن نے زور کا تھپڑمارا۔ ” آواز نکالنے سے منع کیا ہے نا؟“

            ”مگر چلانے سے تو نہیں روکا تم نے بابا۔“ فقیر بھی ترکی کا لگ رہا تھا، اس لیے ترکی بہ ترکی جواب دے رہا تھا۔

            ”بہت بکواس کرنی آتی ہے تجھے۔“ سخن نے اس کا ہاتھ مروڑ کر کمرسے لگادیا ۔فقیر کا چہرہ تکلیف سے ٹیڑھا ہوگیا۔”بول ،اُتارتا ہے جیکٹ یا نہیں…. بول؟“

            ”آئے آئے۔“ فقیر دہرا ہوگیا تھا۔

            ”نہیں آئے…. جیکٹ اُتار رہا ہے یا میں گولی چلاﺅں؟“

            ”اُتار تا ہوں بابا….اُتار تا ہوں…. اس میں سے پیسے اور موبائل تو نکالنے دو۔“ فقیر گڑ گڑانے لگا تھا۔

            ”خبر دار۔“سخن نے اس کی جیکٹ کھینچ کر اُتار لی۔” جان پیاری نہیں کیا تجھے۔ایک بھی چیز نہیں ملے گی۔شکل گم کر اپنی…. چل نکل۔“

            ”اچھا صرف موبائل ہی دے دو…. اس میں میرے سارے نمبر ہیں بابا۔“ فقیر گوند بن کر چپک گیا تھا۔

            ”تیرا کیا ہوائی اڈے کا کاروبار چل رہا ہے ۔ اب اگر کچھ مانگا تو گولی پیٹ میں ماردوں گا۔“ سخن نے پستول کی نالی اس کے پیٹ کی طرف کردی۔وہ دونوں اس وقت ایک اندھیری گلی میں کھڑے تھے۔ یہ کالونی کے شمال کی طرف کا آخری حصہ تھا۔ پستول آنے کے بعد سخن کے دماغ میں کئی شیطانی منصوبوں نے جنم لیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے اس فقیر کا شکار کیاتھا۔اب اس نے فقیر کی جیکٹ‘ پیسے اور موبائل تو حاصل کرلیے تھے ،لیکن فقیر جانے پر راضی نہیں تھا۔

             سخن نے عاجز آکر کہا۔”اچھا…. ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں ۔تم یہاں کھڑے ہوکر دس تک گنتی گنو…. میں چھپ جاتا ہوں ۔ اگر تم نے مجھے ڈھونڈ لیا تو میں تمھارا موبائل دے دوں گا، ورنہ موبائل میرا۔“

            ”ٹھیک ہے۔ “فقیر جوش میں آکر بولا۔” بچو…. چھپن چھپائی میں تو میں بڑا ماہر ہوں۔“

            ”ہاں وہ تو تیری شکل سے ہی لگ رہا ہے۔اچھا اب منہ اُدھر کرکے دس تک گنتی گن….اورذرا آرام آرام سے ۔“ سخن نے فقیر کو منہ دوسری طرف کرتے دیکھ کر گلی میں دوڑ لگادی۔ فقیر بڑے شوق سے گنتی گن رہا تھا۔

             آخر میں دس کہنے کے بعد وہ زور سے بولا۔”کوئی چھپے نہ چھپے…. میں آرہا ہوں۔“

            ”بھاﺅں….بھو بھو۔“ فقیر جیسے ہی پلٹا تو وہاں دوکتوں کو دیکھ کر اس کی گھگھی بندھ گئی۔ کتے غضب ناک انداز میں غرا رہے تھے سخن کا کچھ پتا نہ تھا۔”ایک منٹ….ایک منٹ۔“ فقیر نے کتوں کی بڑھتی ہوئی غضب ناکی دیکھ کر ہاتھ اٹھاکر کہا۔ اس کی بات پر حیرت انگیز طور یہ کتے خاموش ہوگئے۔ فقیر نے جھک کر اپنی چپلیں اُتاریں اور ہاتھوں میں پہن لیں۔ پھر وہ بولا” ون …. ٹو….اور یہ تھری۔“

            پھر فقیر ایسا بھاگا ،جیسے اس میں ٹربو انجن فٹ کردیئے گئے ہوں ۔پہلے تو کتے کچھ نہ سمجھے۔ پھر انھوں نے شکار کو نکلتا دیکھ کر اس کے تعاقب میں دوڑ لگادی۔

                                                                                    ٭٭٭

            یہ استاد دلارے اور چپٹے کی دوسری رات تھی۔ اب تک بھوک ہڑتال کرکے انھیں کامیابی تو دور کی بات کامیابی کی چڈی بھی نہیں ملی تھی۔ بے کار میں وہ دونوں فاقے کررہے تھے۔سارا دن کالونی میںخرافات ہوتی رہی تھیں۔ کرپشن‘ ملاوٹ اور دیگر خرابیاں عروج پر تھیں۔ کسی نے بھی ان کی بھوک ہڑتال اور احتجاج پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ جن افراد نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ وہ بھی انھیں بھول گئے تھے۔ اب تھا تو صرف لوگوں کو اس بات کا انتظار تھا کہ کب بھوک پیاس سے استاد اور چپٹے کی سبق آموز ہلاکت ہوتی ہے۔چپٹے کی تو حالت غیر ہورہی تھی۔ وہ پیٹ پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ وہاں اندھیرے اور سناٹے کا وہی عالم تھا جو گذشتہ رات تھا۔

            ”استاد….“ چپٹے کی کمزور آواز نکلی، جیسے وہ آئی سی یو میں پڑا ہو۔

            ”کیا؟“ استاد گویا قبر سے بولے۔

            چپٹے نے اپنی قمیصکا دامن اُٹھاکر پیٹ دکھایا۔ ”پیٹ دیکھو میرا ….لگ رہا ہے ،کسی انسان کا پیٹ؟“

            ”نہیں…. بل کہ ایسا لگ رہا ہے، جیسے بھوکے کتے کا پیٹ ہے۔“ استاد اس عالم میں بھی باز نہیں آئے تھے۔

            ”استاد کچھ کرو۔“

            ”ابے بھوتنی کے….پیٹ میں کچھ ہوگا تو کروں گا نا۔“ استاد کراہے۔”بھوک میں تو ہلا بھی نہیں جارہا۔“

            ”تو استاد…. کیا ضرورت تھی بھوک ہڑتال کرنے کی ….ایسی کون سی موت آرہی تھی تمھیں؟“ چپٹا منہ کے بجائے پیٹ کی زبان بول رہا تھا۔” کون سا کالونی والے تمھیں بھوک ہڑتال پر تمغہ حسن کارکردگی دے دیں گے۔اپنے ساتھ مجھے بھی پھنسوادیا۔“

            یہ سن کر استاد نے چپٹے کے پہلو میں لات ماری۔ چپٹا” ٹیاﺅں“ کرکے دوسری جانب لڑھک گیا اور گرنے کے بعد ایسے ہی ایکشن سے پڑا رہا ،جیسے گرا تھا۔”دفع ہو ادھر سے…. چل دوسرے چبوترے پر جاکر اپنی الگ ہڑتال کر….ایک تو اپنے ساتھ بٹھاکر تجھے مشہور ہونے کا موقع دیا….اوپر سے بھوتنی کے نخرے ہورہے ہیں۔“

            ”استاد مجھے سیدھا توکرو۔“ چپٹا احتجاجی انداز میں چلایا۔

            ”خود سیدھا ہوجا…. کچھوے کی اولاد۔“

            چپٹا دھیرے دھیرے سیدھا ہوا اور بولا ۔”استاد …. اب مجھے جانے دو…. میں اب مزید بھوک برداشت نہیں کرسکتا۔ میں گھر سے کھانا لینے جارہا ہوں۔“

            ”خبردار…. اگر تو گیا….تو سمجھ لے گیا۔“استاد نے غرا کر کہا۔

             ”ارے استاد…. آج اماں نے کلیجی پکائی ہے۔ ایمان سے مزہ آجائے گا….اور کون سا ہمیں یہاں کوئی دیکھنے والا ہے۔“ چپٹے نے انھیں لالچ دیا۔

            ”کلیجی؟“ استاد کی رال نکل کر کپڑوں پرگرگئی۔”قسم کھا۔“

            ”قسم کھانے سے پیٹ نہیں بھرے گا استاد …. بس میں ابھی کلیجی لاتا ہوں….روٹیاں کتنی لاﺅں؟“

            ”روٹیاں…. اکتالیس لے آ۔“ استاد پھٹ پڑے۔اُن کے ہوکے پن کا سورج آدھے نیزے پر آ چکا تھا۔

            ”اکتالیس کیوں؟“

            ”ابے ایک تو بھی تو کھائے گا۔“ استاد نے بے تابی سے کہا۔ ” اب جلدی جا…. کلیجی کھلادے مجھے، تاکہ کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے۔“

            ”بس میں یوں گیا اور یوں آیا۔“چپٹا کھانے کے لیے دوڑ لگا گیا۔ اس کے جسم میں نئی توانائی بھرگئی تھی۔ استاد بے چینی سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ چپٹے کا گھر زیادہ دور نہیں تھا۔ پندرہ منٹ بعد وہ ایک بڑا سا پتیلا اٹھائے آتا دکھائی دیا۔ پتیلے پر شاپر بھی رکھا ہوا تھا جس میں روٹیاں تھیں۔استاد اپنے جبڑے ہلاتے ہوئے منہ سے عجیب سی آواز نکالنے لگے۔

             چپٹے نے قریب آکر پوچھا۔”کیا ہوگیا استاد…. بھوک کے مارے کتا تو نہیں کھالیا؟“

            ”ابے بھوتنی کے…. میں اپنے منہ کو کھانے کے لیے تیار کررہا ہوں…. لا یہ پتیلا ادھر دے مجھے۔“ استاد نے اس کے ہاتھوں سے پتیلا چھین لیا۔ انھوں نے روٹیوں کا شاپر اٹھا کر روٹی نکالی اور پوری روٹی کا ایک نوالہ بناکر پتیلے کا ڈھکن ہٹایا۔

            ”اچ….چھا آ آ آ ….بچو…. سب دیکھ رہا ہوں …. مجھے پتا تھا، تم کالونی والوں کو دھوکا دے کر کھانا کھاﺅ گے فالتو فنڈمیں۔“ اچانک ایک جانب سے چاچا چراندی کی مکروہ آواز اُبھری اور پھر وہ پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگئے۔

            استاد کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ چاچا کے ہاتھ میں گدھا گاڑی والے جمال گھوٹے کا وہ ہنٹر تھا، جس سے وہ اپنے گدھے کو لمبس کی مار لگاتا تھا۔ چاچا ہنٹر لہرا رہے تھے۔

            ”چاچا تم؟“ استاد کی حیرت‘ کرب اور دکھ قابلِ دید تھا۔

            ”ہاں چاچا کی جان….میں۔ “چاچا نزدیک آگئے۔ ”چل شا باش….روٹی رکھ دے….ورنہ میں رکھ کے دوں؟“ چاچا نے ہنٹر کی طرف اشارہ کیا۔

            ”چاچا ….خدا کے لیے۔“استاد کے لہجے میں لجاجت تھی۔

            ”ہاں ….وہ فلم بھی دیکھی ہے….ابے میں کیا بول رہا ہوں…. تیری کھو پڑیا میں نہیںآرہی ہے…. دھوکا دے رہا ہے….کرشپن کرتا ہے….اور لوگوں کو منع کرتا ہے….رکھ یہ….رکھ….“ چاچا نے ہنٹر لہرا کر چپٹے کو مارا۔ چپٹا بلبلا کر بلے کی طرح اُچھلا۔

            استاد نے عافیت اس میں جانی کہ چاچاکی بات پر عمل کرلیا جائے۔جب استاد نے روٹی رکھ دی تو چاچا آگے بڑھے اور آلتی پالتی مار کر چبوترے پر بیٹھ گئے۔ چپٹا اور استاد حسرت بھری نظروں سے انھیں دیکھ رہے تھے چاچا نے ایک روٹی کو رول کرکے نوالا بنایا اور پتیلے کا ڈھکن ہٹا کر اندر جھانکا۔”واہ….اوئے ہوئے…. ابے کیا خشبو ہے…. آج تو میرے مزے آگئے۔ ہٹ ہٹ کے کھاﺅں گا۔“ اچانک چاچا نے اُن دونوں کو دیکھا ۔وہ دونوں سر جوڑے آس ویاس کی تصویریں بنے پتیلے کو گھور رہے تھے۔

            ”شاباش….دیکھتے رہو مجھے….دیکھو میں کیسے کھاتا ہوں کلیجی….یہی تم دونوں کی سزا ہے۔ چھپ کے کھانے کا پروگرام بنارہے تھے۔ ابے مجھے پتا تھا ،تم دھوکا کروگے ،اس لیے تو میں یہیں پر چھپ کر نگرانی کررہا تھا تمھاری…. فالتو فنڈ میں۔“

            اس کے بعد چاچا نے ہنٹر اپنے برابر میں رکھ کر کھانے کا آغاز کیا اور روٹیوں کے ڈونگے بنا بنا کر کلیجی کھانا شروع کردی۔ کھاتے وقت ان کے منہ سے ببر شیر جیسی آوازیں نکل رہی تھیں۔کلیجی کی موٹی موٹی بوٹیاں دیکھ کر استاد دلارے کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکل پڑے ۔ وہ چپٹے کی ناک سے ماتھا ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ان کے ابو کاا نتقال ہوگیا ہے۔

            ان کے رونے پر چاچا کو دلی مسرت ہوئی اور وہ کلیجی کی تعریف میں رُباعیاں پڑھنے لگے۔”ہیں جی….کیا مزے کی کلیجی …. یہ تو لایا ہے یا کسی نے بھیجی ۔“ چاچا کے پوٹے میں کلیجی پہنچی تو وہ ترنگ میں آگئے۔

            استاد دلارے منہ میں انگو ٹھادے کر رورہے تھے۔ وہ اس وقت کو کوس رہے تھے ،جب انھوں نے بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

            ”خدا کے لیے چاچا…. ایک….صرف ایک روٹی بچادو…. دو دن سے کچھ نہیں کھایا۔ کلیجی کا ذائقہ تو معلوم ہو آخر…. کیسی بنی ہے؟“ استاد دلارے نے ہڑکتے ہوئے کہا۔

            ”مجھ سے پوچھ نا….میں یہاں کس لیے آیا ہوں …. انسانیت کی خدمت کرنا تو میرا فرض ہے فالتو فنڈ میں۔ “چاچا نے نوالہ نگلتے ہوئے کہا۔

            ” کیوں چاچا…. تم انسانیت کے پیر دباتے ہو …. انسانیت کو دوا پلاتے ہو…. بتاﺅ تو….کیسے خدمت کرتے ہو؟“ چپٹے نے سوال کیا۔ چاچا نے روٹی کے آخری نوالے سے پتیلا مانجھ کر منہ میں رکھا اور نگلنے کے بعد جناتی ڈکار ماری۔ یہ ڈکار انھوں نے جان بوجھ کر استاد اور چپٹے کی طرف منہ کرکے ماری تھی۔دونوں نیم بے ہو ش ہوکر ایک دوسرے پر گرگئے۔

                                                                        ٭٭٭

 ”ابے….رک جاﺅ….کون ہو تم؟“ اچانک اس کے عقب سے کسی نے آواز لگائی۔ وہ ٹھٹک کر رک گیا۔ پلٹ کر دیکھا تو اس کی جان ہی نکل گئی۔ پیچھے دو پولیس والے چلے آرہے تھے۔ رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ کالونی والے گدھے بیچ کر سورہے تھے۔ ایسے میں اسے اکیلے گلی میں جاتے دیکھ کرپولیس والوں نے روک لیا تھا۔

            ”کون ہو تم؟“ پولیس والے قریب آگئے۔

            ”کک کون ….میں؟“ سخن ہکلا گیا۔

            ”تیرے علاوہ یہاں اور کون ہے؟“

            ”تم دونوں۔“ سخن نے فوراً جواب دیا۔

            ”تو کیا ہم خود سے پوچھیں گے کہ تم کون ہوں۔“ پولیس والا جھنجلایا۔” جلدی سے بتاﺅ کون ہوتم؟“

            ”میں ….میں میٹر ریڈر ہوں ۔“سخن کو اس کے علاوہ کوئی بہانہ نہ سوجھا۔

             ”میٹرریڈر؟“دونوں پولیس والے حیران رہ گئے ۔”اس وقت میٹروں کی ریڈنگ کر رہے ہو ….اندھیرے میں ؟“

            ”ہاں میری نائٹ ڈیوٹی ہے ….دن میں …. میں گٹکا بیچتا ہوں ۔“

            ”اچھا یہ بتا ¶…. تم نے یہاں کسی مشکوک بندے کو تو نہیں دیکھا ؟“

            ”مشکوک کو تو نہیں دیکھا ،البتہ مشکور کو دیکھا ہے ….جس کا پان کا کھو کھا ہے ۔“سخن نے سوچ کر بتایا۔ ”آپ کو پان کھانا ہے ؟“

            ”ہم پان کیوں کھائیں گے ؟“ایک پولیس والا بولا۔ ”اصل میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس کالونی میں ایک خود کش حملہ آور گھس آیا ہے ۔ ہمیں اس کی تلاش ہے ۔“

            ”خود کش حملہ آور ؟؟“سخن کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔”نام کیا ہے اس کا ؟“

            ”ہمیں کیا پتا….وہ کیا ہمارا خالہ زاد بھائی ہے؟“دوسرے نے منہ بنا کر کہا ۔

            ”اس نے ایسی جیکٹ تو نہیں پہنی تھی ؟“سخن نے اپنی جیکٹ چھوتے ہوئے پوچھا۔یہ وہی جیکٹ تھی ،جو اس نے فقیر سے چھینی تھی ۔

            ”ہاں….وہ جیکٹ میںتھا ۔“پولیس والے نے جوشیلے انداز میں کہا ۔”یقینا تم نے اسے دیکھا ہوگا۔“

            ”ہاں دیکھا ہے ….میں جب کالونی آرہا تھا تو وہ مجھے ملا تھا ….بتا رہا تھا کہ وہ بم میں ہوا بھروانے جا رہا ہے۔وہ پنکچر ہوگیا تھا۔“سخن نے انفارمیشن دیتے ہوئے کہا۔

             ”بم میں ہوا بھروانے ؟“دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔

            ”وہ بم کیا ربڑ کا تھا ؟“ایک نے پوچھا ۔

            ”پتا نہیں ….میں نے دور سے دیکھا تھا ۔بڑا خوب صورت بم تھا ،گلابی رنگ کا ۔بتا رہا تھا کہ اس نے طارق روڈ سے خریدا ہے۔کافی مہنگا لگ رہا تھا ۔“سخن ان پر اپنی معلومات کا خزانہ لٹا رہا تھا ۔

            ”وہ جا کس طرف رہا تھا ؟“پولیس والے نے جان چھڑانے کی خاطر پوچھا۔

            ”ادھر ….شمال کی جانب ….کے ٹو پہاڑ کے پچھواڑے ،جو ورکشاپ ہے نا….اس طرف جا رہا تھا ۔“ سخن نے انھیں مکمل ایڈریس سمجھایا اور چمک کربولا۔ ”اب کھڑے کھڑے نکھٹو پن کیوں دکھا رہے ہو ….جا ¶ جا کر کم از کم اس ماہ کی تنخواہ ہی حلال کر لو۔“

”آ ¶ ….کم آن….مجرم فرار نہ ہوجائے ۔“ پولیس والے نے اپنے ساتھی سے کہا اور دونوں وہاں سے عجلت میں پیدل چل دیئے۔                                                                                                ٭٭٭

            ”دہائی ہے…. دہائی ہے۔“یہ کہتا ہوا وہ شرفو صاحب کے قدموں میں جاگرا۔

            شرفو صاحب پتا نہیں کیا سمجھے، وہ ایک دم اُچھل پڑے۔ ”ابے کیا موت آئی ہے ؟کون ہے تو ؟“

            اُدھر گرنے والے کے نتھنوں سے بدبو کا ہول ناک بھپکا ٹکرایا۔اس کا دماغ ہی سکڑ کر رہ گیا۔پتا لگا کہ بدبو شرفو صاحب کے پیروں سے آ رہی تھی۔اصل میں آج انھوں نے مرغیوں کا دڑبہ صاف کیا تھا، وہ بھی دڑبے میں ننگے پیر گھس کر۔اس کا نزلہ دور ہوگیا ۔

            ”بول بے ….اپنی شکل تو دکھا دے….پیروں میں گھسا جا رہا ہے ۔کس بات کی دہائی دے رہاہے …. تیرے دادا کا انتقال نہیں ہو رہا ہے کیا ؟“شرفو صاحب اب سنبھل گئے تھے ۔

            قدموں میں گرنے والے نے چہرہ اٹھا کر دیکھا۔ یہ وہی فقیر تھا ،جس سے سخن نے جیکٹ چھینی تھی۔ وہ اپنی فریاد لے کر دڑبہ کالونی کے کونسلر صاحب کے دفتر آیا تھا ۔”بابا آپ ہی کونسلر ہیںنا یہاں کے ؟“فقیر نے کھڑے ہوتے ہوئے سوال کیا ۔

            ”تو میں کیا شکل سے فٹ بالر نظر آرہا ہوں ؟“

            ”جناب ….کل رات میں آپ کی کالونی میں لٹ گیا…. برباد ہوگیا ۔“فقیر نے دل خراش آوا ز نکالی ۔

            ”اوئے ۔“شرفو صاحب نے وارننگ دی۔ ”اب اگر ایسی خطرناک آواز نکالی تو ٹیٹوا دبا دوں گا ۔ طریقے سے بتا ….کیسے لٹ گیا ….اور تو بھلا کیسے لٹ سکتا ہے ….کون سا تیرے پاس ڈالر تھے ؟“

            ”وہ میری جیکٹ اور موبائل چھین کر لے گیا ۔“

            ”کون لے گیا ….ٹھیک سے بتا ،ورنہ دوں گا کان کے نیچے ۔“

            ”ایک آدمی۔“فقیر نے خود کو رونے سے روکا۔ ”بندر جیسی شکل کا تھا ۔اس نے میری جیکٹ زبردستی اُتار لی۔ اس میں موبائل بھی تھا۔“

            ”تھانے میں رپورٹ لکھوائی ؟“

            ”نہیں ….مجھے مزید نہیں لٹنا۔“فقیر ایک دم چلایا ۔

            شرفو صاحب نے لپک کر اسے پکڑا اور جھک کر کمر پر گھونسا مارا۔دفتر میں ”ڈھم“کی آواز گونج کر رہ گئی ۔”ابے واہ بھئی ….تیری کمر تو ڈھول کی طرح بجتی ہے….اس پر گائے کی کھال چڑھا رکھی ہے کیا ؟“شرفو صاحب نے اس کی کمر کی منہ کھول کر تعریف کی ۔

            فقیر کا تو حال برا ہوگیا تھا ۔اس کی کمرکومے میں چلی گئی تھی ۔شرفو صاحب نے بڑی محبت سے اسے فرش پر بٹھا دیااور خود کرسی پر براجمان ہوگئے ۔”اب مجھے یہ بتا کہ میں کیا کروں ؟“

            ”میری مدد….اُوئی….امی جی۔“

            ”کیوں….تو کیا کنویں میں گر گیا ہے جو تیری مدد کروں ….بس میں نے ہم دردی کا اظہار کرتے ہوئے تیری کہانی سن لی ہے ۔اس سے زیادہ میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔“شرفو صاحب نے بغل کھجاتے ہوئے کہا۔

            ”تو بابا اس میں مدد کہاں سے آگئی ؟“فقیر کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگا‘لیکن شرفو صاحب نے پیر سے دھکیل کر دوبارہ بٹھا دیا ۔

            ”کسی کی دکھ بھری کہانی سننا بھی مدد ہوتی ہے ۔ بس ایک چیز دماغ سے نکال دو کہ میں تمھیں پیسے یا کوئی جیکٹ دلا دوں گا ۔“شرفو صاحب نے فقیر کی آنکھوں میں موجود امید کے چراغ پھونک مار کر بجھا دیئے ۔”مگر فکر نہ کرو …. میں تمھیں خالی ہاتھ جانے نہیں دوں گا۔آخر اتنی امید اور آس لے کر آئے ہو۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ تم یہاں میرے دفتر آ ¶….اور میں خالی ہاتھ جانے دوں۔“

            فقیر کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو زبردستی آگئے۔ وہ ڈبڈباتی ہوئی نظروں سے شرفو صاحب کودیکھتا ہوا بولا۔”مجھے پتا تھا….آپ بڑے رحم دل ہیں ۔مجھے پتا تھا کہ آپ کسی فریادی یا ضرورت مند کو خالی ہاتھ جانے نہیں دیتے ۔“

            شرفو صاحب کرسی سے اُٹھے اور میز کے عقب میں گئے ۔فقیر اُچک اُچک کر دیکھنے لگا کہ وہ کتنی رقم نکال رہے ہیں۔پھر شرفو صاحب میز کے عقب سے باہر آگئے ۔ ان کے ہاتھ میں ایک شاپر تھا ،جس میں کچرا بھرا ہوا تھا۔”لو…. یہ لو میرے مظلوم دوست ….اسے لے جا کر کہیں دور پھینکتے ہوئے اپنے گھر چلے جانا۔کافی کچرا جمع ہوگیا تھا ….گلابی بھی کئی دن سے نہیں آرہا ہے ۔“شرفو صاحب نے کچرے کی تھیلی فقیر کی جھولی میںڈ ال دی ۔

            وہ غریب کبھی کچرے کو دیکھتا تھا تو کبھی شرفو صاحب کو ۔اس نے جیسے ہی کچھ کہنے کے لیے منہ کھو لا تو شرفو صاحب تیزی سے بولے ۔”نہ نہ ،اب شکریہ ادا کر کے مجھے شرمندہ نہیں کرنا ۔ویسے بھی میں شرمندہ نہیں ہوتا۔اچھا اب یہاں سے کلٹی ہو جا ¶۔مجھے بھی دودھ کی سپلائی پر جانا ہے ۔“

            ”اور میری جیکٹ ؟“فقیر رونے والے انداز میں بولا ۔

            ”ابے کون سا تجھے وہ جیکٹ برونائی کے سلطان نے تحفے میں دی تھی؟اس میں کیا سونے کا چمڑا لگا ہوا تھا؟ کوئی تاریخی جیکٹ تھی وہ ….جو تیرا دم نکلے جا رہا ہے۔“شرفو صاحب نے غصے سے آنکھیں نکالیں ۔

            ”اس میں ….“ فقیر ہچکچاتے ہوئے بولا۔”اس میں ہیرے چھپائے ہوئے تھے میں نے بابا۔“

            ”ہی….ہی….ہیرے ؟“شرفو صاحب کو غش آگیا ۔

            ”ہاں ….ہیرے ….“

             ”مگر تجھ جیسے فقیر کے پاس ہیرے کہاں سے آگئے کنگلے کی اولاد ؟“

            ”وہ مجھے کسی نے انعام میں دیئے تھے ۔“

            ”انعام میں؟“شرفو صاحب نے بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔”تو نے اسے آب دوز بنا کر دی تھی ؟ ٹرین کے نیچے آنے سے بچایا تھا ؟ایسا کیا کارنامہ سر انجام دیا تھا تونے کہ اس نے انعام میں ہیرے دے دیئے؟“

            ”ایک بہت بڑے نواب تھے ….انھیں ڈائریا کی موروثی بیماری تھی ۔میں نے انھیں ایسا چورن دیا کہ معاملہ سیٹ ہوگیا اور خاندانی بیماری کا خاتمہ ہوگیا۔انھوں نے انعام میں مجھے ہیرے دے دیئے،مگر وہ ڈاکو میری جیکٹ ہی لے گیا ،جس میں ہیرے چھپا رکھے تھے۔“

            ”ابے تو تونے کچھ نہیں کیا ….ایسے ہی آسانی سے لے جانے دیا اسے؟“فقیر سے زیادہ شرفو صاحب کو دکھ ہو رہا تھا۔افسو س کے مارے ان کی ناک بہہ رہی تھی ۔

            ” اس کے پاس پستول تھا ….میں بھلا کیا کرتا ۔“

            ”ابے تو گدھے کی اولاد ….زیادہ سے زیادہ وہ گولی مارتا۔جان ہی تو جاتی۔کم از کم ہیرے تو بچ جاتے ۔“دکھ کی شدت سے شرفو صاحب کی عقل لوسن کھانے چلی گئی تھی۔”اب اٹھ جا میرے سامنے سے …. ورنہ ٹھڈا مار کر نکال دوں گا۔ اب تو مجھے نیند بھی نہیں آئے گی ۔“شرفو صاحب نے ہتھیلی پر مکا مارا۔فقیر شاپر اٹھا کرکچرا پھینکنے کے لیے چلا گیا۔

                                                                                    ٭٭٭

            سخن دیوار کی منڈیر پر کوے کی طرح بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں گردو پیش کا جائزہ لے رہی تھیں ۔ہر طرف غضب کا اندھیرا ہورہا تھا ۔جس گھر کی منڈیر پر چڑھا ہوا تھا وہاں بھی اندھیرا اور سناٹا چھایا ہوا تھا ۔سخن نے فقیرکی چھینی ہوئی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، جس میں پستول رکھا ہوا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ خود کشی کرنے سے بہتر یہ ہے کہ لوگوں کو لوٹا جائے اوردولت جمع کر کے ایک نئی ‘ باعزت اور گناہوں سے پاک زندگی کا آغاز کیا جائے ۔اس نے منڈیر پر سے صحن میں چھلانگ لگادی اور جس چیز پر گرا ۔وہ چیز چیخ مارنے لگی ۔سخن کو سمجھ میں نہیںآ یا کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر اس نے ”ڈھینچوں ڈھینچوں“کی آواز سے سراغ لگا لیا کہ وہ جمال گھوٹے کا لاڈلا گدھا کولمبس ہے ۔وہ کولمبس کی پشت پر جا بیٹھا تھا ۔

            ”ابے….شش….اوئے….گدھے کے بچے …. منہ بند کر اپنا ….ایسے چلا رہا ہے جیسے میں نے تجھے نوکری سے نکال دیا ہے ،اچھا چپ ہوگاتو میں تجھے جھولا جھلانے لے کر جا ¶ں گا ۔“سخن نے پٹا پٹا کر گدھے کو خاموش کروادیا۔

            گدھا آخر گدھا ہوتا ہے اس نے سخن کی بات پر یقین کر لیا اور تصور میں خود کو سخن کے ساتھ جھولے میں بیٹھا دیکھنے لگا ۔دونوں بھائی جھولا جھولنے کے ساتھ ساتھ پوپ کارن بھی کھا رہے تھے ۔سخن کمرے کی جانب بڑھا۔ اس نے جیب سے ایک رومال نکال کر منہ پر باندھ لیا تھا۔ صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ وہ اندر داخل ہوگیا ۔دیکھا کہ پلنگ پر جمال گھوٹا مرغا بنا سو رہا تھا۔ سخن نے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا ۔پھر اس نے پستول کی نال سے جمال گھوٹے کو ہلایا۔”چل اُوئے ،اٹھ جا….مرغابی کے انڈے ….اٹھ۔“

            جمال گھوٹا لڑھک گیا۔وہ خواب میں دیکھ رہا تھا کہ اس نے گدھا گاڑی فروخت کر کے ٹرک خرید لیا ہے ۔ اب وہ بھری پری سڑک پر تیز رفتاری سے ٹرک چلا رہا تھا۔”ہٹ جا ¶….اوئے ہٹ جا ¶ سامنے سے…. پیپ پیپ۔“جمال گھوٹا ٹرک چلاتے ہوئے منہ سے ہارن دے رہا تھا ۔”ہٹ اوئے بھنگی کی شکل کے ۔“

            سخن کا منہ غصے سے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔”ابے میں بھنگی ہوں ….ابھی بتا تا ہوں تجھے۔“یہ کہہ کر اس نے مرغا بنے ہوئے جمال گھوٹے کے زور دار لات ماری ۔

            ”یا ہو….“جمال گھوٹا درد کی شدت سے متاثر ہ مقام سہلاتا ہوا جاگ گیا۔پھر اس کی نظر ایک نقاب پوش پر پڑی تو اس کی رہی سہی نیند کے مچھر بھی اُڑ گئے۔”تت….تت….تم….کون ہو بھائی….سلام علیکم ۔“جمال گھوٹے نے بڑھ کر سخن سے کپکپاتے ہوئے مصافحہ کیا۔

            ”بکواس بند کر غریب انسان ….چل جو کچھ ہے نکال دے ….ورنہ یہ دیکھ لے پھر۔“سخن نے پستول ہلاتے ہوئے دکھایا۔

            ”تو تم یہ دکھانے کے لیے آئے ہو ؟“

            ”زیادہ بڑ بڑنہ کر ….جو کچھ ہے جلدی نکال دے۔“

            ”کھچڑی بنائی تھی آج ….وہ تو ختم ہوگئی ….اچار کے ساتھ روٹی دے دوں؟“جمال گھوٹے نے چپلیں پہنتے ہوئے پوچھا ۔

            ”ابے میں رقم کی بات کر رہا ہوں….جاہل کی نسل۔“سخن غرایا ۔

            ”تم نے میرے پاس رقم کب رکھوائی تھی ؟“ جمال گھوٹا چونکا ۔

            ”میں تیری رقم کی بات کرر ہا ہوں ۔“سخن نے دانت پیسے۔

             ”میرے پاس رقم کہاں سے آئی ؟کسی نے تمھیں غلط اطلاع دی ہے ۔“جمال گھوٹا معصومیت سے جوابات دے رہا تھا ۔

            ”اطلاع کی اولاد ….اپنے پاس سے پیسے نکال ۔“سخن نے زور سے پیر پٹخا ۔

            ”مگر اس وقت تو سب دکانیں بند ہوں گی۔ رہنے دو کیا کرو گے پیسوں کا….صبح آکے لے لینا۔“ جمال گھوٹے نے جمائی لی ۔

            ”الو کے پٹھے….مرنے کے لیے تیار ہو جا۔“ سخن نے پستول تان لیا۔

            ”تیار کیا ہو جا ….بس یہ کپڑے ٹھیک تو ہیں …. کون سا مجھے کسی کے ولیمے میں جانا ہے ۔“جمال گھوٹے نے بڑی شائستگی سے کہا۔

            ”ابے ….ابے ….میں کیسے سمجھا ¶ں تجھے…. کوڑھ مغز۔“سخن نے اپنے بال نوچتے ہوئے کہا۔

            ”ادھر پلنگ پر بیٹھ کر سمجھا۔“جمال گھوٹے نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے اسے بھی بیٹھنے کی دعوت دی۔ ”آ ¶ یہاں بیٹھ جا ¶ آرام سے ….چپل اُتار دو ۔“

            ”میں تیری کھال نہ اُتار دوں ۔“سخن نے پلنگ پر ایک پیر رکھتے ہوئے ایکشن سے کہا۔”مجھے فوراً پیسے چاہئیں ….فوراً۔“

            ”ماں کی آنکھوں کا آپریشن کروانا ہے کیا ابھی ؟“جمال گھوٹے نے کہا۔ پھر غور سے سخن کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔ ”لگتا ہے میں نے تمھیں دیکھا ہے پہلے ….کچھ جانے پہچانے سے لگ رہے ہو ۔“

            اب سخن تھوڑا گڑ بڑا گیا ۔”مم….مجھے؟“

            ”تو اور کیااپنے والدمرحوم کی بات کر رہا ہوں میں؟“

            ”نن….نئیں….تم نے کسی اور کو دیکھا ہوگا۔ میں تو کل ہی جاپان سے آیا ہوں یہاں ۔“سخن نے بڑی بے تکی بات بنائی ۔

            ”جاپان سے یہاں ….دڑبہ کالونی میں ڈکیتی کرنے آنے ہو ؟“جمال گھوٹے کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

            ”تو پیسے دے رہا ہے یا نہیں ؟میں دس تک گنوں گا ۔اگر پیسے نہیں نکالے تو میں تجھے دنیا سے نکال دوں گا ۔“ سخن نے عاجز آکر دھمکی دی ۔

            ”دس تک گنتی سے کام نہیں چلے گا ….کم از کم ۔“ جمال گھوٹے نے لیٹتے ہوئے فرمائش کی۔ ”دس ہزار تک گنو …. آرام سے آرام سے، جب تک میں تھوڑا سو لوں ۔ ویسے بھی صبح کو کولمبس کو نہلانا ہے۔اچھا گڈ نائٹ …. اور ہاں ….یہ ذرا کنڈی بند کر لینا اندر کی یاد سے۔ “ یہ کہہ کر جمال گھوٹا کروٹ لے کر لیٹ گیا ۔

            سخن بے بسی کے عالم میں کھڑارہ گیا ۔اسے رونا آرہا تھا ۔اس نے احتجاجی انداز میں کہا۔”یار….کچھ تو لحاظ کرو ….میں ڈاکو ہوں یار …. آج میری پہلی واردات ہے ۔میری بوہنی تو اچھی کرادو ۔تمھیں مجھ پر ذرا بھی رحم نہیں آتا ۔“

            ”خرررر۔“جمال گھوٹا چند سیکنڈ میں نیند کے ٹھیلے پر سوار ہو چکا تھا ۔سخن بے بسی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا پھر پلٹ کر کمرے سے نکل گیا ۔

                                                                                                ٭٭٭

            اگلی صبح استاددلارے نے باقاعدہ بھوک ہڑتال پر لعنت بھیج دی اور طوفان ہوٹل کھلتے ہی وہاں آبیٹھے ۔ انھوں نے حلوہ پوری‘ نہاری ‘چھولے اور نہ جانے کتنی چیزوں کی آرڈر دے دیئے ۔چپٹا بھی ان کے ساتھ ہی تھا۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح کالونی میں پھیل گئی ۔ لوگ ہوٹل پر جمع ہونے لگے اور استاد پر سوالات کی قے کرنے لگے ۔

            ”یہ کیاا ستاد….دو تین دن میں ہی باجا بج گیا ؟“ نجمو سبزی والے نے استاد کو حیرت سے دیکھا،جو ناشتا سوڑنے میں مصروف تھے۔ استاد نے اسے غرا کر دیکھا، مگر کچھ بولے نہیں ،کیوں کہ منہ میں پراٹھا ٹھنسا ہوا تھا ۔

            ”بھائی….بھوک بڑی ظالم شے ہے ۔برے سے برے انسان کو جان ور بنا دیتی ہے ۔اب استاد کو ہی دیکھ لو ۔“دنبہ نائی بولا۔

            چپٹا بھی منہ بھر بھر کر کھانے میں مصروف تھا ۔

            ”استاد آپ کو اپنی ہڑتال کے مقصد میں کوئی کام یابی نصیب ہوئی یا ایسے ہی بے کار میں فاقہ کشی ہوگئی۔“پنجو نے گلا کھنکار کر پوچھا ۔

            ”ابے استاد کو کھانے دو ….خاماخاں میں سوال کیے جا رہے ہو ….دیکھتے نہیں کیسے فقیروں کی طرح کھا رہے ہیں ۔“خالو خلیفہ نے استاد سے ہم دردی کا اظہار کیا۔ ”کھا ¶ استاد‘ خوب کھا ¶ پیٹ بھر کے….پیسوں کی پروا نہ کرنا۔وہ تو میں قبر میں بھی وصول کر لوں گا ….کھا ¶ کھا ¶۔“

            ”چپٹے ….تم اس سلسلے میں کوئی بیان دینا چاہتے ہو ؟“ بابو با ¶لے نے چپٹے سے مخاطب ہو کرپوچھا ۔

            ”بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ استاد کی بے عقلی کی سزا مجھے مل گئی ہے ۔“چپٹے نے یوںبیان دیا جیسے وہ کوئی بہت بڑا سیاست دان ہے ۔

            ”بھوتنی کے ….“استاد نے رکھ کر اس کی گدی پر ایک ہاتھ مارا۔ وہ کرسی سے لڑھک گیا ۔لوگ اس کی مدد کرنے کے بجائے قہقہے لگانے لگے اور استاد کے سچے نشانے کی تعریفیں کرنے لگے ۔

            ”استاد تم بھی بوم بوم استاد ہو….سیدھا چھکے پر گیند پہنچا دی ۔“پنجو ہنستا ہوا بولا ۔

            چپٹا بری طرح گرا تھا ‘لیکن مجال ہے کہ اس کے منہ سے نوالہ نکلا ہو ۔وہ نیچے گر کر بھی نوالہ چباتا رہا ۔

            ”استاد ….اب کیا ارادے ہیں ؟تم کرپشن کے خلاف تو کچھ بھی نہ کر سکے ….اُلٹا بلاوجہ کی ڈائٹنگ ہوگئی۔“انگریز انکل نے استاد کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

            ”ہاں یہ بات تو ٹھیک کہی انکل نے ۔“مجو قصائی نے تائید کی ۔”استاد کی شکل تو دیکھو ….ایسا لگ رہا ہے کنڈلی سے توتے کا بچہ جھانک رہا ہے۔“

            ”لعنت بھیجتا ہوں میں بھوتنی کی کرپشن پر۔“ استاد نے مجو کی شکل پر لعنت دیتے ہوئے کہا ۔”کرو …. جتنی کرپشن کرنا ہے ….دل کھول کر کرو ….اپنے باپ کا کیا جاتا ہے ۔“

            ”خالو….یہ آج کل سخن نظر نہیں آرہا ہے کئی دنوں سے ؟“دنبے نائی نے ادھر ادھر دیکھا۔

            ”میرا خیال ہے کہ اب ہم کبھی سخن کو دیکھ نہیں سکیںگے ۔“خالو نے خیال ظاہر کیا۔

            ”کیوں ….کیوں نہیں دیکھ سکیں گے ؟اس نے سلیمانی ٹوپی پہن لی ہے ؟“انگریز انکل نے حیرت سے پوچھا ۔

            ”نہیں ….بل کہ میرا خیال تو یہ ہے کہ وہ مر گیا ہے۔“خالو نے عام سے لہجے میں بات بتائی۔ ”سخن کئی دنوں سے خود کشی کی کوششوں میں لگا ہوا تھا۔شاید اس کی محنت رنگ آئی اور وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہوگیا ہے ‘اس لیے نظر نہیں آرہا ۔“

            ”چلو….اسی بہانے کم از کم یہ تو ہوا کہ اس نے بے وقوفی اور آوارہ گردی کے علاوہ کچھ اور تو کیا۔“نجمو نے سر ہلایا۔

            ”بھئی ہماری تو دعائےں اور بد دعائےں سب اس کے ساتھ ہیں۔“دنبہ نائی دعائیہ انداز میں دونوں ہاتھ اٹھا کر بولا۔ ”وہ جہاں رہے ،خوش اورآباد رہے ۔“

            ”استاد….اب کیا ارادہ ہے تمھارا ؟“خالو نے استاد سے پوچھا۔

             ”بس ارادہ ورادہ کیا ….عزت سے اپنی دکان پر بیٹھوں گا ۔وہی اپنا طنبورہ ہوگا اور شہنائی …. پیپ پیپ ….پیپ پی پیپ ۔“استاد نے منہ سے شہنائی کی غم ناک آواز نکالی ۔

            ”ویسے یہ تجربہ کیسا رہا ؟“

            ”بڑا ہی لعنتی رہا….جان ہلکان ہو گئی….کسی نے توجہ ہی نہیں دی ….ہمارے ملک کے لوگ بہت ہی بے حس ہوچکے ہیں ….پڑوسی ملک کے اَنا ہزارے نے کرپشن کے خلاف بھوک ہڑتال کی تو سارا ملک اس کی حمایت میں کھڑا ہوگیا ….اور میں بھوتنی کا ہڑتال پہ بیٹھا تو کسی نے حمایت میں ایک لفظ نہیں کہا۔شاید کوئی نہیں چاہتا کہ ملک سے کرپشن ختم ہو،کیوں کہ ہم سب کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔“

            استاد نے زندگی میں پہلی بار سنجیدگی سے کوئی بات کہی تھی ۔ان کی اس بات کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا ۔

                                                                                    ٭٭٭

            آج رات سخن ایک نئے مکان کی منڈیر پر تھا۔اس نے جلد بازی میں اندر چھلانگ لگا دی ….اس بار وہ گدھے کے بجائے صحن میں رکھے ہوئے مٹکے پر جا گرا۔ ایک زور دار آواز کے ساتھ مٹکا پھوٹ گیا …. صحن میں پانی پھیل گیا ۔ سخن گیلا ہوگیا تھا۔اس نے منہ پر رومال لپیٹا ہوا تھا اور ہاتھ میں پستول تھامی ہوئی تھی ۔اتنے میں کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی آدمی کرنٹ کی رفتار سے سخن تک آیا۔اس سے پہلے کہ سخن سنبھلتا، اس آنے والے نے آتے ہی سخن کے پہلو میں زور دار ٹھڈا رسید کیا۔سخن اس طرح اُچھلا، جیسے بندر کے جسم پر کسی نے جلتی ہوئی سگریٹ لگا دی ہو۔

            ”آئے….اﷲاﷲ….اُوئی….ہائے مرگیا۔“ سخن پہلو مسل مسل کر رونے لگا۔ پھر چلایا۔ ”خبردار“اس نے پستول تھام لی تھی۔ ”میرے ہاتھ میں پستول ہے۔“

            ”ابے تو میں کیاکروں ؟ایک تو میرا قیمتی مٹکا پھوڑ دیا تونے فالتو فنڈ میں ….اور اوپر سے مجھ پر ہی دھونس جما رہا ہے ۔اب مٹکے کے بدلے میں مجھے پستول کی لالچ دے رہا ہے ۔میں اس میں پانی بھر کے رکھوں گا کیا؟“یہ جناب چاچا چراندی تھے ۔

            ”میں گولی مار دوں گا ۔“سخن نے با رعب آواز بنانے کی کوشش کی ۔

            ”مار کے دیکھ ….میں ٹھڈا مار دوں گا ۔“چاچا نے جوابی دھمکی دی ۔

            ”میرے پاس پستول ہے۔ “سخن نے پستول لہرائی۔

            ”تو یہ کون سی مہنگی آتی ہے ….یہ تو میں بھی خرید سکتا ہوں ….کون ہے تو ؟“

            ”مم….میں….میں ڈاکو ہوں ۔“

            ”ڈاکو؟“چاچا نے غور سے اسے دیکھا۔ ”تو یہاں کیا لینے آیا ہے ….کہیں جا کر ڈکیتی کر ۔“

            ”وہی تو کرنے آیا ہوں ۔“سخن نے بھاری آواز بنا کر کہا ۔

            ”رومال منہ پر باندھ کر کون ڈکیتی کرتا ہے‘ جاہل ڈاکو ؟“چا چا نے ہنس کر کہا۔ ”تجھے تو ڈکیتی کرنے کی تمیز بھی نہیں ہے فالتو فنڈ میں۔“

            ”تو کیا منہ پر نیکر باندھ کر ڈکیتی کروں ؟“

            ”چل آ میرے ساتھ اندر ۔“چا چا نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے میں لے جانے لگے ۔”منہ پر رومال کے بجائے موزہ پہن ….اس میں آنکھوں کی جگہ سوراخ کر لے ۔پھر ڈاکو لگے گا ….ابھی تو بیکری پر پاپے بنانے والا لگ رہا ہے۔“کمرے میں آنے کے بعد چاچا نے اپنے پلنگ کے نیچے ہاتھ ڈالا اور اپنی پرانی جوتے کی جوڑی نکال لی۔ پھر جوتوں میں سے انھوں نے دونوں موزے نکال لیے۔

            ”یہ دیکھ….یہ ہیں موزے ۔چل اب ایک موزہ پہن لے ….چل شاباش۔“چاچا اسے پیار سے پچکارنے لگے ۔

            ”مگر اس میں تو سوراخ ہی نہیں ہے ۔“سخن نے موزہ ہاتھ میں لے کر اُلٹ پلٹ کر دیکھا ۔”میں دیکھوں گا کیسے ؟“

            ”ابے تو جاہل کے بچے ….پہلے پہن کر سائز تو چیک کر لے ….فٹ آ بھی رہا ہے منہ پر یا نہیں ۔ایسے ہی فالتو فنڈ میں سوراخ کر والیے تو خراب بھی ہو سکتے ہیں۔“ چاچا نے پستول کو خاطر میں لائے بغیر سخن کے منہ پر ”چماٹ“دے مارا ۔

            ”یہ کیا بد تمیزی ہے ۔میں ڈاکو ہوں…. ڈاکو ۔“سخن نے پیر پٹخا ۔

            ”تو میں نے کب کہا تو ….ڈاکٹر ہے ۔“چاچا نے ہاتھ نچائے۔ ”چل‘ اب جلدی سے موزہ پہن کے دیکھ …. اگر سائز چھوٹا بڑا ہے تو کوئی اور دیکھوں ۔“

            ”مگر موزہ پہننے کے لیے تو مجھے رومال ہٹانا پڑے گا اور تم میرا اصل چہرہ دیکھ لو گے ۔“سخن کو خیال آیا ۔

            ”بڑے ہی نخرے ہیں بھئی تیرے ۔“چاچا نے اپنی کھوپڑی ہلائی۔ ”چل میں اپنا منہ پھیر لیتا ہوں ….اب تو خوش ہے نا تو ؟“

            ”خوش کس بات پر ہوں ….تم نے مجھے فروٹ چاٹ کھلائی ہے یا عیدی دی ہے ؟“سخن نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ۔

            چاچا جواب دیئے بغیر رخ پلٹ کر کھڑے ہوگئے۔ سخن نے تیزی سے رومال اُتارا اور موزہ کھوپڑی پر چڑھانے لگے ۔وہ کافی تنگ تھا ،مگر سخن نے پورا زور لگا کر زبردستی اپنے چہرے پر چڑھا لیا ۔پھر ایک ساتھ دو باتیں ہوئیں ۔ایک تو یہ کہ موزے میں آنکھوں کے لیے سوراخ نہیں کیے گئے تھے تو اسے نظر آنا بند ہوگیا ۔دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ وہ چاچا کا برسوں پرانا موزہ تھا۔چاچا موزے کی اس جوڑی کو پہن کر اتنا چلے ہوں گے کہ پیمائش کی جائے تو دنیا کے ڈھائی چکر بن جائیں ۔خاص طور پر ان کا آنا جاناگائے بھینسوں کے باڑے سے رہا تھا ۔اوپر سے خود چاچا کے پیروں کی ہول ناک بدبو اس میں رچ بس کر رہ گئی تھی ۔آخری اہم بات یہ کہ موزے جب سے ایجاد ہوئے تھے تب سے ایک بار بھی دھوئے نہیں گئے تھے ۔ ابھی سخن کچھ دکھائی نہ دینے پر گھبرانے والا ہی تھا کہ بدبو کی ایک موٹی لکیر اس کے موٹے نتھنوں سے گزر کر دماغ کو پگھلانے لگی۔سخن کی آنکھوں کے سامنے پہلے ہی اندھیرا تھا ۔بدبو نے اس کے دماغ میں ہل چل مچا ڈالی تھی ۔اس نے گھبرا کر موزہ اپنے چہرے سے کھینچ کر اُتارنا چاہا ‘مگر ایک تو وہ پہنا ہی اتنی مشکل سے تھا تو اُتارنا اس سے کہیں زیادہ دشوار تھا۔سخن نے پستول ہاتھ سے اس حال میں بھی نہیں چھوڑا تھا ۔وہ منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالتے ہوئے موزہ اُتارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔چاچا نے پلٹ کر اُسے دیکھا اور سارا معاملہ جان گئے ۔انھوں نے آگے بڑھ کر سخن کے ہاتھ سے پستول لے لیا۔

            ”لا یہ تو دے دے ….جان جائے ،پر پستول نہ جائے۔“چاچا نے لگے ہاتھوں اسے کھری کھری سنا ڈالی۔ ”اب لگا زور ….ابے نیچے سے نہیں ….اوپر سے زور لگا …. موزہ اوپر سے ہی نکلے گا‘ پاگل خانے ۔“

            ”مم….مجھے ….کچھ نظر نہیں آرہا ہے ۔“سخن نے رونے والے لہجے میں کہا ۔

            ”ابے تو میں نے کون سا تیری آنکھوں کا آپریشن کیا ہے،جو مجھ سے شکایت کر رہا ہے ۔“

            ”میرا….دم بھی گھٹ رہا ہے۔ “سخن خرخراتی آواز کے ساتھ بولا ۔واقعی بدبو کے مارے اس کی سانس بند ہو رہی تھی اور دماغ کی رگیں سکڑ کر رہ گئی تھیں ۔تھوڑی دیر وہ جھومتا رہا ۔پھر چاچا کے پلنگ پر گر کر بے ہوش ہوگیا ۔

                                                                                    ٭٭٭

            اگلی صبح کالونی کے نام ور افراد چاچا چراندی کے گھرمیں جمع تھے ۔انھیں خبر ہوگئی تھی کہ چاچا نے ڈاکو کو پکڑ لیاہے ۔اس وقت ڈاکو پلنگ پر ایسے بے ہوش لیٹا تھا۔،جیسے آخری دیدار کے لیے میت پڑی ہو۔چاچاآنے والوں کو اپنی شجاعت کا کارنامہ سنا رہے تھے۔ان کے ہاتھ میں ڈاکو کا پستول اب تک موجود تھا ۔

            ”بس تو پھر کیا تھا بھیا ….میں نے چےتے کی طرح چھلانگ لگا کر اسے دبوچ لیا۔بہت ہاتھ پیر مارے اس نے …. پر میں بھی ایک ڈھیٹ،میں نے چھوڑا نہیں اسے …. بے ہوش کر کے ہی دم لیا فالتو فنڈ میں ۔“

            ”چاچا تمھارا یہ کارنامہ رہتی کالونی تک یاد رکھا جائے گا ۔“خالو نے چاچا کو خراج تحسین پیش کیا۔

            ”چا چا….یہ آخر ہے کون ….اس کا منہ تو دکھا ¶۔“ مجو قصائی نے تجسس آمیز لہجے میں کہا۔

            ”ابے تو کیا منہ دکھائی میں سونے کا راکٹ دے گا تو ….ہیں ….بات کر رہا ہے فالتو فنڈ کی۔“چاچا نے پستول کا رخ مجو کی طرف کر دیا اس کا خون خشک ہوگیا۔

            ”چاچا….یہ….یہ تو رکھ دو ….گولی چل گئی تو میں بے موت مارا جا ¶ں گا ۔“مجو نے کپکپاتی آواز کے ساتھ کہا ۔

            ”او بس کرو بھئی….بس ۔“چوہدری بشیر نے ہاتھ اٹھائے۔ ”اب اس ڈاکو کا منہ دکھا دوسب کو،تاکہ دلوں کو قرار آجائے ۔“

            پھر مجو قصائی اور دنبے نائی نے مل کر ڈاکو کے منہ پر سے موزہ کھینچا ۔موزہ اتنا سختی سے چڑھا ہوا تھا کہ پلنگ ہی کھسکنے لگا۔آخر قینچی منگوا کر موزہ کاٹا گیا۔اندر سے سخن کا چہرہ برآمد ہوا تو تمام افراد کے منہ سے تحیر خیز آوازیں نکلیں۔ ”سخن …. سخن ڈاکو ہے؟“

            ”ابے اسے ہوش میں تو لا ¶ ….معلوم تو ہو اسٹوری کیا ہے ؟“

            آخر چاچا نے اپنے دوسرا موزہ سنگھا کر اسے ہوش دلایا۔سخن ہوش میںآ کر اِدھر ُادھر دیکھنے لگا ۔”مم….میں کہاں ہوں ؟“

            ”ڈرامے بازی چھوڑ ….یہ بتا…. یہ سب کیا چکر ہے ؟“ شرفو صاحب نے پوچھا ۔

            سخن ماحول دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس کا راز فاش ہو چکا ہے۔وہ بولا۔”کوئی چکر وکر نہیں ہے۔بس میں نے ایک فقیر سے جیکٹ اور پستول چھینی تھی ۔پھر میں نے سوچا ،کیوں نہ تھوڑے بہت پیسے حاصل کر لیے جائیں ۔“

            ”جیکٹ؟“ شرفو صاحب اُچھل پڑے۔ ”کہاں ہے جیکٹ ؟“

            ”ابے….وہ تو میں نے اس کی جیکٹ اُتار کر صبح صبح ایک فقیر کو دے دی تھی ۔“ چاچا چراندی نے انھیں بتایا ۔

            ”کیا؟“شرفو صاحب سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔

            ”ابے تو ایسا کیا ہوا….کون سا اس جیکٹ میں ہیرے تھے؟“چاچا نے شرفو صاحب کو پریشان دیکھ کر کہا۔

             ”ہیرے ہی توتھے ۔“شرفو صاحب کو چکر آرہے تھے۔ ”سخن ذراتھوڑا آگے کھسک جا ….مجھے بھی پلنگ پر بے ہوش ہونا ہے ۔“

            ”اور یہ تو سن لو ۔“چاچا نے ہنس کر پستول دکھایا۔ ”یہ پستول بھی نقلی ہے۔اس میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔“

            ”چاچا….وہ فقیر کیساتھا ؟“سخن نے پوچھا ۔

            ”تیرے جیسا ہی تھا ….منحوس سا ….پہلی بار دیکھا تھا اسے کالونی میں ….جیکٹ دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا ۔“

            ”مجھے لگتا ہے کہ پھر وہ ….وہی فقیر ہوگا، جس سے میں نے جیکٹ چھینی تھی ۔“سخن نے بجھے بجھے انداز میں کہا۔”وہ جب سے ہی میرے تعاقب میں لگا ہوگا۔قسمت نے اسے اس کی جیکٹ لوٹا دی ….اس میں موبائل تھا ۔“

            ”موبائل پر لعنت بھیج….اس میں ہیرے چھپا رکھے تھے اس فقیر کی اولاد نے ۔“شرفو صاحب کا حال تو ایسا ہو رہا تھا، جیسے ڈائریا کے مریض ہوں ۔

            ہیروں کا سن کر چاچا بھی سن ہوگئے ۔وہ آگے بڑھے اور شرفو صاحب کو کھسکاتے ہوئے بولے۔ ”چل تھوڑا آگے کھسک ۔“

            ”کیوں؟“شرفو صاحب اور سخن پلنگ پر لیٹے تھے۔

             ”مجھے بھی بے ہوش ہونا ہے بے ….شرفو کے بچے ۔“ دکھ اور افسوس کے مارے چاچا کا بھی برا حال تھا ۔

                                                                                                                                                            ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے