سر ورق / جہان اردو ادب / طاہرہ ؔمسعود۔۔۔۔محمد زبیر مظہر پنوار

طاہرہ ؔمسعود۔۔۔۔محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔
جواب ۔۔  پورا نام آنسہ طاہرہؔ مسعود ہے اور قلمی نام طاہرہ ؔمسعود

سوال ۔ تعلیمی اور خاندانی پس منظر ۔

جواب۔ گریجوایشن ۔۔ زندگی کے شروع کے دس گیارہ سال  پنجاب پاکستان میں گزارے۔ اور پھر والدین کےساتھ مغربی افریقہ  میں چلے گئے۔ باقی کا تعلیمی سلسلہ وہاں کیا۔ نکاح تک  تعلیم حاصل کی۔ اور پھر سسر ال والوں نے مکس ایجوکیشن کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع کروادیا۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیق کار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے۔۔

جواب۔۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی ا سکا احساس ہو گیا تھا۔ الفاظ کی بناوٹ اور ساخت مجھے متوجہ ہی  نہیں مسحور بھی کردیتی تھی۔میری والدہ  ماجدہ اچھی شاعرہ تھیں ۔ مگر ان کی کوئی کتاب نہیں ہے۔ انہوں نے ادیب کا امتحان بھی پاس کیاتھا۔ میرے والد محترم افریقہ کے ایک اخبار کے باقاعدہ کالم نگار تھے۔  ان سے مجھے شاید یہ لکھنا پڑھنا قلم سے محبت ورثے میں ملا۔ میرا لکھنے کا اصل محرّک  لوگوں  میں محبتیں بانتٹنے کا جزبہ اور دلوں کو جوڑنے کی کوشش کرنا ہے۔ نفرت پھیلانا اور لوگوں کے  حقوق مارنا مجھے بہت دکھ دیتا ہے۔ انسانی نا مناسب رویے بہت سوں کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں حالانکہ ان سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ انسان  ہونے کے ناطے ہم پر ذمہ داری ہے کہ ہم انسانی جوہر دکھائیں۔ بس تھوڑی س ذمہ داری ا وراحتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ   دنیا اللہ کا گھر اور انسان اس کا کنبہ ہیں۔ ان میں صلح کروانے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ یوں تو نثر بھی لکھتی ہوں لیکن میری اصل فیلڈ شاعری ہے۔
چھوٹی عمر میں   والدین کے ساتھ  مغربی افریقہ جاناپڑا۔ چھوٹی  عمر میں وطن سے دور جانے  کا غم  وطن کی یاد ہر وقت دل میں کہیں کسکتی رہتی۔ سہیلیوں اور اپنے ماحول کا چھٹ جانا  اداس کردیتا تھا۔ اُس زمانے میں رابطے اور سوشل میڈیا بھی اتنا عام نہیں تھا۔ اس لیے  وقت کی سست رفتاری اور بوریت سے بچنے کے لیے ابا جان کی لائیبریری ہی واحد پناہ گاہ تھی ۔ اس لیے اردو سے بھی ناطہ رہا  بلکہ  دن بہ دن مضبوط ہوتا گیا۔ وہاں لوکل اخبار انگریزی میں  ہوتے تھے اس طرح انگلش بھی اور بہتر ہوتی گئی۔ پڑھنا مجھے بہت پسند تھا ۔ بلکہ بہترین مشغلہ تھا۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ سب سے پہلی نظم گیارہ سال کی عمر میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں پر کہی۔ جس کی اصلاح میری امی جان نے کردی۔  پہلی کہانی سولہ سال کی عمر میں لکھی جو انگلش میں تھی اور چھو ٹے بھائی کے نام سے  نائیجیریا کے ایک لوکل اخبار میں بھیجی جو  شائع ہوئی۔ انہیں دنوں لاہور کے ایک رسالے میں کچھ منظوم کلام اور کچھ چھوٹے چھوٹ مختلف موضوعات پر مراسلے شائع ہوئے۔ابھی حال ہی میں ایک شاعری کی کتاب "بادِ صبا”  کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ دوسری زیر  تشکیل ہے۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔
جواب۔۔ انٹلیکچوئل کہنے سمجھنے کا شکریہ۔  🙂 بہت حیران کن مگر سچا سوال ہے۔ اللہ جانے اوروں کا تجربہ کیا ہے۔ لیکن میرا تجربہ وہی ہے جن خدشات کا اظہار آپ نے اس سوال میں کیا۔  مجھے یاد ہے کہ میرا ایک مضمون پڑھ کر ہمارے ایک دور کےبزرگ رشتے دار نے کہا تھا کہ بیٹا اب مخالفت اور طعن و تشنیع کے لیے تیار رہنا۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ایسا کیوں  کر ہو گا؟  جبکہ میں ہمیشہ سلجھے ہوئے موضوعات ہی چنتی ہوں، میری شاعری میں اصلاح اور امن کے پیغام کا پہلو زیادہ ہے۔لیکن ایساہو اہے  اور بار بار ہو اہے۔ اپنے پرائےسب ہی میں یہ دیکھ  چکی ہوں اور ہنوز سامنا ہے۔

سوال ۔۔صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا

جواب ۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میں نہیں سمجھتی کہ ابھی وہ تحریر میں لکھ پائی ہوں۔ لیکن پوری دنیا میں میں اپنی ٹائم لائین کے ٹائیٹل نیم ،”بادِصبا” کے نام سے پہچانی جاتی ہوں۔ کشمیر کے اخبار پرنٹاس میں بھی ایک انٹریو شائع ہوا۔ میں ایک گھریلوخاتون ہونے کے باوجود   اپنی تحریرات اور شاعری کے حوالے سے کافی لوگوں میں جانی جاتی ہوں۔

سوال ۔۔ آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ خواتین وحضرات میں سےبہت سے نام ہیں جن کامیری فرینڈ لسٹ میں  موجود ہونا مجھے تقویت بخشتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ یہاں میرا حلقہ احباب بہت وسیع اور  سلجھا ہو اہے۔ ان کا میری دوستوں میں شامل ہونا میرے لیے اعزاز سے کم نہیں جیسے ڈاکٹر نگہت نسیم صاحبہ ہیں۔ نسیم سید صاحبہ ہیں۔ صدف مرزا صاحبہ۔۔ مریم ثمرصاحبہ ہیں، مہ پارہ صفدر صاحبہ ہیں ۔   ان کے میاں  صفدر ہمدانی صاحب ہیں محترم اقبال حسن آزادصاحب۔  نعیم بیگ صاحب۔تحسین سید صاحب ، ستیہ پال آنند جی۔ احمد سہیل صاحب  ۔ موصوف انتھک طور پر  گم گشتہ مشرقی ا ور مغربی مشاہیر کے  تعارفی معلوماتی مضامین  ا ور سوانحی خاکے ارسال کرتے رہتے ہیں ۔ جو اردو ادب کی بہترین خدمت ہے۔  ان کے علاوہ بھی بہت سے ہی اس وقت ذہن میں نہیں آرہے۔ میں اپنی تحریروں میں کسی سے رہنمائی نہیں لیتی۔ ہاں رائے ضرور پسند کرتی ہوں۔جو دل کہے لکھ دیتی ہوں۔ کیونکہ ، دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

  سوال ۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے  ۔

جواب۔۔ ادب ہر مہذب معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔ جہاں ادب نہیں وہ معاشرہ نہیں حیوانوں کا  جنگل ہے۔  جہاں اس کی گنجائیش نہیں وہاں انسانیت نہیں ہے۔  ادب کا اصل مقصد انسان کو اچھائی برائی بتاکر اس کو آگہی دینا اور مہذّب بنانا ہے۔  لیکن آج کے قاری کو ادب کے نام پہ جو بھنگ پلائی جارہی ہے وہ اس کے ضمیر کو سُلارہی ہے۔ آج کا قاری ا سی  نشے میں مبتلا رہنا چاہتا ہے۔ اورا س کی مزید خوارک چاہتا ہے۔ آج انسان کے ضمیر کو جھنجھور کر جگانے کی ضرورت ہے۔ ادب کے نام پر انسان کو بے قابو اور خود غرض اور بے لحاظ بنایا جا رہا ہے۔ آزادیء اظہار کے نام پر انسان کو بد تمیز یا بد تہذیب بنانا ادب نہیں۔

سوال ۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان؟

جواب۔۔ یقیناً کچھ فائدہ تو ہوا ہے۔ لیکن بگٹٹ اور بے مہار ادب نے بہت سی اخلاقی کمزرویاں بھی پیدا کردی ہیں۔ ترقی پذیری کا یہ مطلب نہیں کہ خود پہ شرمندہ رہو اور دوسروں سے مرعوب رہو۔ ایک ادیب کو اپنی اقدار کی عزت کرنا  اور کروانا ، آنا چاہیے۔

سوال ۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔

جواب۔۔ ہمارا قاری آج بھی تخیّلاتی پر تعیش ذہنیت اور سنسنی سے باہر نکل کر عملی میدان میں کم دکھائی دیتا ہے۔جبکہ مغرب میں عمل بھی ہے لیکن وہ ان تمام  تجربوں سے گزر کر   بہت آگے جا چکے ہیں۔انسانی روبوٹس کے دور میں داخل ہو کر سونے جیسی انسانی محسوسات اور اقدار سے فارغ ہو چکے ہیں۔ ہمارا قاری  جسمانی  طور پہ گو  اکیسویں صدی میں داخل ہو گیا ہے اور بظاہر ذہنی بھی۔ لیکن لاشعوری طور پر اب بھی وہ قران اولیٰ کا باسی ہے۔  وہ  مغرب کی ترقی کا تو ادلدادہ ہے لیکن گھر کا  ماحول مغرب کی تمامتر مصنوعات کے باوجود  پرانی اقدار سے جوڑے   رکھنا چاہتا ہے۔

سول۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ  دور کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب   ؟

جواب ۔۔ انسان نفسِ امّارہ کے قبضے میں بہت جلد آتا ہے۔ جب نظارہ خیز اور ذہنی آوارگی کے لوازمات سے بھری خود سر  تحریریں آپ کی حوصلہ  افزائی کر رہی ہوں گی تو روایات کی زنجیروں میں بندھنا کون پسندکر ے گا؟  جب والدین کو بھی اس طرف دھیان کرنے یا کروانے کا نہ تو وقت  ہو اور نہ ہی احساس۔اس وقت ضرورت ہے ذہن کی تطہیر کرنےو الی دل کو اور مثبت سوچ کوبیدار کرنے والی   خوش دل تحریروں کی۔سرسری مطالعہ بھی  ذہن سازی مین کام آتا ہے۔ انسان اس کو حافظےمیں  محفوظ کر لیتا ہے اور وقت آنے پر اس سے فائدہ یا نقصان حاصل کرسکتا ہے۔

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

جواب ۔۔ اردو ادب  کا سب سے زیادہ  نقصان مذہبی جنونیت اور بے جا پابندیوں نے  کیا ہے۔ اگر آپ نے ہنس لیا تو دل مردہ ہو جائے گا۔ رو لیا تو بے صبرے کہلائیں گے۔ کسی غیر کی تقلید کر لی تو الگ وعید۔ ۔ ایک مخصوص کردار  کے بیانیے تک تو  یہ ٹھیک ہے مگر معاشرہ اسی کے گرد گھومے گا تو گھٹن پیدا ہو گی۔    اردو ادب ہر رعنائی   منعکس بھی  کر سکتا ہے اور جذب بھی۔اس میں بہت تنوّع ہے۔ ہر موضوع پر تہذیب  کے دائرے میں سلجھے ہوئے انداز میں رہنمائی کر سکتا ہے ۔اور یہ بات مسلّم ہے  کہ ضرورت سے زیادہ کھل کر بات کرنا انسان کے دل میں کسی بھی چیز کی دلچسپی کم  کردیتا ہے۔ اور بے جا  طور پہ دبایا جانا انسان  کو بغاوت کی طرف لے جاتا ہے۔

سوال ۔۔آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔

جواب۔ احمد ندیم قاسمی کی شاعری نثر دونوں ہی متاثر کن تھے۔ آج کل  مجھے صدف مرزا کا لکھنے کا انداز  پسند ہے۔ موصوفہ کوزے میں دریا بندکرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ناول کم ہی پڑھے ہیں۔ شاعر البتہ غالب ، جان ایلیاء  اور پروین شاکر۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار اور ذرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔ یقینا ً پروٹوٹائپ  اور گھسے پٹے مضامین کی بہتات بھی اس کیو جہ ہو سکتی ہے۔  مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ خلا کیوں کہا جا رہا ہے؟  لکھنے والوں بلکہ اچھا لکھنے والوں کی کمی نہیں۔ آج  کے لکھاری کو سلور سکرین  سے مقابلہ بھی ہے اور سہارا بھی۔ مقابلہ ا س لیے کہ ایک عام  آدمی ناول رسالہ یا اخبارپڑھنے پر ٹیبلیٹ، فون  اور ٹیلی ویژن اور  فلم وغیرہ کوترجیح دیتا ہے۔لیکن وہ ادیب جن کےا فسانوں سے یا ناولوں سے ڈرامے  اور فلمیں بنتی ہیں  بہت کم ہیں۔ لوگ پڑھنے کی بجائے دیکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ سننے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے پاس ساکت وسامد بیٹھ کر خاموش دیدہ  خوری کرنے سے  میوزک اور نظاروں سے بھرا ڈرامہ یا فلم دیکھنا سہل ہے۔  وقت  آج کل جنسِ عنقا ہے۔ من پسند مشاغل کی بہتات نے انسان اکو شیدید مصروف کردیا ہے۔ جدید  طرز زندگی کے تقاضے نبھاتے ہوئےا نسان ہانپ گیا ہے۔ جو ذرا فرصت ملتی ہے تو "فیا لفوروں ” یعنی ٹی وی ا ور فلموں کا رُخ کیا جاتا ہے یا پھر فون پکر کر انسان مراقبے میں چلا جاتا ہے۔آج کل انسان پر  الیکٹرانک میڈیاقابض ہے۔ کتابیں  رسائل وجرائد کی باری  اب کم آتی ہے۔ تو بڑا ادیب بننا اب آسان نہیں رہا۔ بہت سے چیلینجز ہیں۔
میرے خیال میں ۔۔

سوال ۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔ تنقید  بہت ضروری ہے۔  ۔ انسان خود بھی اپنی تصانیف کو منظر ِ عام پر لانے سےپہلے  تنقیدی نظر ڈالتا ہے۔ مثبت تنقید انسان کو پہلے سے بہتر کرتی ہے۔
تنقید کے اہداف عموماً   دو  ہوتے ہیں جن میں سے ایک اسلوب اور بیان ہے اور دوسرا کہانی کا پلاٹ  ہے۔ بہت اچھے اچھے نقاد ہیں ۔ مگر مخلص نقاد آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ اب  کس کا نام لوں۔ سچ تو یہ ہے کہ سچےا ور کھرے نقاّد  بہت کم ہیں۔

سوال ۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔

جواب ۔۔ مغربی ادب زیادہ نہیں پڑھا اسلیے کچھ کہنا  مشکل ہے۔ تھوڑا بہت شیکسپیئر کو۔ یا پھر جارج اورویل کی ایک کتاب۔  بچپن میں  سی ایس لیو اور اینیڈ بلائیٹن کی چند کتب پڑھیں۔ ان کا طرز بیان بہت پسند آیا۔

سوال ۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب ۔۔ گنجائش بالکل ہے۔ زمانہ بہت تیز ہے۔ وقت بہت سرعت سے گزر جاتا ہے۔ اس کے لیے مائیکروفکشن   وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
میں ہمیشہ کہا کرتی ہوں کہ قرآن پاک کی آخری سورتیں بھی چھوٹی چھوٹی ہیں۔

سوال ۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔

جواب۔۔ زندگی میں سکون اور رضائے الٰہی بہت بڑی نعمت ہے اگر مل جائے تو۔ اسی کی خواہش ہے۔  جس کو اللہ کی رضا مل گئی اُسے  سب کچھ مل گیا۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔

جواب ۔۔ جب خدا محبت ہے تو اس  کی اہمیت سےانکار کیوں کر کیا جاسکتا ہے۔ عشقِ حقیقی تو پاکیزہ ہوتا ہے  جو انسان کو پاک کرتا ہے۔ باقی سارے عشق اور محبتیں اسی کا پرتوَہی تو ہیں۔   عشق  مجازی بھی پاک ہی ہو تو  ا سکی اہمیت ہے۔  عشق یا محبت  بہت بڑی طاقت ہے جو پہاڑ سرکا سکتی ہے، ا سکے بغیر زندگی نا ممکن ہو جاتی ہے۔ دنیا کا وجود نہ ہوتا ۔ جو دو ایٹم بھی آپس میں جڑے ہیں وہ بھی کشش اور محبت ہی ہے۔ جس سے دنیا  وجود میں آ ئی ۔  سب سے پہلی محبت خالق کی ہوتی ہے جس کو دل  میں لیے انسان پیدا ہوتا ہے اورپھر  خالق کو ماں  اور باپ میں تلاش کرتا ہے۔ دوسری محبت ماں اور پھر باپ کی ہوتی ہے۔ پھر بہن بھائیوں اور دیگر رشتے  داروں اور رشتوں  کی۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسپ خوبصورت اور انمول واقعہ ۔

جواب۔۔ اس وقت یاد نہیں۔ شای دبہت سے ہین یا شاید ایک بھی نہیں ۔ ہاہاہا۔

  سوال ۔۔آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔ ۔

جواب ۔۔ گو میں مذہبی لگتی ہوں لیکن کافی ماڈرن  سوچ رکھتی ہوں ۔ وسعتِ قلبی و ذہنی  پر یقین رکھتی ہوں

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔

جواب۔۔ آج کی دنیا میں نفرت اور غربت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کو ختم کرنے میں  مقدور بھر حصہ ڈالیے۔ نیز دنیا اس وقت  جسمانی اور روحانی طور پر   آلودہ ہے اس کو احتیاط سے برتیں اور فضائی اور روحانی آلودگی پھیلانے سے بچیں ۔عقیدہ دین مذہب سب  کا ذاتی معاملہ ہے۔ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کریں۔
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔۔

اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

طاہرہ مسعود ۔۔

آپ نے بڑی  محنت سے یہ سوال تیار کیے۔  ہمیں بھی یاد رکھا۔ آپ کے دل میں  اردو ادب کے لیے جو لگن ہے اللہ اس کو نہ صرف قائم رکھے بلکہ بڑھائے۔آمین ۔ آپ یہ ایک بہت نیک کام کر رہے ہیں۔ شکریہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ماہ جبین آصف ۔۔محمدزبیرمظہرپنوار

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام) میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار” ( حاصلپور ” پاکستان …

2 تبصرے

  1. طاہرہ مسعود

    السلام علیکم

    بہت شکریہ اس عزت افزائی کے لیے۔ سلامت رہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے