سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔ قسط نمبر 26۔ سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔ قسط نمبر 26۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 26
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں
چند سال قبل لاہور گئے تو معلوم ہوا کہ اختر حسین شیخ سخت بیمار ہیں، یہ اطلاع اس روز ملی جب ہماری کراچی واپسی تھی ، جہاز کا ٹکٹ لے چکے تھے، تقریباً تین گھنٹے بعد ائرپورٹ پہنچنا تھا لیکن دو ماہ بعد ہمیں ایک ضروری کام سے دوبارہ لاہور آنا تھا، ہم نے سوچا کہ اگلے چکر میں شیخ صاحب کی طرف ضرور جائیں گے، کراچی آنے کے بعد کچھ ایسی مصروفیات میں الجھے کہ پھر سال بھر لاہور جانا ہی نہیں ہوا، اختر حسین شیخ انتقال کرگئے اور ہمیں ان کے انتقال کی خبر بھی بہت تاخیر سے ملی، تقریباً دو سال بعد۔
17 جولائی 2018 ء کو لاہور جانا ہوا، پروگرام کے مطابق ہم ان لوگوں کی فہرست بنالیتے ہیں جن سے ملاقات کرنا مقصود ہو، لاہور سے راولپنڈی روانگی 21 جولائی کی صبح طے تھی، چناں چہ ہم نے ذاکر صاحب سے ملاقات کا پروگرام 20 جولائی کو رکھا، 19 جولائی کو عزیزم عامر ہاشم خاکوانی سے ملاقات طے تھی اور اسی روز طاہر جاوید مغل کی طرف بھی جانے کا ارادہ تھا، عجیب اتفاق یہ ہوا کہ عامر خاکوانی اپنی ایک ذاتی مصروفیت کی وجہ سے اس روز دفتر نہ آسکے اور ہم طاہر جاوید کی طرف بھی نہیں جاسکے،اسی روز ہمارے میزبان جناب انتظار حسین شاہ زنجانی صاحب نے فرمایا کہ ایک اہم مسئلے کی وجہ سے ہمیں راولپنڈی کے لیے 20 جولائی کی صبح نکلنا ہوگا، بادل ناخواستہ ہم نے ان کی ہدایت پر عمل کیا اور ذاکر بھائی سے بھی ملاقات نہ ہوسکی، آج 31 اگست کو اطلاع ملی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے روٹھ گئے ہیں، اس دار فانی کو چھوڑ گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو ، کوئی وعدہ نبھانا ہو
پچھلی ایک قسط میں تھوڑے ہی دن پہلے اپنے لاہور کے سفر کا احوال بیان کیا تھا اور ملک کے اس مایہ ناز مصور کی سادہ زندگی کا تذکرہ بھی کیا تھا، وہ نہایت سادہ مزاج ، پاک طینت اور صاف باطن انسان تھے، ہم نے کبھی نہیں سنا کہ ان کا کسی سے لڑائی جھگڑا یا کوئی تنازع ہوا ہو، بعض پبلشرز اور ایڈیٹرز سے کوئی شکایت ہوتی یا تکلیف پہنچتی تو اس کی بھی پروا نہ کرتے بلکہ ایسی باتوں کو ہنسی میں اڑادیا کرتے تھے اور مزے لے لے کر سناتے،اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہر پبلشر اور ایڈیٹر کی انتہائی ناگزیر ضرورت تھے کیوں کہ ملک بھر میں ان کے پائے کا سرورق بنانے والا برسوں کوئی نہیں رہا، بعد میں انعام راجا اور پھر ان کے شاگرد شاہد حسین نے اس حوالے سے بہت عمدہ کام کیا لیکن بہت محدود حد تک، انعام راجا کے چھوٹے بھائی عمران زیب بھی اب اس مقام پر ہیں لیکن ایک طویل عرصہ ذاکر صاحب نے ڈائجسٹ انڈسٹری پر اور پبلشرز کے دلوں پر راج کیا، ان کے بنائے ہوئے سرورق سب رنگ، جاسوسی ڈائجسٹ، سسپنس ڈائجسٹ، نئے اُفق، نیا رُخ اور دیگر بہت سے دوسرے ڈائجسٹوں کی آب و تاب بڑھاتے رہے، اسی طرح بے شمار کتابوں کے سرورق بھی انھوں نے بنائے، تقریباً پندرہ سال پہلے انھوں نے ہمیں لاہور میں اپنی خطاطی کے شاہکار نمونے بھی دکھائے تھے، صادقین کے انداز میں انھوں نے قرآن کریم کی آیات کو پینٹ کیا تھا، اس حوالے سے کوئی نمائش بھی لاہور میں ہوئی تھی۔
ذاکر صاحب نے زیادہ کام کمرشل بنیادوں پر کیا، ان کی تعلیم واجبی سی تھی، دہلی میں پیدا ہوئے اور خالص دلی والوں کے رنگ ڈھنگ اور بولی ٹھولی ان میں نظر آتی تھی لیکن عام لوگ اس فطری رنگ کو شناخت نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ لاہور میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد وہ خاصے لاہوری ہوگئے تھے،ضیا شہزاد صاحب سے معلوم ہوا کہ بہت ابتدا میں انھوں نے سکھر میں بھی وقت گزارا، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کراچی کب آئے اور کب ڈائجسٹوں کے لیے کام شروع کیا لیکن یقیناً یہ ستر کی دہائی میں ہوا ہوگا، انھوں نے ابتدا میں سب رنگ کے ٹائٹل بھی بنائے خصوصاً اقبال مہدی کے جانے کے بعد شاید کچھ عرصہ سب رنگ میں اسکیچ بھی بناتے رہے پھر نامعلوم کیوں لاہور شفٹ ہوگئے، اس حوالے سے ان کے قریبی دوست اویس سہر وردی زیادہ جانتے ہیں۔
غالباً لاہور جانے کی خاص وجہ فلموں کے سائن بورڈ کا کام ہوسکتا تھا، ایک بار لاہورکے ایک پرانے استاد کا ذکر کر رہے تھے کہ ان کے نام کا طوطی بولتا تھا،کسی ڈسٹری بیوٹر کی ہمت نہیں تھی کہ ان سے اونچی آواز میں بات کرسکے گویا فلمی پوسٹر کے حوالے سے وہ بہت مشہور تھے بقول ذاکر صاحب ’’میں نے اُن کا بہت نام سنا تھا اور بڑی آرزو تھی کہ ان سے ملاقات کروں لیکن یہ بھی سن رکھا تھا کہ گالی ان کی زبان پر سب سے پہلے آتی ہے،بعد میں وہ کوئی دوسری بات کرتے ہیں‘‘
ایک بار کسی سنیما ہاؤس پر دیکھا کہ استاد صاحب کھڑے ایک پوسٹر کو بڑے غور سے دیکھ رہے ہیں، ذاکر بھائی نے بتایا کہ میں ڈرتے ڈرتے ان کے قریب پہنچ گیا، دیکھا تو وہ میرا ہی بنایا ہوا پوسٹر دیکھ رہے تھے اور اپنے مخصوص پنجابی لب و لہجے میں بڑبڑاتے ہوئے تعریف بھی کر رہے تھے،یہ دیکھ کر میرا حوصلہ بڑھا اور میں نے سلام کیا، انھوں نے گردن گھماکر میری طرف دیکھا اور سلام کا جواب دینے کے بجائے تیوری چڑھائے مجھے دیکھتے رہے اور پھر وعلیکم السلام کہہ کر دوبارہ پوسٹر کی طرف متوجہ ہوگئے، اب میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ مزید بات چیت کیسے آگے بڑھاؤں مگر انھوں نے خود ہی میری مشکل آسان کردی، میری طرف دیکھے بغیر ہی انگلی سے پوسٹر کے ایک حصے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے ’’کمال اے بھئی!‘‘
میں نے فوراً کہا ’’جی استاد جی‘‘
اب انھوں نے میری طرف دیکھا اور پوچھا ’’تو کون اے بھئی؟‘‘
میں نے جواب دیا ’’ذاکر استاد جی‘‘
’’کی کرندا اے؟‘‘ لہجے میں سختی برقرار تھی۔
’’اے پوسٹر بناناواں‘‘میں نے اسی پوسٹر کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’اوئے! اے تیرا پوسٹر اے گا؟‘‘
میں نے سر ہلاکر اثبات میں جواب دیا تو انھوں نے ایک لمحے کے لیے مجھے دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر گلے لگالیا، بڑی تعریف کی اور اس کے بعد میں جب بھی ان سے ملنے جاتا بہت محبت سے پیش آتے لیکن ان کی محبت کا اظہار بھی گالیوں سے خالی نہیں ہوتا تھا۔
ہم نے کبھی ان سے نہیں پوچھا کہ اس شعبے میں ان کے اساتذہ کون تھے لیکن وہ بڑے کھلے دل کے انسان تھے، تمام سینئرز کی عزت کرتے تھے اور ان کے کام کی تعریف کرتے تھے جب کہ بعض آرٹسٹ، شاعر، ادیب یا دیگر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے افراد میں ایک فطری جیلسی یا حسد اکثر دیکھنے میں آتا ہے،ذاکر بھائی ایسے تمام عیوب سے پاک تھے جس کا کام پسند نہ آتا، اس پر کھل کر تنقید کرتے، وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں نے دوسروں کا کام دیکھ کر سیکھا ہے، شاہد حسین ان کے ایسے شاگردوں میں شامل تھے جو ان کی بہت عزت کرتے تھے، حد یہ کہ جب ذاکر صاحب کمرے میں داخل ہوتے تو وہ فوراً کھڑے ہوجاتے اور انھیں اپنی کرسی پر بٹھاتے، جب تک وہ بیٹھے رہتے شاہد کھڑے رہتے،اس سے قطع نظر دونوں استاد شاگرد کے درمیان ذہنی ہم آہنگی بالکل نہیں تھی،دونوں ہی مختلف نظریہ ء زندگی کے قائل تھے، ذاکر صاحب بہت ہی گھریلو مزاج رکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے شاید چھ سات بیٹیاں دی تھیں، چناں چہ ان کی زندگی کا محور اپنے بیوی بچوں کی کفالت کے گرد گھومتا تھا جب کہ شاہد کی زندگی ایک آزاد پنچھی کے مانند تھی، اکثر ہم نے سنا کہ وہ شاہد کو نصیحت یا نرم انداز میں ڈانٹ ڈپٹ کر رہے ہیں اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہتا، ان کے جانے کے بعد بہت کڑ کڑ کرتا ’’اوئے یار ! ایسے ہی باتیں کرتے ہیں، انھیں کچھ پتا تو ہے نہیں، ان کے معاملات کچھ اور ہیں ، میرے کچھ اور ہیں‘‘
ہم کہتے ’’پھر ان کے سامنے منہ باندھ کر کیوں بیٹھا تھا،اس وقت کیوں نہیں بولا؟‘‘
تو عجیب نظروں سے ہماری طرف دیکھتا جیسے کہہ رہا ہو، تمھیں عقل نہیں ہے، پھر کہتا ’’استاد ہیں، میں نے ان سے مار بھی کھائی ہے‘‘
یقیناً ان کے اور بھی شاگرد رہے ہوں گے، جن سے ہماری واقفیت نہیں ہے۔
مہینے بھر میں وہ جتنے بھی ٹائٹل تیار کرتے، سب سے پہلے ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ کو روانہ کردیتے، ان میں سے جو منتخب ہوجاتے وہ رکھ لیے جاتے اور باقی دوسرے اداروں کو بھیج دیے جاتے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ دیگر اداروں کے مقابلے میں زیادہ معاوضہ دیا کرتا تھا،سب رنگ کا معاملہ دوسرا تھا اور بقول ذاکر صاحب کے شکیل صاحب اگر ٹائٹل سے مطمئن نہ ہوتے تو واپس بھیج دیا کرتے تھے،ویسے بھی سب رنگ اکثر تاخیر سے شائع ہوتا تھا تو کئی کئی ماہ ٹائٹل کی ضرورت ہی نہ ہوتی تھی ۔
لاہور میں جس شخص کے وہ سب سے زیادہ قریب تھے وہ نسیم صاحب تھے، نسیم لاہور اور گردونواح میں ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے قدیم ایجنٹ تھے، ادارے کے تمام پرچے ان کے پاس سے ہی تقسیم ہوتے تھے’’نسیم بک ڈپو، کچہری روڈ لاہور‘‘ کے نام سے ان کی شناخت تھی اور بھی بہت سے میگزین اور کتابیں ان کے بک ڈپو سے تقسیم ہوتے تھے، ذاکر صاحب کو سب سے بڑی سہولت یہ تھی کہ جب بھی انھیں پیسوں کی ضرورت ہوتی وہ نسیم کے پاس پہنچ جاتے اور پیسے لے آتے، ہم جب لاہور گئے تو معراج صاحب نے نسیم کو فون کرکے ہدایت کردی تھی کہ فراز کو اگر لاہور میں کچھ رقم کی ضرورت ہو تو دے دینا۔
لاہور میں قیام کے دوران میں ذاکر صاحب نے ہمیں اطلاع دی کہ نسیم کی طرف سے دعوت آئی ہے اور اس نے اپنی دکان پر مدعو کیا ہے لہٰذا ایک روز ہم ذاکر صاحب ہی کے ساتھ نسیم کی دکان پر پہنچے، نسیم عمر میں ہم سے بڑے تھے، بڑے تو ذاکر صاحب بھی تھے مگر نسیم کی عمر ہمارے اندازے کے مطابق ذاکر صاحب سے بھی زیادہ تھی، چائے وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد نسیم نے دو ہزار روپے نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیے ، ہم نے حیرت سے انھیں دیکھا اور پوچھا ’’یہ کس لیے؟‘‘
نسیم مرحوم نے مسکراتے ہوئے کہا ’’آپ کے لیے ہیں، رکھ لیں‘‘
ہم ان معاملات میں ہمیشہ بڑے محتاط رہے ہیں لہٰذا پھر سوال کیا ’’آخر کیوں؟‘‘
نسیم نے جواب دیا کہ معراج صاحب نے کہا تھا کہ آپ کو کوئی ضرورت ہو تو میں پوری کردوں، اس پر ہم نے کہا کہ مجھے تو فی الحال کوئی ضرورت ہی نہیں ہے،چناں چہ نسیم نے وہ پیسے واپس اٹھالیے اور پوچھا ’’کیا کھانا پسند کریں گے؟‘‘
ہم سے پہلے ذاکر بھائی نے لقمہ دیا ’’یار یہ پھجّے کے پائے کی فرمائش کر رہے تھے تو آج اُدھر ہی چلتے ہیں‘‘
نسیم نے ہماری طرف دیکھا تو ہم نے بھی تائید کردی چناں چہ شام کو پھجّے کے پائے کھانے کے لیے جب ہم اس علاقے میں پہنچے تو خاصا ذہنی جھٹکا لگا، ہم نے ذاکر صاحب سے پوچھا ’’ہم کہاں آگئے ہیں؟‘‘
انھوں نے نہایت اطمینان سے جواب دیا ’’ہیرا منڈی‘‘
ہم نے کہا ’’اور وہ پھجّے کے پائے؟‘‘
’’او یار! وہ یہیں ہیں‘‘
ہم چپ ہوگئے اور بڑی دلچسپی سے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگے، خاص طور سے ہماری نظر پان کی دکانوں پر لگی ہوئی تھی، ہم نے خوش ہوکر ذاکر صاحب سے پوچھا ، ’’بھائی ذاکر !پائے کھاکر یہاں کے پان ضرور کھانے ہیں،پان ہماری ویسے بھی پرانی کمزوری ہے اور ہم نے سنا تھا کہ بازار حسن میں بیٹھنے والے پان فروش اپنا ایک کلاسیکل انداز رکھتے ہیں، اگرچہ ہم کراچی کے بازار حسن ’’نیپیئر روڈ‘‘ کا وہ زمانہ بھی دیکھ چکے ہیں جب یہاں رونقیں عروج پر ہوا کرتی تھیں لیکن پان کی دکانوں کا جو انداز ہیرا منڈی میں نظر آیا وہ کراچی میں نہیں تھا، کراچی میں ابتدا ہی سے پان کی دکانوں کا کاروبار میمن، کچھی اور دیگر گجراتی حضرات کے ہاتھ میں رہا، بہت کم کم دوسرے لوگ اور خاص طور پر یو پی سے آئے ہوئے افراد اس کاروبار کی طرف متوجہ ہوئے، البتہ بعد میں وہ اس کاروبار کی طرف آئے بھی تو انھوں نے اسی انداز کو اپنایا جو میمن وغیرہ رائج کرچکے تھے یعنی کتھا ، چونا ایک مخصوص انداز کا اور اسے پان پر لگانے کے لیے دوگول کی ہوئی لکڑی کی ڈنڈیوں کا استعمال،کراچی میں بعض پان کی دکانیں خال خال ایسی تھیں جہاں کتھے کا مختلف انداز اور پان لگانے کا بھی مختلف انداز نظر آتا تھا یعنی تانبے یا پیتل کی چپٹی اور لمبی چمچی استعمال ہوتی تھی اور کتھا بھی عمدہ قسم کا رنگونی استعمال کیا جاتا تھا جب کہ میمن برادری نے چمک نامی کتھے کو رواج دیا، کہتے ہیں کہ یہ چمڑا رگنے میں استعمال ہوتا تھا اور اصلی کتھے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
لاہور میں صورت حال کراچی کے بالکل برعکس تھی، پہلی بار ہم نے ہیرا منڈی میں دیکھا اور پھر جب مستقل آنا جانا رہا تو ذاکر صاحب ہی نے ہمیں بتایا کہ سب سے اچھا اور روایتی پان لکشمی چوک پر ’’برّہ پان شاپ‘‘ پر ملتا ہے لہٰذا بعد میں ہم ہمیشہ برّہ پان شاپ ہی سے اپنا پانوں کا کوٹا لیا کرتے تھے اور اس حوالے سے ایک بار ہم نے آفاقی صاحب کو بھی بہت تنگ کیا تھا، یہ قصہ پھر کبھی سہی۔
بہر حال اس روز پھجّے کے پائے کھائے گئے جو ہماری سمجھ میں نہیں آئے، ہم نے کراچی میں بکرے کے پائے صرف اپنے گھر میں پکے ہوئے ہمیشہ کھائے تھے لیکن گھر سے باہر ہمیشہ بھینس کے پائے کھانے کا شوق رہا جو آج تک ہے، اب جب ہیرا مندی تک آہی گئے تھے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ اس تاریخی بازار کا جائزہ نہ لیا جائے، ہم نے جب بازار کی گلیوں میں ایک چکر لگانے کی فرمائش کی تو ذاکر صاحب نے مخالفت کی، بولے ’’کیا کرنا ہے؟ بے کار وقت ضائع ہوگا‘‘
ہم نے کہا ’’کرنا تو کچھ نہیں ہے، یہ تاریخی بازار ایک نظر دیکھنا ہے،ہم نے اس کے بڑے چرچے سنے ہیں‘‘
نسیم نے مسکراتے ہوئے ہمارا ہاتھ پکڑا اور بولے ’’آؤ! آپ کو دکھاتے ہیں‘‘
ہم تینوں نے پہلے ایک دکان سے پان کھایا اور چند پان پارسل کرائے اس کے بعد تقریباً آدھا گھنٹہ مختلف گلیوں میں گھومتے رہے،پرانی عمارتیں اور پرانا روایتی ماحول ہمیں ہمیشہ سے اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس وقت ذہن میں صرف یہی خیال گردش کر رہا تھا کہ یہ علاقہ کیسی کیسی کہانیوں کا امانت دار ہے،یہاں کیسے کیسے لوگ آئے ہوں گے اور انھوں نے کس طرح دولت لٹائی ہوگی، کیسے کیسے حسن کے شاہکار اس کے کوٹھوں پر رقصاں رہے ہوں گے اور کیسی کیسی آوازوں نے جادو جگائے ہوں گے، ان گلیوں سے نکل کر کیسی کیسی سپر اسٹارز فلم اور تھیٹر تک پہنچی ہوں گی،ہم نسیم کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ان گلیوں میں گھوم رہے تھے اور ہمارے ذہن میں صدیاں محوسفر تھیں۔
آفاقی صاحب نے ہمیں بتایا تھا کہ ایک مرتبہ ہم شباب کیرانوی صاحب کے ساتھ یہاں آئے تھے اور اداکارہ فردوس کا رقص دیکھ کر شباب صاحب نے فوری طور پر اسے اپنی پنجابی فلم کے لیے منتخب کرلیا تھا،اس کے علاوہ بھی ادب ، فلم اور صحافت کی دنیا کے بہت سے لوگ ان گلیوں میں آتے رہے ، آغا شورش کاشمیری جیسا صاحب قلم ایک طویل عرصے تک ہیرا منڈی کے چکر لگاتا رہا، لوگوں کی غلط فہمیاں اور بدگمانیاں اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہیرا منڈی پر ایک کتاب لکھ رہے تھے جو بعد میں ’’اُس بازار میں‘‘ کے نام سے شائع بھی ہوئی۔
اسی روز رات کو جب طاہر کے گھر پہنچے اور اسے فخریہ بتایا کہ آج ہم ہیرا منڈی گھوم کر آئے ہیں تو وہ مسکرائے اور سمجھ گئے کہ ہم یقیناً ذاکر صاحب کے ساتھ پھجّے کے پائے کھانے گئے ہوں گے پھر ہمیں بتایا کہ پھجّے کے پائے میں اب وہ بات نہیں رہی، انھوں نے کسی اور کا نام لیا اور کہا کہ اب اس کے پائے بہت اچھے ہوتے ہیں، بعد میں انھوں نے وہ پائے بھی کھلائے، اس پائے والا کا نام اب یاد نہیں رہا۔
صحافت کا مقدر
زندگی عجیب ہے اور انسان ایک عجوبہ ہے،ہم نے اپنی زندگی میں بے شمار عجائباتِ زندگی کا مشاہدہ کیا اور عجیب عجیب انسانوں کو دیکھا، خاک نشینوں کو مسند نشیں ہوتے دیکھا اور عرش نشینوں کا فرش پر آنا بھی نظر میں آیا شاید دنیا ایسی ہی ہے، یہ سب کچھ نیا نہیں ہے، ازل سے جاری یہ سلسلہ اسی طرح تا ابد جاری رہے گا، ایسے ہی موقعوں کے لیے کہا جاتا ہے، اللہ بس باقی ہوس۔
1977 ء میں پاکستان الیکشن کے بعد جس بحران کا شکار ہوا اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جو تحریک چلی ، کراچی میں اس کا بڑا زور رہا، کراچی کا ایک اخبار روزنامہ صداقت اسی تحریک کے نتیجے میں راتوں رات مقبولیت اختیارکرگیا، اس اخبار کے مالک کاٹن کے ایک بزنس مین رانا بشیر احمد تھے، ہمیں بھی کچھ عرصہ تقریباً ایک سال اس اخبار میں کام کرنے کا موقع ملا، کوچہء صحافت میں یہ ہمارا پہلا قدم تھا، ہمارے محسن سید صفدر علی صفدر اس اخبار کے نیوز ایڈیٹر تھے،انھوں نے ہم پر یہ عنایت کی کہ ہماری آوارہ زندگی کو ایک نئی سمت مہیا کردی۔
اس زمانے میں اس اخبار کے نام کی دھوم تھی ، بلیک میں ایک پرچا 70 یا 75 روپے تک کا فروخت ہوا، ایک چھوٹے سے پریس میں پرنٹنگ کی وجہ سے ڈیمانڈ کے مطابق آرڈر پورا کرنا مشکل تھا لہٰذا رات سے شروع ہونے والی پرنٹنگ دن تک جاری رہتی تھی، آج کے زمانے کے بہت سے مشہور اور قابل فخر نام اس وقت روزنامہ صداقت سے وابستہ تھے، صفدر بھائی نیوز ایڈیٹر، شہزاد چغتائی چیف رپورٹر، انور سن رائے سب ایڈیٹر، محمد انور علی سب ایڈیٹر (بعد میں انور علی ہفت روزہ اخبار جہاں کے ایڈیٹر بنے اور پھر روزنامہ نوائے وقت میں چلے گئے، ان کا ٹرانسفر نوائے وقت ملتان میں ہوا اور وہیں ان کا انتقال ہوا)ہمارے پرانے احباب میں سے ایک اور شخصیت ناصر سُوری کی بھی ہے جو اس وقت صداقت سے وابستہ تھے، ان سے ہماری واقفیت تو ماہنامہ داستان ڈائجسٹ کے زمانے سے تھی لیکن حقیقی مراسم کی ابتدا اسی ملازمت کے دوران میں ہوئی، وہ بے مثل خطاط بھی ہیں اور اس حوالے سے ہم نے ان کی شاگردی بھی اختیار کی تھی۔
ایک دلچسپ صورت حال اس زمانے میں روزانہ رات ایک بجے کے بعد دیکھنے میں آتی تھی یعنی تین انور ایک ساتھ تغلق ہاؤس (سندھ سیکریٹریٹ) سے نکلتے اور پیدل مارچ کرتے صدر پہنچتے یہاں ایک غوثیہ ہوٹل ہوا کرتا تھا ، اس میں بیٹھ کر کسی سواری کا انتظار کرتے جو لیاقت آباد یا ناظم آبا دکی طرف لے جائے اس انتظار میں اکثر فجر کی اذانیں ہوجاتیں، ہماری رہائش ناظم آبا دمیں تھی اور تھوڑا سا آگے پاپوش نگر میں محمد انور علی رہتے تھے جب کہ نارتھ ناظم آباد کی طرف نصرت بھٹو کالونی میں انور سن رائے کا ڈیرا تھا۔
قصہ مختصر روزنامہ صداقت میں ملازمت کے دوران ہی ہم نے پہلی بار الیاس شاکر کو دیکھا جو حال ہی میں اس دنیا سے منہ موڑ کر اپنے سیکڑوں چاہنے والوں سے دور جاچکے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
الیاس شاکر اس زمانے میں کبھی کبھی صداقت کے دفتر آیا کرتے تھے،ان کے ہمراہ عمر سیلیا ہوتے تھے جن کی ہنڈا ففٹی مشہور تھی، الیاس شاکر کی مستقل رہائش حیدرآباد میں تھی،وہ ضیا شاہد کے میگزین ’’صحافت‘‘سے وابستہ تھے، اس زمانے میں شاکر صاحب سندھی ٹوپی، شلوار قمیص اور پاؤں میں معمولی قسم کی چپل پہنا کرتے تھے،ہمیں نہیں معلوم وہ کب مستقل طور پر کراچی شفٹ ہوئے، بعد ازاں روزنامہ صداقت کی پالیسی تبدیل ہوئی اور اس میں مارشل لاء حکومت کے خلاف خبریں یا دیگر مواد شائع ہونے لگا لہٰذا یہ اخبارشاید 1978 ء کے آخر تک ہی چل سکا،ہم نے مئی 1978 ء میں جاب چھوڑ دی تھی اور کچھ دوسرے مشاغل شروع کردیے تھے جن میں ناصر سُوری ہمارے ساتھ تھے، یہ ایک الگ قصہ ہے۔
1981 ء میں جب ہم نوائے وقت میں گئے تو الیاس شاکر وہاں باقاعدہ ملازمت کر رہے تھے،وہ ہیلتھ رپورٹر تھے اور اب ہمیں ایک بدلے ہوئے حلیے میں نظر آئے یعنی پینٹ شرٹ وغیرہ ، ہمارے بہت ہی عزیز چھوٹے بھائیوں جیسے سہیل امتثال صدیقی ہمیں نوائے وقت تک لائے تھے، ان دنوں سہیل اور الیاس شاکر گویا ایک ہی سکے کے دو رُخ ہوا کرتے تھے۔
جب ہم نے ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں کام شروع کیا تو ایک روز ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے کمرے کے نیچے فرسٹ فلور پر حاجی حنیف طیب صاحب کا جو کمرہ تھا اس میں کسی اخبار کا دفتر قائم ہوگیا ہے،واضح رہے کہ اسی کمرے سے کسی زمانے میں جمیعت علمائے پاکستان کے ظہورالحسن بھوپالی بھی ایک میگزین نکالا کرتے تھے، بعد میں انھیں شہید کردیا گیا، یہ کمرہ اب خالی پڑا تھا، ایک روز جب ہم اپنے سرکولیشن ڈپارٹمنٹ کی طرف جارہے تھے جو اسی فلور پر واقع تھا اور اس سے پہلے یہ کمرا تھا تو ہماری نظر الیاس شاکر پر پڑی ، وہ شہزاد چغتائی کے ساتھ بیٹھے تھے، ہم انھیں دیکھ کر اندر داخل ہوگئے،سلام دعا کی اور پوچھا کہ کیا ماجرا ہے؟ شاکر صاحب نے بتایا کہ وہ شام کا ایک اخبار نکال رہے ہیں پھر انھوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے؟ ہم انھیں بتایا کہ ہمارا کمرا سیکنڈ فلور پر بالکل آپ کے کمرے کے اوپر ہے اور ہم جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ ہیں، اس طرح ہمیں ایک دوسرے کے پڑوسی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
’’روزنامہ قومی اخبار کراچی‘‘ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہوا، ابتدا ہی سے ہم ہر بات اور واقعے سے باخبر رہے،انور سن رائے ابتدا ہی سے قومی اخبار نکالنے میں الیاس شاکر کے ساتھ تھے اور شاکر صاحب انھیں روزنامہ نوائے وقت سے بہت اصرار کے ساتھ لے کر آئے تھے، ہم پہلے یہ ذکر کرچکے ہیں کہ ان کی بیگم عذرا عباس نوائے وقت چھوڑنے کے حق میں نہیں تھیں، بعد میں انور اور شاکر صاحب میں کیا اختلافات ہوئے ، اس کی تفصیل ہمیں نہیں معلوم، جو کچھ معلوم ہے وہ بھی انور سن رائے کی زبانی ہے اور انور ایسے انسان ہیں جو دوسروں سے اپنے شکوے شکایات بھی بہت تفصیل سے بیان نہیں کرتے،ہم بھی اس مسئلے سے صرف نظر ہی کریں گے۔
بلاشبہ قومی اخبار نے زبردست کامیابی حاصل کی اور شام کے تمام اخبارات میں نمایاں حیثیت حاصل کرلی،دولت گویا برسنے لگی، شاکر صاحب روزنامہ جنگ اور اس ادارے سے نکلنے والے تمام اخبارات کے سخت مخالف تھے، ان کی مخالفت اتنی بڑھی کہ بالآخر مرحوم میر خلیل الرحمن نے ’’روزنامہ عوام‘‘ نکالنے کا پروگرام بنایا، جنگ گروپ اور الیاس شاکر کے درمیان کیا تنازعات تھے ، یہ بھی ہمارا موضوع نہیں ہے۔
ایک ہی بلڈنگ میں روزانہ آمدورفت اور ایک دوسرے سے آمنا سامنا شاکر صاحب سے تعلقات میں اضافے کا باعث ہوا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب پورا ہفتہ رات و دن ہمارا قیام ہی دفتر میں ہوتا تھا، اکثر رات میں ہم محض تفریح کی خاطر قومی اخبار کے دفتر میں کسی نہ کسی شناسا کے ساتھ بیٹھے ہوتے یا ہمارے کمرے میں قومی اخبار کے ہمارے دوست احباب جمع ہوتے، معروف صحافی جاوید رشید صدیقی کا تو یہ معمول تھا کہ رات کو تقریباً ایک بجے وہ ہمارے کمرے میں آجاتے اور خود چائے بناتے اور پھر خوب گپ شپ ہوتی ، اسی زمانے میں شاکر صاحب نے یہ کوشش بھی کی کہ ہم ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ چھوڑ دیں اور ان کے ساتھ مل کر ڈائجسٹ نکالیں لیکن ان کی یہ بات ہم ہمیشہ ہنسی میں اڑادیا کرتے تھے۔
قومی اخبار کے بعد انھوں نے روزنامہ جرأت شروع کیا اور اس میں ان کے پارٹنر جناب مختار عاقل تھے ، عاقل صاحب کا تعلق بھی حیدرآباد سندھ سے تھا، ان دنوں وہ بھی اپنے روز و شب اسی بلڈنگ میں گزارتے تھے، ان سے بھی مراسم اتنے بڑھے کہ بالآخر انھوں نے روزنامہ جرأت کے لیے ایک مستقل کالم کی ذمے داری ہمارے سپرد کی جو گزشتہ بیس سال سے ہم ہفتہ وار نہایت پابندی سے لکھ رہے ہیں، یہ بھی ایک الگ قصہ ہے، پھر کسی وقت۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 23 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے