سر ورق / افسانہ / زاویے ۔۔۔ علی زیرک

زاویے ۔۔۔ علی زیرک

  

زاویے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب  مجھے تئیس درجے کے زاویے سے شدید نفرت تھی اور میں ہرموروثی جنبش پر چونک اُٹھتا تھا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ نوے درجے کا زاویہ میرا پسندیدہ ہونے کے باوجود عمودکی گرتی ہوئی رسائی پر گریہ کناں رہتا تھا۔چھ دیواری میں مقید ہونے کے ساتھ ساتھ میں اپنی ہڈیوں کے پنجرے کا بھی اثیر تھا اور بادِ صباکا کوئی نرم جھونکا جب مجھےمرکزی قوس کے قطع ہونے والے نکتے پر ملتا تو میں کھل اُٹھتا لیکن اسے چھونےکی جرات نہ کرپاتا۔اس بات کا مجھے بہت بعد میں علم ہوا کہ پینتالیس کے دو زاویے بنانے والی شعاوءں کے نچلے سرے جوڑنے اور اوپر ایک آسمانی چھت بنا دینے سے تکون بن سکتی ہے۔

            آسمانی چھت سے ایک سیڑھی گرا کر بھی میں رہا نہیں ہو پایا اور اس کی وجہ یہ رہی کہ سیڑھی کا زاویہ نوے درجے کی بجائے پینتالیس درجے کا بن گیا تھا اور میری فطرت، اُفقی یا عمودی ہر دو سمتوں سے عین مستقیمی تھی۔ترچھی نظر اور ٹیڑھی پسلی ہمیشہ میرے وجدان کی تاریک گپھا میں راستہ تلاش کرلیتی تھی البتہ میں ہر کس و ناکس کے ہتھے چڑھنے کی بجائے ایک سو اسی درجے پر زمینی دیوار کے ساتھ فوسل کی طرح چپکا رہتا تھا ۔بھاپ کی طرح اُڑ نے کی طلب اورچھ دیواری جو مربع اور مستظیل کے عین وسطی نقطہء اشتراک پر متشکل ہوئی تھی کو پھاندنے کی شدید خواہش بھی میرے سینے کی کمان کو نہیں تن سکی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

            آنکھوں کی کشتیوں کے ہزار زاویے ہوتے ہیں جوموم سے لتھڑے ہوئے کانوں کے پردوں کے بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوئےبرفیلی ہواوءں والے  دل کے جزیرےپر عمودی مستول گراتے ہیں لیکن بڑی چٹانیں ہمیشہ سوراخوں کے قُطر اور رداس ماپنے میں ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں اور میں ان چٹانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں جن کے اندر سمندر ٹھاٹیں مارتا تھا اور وہ بے نیازی سے نیند کا جھولا جھولتی یہاں وہاں لڑھکتی رہتی تھیں۔کبھی کبھی بارش کی ٹھنڈک جب چھ دیواری سے اندر جھانکتی تو میں اُس سمندر کو ایک سانس میں حلق کے نیچے اُتار لیتا جو چٹانوں میں ٹھاٹیں مارتا تھااور دیر تک کسیلے پن کے خط پر سرپٹ بھاگتارہتا۔

میری آنکھوں کی پُتلیوں میں دراڑوں کا ایک گھنا جنگل نمودار ہورہا تھا جب میں نے نیند کی مربع نما فصیل میں پہلا سوراخ کیا تھا اور جب میری انتڑیاں بل کھاتی ہوئی گول گھومنا شروع ہوئی تھیں۔

شاید دوسری بار۔۔۔۔۔

 

 

جون

آج میں نے اسے برسوں بعد انسان کی جَون میں دیکھا ۔کم بخت بالکل انسانوں جیسا لگ رہا تھا ، نین نقش قدیم رومیوں کے سے تھے اورآنکھیں  تو بالکل یونانی دیوتاوءں جیسی تھیں پل پل رنگ بدلتی گہری سفاک آنکھیں۔۔۔ہائے میرے اللہ ۔۔

میں اسے دالان میں چھوڑ کر بیرونی دروازے کو کنڈی لگادیا کرتی تھی لیکن وہ خدا خبر کیسے اپنی زنجیر کھول کر بڑی اماں کے کمرے کی چھت پر چڑھ جاتا اور چھوٹے چھوٹے گول کنکروں سے کھیلنے لگتا۔ حالانکہ اس وقت ہمارے گھر میں سیڑھی بھی نہیں تھی۔

تین پونے تین برس ادھر جب ہمارے گھر کے عقبی باغیچے میں امرودوں کے پھل کو کیڑا لگ گیا تو اس نے بڑی سرعت سے چاٹ چاٹ کر امرودوں کے پیڑوں کی جڑوں کو اینٹی بائیوٹک بنا دیا اب ہم صبح وشام انہی جڑوں کو پانی میں ابال کر کھاتے ہیں اور تمہیں پتا ہے دن ڈھلنے سے پہلے اسے نیند نہیں آتی تھی ۔۔ ادھر سورج نے آخری ہچکی لی اور ادھر اس کی آنکھوں کے پانی میں موتیے کے پھول تیرنے لگے۔

برسوں بعد اسےدیکھنے کے بعد مجھے نیند نہیں آرہی ۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ ابھی آئے گا اور میرے کاسنی ہاتھوں کو مس کر کے کھڑکی سے کود جائے گا۔

ثمر بانو! تم پاگل ہوچکی ہو ،کسی اچھے ڈاکٹر سے ملو اور ہاں اگر ڈاکٹر ہینڈسم ہو تو بار بار ملو تاکہ تمہاری فرسٹریشن ختم ہوسکے۔

نہیں عافیہ! تم نہیں جانتی میں نے اسے کتنا سینچا ہے، کتنا سنبھال کر رکھا ہے ۔۔ اور تم اس کی محبت کی طاقت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی ۔۔۔ابا حضور جب  حج کر کے واپس آئے تو اسی نے سب سے پہلے ان کا ماتھا چوما تھا اب دیکھو خاندان بھر میں ابا حضور کی عزت ہے اور تم شاید اس کی رفتار سےبھی  آگاہ نہیں ہو ۔۔۔ہائے ۔۔۔بالکل طوفان کی طرح تھا ۔مجھے اس کی رانوں کا چھلکتا ہوا گوشت بہت بھلا لگتا تھا اور اس کے بال بھی، گہرے سیاہ ۔۔۔بالکل فلمی ہیرو کی طرح ۔

ایک بار  خدا خبر کس طرح گھومتے پنکھے سے لٹک گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی جلد پر زخم ابھر آئے  پھر اس نے اپنی نشیلی آنکھوں سے غیبت کرنے والی الکا ماسی کو گالیاں بکیں اور وہ ٹھیک ہوگیا ۔اسی دن اس نے جامن کے پیڑ سے روئی سے بھی نرم جامن اتارے اور مجھے کھانے کے لیے بلایا لیکن میں کم بخت رسوئی میں بھسم ہوتی رہی ۔ ایسا کڑیل کہ ایک چھلانگ میں چار ساڑھے چار فٹ اونچی دیوار کو ڈھیر کردے ۔اور شرمیلا ایسا کہ ایک رات ابا حضور کی لاٹھی کو چباتے ہوئے اس نے جب  میری شریر آنکھوں میں جھانکا تو  جھینپ گیا اوربھاگ کر میرے بیڈروم کے کالے پردوں کے پیچھے چھپ گیا ۔

عافیہ! سچ کہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں اس کے بغیر مر جاوءں گی اور اب تو میں نے اسے انسان کی جون میں بھی دیکھ  لیا ہے۔ اب تم بتاوء !کیا میں اس کے بغیر رہ پاوءں گی اور کیا میری سفید راتوں کو سیاہی کا تبرک نہیں ملے گا؟

 خدا کو جان دینی ہے عافیہ !سچ بتاوء ۔۔۔ کیا میری آنکھیں یونانیوں سے ملتی جلتی ہیں ؟اور کیا تم میرے لیے اس کو کچھ راتوں کے لیے اپنا بستر بچھا کر دو گی ؟قسم کھاوء کہ تم ایسا کرو گی اور تم دھواں چھوڑنے والے انجن کی طرح شور کرو گی اور تمہاری بغلوں سے کان کھودنے والے کے پسینے جیسی بدبو آئے گی ۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ اس کے بعد میں اسے اپنی زندگی میں ہمیشہ کے لیے زنجیر کرلوں گی۔لیکن کیا تم میرے لیے اپنی چاند راتوں کو اوس کی بوندوں پر نچھاور کرسکتی ہو۔۔۔۔۔ہاں میں جانتی ہوں تم کرسکتی ہو۔

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دھند میں لپٹی ایک صبح… اقبال حسن آزاد

دھند میں لپٹی ایک صبح اقبال حسن آزاد                 اس بار سردیاں کچھ زیادہ ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے